سر ورق /   اردو کہانی کا سفر بیسویں قسط تحریر اعجاز احمد نواب 

  اردو کہانی کا سفر بیسویں قسط تحریر اعجاز احمد نواب 

 

  بیسویں قسط

اردو کہانی کا سفر

تحریر اعجاز احمد نواب

✍️✍️✍️✍️✍️معراج رسول اور جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کا نام ڈائجسٹوں کی تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا، اس میں کچھ شبہ نہیں کہ اشاعت کا جو ریکارڈ سب رنگ ڈائجسٹ نے بنایا ہے، پھر اسے کوئی مردانہ ڈائجسٹ توڑ نہ سکا،  لیکن اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ.. معیار تسلسل اور بروقت اشاعت کے ساتھ بیک وقت چار چار ڈائجسٹوں کو انتہائی عمدگی اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ہر ماہ باقائدگی سے پچاس سالوں تک شائع کرنا بھی صرف اور صرف معراج رسول صاحب ہی کام تھا، جاسوسی سسپنس سرگزشت اور پاکیزہ ڈائجسٹ، درمیان میں کچھ عرصہ کے لئے بڑے سائز میں  ماہ نامہ محور کے نام سے رسالہ نکالا تاہم وہ زیادہ کامیاب نہ ہو سکا، بعد ازاں چند سال تک خواتین کا ایک اور ڈائجسٹ دلکش بھی چھپا،

✍️تاہم مجموعی طور پر ان کا حوالہ اوّل الذکر چار پرچے ہی ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی طور پر جہاں جہاں اردو بولی پڑھی اور سمجھی جاتی ہے وہاں تک رسائی حاصل کی، اس فقیدالمثال کام یابی میں معراج رسول صاحب کا نام تو ہر اوّل طور پر آئے گا ہی، لیکن پس منظر میں، ایک پوری ٹیم کا خونِ جگر اس چمن کی آبیاری میں شامل ہے،  مصنفین کاتبین(آج کل کمپوزرز)  آرٹسٹ، اور دوسرے لوگوں کو چھوڑ کر اگر صرف ایڈیٹرز کو ہی دیکھا جائے تو، ہمیں ایک طویل فہرست دکھائی دیتی ہے پاکیزہ تو خیر مستورات کا جریدہ ہے، اور سرگزشت بھی  کافی بعد میں شروع ہواتھا، ہم اگر یہاں بات کریں گے تو صرف سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ کی،

✍️ معراج رسول صاحب نے سب سے پہلے جاسوسی شروع کیا، جاسوسی ڈائجسٹ کا پہلا شمارہ جنوری 1971 میں شائع ہوا تھا، جس کے مدیر معراج رسول خود تھے،

ٹھیک ایک سال بعد یعنی جنوری 1972 میں سسپنس ڈائجسٹ کا اجراء ہوا،  یہ دونوں مردانہ ڈائجسٹ تھے، ان دونوں کی کام یابی کو مد نظر رکھتے ہوئے تیسرا ڈائجسٹ خواتین کے لئے نکالا گیا  جس کا نام ماہنامہ پاکیزہ، رکھا گیا  پاکیزہ کا پہلا شمارہ اپریل 1973 میں شائع ہوا، نادرہ گیلانی اس کی مدیرہ مقرر ہوئیں، سرگزشت کی شروعات مارچ 1990 میں ہوئیں، سرگزشت کے پہلے مدیر انور فراز تھے، (اِن کا مفصل تزکرہ انشاءاللہ اگلی قسط میں آئے گا،) تاریخ پر ایک طائرانہ نظر دوڑائیں تو ابتداً ہمیں ادارت کے خانے میں اقبال پاریکھ کا نام دکھائی دیتا ہے اقبال پاریکھ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، بطور مصنف ان کی الگ پہچان ہے ، اور قلم کی دنیا میں پہلے سے ہی اپنی الگ شناخت رکھتے تھے، کوبرا اور دیگر دلچسپ سلسلے ان کے کریڈٹ پر موجود ہیں، سسپنس کی ابتدائی سالوں میں جب عالمی ڈائجسٹ 25ہزار اور سب رنگ بھی تیس ہزار اشاعت کے ساتھ اس سے بہت آگے تھے عالمی کی اشاعت تو بعد میں کم ہو گئی تاہم سب رنگ تو ایک لاکھ چھپن ہزار ماہانہ اشاعت تک گیا، یاد رہے کہ یہ اس دور کی اشاعت ہے جب پاکستان کی آبادی سات کروڑ تھی، اور پڑھے لکھے افراد کا تناسب تقریباً 30%تھا آج آبادی 22کروڑ اور خواندگی کی شرح بھی شاید 66%کے قریب ہے،

✍️ایچ اقبال کا الف لیلہ ڈائجسٹ بھی ایک کام یاب ترین ڈائجسٹ تھا، ایسے میں نومولود سسپنس اور جاسوسی ڈائجسٹ کا ابھر کر نمایاں ہونے میں اقبال پاریکھ کی ادارت کا بھی کمال تھا، اقبال پاریکھ صاحب نے بعد ازاں  اپنا ذاتی ڈائجسٹ بھی شروع کیا تھا   ماہ نامہ.. انداز ڈائجسٹ،،، بے انتہا معیاری اور خوبصورت تھا، اور جزوی طور پر کامیاب بھی کہہ سکتے ہیں، میرا خیال ہے تین چار سال تک آتا رہا، پھر بند ہو گیا، راولپنڈی اسلام آباد میں انداز ڈائجسٹ کی تقسیم کے حقوق ابتدا سے اخیر تک اشرف بک ایجنسی  کے (یعنی ہمارے) پاس ہی رہے،،

✍️ایم اے راحت صاحب نے بھی سسپنس یا جاسوسی ڈائجسٹ میں سے کسی ایک کا کچھ عرصہ ایڈیٹر رہنے کا دعوٰی میرے سامنے( ایک سے زیادہ بار) کیا تھا، لیکن میرے حلقہ احباب میں شامل سسپنس کے تین سابق مدیران میں سے کوئی بھی اس دعوی کی تصدیق کرنے کو تیار نہیں، ہو سکتا ہے انتہائی کم مدت کے لئے عارض طور پر رہے ہوں  اتنی بڑی شخصیت کا کہنا سچ ہی ہو گا،

✍️سسپنس ڈائجسٹ کی نان سٹاپ مسلسل اشاعت کو آج اڑتالیس برس بیت چکے ہیں  مدیرِ اعلے تو عموماً ناشر یعنی پبلشر ہی ہوتا ہے لہذا جب تک زندہ رہے مدیرِ اعلے معراج رسول صاحب ہی رہے تاہم اس تمام عرصہ میں درجن بھر لوگ اس کے مدیر رہے، اقبال پاریکھ.. کے بعد بارِ ادارت نسیم جاوید کے ناتواں کندھوں پر آن پڑا، ڈاکٹر نسیم جاوید، میرے حلقہ احباب میں سے ہیں، میری پُرزور فرمائش پر  انہوں نے سسپنس ڈائجسٹ کی ادارت کے دوران پیش آنے والے چند واقعات یوں مختصر انداز سے قلم بند کئے ہیں گویا دریا کو کوزے میں بند کردیا ہے، یہ بات مدِ نظر رہے کہ یہ کوئی، نسیم جاوید صاحب کی پرانی تحریر اٹھا کر نہیں لگائی گئی  بلکہ، انہوں نے اپنے مصروف ترین شیڈول میں سے مشکل سے وقت نکال کر ہمارے لئے اسی ہفتے میں لکھی ہے، ملاحظہ فرمائیے نسیم جاوید صاحب کی بطورِ ایڈیٹر جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز میں گزرے وقت کی خودنوّشت

 ✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️

✍️✍️✍️✍️✍️ہم نے1974میں (تاریخ یاد نہیں۔گرمیوں کے دن تھے)والد کی ڈانٹ سن کر گھر سے فرار ہوکر کراچی کا رخ کیا۔سٹی اسٹیشن پر ایک سستے سے ہوٹل میں قیام کیا ۔جیب میں صرف سو روپے تھے۔دس روپے کمرے کا کرایہ تھا۔پہلے ہی دن جنگ اخبار میں ویکنسیاں تلاش کرتے ہوئے جاسوسی کے ادارے کا اشتہار پڑھا۔انھیں سب ایڈیٹر کی ضرورت تھی سابقہ تجربہ بھی ضروری نہیں تھا۔درخواست لکھی اور پوسٹ کردی۔چوتھے دن طلبی ہوگئی۔ہم اکلوتا ٹو پیس سوٹ پہن کر پیدل ہی پہنچ گئے۔باہر ویٹنگ میں آٹھ دس  مردو خواتین بیٹھے تھے۔اس روز پہلی بار اس بات کی صداقت کا احساس ہوا کہ پیٹ خالی ہو تب بھی اچھا لباس آپ کی شخصیت پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔ان سب میں سب سے پُر کشش لباس(خالی جیب اور غریب الوطنی کے تڑکے کے ساتھ) ہمارا ہی تھا۔ابھی پوری طرح ڈاڑھی مونچھیں نہیں آئیں تھیں ۔دبلا پتلا جسم ہونے کی وجہ سے میٹرک کے اسٹوڈنٹ لگتے تھے۔ویسے ایف ایس سی کر چکے تھے۔جب تک ہمارا نمبر آیا، چھ سات انٹرویو دے کر جا چکے تھے، اتنے ہی ہمارے بعد آچکے تھے۔

✍️ہم دستک دے کر اندر گئے سامنے معراج صاحب، دائیں بائیں سسپنس کے ایڈیٹر اقبال پاریکھ اور پاکیزہ کی ایڈیٹر موٹے موٹے نقوش، موٹے ہونٹ اور موٹی ناک والی نادرہ گیلانی بیٹھی ہوئی تھیں ۔اجازت ملنے پر ہم بیٹھ گئے۔معراج صاحب چند لمحے دیکھتے رہے۔پھر بولے، کہاں سے آئے ہو؟

کہا، بھاولپور سے۔

“ابھی کہاں قیام ہے؟ “

“،سٹی اسٹیشن پر ہوٹل میں ۔”

باقی دونوں چونک پڑے۔

“سابقہ تجربہ ہے کچھ؟ “اقبال پاریکھ نے پوچھا۔

“،اخبارات اور آداب عرض میں لکھتا آیا ہوں۔کالج میگزین میں ایڈیٹر پروفیسر کا معاون تھا۔ویسے کسی میگزین میں کام نہیں کیا۔اشتہار میں لکھا تھاکہ سابقہ تجربہ ضروری نہیں ۔اس لئے اپلائی کردیا۔”

نادرہ گیلانی نے سوال کیا. “،پروف ریڈنگ آتی ہے؟ “

ہم نے کہا”میم ۔میں نے یہ لفظ نہیں سنا۔اگر اس کا مطلب بتا سکیں تو جواب دے سکوں گا۔”

“اس کا مطلب ہے، غلطیاں نکالنا ۔”اقبال پاریکھ بولے۔

ہم نے کہا، دوسروں کی غلطیاں نکالنا تو دنیا کا سب سے آسان کام ہےنکال سکتا ہوں۔”

یہ ہمارا غلط جواب تھا یا معصومیت ۔تینوں نے بیک وقت قہقہہ لگایا جس میں سب سے بلند معراج رسول کا تھا۔بولے”،بھلے آدمی، یہ وہ غلطیاں نہیں، کتابت میں غلطیاں رہ جاتی ہیں ۔وہ چیک کرکے پینسل سے پوائنٹ آؤٹ کرنا،غلط لفظ کی تصحیح کرنا۔”

ہم نے شرمندہ ہوکر کہا “جی ۔انشاءاللہ  ضرور۔”

اقبال پاریکھ نے پوچھا”،کہانی کا چند سطری خلاصہ لکھ سکتے ہو؟ “

کہا، “جی۔”

کہانی کا انٹرو، مطلب چند لفظوں میں انٹروڈکشن اور عنوان؟ ‘،معراج رسول کا سوال تھا ۔

“،جی۔پوری کوشش ہوگی۔”

انھوں نے ایک کتابت شدہ مسودہ ہمیں تھمایا اورگھنٹی بجا کر نفیس، عرف پلٹُو کو بلایا، جو ان کے پرانے ملازم تھے، کہا”انھیں کتابت والے روم میں لے جاّؤ۔ایک پینسل بھی دے دینا۔”،پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے۔”آپ یہ کہانی لے جائیں، پروف ریڈنگ  عنوان، خلاصہ اور انٹرو لکھ کر لائیں۔”

ہم شکریہ کہہ کر باہر آگئے۔کتابت والے روم میں دو کاتب چوکیوں پر بٹر پیپر رکھ کر کتابت کر رہے تھے۔سلام دعا کے بعد ہم بیٹھ کر پروف ریڈنگ کرنے لگے۔ایک صاحب اور خاتون بھی اسی امتحان سے گذر رہے تھے۔پندرہ بیس منٹ میں کام مکمل کرکے ہم پھر معراج رسول کے آفس میں داخل ہو گئے۔معراج صاحب نے کاغذات تھامے۔۔کچھ دیر چیک کیا۔پھر بولے۔”ٹھیک ہے آپ جائیں ۔آپ کو مطلع کردیا جائے گا۔”

ہم نے کہا،” اگر اجازت دیں تو ایک استدعا کر سکتا ہوں؟ “(،ہمیں یاد ہے ہم نے استدعا ہی کہا تھا جو گفتگو میں کم ہی استعمال ہوتا ہے)

بولے”،جی؟ “

کہا “ہم 100روپے لے کر کراچی پہنچے تھے۔60،خرچ ہوچکے۔یہ سوٹ میرے والد کی کمائی کا ہے۔لیکن جیب میں صرف 40،باقی ہیں ۔دو دن کے بعد مجھے فٹ پاتھ یا پلیٹ فارم پر سونا ہوگا ۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ آپ مجھے ہی سلیکٹ کریں، لیکن اگر مجھے انتظار کی بجائے یہ بتا دیا جائے کہ میں اتنا خوش نصیب نہیں ہوں کہ یہاں جاب مل سکے تو، مجھے کہیں اور جاب ڈھونڈنے کا فیصلہ کرنے میں آسانی ہوگی۔”

کمرے میں سناٹا چھا گیا۔تینوں ہی میری طرف سنجیدہ نظروں سے دیکھتے رہے۔معراج رسول بڑی گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کچھ سوچتے رہے۔پھر بولے”اگر میں یہ کہوں کہ آپ سلیکٹ کر لئے گئے ہیں تو آپ کب تک کام پر آسکیں گے۔”

“،پھر میری گذارش ہوگی کہ مجھے میری سیٹ بتادی جائے۔میں اسی لمحے سے کام شروع کردوں گا۔”معراج صاحب نے اقبال پاریکھ کی طرف دیکھا اور مسکرا کر اثبات میں سر ہلا دیا۔اقبال پاریکھ اور نادرہ گیلانی کے تاثرات بھی ہاں میں  تھے۔

اقبال پاریکھ کرسی سے اٹھے اور میری طرف آکر بغل گیر  ہوگئے۔”،نسیم جاوید۔تم نے ہمیں حیران کردیا ہے۔معراج صاحب نے تمھیں سلیکٹ کرلیا ہے۔”

ہم باہر آ کر بیٹھ گئے۔باقی امیدواروں کو واپس کردیا گیا۔پھر نفیس احمد خان کو ہمارے ساتھ بھیجا گیا۔معراج صاحب کا یوسف پلازہ بلڈنگ میں فلیٹ تھا ۔ہم سوٹ کیس لے کر وہاں شفٹ ہو گئے ۔یہ وہی فلیٹ تھا جہاں ایم اے راحت گوشہ ء تنہائی میں بیٹھ کر صدیوں کا بیٹا اور دیگر کہانیاں لکھتے آ رہے تھے۔ایک عرصے تک ہمارا ان کا تعلق رہا۔یہاں تک کہ ہم شاہ فیصل کالونی (اس وقت کی ڈرگ کالونی) میں کرائے پر اپنا گھر لے کرمنتقل ہو گئے۔

✍️اگلے روز سے ہم کام پر آگئے۔معراج صاحب نے مانگے بنا ہمیں کچھ رقم ایڈوانس بھیج دی تاکہ ہمیں کھانے پینے میں تنگی نہ ہو۔ان جیسے caring لوگ ہمیں زندگی میں کم ہی ملے ہیں ۔یہاں رعب داب اور تکلفات والا ماحول نہیں تھا۔جاسوسی کے ایڈیٹر معراج رسول خود تھے لیکن ان کا تعلق صرف رائیٹرز سے معاملات کرنے کی حد تک تھا۔باقی کا کام اقبال پاریکھ کرتے تھے۔ہمارے آنے کے بعد ان کی کچھ ذمہ داریاں ہم نے رفتہ رفتہ سنبھال لیں۔ہم نے اقبال پاریکھ سے بہت کچھ سیکھا۔میمن برادری سے ہیں ۔بھرا بھرا جسم، گوری گلابی رنگت، اردو اتنی شفاف کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ اہلِ زبان نہیں ہیں ۔یہاں سسپنس اور جاسوسی کی کوئی تخصیص نہیں تھی۔الفریڈ یچکاک اور مائک شین مسٹری میگزین باقاعدگی سے آتے تھے۔وہ کہانیاں پڑھی جاتیں۔اپنی اپنی رائے دی جاتی اور ترجمے کے لئے اثر نعمانی، ش۔م جمیل(بزنس مین)، ش صغیر ادیب(بینکر)  اور مزید دو چار افراد کو بھیج دی جاتیں۔الیاس سیتا پوری جو تاریخی کہانی کے ساتھ ساتھ تصوف پر مضمون  بھی لکھتے تھے، اکثر خود ہی آجاتے۔مرحوم کے بارے میں علم ہوا تھا کہ سب رنگ ڈائجسٹ میں تاریخی کہانی کی کتابت کرتے تھے۔ادبی ذوق کے مالک تھے۔اردو بازار سے تاریخی ناول اور تاریخ کی کتابیں پڑھتے پڑھتے خود بھی کہانیاں لکھنے لگے اور معراج رسول سے رابطے میں آگئے۔(ہمیں اس بارے میں دعویٰ نہیں ہے، صرف سنا تھا کہیں کوئی کمی بیشی ہو تو اصلاح کے لئے حاضر ہیں ۔)

✍️یوسف پلازہ کے فلیٹ میں جاتے ہوئے  کئی دن گذر گئے۔وہاں ایم اے راحت کے مسودے پڑے ہوئے تھے، لیکن ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔پھر ایک دن جب جاسوسی کی آخری کاپی بھی پریس میں چلی گئی تو ہم دوپہر میں ہی گھر چلے گئے۔فلیٹ کا تالہ کھولا تو چونک پڑے۔سامنے ایم اے راحت میز پر کاغذاتِ کا ڈھیر لگائے کچھ لکھ رہے تھے۔ہمیں دیکھ کر چونک گئے۔چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔فربہ جسم، نکلتا ہوا قد، ڈاڑھی کی جگہ خال خال  بال، ہلکی مونچیں۔آواز کسی حد تک باریک، موٹے فریم کا چشمہ لگائے ہوئے۔

اُٹھ کر کھڑے ہوگئے۔”آؤ میاں آؤ۔”وہ بغل گیر ہوکر ملے۔”تم نے تو ہمیں حیران کردیا ہے۔معراج صاحب نے نہ بتایا ہوتا تو ہم یہی سمجھتے کہ کوئی بچہ چوری کرنے آگیا ہے۔”وہ ہنستے ہوئے بولے۔راحت بہت زندہ دل اور ہنسنے مسکرانے والے انسان تھے۔ہم دوسری کرسی پر بیٹھ گئے۔تھوڑی بات چیت ہوئی تو تکلف کی دیوار گر گئی۔”یار! تم تو بہت چھوٹے سے ہو۔میں تو یہی سمجھا تھا کہ کوئی میری عمر کا بندہ ہوگا۔معراج بہت تعریف کر رہے تھے تمھاری۔”

“میں چائے بناؤں آپ کے لئے؟ “ہم نے کہا۔انھوں نے اثبات میں جواب دیا تو ہم کچن میں آگئے۔وہ کہانی لکھنے میں جْت گئے۔

✍️ہم نے ان جیسا تیز رفتار لکھاری زندگی میں نہیں دیکھا۔ایک ہی نشست میں بیس بیس اور تیس تیس صفحات کی کہانی لکھ دینا، رائیٹر تھا کہ جن تھا۔۔ون لائینر کے طور پر میز پر کتنی ہی کہانیوں کے آئیڈیاز بکھرے رہتے تھے،جن پر وہ بلا تکان لکھتےچلے جاتے۔پہلے شام کو جلدی چلے جاتےتھےہم آجاتے تو چائے کے بہانے انھیں روک لیتے۔۔پھر اکثر ان سے ملاقات رہتی۔طبیعت میں انکساری کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔کبھی کبھی ذاتی معاملات پر بھی گفتگو ہوجاتی۔جو ان کی امانت ہے، یہاں نہیں لکھ سکتے۔۔کئی بار صدیوں کا بیٹا کی قسط مکمل ہوتی تو وہیں پکڑا دیتے۔ہم مسودہ پڑھتے۔سیاہ روشنائی اور فاؤنٹین پین سے لکھنے کے عادی تھے۔ایک بار قسط میں ٹیکنکل غلطی نظر آئی۔ہم نے ڈرتے ڈرتے ان سے ذکر کیا۔ہنس کر ہمارے شانے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولے۔”یار جہاں سے جی چاہے ایڈیٹ کردیا کرو۔میں تو بس لکھتا چلا جاتا ہوں۔کوئی لفظ، کوئی جملہ، کوئی سچوئشن غلط لگے، قینچی چلادو۔کھلی اجازت ہے۔”

یہ ان کا بڑا پن  تھاورنہ کچھ رائیٹر تو کہانی چھپنے کے بعد اکثر بحث کرنے اور تلخ ہونے پر آجاتے تھے۔

پھر ایک خوبصورت سی خاتون ان کے ساتھ دفترآنے لگیں۔پتہ چلا یہ شائستہ وحید ہیں ۔ان کی دوسری بیگم۔ہم نے اس معاملے پر ان سے کبھی بات نہیں کی۔اپنی حد کو سامنے رکھا۔ان کی قسط کی وجہ سے جاسوسی کبھی لیٹ نہیں ہوا۔گاہے بگاہے دوسری مکمل کہانیاں کبھی ایم اے راحت اور کبھی شائستہ وحید کے نام سے بھی لکھ دیتے تھے۔

✍️ایم اے راحت کی ایک بات جس نے ہماری آنکھیں بھگو دیں، ہم کبھی نہیں بھول سکتے ۔کئی ہفتوں سے فلیٹ پر نہیں آرہے تھے۔جاسوسی کی دو کاپیاں (ایک کاپی 16صفحات کی ہوتی تھی) قسط کی وجہ سے پریس میں جانے سے رکی ہوئی تھی۔ہم پہلی بار ان کے گھر جا پہنچے۔اترا ہوا چہرہ، لگ رہا تھا کسی پریشانی میں ہیں ۔سلام دعا کے بعد ان سے قسط کی بات کی ۔انھوں نے چائے منگالی۔

“خیریت تو ہے راحت صاحب! آج آپ کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں ہے۔۔”ہم نے کہہ دیا۔

“میں انشاءاللہ آج قسط مکمل کردوں گا۔”وہ سنجیدگی سے بولے۔”پرچہ میری وجہ سے لیٹ نہیں ہوگا۔”

“میں نے آپ کی اداسی کی وجہ پوچھی ہے۔بتانا مناسب نہ سمجھیں تو کوئی بات نہیں ۔”

“نہیں  جاوید! ایسی کوئی چھپانے والی بات نہیں ہے۔”وہ بولے۔”میری بیٹی کو کینسر ڈائگنوز ہوا ہے۔آخری اسٹیج پر ہے۔ڈاکٹرز نے جواب دے دیا تو گھر لے آئے۔چند گھنٹوں یا ایک آدھ دن کی مہمان ہے۔”انھوں نے لرزتے لبوں سے کہا۔لگتا تھا رو دیں گے۔لیکن پھر ضبط کر گئے۔

“لیکن میں قسط آج رات مکمل کردوں گا۔میں وعدہ خلاف نہیں کہلانا چاہتا۔”

چائے کا گھونٹ ہمارے حلق میں اٹک گیا۔ہمارے پاس کوئی لفظ نہ تھا جس سے میں اس عظیم رائیٹر اور باہمت انسان کو دلاسہ دے سکتے۔بس اپنی آنکھوں کی نمی سنبھالتے، بجھے دل سے لوٹ آئے۔

اگلے دن انھوں نے قسط بھجوادی۔

✍️ہم نے جب ادارہ جوائن کیا تو معراج رسول اپنے والدین اور بیگم کے ساتھ پاپوش نگر کے 240گز کے گھر میں رہتے تھے ۔بیٹی سبین پیدا ہوچکی تھی جس کی دوسری سالگرہ ہمارے سامنے منائی گئی۔معراج صاحب کے پاس ایک ڈارک اورنج کلر کی پرانی فوکسی تھی جس پر وہ دفتر آتے تھے۔بعد میں اللہ نے اتنا دیا کہ ہمارے سامنے ہی انھوں نے اپنے اور بیگم ساجدہ معراج کے لئے الگ الگ نئی گاڑیاں خریدیں۔ڈیفنس میں کوٹھی خریدی اور وہاں شفٹ ہوگئے۔سبین کی سالگرہ پر پورا اسٹاف مدعو تھا۔ہمیں خالی ہاتھ جانا اچھا نہ لگا تو ایک تحفہ پیک کرواکر لے گئے۔اندر ایک کاغذ پر سالگرہ کی مناسبت سے اپنی ہی شاعری کے چند اشعار بھی لکھ دئے۔ہمیں حیرت تھی کہ اسٹاف میں سے کوئی بھی تحفہ لے کر نہیں آیا تھا۔بس صرف مہمان بن کر آئے تھے۔۔سب لوگ طعام سےفارغ ہوکر گھروں کو چلے گئے۔ہم اور اختر رہ گئے۔رات کے بارہ بج گئے تھے۔سوچا، ادھر ہی دری پر سوجاتے ہیں ۔پینڈو آدمی تھے، کیا فرق پڑتا تھا۔

صبح ہوئی تو اندر سے چائے اور ناشتہ آگیا۔اختر نے معراج رسول کو بتادیا کہ ہم بھی رات، پارک میں تقریب کے لئے بچھی دری پر ہی سوتے رہے ہیں ۔معراج رسول خود باہر نکل آئے۔ہم نے ابھی ناشتہ شروع بھی نہ کیا تھا کہ انھیں آتا دیکھ کر احتراماً کھڑے ہو گئے۔وہ کافی سنجیدہ نظر آرہے تھے۔

“ادھر آؤ میرے ساتھ ۔”انھوں نے کہا۔سوچا شاید ہمارا رکنا انھیں برا لگا ہے۔

اندر گئے تو ان کے والد، والدہ، بیگم سب ناشتے کی میز کے گرد بیٹھے دکھائی دئے۔ہم نے سب کو سلام کیا۔

“وہ واش روم ہے۔تیار ہوکر واپس آؤ۔ناشتہ یہیں کرنا ہے۔”

تھوڑی دیر بعد ہم بھی شرماتے ہوئے  ایک کرسی پر آبیٹھے۔ان کی والدہ ہم سے بات کرنے لگیں۔بیگم ساجدہ نے گفٹ پر شکریہ ادا کیا۔

“تم رات کو رکنا ہی چاہتے تھے تو بتا دیا ہوتا۔اوپر کمرے میں بیڈ موجود ہے۔یہاں آرام سے سوتے۔”معراج رسول نے سرزنش کی۔جیسے کہنا چاہ رہے ہوں کہ تمھارا اسٹیٹس اختر کے ساتھ دری پر سونے کا نہیں ہے۔

ہم شرمندہ ہوکر چپ بیٹھے رہے۔

ناشتہ کرکے ان سے اجازت لی اور نکل آئے۔

یہ معراج رسول کا وہ روپ تھا جو ہم نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ہم کیا ہماری بساط کیا؟ ایک ملازم ہی تو تھے۔لیکن ان کا حسنِ سلوک دیکھ کر ہمیں درحقیقت ان سے عقیدت سی ہو گئی تھی۔

✍️✍️✍️✍️✍️جب ہم نے ادارہ جوائین کیا، جاسوسی 12ہزار، سسپنس 10ہزار اور پاکیزہ تقریباً 8ہزار چھپ رہا تھا۔پھر جیسے جیسے وقت گذرا، ان کی اشاعت بڑھتی گئی ۔نادرہ گیلانی شادی کرکے چھوڑ کر چلی گئیں۔ان کی موجودگی میں ہمارا یا اقبال پاریکھ کا پاکیزہ کے میٹریل، کتابت، سلیکشن، کسی سے بھی تعلق نہیں تھا۔ہم دونوں مل کر دو پرچے سنبھال رہے تھے۔وقت کے ساتھ ہم سب کچھ سیکھتےچلے گئے۔انٹرو سے لے کر عنوان، قسطوں کے خلاصے، پروف ریڈنگ، پھر کتابت شدہ صفحات کو برنس روڈ پر استاد عبدالرحمن کے پاس فلمیں بنانے کے لئے بھیجنا، پھر کاپی پیسٹنگ، جو الٹی سائیڈ سے ہوتی تھی۔ہمیں الٹا پڑھنے میں دشواری ہوتی تھی۔اس کا حل اقبال پاریکھ نے یوں نکالا کہ ہمیں آئینہ لا کر دے دیا۔ہم حسبِ ضرورت فلمیں کاٹ کاٹ کر پیسٹ کرتے جاتے اور یوں 16 صفحات کی کاپی پریس میں بھیج دیتے۔پھر ادارے میں دو افراد کا اضافہ ہوا۔پاکیزہ کی ایڈیٹر کے طور پر صفیہ ملک(جو آج بھی حیات ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے منسلک ہیں) اور عبدالشافع، جو احمد سعید کے نام سے جانے جاتے تھے اور آنے سے پہلے پبلشنگ کا کاکام کر تے تھے ۔ان کے آنے سے ہم پر کام کا بوجھ ہلکا ہوگیا۔ادارت کی حد تک صفیہ ملک ہی سب کاموں کی ذمہ دار تھیں۔فلمیں تیار ہوکر آجاتیں تو ہم انہیں پیسٹ کرتے جاتے اور وہ مطلوبہ حصہ کاٹ کاٹ کر ہمیں تھمائی جاتیں۔دوسروں کا تو علم نہیں، اس ادارے میں اصل کام شام چار پانچ بجے ہی شروع ہوتا تھا ۔ہمیں میڈیکل کی اسٹڈی کے لئے ایڈمشن ملا تو معراج صاحب سے بات کی۔

“،اگر تم شام کو آکر کام کرسکتے ہو تو ضرور پڑھو۔”انھوں نے شفقت سے کہا-“بس پرچہ لیٹ نہیں ہونا چاہئے ۔”

یوں دفتر میں ہمارے آنے کا وقت شام کو ہونے لگا۔اکثر ہم رات گئے تک کام کرتے۔کھانا آفس کی طرف سے برنس روڈ سے لانا اختریا پٹھان پیون امین جان کی ذمہ داری تھا۔ہم کھانا آنے کے بعد انھیں چھٹی دے دیتے۔اکثر ہم رات دیر گئے کام کرکے وہیں سوجاتے اور صبح کو چلے جاتے۔

۔جاسوسی کے ایڈیٹر احمد سعید بھی بہت اچھے اور کوآپریٹو انسان تھے۔اقبال پاریکھ تو تھے ہی۔یوں ان کی کواپریشن سے ہماری اسٹڈی بھی چلتی رہی اور روزگار بھی۔

اسٹڈی مکمل ہوتے ہی ہمیں پی آئی اے میں جاب مل گئی۔سسپنس کی جاب بدستور جاری تھی۔ہم پانچ بجے پی آئی اے سے نکلتے اور بائیک پر سیدھے ڈائجسٹ آفس پہنچ جاتے۔کئی بار رات پی آئی اے کی یونیفارم میں ہی گزارتے اور صبح پھر پی آئی اے چلے جاتے۔

✍️✍️✍️✍️✍️معراج رسول اسٹاف کے ساتھ بہت شفقت سے پیش آتے تھے۔کافی کم گو تھے۔لیکن ایک کاروباری کے طور پر ان کے اصول بہت سخت تھے۔اکثر ہمارے انٹروز،عنوان اور دیگر کاموں پر نظر ثانی بھی کرتے اور غلطی یا کمی بیشی کی صورت میں اصلاح بھی کرتے۔کبھی ڈانٹا نہیں تھا پھر بھی ہمیں ان سے ڈر لگتاتھا۔ان کی ایک عادت یہ بھی تھی کہ کسی کہ خود چھوڑ کر جانے ، یا نکالے جانے پر  دوبارہ ادارے میں آنے کی اجازت نہیں تھی۔

 ایک بار کراچی کے ڈسٹری بیوٹرز  سے تلخی ہوگئے۔ریگل چوک میں ان کی کتابوں اور میگزینز کی بہت بڑی شاپ تھی۔معراج رسول وہاں سے گذرے تو ایک اور ڈائجسٹ کو سسپنس سے آگے لگا ہوا دیکھ لیا جس سے سسپنس چھپ گیا۔آفس پپہنچتے ہی انھیں بلا لیا اور کہہ دیا کہ وہ تینوں پرچوں کی ڈسٹری بیوشن کسی اور پارٹی ہو دے رہے ہیں ۔وہ میمن تھے بہت منتیں ترلے اور اپنی غلطی کی معافی مانگنے کے بعد معراج رسول کا غصہ ختم ہوا۔

✍️اسی طرح سے اقبالؒ پاریکھ جو ان کے غالباً بچپن کے دوست تھے۔دونوں آپس میں بے تکلف بھی بہت تھے، نے ماہنامہ”انداز”نکالا۔اس میں محمود احمد مودی کی قسط وار کہانی کی پہلی قسط پہلے ہی شمارے سے شائع ہونے لگی تھی اور پرچہ ابھرنے لگا تھا۔شاید چار ماہ ہی شائع ہوا کہ معراج صاحب کے علم میں آگیا۔آفس پہنچے تو پرچا ہاتھ میں تھا۔اقبال پاریکھ جو اس روز شام کو آئے تھے، کے آنے سے پہلے ہی نفیس(جو اکاؤنٹ کے کام بھی دیکھتا تھا) سے ان کا حساب تیار کروالیا تھا۔اقبال پاریکھ کے آتے ہی انھیں بلایا۔پیسے جو لفافے میں تھےان کے آگے رکھے اور جانے کے لئے کہہ دیا۔اقبال پاریکھ نے پتہ نہیں کیا صفائی دی لیکن معراج رسول نے نہ صرف انھیں باہر کا رستہ دکھا دیا بلکہ آئیندہ ادارے کی طرف رخ کرنے سے بھی روک دیا۔ہم اس دن تک صرف سب ایڈیٹر ہی تھے۔اقبال پاریکھ کے جانے کے بعد ہمیں اپنے آفس میں بلایا اور بیٹھنے کو کہا۔سچی بات تھی، ان کے اتنا بڑا قدم اٹھانے کے بعد ہمیں اپنی نوکری بھی جاتی دکھائی دے رہی تھی۔

“میں نے اقبال پاریکھ کو فارغ کردیا ہے۔”،،وہ غور سے ہمیں دیکھتے رہے۔ہم چپ رہے۔

“تم سسپنس سنبھال سکتے ہو۔تم میں صلاحیت ہے۔”

“،انشاءاللہ، آپ کا حکم ہے تو پوری کوشش کروں گا کہ آپ کو مایوس نہ کروں۔”ہم نے جواب دیا۔

“آج سے تم ایڈیٹر ہو۔اگل شمارے میں تمھارا نام بطور ایڈیٹر پرنٹ ہوگا۔”

“سر! اجازت دیں تو میری ایک گذارش ہے۔”

“،”کہو۔وقت کی تمھارے لئے کوئی پابندی نہیں ہے۔بس پرچہ وقت پر آناچاہئے ۔کوئی الجھن ہو تو شافع صاحب تمھاری ہیلپ کریں گے۔”

“جی وہ پہلے بھی کرتے ہیں ۔میں پی آئی اے میں جاب کررہا ہوں۔آفس رولز میں مجھے دوسری جاب کی اجازت نہیں ہے۔میرا نام بطورِ ایڈیٹر شائع ہوا تو وہاں میرے حاسد اسے ثبوت بنا کر میرے خلاف کیس کردیں گے۔”،

وہ کچھ دیر سوچتے رہے۔پھر بولے، “ٹھیک ہے۔تمھارا نام پرنٹ نہیں ہوگا۔جاکر اپنی سیٹ سنبھالو۔تمھاری تنخواہ بھی دوگنا کردی ہے۔”

ہم نے شکریہ ادا کیا اور ان کے آفس سے نکل آئے۔

✍️ہم اللہ کے بعد معراج رسول کے شکر گذار تھے جنھوں نے، ہمیں اس پوسٹ پر بٹھا دیا تھا جہاں پہنچنے کے لئے انسان کے بال سفید ہوجاتے ہیں ۔

منسٹری آف ہیلتھ سعودی عرب میں سلیکشن کے بعد ہم پاکستان میں آخری دن تک اسی پوسٹ پر رہے سب ایڈیٹر کے طور پر پونے چار سال اور ایڈیٹر شپ کا یہ عرصہ تقریبا چار سال پر محیط تھا۔

✍️جس ماہ ہم پاکستان سے جا رہے تھے،جاسوسی ایک لاکھ پندرہ ہزار، سسپنس ایک لاکھ دس ہزار اور پاکیزہ 70ہزار شائع ہوا تھا۔ادارے کی جاب کے دوران کچھ دلچسپ واقعات بھی پیش آتے رہے۔

✍️✍️✍️✍️✍️یہ تھے ڈاکٹر نسیم جاوید صاحب ایڈیٹر سسپنس ڈائجسٹ جو اپنی سرگزشت بیان کر رہے تھے دوستوں کی معلومات میں اضافہ کے لئے لکھ رہا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے راحت صاحب کی دوسری اہلیہ شائستہ وحید کا ذکر کیا ہے جو خود بھی مصنفہ تھیں، جبکہ شادی کے بعد راحت صاحب ان کے نام سے بھی عمران اور دیگر ڈائجسٹوں میں لکھتے رہے، راحت صاحب نے دونوں گھر والیوں کو  ساری زندگی ایک ساتھ رکھا،، شائستہ وحید کھانے کے دوران اچانک حلق میں نوالہ پھنس جانے پر سانس گھٹ جانے کی وجہ سے انتقال کرگئیں، یہ سن دوہزار کے قریب کا واقعہ ہے

✍️ڈاکٹر صاحب نے ایک اور شخصیت اختر صاحب کا اپنی خود نوشت میں بار بار ذکر کیا ہے، پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لئے یہ بتا رہا ہوں کہ اختر صاحب ماشاءاللہ حیات ہیں اور آج بھی اسی ادارے کا حصہ ہیں،

                  (جاری ہے)

                                بہ احترامات فراواں

                                                      اعجاز احمد نواب

……

……

……

……

……

اردو کہانی کا سفر کے حقوقِ اشاعت محفوظ ہیں، اس میں شامل معلومات کو توڑ موڑ کر کسی دوسرے قلم کار کے نام سے یہ کسی دوسرے عنوان سے یا pdf بنا کر شائع کرنے کی قطعی اجازت نہیں،

……

……

……

……

……

مدیران ناشران تاجرانِ کتب نیوزایجنٹ مصنفین اور قارئین کی مشترکہ غیر ادبی بیٹھک، ایک ہزار داستان اک طلسمِ ہوش رُبا، ناولوں اور ڈائجسٹوں کی باتیں، یادداشتوں کی پھٹی پرانی کتاب سے منتخب قصے کہانیاں

اردو کہانی کا سفر  ابھی جاری ہے بقیہ واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط نمبر 21کا انشاءاللہ جمعرات رات دس بجے انشاءاللہ

……

……

……

……

……

مطالعہ اردو اور کتاب کے فروغ کے لئے اس مراسلے کا اشتراک (شیئر) ضرور کیجئے اور اپنے تاثرات( کمنٹس)  سے ضرور آگاہ کیجئے کہ آپ نے اردو کہانی کا سفر کو کیسا پایا

اور اس میں مزید کیا شامل ہونا چاہیے،،

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    جزاک اللہ ابھی اقبال پاریکھ کے بار میں لکھ کر یہ قسط پڑھ ہی رہا تھا کہ ان کا زکر خیر بھی ہو گیا۔احمد سعید صاحب کے بارے میں بھی کچھ معلومات میں اضافہ ہوا۔ انہؤن نے شاید دوبارہ بھی ادارت سنبھالے رکھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے