سر ورق / ٹلہ جوگیاں کا سفر اور بے آرام روحیں … طاہر نواز

ٹلہ جوگیاں کا سفر اور بے آرام روحیں … طاہر نواز

ٹلہ جوگیاں کا سفر اور بے آرام روحیں

طاہر نواز

اب کی بار ہم چار تھے ہادی، بندہ بشر، مردِ مجاہد اور ہم۔۔۔ ہمارے سامنے قطار اندر قطار پہاڑوں کا سلسلہ تھا۔۔۔اور ہمیں وہم کے سنپولیے ڈستے تھے کہ اگر اسی طرح ہر پہاڑ کے بعد ایک اور پہاڑ راستے میں سر اٹھاتا رہا تو ہم منزل تک کیسے پہنچیں گے۔۔۔ان وسوسوں کو ہادی ہوا دیتا تھا اور ہمارے اندر ڈر پیدا کرنے کی کوشش میں لگاتار مصروف تھا کہ بس اس سے آگے نہیں جانا۔۔۔آگے کا سفر خطرناک ہے۔۔۔اگر راستے میں کچھ ہو گیا تو پھر۔۔۔شام ہو رہی ہے۔۔۔اپنی تو ہمت تمام ہو رہی ہے۔۔۔بس اب واپسی کا راستہ لو۔۔۔باز آئے ہم ایسی کوہ نوردی سے۔۔۔یہاں تو اور کچھ بھی نظر نہیں آ رہا۔۔۔اگر جنگلی جانور نکل آیا تو کیا ہو گا۔۔۔ابھی تک یہاں کوئی اور آدمی تو کجا کسی کا سایہ بھی نظر نہیں آیا۔۔۔ہمارے چاروں طرف انت خاموشی کا راج تھا اور ہم اس میں چھید کرتے آگے بڑھتے جاتے تھے۔۔

ہم رانجھے نہ تھے جو کن پھڑوانے اور جوگ لینے ٹلہ جوگیاں کا سفر کرتے تھے۔۔۔بس سن رکھا تھا کہ جہلم کے نواح میں ایک پہاڑی سلسلہ ہے اور اس سلسلے میں ایک ٹلہ ہے جو جوگیوں سے منسوب ہے۔۔۔یہ کوئی عام ٹلہ نہیں ہے بلکہ یہاں پر بادشاہان کا گزر بھی ہوا ہے اور تو اور بابا گرو نانک نے بھی کچھ عرصے یہاں پر قیام کیا تھا۔۔۔رانجھا بھی جوگ لینے یہیں پر آیا تھا۔۔۔تو یہ کوئی عام ٹلہ نہیں ہے۔۔۔اور ہمیں یہی شوق اس ٹلے کی طرف لیے جاتا تھا کہ دیکھیں کہ ایسی کیا خاص بات ہے اس ٹلے میں۔۔

قلعہ روہتاس کے پہلو میں سے ایک خستہ حال سڑک آگے جنگل کی طرف جاتی ہے جس پر تقریباً تین کلو میڑ کے بعد ایک آہنی سائن بورڈ نصب ہے جو بائیں طرف نشاندہی کررہا ہے کہ اگر ٹلہ جوگیاں جانے کے خواہشمند ہیں تو اس خستہ سڑک کو خیر باد کہہ کر اس کچے پہاڑی راستے پر چل پڑیں۔۔۔ہمارا یہ خیال تھا کہ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹے کا راستہ ہو گااور ہماری طرح کچھ اور لوگ بھی شاید ہمیں مل جائیں ٹلہ جوگیاں کی طرف جانے کے لیے۔۔۔لیکن یہ سب ہمارا خیال ہی تھا۔۔تھکن سے نڈھال جب ہم ایک ٹیلے پر پہنچتے تھے تو ایک اور ٹیلا ہمارے راستے میں حائل ہوتا تھا۔۔

قریب تھا کہ ہم مایوس ہو جاتے۔۔۔اور ہماری مایوسی میں بڑا ہاتھ اس لکڑ ہارے کا بھی تھا جو لکڑیاں اٹھائے اچانک ہی نمودار ہوا تھا اور یہ پہلا ذی روح تھا جو ہمیں اس راستے پر ملا تھا۔۔۔ہماری امیدوں پر پانی اس نے اس وقت ڈال دیا جب اس نے کہا کہ ٹلہ جوگیاں کا ابھی بھی مزید دو سے تین گھنٹے کا سفر ہے اور راستہ آگے مزید خراب ہو جائے گا۔۔۔ایسا نہ ہو کہ آپ لوگ راستہ بھول جائیں اور اس جنگل میں ہی کہیں گھومتے رہیں۔۔وہ تو یہ کہہ کر چلا گیا اور ہمارا حال ہارنے والے کے جیسا ہو چکا تھا۔۔۔اس پر ہادی کو مزید شہہ ملی اور وہ شور مچانے لگا کہ میں نہ کہتا تھا کہ واپس چلتے ہیں۔۔۔اب تو اس لکڑہارے نے بھی کہہ دیا ہے کہ آگے جانا خطرناک ہے۔۔۔بس واپس چلتے ہیں اور قلعہ روہتاس کی سیر کرتے ہیں اور پھر ادھر سے ہی واپس چلتے ہیں۔۔۔اور ہم تینوں نے بھی واپس جانے کی آمادگی ظاہر کر دی تھی۔۔

پھر امید کی ایک چنگاری اٹھی اور ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ بس تھوڑا سا اور آگے جا کر دیکھتے ہیں۔۔۔بس ایک اور پہاڑ کی چوٹی سر کرتے ہیں اور پھر واپس۔۔۔نہیں جاتے ہم ٹلہ جوگیاں۔۔۔باز آئے ہم ایسے سفر سے۔۔۔ ہم میں سب سے زیادہ خوش ہادی تھا کہ بہر حال اس کی بات سچ ثابت ہو رہی تھی۔۔

ہم چاروں پیاس سے نڈھال۔۔۔دیوانہ وار چلے جا رہے تھے۔۔۔کہ اچانک ہادی نے چیخنا شروع کیا اور ہم تینوں حیرت زدہ ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔۔

ہادی کی چیخ کے ساتھ ہی ہم تینوں ان ہی قدموں پر رکے اور اس کی طرف دیکھا۔۔۔اس ایک لمحے میں ہزاروں خیال، گمان اور وسوسے ہمارے ذہن میں جاگے۔۔۔اور ان خیالات کے ساتھ ہی ہم ڈر گئے تھے۔۔۔کہیں ہادی کو کس چیز نے کاٹ تو نہیں لیا؟۔۔۔یا ہادی نے کوئی خوفناک جانور دیکھ لیا ہو۔۔۔یا شاید پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر گر گیا ہو۔۔۔اور گرنے سے پہلے اس آخری لمحے میں ایک چیخ بلند کی ہو۔۔۔اور وہ چیخ اپنے سے آگے بے خبر چلنے والے تین لوگوں کو ایک اطلاع دینے کے لیے ہوکہ تم جو مجھ سے آگے بے خبر ٹلہ جوگیاں کی طرف بھاگے چلے جا رہے ہو تو ہمارا سفر یہیں تمام ہوتا ہے۔۔۔خدا حافظ

خوف کی ایک سرد لہر ہمارے سارے وجود سے گزر گئی تھی۔۔۔اگر ہادی کو کچھ ہو گیا تو۔۔۔اگر وہ خیالات جو ہمارے دماغ میں ایک دم سے جاگ اٹھے تھے اگر ان میں کوئی ایک بھی سچ ہو گیا تو پھر۔۔۔کیا محض ایک ٹلہ جوگیاں کے لیے ہم اپنے دوست کو کھو دیں؟۔۔۔اگرچہ ٹلہ جوگیاں کی اپنی قدر و قیمت ہو گی۔۔۔بہت سے لوگوں کے لیے مقدس اور متبرک ہو گا۔۔۔لیکن ہمارے لیے اتناتو نہ تھا کہ ہم اس کے لیے ایک دوست کو کھو دیں۔۔۔ہم تو صرف یہ یقین کرنے کے لیے وہاں جاتے تھے کہ یقین کر لیں کہ اس کے بارے میں جو کچھ بیان کیا جاتا ہے کیا وہ ایسا ہی ہے یا پھرمحض قصہ گوو ¿ں کے تخیل کی کارفرمائی ہے۔۔۔ وہ محض جھوٹ باندھتے ہیں۔۔۔ہم صرف یہ یقین کرنا چاہتے تھے۔۔۔جیسا کہ فرید الدین عطار کے وہ پرندے قاف کی طرف محو پرواز تھے ایک سی مرغ کو دیکھنے کے لیے۔۔۔ایک تھوڑے سے یقین کے لیے۔۔۔ ایک تھوڑے سے یقین کے لیے کتنے کشٹ اٹھانے پڑتے ہیں۔۔۔اگرچہ وہ پرندے ہی کیوں نہ ہوں۔۔

ایسے ہی یقین کے لیے ہم بھی ٹلہ جوگیاں کی طرف بڑے چلے جا رہے تھے۔۔۔اور اس لمحے ہم بھی فرید الدین عطار کے وہ پرندے تھے جو شوق منزل میں اپنے آس پاس کی ہر ایک چیز سے بے خبر بس اڑے چلے جا رہے تھے۔۔۔اور یہ نہیں جانتے تھے کہ ہم میں سے ایک پرندہ اب طاقتِ پرواز کھو چکا ہے۔۔۔اور وہ گر گیا ہے۔۔۔اور وہ اب ہم میں نہیں رہا۔۔

ہادی بھی ایسا ہی ایک پرندہ تھا جو اپنی ڈار سے کٹ کر۔۔۔اس سے باغی ہو کر۔۔۔ پہاڑ کی سچائیوں کی تلاش میں نکلا تھاکہ بہرحال ایک بڑے سچ پر قائم رہنے کے لیے دیگر سچائیوں کا جاننا بھی ضروری ہے۔۔۔آخر پہاڑوں میں کچھ تو ایسا ہے کے عہدِ قدیم سے لوگ ہموار زمینوں کے آرام کو ترک کر کے۔۔۔جان جوکھم میں ڈالتے ہوئے۔۔۔ان پہاڑوں کی طرف چلے آتے ہیں۔۔۔اور اگر وہ چلے آتے ہیں تو محض سیر کرنے کے لیے تو نہیں آتے۔۔۔ان میں سے کچھ یقینا سچائیوں کی تلاش میں آتے ہیں۔۔پہاڑوں کے اپنے سچ ہوتے ہیں۔۔

ہم بھی اسی نیت سے چلے آئے تھے۔۔۔اور اب ہادی اپنی ایک چیخ کے ساتھ ہمارے اس سفر کو کھوٹا کرتا تھا۔۔۔کیا ضروری تھا کہ چیخ مار کر ہی گرا جاتا۔۔۔کیا چند لمحے پہلے نہیں بتا سکتا تھا کہ بھائیو اب مجھ میں مزید طاقت پرواز نہیں۔۔۔اگر چاہو تو رک جاو ¿۔۔۔اگر یونہی چھوڑ کر جانا چاہتے ہو تو اپنا سلامِ آخر ہے۔۔لیکن اس نے تو سلامِ آخر بھی نہیں کہا تھا۔۔۔محض ہمیں روکنے کے لیے ایک چیخ ماری تھی۔۔۔ہادی بڑا بے وفا تھا۔۔

اس لمحے جب ہم تینوں نے پلٹ کر ہادی کی طرف دیکھا۔۔۔تو وہ ہم سے کچھ فاصلے پر۔۔۔چھلانگیں لگاتا۔۔۔سرکنڈوں کو پھلانگتا ہوا۔۔۔درختوں کے اس جھنڈ کی طرف بھاگا جا رہا تھا جس کے پار اس نے پانی دیکھ لیا تھا۔۔۔سورج کی کوئی ایک کرن جب مچل کر پانی کے آئینہ وجود پر پڑتی تو منعکس ہو آنکھوں تک پہنچتی۔۔۔اور دور سے آنے والے مسافرکو درختوں کے اس پار جھنڈ میں پانی کا پتا دیتی۔۔۔ہم تینوں آگے تھے اور باتوں میں مصروف تھے اس لیے اس طرف دھیان نہ کر سکے۔۔۔ہادی ہم سے پیچھے درختوں میں تانکتا جھانکتا آ رہا تھا۔۔۔اور کبھی کبھار نسلِ انسانی میں جتنے بھی موسیقار گزرے ہیں ان کی روحوں کو بے آرام کرنے کے لیے کچھ گانے لگتا۔۔۔اگر درخت بھی کلام کرتے تو یقینا ہم سے یہی کہتے کہ اگر اس جنگل میں چلے آئے ہو۔۔۔دیکھو ہم نے تمہیں کوئی آزار نہیں پہنچایا۔۔۔تمہارے راستے میں حائل نہیں ہوئے۔۔۔البتہ تمہیں سایہ ضرورفراہم کر رہے ہیں۔۔۔تو بس ہم پر ایک احسان کر دو۔۔۔ہادی سے کہہ دو اپنے یہ بے سر کے گانے نہ گائے۔۔۔بس چپ رہے۔۔

ہادی کے تعاقب میں جب ہم درختوں کے جھنڈ کے اس پار پہنچے تو ہم پر ایک عجیب منظر کھلا۔۔۔ہمارے سامنے پانی ہی پانی تھا۔۔۔یہاں اس مقام پر اتنی بڑی جھیل بھی ہو سکتی ہے یہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔۔۔جھیل کے جس کنارے ہم پہنچے تھے۔۔۔ہم سے کچھ ہی فاصلے پر ایک چھوٹا سا بگلہ ایک ٹانگ پر کھڑا نہ جانے کس گیان دھیان میں تھا۔۔۔ اس نے ہم پر ایک بار بھی نظر نہ کی۔۔۔کہ یہ چار انسان جو تھکے ہارے یہاں تک چلے آئے ہیں تو ان کی طرف ایک نظر دیکھ لوں۔۔۔ان کے سراپوں کو اپنی آنکھ کے کینوس پر نقش کر لوں۔۔۔ہم نے بھی اسے بے آرام کرنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔بس اس کی چند ایک تصویریں اتاری تھیں۔۔۔وہ بگلہ ہمیں کچھ عاشق سا لگا تھا۔۔

جھیل کے پانیوں میں حرکت تھی۔۔۔لیکن بالکل خاموش اور مدھم۔۔۔بس کائی کی ایک تہہ تھی جو ادھر سے ادھر تیرتی نظر آتی تھی۔۔۔جس پر تتلیاں تھیں جو اڑ رہی تھیں۔۔۔ ان میں سے کوئی ایک پانی پر تیرتے پتوں پر تھوڑی دیر کے لیے بیٹھتی۔۔۔خود کو تازہ دم کرتی اور پھر سے اڑنے لگتی۔۔

جھیل کے دوسرے کنارے پر اگے درخت جھک کر پانی میں اپنا عکس دیکھتے تھے اور نارکیسس (Narcissus)کی طرح خود پر ہی فدا ہوتے تھے۔۔۔اگر وہ جڑوں کے ذریعے زمین کے ساتھ بندھے نہ ہوتے تو یقینا صرف اپنا ایک بوسہ لینے کے لیے جھیل کے اس پانی میں گر پڑتے۔۔۔کہ جھیل کے آئینے جیسے پانی میں ان کا عکس اتنا ہی خوبصورت تھا۔۔

جھیل کے اس خوبصورت ماحول پرمرگ کی خاموشی تھی۔۔۔کہیں سے بھی کسی پرندے کے چہچہانے۔۔۔کسی حشرات الارض کے ٹرانے۔۔۔یا کسی چیز کے چٹخنے کی آواز نہ تھی۔۔۔بس جھیل کے کنارے پر ہم چار تھے۔۔۔ایک بگلا تھا۔۔۔کچھ تتلیاں تھیں۔۔۔اور انت خاموشی تھی۔۔۔اس خاموشی نے جھیل کے اس ماحول کو پراسرار بنا دیا تھا۔۔۔ہم سب جھیل کے کنارے بیٹھے اس کے نظارے سے لطف اندوز ہو رہے تھے جب ہمیں لگا کہ جھیل کے دوسرے کنارے پر درختوں کے جھنڈ میں کوئی ہے۔۔۔کوئی چیز تھی جو حرکت کر رہی تھی۔۔

جھیل کے اس پار درختوں میں ہونے والی حرکت نے ہمیں وقتی طور پر خوفزدہ کر دیا تھا۔۔۔ہم چاروں ایک ساتھ کھڑے ہوئے اور درختوں کے جھنڈ میں اس سمت دیکھنے لگے جہاں سے آواز آئی تھی۔۔۔درختوں کا وہ جھنڈ اتنا گھنا تھا کہ کوئی چیز نظر نہیں آ رہی تھی۔۔۔بس ایک حرکت تھی جو مسلسل ہو رہی تھی اور اسے محسوس کیا جا سکتا تھا۔۔۔کوئی جنگلی جانور ہے شاید۔۔۔بشربھائی کی آواز نے ماحول پر چھائی بے یقینی کی گھٹا کو مٹانے کی کوشش کی ہی تھی کہ ہادی بول پڑا۔۔۔مجھے لگتا ہے کوئی آدمی ہے۔۔۔ ہو سکتا ہے وہ ایک سے زیادہ ہوں۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ سامنے ہو ں ہم بھاگ نکلتے ہیں۔۔

عجیب بات تھی کہ ہم جنگلی جانور سے زیادہ جھیل کے کنارے اس پراسرار ماحول میں ایک آدمی سے ڈر رہے تھے۔۔۔اور دل میں یہی چل رہا تھا کہ سچ مچ میں کوئی آدمی ہی نہ ہو۔۔۔کہ جانور کی خصلت سے تو ہم آگاہ ہوتے ہیں۔۔۔لیکن کوئی آدمی کس خصلت کا مالک ہے یہ تو اس سے واسطہ پڑنے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے۔۔۔ اور اس جنگل ویرانے میں ہم ایسا کوئی رسک لینے کو تیار نہیں تھے۔۔

جھیل کے اس پار درختوں کے جھنڈ میں ہونے والی حرکت سے پیدا ہونے والے خوف نے ہمیں بے مزہ کر دیا تھا۔۔۔اور ہم پھر سے ٹلہ جوگیاں کی طرف چلنے لگے۔۔۔اب راستہ بہت زیادہ پتھریلا تھا۔۔۔ناہموارگی نے اسے چلنے کے لیے مزید دشوار بنا دیا تھا۔۔۔ہر تھوڑی دیر کے بعد ہم میں سے کسی ایک کا پاو ¿ں پھسل جاتا۔۔۔اور وہ اپنا پاﺅں پکڑ کر ادھر ہی بیٹھ جاتا۔۔۔راستہ ایسے ہی رکتے اور چلتے کٹ رہا تھا۔۔۔اب کی بار میں اور ہادی آگے آگے جا رہے تھے۔۔۔مردِ مجاہد اور بندہ بشر ہم سے کچھ فاصلے پر پیچھے پیچھے باتوں میں مصروف چلے آ تے تھے۔۔۔نہ جانے وہ کون سی گتھیاں سلجھا رہے تھے۔۔۔ماحول کی سختی کو کم کرنے کے لیے ہادی نے ہم سے ایک خط سنانے کا تقاضا کیاجو ہم نے اس کی ہی فرمائش پر لکھا تھا۔۔۔خط کچھ یوں تھا:

راحتِ جاں، آداب!

کیسی ہو۔۔۔یقینا خیریت سے ہو گی۔۔۔اتنے دعوے سے اس لیے کہہ رہا ہوں کہ دل کی ہر دھک دھک دراصل تمہاری صحت مندی اور کامیابی کے لیے ایک وظیفہ ہے۔۔۔جو سچ کہوں تو میری مرضی کے بغیر کرتا رہتا ہے۔۔۔میرا دل بھی تمہاری طرح ہے۔۔۔وہ میری کوئی بات نہیں مانتا۔۔

راحتِ جاں اب شامیں پھیکی پھیکی سی ہو گئی ہیں۔۔۔یوں لگتا ہے جیسے کسی نے ان میں سے سارے رنگ نچوڑ دیے ہوں۔۔۔میں اکثر شام کے وقت پارک میں چلا جاتا ہوں۔۔۔وہ بینچ جہاں میں اور تم بیٹھتے تھے اب اداس رہنے لگا ہے۔۔۔میں اس کی تنہائی کو مٹانے کے لیے گھنٹوں اس سے باتیں کرتا رہتا ہوں۔۔۔لیکن وہ میری کسی بات کا جواب نہیں دیتا۔۔۔میں اکیلا ہی اس سے باتیں کرتا رہتا ہوں۔۔۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ دور سے دیکھنے والے لوگ مجھے یوں باتیں کرتے ہوئے پاگل سمجھتے ہوں گے۔۔۔لیکن میں کیا کروں مجھ سے اس بینچ کی اداسی دیکھی نہیں جاتی۔۔

تمہیں پتا ہے جب کوئی پارک میں آ کر مجھے۔۔۔ایکس کیوز می کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔۔۔کہتا ہے تو میں اکثر جھوٹ بول دیتا ہوں۔۔۔سوری یہاں کوئی بیٹھا ہوا ہے۔۔۔پھر اس جھوٹ پر خود کو ہی ملامت کرتا رہتا ہوں۔۔۔اس کا حل میں نے یہ نکالا ہے کہ۔۔۔جہاں تم بیٹھتی تھیں اب وہاں میں جون ایلیا کی وہ کتاب رکھ دیتا ہوں جو تم آخری بار جاتے ہوئے چھوڑ گئی تھیں۔۔۔اس کتاب کے سرِ ورق پر چھپی جون ایلیا کی تصویر۔۔۔سفید کرتے میں جس کے اوپر والے دو بٹن کھلے ہوئے ہیں۔۔۔مجھے گھورتی رہتی ہے اور میں اسے۔۔

میں نے اس کتاب کو کبھی نہیں کھولا۔۔۔کہ اس کتاب کے ہر صفحے پر تمہاری انگلیوں کا لمس اور تمہارے وجود کی مہک ہے۔۔۔مجھے ڈر ہے کہ اگر کتاب کھولوں گا تو وہ مہک۔۔

خط سناتے ہوئے ابھی ہم یہاں تک ہی پہنچے تھے کہ ایک موڑ پرسامنے کے درختوں سے بڑی بڑی مونچھوں والے دو آدمی نکلے۔۔۔ان کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں اور چہروں پر عجیب قسم کا تناو ¿ تھا۔۔۔ وہ ہماری طرف ہی دیکھ رہے تھے۔۔یوں لگتا تھا جیسے وہ ہمارے ہی منتظر تھے۔۔۔تو کیا واقعی جھیل کے اس پار درختوں کے جھنڈ میں ہونے والی حرکت کسی آدمی کی تھی جس نے اپنے باقی ساتھیوں کو ہماری اطلاع کر دی تھی۔۔۔اور اب وہ ہمارا راستہ روکے کھڑے تھے۔۔۔ہمارے پاس پیچھے کی طرف بھاگنے کا مارجن بھی نہیں تھا۔۔۔ہم پھنس چکے تھے۔۔

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے