سر ورق / اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 38

اپنی جڑوں کی جانب..

سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

ٹرین اپنی پوری رفتار سے مضبوط آہنی پٹریوں پر دوڑتی چلی جارہی ہےـ اس کی دھک دھک کی مسلسل آواز فضا میں ہم آہنگ ہوکر کانوں سے یوں مانوس ہوتی جارہی ہے گویا ٹرین بھی کوئی جاندار پیکر ہے جس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل لگاتار اپنی زندگی کا احساس کراتا جا رہا ہےـ کسی پلیٹ فارم پر پہنچتے ہی جیسے وہ سانس روک لیتی ہے اور دم سادھے اپنے کشادہ اور مہربان سینے میں بسے کچھ مانوس صورتوں کو جدا ہوتے اور کچھ اجنبی صورتوں کو اپنے سینے میں داخل ہوتے ہوئے ایک ٹک دیکھتی رہتی ہے اور پھر یکایک ذہن سے سب کچھ جھٹک کر، کھل کر ایک سانس لیتی ہے اور ازسرنو عزم وحوصلے کے ساتھ اپنے سفر پر چل دیتی ہے ـ پیچھے بہت پیچھے چھوڑتے ہوئے ہرے بھرے کھیت، دیوپیکر ثمردار درختوں کے سلسلے، ندی، پگڈنڈی اور انہیں بھی جو اس کا سینہ خالی کرگئے ہیں ـ اس کی دھویں بھری ڈبڈبائی آنکھوں میں کرب کی پرچھائیاں ابھرتی ہیں اور لبوں سے حسرت آمیز سرگوشیاں نکلتی ہیں ـ

“میں ان راہوں، ان وادیوں سے واپسی میں پھر گزروں گی ـ میرا انتظار کرنا، تم جو میرا سینہ خالی کرگئے ہو، تمہیں اپنے سینے میں چھپا کر وہیں چھوڑ آؤں گی جہاں تمہاری دھرتی، تمہارے پیڑ پودے، تمہارا گھر تمہارے لیے آغوش وا کیے ہیں ـ تم اجنبی راہوں میں گم نہ ہوجانا کہ تمہارے پیچھے ڈھیر ساری نگاہیں تمہاری دید کی آرزو میں مر کر بھی زندہ ہوں گی ـ ”

“آپ کہاں جارہے ہیں؟ ”

مجھ سے کسی نے سوال کیا ـ

“اپنے گھر! ”

مجھے اپنے اس بےساختہ جواب پر خود ہی حیرت سی ہوئی ـ میں اب پچیس برس بعد اپنے گھر جارہا ہوں تو کیا یہ پچیس برس میں نے کسی پرائے گھر میں گزارے ہیں ـ

“دیکھو بیٹے! ”

میری ماں میری ضد سے اکتا کر بولی تھی ـ

“تم بڑے شہر جانا چاہتے ہو تو شوق سے جاؤ لیکن میں یہ گھر چھوڑ کر نہیں جاسکتی ـ ”

اس کے جواب سے میں پھر جھنجھلا سا جاتا ہوں ـ

“اس گھر کے درودیوار میں ایسی کیا بات ہے کہ اسے چھوڑنا ہی نہیں چاہتیں ـ آخر وہاں بھی تو گھر ہوگا ـ اس سے بہتر اور آرام دہ ـ ”

میری ماں کے ہونٹوں پر افسردہ سی مسکراہٹ تیر جاتی ہے ـ

“بیٹے! ابھی تمہاری آنکھیں بڑے شہر کی رونقوں سے خیرہ ہورہی ہیں اس لیے تمہیں یہ درودیوار عام سے درودیوار لگ رہے ہیں جو ہر جگہ، ہر گھر میں موجود ہوتے ہیں ـ لیکن بیٹے! میرے لیے یہ درو دیوار ایک ایسی مقناطیسی حیثیت رکھتے ہیں جن سے میرا آہنی وجود باوجود کوشش کے بھی جدا نہیں ہوسکتا ـ تمہیں میں روک نہیں رہی ہوں، روک بھی نہیں سکتی کہ چڑھتا دریا مٹی کے کمزور باندھ سے روکا جاسکتا ہے بھلا ـ لیکن تم اپنی یہ ضد چھوڑ دو اور اطمینان سے بڑے شہر جاؤ ـ میری دعائیں تمہاری نگراں ہوں گی ـ ”

اور میں چلا آیا تھا اس بڑے شہر میں جہاں سے آج پچیس سال بعد واپس اپنے گھر جارہا ہوں ـ

ان پچیس برسوں کے بعد بھی وہ ماں اپنے گھر میں موجود تھی ـ زندگی اگر وقت کا شمار نہ کرے تو موت بھی گنتی بھول جاتی ہے ـ اسے یاد نہیں کہ بیٹے کے جانے کے بعد اس نے کتنی بار سورج کو اگتے اور کتنی بار چاند تاروں کو نکلتے دیکھا ـ سورج کی سنہری کرنیں زمین تک پہنچنے سے قبل ہی وہ گھر کے درودیوار کی محبت آمیز بانہوں سے نکل آتی اور بوڑھے پیپل کے قدموں میں جل چڑھا کر اپنی مصروفیات میں کھوجاتی ـ اکیلی جان لیکن اسے ہر وقت محسوس ہوتا کہ وہ ایک بھرے پرے گھر میں سانس لے رہی ہے ـ جب مصروفیات سے فارغ ہوتی تو اطمینان سے آنگن کے ایک گوشے میں جامن کے پیڑ تلے بیٹھ جاتی اور اس کے نادیدہ کانوں میں دن بھر کی روداد انڈیلتی جاتی ـ جامن کا پیڑ خاموش کھڑا اس کی معصوم باتیں سنتا رہتا اور مسکراتا رہتا ـ اپنی نرم شاخوں اور کومل پتوں سے اس کے جسم کو گدگداتا اور وہ ایک سہرن سی محسوس کرکے اس کے تنومند سینے سے لپٹ لپٹ جاتی ـ

یہ جامن کا پیڑ اس کی سہاگ رات کی صبح اس کے شوہر نے اس کے ہی ہاتھوں لگوایا تھا ـ ان سہانی اور پرکیف راتوں کی ہر صبح وہ نہا دھوکر سب سے پہلے پیپل پر جل چڑھاتی اور پھر اس ننھی سی کونپل کو جو اس کی خوشیوں اور آرزوؤں کی کونپل کی طرح تیزی سے بڑھتی ہی جا رہی تھی،بڑی محبت سے سینچتی ـ اس پودے سے اسے اپنا صرف اپنا رشتہ لگتا ـ اس رشتے میں کسی کی شرکت اسے گوارہ نہیں تھی ـ آہستہ آہستہ اس کے وجود کے لمس کی حدت سے وہ کھلتا ہی چلا گیا اور کچھ ہی عرصے میں اتنی تیزی سے جوان ہوا کہ اس کی نگاہوں کی تمازت اور اس کے جوان بدن کی حدت سے اس کا جسم پگھلنے لگا اور وہ گھبرائی، شرمائی سی اس سے چھپتی پھرنے لگی ـ جیٹھ بیساکھ کی تپتی دوپہر میں جب سبھی سوئے پڑے ہوتے، وہ چپکے سے اس کے قریب جاپہنچتی ـ اس کی موجودگی کا احساس پاتے ہی اس کا پتہ پتہ جیسے چونک پڑتا، اسے دزدیدہ نگاہوں سے تکنے لگتا اور وہ ان نگاہوں کی اسیر ہوکر اس کے سایہ دار بازوؤں میں سما جاتی ـ اس کے سینے میں سمائی ہوئی وہ گھریلو زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات، دل کے نہاں خانوں میں چھپی ہوئی چھوٹی بڑی خواہشیں اور ذہن کے دریچوں سے جھانکتی ہوئی چھوٹی بڑی حسرتوں کا ذکر کرتی ـ وہ ہمہ تن گوش اس کی ساری گفتگو سنتا رہتا ـ کبھی مسکراتا، کبھی ہنستا ، کبھی دلاسے دیتا اور کبھی بےخود ہوکر اسے اپنی بانہوں میں بھینچ لیتا ـ اس کی ازدواجی زندگی، اس کی بیوگی کی زندگی اور پھر اس کی اکیلی زندگی کا کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں تھا جو اس پیڑ سے پوشیدہ تھا ـ اس کے دکھ سکھ، اس کی آشا نراشا ، اس کے آنسو اور ہنسی سب سے اچھی طرح آشنا تھا ـ جب اس کا بیٹا اسے چھوڑ کر چلا گیا تو وہ ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ اس کے پاس پہنچی تھی اور اس کی گود میں سر رکھ کر پھوٹ پڑی تھی ـ پیڑ کے برگ نما ہاتھ محبت اور شفقت سے اس کے شانوں کو تھپکتے رہے تھے اور وہ رو رو کر اپنی بپتا سناتی رہی تھی ـ

“دیکھو تو میرا بیٹا مجھ سے یہ گھر چھوڑنے کے لیے کہہ رہا تھا مگر میں تمہیں، انہیں چھوڑ کر کیسے جاسکتی تھی ـ اس کی نظروں میں تم سب یہ گھر، یہ دیواریں سبھی بےجان اور بےدھڑکن ہیں لیکن میرے لیے تو تم لوگوں کا وجود بےجان نہیں ہے ـ میں تو تم سب کو سانس لیتے ہوئے محسوس کرسکتی ہوں ـ تمہارے دل کے دھڑکنے کی صدائیں سن سکتی ہوں ـ میں نے جب پہلے پہل اس گھر میں قدم رکھا تو تم یہاں موجود نہیں تھے ـ سچ کہتی ہوں مجھے احساس ہوا تھا کہ بظاہر بےجان لکڑی کا دروازہ اپنی پلکوں کو بچھائے میرا سواگت کر رہا ہے اور اس گھر کے نادیدہ ہاتھوں نے مجھے اپنے سینے میں سمیٹ لیا ہے ـ اپنے شوہر کی بانہوں کی گرفت میں آنے سے قبل ہی میں ان دیواروں کی گرفت میں جکڑ چکی تھی ـ ان دیواروں میں سمٹ کر مجھے لگا کہ میرے خواب، میرے راز، میری عصمت، میری خودداری اور میری انا سبھی کچھ یہاں محفوظ ہے اور میں بےخوف وخطر ان کی محافظت میں زندگی گزار سکتی ہوں ـ

یہ دیواریں بےجان نہیں ـ اس کی متحرک گہری آنکھیں میرے سارے رازوں کی امین ہیں ـ اس کے دھڑکتے ہوئے سینے میں میرے خوابوں، میرے آرزوؤں کی دنیا آباد ہے ـ اس کے پتھریلے ہونٹوں پر میرے گیت، میری لوریاں ثبت ہیں ـ

مجھے یاد ہے کہ جب میرے شوہر نے مجھے پہلے پہل اپنی بانہوں میں بھرا تھا توان دیواروں کی معنی خیز پیار بھری نظروں کو بھانپ کر میں بری طرح شرما گئی تھی اور شرما کر آنکھیں موند لی تھیں ـ صبح میں ان دیواروں سے نظریں چرا رہی تھی اور وہ شوخ نظروں سے میرے انگ انگ کو گدگدا رہی تھیں ـ عورت جب کسی کے آگے اپنے سربستہ راز کھول دیتی ہے تو مانو وہ اپنے آپ کو اس کے سپرد کردیتی ہے ـ ان دیواروں پر کھل کر میں بھی ان کے حصار میں بند ہوگئی تھی ـ اس پہلی رات کی پہلی صبح جو شرمیلی اور شریر سا تعلق قائم ہوا تھا، زمانے کی سردوگرم ہواؤں میں پنپتے پنپتے اتنا پختہ ہو چکا ہے کہ میں چاہوں بھی تو اسے توڑ نہیں سکتی ـ جس چہاردیواری کی مانوس اور معطر فضاؤں میں وصل کی بہاریں گزریں، جس کے غم گسار سینے سے لگ کر ہجر کی خزاں کٹی، جس کی پرشفقت اور گداز آغوش میں پہلی بار میں تخلیق کے فخرآمیز کرب سے گزری، جس کی انگلیاں پکڑ کر میری نوزائیدہ تخلیق نے زمین پر کھڑا ہونا اور چلنا سیکھا، جس کے اندیکھے ہونٹوں کی لوریوں سے ہر رات اس کی آنکھیں بند ہوئیں اور صبح اس کی ہی تھپکیوں سے اس کی آنکھیں کھلیں، میرے شوہر کی موت کے بعد جو میری غم گسار اور دم ساز تھی، جس کے نرم ہاتھوں نے میرے آنسو پونچھے، جس کے دلاسوں اور تسلیوں نے مجھے ازسرنو جینے کے حوصلے بخشے، جس نے سینے سے لپٹا کر اپنے بدن کی حدت وحرارت میرے بدن میں منتقل کی، اور اب میرا بوڑھا شریر تو اس کے مضبوط سہارے کے بغیر دو قدم بھی نہ چل سکے ـ

اور پھر اس گھر سے منسلک یہ آنگن جہاں تم سب مکیں ہو، دیکھ رہے ہو نا! تم تو مرد ہو ـ تم نہیں سمجھ سکتے کہ ایک عورت کی زندگی میں آنگن کیا مقام رکھتا ہے ـ یہ آنگن میری دنیا ہے جس میں قدم رکھتے ہی میں ہمہ گیر شخصیت ہوجاتی ہوں ـ اس آنگن کے اوپر جو کھلا ہوا نیلا آکاش ہے نا وہ میرا حصہ ہے، میری ملکیت ـ اس حصے میں جتنے ٹمٹماتے ہوئے ننھے ننھے تارے ہیں وہ میرے اپنے ہیں اور ان کے درمیان چاندنی بکھیرتا ہوا چاند بھی میرا ہے ـ گرمی کی امس بھری رات میں جب آنگن میں کھلے آکاش کے نیچے چارپائی پر لیٹتی ہوں تو ان تاروں کو دیکھتے دیکھتے خود بھی ان میں جا ملتی ہوں ـ میں نے تو ان شرارتی مسکراتے ہوئے تاروں کے نام بھی رکھ چھوڑے ہیں ـ تمہیں حیرت ہوگی لیکن اب وہ بھی اپنے ناموں سے مانوس ہوگئے ہیں ـ جب میں انہیں پکارتی ہوں تو وہ رک کر، ٹھٹھک کر میرے سامنے ہونٹوں پر شرارت بھری مسکان لیے کھڑے ہو جاتے ہیں اور پھر بےتحاشہ ہنستے ہوئے میری گود میں آچھپتے ہیں ـ

آنگن کے اس سرے پر وہ چھتنار بزرگ سا پیپل کا درخت دیکھ رہے ہو نا! جب میں بیاہ کر آئی تھی تو اس سمے بھی یہ اسی طرح لدا پھندا بزرگانہ انداز میں کھڑا تھا ـ جب میں اپنے سسر اور ساس کے پاؤں چھوکر آشیرواد لے چکی تو میری ساس نے پیتل کے ایک لوٹے میں پانی بھر کر مجھے تھما دیا تھا اور ساڑی کے آنچل سے اپنا سر اور نصف چہرہ چھپائے ہوئے مجھے لے کر اس درخت کے پاس پہنچی تھی اور مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کی جڑوں میں جل چڑھاؤں اور ماتھا ٹیکوں ـ میں نے حکم کا پالن کرتے ہوئے اس کے قدموں میں جل چڑھایا تھا اور پھر ماتھا ٹیک دیا تھا ـ سچ مانو! مجھے محسوس ہوا تھا کہ جیسے درخت نے اپنا کھردرا لیکن شفقت بھرا ہاتھ میرے سر پر رکھ دیا ہو ـ اس درخت کی حیثیت اس گھر میں ایک بزرگ کی سی تھی اور ہے ـ میری ساس بھی اس کے سامنے کبھی ننگے سر نہ جاتی تھی اور نہ ہی میں کبھی ننگے سر اس کے قریب گئی ـ اس درخت کا وجود مجھے ایک تحفظ کا احساس دلاتا ہے ـ جیسے کوئی باپ اپنے مضبوط اور کشادہ بازوؤں کے حصار میں اپنے بچوں کو لیے طوفان کے رخ کھڑا ہے اور طوفان کی تمام تیزی و تندی کو اپنے جسم پر روک کر اپنے بچوں کے معصوم وجود کو اس کی زد سے محفوظ رکھے ہوئے ہے ـ

اور پھر یہاں تم ہو ـ میرے اپنے! میرے بہت ہی اپنے!! تمہاری جدائی کا تو میں تصور بھی نہیں کرسکتی کہ تم سے تو میری حیات کی تمام ڈوریں بندھی ہیں ـ ”

ریل گاڑی اپنے جسم کی تمام قوت اپنے پہیوں میں سمیٹ کر برق رفتاری سے آگے کی سمت رواں ہے ـ شاید اس احساس نے اس کے قدموں میں تیزی بھردی ہے کہ جتنی جلد وہ وہاں پہنچے گی اتنی ہی جلد واپس ہولے گی ـ

“لیکن اے آہنی پیکر! تمہارے آہنی دماغ میں یہ بات کہاں کہ جتنی بھی جلد پہنچو، واپسی تو معینہ وقت پر ہی ہوگی ـ شاید تمہیں یاد ہو کہ تمہارے سینے سے لپٹ کر میں اس شہر میں کتنی تیزی سے پہنچا تھا لیکن واپسی کتنی دیر سے ہورہی ہے ـ ”

“یہ تم بیٹھے بیٹھے پھر کہاں کھو گئے؟ ”

کبھی کبھی میری بیوی کھیج کر کہتی تو گاؤں کی فضاؤں میں بھٹکتا ہوا میرا ذہن یکایک میری بیوی کے پاس آ موجود ہوتا جو حیرت سے مجھے تک رہی ہوتی ـ

“کہاں؟ میں تو یہیں موجود ہوں ـ تمہارے پاس…. ”

میں اس کی زلفوں کو سہلاتے ہوئے کھوکھلی ہنسی کے ساتھ کہتا ـ ”

“ہاں ـ ہو تو یہیں ـ لیکن صرف جسمانی طور پر ـ تمہارا ذہن تو نہ جانے کہاں ہے؟ ”

ہاں ـ میری بیوی ٹھیک ہی کہتی ہے ـ جسم اگر قیام پذیر ہو تو ضروری نہیں کہ ذہن بھی اس کے ساتھ ساتھ ہو ـ قیام تو جسم کا ہی ہوتا ہے، ذہن کو قرار کہاں؟ بظاہر تو وہ جسم کے زنداں میں اسیر رہتا ہے لیکن اس غیرمرئی وجود پر کوئی گرفت کارگر نہیں ہوتی ـ موقع ملتے ہی آوارہ بادل کی طرح یادوں کے گردوں پر بھٹکتا رہتا ہے ـ میں اپنے ذہن کی اس آوارہ گردی کو اپنی بیوی سے چھپانا چاہتا تاکہ اسے اپنی محبت کی گرفت پر یقین باقی رہے ـ

“یہ اپنے لاڈلے کہاں گئے؟ نظر نہیں آرہے ہیں ـ ”

میں اس کے سوال کو ہضم کرتے ہوئے اس کے ذہن کو اس کی پسندیدہ راہ پر موڑ دیتا ـ

“کبھی کبھی تو تمہیں کچھ ہوش ہی نہیں رہتا ـ کل خود ہی تو اسے اماں کے پاس چھوڑ آئے ہو ـ ”

میں اپنی خالی الذہنی پر ہنس دیتا اور جب کچھ بھی نہیں بن پڑتا تو اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیتا ـ میری بانہوں میں سمٹ کر جیسے وہ سب کچھ بھول جاتی اور بھول کر مجھ میں کھوجاتی ـ

مجھے اپنی بیوی سے محبت ہے ـ اس شہر کی گردآلود فضا میں وہ ایک نرم و خنک بادصبا کے جھونکے کی مانند تھی جو نہ جانے کس نیکی کے صلے میں میرے وجود سے آ ٹکرائی تھی ـ اس سرزمین کی مرطوب آب وہوا میں پروان چڑھا ہوا اس کا بھیگا بھیگا حسن اپنے اندر ایک ایسی انوکھی جاذبیت اور کشش رکھتا تھا کہ اس کے اثر سے مفر ممکن نہ تھا ـ پہلی ہی نظر میں وہ مجموعی طور پر مجھے اچھی لگی تھی اور جب نظروں نے کچھ عرصے تک اس کے وجود کا طواف کیا تو یہ عقدہ کھلا کہ اس کی شخصیت کا ہر پہلو خوبصورت تھا ـ وہ کچھ اس طرح میرے ہوش وحواس پر چھائی کہ ہم قوم، ہم زبان نہ ہوتے ہوئے بھی ہم دونوں رشتہءازدواج میں منسلک ہوگئے ـ شادی کے بعد میں عارضی طور پر اس کے گھر منتقل ہوگیا جہاں افراد خانہ نے نہایت ہی خندہ پیشانی سے میرا استقبال کیا اور خوشیوں کے بھنور میں ڈوبتی ابھرتی زندگی کی کشتی چلتی رہی ـ میں نے اس کی محبت میں اس کی زبان، اس کی تہذیب اور اس کے سبھی رسم ورواج کو اپنا سا لیا اور اپنی شخصیت میں اپنی بیوی اور اس کے گھروالوں کو تراش خراش کی مکمل آزادی دے دی ـ

آج مجھے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ اگر میں اپنی ہی مٹی میں اپنے وجود کو کسی خودرو پودے کی طرح بڑھنے دیتا تو میرا قد اس قدر پست نہ رہ جاتا ـ اس تراش خراش سے بظاہر تو میں خوشنما ہوگیا تھا لیکن میری روح زخمی زخمی ہوچکی تھی ـ ایک مٹی کا پودا دوسری قسم کی مٹی میں صحیح نشوونما نہیں پاسکتا ـ مصنوعی طریقے سے اس کی جتنی بھی نگہداشت کی جائے، وہ پنپ نہیں سکتا ـ اس ناآشنا اور ناموافق آب وہوا میں پنپنے کے لیے مجھ پر جتنے بھی طریقے آزمائے گئے،ان سے صرف اتنا ہوا کہ میری مٹی کی اصلی سگندھ بھی دب گئی ـ عین ممکن تھا کہ میں اس ناسازگار ماحول میں مرجھا جاتا کہ میرے ہی بیج سے میرے وجود سے منسلک یکے بعد دیگرے دو ننھے ننھے پودے اگے اور میرے ہی سائے میں نشوونما پانے لگے ـ ان پودوں کے کومل اور حیات افروز لمس نے میرے سینے میں ایک نئی امنگ، نئی توانائی بھردی اور میں ازسرنو سرسبز ہو گیا ـ

زندگی نادیدہ منزل کی بڑھتی رہی ـ میرے سائے میں پروان چڑھنے والے پودے جوان ہوتے گئے ـ اچانک منزل کے قریب ایک موڑ پر موت کی سرگوشی ابھری اور زندگی میں پہلی بار مجھ سے اجازت لیے بغیر میری بیوی اس سرگوشی کے تعاقب میں چل دی اور میں یکا وتنہا حیرت سے اس کے نقش پا کو گھورتا رہ گیا ـ

اس کے اوجھل ہوتے ہی مجھ پر منکشف ہوا کہ میں کسی اجنبی شاہراہ پر کھڑا ہوں جہاں کی ہر شے میرے لیے نامانوس اور غیر ہے جیسے تمام مانوسیت اور اپنائیت اسی کے توسط سے قائم تھی ـ مجھے شدت سے اپنی ماں، اپنا گاؤں اور اپنی مٹی یاد آئی اور میں نے اپنے دونوں بیٹوں کو بلا کر کہا ـ

“بیٹے! اب ہم یہاں نہیں رہیں گے ـ ہم سب اپنے گاؤں چلیں گے جہاں ہمارا گھر، ہماری دھرتی ہمارا انتظار کر رہی ہے ـ بس کل ہی یہاں سے چل دیتے ہیں ـ ”

“لیکن بابا! ہم گاؤں جاکر کیا کریں گے؟ ہم نے تو اس ملک کو ہی چھوڑنے کا ارادہ کرلیا ہے ـ ہم لوگ بیرون ملک جانے کا مکمل پروگرام تو پہلے ہی بناچکے ہیں بس آپ کو اطلاع دینی باقی تھی ـ ”

میں گم صم سا ان کے پراعتماد اور باغی چہروں کو دیکھتا رہا اور میرے خیالوں میں ماں کی صورت ابھرتی گئی ـ میں نے انہیں روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ چڑھتے دریا مٹی کے کمزور باندھ سے روکے جاسکتے ہیں بھلا ـ اور وہ دونوں چلے گئے ـ

ان کے جانے کے بعد اس اجنبی شاہراہ پر پہچان کا آخری نشان بھی کھو گیا اور میں بھٹکتا ہوا اپنے شکستہ اور خالی وجود کو لیے ہوئے اس شہر کے نکاسی کے دروازے تک پہنچ گیا جہاں ریل گاڑی کسی مہربان ماں کی طرح مجھے سینے سے لپٹانے کے لیے بے قرار اور منتظر کھڑی تھی ـ میں نگاہیں نیچی کیے ہوئے پشیمان سا اس کے سینے میں سماگیا ـ

یکلخت ایک جھٹکے سے میری یادوں اور خودکلامیوں کا سلسلہ ٹوٹ گیا ـ دیکھا تو ریل گاڑی میرے گاؤں کی سرزمین پر کھڑی تھی ـ میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو بھر آئے ـ میں نے اپنے جرجر وجود کو اس کے محبت آمیز سینے سے چھڑا کر پلیٹ فارم پر اتارا اور کانپتے ہاتھوں سے اس کے آہنی جسم کو تھپتھپاتا ہوا گھر کی طرف چل دیا ـ

مجھے محسوس ہوا کہ مجھے دیکھ کر راستوں، راستوں میں اگے پیڑپودوں، کنوؤں اور تالابوں میں جان پڑگئی ہو اور وہ سب لہک لہک کر میری پیشوائی کو آگے بڑھ رہے ہوں ـ ان آشناؤں کی گرم جوش محبت کی تپش سے میرے اندر کچھ پگھلنے لگا جو پانی بن کر آنکھوں کی راہ سے نکلنے لگا ـ ان کے خلوص اور پیار کے اظہار سے سرشار میں آگے بڑھتا رہا کہ اچانک میرے سر پر ہوائی جہاز کی آواز گونجی ـ نظریں اٹھا کر دیکھا تو ایک جہاز بادلوں کا سینا چیرتا ہوا مغرب کی جانب محوپرواز تھا ـ میری آنکھیں ازسرنو بھیگ گئیں اور میرے ہونٹ بےساختہ ہلے ـ

“میرے بچے! میں اس زمین کی مٹی سے جدا ہوا تھا لیکن زمین سے رشتہ تو نہیں توڑا تھا ـ شاید اسی لیے آج بھی یہ زمین، یہ پیڑپودے مجھے اجنبی نہیں لگ رہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے میرا استقبال اجنبیوں کی طرح کیا ہے لیکن تم جو زمین سے رشتہ بالکل منقطع کرکے آسمان کی وسعتوں میں کھوگئے ہو اگر تمہیں کبھی زمین پر آنا ہوا تو تم زمین کی اس مٹی کو کیسے شناخت کرپاؤگے جہاں تمہاری جڑیں پیوست تھیں ـ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے