سر ورق / آپ بیتی (ماہنامہ انوکھی کہانیاں کراچی، فروری 2018ء شہباز اکبر الفت“

آپ بیتی (ماہنامہ انوکھی کہانیاں کراچی، فروری 2018ء شہباز اکبر الفت“

آپ بیتی
(ماہنامہ انوکھی کہانیاں کراچی، فروری 2018ء )

” اور اب تشریف لاتے ہیں معروف ادیب شہباز اکبر الفت“
مرزا محمد یٰسین بیگ کی آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی تو میں گنگ سا ہوکر رہ گیا، ہڑبڑا کر ساتھ بیٹھے ندیم اختر بھائی کی طرف دیکھا تو ان کے ہونٹوں پر ایک مہربان سی، خیرمقدمی مسکراہٹ پھیل گئی، یہ رواں سال لاہور ایکسپو سینٹر میں بک فیئر کے دوران جناب ابوالحسن کی کتاب کی تعارفی تقریب تھی، سامنے ایڈیٹر بھیا اختر عباس صاحب سمیت متعدد علمی و ادبی شخصیات موجود تھیں اور میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس اہم موقع پر مجھے بھی اظہار خیال کی دعوت دی جائے گی، اصل بات ڈائس پر جا کر بات کرنے کی نہیں تھی، وہ جملہ تھا جس نے گویا اب تک کے سفر کی تھکان دور کر دی تھی
” معروف ادیب شہباز اکبر الفت“
اس ایک جملے کو سننے کی خاطر میں نے برہنہ پا، دشت کی سیاحی اور آبلہ پائی کاایک طویل سفر طے کیا تھا ،یہی جملہ میری داستان حیات کا نکتہ آغاز اور حرف اختتام ہے
لگ بھگ پچھلے ایک سال سے، جب پہلی بار نوشاد عادل بھائی اور پھر خود محبوب الٰہی مخمور بھائی نے مجھے اپنی آپ بیتی لکھنے کا حکم دیا، اسی سوچ میں گم ہوں کہ کیا کروں، کب اورکہاں سے شروع کروں ، کیا لکھوں اور کسے وقت کی دبیز تہہ میں پڑا رہنے دوں ؟ سچ پوچھیں تو تپتی دھوپ میں بے سائباں سا ہو گیا ہوںَ اپنی ہی ذات میں ایک بار پھرمجھے تنہا ئی کا سامنا ہے ۔ یہ آپ بیتی گزرے وقت کی کہانی سے زیادہ خود احتسابی اور احساسِ زیاں کا اعترافی بیان ہے ۔

 

مجھے تسلیم ہے کہ میں کوئی بڑا صحافی یا ادیب نہیں ہوں، ایک معمولی سا اخباری کارکن ہوں اور تھوڑا بہت لکھنے کی بھی سعی کر لیتا ہوں۔درحقیقت میں نوے کی دہائی میں شعور کی آنکھ کھولنے والے اس پسماندہ طبقے کا نمائندہ ہوں جس کے پاس کرکٹ، ویڈیو گیمز اور پتنگ بازی جیسے مہنگے شوق پالنے کے وسائل نہ تھے ۔وقت گزاری کا بہترین ،سستا اور واحدذریعہ صرف مطالعہ تھا۔ زمین پر پڑے اخباری ٹکڑوں سے لے کر ردی سے ملنے والے رسائل اور لائبریریوں سے معمولی کرائے پر ناولوں کے ذریعہ مطالعہ کا شوق پورا کرنے کے عمل نے لکھنے کی تحریک دی اور پھرایک بڑا رائٹر بننے کا خواب آنکھوں میں سجائے، ایسے انجان راستے پر نکلا جس کی شاید کوئی منزل نہیں تھی۔ گھونسلے سے گرا تو دوبارہ چھت کی اماں نہ ملی۔ نام اور شناخت کے حصول کی جدوجہد آسان نہ تھی۔درحقیقت میں نے ادب اور بالخصوص بچوں کے ادب سے اپنی غیر مشروط محبت کی ایک بڑی قیمت چکائی ہے۔ کئی بار حوصلہ ٹوٹا، لوٹ جانے کا بھی سوچا لیکن ناکامی کے اعتراف کا حوصلہ نہ تھا۔ میرے مستقبل سے میرے ماں باپ کے خواب جڑے تھے۔ وہ صرف میری خوشی چاہتے تھے اور انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ میری خوشی کہاں چھپی ہے۔ اپنی چھپی ہوئی کہانی پڑھ کرآنکھوں میں جو دئیے جلتے تھے، قوس و قزح کے رنگ بکھرتے تھے، وہی میری خوشی تھی اور وہی میرے ماں باپ کی بھی خوشی تھی۔ کبھی کبھی پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ تن تنہا اتنا طویل اور کٹھن سفر کیسے وقت طے کر لیا۔ماں باپ کی دُعاﺅں اور مسکراتے ہوئے چہروں کا آسرا نہ ہوتا تو نجانے کب کا ٹوٹ گیا ہوتا۔صبرآزمالمحوں میںامی اور ابو نے ہمیشہ ہمت بڑھائی، حوصلوں کو مہمیز کیا، ان کی غیرمشروط حمایت سے ہی مجھے اپنے محاذ پر ڈٹے رہنے کی قوت ملی ہے۔
یہاں میں زندگی بھر کی ریاضت کے صلہ میں اپنی مقدور بھر کامیابی کا کریڈٹ اپنے ادارہ ملاحظہ رپورٹ پرنٹ میڈیا نیوز نیٹ ورک ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک، کاروان ادب اطفال ، اوج ادب اور ماہنامہ انوکھی کہانیاں کو بھی دینا چاہوں گا جنہوں نے مجھے فراخ دلی سے برداشت کیا اور ہر مقام پر میری حوصلہ افزائی کی ۔ بچوں کے ادب میں محمد قاسم گورایہ، محمد ارباب بزمی ، عاطر شاہین، حافظ محمد سلیم اورغلام مجتبیٰ قادری میرے اولین دور کے دوست اور ساتھی ہیں۔ جن سے ملاقات یا ملاقاتوں نے میرے اندر کے بچوں کے ادیب کو کبھی مرنے نہیں دیا۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوںنے میری کہانیاں پڑھی ہوئی تھیں اور مجھے بطور بچوں کا ادیب غائبانہ طور پر جانتے تھے۔ عاطر شاہین سے پہلی ملاقات نوے کی دہائی کے وسط میں الاسد پبلی کیشنز کے دفتر میں ہوئی تھی۔اس سے پہلے قلمی دوستی کے ذریعے ان سے خوب خط کتابت تھی۔ محمد قاسم گورایہ کا پوسٹل ایڈریس ماہنامہ انوکھی کہانیاں سے ملا تھا ، جب آپرا کی تشکیل ہوئی تو ان کے خطوط بھی آتے رہے پھر ہمدرد کتب خانہ میں الحاج محمد حسین گوہر کے دفتر میں ان کے پبلک ریلیشن آفیسر ابو الحسن علی جو بعد میں ماہنامہ پنجاب انڈیپینڈنٹ میں میرے باس بھی رہے، کے ذریعے بالکل اتفاقیہ انداز میں ملاقات ہوئی تھی۔ میں ان کے دفتر میں ایک پروگرام کے لئے اسپانسر شپ کے سلسلہ میں گیا تھا۔ انہوں نے قاسم بھائی کا تعارف کروایا تو ہم دونوں ہی اچھل پڑے۔ وہ لاہور میں حصول علم کے لئے اچھرہ کے شوکت مینشن میں مقیم تھے جو طویل عرصہ بچوں کے ادب کی سرگرمیوں کا مرکز رہا۔ قاسم سے بعد میں بھی بہت سی یادگار ملاقاتیں میری زندگی کا سرمایہ ہیں۔ حافظ محمد سلیم ایڈیٹر چنبیلی میری زندگی کے پہلے قلمی دوست ہیں۔ارباب بزمی مجھے پنجابی روزنامہ بھلیکھا لہور کے دفتر میں پہلی بار ملے، بزمی گوجرانوالہ میں اس کے نمائندہ تھے اور میں سب ایڈیٹر، بعد میں وہ مینار پاکستان کے سامنے آزادی چوک میں ایک فوٹو شاپ پر بھی رہے۔ انہی کے توسط سے نوجوان پبلشر اور بچوں کے ادیب غلام مجتبیٰ قادری سے بھی ملاقات ہوئی جو دائمی دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ ارباب بزمی کے ساتھ بھی لاہور میں خوب وقت گزرا ۔ بزمی میرے ساتھ طویل عرصہ ایم ایس این میسنجر پر بھی ایڈ رہے، بعد میں مصروفیت اور عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ اکاﺅنٹس ختم ہوگئے تو رابطے بھی وقتی طور پر معطل ہوگئے۔2013ء میں ارباب بھائی کوہی ڈھونڈنے کے لئے فیس بک اکاﺅنٹ بنایا اور ان کی وال پر کاروان ادب اطفال کی سرگرمیوں اور بچوں کے معتبر ادیبوں کی ایک قابل ذکر تعداد کو دیکھ کر میرے اندر کا بچوں کا ادیب انگڑائی لے کر بیدار ہوگیا۔ ندیم اختر بھائی، کاشف بشیر کاشف بھائی، عبداللہ نظامی بھائی اور محمد وسیم کھوکھر ویر پہلی کاروان ادب کانفرنس کی تیاریوں میں مصروف تھے۔جلد ہی اس کاروان کے ہراول دستہ میںفخر بلوچستان اظہر عباس بھائی بھی شامل ہوگئے اور ادب اطفال کی خدمت کا حق ادا کر دیا، ان دنوں بانی ممبران کی طرف سے فیس بک پر ” خواب سے تعبیر تک“ کے عنوان سے کالموں کی سیریز میں یادیں تازہ کی جا رہی تھی، طبع آزمائی کی عام دعوت تھی، میں نے بھی کی بورڈ سنبھالا اور بچوں کے ادب کے حوالے سے اپنی یادداشتیں شیئر کرنا شروع کر دیں، میں نے بیس سال گمنامی کی زندگی گزارنے کے بعد دوبارہ بچوں کے ادب میں قدم رکھا تھا، پہلا کالم لکھتے ہوئے شدت جذبات سے کی وجہ سے دل زور زور سے دھڑکتا رہا، شناخت سے محرومی کا خوف دل و دماغ پر حاوی تھا، اس وقت تک شاید مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا لیکن میں سب کو جانتا تھا، سب کو پڑھتا تھا، میں نے آپرا سے لے کر ینگ رائٹر فورم کی تشکیل تک ادب اطفال کے بہت سے رنگ دیکھ رکھے تھے ، قلم سے دوری بھی مجھے ادب اطفال سے دور نہ کر سکی تھی، سوتے وقت بھی میرے تکیہ کے نیچے بچوںکے رسائل و جرائد ہی پڑے رہتے تھے ، فیس بک پر ادب اطفال کے حوالے سے میرے ابتدائی کالموں کا ہی نوٹس لیا گیا، خوب پزیرائی ملی، بہترین الفاظ میں خیر مقدم کیا گیا،ان کالموں میں صرف یادداشتیں ہی شامل نہیں تھیں بلکہ بچوں کے معروف ادیبوں کی خدمات کا احاطہ، کاروان ادب اطفال کے مجوزہ منشور کے لئے تجاویز اور تحریروں پر معاضہ کے حوالے سے بھی گفتگو کی گئی تھی جنہیں جناب اختر عباس، جناب اشفاق احمد اور بالخصوص ڈاکٹر محمد افتخار کھوکھر صاحب نے بھی بے حد سراہا تھا، مجھے اس اعزاز پر بھی فخر حاصل ہے کہ میں نے اپنے اور بچوں کے پسندیدہ ترین ادیب علی اکمل تصور بھائی کو بھی فیس بک پر ڈھونڈکر ساتھیوں کو ان کی سوشل میڈیا پر موجودگی کی خوش خبری سنائی تھی، اس موقع پر کاروان ادب اطفال کے بانی ممبران اور ہم خیال احباب نے جس فراخ دلی سے اپنی بانہیں پھیلا کرمجھے سینے سے لگایا میں اس کیفیت کو کبھی لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا، ایسا لگتا تھا کہ ہواﺅں میں اڑ رہا ہوں، تپتی دھوپ میں بادل کا کوئی مہربان ٹکڑ سر پر سائباں کی طرح پھیل گیا ہے، کسی بھٹکے ہوئے راہی کو منزل کا پتہ اور منزل تک پہنچنے کا درست راستہ مل گیا ہے، مدتوں بعد اپنے گھر واپس لوٹ آیا ہوں۔


صحافت میں کل وقتی ملازمت کی وجہ سے اب بھی لکھنے کا موقع نہیں مل رہا تھا ،اس موقع پر ویر محمد وسیم کھوکھر اور چھوٹی سی رائٹر بہنا مریم جہانگیر نے مجھے قلم وقرطاس کی طرف واپس لانے میںایک رہنما اور ناقابل فرامو ش کردار ادا کیا ، ویر وسیم کھوکھر مسلسل حوصلہ افزائی، ہر وقت کال پر رابطہ، لکھنے کی تحریک دیتے رہے، میں کوشش کے باوجود اپنے اصل کی طرف لوٹنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا، ایسے وقت میں مریم جہانگیر بہنا نے ایک بروقت اور صائب مشورہ دیا، انہوں کہا :
” بھائی! زندگی کے جھمیلے کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ان سے فرار ممکن ہے، آپ روزانہ صرف ایک گھنٹہ اپنے لئے وقت نکال لیں، اس ایک گھنٹہ میں دنیا کا ہر غم بھلا کر صرف لکھنے کی طرف توجہ دیں۔ ان شاءاللہ ! آپ بہت جلد معمول کی طرف واپس آجائیں گے ۔“
وسیم ویر کی مسلسل توجہ، حوصلہ افزائی اور مریم بہناکے اس مشورے پر عمل نے میری زندگی ہی بدل دی، گو کہ میں نے اب بھی زیادہ نہیں لکھا لیکن درجن بھر بچوں کی کہانیوں بشمول روزے دار، جادو کی چھڑی، قسمت کی پڑیا، نئے جوتے، ہم سب کا پاکستان، عطائے رب کریم پرچم جبکہ رک جا اوئے کرتاریا، کہانی کار، تیری چاہ میں، میری چاہت گلابوں سی، غیرت مند اوربھاگ بھری جیسے چند افسانوں کی بھرپورپزیرائی نے بھی میرے حوصلوں کو خوب مہمیز کیا ہے، ماہنامہ انوکھی کہانیاں، روزنامہ ایکسپریس، فیملی میگزین، بچوں کا پرستان، پیغام ڈائجسٹ، سہ ماہی علم و ادب ، مجلہ قلم کی روشنی اور ماہنامہ نئے افق کراچی میں تحریروں کی اشاعت کے علاوہ خواتین کے معروف ڈائجسٹ ماہنامہ حجاب کراچی نے گزشتہ سال اپنی پہلی سالگرہ کے موقع پر نومبر2016ءکے شمارہ میں سباس گل آپی کے سلسلہ رخ سخن کے تحت میرا تفصیلی انٹرویو بھی شائع کیا
سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی ادبی سرگرمیوں کا آغاز کرکے ادبی افق پر چھا جانے والی تنظیم بلکہ تحریک اوج ادب کا بھی تہہ دل سے ممنون احسان ہوں کہ انہوں نے اتنی عزت دی، بچپن سے شعر کہہ رہا ہوں لیکن اصل میں شاعری کی تھہوڑی بہت سوجھ بوجھ اوج ادب کی تقریبات میں شرکت کرکے ہوئی، پاکستان میں ادب اطفال کے محسن سعید لختؒ کے لخت جگر عمران احمد خان بھائی نے کمال مہربانی سے مجھ جیسے نوآموز کو سید سلمان گیلانی،سعود عثمانی، پروفیسر لطیف ساحل، سلمان رسول، شبیر حسن و دیگر جیسے کہنہ مشق ،استادد شعراءکے سامنے بٹھا کر پڑھنے کا نادر موقع فراہم کیا، صرف یہی نہیں بلکہ اپنے عمرہ گروپ میں شامل کرکے اس سعادت کے لئے نقد ایک لاکھ روپے بھی عطا کر دئیے، یہ رقم میرے پاس محفوظ ہے اور ان شاءاللہ جلد ہی دیار حبیبﷺ پر حاضری کا دیرینہ خواب پورا ہوگا
فیس بک کی بدولت ہی امجد جاوید، ناصر ملک ، محمود ظفر اقبال ہاشمی ، اختر عباس، اشفاق احمد، عرفان مغل، ابن آس، شوکت علی مظفر، اسد بخاری،نوشاد عادل ، سیما مناف، ماہا ملک ، عشنا کوثر سردار اور سباس گل جیسے بڑے رائٹرز میری فرینڈ لسٹ کے ماتھے کا جھومر ہیں ، ندیم اختر سے لے کر نذیر انبالوی ، ضیا اللہ محسن سے طاہر عمیر، استاد محترم عبدالرشید فاروقی، محمد ناصر زیدی، عرفان رامے، محمد فہیم عالم، عبدالصمد مظفر،مزمل صدیقی، صداقت حسین ساجد، علی عمران ممتاز، خواجہ مظہر صدیقی، کمال ایوب صدیقی، منیر احمد راشد، ، راحت عائشہ، سمیعہ علی، رابعہ حسن، صبا ایشل،فزا ملک، فرزانہ ریاض، سمیرا انور، قرة العین سکندر، ناہید اختر بلوچ، کوثرناز، لبنیٰ غزل، فرزانہ روحی اسلم، اعظم طارق کوہستانی،اشرف سہیل پکھیرو، رب نواز ملک منصوری اور خاص طور پر میرے محبوب ترین بھائی محبوب الٰہی مخمور کس کس کا نام لکھوں، بچوں کے ادب سے وابستہ ہر قلمکار میرے دل کی دھڑکن ہے، مجھے خون کے رشتوں کی طرح عزیز ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق میرا نام شہباز علی ہے ، تعلیمی داروں میں شہباز اکبراور اخبارات و رسائل میں شہباز اکبر الفت، 15 جنوری 1979کو پیدا ہوا،

 

لاہور میں رائیونڈ روڈ پر بھوپتیاں سٹاپ کے بعد، لاہور پارک( لاہور وائلڈ لائف پارک) اور اڈا پلاٹ کے سنگم میں چمبرو پور چک 62میری جنم بھومی ہے،ہم سارے بھائی مشتاق حسین مرحوم، مختار حسین مرحوم، مخدوم اشفاق اکبر اسد، افتخار حسین، رزاق حسین ، شہباز علی اور غلام اصغر یہیں پیدا ہوئے، مختار بھائی میری پیدائش سے بھی پہلے نوعمری میں متعدی بخارمیں مبتلا ہوکر فوت ہوگئے تھے، جبکہ سب سے بڑے بھائی مشتاق حسین 2013ءمیں پہلے لگ بھگ پچاس سال کی عمر میں جوڑوں کے درد اور پھر ہیپاٹائٹس سی اور جگر خراب ہوجانے کی وجہ سے چل بسے،مشتاق بھائی بہت عظیم انسان تھے، انہوں نے ساری عمر محنت مزدوری کرکے ابو کا ہاتھ بٹایا، ان کی شادی نہیں ہوئی تھی، سیدھے سادے انسان تھے، ان کے لئے جو بھی رشتہ آتا لڑکی والے کسی نہ کسی چھوٹے بھائی کو پسند کرجاتے اور وہ خوشی خوشی اس چھوٹے بھائی کی شادی کی تیاریوں میں لگ جاتے، میری جائے پیدائش چمبرو پور چک 62 سے تھوڑا آگے اور میاں نواز شریف کی رہائش گاہ جاتی عمرہ سے متصل اٹھو وال گاﺅں میرے باپ دادا سمیت خاندان کی کئی نسلیں پروان چڑھیں، قیام پاکستان سے پہلے یہاں ہندو اور سکھ بھی بڑی تعداد میں آباد تھے جنہیں تقسیم کے وقت بڑی عزت اور جان و مال کے تحفظ کے ساتھ رخصت کیا گیا۔
میرے والد منشی اکبر علی مرحوم حقیقی معنوں میں ایک سیلف میڈ انسان تھے، گیارہ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے اور لاڈلے تھے تاہم ساتوں بھائی ان کے ہوش سنبھالنے تک اپنی طبعی عمر پوری کرکے اللہ کو پیارے ہوگئے ، انہیں ہمیشہ یہ قلق رہا کہ انہیں بھائیوں کا پیار نہیں ملا، اپنے اس احساس محرومی کو انہوں نے اپنی اولاد کا دوست اور بھائی بن کر دورکیا،کرکٹ سے لڈو تک کون سا ایسا کھیل تھا جو ابو نے ہمارے ساتھ مل کر نہیں کھیلا حتی کہ سٹاپو اور کینچے کھیلتے ہوئے بھی ہم انہیں کھینچ کر اپنے ساتھ ملا لیتے تھے،ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت تھی، محنت میں عار نہ سمجھتے تھے، ہماری بہتر پرورش اوررزق حلال کی فراہمی کے لئے کھیتی باڑی سے لے کر پھیری لگانے تک ان گنت چھوٹے موٹے کام کئے، وہ ہمیں ایک بہتر مستقبل دینے کی جدوجہد میں ہمیشہ سرگرداں رہے ،اپنی وفات کے وقت بھی وہ ایک بڑی ہاﺅسنگ کالونی ( بہار کالونی کوٹ عبدالمالک ) کے مالی معاملات کے نگران اور معاشی معاملات میں خود کفیل تھے ۔
میرے ابو کو حضرت سخی لعل شہباز ؒ سے بڑی عقیدت تھی، اسی ولی اللہ کی نسبت سے ہی میرا نام شہباز رکھا گیا، بچپن کے ابتدائی چھ، سات سال اسی گاﺅں میں گزرے، عسرت کا زمانہ تھا،ابو شہر میں پھیری لگاتے تھے اور کئی کئی دن گھر سے دور رہنے پر مجبور تھے،تاہم جب بھی گھر آتے ان کا تھیلا ہمارے لئے سوغاتوں سے بھرا ہوتا، گاﺅں میں ہماری دلچسپی کی کئی ایسی چیزیں تھیں جن کی وجہ سے کبھی کسی محرومی کا احساس نہ ہوا، گھر میں دو بھینسیں تھیں ، بھوری اور کالی ، گھر میں کئی کئی دن کھانا نہ پکنے کے باوجود سونے سے پہلے دودھ کا گرم گرم گلاس لازمی ملتا ، گاﺅںکی حد کے ساتھ ہی دور تک لہلاتے ہوئے کھیتوں اورسرسبز باغات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ، کھیتوں میں گندم، دھان ، مکئی اور جوار کی فصلوں اور سبزیوں کی بہار اپنے جوبن پر ہوتی تھی، باغات میں امرود، آم، مالٹے، جامن، شہتوت اور بیری کے درخت ہمیشہ ایڈونچر پر اکساتے تھے، کھیتوں سے گاجریں، شلجم اور تربوز، درختوں سے آم، جامن اور بیر توڑتوڑ کر کھانا، کھالوں میں ڈبکیاں لگانا، پھوپھو غلام فاطمہ اور پھوپھو عنایت بی بی کے گھروں میں جاکر اچھل کود کرنے سمیت رات کو دادی سے کہانیاں سننا ہمارے لئے زندگی کی طرح اہم تھا، دادی اماں کی شخصیت ہمارے لئے کسی شجر سایہ دار سے کم نہ تھی، انہوں نے نہ صرف ہمیں جنوں، بھوتوں، بادشاہوں، شہزادیوں اور پرستان کی کہانیاں سنائیں بلکہ نماز، چاروں قل، آیت الکرسی بھی حفظ کرائی، ان کی نصیحت تھی کہ زندگی میں کبھی کسی رستے، شے یا حالات سے ڈر لگے تو فوراً آیت الکرسی یا سلام قول من رب رحیم کا ورد شروع کر دینا، ڈر اپنے آپ بھاگ جائے گا، بچپن میں یاد کیا ہوا یہ وردآج بھی ناگہانی حالات میں میری ڈھال بن جاتا ہے۔
غالباً 1985ء میں لگ بھگ پچانوے سال کی عمر میں دادی اماں نے داعی اجل کو لبیک کہہ دیا، ان کی وفات ہمارے لئے سانحہ جانکاہ تھی، گھر سونا سونا لگنے لگا، کسی کام میں دل نہ لگتا، اوپر سے گھر کے معاشی حالات بھی مزید خراب رہنے لگے، ان دنوں ابو نے لاہور کی سبزی منڈی میں تازہ تازہ کام شروع کیا تھا اور کاروبار میں قدم جمانے کے لئے مزید وقت کی ضرورت تھی، ان حالات میں ابو نے اپنے دوست سید عابد علی شاہ رضوی ( جن کی آڑھت پر ابو اڈا لگاتے تھے) کے مشورے سے ہمارے بہتر مستقبل کی خاطر ایک بڑا فیصلہ کیا، ہجرت کا فیصلہ، 1986ءمیں ابو نے گیارہ مرلے پر محیط گھر کے دو حصے کئے اور پانچ مرلے کا ایک حصہ میرے تایا مرحوم کے بڑے بیٹے عارف حسین مرحوم کو حبہ کرکے باقی گھر فروخت کر دیا، عارف بھائی نے اپنے باپ یعنی میرے تایا کی وفات اور ماں کے عقد ثانی کے بعد اپنی ماں کے ساتھ جانے کی بجائے اپنے چاچا یعنی میرے ابو کے پاس ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا،جبکہ دوسرے تایا زاد بھائی صادق حسین نے اپنے چاچا یا ماں پر بوجھ بننے کی بجائے خود اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا صائب فیصلہ کیا اور ابو کی حمایت اور تائید کے باعث آج تک ایک کامیاب انسان تصور کئے جاتے ہیں ، عارف بھائی کچھ عرصہ قبل حرکت قلب بند ہوجانے سے فوت ہوچکے، ابو سے چند سال ہی چھوٹے تھے اور ان کی شادی کا فریضہ ابو نے باپ بن کرنبھایا تھا۔
امی بتاتی ہیں کہ بچپن میں ایک بار ایک بزرگ نے میرا ہاتھ دیکھ کرپشین گوئی کی تھی کہ” یہ لڑکا دوسروں کو پڑھا کر پڑھے گا“مجھے ایک طویل عرصہ تک اس جملے کی سمجھ نہیں لیکن آج اپنا معمول دیکھتا ہوں تو اس پشین گوئی کے درست ہونے پر یقین آجاتا ہے کیونکہ میری عادت ہے کہ میںاکثراپنا لکھا ہوا تب ہی پڑھتا ہوں جب دوسرے اس کی تعریف کرتے ہیں ، تب میں حیران ہو کر دیکھتا ہوں کہ ایسا کےا لکھ ڈالا؟
1986ءمیں گاﺅں کا چھ مرلے کا گھر بارہ ہزار روپے میں فروخت کرکے ہم لوگ شیخوپورہ کے نواحی قصبہ کوٹ عبدالمالک آگئے، گاﺅں والے گھر کی قیمت اس لئے بھی آج تک یاد ہے کہ ابو نے کوٹ عبدالمالک آتے ہی مکان خریدنے کے لئے وہ رقم اپنے دوست سید عابد علی شاہ رضوی کے حوالے کر دی تھی تاہم بوجوہ وہ اپنا وعدہ پورا نہ کر سکے اور نتیجتاً آنے والے پندرہ سے بیس برس ہم نے کرائے کے گھروں میں دھکے کھائے، کرایہ داروں کے مسائل کو جتنے قریب سے ہم نے دیکھا اور بھگتا ہے، اس پر ایک پوری کتاب لکھ سکتا ہوں، کرائے کے ایک ایسے ہی گھر میں رہائش کے دوران میں نے ہمسائیوں کے بچوں کے اسکول میں ٹی وی ڈرامہ ”اندھیرا اجالا “ کے اداکاروں عرفان کھوسٹ اور جمیل فخری مرحوم کو دیکھا تھابالخصوص جمیل فخری مرحوم کے ساتھ ہاتھ ملانا ایک ناقابل فراموش واقعہ رہا، بہت سالوں بعد راوی روڈ پر قلعہ لچھمن سنگھ میں ان کی رہائش گاہ پر ان سے کئی ملاقاتیں رہیں، جب میں نے انہیں اپنے بچپن کا وہ واقعہ سنایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔
سید عابد علی شاہ رضوی اور ان کے خاندان کے ساتھ آج بھی ہمارے خاندانی تعلقات اور باہمی احترام کا رشتہ ہے، سید امام علی شاہ مرحوم کے تینوںصاحبزادوں بڑے سید شمس علی شاہ مرحوم، منجھلے عابد علی شاہ رضوی اور چھوٹے بیٹے سید جاوید علی شاہ ( صدر منی گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن، سرپرست وارث شاہ وچار پرچار پرھیا پنجاب)کے ساتھ ابو نے سبزی منڈی میں کام کیا اور سید شمس علی شاہ مرحوم کے سوا باقی بھائیوں کے گھروں میں ہم بطور کرایہ دار بھی رہ چکے ہیں ، میری زندگی کے سب سے قریبی اور بچپن کے دوستوں میں ندیم شاہ ( فرزند سید جاوید علی شاہ) اور ڈاکٹر شمشاد رضوی( فرزند سید شمس علی شاہ مرحوم )کا تعلق بھی اسی خاندان سے ہے، سید جاوید علی شاہ نہ صرف ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں بلکہ علم و ادب سے بھی گہرا لگاﺅ رکھتے ہیں اور پنجابی ادب میں تھوڑا بہت لکھ بھی چکے، ان کا بڑا بیٹا ندیم شاہ میرا بیسٹ فرینڈ، اکلوتی صاحبزادی اسلامک ماڈل اسکول حنیف پارک میں میری کلاس فیلو بھی رہ چکیں ، اللہ انہیں اپنے گھر میں شاد و آباد رکھے، ان سے ایک ہی جماعت میں ہونے کے باوجود کبھی بات نہیں ہوئی تھی لیکن پورے اسکول کو پتہ تھا کہ وہ میری بہن ہیں ، 1999ءمیں چلڈرن کمپلیکس میں میری تنظیم کے تحت ایک تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے سید جاوید علی شاہ نے ایک حیرت انگیز انکشاف کیا ، انہوں نے کہا کہ ” ایک وقت تھا جب میں اپنے بیٹے ندیم شاہ کو شہباز کے ساتھ کھیلنے اور گھومنے پھرنے سے روکتا تھا ، تب مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ایک غریب سے گھر کا یہ سانولا سا، چھوٹا سا لڑکا اپنی ذات میں کتنا بڑا نسان ہے اورادیب ہے ، آج میں فخر سے کہتا ہوں کہ یہ میرے دوست اکبر علی کا ہونہار بیٹا ہے اور اب میری خواہش ہے کہ شہباز اپنے بچپن کے دوست ندیم شاہ کو بھی وقت دیا کرے۔“ ان کے یہ الفاظ میرے سینے پر کسی تمغہ کی طرح سجے ہوئے ہیں، ابو تو اس پروگرام کی ویڈیو دیکھتے ہوئے یہ الفاظ سن کر رو پڑے تھے۔
کوٹ عبدالمالک آکر ایک طرح سے ہم نے ایک نئی دنیا میں قدم رکھا ، پہلی بار شہری تمدن سے واسطہ پڑا، شہر کے ماحول اور بود و باش کو سمجھنا آسان نہ تھا، مجھے فخر ہے کہ میرے اندر آج بھی ایک دیہاتی کی روح بستی ہے جو اخلاص، روایات اور اقدار کی پاسداری کے جذبہ میں گندھی ہوئی ہے، کوٹ عبدالمالک میں میرے سگے ماموں محمد علی کے علاوہ کچھ ننھیالی عزیز بھی رہتے تھے، ماموں عاشق حسین مرحوم، طالب حسین اور نوکر حسین کا بڑا سا حویلی نما گھر قصبہ کے وسط میں واقع تھاجس میں درجنوں بھینسیں بھی بندھی رہتیں، ان کے بچے غلام حسین، قنبر حسین، قیصر حسین وغیرہ ہمارے بچپن کے دوست تھے، سارا دن انہی کے گھر میں کھیلتے کودتے گزر جاتا، انہی کے ساتھ سپارہ پڑھنے مسجد جانے کا اتفاق ہوا، قاری عبدالرشید قمر نے اتنی محنت اور توجہ سے پڑھایا کہ نورانی قاعدہ مکمل کرتے ہی اردو لکھنے اور پڑھنے پر عبور حاصل ہوگیا، میرے بڑے بھائی مخدوم اشفاق اکبر اسد جو شاعری میں میرے استاد بھی ہیں، کی غزلیں اور اشعار خوش خط لکھتے لکھتے پتہ ہی نہیں چلا کہ کب شعر کہنے کی لت پڑ گئی، اس سے پہلے گیند بلے کے حصول کی خواہش میں قسمت پڑی خریدنے پر ٹارزن اور منکو کی کہانی انعام میں ملی تھی جسے ہجے کرکرکے پڑھنے کے بعد مطالعہ کی چاٹ لگی، انہی دنوں ابو نے سبزی منڈی والا کام چھوڑ کر دوبارہ پھیری لگانی شروع کر دی تھی، انہوںنے میری مطالعہ کی لگن دیکھ کر ردی میں ملنے والے رسائل اور جرائدکباڑئیے کو دینے کی بجائے مجھے لا کر دینے شروع کر دئیے ، مرا ±ة العروس جیسا شاہ کار ناول بھی میں نے اسی دور میں پڑھا جب کئی لفظوں کو سمجھنے کے لئے گھنٹوں سوچنا پڑتا تھا، بچوں کی دنیا، تعلیم و تربیت اور خاص طور پر ہمدرد نونہال کے سینکڑوں شمارے پڑھے، نونہال میںبالخصوص مسعود احمد برکاتیؒ کے تراجم اور کہانیوں کے ساتھ رنگ برنگے خاکے آنکھوں کو بہت بھلے لگتے تھے، اس دور میں لگتا تھا کہ کتاب ہاتھ میں لیتے ہی کسی اور دنیا میں چلے گئے ہیں ، کرداروں کے ساتھ ساتھ کردار بن جاتے تھے، کسی کردار کو مشکل کا سامنا ہوتا تو دل دھڑکنا بھول جاتا تھا، مطالعے سے محبت کا یہ عالم تھا کہ امی گھی لینے بھیجتیں تو راستے میں اخبار کا ٹکڑا دیکھ کر اسے بھی پکڑ لیتا اور اسی طرح پڑھتے پڑھتے گھر پہنچنے تک آدھا گھی بہہ کر ہاتھوں اور کلائیوں تک پہنچ جاتا۔
مخدوم اشفاق اکبر اسد بھائی کی شادی 1986ءمیں میرے ماموں احمد علی اور پھوپھو عائشہ بی بی کی اکلوتی بیٹی سے ہوئی، ابو اور امی کی شادی وٹہ سٹہ کے تحت ہوئی تھی لیکن ازدواجی زندگی کے پچاس سال میں تمام تر مسائل اور مصائب کے باوجود نہ کبھی پھوپھو ناراض ہوکر ہمارے گھر آئیں اور نہ ہی کبھی امی روٹھ کر میکے گئیں۔ ابو29 مئی2011ءکو فوت ہوئے جبکہ اگلے ہی برس ابو کی پہلی برسی سے بھی پہلے ہی پھوپھو بھی اللہ کو پیاری ہوگئیں، میری سب سے بڑی پھوپھو غلام بی بی ہو بہو میری دادی کا عکس تھیں، سو برس سے زائد عمر پائی اور دادی کی وفات کے بعد آگے بڑھ کر ہمارے لئے دادی اماں والا کردار بخوبی نبھایا، اشفاق بھائی کی شادی کے اگلے برس ہی ایک ننھی پری ہمارے گھراتر آئی، گلناز مجھ سے صرف آٹھ سال چھوٹی ہے، ویسے تو ہم اپنی بھابھیوں کو بھی باجی ہی کہتے ہیں لیکن گلناز نے تو جیسے بہن کی کمی ہی پوری کر دی، میری اسکول فیلو اور سٹوڈنٹ بھی رہی، وہ آج بھی اپنے بچوں حمنہ، اسوہ اور ہادی کو میری لکھی ہوئی کہانیاں سناتی ہے اور بڑے فخر سے بتاتی ہے کہ کس طرح اپنے چاچو کے کندھوں پر سوار ہو کر اسکول جاتی تھی۔
1987ءمیں میری زندگی کے کچھ ماہ ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے نواحی گاﺅں دوبرجی ورکاں میں اپنی خالہ مرحومہ حنیفاں بی بی کے گھر گزرے ہیں ، میں بچپن سے ہی خالہ کی آنکھوں کا تارہ رہا ہوں، خالہ کے گھر گزرے یہ چند ماہ میری زندگی کا انمول سرمایہ ہیں ،خالو حکیم امیر حسین مرحوم، خالہ زاد بھائیوں شبیر حسین، فوجی تنویر حسین شہید ، ظہیر حسین اور باجی فوزیہ نے تو جیسے مجھے پلکوں پر بٹھائے رکھا، قرب و جوار کے میلوں ٹھیلوں میں اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کبڈی سے لے کر شیشم کے درختوں تلے بغیر چھت و چاردیواری کے اسکول میں مانیٹری تک یہ ہنگامہ خیزی سے بھرپور ایام تھے۔
1988ءمیں ہم نے پہلی بار سیلاب کی تباہ کاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا،جس رات سیلاب کا اعلان ہوا، ابو نے فوراً ہم گھر والوں کو ساتھ کر قریبی مسجد پر پناہ لی جوعام گھروں کی بہ نسبت کافی بلند تھی،اس موقع پر سید عابد علی شاہ نے آگے بڑھ کرخدمت خلق کی ایسی مثال کی جس نے سب کا دل جیت لیا، انہوں نے حکومتی مدد کا انتظار کرنے کی بجائے فور اپنے وسائل سے لنگر کا اہتمام کیا اور پھر سیلاب کا پانی اترنے اور زندگی کے معمول پر آجانے تک درجنوںخاندانوںکی خوراک کا ذمہ انہی کے سر رہا، یہی نہیںبلکہ سیلاب کے بعد انہوں نے اپنے ہمشیرہ کا ایک کینال پر محیط بلند چار دیواری والا پلاٹ بھی بغیر کسی کرائے کے ہمیں رہائش کے لئے فراہم کر دیاجس میں ابو نے سرکنڈوں کا ایک چھوٹا سا جھونپڑا بنایا اور کاشت کاری کا شوق پورا کرنے کے لئے باقی رقبے پر چھوٹی چھوٹی کیاریاں بنا کر ان میں مختلف سبزیاںکے بیج دبا دئیے جنہوںنے آنے والے دنوں میں ہمارے گھر کو ایک چھوٹی موٹی نرسری میں تبدیل کردیا، یہیں 1989ءکے اوائل میںروزنامہ جنگ کے جمعہ میگزین میں ایک کہانی پڑھتے ہوئے اچانک مجھے احساس ہوا کہ ایسی کہانی تو میں خود بھی لکھ سکتا ہوں،ان دنوں بڑے بھائی رزاق حسین نے گھر کے دگرگوں معاشی حالات کے باعث نئی روشنی اسکول بھی چھوڑ دیا تھا ، ان کا بستہ سے کاپی اور پینسل نکال کر ایک بے ربط سی کہانی لکھی ، لفافے میں ڈال کر پتہ لکھا اور لفافے کو گندھے ہوئے آٹے سے اچھی طرح بند کرکے ڈاکخانے پہنچ گیا، پوسٹ ماسٹر نے لفافہ دیکھ کر کہا کہ اس کی پشت پر اپنا ایڈریس بھی لکھو، فوری طور پر کچھ سمجھ نہ آیا اور اس طرح لکھا کہ فلاں محلے کی فلاں گلی میں فلاں کے گھر کے بعد ہمارا گھر ہے، پوسٹ ماسٹر یہ پڑھ کر دیر تک ہنستا رہا تاہم اس نے مہر لگا کر لفافہ لیٹر باکس میں ڈال دیا ، رزاق بھائی چاچو سید عابد علی شاہ کی دکان پر کام کرتے تھے، اگلے ہفتے انہوں نے جنگ کے جمعہ میگزین میں میری وہی کہانی چھپی ہوئی دیکھی تو اخبار ہوا میں لہراتے ہوئے بھاگے بھاگے گھر پہنچے، شام تک پورے علاقہ میں مشہور ہوچکا تھا کہ ہمارے علاقہ سے کسی لڑکے کی کہانی اخبار میں شائع ہوئی ہے، تعریفیں سن سن کر اور مبارکبادیں وصول کر کرکے ابو کا سینہ فخر سے چوڑا ہوگیا، وسائل نہ ہونے کے باوجود اگلے دن وہ مجھے ساتھ لے کر اسکول پہنچ گئے، داخلے کے لئے ٹیسٹ دیا تو پنجم تک نصاب کی ہر کتاب میں فرفر پڑھتا چلا گیا، ہیڈ ماسٹر اور اساتذہ سمیت میرے ابو بھی حیرت سے مجھے تکتے رہے، دوسری جماعت میں داخل ہوا، تین مہینے بعد امتحانات میں دوسری پوزیشن حاصل کی، تیسری جماعت میں پورے اسکول میں اول آیا ، مزے کی بات یہ ہے کہ اسکول بھر میںدوسری پوزیشن بھی ہماری ہی جماعت سے میرے ہی کزن مخدوم غلام حسین نے حاصل کی تھی، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں اپنا انعام لینے کے لئے اسٹیج کی طرف جا رہا تھا تو میرے استاد احمد علی صاحب کا چہرہ خوشی سے تمتمانے لگا تھا اور میرے کزن ماسٹر فلک شیر جعفری نے تو باقاعدہ مائیک پکڑ کر بڑے فخر سے اعلان کیا کہ ”یہ میرا چھوٹا بھائی ہے۔“
انہی دنوں محرم میں فرقہ ورانہ فسادات پھوٹ پڑے، زندگی میں پہلی بار میں نے سنگ باری، فائرنگ، آنسو گیس، گھروں اور گاڑیوں کو بے دریغ جلتے دیکھا،یہاں تک کہ سرکنڈوں سے بنا ہمارا جھونپڑا بھی ایک پٹرول بم کی نذر ہوکر خاکستر ہو گیا ، اس سے قبل بھی ایک بار ہمارے گھر میںآگ لگ چکی تھی جس میں میری بڑی بھابھی کے جہیز کے قیمتی سامان سمیت استعمال کی ہر چیز جل کر راکھ ہوگئی تھی،صرف قرآن پاک کا ایک نسخہ معجزانہ طور پر محفوظ رہا تھا، اسی آتشزدگی کے بعد افسوس کا اظہار کرنے والوںمیں ایک اجنبی خاتون ڈرامائی طور پر امی کی ایک ایسی کزن نکل آئیں جن کی فیملی کے ساتھ ان کا کئی دہاﺅں سے رابطہ ختم ہوچکا تھا، بعد میں انہی کے بھائی کی بیٹی سے میرے بڑے بھائی افتخار حسین کی شادی ہوئی جن کے بچے آمنہ، محسن، منزہ، علیزہ ،فضہ، ردا اپنے چاچو کی جان ہیں ، اسی طرح مخدوم اشفاق اکبراسد بھائی کے بچوں گلناز، امداد، مہناز، علی رضا، وقاص اور ارباز ، رزاق حسین بھائی کی اولادنایاب،بسمہ، دعا فاطمہ، ابراہیم، غلام اصغر کے بچوں غلام حسن، غلام حسین، غلام عباس، مقدس فاطہ، اور عترت فاطمہ سے بھی مجھے یکساںپیار ہے، مخدوم اشفاق اکبراسد بھائی کے بچے گلناز، امداد اور مہنازتوشادی شدہ اور ماشاءاللہ صاحب اولاد ہیں اس لحاظ میں نانا اور دادا بھی بن چکا ہوں ۔
کوٹ عبدالمالک میں فرقہ ورانہ فسادات اور اس کے نتیجہ میں اپنا گھر جل جانے کے واقعہ نے ابو کو اتنا بددل کر دیا کہ انہوںنے ایک نئی ہجرت کی ٹھانی اور 1990ءمیں ہم سبزی منڈی کے سامنے بادامی باغ میں آگئے، بادامی باغ میں ہم 1990ءسے 1994ءتک رہے، درمیان میں کچھ عرصہ جی ٹی روڈ پر رانا ٹاﺅن کے ساتھ عابد ٹاﺅن میں اپنا گھر بھی بنایا لیکن ذرائع آمد و رفت اور معاش کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی واپس بادامی باغ لوٹ آئے، ویسے تو زندگی ہمیشہ دھوپ چھاﺅں کا تسلسل ہی رہی ہے لیکن بادامی باغ میں گزرا وقت میری زندگی کا بہترین دورسمجھا جا سکتا ہے، پہلی بار انگلش میڈیم اسکول میں داخل ہوا، اسلامک ماڈل اسکول حنیف پارک میں چہارم کے دوران تخلیقی صلاحیتیں خوب نکھر کر سامنے آئیں، اس دور میں اتنی شاعری کی کہ میری ٹیچرز کی ڈائریاں بھی میرے اشعار سے بھری رہتیں،انہی دنوں ماہنامہ آنکھ مچولی کراچی کی طرف سے مجھے ایک خط موصول ہوا جس میںمیری نظم کے ناقابل اشاعت ہونے کی وجوہات درج تھیں، یہ خط ملنے کی بھی اتنی خوشی تھی کہ سالہا سال میرے پاس محفوظ رہا، بادامی باغ میں گزرے وقت کا ذکر شیخ محمد اعظم کی محبت کے بغیر بھی ادھورا ہے، لوہے والی پلی پر ان کی مشہور لائبریری کا راستہ کیا دیکھا مجھ پر علم و ادب کا ایک نیا جہان حیرت کھل گیا، اعظم بھائی کی لائبریری سے ناگ عنبر ماریہ سے لے کر انسپکٹر جمشیدسیریز، عمران سیریز، ڈائجسٹوں کے تمام مشہور سلسلے، نسیم حجازی سے قمر اجنالوی تک کے تاریخی ناول، اے حمید، طارق اسماعیل ساگر ، رضیہ بٹ وغیرہ کے ناول غرضیکہ پوری لائبریری چاٹ گیا، ان سے اتنی دوستی رہی کہ خط کتابت کے لئے پتہ بھی ان کی ہی لائبریری کا دیتا رہا، عنوان منتخب کرنے پر پہلی بار ماہنامہ انوکھی کہانیاں کا اعزازی شمارہ بھی مجھے اسی پتہ پر موسول ہوا تھا، ایک دن اعظم بھائی نے مجھے میو ہسپتال کے سامنے ، نسبت رود چوک پر واقع ایک بڑے بک سیلر آصف اکیڈمی کا پتہ دیا اور کہا کہ آصف بھائی سے جا کر ملو، وہ تمہاری کہانیان بچوں کے رسائل میں چھپوا دیا کریں گے، آصف بھائی واقعی بڑی محبت سے ملے اور مجھے ماہنامہ بچوں کی دنیا کے دفتر بھیج دیا، تب تک میری کوئی دوسری کہانی شائع نہیں ہوئی تھی، بچوں کی دنیا میں مدیر اعلیٰ محمد سلیم شرقپوریؒ اور امان اللہ نیئر شوکت صاحب سے پہلی بار ملاقات ہوئی اور پھر اگلے چھ مہینے میں بلاناغہ بچوں کی دنیا کے دفتر جاتا رہا ، کرائے کی سائیکل ، جیبوں میں کہانیاں اڑس کر روز بچوں کی دنیا کے دفتر پہنچ جاتا جہاں امان اللہ نیئر شوکت مجھے کہانی کاری کے اسرا رموز سکھانے کی کوشش کرتے رہے، بچوں کی دنیا میں کوئی کہانی تو شائع نہ ہوئی لیکن جملوں کی ساخت اور منظر نگاری کا تھوڑا بہت ہنر ضرور آگیا ، بچوں کی دنیا میں شائع ہونے والے تعارف سے ہی بچوں کے کئی ادیب میرے قلمی دوست بنے، نسبت روڈ چوک میں واقع آداب عرض کے دفتر میں مدیر خالد بن حامد بھائی سے بھی ملاقاتیں رہیں، ان سے آج بھی محبت کا سلسلہ قائم و دائم ہے، آصف بھائی نے ہی مجھے ماہنامہ انوکھی کہانیاں کا تازہ شمارہ بطور تحفہ دیا تھا کہ اسے پڑھو اور اس میں بھی کہانیاں بھیجا کرو ، بہت اچھا رسالہ ہے، اپنے خوب صورت سرورق اور لے آﺅٹ کی وجہ سے ماہنامہ انوکھی کہانیاں دل کو بھا گیا، اس دور میں ماہنامہ انوکھی کہانیاں میں کوئی تحریر تو شائع نہیں ہوئی البتہ خطوط وغیرہ ضرور شائع ہوئے ، مستقل سلسلوں میں بھی نام آتا رہا جو کہ میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہ تھا، اس لحاظ سے مجھے رائٹر بنانے میں انوکھی کہانیاں کا کردار بھی ناقابل فراموش ہے، کاروان ادب کانفرنس لاہور کے اختتام پر اپنے پسندیدہ ترین مدیرمحبوب الٰہی مخمور بھائی سے گلے ملتے وقت سارا ماضی آنکھوں کے گرد گھوم گیا، ایسا لگا کہ ایک حیات جاوداں لمحے میں پوری کائنات تھم گئی ہے۔
اسلامک ماڈل اسکول سے چہارم پاس کرنے کے بعد مجھے ایم سی ہائی اسکول حنیف پارک میں داخل کروا دیا گیا جہاں پہلے غلام رسول مرحوم اور پھر رانا محمد اصغر میرے استاد رہے، رانا محمد اصغر بنیادی طور پر ایس ایس ٹی ( سینئرسائنس ٹیچر) ہیں، ہیڈ ماسٹر بھی رہے، آج کل بادامی باغ کے ایک بہت بڑے نجی ا سکول سسٹم نیو پائلٹ ہائر سکینڈری سکول کے سربراہ ہیں جہاں انہیں اپنے چھوٹے بھائی رانا محمد سہیل کی بھی بطور پرنسپل معاونت حاصل ہے ، رانا محمد اصغر نے ایک استاد سے زیادہ دوست بن کر ہمیں پڑھایا، کتابیں اور فیسیں تک خود دیتے رہے ، ان کی زیر نگرانی پنجم اورششم کی جماعتیں پاس کیں، اس دوران بچوں کا پاکستان میں میری کہانیاں شائع ہونا شروع ہو گئی تھیں، بچوں کا پاکستان کی انچارج نور العین حمیرہ نے بھی میری بہت سی نظمیں مسترد کی تھی تاہم ایک دن کال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مجھے کہانی بھیجنے کا مشورہ دیا، اف یہ شاعری بچوں کے ادب میں میری پہلی کہانی تھی جو بچوں کا پاکستان میں شائع ہوئی ( کچھ عرصہ قبل اس کہانی کو محترم عبدالرشید فاروقی بھائی نے فیس بک پر شیئر بھی کیا تھا ، جس پر 7اپریل 1993ءکی تاریخ پڑھ کر ندیم اختر بھائی نے فراخ دلی سے اعتراف کیا کہ آپ تو مجھ سے بھی سینئر ہیں ) اف یہ شاعری کے بعد کبوتر باز، خاموش شور، شریر کہیں کا، عقل کا دشمن سمیت درجن بھر کہانیاںشائع ہوئیں اور الحمدللہ انہیں پسند بھی کیا گیا، اسکول کے اسی دور میں ماہنامہ تعلیمی ڈائجسٹ کے معاون مدیرمحمد رفیق چوہان سے پہلی بار تعارف ہوا، وہ ہمارے علاقہ میں ہی رہتے تھے اور اپنے رسالہ کے لئے ہیڈ ماسٹر نذیر احمد بھٹہ صاحب کا انٹرویو کرنے آئے تھے، ہیڈ ماسٹر صاحب میرے ننھیالی گاﺅں کھریپڑہٹھاڑ تحصیل و ضلع قصور کے ملحقہ گاﺅں حسن خان والہ کے رہنے والے تھے اور اس حوالے سے مجھے بہت عزیز رکھتے تھے، انہوں نے خصوصی طور پرمجھے کلاس سے بلوا کر بڑے فخریہ انداز میں بتایا کہ ہمارا تو اپنا سٹوڈنٹ بھی بچوں کے لئے کہانیاں لکھتا ہے، رفیق چوہان صاحب نے اسی وقت مجھے پارٹ ٹائم جاب کی آفر کر دی تاہم میں نے ابو کی مرضی کے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کرنے سے معذرت کرلی، ان دنوں گھر یلو حالات پھر سے خراب رہنے لگے تھے، میں نے اسکول ٹائم کے بعد ہر مال دو دو روپے والی ریڑھی بھی لگانا شروع کر دی تھی، ایک دن ریڑھی سمیت گھومتا پھرتا رفیق چوہان صاحب کے گھربھی چلا گیا اور ریڑھی ایک طرف کھڑی کر کے ان کے دروازے کی بیل بجائی، وہ مجھے اس طرح دیکھ کر حیران رہ گئے، انہوں نے کہانی تو وصول کرلی لیکن دوبارہ پھر نوکر ی کی آفر دے دی، تعلیمی دور کے عروج میں شاید کبھی بھی ملازمت نہ کرتا لیکن پھر زندگی میں ایک ایسا انقلاب آیا جس نے میری زندگی کو تہہ و بالا کر ڈالا، نہ صرف تعلیم بلکہ گھر بھی ہمیشہ کے لئے چھوڑنا پڑگیا۔
یہ 1994ءکے وسط کی بات ہے ، ابو کو سبزی منڈی میں لاکھوں روپے کا نقصان ہوگیا، جیسے تیسے کرکے انہوں نے نقصان تو بھر دیا لیکن دوبارہ سبز منڈی جانے کو ان کا دل کبھی نہ مانا اور انہوں نے گاﺅں واپس جانے کا فیصلہ کرلیا، یہ لمحہ میرے دور ابتلاءکی ابتداءتھی، میں ایک دوراہے پر کھڑا تھا، گھر والوں کے ساتھ گاﺅں واپس چلا جاتا تو رائٹر بننے کا خواب ہمیشہ کے لئے چکنا چور ہوجاتا، شہر میں رہتا تو کہاں اور کس کے پاس ، ایک بڑا سوالیہ نشان یہ بھی تھا کہ کیا ابو مجھے اس عمر میں گھر والوں سے دور، شہر کے خود غرض ماحول میں اکیلا رہنے کی اجازت دیں گے؟ ایک رات میں نے ڈرتے ڈرتے ابو سے تعلیمی ڈائجسٹ میں ملازمت اور رہائش کی آفر بارے بات کی، ابو خود میرے سپنوں کو چکناچور نہیں ہونے دینا چاہتے تھے، انہوں نے اس شرط پر مجھے اجازت دے دی کہ ہر ہفتے گھر آﺅںگا او ر ساتھ ساتھ تعلیمی سلسلہ بھی جاری رکھوں گا، تعلیمی ڈائجسٹ میںمیری پانچ سو روپے ماہوار تنخواہ طے پائی تھی، سر رانا محمد اصغر نے بھی مجھے اپنی اکیڈمی میں مفت پڑھانے کے علاوہ چھوٹی جماعت کو بچوں کو ایک گھنٹہ پڑھانے کے عوض پانچ سو روپے ماہوار دینے کی حامی بھر لی، میں بہت خوش تھا، اتنا خوش کہ ہواﺅں میں اڑ رہا تھا لیکن جاب کے تیسرے دن ہی رفیق چوہان صاحب نے مجھے صاف کہ دیا کہ تمہارے اکیڈمی چلے جانے سے کام کا ہرج ہوتا ہے، تعلیم اور نوکری میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو، ان کے اس جملے نے میرے پیروں تلے زمین کھینچ لی، ہراساں ہوکر ادھر ادھر دیکھتا رہا کہ اب کیا کروں، دفتر میں رہائش اور خوراک کی سہولت بھی میسر تھی، نوکری چھوڑ کر کہاں جاتا ،بچوں کے ادب سے جڑا رہنے کی خواہش میں تعلیم چھوڑ دینے کا کڑوا گھونٹ بھی ہنس کر پینا پڑا ، ہر ہفتے گھر جانے کی توفیق بھی نہ ملی، کئی کئی مہینے گھر نا جاتا تو امی، بھائی وغیرہ گھبرا کر پتہ کرنے آجاتے، اس دن سے آج تک میرے گھر والوں نے مجھ سے تنخواہ کے نام پر کبھی ایک پیسہ نہیں لیا، حتی کہ ابو تو واپسی کا کرایہ بھی اپنی جیب سے دے کر بھیجتے تھے۔
تعلیمی ڈائجسٹ کا صدر دفتر بابر مارکیٹ اچھرہ میں تھا اور یونس عزیز ملک اس کے مدیر، بادامی باغ والا دفتر درحقیقت روزنامہ خبریں کا نیوز پوائنٹ تھا جس کے انچارج محمد رفیق چوہان تھے، یونس عزیز ملک صاحب بھی میرے ان محسنوں میں سے ایک ہیں جن کی شفقت کو میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا، لکھنے کے معاملہ میں انہوں نے بھی میری بہت رہنمائی کی، تجربہ اور کوڑے دان تعلیمی ڈائجسٹ میں ہی شائع ہوئیں، کوڑے دان پر غلطی سے میری بجائے کسی اور کا نام شائع ہوگیا تھا جس کامجھے آج تک دلی صدمہ ہے، یونس عزیز ملک اتنی مہربان شخصیت کے مالک ہیں کہ ان کے ادارہ، ادارہ تخلیقات پاکستان کے تحت لاہور میں بچوں کے پہلے تفریحی و تعلیمی پروگرام انعام گھر منعقدہ محفل تھیٹر جس کے لئے میں نے بھی سب کے ساتھ دن رات محنت کی تھی کہ اختتام پر جب مجھے شیلڈ نہ ملی تو میں اسٹیج پر کھڑے کھڑے ہی رو پڑا ، یونس عزیز ملک یہ منظر دیکھ کر تیر کی طرح میری طرف لپکے اور باہر نکلتی ہوئی عوام کو روک کر نیرے لئے شیلد کا اعلان کروایا اور اپنے حصے کی شیلڈ اپنے ہاتھوں سے مجھے عطا کردی ، ماہنامہ چٹاخ پٹاخ کراچی کے سابق مدیر امجد معظم بھی انہی دنوں کراچی سے لاہور آکر تعلیمی ڈائجسٹ کے ادارتی شعبہ کا حصہ بنے تھے، انہوں نے لے آﺅٹ کے حوالے سے پورے سٹاف کی بڑے احسن انداز میں تربیت کی، ان کے ساتھ بعد میں ایجوکیشن نیوز پیپر کی ٹیم میں کام کرنے کا موقع بھی ملا، جناب یونس عزیز ملک کی زیرادارت روزنامہ پناہ میں بھی بطور بزنس ایگزیکٹو خدمات انجام دیں
رفیق چوہان صاحب نے اگلے ہی برس بعض کاروباری اختلافات کے باعث ان سے راہیں جدا کر لیں اور تربیتی ڈائجسٹ کے نام سے ایک نئے رسالے کا ڈیکلریشن لے لیا،تعلیمی اور تفریحی پروگراموں کے انعقاد کے لئے ایجوکیشن کونسل آف پاکستان کی بنیاد بھی رکھی گئی، کئی کامیاب پروگراموں کے علاوہ تربیتی ڈائجسٹ کے لئے کہانیوں کے انتخاب، اسکول سربراہان کے انٹروروز، رائٹ اپ، اشتہارات، کمپوزنگ، مینوئل پیسٹنگ، پرنٹنگ، بائنڈنگ، سرکولیشن اور ریکوری تک سارے کام اپنے ہاتھ سے کئے، بادامی باغ سے شادباغ، مصری شاہ، فاروق گنج، گھوڑے شاہ، چائینہ سکیم تک پیدل ہی بھاگا پھرتا، ساری ساری رات کاپی پیسٹنگ کرتے ہوئے پاﺅں سوج جاتے، سونے کے لئے ایک چھوٹا سا بینچ تھا جس پر ٹانگیں بھی پوری نہ آتیں، اکثر چھوٹے سے پیڈسٹل فین میں پاﺅں پھنس کر لہولہان ہوجاتا، کئی کئی ہفتے نہانے اور کپڑے بدلنے کی بھی توفیق نہ ملتی، دفتر کی بہ نسبت ان کے گھر میں مجھے زیادہ عزت ملی، گھر میں رفیق چوہان صاحب خود، ان کی بیگم آنٹی اشرف ناہید بنو مرحومہ، انوارلحق چوہان بھائی اور ساجد چوہان بھائی سمیت ساری بہنوں نے بھی مجھے اپنے گھر کا فرد سمجھا، شادی بیاہ اور دیگر مواقع پر مجھے بھی چوہان صاحب کے بچوں جیسا سٹیٹس ہی ملتا جس کے لئے میں آج بھی ان کا ممنون ہوں۔
1997ءمیں جناب رفیق چوہان صاحب نے اپنے گھر میں پی ای ایف کیڈٹ سکول کی بنیاد رکھی اور تربیتی ڈائجسٹ کا سلسلہ موقوف کر دیا، میں گھر واپس چلا گیا، تھورے دنوں بعد واپس آکر لاءٹائمز نامی ایک رسالے میں ڈیڑھ دو ماہ بطور سب ایڈیٹر جاب کی، اسی سال پاکستان تحریک اطفال کی بنیاد رکھی اور چلدرن کمپلیکس میں تعلیمی ا داروں کے مابین کئی تعلیمی اور تفریحی پروگرام منعقد کروائے، چھوٹے بڑے کئی اخبارات و رسائل کے علاوہ کچھ ہوزری کی کچھ فیکٹریوں میں ملازمت کے بعد میں 19اپریل 2003ءسے مسلسل اپنے موجودہ ادارہ میں ہوں، لاہور میں صدر چھاﺅنی کے عالقہ الفیصل ٹاﺅن میں مجھے رہتے ہوئے سولہ سال ہونے کو آئے، یہاں کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں کافی اٹھنا بیٹھنا ہے، یہاں احباب کی تعداد تو کافی وسیع ہے لیکن شیخ شہروز محمود میرا بہترین دوست، سابق نائب ناظم حافظ شہباز احمد خان، سابق کونسلر خرم ثناءاللہ خان اور ایم پی اے کے امیدوار وسیم مسرت چوہدری سے گہرا ادبی تعلق ہے ، بچوں کا ایک بڑا رائٹر بننے کا خواب سجائے گھر سے نکلا تو اندازہ بھی نہیں تھا کہ یہ سفر اتنا طویل ہوجائے گا، لگ بھگ بیس سال صرف زندہ رہنے کی جدوجہد میں اپنے مقصد سے ہٹ کر رائیگاں چلے گئے، اتنا طویل عرصہ قلم سے دوری کا قلق تو ساری زندگی ختم نہیں ہوگالیکن اب خوشی اس بات کی ہے کہ کاروان ادب اطفال کی ہمہ گیر تحریک کا حصہ بن کر بچپن کے بہت سے خواب پورے ہوگئے، شیخوپورہ کے نواحی گاﺅں نواں کوٹ میں قاسم سرویا کی رہائش گاہ پر ” بچوں کے ادب میں مضافاتی ادیبوں کا کردار“ کے موضوع پر مذاکرہ میں پہلی بار ادب اطفال کے افق پر جگمگاتے ہوئے ستاروں سے ملاقات ہوئی، اس مذاکرہ میں ، میں نے بھی اظہار خیال کیا اور گفتگو کے اختتام پر اختر عباس بھیا کا یہ صدارتی جملہ میرے لئے سرمایہ حیات بن گیا کہ
”آج کی سب سے اہم دریافت شہباز اکبر الفت ہے“
یہاں میں انتہا ئی فخر کے ساتھ سفید گلاب، اندھیرے میں جگنو، قلم قرطاس اور قندیل اور میں جناح کا وارث ہوں جیسے شہرہ آفاق ناولوں کے خالق محمود ظفر اقبال ہاشمی بھائی کے اپنے بارے میں کچھ کلمات کو پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں، مجھے یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان کے ناول میں ”جناح کا وارث ہوں “میں میری نظم ”تجدید عہد “بھی شامل ہے
شہباز اکبر الفت۔ ہمارا نجمِ ثاقب’
محمود ظفر اقبال ہاشمی
میرے پاس شہباز اکبر الفت کو ‘نجمِ ثاقب’ یعنی درخشاں، تاباں اور روشن ترین ستارے کا خطاب دینے کی ٹھوس وجوہات ہیں۔ روشن ستارے زمانہ قدیم سے مسافروں کے لئے راہنما رہے ہیں، شہباز بھائی اور لفظ ‘راہنمائی’ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ادب کی راہ کے نوجوان مسافر ان کی راہنمائی سے اپنی منزل کا تعین کرتے ہیں اور مٓیں نے شہباز بھائی کے ساتھ دو سال کی شناسائی میں اس کی ان گنت مثالیں دیکھی ہیں۔ روشن ستارے کی حیثیت سے وہ روشنی کی علامت و ذریعہ بھی ہیں جو ظلمتوں کے مارے قلم کاروں کو لَو بھی عطا کرتے ہیں اور ظلمتوں کے سامنے سینہ تان کر بھی کھڑے ہو جاتے ہیں۔ شہباز بھائی کے وجود میں اتنی روشنی ہے کہ وہ جتنا اسے بانٹتے ہیں یہ اتنی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ وہ ہر ظلمت یا ناانصافی کے خلاف سب سے پہلے عَلمِ بغاوت بلند کرتے ہیں۔ ان کو نجمِ ثاقب قرار دینے کی ایک اور اہم وجہ ان کے قلم کا نُور ہے جو اسم بامسمی شہباز کی سی اُونچی پرواز، دُب اکبر کی سی تابانی و رفعت اور ٹھنڈے میٹھے چشمے کے پانی جیسے عالمگیر جذبے یعنی اُلفت / محبت سے مالا مال ہے!!!
شہباز اکبر الفت سے میری شناسائی دو برسوں پر محیط ہے۔ ہم ایک برس پہلے بدقسمتی سے شدید خواہش کے باوجود لاہور میں بالمشافہ ملاقات سے محروم رہ گئے لیکن وہ ان چند شخصیات میں سے ایک ہیں جن سے گِلے ملنا چاہتا ہوں اور کئی عدد طویل نشستوں کا اعزاز حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ نجمِ ثاقب زمین پر اُترے تو اس کی روشنی سے زیادہ سے زیادہ ہاتھ تاپنے چاہئیں!
ان کی تحریروں کا بہت بڑا فین ہوں۔ اکثر قلم میں سبز روشنائی بھر کر لکھتے ہیں۔ حب الوطنی سے سرشار ان کا تخلیق کردہ افسانہ ‘رک جا اوئے کرتاریا’ میرے نزدیک کلاسیک سے کسی طور کم نہیں۔ اسی طرح ان کا افسانہ ‘عطائے ربِ کریم پرچم’ نے بھی ہم سب کے خون کو خُوب خُوب گرمایا تھا۔ بچوں کے ادب کے لئے ان کی انتھک اور بے لوث خدمات کسی تعریف کی محتاج نہیں۔ ان کی ذاتی زندگی کے کچھ پرت اتنے خاص اور قابلِ مثال ہیں کہ اگر لوگ جان جائیں تو میری طرح بلا تامل انہیں میرے دِئیے گئے نجمِ ثاقب کے خطاب کی بھرپور تائید کرڈالیں۔ شہباز بھائی بہت حسّاس طبیعت کے مالک ہیں اور مجھے ذاتی طور پر حسّاس لوگ اس لئے بھی پسند ہیں کہ وہ سچے ہوتے ہیں، اکثر تخلیق کار ہوتے ہیں اور محبت و انسانیت کے علمبردار ہوتے ہیں۔ جتنا مٓیں انہیں جانتا ہوں اس کے مطابق وہ خطرناک حد تک غیر مادّہ پرست شخص ہیں اور ایسے لوگ آج کل ایسے لوگ تقریباً ناپید ہیں!
میری دلی خواہش ہے کہ صنفِ مخالف میں سے کوئی ان کے اندر جھانک کر ان کا سچّا، حسّاس اور محبت سے گندھا وجود دیکھ سکے تاکہ میری ان کی شادی میں شرکت کی دلی خواہش جلد پوری ہو سکے اور مٓیں ان کی سہرا بندی والے دن ان کے اعزاز میں اپنی لکھی نظم انہیں اور سب کو پڑھ کر سنا سکوں!
آخری بات۔۔۔ مجھے شہباز بھائی کی کبھی کبھار تخلیق کی ہوئی ایڈیٹس اتنی ہی پسند ہیں جتنی عین گرمیوں کے وسط میں روز ہونے والی غیر متوقع بارش!
شہباز بھائی۔۔۔ مجھے آپ سے بہت محبت ہے اور زندگی میں ملنے والے ان چنیدہ شخصیات میں سے ایک ہیں جنہیں ایک بار بھی نہ ملنے کے باوجود میں ان گنت بار ملا ہوں!!!
میرے نزدیک ناصر کاظمی کے درج ذیل دو اشعار شہباز اکبر الفت کی شخصیت اور زندگی کو جامع ترین انداز میں بیان کرتے ہیں:

سب کا بوجھ اٹھانے والے
تُو اس دنیا میں تنہا ہے
میلی چادر اوڑھنے والے
تیرے پا ¶ں تلے سونا ہے

کاروان ادب اطفال کے تحت ہی چلڈرن کمپلیکس میںکاروان ادب کانفرنس لاہور،لاہور پریس کلب میں عید ملن پارٹی، پنجابی کمپلیکس میں اختر عباس بھائی کی کتاب ڈریگن کی واپسی کی تقریب رونمائی، بحریہ ٹاﺅن میں اظہر عباس بھائی کی رہائش گاہ پر کاروان ادب کے ماہانہ اجلاس، کاسموپولٹین کلب باغ جناح میں باہمت یتیم بچے نمبر کے انعام یافتگان میں چیکوں کی تقسیم ، کیفے درویش میں ضیاءاللہ محسن کے ساتھ ایک شام کے علاوہ نامور ڈرامہ نگار عرفان مغل کے گھر افطاری ، اوج ادب اور وفائے پاکستان ادبی فورم کی تقریبات میں شرکت نے میرے اندر کے سوئے ہوئے ادیب کوبھی لات مار جگا دیا، آخرکار انوکھی کہانیاں سمیت دیگر رسائل میں چند کہانیوں کی اشاعت کے بعد میں نے بھی اپنی اس شناخت کے حصول میں کامیابی حاصل کر ہی لی جو کہ میرا مقصد حیات ہے، یعنی بچوں کا ادیب، یہ تشخص میری پہلی اور آخری محبت ہے اور میرا فخر بھی ۔

OOOOOO

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے