سر ورق / سمےکا سکہ مدثر حسین ملک ۔ کوئٹہ ۔ پاکستان

سمےکا سکہ مدثر حسین ملک ۔ کوئٹہ ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 74
سمےکا سکہ
مدثر حسین ملک ۔ کوئٹہ ۔ پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دس دن پہلےتک زندگی کسی اور ڈگر پر روانہ تھی مگر ایک خبر نےجیسےمیری دنیا ہی پلٹ دی۔ ۔ ۔ اس نےاپنی زندگی میں باہر کی جانب کھلنےوالی ہر کھڑکی جس سےمیں اس کی زندگی میں جھانک سکتا تھا وہ مجھ پر بند کر رکھی تھی۔ میں انٹرنیٹ کی کسی درز سےجھانک کر اس کےبارےمیںجاننےسےقاصر تھا اور وہ ایک دوسرےشہر کی باسی تھی جہاں تک میری پہنچ محدود تھی۔ مگر یہ باتیں افواہیں بہتےپانی کی طرح اپنا رستہ خود بناتی ہیں اور کسی نہ کسی طور اپنےمطلوبہ شخص تک پہنچ جاتی ہیں۔ ۔کسی ایسےہی لمحےوہ خبر میری دہلیز تک آن پہنچی جس نےشائد کسی اور چوکھٹ پر سجدہ کرنا تھا۔۔ ۔ میں نےکہا تھا کہ فناءایک ابتداءہے۔ بلکل بلیک ہول جیسی فناءجس کےبعد بقاءلازم ہو جاتی ہے۔ ۔ ایک انجان نمبر سےملنےوالےاس پیغام میں نہ کسی کا نام تھا۔ ۔ نہ بھیجنےوالی کےمحل وقوع کےبارےمیں کوئی بات درج تھی۔ ۔مگر ایسی خبروں کو تفصیلات کی بیساکھیوں کی بھلا کیا ضرورت۔ ۔ ایسی ہیڈ لائنز دل کےچینل پر ایک بار نشر ہو جائیں تو پھر کوئی دوسرا پروگرام چل ہی نہیں سکتا۔ ۔ میں آج تک نہیں جان سکا کہ اس ایک جملےکےپیغام کو میرےدل نےکیسےڈی کوڈ کر لیا۔ ۔شائد محبت کرنےوالوں کی خفیہ زبان ایسی ہی ہوتی ہے۔ ۔ یک سطری۔ ۔مبہم ۔ ۔مگر انھی چند الفاظ میں ایک پوری زندگی کا خلاصہ بیان ہوتا ہے۔ ۔اور اگرالفاظ کا مطلب یہ نکالا جائےکہ وہ مر رہی ہےتو سمجھو کہ زندگی کاخلاصہ ہی بیان ہوا ہے۔ ۔ایسا خلاصہ جس کےبعد شائد ہی کوئی سطر لکھی جائی۔ ۔

میرےہاتھ سےموبائل چھوٹ گیا۔ ۔چند لمحی۔ ۔یا چند صدیاں۔ ۔ یا شائد چند سال۔ ۔ میں یوں ایک جگہ منجمد بیٹھا رہا جیسےمرغابی کا شکاری شست باندھےبیٹھا ہو اور اچانک اس کی گن سائٹ میں شیر نظر آنےلگے۔ ۔یہ چند لمحی۔ ۔چند صدیاں یا چند سال بڑےقیمتی ہوتےہیں۔ ۔شاک کی کیفیت آپ کو کچھ دیر کےلئےزمان و مکان سےبلند کر کےلا یعنی کےدرخت پر ٹانگ دیتی ہی۔ ۔اس سمےنہ پائوں کےنیچےزمین ہوتی ہے۔ ۔نہ سر پر آسمان۔ ۔ اس وقت کوئی آپ کےساتھ نہیں ہوتا۔ ۔آپ اپنےساتھ بھی نہیں ہوتے۔ ۔یہ کیفیت بڑی مختصر ہوتی ہے۔ ۔ کچھ خوش نصیب ہو تےہیں جن کا وجود اس کیفیت کو مہمان نہیں سمجھتا بلکہ گھر کا فرد سمجھ کر اندر بلا لیتا ہےاور پھر لا یعنی کی یہ کیفیت گھر کی مالک بن بیٹھ تی ہے۔ ۔ایسےہی تو لوگ ہوتےہیں جنہیں بچےسڑکوں پر پتھر مارتےہیں۔ ۔اور اگر وہ بچوں کےپتھروں سےجانبر ہو جائیں تو عقل والےانھیں انا الحق کی سولی پر چڑھا دیتےہیں۔ ۔

میں ایسا خوش بخت کہاں۔ ۔ میرےنصیب تو اس قدر سیاہ تھےکہ میں محبت کی پر سوز کیفیت بھی دو گھڑی برداشت نہیں کر پایا تھا۔ ۔پھر بھلا لا یعنی کی یہ کیفیت میرےوجود میں کیوں کر بسیرا کر تی۔ ۔موبائل زمین پر گرنےسےایک آواز آئی اور آواز کےاس معمولی ارتعاش نےمجھےہوش کی دنیا میں واپس لا پٹخا۔ ۔

وہ مر رہی ہے۔ ۔ میں اضطراری انداز میں کھڑا ہوا۔ ۔اور پھر نیچےجھک کر فون اٹھایا۔ ۔ دل نےکہا کہ انجان نمبر پر فون کرو۔ ۔مگر دماغ نےفورا ہی اس خیال کو رد کردیا۔ ۔سڑک پر کوئی اجنبی آپ کو رستہ بتا دےتو آپ بدلےمیں اس اجنبی کا پیچھا کرتےہوئےاس کےگھر نہیں پہنچ جاتے۔ ۔

پھر کیا کروں۔ ۔میں بےبسی کی انتہاہ پر تھا اور خود کلامی پر اتر آیا۔ ۔ وہ مر رہی ہی۔ ۔ کس شہر۔ ۔ کس ملک۔ ۔ ۔کیا اپنےشہر۔ ۔ کیا اپنےملک۔ ۔ میرےدماغ میں سوال روپ بدل بدل کر آرہےتھے۔ ہر سوال اپنےکندھوں پر اداسی اور نا امیدی کا بوجھ ڈھو کر آتا اور میرےسامنےڈھیر لگا دیتا۔ ۔جیسےمچھ شہر سےذرا پرےموجود کوئلےکی کانیں اپنےدروازےکےباہر کالےکوئلےکا ڈھیر لگا دیتی ہیں۔ ۔ پھر اس ڈھیر سےجتنا بھی بچ کر چلو۔ ۔کوئلےکی کالک کہیں نا کہیں اپنا نشان چھوڑ جاتی ہے۔ ۔

میں سرکس کےشیر کی مانند اپنےپنجرےمیں چکر لگا رہا تھا۔ ۔روزی کا پنجرہ میرا آفس جسےایک مخصوص وقت سےپہلےچھوڑنا میرےلئےممکن نہیں تھا۔ ۔مگر انجانےپیغام کی ڈی کوڈنگ نےمجھےیہ ضرور باور کر وا دیا تھا کہ پیغام اہم ہےباقی سب جائےبھاڑ میں۔ ۔

میں نےلیپ ٹاپ بند کیا اور اس کےاوپر پیلےسٹکی نوٹ لگا کر لکھا کہ میں ایک ایمرجنسی میں باہر جا رہا ہوں۔ واپسی کا وقت متین نہیں اس لئےاسےمیری چھٹی مان لیا جائی۔ ۔میں ای میل بھی کر سکتا تھا مگر شائد میرےاندر کےکلبلاتےخوف نےمجھےایسا کرنےسےروک دیا۔ ۔ ای میل فورا پڑھی جا سکتی تھی جبکہ سٹیکی نوٹ جب تک پڑھا جاتا میں اس شہر سےدور جا چکا ہوتا۔ ۔

پارکنگ لاٹ سےگاڑی نکالتےہوئےمیرےذہن میں کوئی واضع منزل نہیں تھی۔ ۔ اس ایک سطر کےتعاقب میں مجھےکہاں جانا تھا ۔ ۔ کس سمت۔ ۔کس شہر۔ ۔ یہ مجھےمعلوم نہیں۔ ۔ مگر میری گاڑی جیسےخود سےچلتےہوئےشہر سےباہر جانےوالی مرکزی شاہراہ کی طرف بڑھنےلگی۔ ۔شائد کبھی وہ بھی اس کیفیت سےگزری ہو۔ ۔ میرےدماغ نےیاد کی ایک اور کھڑکی کھولی۔ ۔ شائد اسی طرح ایک سطر کےپیغام کےپیچھےوہ گھر سےنکلی ہو۔ ۔ بناءیہ سوچےکہ رستےکس منزل کو جاتےہیں۔ ۔ رستےچاہےجس منزل کو جائیں یہ ہمیں ہمارےحال سےدور لےجاتےہیں۔ ۔ مستقبل میں جانا تو حرام ہےاسی لئےیہ رستےہمیں ماضی کی پگڈنڈیوں پر دکھیل دیتےہیں۔ ۔گاڑی ٹول پلازہ کراس کرنےکےبعد اب موٹر وےپر دوڑ رہی تھی۔ ۔ ا

میں نےسر کو جھٹکا اور خیالوں کےاس درد بھرےجوہڑ سےباہر آنےکی کوشش کی۔ ۔مگر محض سر جھٹکنےسےکئی سالوں کا ملا درد غائب تو نہیں ہو جاتا۔ ۔ گاڑی کی رفتار بتدریج تیز ہو رہی تھی۔ ۔اور اسی رفتار سےدماغ ماضی کےسنگ میل پار کر رہا تھا۔ ۔

ہماری پہلی بحث کائنات کےمتناہی اور لا متناہی ہو نےکےتصور پر ہوئی تھی۔ ۔۔

کائنات لا متناہی کیسےہو سکتی ہی؟ ہر چیز کا ایک منطقی آغاز ہےاور اسی قلیےکی رو سےاسےاختتام پذیر ہونا ہی۔ ۔پھر ہم کائنات کو infinite کیسےکہہ سکتےہیں؟ یونیورسٹی کےلان میں ایک بنچ کا سہارا لئےہوئےمیں نےاپنا موقف پیش کیا۔ ۔

تم کائنات اور سولر سسٹم کو ایک سمجھنےکی غلطی کر رہےہو فرجاد۔ ۔سولر سسٹم تو اس اتھاءپھیلی کائنات کاایک معمولی سا حصہ ہی۔ ۔ میں تو اس عظیم کائنات کی بات کر رہی ہوں جس کےآغاز کےبارےمیں ہم کبھی نہیں جان پائیں گےتو پھر بھلا ہم اس کائنات کےمنطقی انجام کےبارےمیں کوئی پیشن گوئی کیسےکر سکتےہیں؟ اسی لئےمیری بات مان لو۔ ۔کائنات لا متناہی ہے۔ ۔

مہرین۔ ۔ ابھی تک بنی نوع انسان کی سانسیں باقی ہیں۔ ۔ کچھ صدیاں مزید لگیں گی ہمیں اس سیارےکو تباہ کرتےہوئے۔ ۔ میں مسکراتےہوئےبحث میں موسمی تبدیلیوں کو بھی لےآیا۔ ۔ ہم اس معمےکو حل کر لیں گےکہ کائنات کی تخلیق کیسےہوئی اور جس دن ہم اس پزل کو حل کرنےمیں کامیاب ہو گئےتو یقینا ہماری تحقیق کا اگلا پڑائو یہی ہو گا کہ کائنات کا اختتام کیسےہونا ہے۔ ۔

ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ۔ ۔ہم محدودیت کےدائرےمیں مقید رہ کر لامحدودیت کی اوج کا تعین نہیں کر سکتے۔ ۔مہرین کی آواز میں مایوسی نہیں تھی۔ ۔ اس کی آواز میں ایک ٹھیرائو تھا۔ ۔جان لینےکی ناکامی کےبعد مان لینےکےسکون جیسا ٹھیرائو۔ ۔ یہ ان دنوں کی بات ہےجب ہم ہبل ٹیلی سکوپ کو خلاءکی وسعتوں میں بھیج چکےتھےاور سائنس کی دنیا میں سٹیفن ہاکنگ کےنام کا ڈنکہ بج رہا تھا۔

میرےاور مہرین کےان لا یعنی قسم کےمباحثوں کےچند ہی ناظر ہوتے۔ ۔بھلا یونی ورسٹی کی شوخ و چنچل زندگی میں بھی کسی کو خیال آسکتا ہےکہ وقت کی پیدائش کیوں کر ہوئی ہو گی۔ ۔اور وقت کی پیدائش سےپہلےکےعوامل کیا ہوں گےاور ان کا ہماری زندگی پر کوئی اثر ہےیا نہیں۔ ۔ یہ سوال میرےذہن میں کلبلاتےاور میں ان سوالوں کےجواب پانےکےلئےکبھی یہاں اور کبھی وہاں بھٹکا کر تا اور کسی ایسی ہی تک و دو میں مجھےلائبریری کےفلاسفی سیکشن میں پہلی بار جینز کےاوپر پیلا سویٹر پہنےاپنےسنہرےمائل بالوں کو ہاتھوں سےسنوارتےہوئےمہرین ملی جس کی نظریں کتابوں کےناموں پر سےپھسلتےہوئےمجھ سےٹکرائی اور دھیرےسےمسکرا کر میرےپہلو سےآگےبڑھ گئی اور بڑےعرصےبعد لائبریری کےاس گوشےمیں فیمیل پرفیوم کی خوشبو نےبسیرا کیا۔ ۔

ہم اکثراوقات ایک ہی وقت لائبریری ڈیسک پر آکر کتابیں ایشوکرواتےاور ایک دوسرےکی کتابوں نظر ڈال کر مسکراتے۔ ۔ یہ ہم نہیں تھے۔ ۔ یہ ہمارےلائبریری کارڈ تھےجنھوں نےایک دوسرےکی روح کو پہچان لیا۔ ۔ اکثرایسا ہوتا کہ جس کتاب کو میں لائبریری میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک چکا ہو اور بسوری ہوئی شکل بنا کر لائبریرین سےاس کتاب کا پتہ پوچھنےآتاوہ کتاب اس سنہری بالوں والی لڑکی کےقبضےسےبرآمد ہوتی۔ ۔

۔سنیے ۔ ایک کتاب پندرہ دن کےلئےایشو کی جاتی ہےتو یہ کتاب پچھلےدو مہینےسےآپ کےپاس کیا کر رہی ہی؟ میں نےلائبریرین کی موجودگی کو جواز بناتےہوئےبل آخر اس پری وش سےپہلی بار بات کر ہی ڈالی۔ ۔

مجھےاس کتاب سےمحبت ہو گئی تھی۔ ۔ اس نےاتنےعام سےالفاظ میں اپنےجرم کا اقرار کیا کہ میرےساتھ ساتھ لائبریرین بھی ہڑبڑا کر رہ گئی۔ ۔کیا!!۔ ۔ہم دونوں کےمنہ سےایک ہی بات نکلی اور ہم دونوں ہی اس پری وش کےسحر میں گرفتار ہو گئے۔ ۔

مجھےاس کتاب سےاس قدر محبت ہوئی کہ میں اسےواپس کرنےکی ہمت ہی نہیں کر سکی۔ ۔ تو آج یہ مہربانی کیوں۔ ۔دل کسی اور پر آگیا ہےکیا۔ ۔ لائبریرین نےطنز اور مزاح کےبیچ کی کوئی راہ اختیار کرتےہوئےسوال کیا۔ ۔ اس پری وش کی نظروں نےایک لمحےکےلئےمیرا طواف کیا۔ اور یک لفظی جواب آیا۔ ۔ ۔ہاں۔ ۔

اس ایک ہاں نےمیرا ہاتھ تھاما اور صدیوں کا فاصلہ ایک ہی جست میں پار کر وا دیا۔ ۔ ۔میں اسےاظہار محبت نہیں سمجھتا۔ ۔ نہ اس نےکبھی اس بات کو تسلیم کیا۔ ۔ مگر اس ایک ہاں کےبعد ہمارےلائبریری کارڈ ہمارےاعمال ناموں کی طرح کھل کر ہمارےسامنےآگئی۔ ۔ایک جیسی کتابیں پڑھنےوالےدو لوگ زندگی کی ڈگر پرقدم ملا کر چلنےکےلئےتیار ہو گئے۔

مگر یہ ایسی محبت نہیں تھی جسےہم فلموں اور ڈراموں میں دیکھا کرتےہیں۔ ۔جہاں لائبریری میں ایک دوسرےسےٹکرانےوالےدو اجسام پوری فلم یا کہانی میں دوبارہ کبھی لائبریری لوٹ کر نہیں آتے۔ ۔یہ ایسی محبت تھی جس کی تائید کےلئےہمیں ہر چند روز بعد لائبریری جانا ضروری تھا۔ ۔

ہبل نےکائنات کی وسعتوں کی اپنی آنکھ میں قید کر کہ زمین پر بھیجنا شروع کیا تو ہم دونوں فلسفےکی وادی میں فکشن کےہوائی گھوڑےپر سوار ہو کر سائنس کو پرکھنےکےلئےتیار ہو چکےتھے۔ ۔سٹیفن ہاکنگ خدا کےوجود سےمنکر ہو کر کائنات کی وسعت کےآگےسجدہ ریز ہو چکا تھا اور میں۔ ۔

میں ابھی خدا کےوجود سےمنکر نہیں ہوا تھا مگر مجھےبھی کائنات کی وسعت کےخیال نےبری طرح جکڑ رکھا تھا۔ ۔اور اسی خیال کو دامن میں سمائےمیں لائبریری پہنچا تو پتہ چلا کہ جس کتاب کی مجھےتلاش تھی وہ اس وقت مہرین اپنےہاتھوں میں لئےیونیورسٹی کےاسی مخصوص بنچ پر بیٹھی تھی جہاں بیٹھ کر ہم کائنات کےمسئلےسلجھایا کرتےتھے۔ ۔ میں لائبریری سےنکل کر جوں ہی بنچ کےپاس پہنچا تو دیکھا کہ مہرین The brief history of time میں کھوئی ہوئی تھی۔ ۔سٹیفن ہاکنگ کی یہ شہرہ آفاق کتاب وقت کی پیدائش اور کائنات پر اس کےاثر سےمتعلق تھی اور مصنف نےکمال محنت سےوقت کی تاریخ کو الفاظ کےکوزےمیں بند کر دیا تھا ۔۔ مگر میں ابھی تک اس کتاب کو پڑھنےکےاعزاز سےمحروم تھا۔ ۔اور مہرین اس کتاب اور اپنےپسندیدہ چپس کا پیکٹ ہاتھ میں لئےبیٹھی تھی۔ یہ الگ بات تھی کہ جپس کا پیکٹ جوں کا توں تھا۔ ۔

اس کو میری آمد کا احساس نہیں ہوا تھا ۔ ۔ جب دنیا کا بہترین دماغ آپ کو کائنات کی پیدائش اور اس کےمستقبل کےبارےمیں بتا رہا ہو تو بھلا آپ کسی اور کےقدموں کی چاپ سن سکتےہیں کیا؟

تم نےمجھ سےپہلےایشو کروا لی یہ کتاب۔ ۔ شائد یہ گلہ نہیں تھا۔ ۔یہ تعریف تھی۔ ۔ یا کچھ اور۔ ۔

میری آواز سن کر اس نےکتاب سےنظریں ہٹاتےہوئےمجھےدیکھا اور پھر مسکرا کر کتاب کےصفحےکا کنارا موڑا اور نشانی لگا کر کتاب بند کر دی۔ ۔کتاب میں جس مقام پر صفحےکا کنارا نشانی کےطور پر استعمال ہوا تھا وہ تقریبا کتاب کا نصف تھا۔

ہاں۔ ۔ میں تو انتظار کر رہی تھی اس کتاب کا۔ ۔ کیا کمال لکھا ہےسٹیفن ہاکنگ نی۔ ۔ ۔کائنات کےراز بیان کر دیے۔ ۔ کیسےستاروں سےآتی ہوئی روشنی کےخم سےہم ان ستاروں کی خود سےدوری ماپ لیتےہیں۔ ۔ کیسےکسی مرتےہوئےستارےکا حجم اس بات کا فیصلہ کرتا ہےکہ اسےبلیک ہول بننا ہےیا کچھ اور۔ ۔

میں اس دوران بنچ پر اپنی جگہ بیٹھ چکا تھا۔ ۔

یار یہ ہمارےلکھاری ایسی کتابیں کیوں نہیں لکھتی۔ ۔ ۔ اس کی آواز میں حسرت تھی۔ ۔مہرین اردو میں لکھی جانےوالی قریبا ہر چیز کو پڑھا کرتی اور اکثر اسےیہ گلہ ہوتا کہ ہم پیار محبت کی روائتی کہانیوں کےعلاوہ کچھ نہیں لکھ پا رہی۔ ۔

یار سٹیفن ہاکنگ ایک سائنس دان ہے۔ ۔وہ ایسی باتیں لکھ سکتا ہے۔ ۔

ایک سائنسدان ایسی باتیں لکھ سکتا ہےبھلا؟ اس نےکتاب میرےسامنےلہراتےہوئےکہا۔ ۔تم بزنس کےطالبعلم ہو اور میں انگریزی ادب پڑھ رہی ہوں مگر یہ کتاب ہمیں فزکس سکھا رہی ہی۔ ۔ بتا رہی ہےکہ ستاروں کا جنم کیسےہوتا ہی۔ ۔یہ مرتےکس طرح ہیں۔ ۔کائنات پھیل رہی ہےتو آخر کب تک پھیلےگی۔ ۔ کتنی وسعت ہو گی۔ ۔ہمیں سمجھ آرہی ہیں نا سٹیفن ہاکنگ کی باتیں۔ ۔ ایسا طرز تحریر کسی سائنسدان کا تو نہیں ہوتا نا۔ ۔

مہرین نےمجھےلا جواب کر دیا۔ ۔ اچھا جلدی سےپڑھو۔ ۔پھر مجھےبھی پڑھنی ہےیہ کتاب۔ ۔ ۔ہمارےلائبریری کارڈس اس بات مسکرائےہوں گے۔ ۔ ایک جیسی کتابوں کا اندراج لئےیہ لائبریری کارڈ سوچتےہوں گےکہ ایک جیسی سوچ رکھنےوالےانسانوں کو اپنی بقیہ زندگی ساتھ ہی گزارنی چاہئی۔ ۔شائد یونی ورسٹی والےبھی یہی سوچتےہوں۔ ۔ اور یقینا میں بھی یہی سوچتا ہوں گا مگر سٹیفن ہاکنگ شائد ایسا نہ سوچتا ہو۔ ۔وہ تو محبت کو بھی کائنات کی ایک سمت جان کر اسےکھوجنےکی کوشش کری،حالانکہ محبت کی کوئی سمت کوئی صورت نہیں ہوتی۔ ۔یہ سمےکا سکہ ہےجسےکوئی ہوا میں اچھالتا ہےاور پھر دو باتیں طےہو جاتی ہیں۔ ۔کسی کی جیت۔ ۔ اور کسی کی ہار۔ ۔

بزنس کا طالبعلم اور انگریزی ادب کی طالبہ کائنات کی تخلیق کےبارےمیں نہیں کھوج سکتے۔ ۔ ہمیں یہی سکھایا اور پڑھایا گیا تھا۔ ۔یہ کام سائنسدانوں کا تھا یا پھر مزہبی رہنمائوں کا۔ ۔اور لطف کی بات ہےکہ دونوں ہی ایک دوسرےکےشدت سےمخالف تھے۔ ۔اور ہم۔ ۔ مڈل کلاس میں پلنےوالےبونے۔ ۔ ہمیں الفاظ کی قیمت جان کر انھیں پڑھنےکا حکم تھا اور جس لفظ کی مارکیٹ میں قیمت کم ہوتی اس لفظ کو ہماری پہنچ سےدور ہی رکھا جاتا تھا۔ ۔آخر یہ مڈل کلاس کس سسٹم کی ایجاد تھی؟ ڈر کی چھت تلےسکون پانےوالےافراد کےگروہ کو کس نےتخلیق کیا تھا؟ خوف کےاسی جال تلےمیں کبھی یہ فیصلہ نہیں کر پایا کہ اپنےاندر کلبلاتےسوالوں کا جواب پانےکےلئےکون سا رستہ اختیار کروں۔ ۔مڈل کلاس کےعفریت نےمیرا ہاتھ پکڑا اور مجھےایک ہی رستہ دکھایا جس پر چلنےکی واحد وجہ دور چمکتےکچھ سکےتھے۔ ۔ وہ سکےجن سےمڈل کلاس طبقہ اپنےلئےعزت خرید تا ہے۔ ۔مہرین کےبارےمیں ایسا کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ و وہ مڈل کلاس سےنہیں بلکہ اشرافیہ سےتعلق رکھتی تھی۔ ۔ اس کےلئےانگریزی ادب پڑھنا کچھ اچھنبےکی بات نہیں تھی مگر حیرت انگیز طور پر اسےکائنات کےوجود سےاتنا ہی لگائو تھا جتنا مجھے۔ ۔شائد اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ ہمارےسروں پر نیلا آسمان تھا۔ ۔اور نیلا آسمان غریب۔ ۔ مڈل کلاس۔ ۔اپر مڈل کلاس اور اشرافیہ۔ ۔ان سب سےبالاتر ہوتا ہے۔ ۔ اور ہم دونوں کو ہی اس کی بالادستی بری طرح کھلتی تھی اور ہم بس اس منتر کی تلاش میں تھےجس کےجاپنےسےآسمان کےبیچ ایک رستہ سا بن جائےاور ہم اس کےپار جا کر کائنات کےراز جان سکیں۔ ۔۔

ایسےمنتر شائد داستان امیر حمزہ میں موجود ہوں مگر ہم تو عام سےانسان تھے۔ ۔ وہ عام انسان جن کےپاس اڑنےکےلئےجادئی قالین نہیں ہوتے۔ ہمارےپاس کتابیں ہوتی ہیں جو ہمارےتخیل کو وہ راکٹ فیول مہیاءکرتی ہیں جس کی بنیاد پر ہم پرواز کرنا سیکھتےہیں۔ ۔تخیل کی پرواز۔ ۔ جو شائد آسمانوں سےپرےجا کر کائنات کےراز چرا سکے۔ ۔کسی ایسی ہی کش مکش میں سٹیفن ہاکنگ بلیک ہول تک جا پہنچا اور اس کےلکھےہوئےالفاظ کا دامن تھامےمہرین کو بلیک ہول سےمحبت سی ہو گئی۔ ۔ کہتےہیں محبت میں بلا کی شدت ہو تو محبوب ایک دوسرےکی صورتوں میں ڈھل جاتےہیں۔ ۔ میں نہیں جانتا کہ یہ بات سچ ہےیا جھوٹ مگرجس روز مہرین کو بلیک ہولز سےمحبت ہوئی اسی روز سےمجھےمحسوس ہونےلگا کہ وہ میرےلئےایک بلیک ہول بنتی جا رہی ہے۔ ۔ اتنی کشش کہ میں اس کی ذات میں گروں اور پھر کبھی ابھر نہ سکوں۔ ۔

سپردگی کےاحساس نےمجھےیکا یک جگا دیا۔ ۔ کون پاگل ہےجو ہنسی خوشی خود کو بلیک ہول کےسپرد کر دےاور اپنا آپ گنواا ڈالے۔ ۔ کم از کم مجھ میں تو اتنی ہمت نہیں تھی۔ اس لیےمیں اس سےکترانےلگا۔ ۔

لائبریری جانےکےاوقات میں تبدیلی لانےکےبعد میں نےاس بنچ کا طواف بھی چھوڑ دیا جس پر بیٹھ کر یہ پیلےسویٹر اور سرخ سےبالوں والی لڑکی کائنات کےاندھیرےراز سےمحبت کر بیٹھی تھی۔

مجھ میں سپردگی کی ہمت نہیں تھی۔ ۔میں کوئی شاہ حسین کا بالک نہیں تھا نا مجھ میں بھلےشاہ جیسا جذب تھا۔ ۔میں تو ایک مڈل کلاس کا بونا تھا جس نےگلیوروں کی اس دنیا میں اپنی جگہ بنانی تھی۔ ۔اور جگہ بنانےسےمیرےذہن میں یہی آتاہےکہ اشرافیا کی کسی ہائوسنگ سوسائٹی میں جگہ بنا لی جائی۔ ۔

اسےمیری بےرخی کا احساس نہیں ہوا۔ ۔یا پھر وہ ایسےکسی بھی احساس سےماوراءہو چکی تھی۔ ۔بھلا بلیک ہول کو بےرخی کےجزبےسےآشکار کیا جا سکتا ہے؟ وہ تو ہر چیز کو اپنےدامن میں کھینچ لیتا ہے۔ ۔اسےبےرخی کےاحساس کی بھلا کیسےخبر ہو سکتی ہے۔ ؟ وہ اپنےمخصوص بنچ پر بیٹھی کائنات سےہم کلام تھی اور میں ان سرخ بالوں کےچنگل سےبچنےکےلئےسات کوس دور سےگزرا کرتا ۔ ۔ مگر سمےکا سکہ اچھالا جا چکا تھا ۔ کسی کی جیت اور کسی کی ہار طےتھی۔ ۔ ہم تو اس درمیانی کیفیت میں تھےجب یہ سکہ ہوا میں ہوتا ہےاور ہم جیت اور ہار سےماورا ہو کر فقط اس سکےکو پلٹتےہوئےدیکھ رہےہوتےہیں۔ ۔

کسی ایسےہی روز جب میں انٹرن شپ کےایک انٹرویو سےلوٹ رہا تھا ۔ میری اس سےملاقات ہو گئی۔ ۔

سنو۔ ۔ اس نےمجھےپکارا اور میرےپائوں جکڑےگئی۔ ۔ کیا وہ وقت آچکا تھا جب بلیک ہول مجھےپکارےگا اور میں چپ چاپ سب کچھ تیاگ کر اس کےچرنوں میں جا بیٹھوں گا۔ ۔ میرےاندر وقت کےمحافظ جاگ گئےاور میری گردن کی رگیں تن گئیں۔ ۔

کیسی ہو مہرین۔ ۔ کتنےدن ہوئےملاقات نہیں ہوئی۔ ۔ میرےمنہ سےوہ الفاظ نکلےجو نہیں نکلنےچاہئےتھی۔ میں کیوں اسےاحساس دلائوں کہ ہم کافی دن سےنہیں ملے۔ ۔مگر جیسا میں نےکہا۔ ۔وہ کسی بھی ایسےاحساس سےماورا ءتھی۔ ۔

ہاں واقعی۔ ۔ اس کی آوازمجھےکہیں دور سےآتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ۔ اور جبھی میری نظر اس کےہاتھوں کی گرفت میں پھنسی کتاب پر پڑی۔ اور میں چونک پڑا۔ ۔ وہ پگلی سٹیفن ہاکنگ کےسحر سےنکلی تو سیدھا اشفاق احمد کےمن چلےکا سودا پر جا گری۔ ۔

یہ کیا پڑھ رہی ہو مہرین۔ ۔ میں نےانگریزی ادب کی طالبہ کےہاتھ میں خالص اردو ادب کی کتاب دیکھی تو پوچھےبناءنہیں رہ سکا۔ ۔مگر وہ منہ سےذرا نہیں پھوٹی۔ ۔ بس میرا ہاتھ پکڑ لیا اور میں سر جھکائےایسےاس کےپیچھےچل پڑا جیسےپرانےدور میں لوگ پجاری کےتعاقب میں قربان گاہ کی جانب جاتےتھےاور انھی لوگوں میں وہ معصوم بچہ بھی شامل ہوتا جسےاس روز قربان ہونا ہوتا تھا ۔ ۔ کیا آج میری باری ہے؟ میں خود سےیہ سوال نہیں کر پایا۔ ۔

ہم اپنےمخصوص بنچ پر بیٹھ گئے۔ ۔بنچ کےسامنےایک طویل میدان تھا جہاں ترتیب سےدرخت اور پھول لگےہوئےتھی۔ ۔اس بنچےکےاطراف سےدو رویاءروش گزرتی تھی۔ ۔

سنو۔ ۔بلیک ہول نےایک بار مجھ مجھےپکارا۔ ۔اور پھر اس کی آنکھوں سےموٹےموٹےآنسوئوں کےچشمےجاری ہو گئی۔ ۔ پہاڑی علاقوں کی لڑکیاں جب روتی ہیں تو ان آنکھوں سےچشمےہی پھوٹتےہیں۔۔ ۔

مہرین۔ ۔ ۔ کیا ہوا ۔ ۔ پگلی لڑکی کیوں رو رہی ہو۔ ۔میں گڑبڑا گیا۔ ۔ ۔

مجھےسمجھ نہیں آتی۔ ۔وہ اپنےسویٹر کی آستین سےآنسو پونچھتی جا رہی تھی۔ ۔ کائنات کےراز یا تو سٹیفن ہاکنگ جیسےسائنسدان جان سکتےہیں۔۔ یا پھر اشفاق احمد جیسےصوفی۔ ۔ ہم تم جیسےکہاں جائیں۔ ۔ من چلےکا سودا میں بتائےگئےرستےپر چل پڑیں کیا۔ ۔ اور مجھےکافی پہلےپڑھی ہوئی یہ کتاب یاد آگئی جس پر ایک ڈرامہ بھی بنا تھا ۔ ۔ایک امیر سرمایہ دار کی کہانی جسےاپنےاندر کی تلاش نےجوگ لینےپر مجبور کردیا تھا اور وہ ہنستےکھیلتےایک پجاری کےتعاقب میں قربان گاہ کی جانب چل پڑا تھااور اور قربان ہو گیا تھا۔ ۔

نہیں مہرین۔۔ میں نےاس کےہاتھ سےکتاب چھینی۔ ۔یہ کتابیں یہ سائنس دان۔۔ یہ صوفی۔ ۔ ان کی راہیں الگ ہیں۔ ۔ہمارا ان سےکیا سرو کار۔ ۔ صوفی اور سائنس دان دونوں ہی اپنےاندر ایک بلیک ہول کو جنم دیتےہیں اور اسی میں گر کر فنا ہو جاتےہیں۔ ۔

فنا۔ ۔ ۔ اس نےاپنی روتی ہوئی آنکھوں کےپردےسےمیری جانب دیکھا۔ ۔ خدا نہ کرےکوئی لڑکی روتےہوئےاچانک سر اٹھا کر آپ کی جانب دیکھے۔ ۔ سمےکا سکہ اپنی اوج پر پہنچ چکا تھا اور اب اسےپستی کا سفر طےکرنا تھا مگر ابھی ہم پر وہ لمحہ گزر رہا تھا جب سمےکا سکہ اپنی اوج پر پہنچ کر ساکت تھا۔ ۔

اس کی آنکھوں میں کاجل اورا نسوئوں کا ستو گھلا ہوا تھا۔ ۔وہ مقدس پانی جس کی ایک ایک بوند امرت ہوتی ہےاور جسےپجاری قربانی سےپہلےقربان گاہ پر چھڑکتا ہے۔ ۔

فنا ہی تو اصل ہے۔ ۔ بلیک ہول کا دل فنا کی مٹی سےہی تو گندھا ہے۔ ۔ فنا ہی تو ٹائم ٹریول کی ابتداءہے۔ اس سےپہلےتو ایسا کوئی دروازہ نہیں کھلتا۔ ۔ مہرین جانےکیا اناپ شناپ بول رہی تھی مگر میری ذات اس بلیک ہول کےدائرہ کشش میں داخل ہو رہی تھی۔ ۔ میں اس حد پر تھا جس سےایک درجہ ادھر ہوتا تو سیدھا بلیک ہول کےاندر جا گرتا۔ ۔ مگر میرےمحافظ جاگ رہےتھےجبھی میں بول پڑا۔ ۔

فنا تو انتہاءہےمہرین۔ ۔ اس سےپرےتو کچھ بھی نہیں۔ ۔

ارےنہیں۔ ۔ ۔ اس نےمیرےہاتھ پر ہاتھ مار کر مجھےچپ کر وا دیا۔ ۔ اس کےآنسو اب آنکھوں کےمسکن میں واپس لوٹ رہےتھےاور آنکھوں کی پتلی تلےاس چشمےکی ہلکی سی لکیریں باقی رہ گئی تھی جس کا پانی یکا یک سوکھ گیا ہو۔

فنا ءابتداءہے۔ ۔ یہی تو دروازہ ہےجس کےپرےکوئی ماضی ، حال یا مستقبل نہیں۔ ۔جہاں وقت فقط ایک سمت ہے۔ ۔

تم سٹیفن ہاکنگ سےاشفاق احمد تک کیسےپہنچ گئی۔ ۔ میں نےموضوع تبدیل کرنےکی کوشش کی۔ ۔

کیوں کہ سٹیفن ہاکنگ یہاں تک نہیں پہنچ سکا۔ ۔ اس کا ہر جواب مجھےلاجواب کر دیتا تھا۔ ۔

وہ بلیک ہول تک پہنچ گیا اور اسےرستےمیں کہیں خدا نظر نہیں آیا۔ ۔ مہرین نےسوالوں کی ایک اور گرہ باندھی اور میں بےبس ہو گیا۔ ۔ پتہ نہیں۔ ۔ میں کمزور سےلہجےمیں بولا۔ ۔

اسےکائنات کھانےوالا بلیک ہول نظر آگیا۔ ۔اسےکائنات بنانےوالا نظر نہیں آیا۔۔ایسا کیوں؟

مہرین خود ہی سوال کر کےاس کا جواب دینےمیں مشغول تھی۔ ۔ اس ماں کی طرح جس کےاکلوتےبیٹےکی بلی چڑھائی جا رہی ہو اور ودل ہی دل میں خود کو مطمئن کرنےکی کوشش کر رہی ہو۔ ۔

اس لئےکہ اس امر کا فیصلہ کوئی اور کرتا ہےکہ کس نےکس قدر جاننا ہے۔ ۔اور کس قدر بیان کرنا ہے۔ ۔میں سمجھتی ہوں کہ بلیک ہول کےرستےمیں سٹیفن ہاکنگ کو خدا ضرور ملا ہو گا مگر سٹیفن ہاکنگ اپنی کم آئگی کا اعتراف کرتےہوئےرستہ چھوڑ کر کھڑا ہو گیا ہو گا۔ ۔ اسےمعلوم ہو گیا تھا کہ کوئی علم خدا کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ ۔چناچہ یا تو علم وجود نہیں رکھتا۔ ۔یا خدا وجود نہیں رکھتا۔ ۔اور اس نےدوسری بات پر یقین کیا اور آگےبڑھ گیا۔ ۔

مگر میں آگےنہیں بڑھ سکی۔ ۔ مہرین نےشکست خوردہ الفاظ میں اقرار کیا۔ ۔ میں واپس پلٹ آئی اور اب ایک نیا رستہ چن رہی ہوں۔ ۔ اس نےاشفاق احمد کےمن چلےکا سودا کو دونوں ہاتھوں سےتھاما اور بنچ سےاٹھ کر چلی گئی۔ ۔

میں نہیں اٹھ سکا۔ ۔ پتہ نہیں کتنا وقت اس بنچ پر بتانےکےباوجود میں فیصلہ نہیں کر پایا کہ آخر وہ کیا عوامل تھےجنہوں نےمہرین کا رخ بدل دیا اور بلیک ہول اپنی ہیت بدلنےکےلئےخود فناءکی سفید چادر اوڑھنےکو تیار ہو گیا۔ ۔

مہرین کےآنسوئوں میں بھیگنےکےبعد میرےلئےاکیلےپرواز کرنا نا ممکن تھا۔ ۔ میری قربان گاہ کا تعین ہو چکا تھا مگر مہرین کےدل میں جانےکیا سمائی کہ اس نےاپنی سمت ہی بدل لی۔ ۔پہلی بار بلیک ہول نےکسی کو اپنےاثر سےآزاد ہونےکی نوید سنا دی اور خود کہیں خلاءکی وسعتوں میں گم ہو گیا۔ ۔

مہرین اس دن کےبعد لوٹ کر نہیں آئی۔ ۔ یونیورسٹی سےناطہ توڑنےکےبعد اس نےمجھ تک جانےوالےہر رستےپر رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ ۔ فون خط۔ ۔ اس کےگھر کی بجنےوالی ہر گھنٹی کی آواز لوٹ کر مجھ تک آتی اور مجھےایک ہی پیغام سناتی کہ اگر بلیک ہول کسی سےناطہ توڑ لےتو پھر اس کی سمت جانےوالا ہر رستہ بند ہو جاتا ہے اور کوئی سمت یا جہت باقی نہیں رہتی۔

میں نےبھی بےیقینی کی اسی کیفیت میں یونیورسٹی ختم کی اور نوکری پر لگ گیا۔ ۔ وقت گزرنےکا علم ہمیں کب ہوتا ہے۔ ۔گزری ہوئی سانسوں کا حساب خدا کےسوا کون رکھ سکتا ہے۔ ۔مگر کبھی رات کو اندھیرےکالےآسمان کو دیکھتےہوئےمجھےخیال آتا کہ آخر بلیک ہول کا رخ کس چیز نےبدل دیا۔ ۔

مجھےلگا کہ سمےکا سکہ زمین پر گر چکا ہےاور میری ہار یقینی ہو چکی ہےمگر میں مجھےابھی تک اس کی جیت نظر نہیں آئی تھی اس لئےمجھےاپنی ہار پر شبہ ہی رہتا تھا۔ وہ کہیں نہیں تھی۔ ۔دس سال بیت چکےتھےاور میں اپنی زندگی میں کافی آگےبڑھ چکا تھا۔ ۔مگر مجھےابھی بھی اس کی جیت کا انتظار تھا جبھی میں اس پرانےفون نمبر کو روز رات کو ڈائل کرتا اور جواب نہ پا کر انٹر نیٹ پر اسےتلاش کرنےلگ جاتا۔ ۔ وہ کہیں نہیں تھی۔۔ مگر وہ ہر جگہ تھی۔ ۔ وہ ہر اس شہر میں تھی جہاں میں اس سےبھاگ کر یا اس کی تلاش میں گیا۔ ۔ اور پھر مجھےوہ پیغام مل ہی گیا جس کےملنےکی خواہش مجھےکبھی نہیں تھی۔ ۔

میں نےگاڑی موڑی اور اپنی یونی ورسٹی کی پارکنگ میں پارک کرنےکےبعد مین گیٹ پر آیا۔ اپنا سابقہ طالبعلم کارڈ دکھانےکےبعد مجھےاندر جانےکی اجازت مل گئی۔ ۔کتنا کچھ بدل گیا تھا۔ ۔دو رویا روش نئی ٹائلوں سےمزین تھی۔ ۔ لان جدید طرز میں تراشا ہوا تھا۔ ۔مگر وہ بنچ مجھےویسا ہی لگا۔ ۔ اس کی لکڑی میں آج بھی وہی خوشبو بسی تھی۔ ۔وہ آج بھی خالی تھا۔ ۔میں دھیمےقدموں سےاس کی جانب بڑھا اور بنچ کےقریب آکر رک گیا۔ ۔ وہ ہمیشہ مجھ سےپہلےاس بنچ پر موجود ہوتی تھی۔ ۔ پھر آج کیوں نہیں۔ ۔

پھر مجھےلگا وہ آرہی ہے۔ ۔ دور لائبریری کی طرف سی۔ ۔اس کےقدم زمین پر پڑتےمحسوس نہیں ہوتےتھے۔ ۔ وہ میری جانب بڑھی اور میرےساتھ آکر بیٹھ گئی۔ ۔

بہت دیر کر دی مہرباں آتےآتے۔ ۔ میں نےمسکرا کر اس کی جانب دیکھا جس کےایک ہاتھ میں من چلےکا سودا تھا اور دوسرےہاتھ میںThe brief history of time تھی۔ ۔اور وہ خود ان دو کتابوں کےبیچ ایک پہیلی کی مانند میرے پہلو میں موجود تھی۔ ۔ ۔

دس سالوں نےاس پر کوئی خاص اثر نہیں چھوڑا تھا۔ ۔ اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی۔ جان لینےکی کھوج اور مان لینےکےاطمینان والی چمک۔ ۔ ہاں اس کی آنکھوں کےگرد ہلکےسےمحسوس ہوئی۔ ۔سیاہ دائروں کےبیچ روشن سی آنکھیں۔ ۔آج اس نےاپنا پسندیدہ پیلا سویٹر نہیں پہنا تھا۔ ۔شائد اب اس کی پسند بدل گئی ہو۔

میں خاموشی سےاس کی جانب دیکھ رہا تھا اور وہ اپنےہاتھوں میں موجود دونوں کتابوں کی جانب نظریں مرکوز کیےبیٹھی تھی۔ ۔ پھر اس نےنظریں اٹھائیں اور میری جانب دیکھا۔ ۔مجھےدس سال پہلےاس کی آنسوئوں اور کاجل کی آمیزش والی نگاہیں یاد آگئیں جن کےساتھ میں بہہ نکلا تھا۔ ۔مگر آج یہ آنکھیں خشک تھیں۔ ۔ آنسوئوں کا شائبہ تک نہ تھا۔ ۔

پھر خاموشی ٹوٹ گئی۔ ۔ وہ دس سال بعد محض خاموش بیٹھنےکےلئےتو نہیں ملی تھی ۔ ۔

تمہیں یاد ہےنا ہم بلیک ہولز کی دریافت پر کس قدر خوش تھے؟۔ ۔ اس نےسوال کیا یہ ایک پرانی یاد پر سےگرد جھاڑی۔ ۔ میں بس اس کی جانب دیکھتا رہا۔ ۔ ایک مرتےہوئےستارےکی فناءکا منظر۔ ۔ فناءتو منظر کو پس منظر سےملا کر پردےسےغائب کر دینےکا نام ہے۔ ۔پھر بھلا یہ بلیک ہول اپنی بےپناہ کشش کےساتھ فناہ کو چکما دےکر اپنےوجود کی سیا ہی کو کیسےبچا پاتےہیں۔ ۔ان میں اتنی کشش کیسےآجاتی ہےکہ ان کےحصار سےروشنی بھی بچ کر نہیں نکل سکتی۔ ۔

میں انھی سوالوں کی کھوج میں تھی ۔ ۔ ۔ ارب کھرب ستاروں میں یہ خاصیت چند ہزار یا چند لاکھ ستاروں کےحصےمیں ہی کیوں آتی ہے۔ ۔جیسےارب کھرب انسانوں کےبیچ چند ہزار یا لاکھ انسانوں کو سرفراز کر کہ پیغمبری عطا کی جاتی ہے۔ ۔ اور ایسےہی چند ہزار یا لاکھ انسانوں کو نافرمانی کی اوج عطا کی جاتی ہے۔ ۔

اس بات کا جواب مجھےمن چلےکا سودا سےمعلوم ہوئی۔ ۔اس نےاپنےدائیں ہاتھ میں تھامی ہوئی کتاب کی جانب دیکھا ۔ ۔ فناءایک ایسی حقیقت ہےجس سےکائنات کی ہر چیز دور بھاگتی ہے۔ ۔اور پھر چند ستارےاور چند معدودےانسان ایسےبھی ہوتےہیں جو اپنی بقاءکا رستہ فنا کےرستےپر چل کر ڈھونڈتےہیں۔ ۔فناءاپنی جانب بڑھتےقدم دیکھ کر خائف ہو جانےوالوں میں سےہے۔ ۔جیسےایک جادوگر اپنےجادوئی ٹرک کےوقت کسی کو اپنےقریب آتےدیکھ کر خائف ہو جاتا ہےکہ کہیں قریب آنےوالےشخص کو احساس نہ ہو جائےکہ فناءتو محض ایک دھوکہ ہے۔ ۔اصل زندگی تو فناءکےبعد شروع ہوتی ہے۔ ۔

مہرین۔ ۔ سائنس جانتی ہےکہ چند ایک ستارےہی کیوں بلیک ہول بنتےہیں۔ ۔ سائنس ستاروں کی موت کا علم جانتی ہے۔ ۔ اس اصول کو انسانوں پر لاگو نہ کرو۔ ۔میں نےاسےہمیشہ کی طرح نصیحت کی۔ ۔

مگر وہ میری بات سن ہی نہیں رہی تھی۔ ۔ وہ بولتی رہی۔ ۔

دکھ۔ ۔ ۔وہ پہلا رستہ ہےجس سےخدا نےخود انسان کو متعارف کروایا۔ ۔ ۔دکھ ہی تو فناءکا رستہ ہے۔ ۔ دکھ کی کیفیت ہر انسان پر آتی ہے۔ ۔ جیسےوقت پورا ہونےپر موت ہر ستارےکا مقدر ہے۔ ۔ مگر کچھ انسان اور کچھ ستارےوقت پورا ہونےسےپہلےہی دکھ کا رستہ ڈھونڈ لیتےہیں۔ ۔ آب حیات پا لیتےہیں۔ ۔ پھر ان پر فناءکا دروازہ کھل جاتا ہے۔ ۔ ایک نیا جنم۔ ۔ایک نئی کشش کےساتھ۔۔

کیسا دکھ مہرین۔ ۔ ہر دکھ کا مداوا ممکن ہے۔ ۔

نہیں۔ ۔ ۔اس نےعادتا میرےہاتھ پر ہاتھ مار کر مجھےچپ کروایا۔ ۔ کتاب پکڑےہوئےوہ ہاتھ اس قدر ٹھنڈا تھا کہ میں کانپ اٹھا۔ ۔

خودی کےدکھ کا مداوا ممکن نہیں۔ ۔ خودی کا دکھ؟ میرا سوال بجا تھا۔ ۔

ہاں خودی کا دکھ۔ ۔اس رب کو نا جان سکنےکا دکھ جو آپ کی شہہ رگ کےپاس ہے۔ ۔

مگر مہرین خدا انسانوں کےعلم کےاحاطےمیں نہیں آتا۔ ۔اس کی تلاش فضول ہی۔ ۔مان لو کےیا تو وہ ہر جگہ ہی۔ ۔یا کہیں نہیں ہے۔ ۔

یہاں۔ ۔ مہرین نےعین میرےدل کےمقام ہر ہاتھ رکھا۔ ۔ جب میں چلی گئی تو کیا یہاں ایک گھائو۔ ۔ایک سوراخ سا نہیں ہو گیا۔ ۔ مجھےاتنےڈائریکٹ سوال کی توقع نہیں تھی۔ ۔

میرا سر جھک گیا۔ ۔ وہ سارا درد میری آنکھوں کےرستےامڈ امڈ کر باہر آنےلگا۔ ۔

میں نےتمھیں بہت ڈھونڈا۔ ۔ بہت تلاشا۔ ۔ مگر تم کہیں نہیں ملی۔ ۔ یونیورسٹی میں کسی کو تمھارا علم نہیں تھا۔ ۔ تمھاری جدائی کا زخم میرےاندر کسی کینسر کی طرح بڑھتا گیا۔ ۔اور پھر ایسا وقت آیا جیسےاس زخم کا وجود اتنا بڑا ہو گیا کہ ہر غم ہیچ لگنےلگا۔ ۔ غم کا یہ گڑھا اتنا بڑا ہو گیا کہ اس میں تمام دنیا کےدکھ بھی سما جائیں تو یہ نہ بھرے۔

پھر کیا ہوا؟ اس نےاس انداز میں سوال کیا جیسےاسےجواب پہلےسےمعلوم ہو۔ ۔

پھر میری ذات کےحصوں نےاس غم کےبلیک ہول کو بھرنا شروع کیا۔ ۔پہلےپہل میرےآنسو اس گڑھےمیں گرےاور میری آنکھیں ویران ہو گئیں۔ ۔

مجھےرونا بھول گیا تھا مہرین۔ ۔ ۔آنسوئوں کےبعد جزبات کی باری آئی اور میں کسی پجاری کی طرح اپنےجزبات کو ایک ایک کر کےاس بلیک ہول کو بھرنےکی کوشش کرنےلگا جو میرےدل کےعین وسط میں پیدا ہو گیا تھا۔ ۔ میں نےسب قربان کر دیا۔ ۔ اپنا آپ ۔ ۔اپنی خودی۔ ۔اپنا وجود۔ ۔ مجھےاپنےوجود کی سیاہی کےگرد ایک ہالہ سا بنا ہوا محسوس ہوتا تھا۔ ۔ میں نےاسےتمھاری روح کا نام دیا۔ ۔ تمھارےبچھڑنےنےمجھےایک بلیک ہول میں بدل دیا مگر تمھاری یاد اس بلیک ہول کی دسترس سےباہر ہی رہی۔ ۔ وہ تمھاری روح کی مانند ایک ہالہ بنائےاس بلیک ہول کا طواف کیا کرتی ہے۔ ۔ مہرین یہ کیا ہو گیا میرےساتھ۔ ۔ تم تو غم کو فناءکا رستہ گردانتی ہو۔ ۔مگر تم سےبچھڑنےکےغم ہی مجھےفناءنہیں ہونےدیتا۔ ۔

مجھ سےبچھڑنےکا غم تمھیں فناءنہیں ہونےدیتا یا مجھ سےملنےکی ایک موہوم سی امید تمھیں اپنےبنائےہوئےاس بلیک ہول میں گرنےسےروکےہوئےہے۔ ۔

امید۔ ۔ اس کےسوال نےجیسےساری گتھی ہی سلجھا دی۔ ۔ میں نےچونک کر اس کی جانب دیکھا۔ ۔

فناءکےدریا پر بنےامید کےپل توڑ ڈالو اور اس دریا کےدھارےمیں بہہ نکلو۔ ۔ کیا خبر کسی موڑ پر میں تمھاری ہمراہی ہوں۔ ۔فناءتو ایک ابتداءہےجس کےبعد بقاءلازم ہو جاتی ہے۔۔ مگر فناءسےچند لمحےقبل ہم اس مقام پر پہنچتےہیں جہاں سمےکا سکہ ہوا میں معلق ہوتا ہے۔ ۔ اس سمےماضی حال اور مستقبل ہاتھ باندھےہمارےسامنےکھڑےہوتےہیں۔ ۔ ہم شائد اسی مقام پر ہیں۔ ۔

سمےکا سکہ ہوا میں معلق تھا۔ ۔ہم ماضی حال یا مستقبل کسی ایک حالت میں ایک دوسرےسےملےتھے۔ ۔ مگر اس سکےکےنیچےآنےکا سمےبھی آن پہنچا تھا اور جوں ہی ایسا ہوا۔ ۔ منظر تحلیل ہوا اور میں جیسےایک خواب سےبیدار ہوا۔ ۔

موبائل زمین پر گر چکا تھا۔ ۔میں نےہاتھ بڑھا کر اسےاٹھایا تو اس پر ایک میسیج جگمگا رہا تھا۔ ۔ میں نےکہا تھا کہ فناءایک ابتداءہے۔ بلکل بلیک ہول کی طرح کی فناءجس کےبعد بقاءلازم ہو جاتی ہے۔ ۔ میں نےگم سم انداز میں اپنےلیپ ٹاپ کی جانب دیکھا تو breaking news کےفلیش کےساتھ ایک خبر جگمگا رہی تھی۔ ۔ سائنسدان پہلی بار بلیک ہول کی تصویر لینےمیں کامیاب۔۔میں نےلیپ ٹاپ پر ایک سٹکی نوٹ لگایا اور دوسرےشہر میں موجود اس بنچ کی جانب روانہ ہو گیا جہاں فناءمیرا انتظار کر رہی تھی۔ ۔پچھلےدس سال سی۔ ۔ ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے