سر ورق / کتاب: کاری : شیریں گل : ملک شفقت اللہ شفی

کتاب: کاری : شیریں گل : ملک شفقت اللہ شفی


کتاب: کاری
مصنفہ: شیریں گل
اظہار خیال: ملک شفقت اللہ شفی
حساس دل کی زمین اپنے اطراف کے ظلم و زیادتیوں اور نا انصافیوں کے کرب سے لبریز ہوتی ہے۔ کئی لوگ بغاوت پر اتر آتے ہیں تو کئی اسی بدبودار نظام کا حصہ بن کر زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن زندگی گزارنے اور جینے میں یہی فرق ہے جو ایک با شعور، ثابت عقل انسان اور جانور کی زندگی میں فرق ہے۔ بھکر کی سرزمین سے زندگی کی خزاؤں کے مسلسل موسم اور اس موسم کے بدلتے رویوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے والی شیریں گل کے احساسات اور کرب بھری کتاب “کاری” کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کا مزاج پڑھ کر یہی کہوں گا کہ “کاری” ان کے کرب کا پہلا مجموعہ ہے جس میں انہوں نے شاعرانہ انداز میں معاشرت، رشتوں، محبت اور دیگر اہم پہلوؤں کی ظلمتوں کی نشاندہی بڑے خوبصورت اسلوب سے کی ہے۔ آج کل ایک نئی رسم چلی ہے کہ اگر کلام منظوم نہ کہہ پاؤ تو اسے نثری نظم کا نام دے دو۔ اس کتاب میں قریب ساری نظمیں نثری ہیں۔ لیکن شاعری کے اصولوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں کسی منافقت کا متحمل نہ ہوتے ہوئے ان کو افسانچوں کا نام دوں گا۔ کیونکہ نظم سے مراد ہی منظوم کلام ہے جس کے باقاعدہ پیمانے ہیں۔ جن پیمانوں کی اگر معافی دنیا کیلئے بڑے کام کر جانے والے شعراء کرام جو ہمارے اسلاف ہیں انہیں نہیں ہوئی تو یہاں دلجوئی کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن میں شیریں گل کے اسلوب سے نا انصافی بھی نہیں کر سکتا۔ میری نظر میں شیریں گل کا یہ اسلوب ایسا ہے جو دلوں میں تاثیر بھردینے والا ہے۔اس بنا پر میں کہوں گا کہ شاعرہ ان کے اندر موجود ہے جس پر اگر محنت کی جائے تو وہ کندن بننے کیلئے تیار ہے۔ کیونکہ وہ اپنے احساسات کے تخیلات میں پہلے ہی پک چکی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ شیریں گل اس طرح معاشرے کے بھیانک چہرے کو بے نقاب کرتے ہوئے ادب و سخن کے سفر پر آگے بڑھتی رہیں گی اور آئندہ ایک خوبصورت اور منظوم کلام اپنے قارئین کیلئے لے کر آئیں گی۔ ان کی حساسیت، زندہ دلی اور ایک اچھی تشخیص کرنے والی صلاحیتیوں کو بروئے کار لانے کیلئے اور معاشرے کیلئے مفید فرد بننے کیلئے انہیں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
آخر میں دو افسانچوں کا انتخاب قارئین کی نذر:
عنوان: بنتِ حوا
تماش بینوں سے بھرے ہیں رستے
ہیں ان کی نظریں
کہ جیسے بدن کو چھیدتے ہوں کانٹے
کہیں نہیں ہے پناہ حاصل
سکون ہے نہ قیام حاصل
بس اک سفر بے شجر، لاحاصل
ہوس زدہ چار سو نگاہیں
لبوں پہ مرتی ہوئی دعائیں
اے خدائے لم یزل بتا دے
پھٹی پرانی ردا سنبھالے
ان بھیڑیوں کے ہجوم میں جو
زخمی پیروں سے چل رہی ہے
پناہ کی خواہش میں، چھت کی چاہت میں
کتنی صدیوں سے جل رہی ہے
وہ اپنی ہستی کہاں چھپائے
یہ بنتِ حوا کدھر جائے؟
یہ بنتِ ھوا کدھر جائے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عنوان:ویرانی
میرے دل میں رہتی ہے
اک ننھی سی خاموش گڑیا
جو ہنستی ہے نہ روتی ہے
نہ لفظوں میں بولتی ہے
بس میرے نقلی چہروں کو
حیرانی سے تکتی ہے
اور میرے دوہرے لفظوں کو
خاموشی سے سنتی ہے
اس گڑیا کے چہرے پر
کئی رتوں کی میل چڑھی ہے
اس گڑیا کے بالوں میں
کئی قرنوں کی گرد جمی ہے
اس گڑیا کی آنکھوں میں
دکھ بھی حیرانی بھی
درد کی برف کے آنسو بھی ہیں
جلتی ہوئی ویرانی بھی
میرے دل میں رہنے والی
یہ ننھی سی خاموش گڑیا
کچھ کہتی نہیں بس سنتی ہے
پر اپنی جامد چپ کے اندر
اور اپنے پتھر ہاتھوں سے
مجھ کو توڑتی رہتی ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے