سر ورق / ذرااعتبار پالے ۔۔۔  عشرت ناہید ، لکھنئو۔ہندوستان

ذرااعتبار پالے ۔۔۔  عشرت ناہید ، لکھنئو۔ہندوستان

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 39
ذرااعتبار پالے ۔۔۔
عشرت ناہید ، لکھنئو۔ہندوستان

نجانے یہ تشنگی اس کے اندر تلاش کا روپ کب دھار گئی تھی۔ وہ کئی بار سوچتی کہ زندگی کے ہر موڑ پر آخر وہ کیوں اور کیا تلاش کرتی رہتی ہے ، ہر راہ گز ر پر وہ کسے ڈھونڈتی ہے ؟ بس ایک پیاس خود کو مکمل کرنے کی ۔ کیسی ادھوری خواہش ۔بھلا کبھی کوئی مکمل بھی ہوا ہے ؟یہ جہان تو ہے ہی ادھورا ادھورا سا ۔ یہاں سب کچھ کہاں ملتا ہے اگر یہاں ملتا ہوتا تو پھر عالم محشر کیوں سجتا؟کیوں روح کو دوبارہ زندہ کیا جاتا تو پھر کیا جنت و دوزخ ہی اس کی ذات کی تکمیل کرینگے ؟

اکثر اس کے ذہن میں عجیب عجیب سوال پیدا ہوتے رہتے ۔ جن میں وہ الجھی الجھی کھو ئی کھوئی رہتی ۔ اس کے اندر کا خالی پن کچھ اور بڑھ جاتا ، ذات کے خلا کو پر کرنے کی خواہش پھر سر اٹھانے لگتی ۔ ۔ وہ خلا وہ کمی جو اس کے اندر اسی وقت سے آگئی تھی جب ماں کی کوکھ میں اس کا ننھا سا وجود ادھر ادھر ڈولتارہتا تھا۔ پہلی تلاش تو وہیں سے تھی کہ ماں کب اسے پیار کرے گی، دلار کرے گی ۔ وہ اس کے وجود کا حصہ تھی مگر اس کی ماں ! غریب ماں اس سے پہلے دنیا میں جنہیں لے آئی تھی ان میں اور زندگی کی الجھنوں میں کچھ ایسی گم تھی کہ یہ بھول ہی جاتی تھی اس کے اندر بھی کوئی ہے۔ کئی بار وہ ماں کو متوجہ کرنے کے لیے پیر پٹکتی ۔ اس پانی بھرے کنویں میں تیز تیز چکر لگاتی مگر ماں یا تو بے حس تھی یا وہ عادی ہوچکی تھی کوکھ میں بچوں کو پالنے کی ۔

۔ وہ تھی بھی تو ساتویں اولاد ، بھلا اب ماں کو اس سے کیا دلچسپی ہونا تھی ۔یوں بے اعتنا ئی میں ہی اسے زندگی کی نعمت عطا ہوگئی تھی لیکن یہ کیا ہو ا وہ تو پریوں کے دیس میں اتر آئی تھی ۔ اس کے سب بھائی بہن ایک دم گورے چٹے خوبصورت تھے اور قدرت کی ستم ظریفی یہ کہ پریوں کے دیس میں وہ معمولی نقش ونگار اور گہری سانولی رنگت لے کرآگئی تھی۔اس نے ماں کو دیکھا ، ماں خود حسن کا مجسمہ اور حسن کی شیدائی بھی۔ دنیا میں آکر بھی وہ غیر ضروری اضافے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ شاید اسی لیے اس کا نام بھی ّماورا ٗہی رکھ دیا گیا تھا ، ماں اس کی اب بھی اس کے وجود سے ویسی ہی بے نیاز تھی، وہ تو بھول ہی گئی تھی اسے اور یہ بھی تو ماں کی بے رخی کی جیسے عادی ہوگئی تھی، کبھی ماں کے رویے پر احتجاج نہیں کیا اور نہ ہی کبھی چیخی چلائی ۔

کئی کئی گھنٹے گزرنے کے بعدماں کا دھیان بھولے بھٹکے ‘ ماورا’ کی طرف جاتا کہ ارے یہ تو کب سے بھوکی ہے ۔ ذرا سی ندامت کا احساس لیے اسے دودھ پلا دیتی ۔ یہ ماں کے لمس میں کھو جاتی ،سکون سے سو جاتی اور ماں پھر مصروف ہو جاتی ۔

یوں زندگی کے ماہ و سال گزرتے رہے۔ وہ بے اعتنائی کی شکار بڑی ہوتی گئی ، خوبصورت تو نہیں تھی ، بس ایک خوبی ضرور تھی اس میں ، وہ تھی اس کی مسکراہٹ ۔جواس کے ہونٹوں پر سجی رہتی تھی۔ قلو پطرہ کی مسکرا ہٹ ۔ کبھی ہنسی یا قہقہے تو اس کے لبوں سے جیسے آزادہوتے ہی نہیں تھے ۔ہوتے بھی تو کیسے ، قہقہے تو علامت ہوتے ہیں زندگی کی خوشیوں کے ۔ جب دل کے تاروں کے جلترنگ بجتے ہیں اور روح میں خوشیاں سرائیت کر جاتی ہیں تو بے ساختہ ہنسی کے فوارے پھوٹتے ہیں لیکن اس کی ذات تو صرف سنجیدگی میں ڈھل کر رہ گئی تھی۔ وہ اپنے بھائی بہنوں کے درمیان بھی اجنبی سی تھی ۔ تب اس نے کتابوں سے دوستی کرلی، بڑی گہری اور پکی دوستی۔ اب وہ تنہا نہیں تھی اس کے بہت سے ساتھی تھے جو ان کتابوں کے مکین تھے۔ وہ اکثر ان کرداروں سے بے آواز باتیں کرتی ، اپنے دل کی اداسی کاذکر کرتی، دھیرے دھیرے وہ ان کے ساتھ خوش رہنا سیکھ گئی تھی اور یوں وہ وقت کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتی چلی گئی۔ آہستہ آہستہ یہ ان لمحوں میں داخل ہوگئی جب ہولے ہولے کئی خواب آنکھوں میں بسنے لگتے ہیں ،جب اپنا وجود سب سے پیارا لگنے لگتا ہے ، جب حساسیت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے ، جب کبھی بے طرح اداسی چھا جاتی ہے ،کبھی بے وجہ مسکرانے کو دل چاہتا ہے لیکن اس کے اندر تو جیسے ایک ہی موسم ٹھہر گیا تھا ، موسم کیا ایک احساس تھا بس جو اسے ادھورے ہونے کا احساس شدت سے دلاتاتھا ۔ تب اس کی نگاہیں پھر پیاسی روح کی طرح بھٹکنے لگتیں اور ایک تلاش محبت پھر اس کے اندر مکین بن کر بیٹھ جاتی۔

انہی کیفیات میں گرفتار کھوئی کھوئی سی وہ کالج پہنچی تھی جہاں اس کی ملاقات سندیپ سے ہوئی ۔سندیپ ایک مہاراشٹرین لڑکا جس کی رنگت بھی گہری سانولی تھی۔ تنہائی پسند تھا اسے لگتا کہ سندیپ کا اور اس کا درد ایک جیسا ہے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے ، پڑھائی کے ساتھ مختلف موضوعات پر وہ دونوں بے تکان باتیں کرتے، اس کی سنگت میں وہ دھیمے دھیمے ہنسنا بھی سیکھنے لگ گئی تھی ۔اس وقت اسے لگتا تھا کہ سندیپ ہی اس کی دنیا ہے ۔سندیپ اس کی پہلی محبت، جس کا ساتھ پاکر اسے احساس ہوا کہ اس کے اندر کی تشنگی ختم ہوتی جارہی ہے، وہ بہت مسرور رہنے لگی تھی۔

سندیپ جب کبھی کوئی ذو معنی جملہ کہہ دیتا وہ کئی دنوں اس کے سرور میں کھوئی رہتی ، جملے کی بازگشت اسے مہکائے رکھتی ، دن بہ دن سندیپ اس کے نزدیک آتا جا رہا تھا ۔

ابھی وہ سرشاری کے عالم میں ہی تھی کہ سندیپ کے گھر سے فون آیا کہ ا س کی بہن کی طبیعت بہت خراب ہے انہیں ممبئی لے جایا جارہا ہے ۔سندیپ بھی ممبئی چلا گیاکچھ دن بعد اس کی بہن کے انتقال کی خبر آٰ گئی ۔ جس دن سندیپ لوٹ کر آیا ماورا اس کے غم کی شدت کو محسوس کر کے اس سے ملنے اس کے کمرے پر چلی گئی ۔ سندیپ بہت اداس تھا بہن کی باتیں کرتے کرتے وہ رو پڑا اور روتے روتے اس نے بے اختیا ر اس کے کندھے پر سر رکھ دیا ۔ یہ اس کے لمس کا پہلا احساس تھا وہ اپنے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہی تھی کہ سندیپ نے ماوراکے گلے میں بانہیں ڈال دیں پھر آہستہ آہستہ اس کا ہاتھ اس کے جسم پر رینگنے لگا ۔ سندیپ کے لمس نے اس کی حالت غیر کردی تھی۔ اسے اس کا یوں چھو لینا اچھا نہیں لگا ۔ وہ اسے زور سے دھکہ دے کر وہ وہاں سے دوڑتے ہوئے باہر نکل آئی۔ لمس اور وہ بھی ہوس بھرے لمس نے اس کی پہلی محبت کا بے دردی سے قتل کر دیا تھا ۔یہ سانحہ اس کے لیے جاں گزیر تھا۔ اس دن کے بعد اس نے سندیپ کی طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ کئی بار سندیپ نے اس سے معافی مانگی مگر اس کے اندر پاکیزگی کا مجسمہ چور چور ہوچکا تھا ۔ ماورا جو محبت کو صرف اور صرف مقدس مانتی تھی، محبت کو ایک ایسے احساس کا روپ دے بیٹھی تھی ،جہاں صرف سرشاری ہی سرشاری تھی۔ احساس میں لمس کا تو گزر اس نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا ، وہ تو بس محسوس کی جانے والی محبت کی قائل تھی ، روح کی سرشاری ہی اس کے نزدیک محبت کی معراج تھی۔بہت دنوں تک ماورا کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری رہا ۔ وہ بکھرتی رہی جڑتی رہی ۔

دن اپنے آپ کو مہینے اور پھر سال کی ردا میں چھپا تے رہے ،لیکن ماورا اپنے اندر کی اداسی کو آنکھوں میں بسائے اپنی من موہنی مسکراہٹ کے ساتھ جیتی رہی ۔

پھر اس کی زندگی میں فرہاد آیا ۔ فرہاد اس کا کلیگ تھا ۔پر کشش ، وجیہہ شخصیت کا مالک ،ماورا کبھی اس کی طرف متوجہ نہیں ہو پائی کیونکہ وہ خوابوں میں نہیں بلکہ عملی زندگی جینے میں یقین رکھتی تھی۔ اپنے گرد اس نے ایک حصار بنا لیا تھا۔ کسی سے بات کرتی تو مختصر الفاظ میں ، بلا وجہ کسی سے بے تکلف نہیں ہوتی ۔ اس کی شخصیت میں ایک وقار تھا ایک رعب تھا ، ہر کوئی اس کی طرف بڑھنے سے پہلے ہزار بار سوچتا تھا ۔اسے یہ سب بڑا اچھا لگتا تھا۔ لیکن جانے کیا بات تھی کہ فرہاد آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا تھا ، شاید اس کے کام کرنے کی لگن فرہاد کو اس کی طرف متوجہ کر رہی تھی ۔ اس دن اچانک پہلی مرتبہ فرہاد نے اسے فون کر لیا تھا ۔

” کیسی ہیں آپ ؟ “لہجے میں مٹھاس تھی

” ٹھیک ہوں۔ “ مختصر جواب تھا ،

”آپ مصروف تو نہیں تھیں؟ میں نے بے وقت کال کر لی آپ کو “

”نہیں آپ بات کر سکتے ہیں ۔“ ماورا کے لہجے میں متانت تھی ۔

”میں آپ کو اپنی ایک خوشی میں شریک کرنا چاہ رہا تھا اس لیے فون لگا لیا “ وہ حیران ہوئی ۔

”دراصل آ پ آفس میں اتنا کم بولتی ہیں کہ میں چاہ کر بھی آپ سے بات کرنے کی ہمت نہیں کر پاتا ، لیکن آج مجھ سے رہا نہیں گیا اور آپ کو کال کر لی، ماورا آپ نے برا تو نہیں مانا ۔“

”نہیں کوئی بات نہیں آپ کہیے کیا بات ہے ؟ “ لہجے میں شائستگی تھی ۔

”دراصل آج ایم ڈی سر نے میرے پر موشن کی خبر دی ہے ۔لیٹر دو ایک دن میں مل جائے گا ۔“

”ارے واہ یہ تو واقعی خوشی کی بات ہے ، بہت بہت مبارک ہو ۔“ اس نے بڑے جوش سے خلوص کے ساتھ مبارکباد دی۔

”آپ جانتی ہیں سب سے پہلے یہ خوشی آپ ہی کے ساتھ بانٹ رہا ہوں ۔“

” بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے اس لائق سمجھا ۔“ اس نے پھر متانت سے ہی جواب دیا ۔

”پلیز آپ ایسا نہ کہیے ۔آپ میرے لیے بہت اہم ہیں ، میں آ پ کی بہت عزت کرتا ہوں “

”بہت شکریہ ۔“ یہ پہلی تفصیلی بات تھی جو دونوں کے درمیان ہوئی اور وہ بہت دیر تک فرہاد کے بارے میں سوچتی رہی ۔

پھر کچھ دنوں کے بعد فرہاد وقفے وقفے سے اسے کال کرنے لگا۔ یوں فرہاد کے ساتھ باتوں کا سلسلہ چل پڑا ، آفس میں پہلے سے ہی ان کے بیچ کام کو لے کر اچھی ٹیوننگ تھی اب وہ دوستی میں بدل گئی تھی ۔

لیکن اس کے اندر کہیں ایک الجھن ضرور تھی ۔ جس کی وجہ اس کا پہلا تجربہ بھی تھا دراصل وہ سندیپ کو بھول نہیں پائی تھی اور مردوں کو لے کر ایک بے اعتباری اس کے اندر گھر کر گئی تھی کہ سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ہوس کے پجاری ۔ پھر اندرسے کہیں آواز آتی، نہیں نہیں دنیا اتنی خراب نہیں ہو سکتی ۔اپنے آپ کو وہ سمجھاتی رہی ، امید کا دامن چھوڑتے چھوڑتے وہ پھر اپنی ذات کو سمیٹ بیٹھتی کہ جنس مخالف کتنی بھی خراب ہو ساری دنیا ایک سی نہیں ہو تی ۔کہیں نہ کہیں کچھ اچھا بھی ہوگا ۔۔کہیں نہ کہیں اس کے اندر نرمی آرہی تھی ۔

آہستہ آہستہ دونوں ایک دوسرے کے حالات اور مزاج سے واقف ہو تے گئے ، خوبصورت جذبے ایک بار پھرنمو پانے لگے تھے ، اندر کی بے قراریوں کو سکون کے لمحے میسر ہونے لگے تھے ،پھر دل مسرور رہنے لگا تھا ۔ ایک بار پھر آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ رقصاں ہونے لگی تھی ۔

اس دن موسم بڑا خوشگوار تھا آفس سے نکلتے ہوئے فرہاد نے اسے جب چائے آفر کی ، تو وہ انکار نہیں کرسکی ، مسکراتے ہوئے اس کے ساتھ چل پڑی اور شام مزید خوبصورت ہو گئی ۔وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے ، جہاں انہوں نے نسبتاً کونے والی ٹیبل چنی تھی ۔ فرہاد بڑے رومینٹک موڈ میں تھا، وہ غزل ۔۔مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے ،یہ دنیا خوبصورت ہوگئی ہے۔۔۔ گنگنا رہا تھا۔ جس کے جواب میں ماورا کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ٹھہر سی گئی تھی گویا لبیک کہہ رہی ہو ۔ساتھ میں دونوں باتیں بھی کر رہے تھے۔ باتوں کا سلسلہ رکتا تو مسکراتے ہوئے پھر گنگنانے لگتا ۔ اسی دوران چائے آگئی باتیں کرتے کرتے وہ چائے پینے لگے ۔ جب اچھے دوستوں کے درمیان باتیں ہوتی ہیں تو موضوع معنی نہیں رکھتے۔ بات شروع آفس کے ماحول سے ہوئی تھی اور اب وہ عورت کے موضوع پر بحث کر رہے تھے فرہاد کا کہنا تھا کہ ” عورت بڑی مشکل شے ہے اسے سمجھنا بڑا ہی دشوار کام ہے “

”عورت سمجھنے کی چیز نہیں ،کوئی جیومیٹری، الجبرا کا سوال نہیں، کوئی فلسفے کی کتاب نہیں ۔بس محبت کا پیکر ہے ۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے سمجھا نہیں سراہا جائے۔ وہ تو بس ایک خوبصورت احساس ہے اسے بس محسوس کیا جائے ۔ “ماورا نے بڑی تفصیل سے وضاحت کی ۔

” میری بات سنو ماورا کتابی باتیں نہ کرو ، جانتی ہو عورت صرف خوبصورت پیکر ہے ۔“

فرہاد نے پیکر پر زور دیتے ہوئے کہا

نہیں جناب غلط فرمارہے ہیں آپ ” عورت پیکر ہے لیکن محبت کا ،خوبصورت جذبوں کا ۔اس نے مسکراتے ہوئے سمجھایا ۔

نجانے تم کس طرح کی فلسفیانہ باتیں کر رہی ہو ۔ مرد کی نظر سے دیکھو ، اس کے پاس عورت کو سیکھنے کے لیے تو صرف ایک نظر ہوتی ہے ، عورت کی ایک ہی حقیقت کو وہ جانتا ہے ،کہ عورت ، صرف اور صرف ایک جسم ہے، خوبصورت پر کشش جسم ۔“ یہ کیسا اعتراف کر رہا تھا وہ مردوں کی سوچ کا ، فرہاد کی بات نے اسے حیران کر دیا ۔

” غلط کہہ رہے ہو تم ۔ تمہاری سوچ بالکل درست نہیں ہے ۔عورت جذبوں کی صداقت ہے، ایک اعتبار ہے ۔ “

” نہیں وہ صرف جسم کا اتار چڑھاﺅ ہے ۔“

”کتنی گھٹیا سوچ ہے تمہاری ۔“ ماوراسخت غصے میں آگئی تھی عورت کی اتنی تذلیل اس کی قوت برداشت جیسے جواب دینے لگی تھی پھر بھی اس نے خود پر قابو رکھتے ہوئے کہا

” فرہاد عورت صرف چاہے جانے کے لیے بنی ہے۔ محبت اور پیار کا دوسرا نام عورت ہے ،کیا تم نے کبھی اس کے ایسے روپ کو محسوس نہیں کیا ؟ “۔۔

”تم کیا سمجھتی ہو اگر تمہارا جسم پرکشش نہ ہوتا تو کیا مجھ جیسا خوبصورت مرد تمہارے ساتھ ہوتا ۔“

ماورا حیران ، ششدر اسے دیکھتی رہ گئی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے ۔ وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی کہ چھن چھناک سے اندر جانے کیا ٹوٹ رہا تھا ،اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔ فرہاد نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ تھام لیے اور اس کے ہونٹوں کی طرف اپنے لب بڑھا دئیے ۔’ عورت صرف جسم کی کشش ہے مائی لو ‘کہتے ہوئے اس نے اسے پوری طرح اپنی طرف کھینچ لیا تھا اور اس کے ہونٹوں پر اپنے لب پیوست کرنے کو ہی تھا کہ زناٹے دار تھپڑ نے اس کے اوسان خطا کر دئیے ۔

” عورت ایک جیتا جاگتا وجود ہے ‘ سمجھے صرف جسم نہیں ‘ ماورا غصے سے کانپ رہی تھی

پھر تو فرہاد اپنے آپے سے ہی باہر ہو گیا ۔ وہ ایک دم جلال میں آگیا تھا ، اسے یہ بھی ہوش نہیں تھا کہ وہ کیا کیا بول رہا تھا ،لیکن اس کے ہونٹوں سے برسنے والے انگارے اس کے وجود کو جلا کر خاکستر کر گئے تھے۔

” ماورا جانتی ہو ! تم اوپر سے جتنی کالی ہو اتنا ہی تمہارا دل بھی کالا ہے ۔ تم کسی کی محبت کو سمجھ ہی نہیں سکتیں“ وہ اپنا گال بھی سہلا رہا تھا ۔

” تم گھٹیا عورت اپنے آپ کو کیا سمجھتی ہو ۔ قلو پطرہ ہو ، با لی ووڈ کی ہیروئن ہو لیکن تم نہیں جانتی میں کون ہوں اور میں جواباً تمہارا کیا کر سکتا ہوں ۔“

”کیا کر لوگے تم میرا ، کر کیا سکتے ہو ؟ ماورا کی آواز میں اب بھی تیزی اور کاٹ تھی ۔“

” بس اب تم دیکھتی جانا میں تمہاری پارسائی کے لبادے کو سوشل میڈیا پر کیسے اتارتا ہوں ۔“

وہ طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ مگر تیز لہجے میں بولی ۔

”بس ! تم مرد ! بس اتنی ہی مردانگی کہ عورت ہاتھ نہ آئے تو اس کی کردار کشی کر دو ، اس کے سوا ہے کیا تمہارے پاس ، جاﺅ جا کر یہ بھی کر لو ، بے بس لا چار مرد! “

وہ پیر پٹکتا وہاں سے چلا گیا تھا ، اور وہ ایک بار پھر چلچلاتی بے اعتباری کی دھوپ میں کھڑی رہ گئی تھی ، پھر ایک بار وہیں لوٹ آئی تھی جہاں صرف اور صرف اس کی رنگت تھی ، اس کے معمولی نقش و نگار تھے ۔ اس کے اندر اترتا گہرا کالا دھواں تھا کہ سانس لینا بھی مشکل ۔۔۔

لیکن اب بھی وہ کبھی کبھی سوچتی ہے کہ محبت کی راہ گزر کتنی خوبصورت ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ کاش یہ ہوس راستے میں نہ آئی ہوتی۔۔۔ یہ کمبخت ہوس اتنی بے تاب کیوں رہتی ہے ۔ ۔۔ ذرا قرار لے لے ۔۔۔ ذرا اعتبار پالے ۔۔۔ محبت تو ہے ہی خود سپردگی کا نام ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے