سر ورق / روح دیکھی ہے کبھی؟۔۔۔ہما فلک

روح دیکھی ہے کبھی؟۔۔۔ہما فلک

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر : 6

ہما فلک

روح دیکھی ہے کبھی؟

وہ گہری نیند سے یکدم بیدار ہوئی تھی۔ اس نے اٹھ کر ساتھ والی میز پر پڑا لیمپ جلایا اور تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔

ساگرنے کروٹ بدلی اور مندی مندی آنکھوں سے اسے دیکھ کر مسکرایا۔ ” کیا ہوا میری جان؟ ”
” نہیں کچھ نہیں! ” صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ کچھ چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔
” پھر وہی پانی کی آواز؟”
“ہاں یوں لگتا ہے کہ پورے گھر میں پانی بھر گیا ہے اور جیسے میں تیز تیز چپو چلا رہی ہوں،مگر۔۔۔”
” اچھا سونے کی کوشش کرو ،نیند آجائے گی -” ساگر نے اپنا بازو پھیلادیا کہ وہ اس میں سمٹ کر سو سکے- اس نے لیمپ بند کیا اور اس کے شانے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں۔
ان کی ملاقات ایک سمندری سفر کے دوران ہوئی تھی۔دیارِ غیر میں کوئی اپنا ہم وطن مل جائے یہ کشش تو تھی ہی مگر باتوں کے دوران ان دونوں کو ایک دوسرے کے مشاغل کے متعلق جان کر خوشگوار حیرت ہوئی۔
تین دن کا وہ سفر ان کو اگلی منزلوں کا ہمسفر بنا گیا۔
وہ ایک دوسرے کی ہر اچھی بری بات سے واقف ہونے لگے۔ان کی خواہشیں ان کے خوابوں کی تعبیر کے حصول اور آئیندہ زندگی کے منصوبے بناتے وہ قریب سے قریب تر ہوتے گئے۔
انہیں ایک دوسرے کی کسی بات پر اختلاف بھی ہوتا تو دونوں اپنی پسندیدہ جگہ پر کافی پینے یا کھانا کھانے چلے جاتے اور باتوں کے دوران اس موضوع کے ہر پہلو پر بات کر لیتے۔ اور جب تک کسی نتیجے پر نہ پہنچ جاتے وہاں سے نہ اٹھتے تھے۔ عموما” ایک نشست میں وہ معاملے کو حل کر لیتے۔ساگر کوشش کرتا کہ صدف کی بات مان لے ۔وہ تھوڑی سی ضدی طبیعت کی مالک تھی، لیکن جب وہ دیکھتی کہ ساگر بحث کئے بغیر ہی اس کی بات مان رہا ہے تو وہ نرم پڑ جاتی اور کوشش کرتی کہ وہی اپنی ضد چھوڑ دے۔
دونوں پانی کے سفر کے شوقین تھے۔ اس شوق میں ارد گرد کی سب چھوٹی بڑی جھیلیں ،چشمے، تالاب، دریا الغرض کوئی جگہ نہ چھوڑی تھی جہاں انہوں نے ایک دوسرے کی بانہوں میں بانہیں ڈال کر تصویریں نہ بنوائی ہوں۔ساگرنے ایک بار کہا تھا کہ مجھے یوں لگتا ہے جیسے پانی مجھے بلاتا ہے اسی لئے تین چار مہینے گزر جائیں تو پانی کے قریب جانے کو دل مچلنے لگتا ہے۔ صدف پہلی بار یہ بات سن کر کافی حیران ہوئی اور کہا تھا کہ وہ بھی ایسا ہی محسوس کرتی ہے۔مشترکہ سوچ کی وجہ سے وہ آنے والی چھٹیوں کا اکٹھے پروگرام بناتے اور ایسی ہی کسی جگہ پر جاتے جہاں سے وہ پانی کے قریب رہ سکیں۔زندگی ایسے ہی گزر جاتی مگر ایک دن۔۔۔!
***
صبح ناشتے کے وقت ساگر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھا میز پر انگلیوں سے اپنی پسندیدہ دھن بجا رہا تھا۔صدف نے فرائی انڈہ پلیٹ میں نکالا اور اس کے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔ساگر جو اس کا ہی انتظار کر رہا تھا ،نے اپنا ناشتہ شروع کرتے ہوئے حیرت سے اسے دیکھا “تمہیں تو انڈہ سخت نا پسند ہے۔ ”
” اب پسند آگیا تمہیں جو پسند ہے۔”وہ مسکرائی۔
” ہاہا اچھا! پہلے تو انڈے کے نام سے ہی چڑتی تھی۔“
”بس دیکھ لو پھر! ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھ کر مسکرائی۔
”میں اب نکلتی ہوں تم کچن سمیٹ لو گے نا؟“اس نے جلدی جلدی میز پر سے برتن اٹھاتے ہوئے کہا۔ بچا ہوا کھانا کچرا دان میں ڈال کر اس نے پلیٹوں کو ٹشو سے صاف کیا اور ڈش واشر میں برتن لگا دئیے۔میز اور کاؤنٹر کو صاف کر کے اپنے کمرے میں آگئی۔
”اچھا دیکھو کچن میں نے سمیٹ دیا ہے، تم بیڈ روم کو ایسے ہی رہنے دینا۔ تم تو لیٹ ہی نکلو گے کام پر میں اب چلتی ہوں۔“ اس نے جلدی جلدی بستر ٹھیک کیا اور اپنی تیاری کر کے باہر نکل آئی۔ گھر کے نیچے بنی پارکنگ میں بالکل نئی میٹالک براؤن بی ایم ڈبلیو کھڑی تھی۔
وہ گاڑی کو دیکھ کر مسکرائی اور اوپر بالکونی کی طرف دیکھا جہاں ساگر کھڑا اس کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہا تھا۔ اس نے اس کی طرف ایک بوسہ اچھالا اور گاڑی کی طرف یوں اشارہ کیا جیسے کہہ رہی ہو” شاندار ہے نا! ”
پھر وہ اپنی سیکنڈ ہینڈ سفید اوپل میں آکر بیٹھ گئی۔
کام کے دوران بھی ساگرکا خیال اس کی شرارتیں اس کے ساتھ رہتے اور وہ کسی نہ کسی بات پر مسکراتی رہتی۔اس کی کولیگز اس کے ساتھ بہت خوش رہتی تھیں کیونکہ وہ ہر وقت خوشگوار موڈ میں ہوتی۔وہ ان کو ساگر کی شرارتیں اور لطیفے سنا کر ہنساتی رہتی۔اگر کوئی ایسی بات کر بھی دیتا جو اسے ناگوار ہو سکتی تھی تو وہ مسکرا کر اسے نظر انداز کر دیتی۔۔یاکبھی کوئی ایسی بات ہوتی جس پر اسے لگتا کہ وہ کمزور پڑنے والی ہے تو وہ گلے میں پڑے اپنی اورساگر کی تصویر والے لاکٹ کو مٹھی میں لے کر دباتی۔اور کہتی” تم ساتھ ہو تو میرے لئے کوئی مشکل بھی مشکل نہیں ہے۔“
وہ اپنی تنخواہ کا ایک ایک سینٹ بچا رہی تھی۔ لباس خوراک اور ضروری بلوں کے علاوہ وہ کسی بھی چیز پر ایک پیسہ بھی اضافی خرچ نہ کرتی۔
ساگر اسے اتنی محنت کرتے اور اس انداز سے بچت کرتے دیکھتا تو اس سے کہتا،
”کیوں اپنی جان ہلکان کرتی ہو؛ میں ہوں نا سب ٹھیک ہو جائے گا۔“ وہ مسکرا دیتی۔
” یہ ہمارا مشترکہ خواب ہے؛ اسے ہم دونوں نے ہی پورا کرنا ہے؛تو مل کر کرتے ہیں۔”
وہ اسے بازوؤں میں بھر کر اس کے ہونٹ چوم لیتا،جانتا تھا وہ ضدی ہے اس کی یہ بات کبھی نہیں مانے گی۔
***
وہ آواز اتنی تیز تھی کہ اسے لگ رہا تھا اس کے بہت قریب کوئی چپو چلا رہا ہے۔۔اس کی یکدم آنکھ کھل گئی اس کے بستر کی داہنی طرف والی کھڑکی کھلی تھی،جس میں سے بارش کی آواز آرہی تھی، تیز ہوا کے جھکڑوں میں درخت لہرا رہے تھے،ہوا،بارش اور درختوں کی آوازوں سے مل کر عجیب سا شور پیدا ہو رہا تھا۔ اس نے کچھ دیر ان آوازوں کو سنا،اسے یوں لگا جیسے ہوائیں بین کر رہی ہیں اور درخت سینہ کوبی کر رہے ہیں، اس نے جلدی سے اٹھ کر کھڑکی بند کی۔ساگر بھی اٹھ کر بیٹھ چکا تھا۔
”کھڑکی کیوں بند کر دی؟ تم تو شدید سردی میں بھی کھلی رکھتی ہو کہ تازہ ہوا کے بغیر تمہیں نیند نہیں آتی۔“
“نہیں بس یہ شور ___ برداشت نہیں ہورہا ہے۔”
” ڈر گئی اس شور سے؟۔۔۔یہ شور تو۔۔۔۔“
” مجھے چھپا لو ___ یہ شور میرے کانوں کے پردے پھاڑ ڈالے گا۔” وہ سہم کر اس کے قریب آگئی۔
”جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں تمہیں کچھ نہیں ہوگا۔“اس نے اس کا سر اپنے کندھے سے لگایا اور اس کی کمر کو سہلاتے ہوئے کہا۔
اس نے گلے میں پڑے لاکٹ کو مٹھی میں دبایا اور آنکھیں موند کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔
ان کا معمول وہی تھا۔ صبح اٹھ کر ناشتہ کرتے اور جاب پر چلے جاتے۔وہاں سے واپسی پر راستے میں اپنی کسی پسندیدہ جگہ پر کھانا کھانے رک جاتے۔وہیں ساگربھی آجاتا وہ دنیا جہاں کی باتیں کرتے۔ ان باتوں میں زیادہ تر اپنے خواب کی تکمیل کی باتیں ہوتیں۔
کبھی کبھار وہ ہنستے کہ ان کے خواب کتنے معصوم ہیں۔ساگرکا خواب اپنا ایک خوبصورت گھر اور اچھی گاڑی خریدنا تھا۔ وہ دنیا کی ہر نعمت صدف کے قدموں میں ڈھیر کر دینا چاہتا تھا۔جب کہ صدف کہتی اسے اس سب کی ضرورت نہیں۔ اس نے تنہا زندگی کا زہر پیا تھا اسے بچوں کی خواہش تھی۔
ساگرچاہتا تھا کہ پہلے ان کی زندگی میں سب سیٹ ہو جائے پھر انہیں اس کے متعلق سوچنا چاہیئے۔مگر صدف اب اس تنہا زندگی سے تنگ آچکی تھی اوربچے کے لئے اس کی خواہش دن بدن شدید تر ہوتی جارہی تھی۔
اسی طرح کی باتوں میں وقت نکل جاتا اور وہ گھر آجاتے۔
ایک بار سڑک کے کنارے انہیں ایک ضعیف جوڑا دکھائی دیا۔
بوڑھی عورت کی کمر بڑھاپے کی وجہ سے بالکل دہری ہوچکی تھی۔ دونوں لاٹھی ٹیک کر چل رہے تھے۔ مرد نے عورت کا ہاتھ تھام رکھا تھا۔صدف رک گئی اور جب تک وہ نظر آتے رہے ان کو دیکھتی رہی۔ پھر مڑ کرساگرکو دیکھا۔
”سب خواب ایک طرف مگر ایسا خوبصورت بڑھاپا،جس میں تمہارا ساتھ زندگی کی آخری سانس تک مل جائے تو اور کیا چاہیئے؟“

ساگر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر دبایا
“میں زندگی کی آخری سانس تک تمہارے ساتھ ہوں۔”
***
کمرے میں تیز روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ اس کی اچانک ہی آنکھ کھلی ۔کھڑکی میں پورا چاند جگمگا رہا تھا۔ چپو چلنے کی آواز تیز تر ہوتی جارہی تھی۔
” جانے پردے آگے کرنا کیسے بھول گئی۔“اس نے کھڑکی سے باہر دیکھنے سے گریز کرتے ہوئے سوچا۔پردے کھڑکی پر کھینچ کر وہ مڑی ساگربازو سر کے نیچے رکھے سکون سے سو رہا تھا۔ اس نے احتیاط سے اس کے سر کے نیچے سے بازو نکالا اور اس پر اپنا سر رکھ دیا، وہ ہلکے سے کسمسایا اور پھر اپنے دوسرے ہاتھ سے اسے قریب کیا اور سو گیا۔
اس دن بھی جاب سے واپسی پر وہ دونوں اپنے پسندیدہ ریستوران میں چلے آئے تھے۔
ان کے ساتھ والی میز پر ایک جوڑابیٹھا تھا ان کے ساتھ ایک ڈیڑھ دو برس کی بچی بھی تھی۔جو مسلسل باتیں کر رہی تھی۔صدف کا سارا دھیان اس کی طرف تھا کچھ دیر بعد وہ اٹھ کر چلے گئے تو وہ ساگر کو دیکھ کر مسکرائی “کتنی پیاری بچی تھی۔”
”تم بس آج کی تاریخ یاد رکھنا،ٹھیک ایک سال بعد ہمارا اپنا گھر ہوگا وہی گھر جو ہم نے دیکھا ہے۔“
اس نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور مسکرایا۔
”میں اس وقت جس گھر میں ہوں،وہاں بھی بہت خوش ہوں،چھوٹا ہے یا کرائے کا، بس تم ساتھ ہو یہ کافی ہے،مجھے جو چاہئیے وہ تم جانتے ہی ہو ۔“
“ہاں جانتا ہوں،یہی تو چاہتا ہوں کہ اس کے آنے سے پہلے اس کے لئے بہت اچھی زندگی کا انتظام کر لوں پھر تم میں اور وہ۔۔۔ہماری دنیا مکمل ہوجائے گی۔“
”کتنا پیارا خواب ہے نا ہمارا،ہمیں کسی سے کچھ چھیننا نہیں بس پرسکون سی ایک مکمل زندگی!“
”ہاں ہم اپنے خواب ضرور پورے کریں گے۔“
***
”چپو تیز چلاؤ،پانی بھر رہا ہے۔“ وہ چلائی۔
اپنی ہی آواز سے اس کی آنکھ کھل گئی۔ سامنے دیوار پر ایک ہنستے ہوئے چھوٹے سے بچے کی تصویر لگی تھی۔
دور کہیں چرچ کے گھنٹے کی آواز آرہی تھی۔ بچے نے اچانک رونا شروع کر دیا۔ اس کے رونے کی آواز بہت تیز تھی اور اس میں اتنا درد تھا جیسے بچہ بہت تکلیف میں ہو۔ وہ جلدی سے اٹھی اور تصویر کو الٹا کر کے رکھ دیا۔یکدم رونے کی اور چرچ کے گھنٹوں کی آواز تھم گئی۔
اس نے مڑ کر بستر کی طرف دیکھا۔ساگربہت سکون سے سو رہا تھا۔ اور شاید کوئی خوبصورت خواب دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔وہ آکر اس کے پہلو میں لیٹ گئی۔
”مجھے ان خوابوں کے لئے کچھ کرنا ہوگا۔“
جس رات وہ ایسا کوئی خواب دیکھتی،اگلی صبح بہت نڈھال رہتی تھی۔ کام پر ہشاش بشاش نظر آنے کی کوشش کے باوجود اسے یوں لگتا جیسے کسی نے اس کے اندر سے ساری طاقت کھینچ لی ہے۔ اس کے کام کی کوئی ساتھی مذاق میں اس سے کہتی،”آج ‘لو’ لگ رہی ہو ساگر سے جھگڑا ہوگیاکیا؟“
“یہ ناممکن ہے!” وہ فورا” بہت مضبوط لہجے میں کہتی۔
”جانتی ہو کبھی کبھی رات کو چونک کر اٹھ جاتی ہوں،پھر وہ تھپکی دیتا ہے،سہلاتا ہے،بہلاتا ہے۔ کسی اونچی جگہ پر ہوں تو وہ میرا ہاتھ تھام لیتا ہے۔
کوئی ہاتھ تھامنے والا ہو تو ڈرنا بھی اچھا لگتا ہے۔“
اس نے ان خوابوں کا ذکر کبھی کسی سے نہیں کیا تھا۔
صرف ساگراس کے ہر حال سے باخبر تھا۔
اب وہ سوچ چکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے اس لئے اس نے کام پر چھٹی کی درخواست دے کر سفر کی تیاری شروع کر دی۔
“یاد ہے اس جگہ بیٹھ کر ہم نے کھانا کھایا، جومجھے ذرا بھی پسند نہیں آیا تھا۔میں نے تمہیں کتنی باتیں سنائی تھی کیونکہ تم نے کہا تھاکہ یہاں کا کھانا اچھالگ رہا ہے۔”
“ہاں اور سزا کے طور پر وہ پورا دن تم نے کچھ نہیں کھایا۔ یار مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو ٹھیک !کھانے سے کیسی ناراضی؟ ”
“ظاہر ہے تم سے ناراض نہیں رہ سکتی تو پھر جس پر بس چلے اسی پر ہی غصہ نکلے گا۔” وہ کھل کر ہنسی۔
“وہ دیکھو وہ پنکھے والا وہی ہے نا جو پچھلے برس بھی تھا اسی جگہ بیٹھا ہے۔
سب کچھ وہیں ہے اسی جگہ!”
اس نے اس آدمی کی طرف دیکھا جو ایک دری کا ٹکڑا بچھا کر اس پر چھوٹے چھوٹے سپرنگ والے پنکھے رکھے بیٹھا تھا جن کو ایک چھوٹے سے ہولڈر میں لگا کر اس کے ساتھ لگی ڈوری کھینچنے سے وہ اڑ کر دور جاگرتا اور اس میں سے روشنی پھوٹتی تھی۔بچے ان پنکھوں کو ریت پر دور تک اڑا رہے تھے۔گھومتے ہوئے رنگین پروں والے وہ پنکھے دور جاکر گرتے تو ساحل کی ریت پر جیسے پھول کھلے ہوئے لگتے تھے۔

“ہاں اور تم نے کتنے شوق سے اس سے وہ خریدا تھا۔ ”
ُ”تو کیوں نا لیتی؟میرا بچپن ابھی ختم کہاں ہوا ہے۔”
قریبی چرچ سے آتی گھنٹوں کی آوازیں، سر پٹختی لہروں کا شور،بڑوں اور بچوں کی چہل پہل سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا۔ اس نے گاڑی وہیں کھڑی کی اور چرچ کی طرف چلی گئی۔
اندر جانے کی بجائے وہ کچھ دیر باہر ہی کھڑی رہی۔ ایک ایک منظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھا۔ایک برس پہلے یہیں اسی جگہ ہی تو اسے احساس ہوا تھا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔
اگلے دن مقامی ڈاکٹر نے اس بات کی تصدیق کر دی تو وہ دونوں کتنا خوش تھے۔
اس نے اپنی کوکھ پر ہاتھ پھیرا۔درد کی ایک ٹیس کہیں بہت اندر سے اٹھی تھی۔
وہ آکر ساحل کے قریب پڑے بینچ پر بیٹھ گئی۔
اس نے اپنا موبائل فون نکالا اور گیلری میں تصویریں دیکھنے لگی۔
تاریخ وار تصویریں سامنے آرہی تھیں۔
ان دونوں کی بے شمار تصویریں اور سال بھر پہلے اسی جگہ لی ہوئی،کہیں اس نے اس کے کندھے پر سر رکھا ہوا ہے تو کسی تصویر میں وہ اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹا ہے۔
چرچ کے پاس کھڑے وہ اس کی کوکھ کو چوم رہا ہے۔ کہیں وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس رہے ہیں۔
اس تاریخ کے بعد والی سب تصویریں ___ کچھ اس طرح تھیں جیسے وہ کسی کے ساتھ ہے ہر تصویر ایسا ہی تاثر دیتی تھی کندھے پر سر رکھے، کسی کا ہاتھ پکڑے ہوئے۔ کھانے کی میز پر دو لوگوں کا کھانا۔مگر ہر تصویر میں وہ اکیلی تھی۔
اس نے پھر اپنے بیگ میں جھانکا۔
ہر جگہ کی ٹکٹیں اور رسیدیں جو ان دونوں نے یادگار کے طور پر سنبھالی ہوئی تھیں۔
“ہمارے کچھ خواب تھے کچھ بہت خوبصورت خواب!تمہیں میٹالک براؤن رنگ کی بی ایم ڈبلیو اور ذاتی گھر کا شوق تھا اور مجھے تمہارے جیسے خوبصورت اور مہم جو بچے کا۔جب تمہیں پتہ چلا کہ میں ماں بننے والی ہوں تو تم اپنے اس خواب سے دستبردار ہوگئے۔مگر جس دن ہمیں پتہ چلا اس سے اگلے دن ہی ___ وہ حادثہ ہوگیا۔جس میں میں نے تمھیں اور اپنے بچےکو کھو دیا۔ میں اس سب پر یقین نہیں کرنا چاہتی تھی میں تمہارے جانے کے بعد کبھی نہیں روئی نہ ہی میں نے اپنے معمول میں کوئی تبدیلی آنے دی۔“وہ ساگر کی ایک تصویر، جس میں وہ بہت کھل کر ہنس رہاتھا،سے مخاطب تھی۔
”مگر میں اب رونا چاہتی ہوں،کھل کر رونا چاہتی ہوں،تمہارے بغیر،تمہارے ساتھ جینا اب ممکن نہیں رہا۔تم یہ نہ سمجھنا کہ میں اس سے تھک چکی ہوں۔اور اب جینا نہیں چاہتی، مرنا آسان ہے،جینا مشکل!
اگر تم ہوتے تو شاید ہم بھی روائتی میاں بیوی کی طرح کچھ برس بعد ایک دوسرے سے بیزار ہوچکے ہوتے ۔
مگر اب یہ محبت کبھی ختم نہیں ہو سکتی،کبھی مر نہیں سکتی۔“
اس نے اس کی ایک اور تصویر کھول لی تھی۔اس میں وہ گھٹنوں کے بل جھکا اسے گلاب کا پھول دے رہا تھا۔
”میں یہاں تمہاری یادوں سے پیچھا چھڑانے نہیں،بلکہ تمہاری یادوں کو اپنے اندر جذب کرنے آئی ہوں۔ خود کو اس بات کا یقین دلانے کے لئے کہ تم جا چکے ہو اب نہیں آؤگے ،مجھے یوں لگتا ہے تمہارے خواب میری آنکھوں میں آبسے ہیں۔میں انہیں ہر حال میں پورا کرنا چاہتی تھی۔لیکن مجھے اب محسوس ہونے لگا ہے کہ خواب پورے نہ ہو سکے تو کیا کروں گی؟ اور اگر ہوگئے تو جینے کے لئے باقی کیا رہ جائے گا ؟“
اندھیرا پھیل رہا تھا۔ساحل،کی طرف سے آتی ہوائیں اس کا دامن اپنی طرف کھینچ رہی تھیں۔مگر وہ اس وقت ان تصویروں میں گم تھی۔
”کوئی مجھ سے پوچھے، روح دیکھی ہے کبھی؟ تو میں کہوں گی ہاں گزرے شب وروز نے مجھے ہر پل تمہاری روح سے ملوایا ہے۔تم ہر لمحہ ہر پل میرے ساتھ رہے ہو مگر ۔۔۔“
اب اس کے سامنے وہ تصویریں تھیں جن میں وہ اکیلی تھی،لیکن یوں جیسے ہر منظر میں کوئی اس کے ساتھ ہے۔
”تم جب سے گئے ہو مجھے لگتا ہے میں بغیر روح کے ایک جسم ہوں۔ایک نا ایک دن میں اپنی روح سے ضرور ملوں گی، وہیں اسی جگہ جہاں میں نے اسے کھویا تھا۔ کہتے ہیں جہاں ایک کہانی ختم ہو وہاں سے ایک نئی کہانی شروع ہوتی ہے۔ ہم یہیں ملے تھے یہاں ایک زندگی ختم ہوئی تھی،میں یہیں سے ایک نئی زندگی شروع کروں گی ۔
اس نے نظر اٹھا کر دور سمندر کی طرف دیکھا۔اب اندھیرا مکمل طور پر پھیل چکا تھا۔ساگر کو اندھیرے میں سمندر پر آنا بہت پسند تھا۔خواہ کیسا بھی موسم ہوتا۔اور پورے چاند کی رات تو اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ کہیں کچھ بھی نہ ہو بس دور تک پھیلا سمندر اور چاند کی کرنیں!
ساحل پر لہریں سر ٹکرا ٹکرا کر جیسے اسے بلا رہی تھیں۔وہیں ایک طرف کرائے پر لی گئی کشتی کھڑی تھی۔ وہ اس پر سوار ہوگئی۔ایک حد تک پانی چمکتا نظر آرہا تھا اس سے آگے حد نگاہ تک صرف کہرا پھیلا ہوا تھا۔
”میں آرہی ہوں ساگر!“
اس نے چپو کھینے شروع کئے۔
اور ساحل سے آگے جاکر کہرے سے لپٹ گئی۔

***

مرکزی خیال ماخوذ (”روح دیکھی ہے کبھی؟ گلزار)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے