سر ورق / اردو کہانی کا سفر۔۔۔ اٹھارویں قسط ۔۔۔ اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر۔۔۔ اٹھارویں قسط ۔۔۔ اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر
اٹھارویں قسط
تحریر اعجاز احمد نواب
✍️✍️✍️✍️✍️تیرہ نومبر 2019 کو ادب کا ایک بڑا نام خاک کی چادر اوڑھ کر ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سو گیا محمد حامد سراج انتقال کر گئے، اللہ پاک غرقِ رحمت کرے آمین ثم آمین


✍️نام: محمد حامد.. قلمی نام: محمد حامد سراج پیدائش: 21 اکتوبر 1958 خانقاہ سراجیہ، ضلع میانوالی، پاکستان وفات: 13 نومبر 2019 تعلیم: ایم اے
✍️تصنیفات :
وقت کی فصیل (افسانوی مجموعہ)
میّا (ماں کے موضوع پر اُردو ادب کا طویل خاکہ)
برائے فروخت (افسانوی مجموعہ)
آشوب دار (افسانوی مجموعہ)
آشوب گاہ (ناولٹ)


بخیہ گری (افسانوی مجموعہ)
ہمارے بابا جی
مجموعہ محمد حامد سراج
عالمی سب رنگ افسانے
نامور ادیبوں کی آپ بیتیاں
برادہ (افسانوی مجموعہ)
مشاہیرِ علم و دانش کی آپ بیتیاں
بادشاہوں کی آپ بیتیاں
(نقش گر (۲۵ منتخب افسانے)
نام ور ادیبوں کے خاکے
اور چند دیگر….

……
……

✍️✍️✍️✍️✍️غلام رسول مہر….


16نومبر 1970 کو فوت ہونے والے غلام رسول مہر کی آج انچاسویں برسی ہے مرحوم علم وادب کا گہوارہ تھے قلم کی دنیا کا تابندہ نام، علامہ اقبال کے اردو اور فارسی کلام کی شرح کے ساتھ غالب کے خطوط اور ان کی شرح نوائے سروش انہی کا کارنامہ ہے مولانا غلام رسول مہر کی پیدائش 13 اپریل 1893 کو برطانوی ہندوستان کے شہر جالندھر کے دورافتادہ گاؤں پھول پور میں ہوئی، صحافتی زندگی روزنامہ زمیندار سے شروع ہوئی بعد میں روزنامہ انقلاب شروع کیا جس پر 1949 میں حکومت نے پابندی لگا دی، آپ نے سو زائد کتابوں کی تصنیف و تالیف کی، موضوعات میں اسلام سیاست ادب تاریخ 1857 کی جنگ آزادی اور سیرت شامل ہیں غلام رسول مہر سولہ نومبر 1971 کو لاہور میں وفات پاگئے ، لاہور میں ہی دفن ہیں،……
……
……

✍️✍️✍️✍️✍️✍️ڈائجسٹوں کی ایک الگ ہی دنیا ہے، ادب نواز مانیں یا نہ مانیں کوئی فرق پڑتا ہی نہیں، جو آبیاری اردو زبان اور مصنفین کی ڈائجسٹوں نے کی ہے اس کی کوئی دوسری مثال نہیں، لکھاریوں کو آسودہ حال بھی ڈائجسٹوں نے ہی کیا، ایک اندازے کے مطابق دو ارب 2000000000 سے زیادہ ڈائجسٹ پاکستان میں آج تک فروخت ہو چکے ہیں، اس وقت پاکستان اور جہاں جہاں اردو بولی پڑھی سمجھی جاتی ہے، اور جن لکھنے والوں سے لوگ واقف ہیں ان میں سے اکثریت ڈائجسٹوں کی مدد سے آگے بڑھی ہے، ٹیلی ویژن ڈرامہ لکھنے والی تقریباً تمام خواتین مصنفین بھی خواتین کے ڈائجسٹوں کی نرسری سے اُگ کر آئی ہیں، لیکن اگر یہ دیکھا جائے کہ ڈائجسٹ کی دنیا میں سب سے زیادہ کامیاب اور سب سے زیادہ مسلسل چھپنے والا نام کون سا ہے تو شاید متفقہ رائے

یہ ہو گی کہ.. محی الدین نواب.. نواب صاحب کو بھی ادبی دیوتاؤں نے تسلیم نہ کیا، کیوں کہ انہوں نے کسی بھی تنقید نگار یا ادبی گروپ کے سامنے زانوئے تلمُذ تہہ نہ کیا!!
محی الدین نواب کی صرف ایک کہانی دیگر کسی بھی مصنف کی تمام کہانیوں سے مقابلہ کرنے کے لیے اکیلے ہی کافی ہے جس طرح بنگال کے وسیع وعریض جنگلات جنگلی عجائب خانہ ہیں جہاں کی گہرائی پیمائی، راز و اسرار تک رسائی امرِ محال ہے جیسے بنگال کے ندی نالوں دریاؤں سمندروں کے پانیوں کی شوریدہ سری سے اک جہاں مبتلائے حیرت ہے، ٹھیک اسی طرح محی الدین نواب، کی تحریروں کی شہرت نے بھی سارے عقلی تخمینے باطل کردیئے ہیں
✍️بنگال کے جادو کی طرح نواب صاحب کا قلم بھی جادو اثر ہے جو قاری پر سحر پھونک کر اسے اسیر بنا لیتا ہے
محی الدین نواب صاحب نے دو کروڑ الفاظ پر مبنی سلسلہ وار کہانی دیوتا لکھ کر تقریباً ورلڈ ریکارڈ بنایا ہے، انہوں نے دیوتا کی تمام اقساط گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو بجھوائی تھیں، تاہم وہاں سے کوئی تسلی بخش جواب نہ آیا یعنی گینز بک والوں نے سرد مہری برتی، تاہم تادم تحریر دیوتا کی طوالت کا کوئی مدِقابل کسی بھی زبان میں گینز بک والے بھی پیش نہیں کرسکے ہیں، فروری 1977 سے سسپنس ڈائجسٹ میں شروع ہونے والی یہ کہانی اتنی پسند کی گئی، کہ خود مصنف اور مدیر بھی حیران رہ گئے
✍️اس وقت کون جانتا تھا، کہ دیوتا کی یہ پہلی قسط ایک انتہا کی ابتدا تھی، کہانی کی ایک ایسی عمارت کی تعمیر کا نقطہ آغاز تھا جس کی بلند ترین سطح یعنی نقطہ معدوم کا اس وقت پتہ چلے گا، جب 20سالہ نوجواں کنوارہ لڑکا یا کنواری لڑکی 53 سالہ بوڑھے نانا نانی اور دادا دادی بن چکے ہوں گے، اور تیس سالہ بھر پور جواں مرد و زن 63 کے پیٹے میں سٹھیا چکے ہوں گے، چالیس کی عمر میں دیوتا کی پہلی قسط سسپنس میں پڑھنے والے سترے بترے گئے ہوں گے، جب کہ جن مرد و خواتین قارئین کی عمریں دیوتا کی پہلی قسط کے وقت پچاس کے لگ بھگ تھیں اْن میں سے شاید 97%قارئین تو دیوتا کا انجام دیکھنے سے قبل ہی پرلوک سدھار چکے ہوں گے، اور جو چند ایک باقی ہوں گے
وہ بھی بڑھاپے کی آخری دہلیز پر ہاتھ دھرے ہانپ رہے ہوں گے، دیوتا 33سال تک نان سٹاپ چلنے والی دنیا کی پہلی طویل ترین کہانی ہے، جس کوئی مقابل نہیں دور تک بلکہ بہہہہہہت دور تک!!!


✍️محی الدین نواب 4ستمبر 1930 کو برطانوی ہندوستان کے علاقے بنگال کے شہر کھڑگ پور میں پیدا ہوئے
میٹرک تک تعلیم یہیں سے حاصل کی، آپ کے والد انٹیرئر ڈیکوریٹر اور دادا مصور تھے نواب صاحب کے دوستوں میں ہندو سکھ عیسائی مسلم سب ہی شامل تھے، اور ایک دوسرے کے تہواروں میں بھی شریک ہوتے، گھر سے فارسی اردو سکول سے انگریزی ہندی اور مدرسے سے عربی زبان سیکھی، جوان ہوئے تو روزگار کی تلاش میں بنگال آگئے، اور فلمی صنعت سے وابستہ ہوگئے اور دو فلموں کی کہانیاں لکھیں ان میں ایک فلم جنم جنم کی پیاسی، اور دوسری باون پتے تھی، لیکن بنگال میں حالات اب خراب ہو رہے تھے، اردو بولنے والوں پر بنگال کی زمین تنگ ہو رہی تھی محی الدین نواب حالات سے دلبرداشتہ ہونے لگے، اسی صورت حال میں ان کی ملاقات فلمی مصنف ہونے کی حیثیت سے اداکارہ دیبا سے ہوئی جو اس وقت لولی ووڈ کی مضبوط ہیروئین تھیں اورفلم ساز اداکار رحمان کی ایک فلم بلا معاوضہ کرنے بنگال آئی ہوئی تھیں، کیونکہ اداکار رحمان ان دنوں مالی مشکلات کا شکار تھا،
✍️تب نواب صاحب فلم سٹار دیبا کی مدد سے مغربی پاکستان کے شہر کراچی آگئے، یہاں آکر انہوں نے پہلی تحریر فلمی اور ادبی رسالے ماہنامہ رومان کراچی کے لئے لکھی جس کا عنوان ایک دیوار ایک شگاف تھا رومان اپنے وقت کا معروف ماہنامہ تھا جو 20×30=8سائز( تقریباً 7×12سائز)کا میگزین تھا جس کے مدیر سعید امرت تھے، اس کہانی کا معاوضہ محی الدین صاحب کو 60 روپے ملا تھا، لیکن چونکہ کتابوں اور اشاعت کا مرکز لاہور تھا لہذا نواب صاحب نے لاہور کو مسکن بنا لیا، لیکن لاہور آکر انہیں پتہ چلا کہ کوئی پبلشر ان کے لکھے ہوئے ناول ان کے نام سے چھاپنے پر قطعاً تیار نہیں، بقول پبلشرز مردانہ نام سے لکھے ہوئے ناول پسند نہیں کئے جاتے، اس زمانے میں رضیہ بٹ سلمی کنول مینا ناز اور دیگر مصنفین کا طوطی بولتا تھا اس بات سے نواب صاحب خاصے دل گرفتہ ہوئے، بحرحال آخر کار انہوں نے بھی اس میدان میں کودنے کے لئے کمر کس لی،اور دیبا خانم کے نام سے ناول لکھنے شروع کر دیئے، میں نے خود دیبا خانم کے بے شمار ناول پڑھے، جس میں ایک ہرے کانچ کی چوڑیاں تھا، جو غریب بہن بھائی کی کہانی تھی بچپن میں بھائی اسے ہمیشہ ہرے رنگ کی کانچ کی چوڑیاں لا کر دیتا تھا ، پھر وقت کے تھپیڑوں سے دونوں بہن بھائی جدا ہو جاتے پتہ نہیں کیا کہانی تھی آخر کار کافی عرصے بعد انہی ہرے رنگ کی چوڑیوں کی وجہ سے سے ہی بہن بھائی ملتے ہیں، اسی طرح ایک ناول میں نے توبہ شکن پڑھا تھا، جو بظاہر ایسی بے راہ رو عورت کی کہانی ہوتی ہے جو زندگی کے آخری سانس تک سے مزہ نچوڑ لینا چاہتی ہے دیبا خانم کے ناولوں نے قابلِ ذکر حد تک شہرت سمیٹی، محی الدین نواب صاحب نے قریب قریب سو ناول دیبا خانم کے قلمی نام سے ناول لکھے جو کم وبیش درجن بھر پبلشرز نے شائع کیے جن میں لاہور کے ناشرین کے علاوہ شمع ادب گوجرانوالہ کا نام پیش پیش نظر آتا ہے ان میں سے کچھ ناولوں کے نام جو ذہن میں موجود ہیں درجہ ذیل ہیں….
توبہ شکن، ہرے کانچ کی چوڑیاں، آشیانہ، آخری وعدہ، ارمانوں کی زنجیر، انتظار کا موسم، انمول، آنکھ مچولی، پردہ نشین، پیار کا ملن، پیاسا پنچھی، پیاسی بینا، پیاسے کو شبنم، جوڑے کا پھول، جہاں پھول وہاں کانٹے، چاہت، چلمن چلمن تیری تجلی، خوشبو تیرے نام کی، دل اور پتھر، دل پارہ پارہ، دل نے پھر یاد کیا، دھوپ اور چاندنی، رازِ دل، رت جگا، سپنوں کی شہنائی، صاحبزادی، صنم تیری قسم، گلِ خوشبو گلِ ہزارہ، کانچ کی چوڑیاں، ہمسفر پیار کے،
✍️تاہم ان ناولوں اور دیگر تحریروں کا معاوضہ ناکافی تھا، اور وہ عْسرت کے خول سے آزادی حاصل نہ کر پائے، بحرحال اب ان کو ثقہ مصنفین میں شمار کیا جانے لگا، یہ ڈائجسٹوں کا دور تھا، ہر طرف بہار آئی ہوئی تھی، ہر ڈائجسٹ نے قسط وار پر اسرار سلسلہ شروع کیا ہوا تھا، الف لیلہ ڈائجسٹ میں چھلاوہ نے نوجوان قارئین کے ذہنوں کو آکٹوپس کی مانند جکڑ رکھا تھا، جاسوسی میں صدیوں کا بیٹا نے پڑھنے والوں کی مت ماری ہوئی تھی شمیم نوید کے عوامی ڈائجسٹ میں جگت سنگھ جگا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا، ادھر عمران ڈائجسٹ میں… سیاہ نیولا کی دھوم مچی ہوئی تھی، اورسب رنگ میں (انوار

صدیقی) میر جمشید عالم کی…. امبر بیل .. اک زمانہ جس کا اسیر تھا،… عین اسی دور میں سسپنس ڈائجسٹ کے لئے ایسی ہی کسی پھڑکتی کہانی کی تلاش میں سرگرداں کسی خاصے کی چیز کے مْتلاشی… معراج رسول کے کانوں میں محی الدین نواب کے نام کی بھنک پڑی کہ یہ شخص ہر موضوع پر بلاتکان لکھ سکتا ہے اور کاٹ دار قلم کا مالک ہے، بس پھر کیا تھا معراج رسول فوراً لاہور پہنچ گئے، اور محی الدین نواب سے بالمشافہ ملاقات کر کے انہیں جہاز میں بٹھا کر کراچی اپنے دفتر لے گئے، اور انہیں بہترین تنخواہ اور رہائش گاہ فراہم کرنے کے بعد اور تمام ڈائجسٹ اور ان کی سلسلے وار کہانیاں دکھائیں اور اور سسپنس کے لئے کوئی ایسیا پاور فل سلسلہ لکھنے کی فرمائش کی، جو دھوم مچا دے، اس کے لئے نواب صاحب کو مالی اور وقت کی تنگی جیسی پریشانیوں سے دور کر دیا گیا، اور پھر نواب صاحب نے بھی پورا پورا حق ادا کیا،
✍️دیوتا … دنیا میں خیال خوانی( ٹیلی پیتھی) کی بنیاد پر کھڑی کی گئی پہلی کہانی ہے ، لیکن اب اس کی طوالت اس کی پہچان بن چکی ہے، اور سب سے بڑھ کر 33سال تک قارئین کی دلچسپی برقرار رکھنا، اس کی مِثل و نظیر ملنا، ناممکن ہے، دیکھا جائے تو نواب صاحب کو لاہور سے جا کر لانا اور رہائش کے ساتھ پر کشش معاوضہ دینے کے بعد کہانی لکھوانا بھی اپنی طرز کا انوکھا واقعہ تھا، بلکہ یہ تو معراج صاحب نے ایک قسم کا جوا کھیلا تھا جو کام یاب ہوا،
✍️دلہن وہی جو پیا من بھائے، اور دیوتا قارئین کو ایسی بھائی کہ پھر انہیں کوئی سدھ بدھ نہ رہی، پڑھنے والے (جن مِیں مَیں بھی شامل تھا) نواب صاحب کے قلم کے سحر میں قید ہونے لگے، چاشنی اور رعنائی میں گْھلی دیوتا ہر قسط کے بعد مزید دلچسپ ہونے لگی، ادھر سسپنس کی اشاعت بڑھنے لگی، اور جوں جوں اشاعت بڑھتی نواب کے لئے معراج رسول صاحب کی طرف سے معاوضہ اور سہولیات بھی بڑھنے لگیں، مالی آسودگی انسان کی صلاحیتوں کو کچھ اور بھی نکھار بخشتی ہے، اور نواب صاحب کا قلم بھی کْھل کھیلنے لگا، وہ بھی فرہاد علی تیمور کی طرح کثیر الازواج تھے، محی الدین نواب صاحب نے چار شادیاں کیں،،، دیوتا سے ہٹ کر بھی نواب صاحب کہانیاں اور ناول لکھتے رہے، تاہم دیوتا کے علاوہ نواب صاحب نے جو لکھا وہ طنز کے نشتر سے لکھا وہ معاشرے کے نباض تھے، ان کا قلم بڑا ہی ظالم تھا، الفاظ ان کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوتے تھے، لفظوں کا چناؤ اور افعال کے انتخاب میں ان کا الگ ہی معیار تھا، قاری کے فہم و ادراک تک پہنچنے سے قبل ہی اس کے دل و دماغ پر کاری وار کر کے اُس کے خیالات کو اپنے قابو میں کر لیتے، کہانی کا اختتامیہ کرتے وقت قارئین کے جذبات کا قطعی بھرم نہ رکھتے اور کہانی حقیقت سے قریب تر بے رحمانہ اختتام سے ہمکنار ہوتی، ان کی عظمت و سطوّت بہت بلند ہے!!! منٹو کے بعد یہ دوسرے لکھنے والے تھے، جو معاشرے کے فالج زدہ ساکت و جامد وجود کو قلم کے نشتر سے کچوکے لگا کر ہلانے کو کوشش کرتے رہتے،،
✍️آپ کے ناولوں کی تعداد بھی سو سے زائد ہے، اور ہر ناول موضوع کے حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف ہے کوئی یکسانیت نہیں، آپ کا شمار سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے اردو مصنفین میں ہوتا ہے آپ ایک قسط کا معاوضہ چالیس ہزار روپے اور مکمل ناول کا ڈائجسٹ میں پچاس ہزار لیتے تھے، بعد میں کتابی شکل میں شائع ہونے پر پبلشر سے دس سال کا معاہدہ بھی کرتے،
الغرض محی الدین نواب ایک مہنگے. مصنف تھے کہیں پڑھا تھا کہ ماہانہ تین لاکھ( اُس وقت) کما لیتے تھے اگر یہ بات درست ہے تو بلاشبہ اپنے وقت کے مہنگے ترین اردو لکھاری تھے،
✍️ میری جب محی الدین نواب اور معراج رسول صاحب کے ساتھ طویل ملاقات ہوئی تھی تو میں نے باقاعدہ معراج صاحب سے سوال کیا تھا کہ سر دیوتا کب ختم ہو گی، اس وقت غالباً دیوتا 25ویں برس میں تھی، تو معراج صاحب نے نواب صاحب کے سامنے فرمایا کہ جب تک نواب صاحب زندہ ہیں یا میں زندہ ہوں دیوتا چلتی رے گی، اور پھر دیوتا اس وقت بند ہوئی، جب معراج رسول صاحب کی صحت جواب دے گئی اور وہ قومے میں چلے گئے، اور محی الدین نواب صاحب کی صحت بھی جواب دینے لگی، ان کو سانس کی بیماری تھی، جس کی وجہ سے وہ کچھ سال تک گرمیوں کا موسم سوات میں گزارتے تھے بعد ازاں سوات میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہوگئی تو یہ سلسلہ بھی موقوف ہو گیا، بالآخر اردو کی یہ داستان طولانی جنوری 2010 میں اختتام پذیر ہو گئی، دیوتا کیا اختتام پذیر ہوئی اک عہد ختم ہو گیا،،
✍️دیوتا کے کتابی شکل میں 50 حصے شائع ہو چکے ہیں اور مزید چھ سات حصے اور چھپیں تو تو یہ داستان مکمل ہو سکتی ہے لیکن مستقبل قریب میں بقیہ حصے چھپنے کا کوئی خاص امکان نہیں،
کم ہی پرستاروں کے علم میں یہ بات ہو گی کہ.. محی الدین نواب شاعر بھی تھی یہ فن انہیں وراثت میں ملا تھا، ان کی شاعری کا ایک مجموعہ دوتارا.. کے نام سے موجود ہے،
محی الدین نواب اپنی یادداشتیں جمع کر کے آپ بیتی یعنی نواب بیتی لکھ رہے تھے لیکن زندگی نے مہلت نہ دی اور نواب بیتی، ہمیشہ کے لئے بند ہو گئی
✍️نواب صاحب کے ایک صاحب زادے جاوید بھی افسانہ نگار تھے، اور ان کا ایک افسانہ سسپنس میں دروازہ کے نام سے چھپا تھے، مگر افسوس کہ وہ عالِم شباب میں ہی ایک حادثے میں انتقال کر گئے
نواب صاحب نے ٹی وی ڈرامے بھی لکھے جن میں آدھا چہرہ اور شام سے پہلے شامل ہیں
✍️آپ نے بے شمار فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں مشرقی پاکستان ڈھاکہ میں جنم جنم کی پیاسی اور باون پتے اور لاہور کی فلمیں رنگیلے جاسوس حسینوں کی بارات، اور جو ڈر گیا وہ مر گیا وغیرہ شامل ہیں، آخر الذکر تینوں کامیاب فلمیں ایورنیو پکچرز نے بنائیں، اور ہر جی نے چکھنا ہے موت کا ذائقہ… آخر کار قلم کی دنیا کا یہ شہہ سوار داعئ اجل کو لبیک کہہ گیا، محی الدین نواب کراچی کے قبرستان میں آسودہِ خاک ہیں
(جاری ہے)
بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب
……
…..
…..نوٹ :تمام دوستوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ .. میرا ( اعجاز احمد نواب کا ) محی الدین نواب صاحب سے کوئی رشتہ یا تعلق نہیں…
…..
…..
…..

مصنفین ناشرین مدیران اور قارئین کی مشترکہ بیٹھک، کتابوں کی دنیا ڈائجسٹوں کی باتیں اک ہزار داستان، اک طلسمِ ہوش رُبا، نصف صدی کی سرگزشت، ناولوں رسالوں کے درمیان گزرے پچاس سالہ افسانے یادداشتوں کی کتاب کے پھٹے پرانے اوراق سے منتخب قصے کہانیاں
……
……
……
……
…….
براہ مہربانی مطالعہ اور کتاب دوستی کے فروغ کے لئے اس مراسلے کو شئیر ضرور کیجئے اور اپنے تاثرات سے ضرور نوازئیے، اردو کہانی کا سفر ابھی جاری ہے بقیہ واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط 19 کا******************

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے