سر ورق / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ سید انور فراز قسط نمبر 56

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ سید انور فراز قسط نمبر 56

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ

سید انور فراز

قسط نمبر 56

لکھنے پڑھنے کے علاوہ اب ہماری پسندیدہ تفریح پرانے دوستوں سے ملاقات اور گپ شپ ہے، گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی نومبر میں پہلے لاہور اور پھر راولپنڈی گئے، اس بار غلطی یہ ہوئی کہ روانگی کراچی ایکسپریس سے رکھ لی، اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم نے سنا تھا کہ بعض ٹرینوں میں اسپیشل بوگیاں اور ان میں مخصوص ”کوپے“ بڑے آرام دہ اور پرسکون ہوتے ہیں ، ایک کوپے میں دو افراد باآسانی سفر کرسکتے ہیں، البتہ یہ کوپے آسانی سے بک نہیں ہوتے، ہم نے اپنے محترم بھائی چیف ایڈیٹر ماہنامہ آئینہ ءقسمت اور زنجانی جنتری جناب سید انتظار حسین شاہ زنجانی سے فرمائش کی کہ آپ یہ کوپا بک کرادیں تو ہم لاہور آنے کے لیے تیار ہیں۔

 شاہ جی ہم سے بڑی محبت کرتے ہیں اور ہماری کوئی بھی فرمائش رد نہیں کرتے، ایک ماہ قبل ہی انھوں نے یہ کام کردیا، اب جانا ضروری ہوگیا تھا ورنہ ہم ارادے باندھ رہے تھے اور توڑ رہے تھے، روانگی سے 15 روز قبل اچانک ملیریا بخار حملہ آور ہوا جس نے خاصا کمزور کردیا، اگر بکنگ نہ ہوتی تو شاید پروگرام ملتوی کردیا جاتا لیکن الحمد اللہ ہومیوپیتھی کے کمالات نے چند ہی روز میں صحت بہتر کردی۔

14 نومبر کو شام ساڑھے چار بجے ٹرین کی روانگی تھی جو لیٹ ہوگئی، شاید ساڑھے پانچ بجے کراچی سے روانہ ہوئی، ابتدا میں ہمیں یہ کوپے کا ماحول بہت پسند آیا لیکن جوں جوں سفر دراز ہوا تو ہمیں اندازہ ہوا کہ ہاتھی کے دانت والا محاورہ درست ہے، اس قدر کھٹارا ڈبّے اور شاید پٹڑیاں بھی کچھ ایسی کہ بوگی کی اچھل کود مسلسل جاری،خیال تھا کہ رات آرام سے سوکر گزاریں گے لیکن سیٹ پر لیٹنے کے بعد جب آپ کو مسلسل اچھلنا پڑے تو نیند کا کیا سوال، ثابت ہوا کہ پاکستان ریلوے اس قابل نہیں ہے جس میں پرسکون اور آرام دہ سفر ممکن ہوسکے، دوسرے روز تقریباً ایک بجے لاہور پہنچے اور اس دوران میں ایک لمحے کے لیے بھی سو نہ سکے، سخت بے آرامی کا شکار رہے۔

لاہور میں ہمارا قیام گلبرگ ”کاشانہ ءزنجانی“ میں رہتا ہے، ہم نے ڈاکٹر سہیل عمر کو اپنی آمد کی خبر دی اور انھوں نے حضرت احمد جاوید کو اطلاع دی اور پھر ہمیں فون کیا کہ آج رات کے کھانے پر جاوید صاحب کی طرف چلنا ہے لیکن ہم اتنے تھکے ہوئے تھے کہ معذرت کرلی اور پھر یہ پروگرام اتوار پر چلا گیا۔

لاہور میں اس بار ایک دوسرا اہم پروگرام عزیزم طاہر جاوید مغل کے گھر پر یلغار کا تھا اور اس حوالے سے بھائی امجد جاوید بھی خصوصی تیاری کے ساتھ لاہور پہنچ رہے تھے، مزید ہم نے برادرم محمد عامر ہاشم خاکوانی کو بھی مدعو کرلیا تھا، سید بدر سعید اور عقیل انجم پہلے روز ہی رات میں ہم سے ملنے آگئے تھے اور ان کے ہمراہ رات تقریباً ایک ڈیڑھ بجے تک بڑی دلچسپ نشست رہی، انھیں بھی ہم نے طاہر کے گھر پر یلغار میں شامل کرلیا۔

1992 ءمیں جب پہلی بار ہم لاہور پہنچے اور طاہر جاوید کے گھر پر قیام کیا تو وہاں پہلی بار ہی سرسوں کے ساگ کا ذائقہ ہمیں معلوم ہوا اس سے پہلے ہم نے کبھی یہ ساگ پنجاب کے روایتی انداز میں نہیں کھایا تھا، طاہر کی بیگم بہت اچھے کھانے بناتی ہیں، اس کے بعد سے ہم جب بھی لاہور جاتے اور خاص طور سے نومبر دسمبر میں تو طاہر سے اس ساگ کی فرمائش ضرور کرتے، اس بار بھی یہ ڈش سرفہرست تھی۔

اتوار کے روز ہم جاوید صاحب سے ملنے ان کے گھر پہنچے تو معلوم ہوا کہ وہ دفتر میں ہیں، سہیل عمر ہمارے رہنما تھے، ہمیں ان کے دفتر لے گئے تو معلوم ہوا کہ انھوں نے دفتر تبدیل کرلیا ہے، بہر حال فون کے ذریعے نئے دفتر کا پتا لیا گیا اور پھر ہم وہاں پہنچ گئے، اتفاق سے جناب آصف اسلم فرخی بھی وہاں موجود تھے، جاوید نے ہم سے پوچھا ”انھیں پہچانتے ہو؟“

اگر ہم نے ان کی تازہ تصاویر اخبارات و فیس بک وغیرہ پر نہ دیکھی ہوتیں تو شاید ہر گز نہ پہچانتے کیوں کہ برسوں پہلے جب ہماری ان سے انور سن رائے کے پرانے ناظم آباد والے گھر پر ایک دو ملاقاتیں ہوئی تھیں تو اس وقت وہ نوجوان تھے، اب وہ ملاقاتیں انھیں شاید یاد بھی نہ تھیں، تھوڑی ہی دیر میں انھیں فوری طور پر کراچی کے لیے فلائٹ پکڑنا تھی لہٰذا وہ روانہ ہوگئے اور اس کے بعد ہماری گفتگو شروع ہوئی ، جاوید صاحب پر گزشتہ اقساط میں ہم نے جو کچھ لکھا وہ ان تک پہنچ گیا تھا جس پر انھوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا، البتہ ہم نے ہی اس موضوع کو چھیڑا تو انھوں نے مختصراً بعض باتوں کا جواب دیا، اسی دوران میں منظر امام کا ذکر آیا تو ہم نے شکایات کی کہ یہ بندہ لاپتا ہے،ہمارے پاس اس کا فون نمبر تک نہیں ہے،نہ ہی یہ خود کوئی رابطہ کرتا ہے، جاوید نے اسی وقت منظر کا نمبر ملایا اور ان کا حال احوال پوچھا پھر فون ہمیں دے دیا اور کہا ”یہ ایک صاحب تم سے بات کرنا چاہتے ہیں“

ہمیں حیرت ہوئی جب منظر نے فوراً ہی ہماری آواز پہچان لی اس کے بعد شکوے شکایات بھی ہوئے اور طے ہوا کہ آئندہ کسی اتوار کو ہم ان کی طرف جائیں گے،ہم نے ان سے کہا کہ آپ کا نمبر ہم جاوید سے لے لیں گے لیکن ہمیں ان کا نمبرلینا یاد نہ رہا۔

گفتگو کے دوران میں جاوید نے ایک عجیب انکشاف کیا ، انھوں نے کہا کہ منظر امام تو مجھ سے بھی دس سال بڑے ہیں، ہم بڑے حیران ہوئے، ہم تو سمجھتے تھے کہ وہ تقریباً جاوید ہی کے ہم عمر ہوں گے لیکن جاوید بضد تھے کہ وہ ان سے کم سے کم دس سال بڑے ہیں اس کا مطلب یہ ہوا کہ منظر امام تقریباً 74,75 برس کے ہوچکے ہیں اور ہم سے بھی عمر میں بڑے ہیں، بہر حال بہت سی پرانی باتیں دہرائی گئیں، بہت سے لوگ گفتگو کا موضوع رہے، یقیناً ہمارے لیے وہ ایک بہت ہی پُرلطف نشست رہی ۔

پیر کے روز ہم طاہر جاوید مغل کے گھر پہنچے تو امجد جاوید ہم سے پہلے پہنچ چکے تھے ، عامر ہاشم خاکوانی اور بدر سعید کا انتظار تھا ، آخر کار یہ دونوں بھی پہنچ گئے اور اس کے بعد گرمی ¿ گفتار عروج پر پہنچ گئی، ادب ڈائجسٹ، سیاست ، ایسٹرولوجی کون سا موضوع تھا جو زیر بحث نہیں آیا، یہ محبتوں سے بھرپور نشست رات تقریباً گیارہ بجے تک جاری رہی، امجد صاحب کو اسی وقت لاہور سے واپسی کے سفر پر روانگی کی جلدی تھی، اس نشست کی تصویری یادیں ہم محفوظ نہیں کرسکے البتہ بھائی امجد ، بدر سعید اور عامر خاکوانی نے بہت سی تصاویر محفوظ کرلیں تھیں۔

٭٭

19 نومبر کو ہم پنڈی کے لیے روانہ ہوئے اور وہاں بھی کاشانہ ءزنجانی راولپنڈی میں قیام رہا، اس بار جناب اعجاز نواب سے ملاقات ضروری تھی، ہم نے وعدہ کیا تھا کہ جب بھی راولپنڈی آئیں گے آپ سے بھی ملاقات رہے گی، اعجاز صاحب سے ہماری یہ پہلی ملاقات تھی لیکن بقول اعجاز صاحب دوسری جو ہماری یاد داشت میں نہ تھی، شاید برسوں پہلے وہ کراچی آئے تھے اور جاسوسی ڈائجسٹ کے دفتر میں ایک سرسری سی ملاقات ہوئی تھی۔

اعجاز صاحب مصنف بھی ہیں، پبلشر بھی اور راولپنڈی میں ان کا بک اسٹال بھی ہے،کتابوں اور رسالوں سے ان کا تعلق بہت پرانا ہے، ہم اشرف بک ڈپو پر پہنچے تو وہ وہاں موجود نہیں تھے، معلوم ہوا کہ تھوڑے ہی فاصلے پر ان کا علیحدہ دفتر ہے،ایک صاحب کی رہنمائی میں ان کے دفتر پہنچے اور پھر دیر تک خوب باتیں ہوئیں، شاید اعجاز صاحب بھی ہمارے حوالے سے زیادہ واقفیت نہیں رکھتے تھے، چناں چہ انھوں نے باقاعدہ ہمارا تفصیلی انٹرویو کیا، اس کے بعد ازراہ محبت اپنی تین کتابیں بھی ہمیں پیش کیں،جن میں سے ایک طویل ترین ناول ناگن بھی ہے اسے دیکھ کر ہی ہمارے ہوش اڑگئے، اب اتنے طویل ناول پڑھنے کی ہمت نہیں رہی ہے ، ہماری بیٹی اس نوعیت کی کہانیاں پڑھنے کی شوقین ہیں، وہ اس ناول کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی ، باقی دو کتابیں ان شاءاللہ ہم ضرور پڑھیں گے، قصہ مختصر یہ کہ اعجاز صاحب سے یہ ملاقات محبت اور خلوص کا ایک نیا رشتہ استوار کرنے کا سبب بنی اور اب یہ طے ہوگیا کہ آئندہ اگر راولپنڈی جانا ہوگا تو اعجاز صاحب بھی ہمارے ملاقاتیوں کی فہرست میں شامل رہیں گے۔

جملہ اسباب جہاں پر ہے تغیر حاوی

اک محبت ہے کہ ہر وقت جواں رہتی ہے

کچھ شخصیات اس طرح دل میں گھر کرلیتی ہیں کہ پھر ان کی یاد زندگی بھر رلاتی رہتی ہیں،ہمارے برادرِ بزرگ احمد صغیر صدیقی بھی انہی لوگوںمیں شامل ہیں، ان کے انتقال پر ہم نے ایک تعارفی مضمون لکھا تھا جو اردو لکھاری ڈاٹ کام پر بھی موجود ہے لیکن اس مضمون کو ہم اپنی یاد داشتوں کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، ممکن ہے اس وقت بہت سے لوگوں نے نہ پڑھا ہو یا ان کی نظر سے نہ گزرا ہو، ہماری یادداشتوں میں شامل ہوکر ہماری آنے والی کتاب کا حصہ بھی بن جائے گا، صدیقی صاحب کیا تھے اور کیسے تھے ؟ آئیے دیکھتے ہیں۔

پاک طینت ، صاف دل

یہ کیا ضرور کہ ہر شام اپنے گھر جاو ¿

جدھر کبھی نہ گئے ہو، کبھی اُدھر جاو ¿

بظاہر کڑوے لوگ اندر سے بہت میٹھے ہوتے ہیں، اس حقیقت کا احساس ہمیں اس وقت ہوا جب احمد صغیر صدیقی سے مراسم استوار ہوئے،صدیقی صاحب بہت لیے دیے، الگ تھلگ رہنے والے انسان تھے،ان کے مزاج میں انانیت کا عنصر بہت نمایاں اور گہرا تھا، کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے،ایک بار اگر کسی سے بھڑک گئے تو عمر بھر کے لیے تعلق ختم، زندگی اور ادب کے بارے میں اپنے مخصوص نظریات رکھتے تھے جن پر کوئی سمجھوتا کبھی نہیں کیا لیکن جب کسی سے دل مل جاتا تو اسے بہت سی رعایتیں بھی دیتے اور اس پر عنایات بھی کرتے،شاید ہم ان چند خوش نصیبوں میں سے ایک تھے جن پر انہوں نے عنایات بھی کیں اور ہمیں بعض معاملات میں رعایات بھی دیں، ہماری باتوں کا کبھی برا نہ منایا، ایک بار کسی بات پر چڑ کر ہم نے میر تقی میر کا ایک شعر ان پر چسپاں کردیا

ایسی بھی بد دماغی، ہر لحظہ میر کیسی

اُلجھاو ¿ ہے زمیں سے، جھگڑا ہے آسماں سے

شعر سن کر مسکرائے اور کہا ” جواب میر ہی کی زبان میں سن لیجیے

عہدے نشاط دیکھا، بارِ الم اُٹھایا

آئے نہیں ہیں یوں ہی انداز بے حسی کے

ہم انہیں اکثر دفتر جاسوسی ڈائجسٹ میں آتے جاتے دیکھا کرتے تھے، ہمارے ایک کلیگ نے اشارے سے بتایا کہ یہ مشہور شاعر اور مترجم احمد صغیر صدیقی ہیں،ہم نے ان کی کہانیاں عالمی ڈائجسٹ اور سب رنگ میں پڑھی تھیں، پہلی بار ہم نے انہیں جاسوسی ڈائجسٹ کے دفتر ہی میں دیکھا، وہ عام طور سے ایڈیٹر جاسوسی ڈائجسٹ احمد سعید المعروف شافع صاحب سے ملنے آتے تھے اور پھر نہایت خاموشی سے بغیر کسی سے ملے واپس چلے جاتے تھے،یہ 1983-84 کا ذکر ہے، وہ زرعی ترقیاتی بنک میں ملازم تھے اور کراچی سے دور کسی شہر میں تعینات تھے،جب چھٹیوں پر کراچی آتے تو دفتر ضرور آتے، 1994 ءمیں وہ بنک میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے تک پہنچے اور پھر خود ہی قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔

1984 میں ادارہ جاسوسی ڈائجسٹ میں ایک بڑا بحران آیا، جاسوسی ڈائجسٹ کا ڈکلیریشن منسوخ کردیا گیا، جنرل ضیاءالحق کا مارشل لا عروج پر تھا، سندھ میں ایم آر ڈی کی تحریک جاری تھی، جنرل ضیا کے اوپننگ بیٹسمین راجا ظفر الحق وزیراطلاعات و نشریات تھے، فلم انڈسٹری کے ساتھ ہی ڈائجسٹ پرچوں کا قبلہ درست کرنے کی ذمے داری راجا صاحب ہی کے سپرد تھی ، جاسوسی ڈائجسٹ اسی ذمے داری کی ادائی کا شکار ہوا اور اس کے نتیجے میں احمد سعید صاحب کو جاسوسی کی ادارت سے علیحدہ ہونا پڑا۔ ہم ادارے میں احمد سعید صاحب کے نائب کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے۔

جاسوسی ڈائجسٹ کے نئے مدیر جناب خان آصف مقرر ہوئے اور ہم ان کے معاون ، خان آصف ہمارے صرف دوست ہی نہیں ، بڑے بھائیوں جیسے تھے، ہمارا ان کا تعلق 1974 ءسے نہایت گہرا تھا ، وہ داستان ڈائجسٹ نکالا کرتے تھے مگر 1981 ءمیں یہ پرچا بند ہوگیا تو خان صاحب نے جاسوسی ڈائجسٹ میں ائمہ کے سوانح اور پاکیزہ میں صوفیائے کرام پر لکھنا شروع کیا اور معراج رسول صاحب کی آنکھ کا تارا بن گئے مگر خان صاحب اور جناب معراج رسول کے درمیان تعلقات ایک سال سے زیادہ نہ چل سکے، کم لوگ ہی یہ بات جانتے ہیں کہ اسی زمانے میں ایک نیا پرچا ”عالمگیر“ نکالنے کی تیاریاں ہورہی تھیں جس کی پبلسٹی بھی سسپنس، جاسوسی ڈائجسٹ میں شروع کردی گئی تھیں لیکن بہر حال یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی اور اکتوبر 1985 میں خان صاحب ادارے سے الگ ہوگئے، اس طرح جاسوسی ڈائجسٹ کو وقت پر لانے کی بیشتر ذمے داریاں ہمارے کاندھوں پر آگئیں اور صدیقی صاحب سے ہمارے براہ راست رابطے کا سلسلہ شروع ہوا۔

ابتدا میں کچھ تکلفات حائل رہے لیکن جب شعر سننے اور سنانے کا سلسلہ شروع ہوا تو ہر تکلف مٹ گیا،وہ جب بھی تشریف لاتے، دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو رہتی اور اپنا تازہ کلام بھی سناتے،واضح رہے کہ صدیقی صاحب ہرکس و ناکس کے سامنے شعر سنانے کے قائل نہیں تھے،پہلے وہ یہ ضرور اندازہ کرتے تھے کہ سامع سخن فہم بھی ہے یا نہیں اور اس حوالے سے ان کی رائے ہمارے بارے میں اچھی تھی۔

پھر ایک سانحہ ہوا، سال ہمیں یاد نہیں،ان کے نو عمر، ذہین اور لائق صاحب زادے مکان کی چھت سے گر کر جاں بحق ہوگئے،اس سانحے نے صدیقی صاحب کو جس اذیت سے اور جس کرب سے دوچار کیا ہوگا اس کا اندازہ ہر صاحب اولاد کرسکتا ہے،واقع کے بعد جب وہ دفتر آئے تو ہمارے پاس الفاظ نہیں تھے کہ ہم ان سے تعزیت کریں، وہ بھی خاموشی سے کرسی پر بیٹھ گئے، ہم نے روایتی طور پر یہ جاننے کی کوشش کی کہ حادثہ کیوں اور کیسے ہوا تو انہوں نے بجھے دل کے ساتھ تمام ماجرا سنایا۔

صدیقی صاحب ان دنوں ماڈل کالونی میں رہائش پذیر تھے اور اپنا ذاتی مکان بڑی محبت سے بنوایا تھا، کچھ عرصہ بعد وہ زرعی بینک سے ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تو وہ مکان بیچ دیا اور گلشن اقبال میں ایک فلیٹ خرید لیا، ان کا دوسرا بیٹا امریکا جاکر مستقل طور پر رہائش پذیر تھا، تقریباً دو سال پہلے ایک روز فون پر انہوں نے بتایا کہ وہ آرتھرائٹس کی تکالیف کا شکار ہوچکے ہیں، ہومیوپیتھی پر یقین نہیں رکھتے تھے لہٰذا ہمارے کسی مشورے کی ضرورت نہیں تھی، خود دنیا کے تمام اہم علوم سے شناسائی تھی، بہت سے مخفی علوم کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کرچکے تھے، میڈیکل کے بارے میں بھی اچھی معلومات رکھتے تھے،بہت اچھے پامسٹ تھے، پامسٹری پر کئی کتابوں کے ترجمے کیے لیکن کسی کا ہاتھ اسی صورت میں دیکھتے تھے جب اس سے اچھے تعلقات ہوں چوں کہ ہم ایسٹرولوجی سے دلچسپی رکھتے تھے تو ان سے پامسٹری اور ایسٹرولوجی کے باہمی اشتراک پر اکثر گفتگو ہوئی اور ان کا کہنا یہ تھا کہ ایسٹرولوجی پامسٹری سے بہت آگے کی چیز ہے،ایک روز ایک ایسی کتاب ڈھونڈ کر لائے جو ایسٹرولوجی کے موضوع پر نادر و نایاب تھی ، کہنے لگے ”آپ بھی کیا یاد کریں گے، یہ ہماری طرف سے تحفہ سمجھیے“

بلاشبہ وہ ایک نادر تحفہ ہی تھا جو آج تک ہمارے پاس محفوظ ہے۔

احمد صغیر صدیقی 2 اگست 1938 کو بھارت کے ضلع بہڑائچ میں پیدا ہوئے، زندگی کا ابتدائی حصہ یعنی بچپن کانپور میں گزرا، تقسیم کے بعد کراچی آگئے اور کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا، 1953 سے لکھنے لکھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا،صدیقی صاحب کا اصل شعبہ شاعری تھا، ادب تھا، موجودہ دور کے شاعروں میں وہ فیض احمد فیض کے بعد احمد فراز کے معتقد تھے باقی کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے،ناصر کاظمی کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے تھے، اس پر ہماری خوب جھڑپ ہوتی، جہاں تک ڈائجسٹوں میں ان کے بے پناہ کام کا تعلق ہے تو وہ اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے تھے، یہ کام وہ محض مالی فائدے کے لیے کرتے رہے،شاید اسی وجہ سے ترجمہ کرتے وقت وہ بہت سی باتوں کو نظرانداز کردیا کرتے تھے، اول تو ان کا ترجمہ معیاری خیال نہیں کیا جاتا تھا، دوم یہ کہ وہ لکھتے ہوئے لفظوں کو باہم ملادیا کرتے تھے،پڑھنے والے کو شدید الجھن محسوس ہوتی، معراج صاحب ان کی کہانیاں پڑھنے سے گریز کرتے تھے،ملاکر لکھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ دو الگ الگ الفاظ کو ملاکر لکھتے تھے،مثلاًاسلیے، اسکے،انکے وغیرہ وغیرہ۔لیکن کہانی پر ان کی غیر معمولی اور گہری نظر تھی،اعلیٰ درجے کی کہانیاں ڈھونڈ کر لاتے اور پھر ان کا ایسا ترجمہ کرتے جیسے کسی ناپسندیدہ کام کو انجام دے رہے ہوں اور جلد از جلد اس کام سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہوں۔

ہم نے سنا ہے کہ سب رنگ کا شہرا آفاق سلسلہ ”انکا“ ان کی ایک مختصر کہانی سے اخذ کیا گیا تھا جو کہانی وہ سب رنگ کے لیے لے کر گئے تھے اسے پڑھ کر شکیل عادل زادہ صاحب کو خیال آیا کہ اس آئیڈیے پر سلسلے وار کہانی لکھوائی جائے اور یہ کام جناب انوار صدیقی نے کیا۔

ماہنامہ سرگزشت کے اجرا کی تیاریاں زوروشور سے جاری تھیں، یہ 1990 ءکی بات ہے، پروگرام یہ تھا کہ پہلا شمارہ 10 دسمبر 1990 ءکو مارکیٹ میں آئے جو جنوری 1991 ءکا شمارہ ہوگا، شاید اکتوبر 1990ءمیں صدیقی صاحب ایک نیا آئیڈیا لے کر دفتر آئے ، انہوں نے چند صفحات ہمارے سامنے رکھ دیے اور فرمایا ”آپ انہیں پڑھ لیں اور پھر معراج صاحب سے بھی مشورہ کرلیں، یہ آپ کے نئے پرچے سرگزشت کی پہلی کہانی ہے“، واضح رہے کہ معراج صاحب سے ان کی ذہنی ہم آہنگی قطعاً نہیں تھی،وہ ان سے ملاقات کے کبھی خواہش مند نہیں ہوتے تھے اور یہی حال خود معراج صاحب کا تھا۔

ایک صفحے میں نہایت اختصار کے ساتھ کسی ایک مشہور شخصیت کی کہانی اس طرح بیان کی گئی تھی کہ آخری سطر تک اس کا نام مخفی رکھا گیا تھا، بے شک یہ ایک نئی روایت اور نیا انداز تھا، ہم نے معراج صاحب سے مشورہ کیا اور انہوں نے فوراً اجازت دے دی، یہ معراج صاحب کی ایک اضافی خوبی تھی کہ وہ ہر اچھی بات کو فوراً قبول کرلیتے تھے اور کسی غلط بات پر انہیں کوئی آمادہ نہیں کرسکتا تھا، بہر حال سرگزشت مقررہ تاریخ پر مارکیٹ میں آیا اور چھاگیا، صدیقی صاحب کا لگایا ہوا ایک صفحے کی سرگزشت کا یہ پودا پروان چڑھتا رہتا اور آج ایک قدآور درخت بن چکا ہے۔

صدیقی صاحب کہانیوں کے معاملے میں اختصار پسند تھے،بالکل اسی طرح منظر امام کا معاملہ ہے،یہ بات مشہور تھی کہ سو صفحے کا ناول اگر صدیقی صاحب کو ترجمے کے لیے دے دیا جائے تو وہ اسے دس صفحوں تک محدود کردیں گے اور ایک صفحے کی کہانی اگر علیم الحق حقی کو دے دی جائے تو وہ پندرہ بیس صفحوں تک یا اس سے بھی زیادہ پھیل سکتی ہے،شاید اسی وجہ سے صدیقی صاحب نے ناولوں پر کم توجہ دی لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے ناول ترجمہ نہیں کیے،جب انھیں زیادہ پیسوں کی ضرورت ہوتی تھی تو کسی ناول کا ترجمہ بھی کرلیا کرتے تھے مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ ترجمے کے ساتھ اس کی تلخیص بھی کردیا کرتے ہوں گے۔

جیسا کہ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ کہانیوں کے ترجمے کا تمام کام صدیقی صاحب اپنی آمدن میں اضافے کے لیے کرتے تھے البتہ ان کا اصل میدان شاعری تھا جس میں وہ کسی سمجھوتے کے قائل نہیں تھے،ان کا پہلا مجموعہ ءکلام ”سمندر آنکھیں“ 1972 میں شائع ہوا، اس کے بعد خدا معلوم شعر گوئی کی رفتار کیوں سست ہوئی کیوں کہ تقریباً دس سال بعد انہیں پھر نیا مجموعہ شائع کرانے کا خیال آیا اور انہوں نے 1982 تک کہے گئے اشعار کا ایک انتخاب معراج رسول صاحب کے چھوٹے بھائی جناب اعجاز رسول کے حوالے کردیا تاکہ وہ اسے اپنے ادارے کتابیات پبلی کیشن کے زیر انتظام شائع کردیں،یہاں ہم یہ وضاحت بھی کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ صدیقی صاحب کے ذاتی مراسم جس قدر اعجاز رسول صاحب سے تھے ، معراج صاحب سے نہیں تھے،اعجاز صاحب کے لیے وہ بہت سی کتابوں کے ترجمے بھی کرتے رہے تھے اور طبع زاد بھی لکھتے رہے، مثلاً ”بوجھو تو جانیں“ یہ منظوم پہیلیوں کا مجموعہ ہے،”امتحان میں کامیابی، خوابوں کے اسرار، مسائل اور حل، کامیابی، احساس کمتری، چھ حیرت انگیز علوم، تحریر اور شخصیت، باخبری، کم نظری اور اس کا سدباب،دست شناسی کے نئے رُخ ،کالی کہانیاں، دنیا کی بہترین کہانیاں، سگریٹ پینا چھوڑیے، موٹاپا اور اس کا سدباب وغیرہ اور بے شمار تصنیفات صدیقی صاحب کے زور قلم کا نتیجہ ہیں جن میں اکثر پر ان کا نام بھی شائع نہیں ہوا، یہی صورت ڈائجسٹوں میں چھپنے والی بے شمار کہانیوں کی ہے، انہیں اس کی پروا بھی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی وہ ان کتابوں کے موضوع پر بات کرنا پسند کرتے تھے،صرف اور صرف ادب و شاعری ان کا مسئلہ تھا،شاید اسی لیے دس سال تک جو کچھ کہا، اسے شائع کرانے کے لیے بے تاب ہوئے اور غزلیں اور نظمیں اعجاز رسول صاحب کو دے دیں، ان دنوں (1986) وہ اپنی ملازمت کی وجہ سے کراچی سے دور تھے اور ان کا خیال تھا کہ اعجاز صاحب یہ کام بہ حسن و خوبی کرلیں گے کیوں کہ وہ ایک پبلشنگ ادارہ چلارہے تھے لیکن ان کا دوسرا مجموعہ ءکلام ”کاسنی گل پوش دریچے“ جب شائع ہوا تو ہمیں سخت مایوسی ہوئی ، یہ ان کے کلام اور خود ان کی توہین تھی،اخباری کاغذ پر 64 صفحے کا چھوٹا سا ایک کتابچہ ہمارے ہاتھ میں تھا، شاید ان کی اختصار پسندی اور سخت تنقیدی نظر نے ایک بھرپور مجموعہ ءکلام کو ضروری نہیں سمجھا، وہ اکثر جب ہمیں کوئی نئی غزل سناتے تو ساتھ ہی یہ بھی کہتے ”آپ ایمانداری سے کمزور شعروں کی نشان دہی ضرور کردیں“ لیکن ہم نے ایسا کبھی نہیں کیا مگر وہ خود یہ کام کرلیتے تھے، کاسنی گل پوش دریچے کی پہلی غزل چار شعروں پر مشتمل ہے،یہی حال دوسری غزلیات کا ہے، بہت کم غزلیں ایسی ہیں جن میں پانچ شعر ہیں لیکن پہلی غزل خود صدیقی صاحب کے مزاج و فطرت پر بھرپور روشنی ڈالتی ہے

جھلسا گئی سموم، صبا سے نہ کچھ کہا

جلتے رہے پر، اہلِ دوا سے نہ کچھ کہا

اک ایک کرکے سارے دیے بجھ گئے مگر

تھے وہ انا پسند ، ہوا سے نہ کچھ کہا

تِری طلب میں دل کی خموشی گواہ ہے

اوروں کا ذکر کیا ہے، خدا سے نہ کچھ کہا

دنیا تو خیر اپنی مخالف صدا سے تھی

تم نے بھی کشتگانِ بلا سے نہ کچھ کہا

 وہ بلاکے نقاد بھی تھے، کراچی کی ادبی نشستوں میں کبھی کبھی حاضری دیا کرتے اور اکثر شعرا اور افسانہ نگاروں کو ناراض کرتے، ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ”گوشے اور اُجالے“ شائع ہوچکا ہے۔

آخری دنوں میں صحت کی خرابیوں کی وجہ سے کہیں آنا جانا بہت کم ہوگیا تھا، ہم اکثر ان کے گھر چلے جاتے تو بہت خوش ہوتے، بیٹھ کر پرانے قصے ، پرانی باتیں یاد کرتے اور ان کا تازہ کلام بھی سنتے، پاکستان و بھارت کے تقریباً تمام ہی معتبر ادبی رسائل میں ان کا کلام شائع ہوتا رہتا تھا۔

1991 میں تیسرا مجموعہ ”اطراف“ نہایت اہتمام سے شائع ہوا اور اس کی اشاعت کے لیے وہ شکیل عادل زادہ کے شکر گزار ہوئے، شکیل صاحب نے ایک بھرپور تعارفی مضمون بھی اس مجموعے کے فلیپ پر لکھا ہے جو یقیناً قابل توجہ ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ بہتر ہوگا کہ ذکر اس پری وش کا اور پھر بیاں ایسا، مناسب ہوگا کہ شکیل صاحب کی اس خامہ فرسائی کی چند جھلکیاں یہاں پیش کردی جائیں۔

”احمد صغیر صدیقی ایک نہایت گوشہ گیر قسم کے آدمی ہیں، شاعری ان کا پیشہ نہیں ، مشغلہ ہے“

”احمد صغیر صدیقی ہر پہلو سے ایک متوازن آدمی ہیں، ان کے پلڑے عموماً برابر رہے ہیں،وہ ارسطو کے کلیے اعتدال خیرالامور کے شدت سے پیروکار نظر آتے ہیں اور لگتا ہے ، یہ سامنے کا روپ اصل میں ان کا بہروپ ہے گو وہ اسے کمال جبر، کمال نفاست سے نصف صدی سے نبھا رہے ہیں مگر ان کا صحیح رنگ و روپ تو ان کی شاعری میں جلوہ گر ہے، ایسی شاعری درون خانہ کے شورش و تلاطم کے بغیر ممکن نہیں ہوتی، انہوں نے اپنے اندر کے بے قرار، مشکوک، حیران اور ویران آدمی کو خوب باندھ کے جکڑ کے رکھا ہوا ہے، یہ دوں ہمتی کی بات بھی ہوسکتی ہے، ان میں رسوا ہونے کا حوصلہ نہیں ہے، اپنے آپ پر اصرار کرنے کا حوصلہ۔وہ اپنے پرسان حال و احوال سے ہراساں ہیں کہ کھل کر سامنے نہیں آتے، وہ کوئی مشہور شاعر بالکل نہیں ہیں نہ انہیں اس کا دکھ ہے، نہ دعوا“۔

”ان کا مطالعہ یقیناً مشاہدے سے بیش ہے، آو ¿ٹ آف باو ¿نڈ قسم کی جگہوں پر ان کا گزر کم ہی ہوا ہوگا، چشم بینا شرط ہے ، مشاہدہ تو ایک جنس ارزاں ہے، کھلی آنکھوں کا ایک مسلسل جبر، بند آنکھوں کا بھی لیکن تھوڑی بہت کجی ، اندھی گلی سے آشنائی، قلم برداروں کے لیے اکسیر ہوتی ہے،اس ذرا سی جرا ¿ت، تھوڑے سے تجسس اور ایک بار کی لغزش، گاہے گاہے ہوسِ گل بدناں کی اجازت تو اقبال نے بھی دی ہے، یوں مطالعے، مشاہدے اور تجربے کے اخذ و استنباط کا معاملہ بقدر توفیق ہوتا ہے“

کتاب کے پیش لفظ میں صدیقی صاحب کی اختصار نویسی حسب عادت رہی، دیباچے کے آخر میں فرماتے ہیں ”ہر لکھنے والا یہی سوچ کر لکھتا ہے کہ اس کی تحریر ، اس کا جواز فراہم کرے گی۔میں نے یہ کتاب آنے والے دنوں کے ہاتھ میں دے دی ہے، میں بس اسی قدر کرسکتا تھا“

ہم نے ابتدا میں میر تقی میر کا ایک شعر پیش کیا تھا جس کا جواب صدیقی صاحب نے فوراً ہی دے دیا تھا مگر خود دیکھیے صدیقی صاحب کیا کہتے ہیں

اب اتنی شیشہ مزاجی بھی کچھ درست نہیں

عجب نہیں کہ لگے ٹھیس اور بکھر جاو ¿

جیسا کہ ہم نے نشان دہی کی ہے کہ وہ بہت انا پرست اور اختصار پسند تھے، گوشہ نشینی انہیں راس تھی، محدود حلقہ ءاحباب رکھتے تھے، ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھنا، ہم نے انہیں کبھی کسی کی برائی کرتے یا کسی کی شکایت کرتے بھی نہیں دیکھا، ہم خود اگر کسی کی شکایت کرتے یا کسی کی خامیاں زیر بحث آجاتیں تو وہ فوراً موضوع کو بدلنے پر زور دیتے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس قدر پاک طینت اور صاف دل انسان تھے، اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند کرے۔

چند منتخب اشعار

جزوہم و گماں دوئی نہیں کچھ

ہرشخص ہے مستقل اکیلا

٭٭٭

اب ہوا ہے اور ہوا کے ساتھ اُڑتے جسم ہیں

وہ بھی کیسا وقت تھا جب لوگ اپنے گھر کے تھے

٭٭٭

میں جس کو دیکھ رہا ہوں وہی کھلے نہ کھلے

کہ اس مکان میں ہیں اور کھڑکیاں کتنی

پڑا ہے سوچ میں گل دان کا اداس گلاب

کہ بے وفا تھیں مری دوست تتلیاں کتنی

٭٭٭

برائیوں میں بھی ہوتی ہے نیکیوں کی نمود

ثواب کے بھی ہیں پہلو کئی گناہوں میں

٭٭٭

روشنی ہوتی تو میں ایک دیکھنے کی چیز تھا

اس اندھےرے میں تو کچھ میرا پتا چلتا نہیں

٭٭٭

کچھ عکس آئینوں میں ابھرتے نہیں کبھی

کچھ رنگ تتلیوں کی طرح بھاگتے بھی ہیں

ہاتھوں پہ رینگتا ہے لکیروں کا اختلاف

قسمت میں قربتیں ہی نہیں فاصلے بھی ہیں

٭٭٭

اپنی ہی ذات کے شیشے پہ اٹھے گا شاید

ایک پتھر جو بہت دن سے مرے ہاتھ میں ہے

٭٭٭

مرے پڑوس میں تھیں اتنی وسعتیں آباد

محال ہوگیا مرا مکان میں رہنا

یہ زندگی ہے کسی پل صراط کے مانند

تمام عمر کسی امتحان میں رہنا

٭٭٭

منڈیروں پر دیے رکھے ہوئے ہیں

ہوا میں سانحے رکھے ہوئے ہیں

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    بہت ہی عمدہ۔۔۔۔دلچسپ اورخودکوبےخدی میں کردینےوالا اندازِ بیاں
    آپ کی ڈائجسٹوں کی الف لیلہ کی تمام اقطاس پڑھی ہیں اورہرآنے والی قسط ماقبل سےخوب سےخوب ترہوتی ہے۔۔۔۔
    اسےپڑھ کراگلی قسط کاانتظار بڑےشدومداورشدت کی انتہاء سےہوتاہے۔۔۔۔ہرچیزبڑی معلومات افزا اورمحفوظ کرنےکی ہوتی ہے۔۔۔۔
    کتاب کےچھپنےکاشدت سےانتظارہے۔۔۔۔
    ہرقسط پڑھ کرآپ کےساتھ ساتھ بھائی امجدجاوید صاحب کیلۓ بھی دل سےدعا نکلتی ہے۔۔۔۔کہ وہ کسی نہ کسی طرح آپ کولکھنےپرآمادہ کۓہوۓ ہیں۔۔
    بس آپ سے ایک شکوہ یاشکایت ہیکہ آپ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعداگلی قسط پڑھ نےکودیتےہیں۔۔۔۔اس وقت تک بندہ انتظار کی سولی پرلٹکارہتاہے۔۔۔۔ایک گزارش تھی آپ سے۔۔۔اگر آپ کےمزاج کوناگوارگزرےتوایک نادان سمجھ کردرگزرکرلیجئگا۔۔۔۔
    ہم چاہتےہیں کہ آپ ہمیں ہرہفتہ قسط پڑھ نےکودیں۔۔۔اگرچہ ایساکرناآپ کیلۓمشکل ضرورہوگا آپ کی بھی کافی مصروفیت ہوتی ہے۔۔۔۔اگر اس سلسلے میں آپ کومیری کوئی ضرورت پڑے ٹائپنگ وغیرہ کےسلسلے میں جوکہ میری خوش قسمتی بھی ہوگی اور ظاہرہےآپ کوبھی دقت پیش آتی ہوگی۔۔۔۔۔تو بندہ کوبلاتکلف یاد کرلیجئگا۔۔۔
    اور ناچیزآپ سےملاقات کابھی خواہش مندہے۔۔۔۔

    نعمان۔
    واٹس ایپ نمبر
    03012519255

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے