سر ورق / ”جس دن سے!“ ۔۔۔ صادقہ نواب سحر ۔۔۔ قسط نمبر 01

”جس دن سے!“ ۔۔۔ صادقہ نواب سحر ۔۔۔ قسط نمبر 01

”جس دن سے!“

صادقہ نواب سحر

قسط نمبر 01



٭ ڈیلیوری بوائے

 ” ڈیلیوری بوائے “، ساحل نے آواز لگائی اور دروازہ کھول دیا۔

 انگریزی کی تھرکتی ہوئی دُھن پر سارے دوست ناچ رہے تھے۔’ڈومینوز ‘میں آرڈر دے کر پِزا اور کولڈ ڈرنک منگوا لیا گیا تھا۔ کچھ کم محسوس ہوا تو ایک بار اورفون پر پِزا آرڈر کر دیا۔ سگریٹ کا دھواں اور پِزا کی خوشبو مل کر ایک لذت بھرا ماحول بنا رہے تھے ۔ ہفتے کی چھٹی تھی۔ شام کے وقت میں نے اپنے کچھ دوستوں کو گھر بلا لیا تھا ۔ دروازے کی گھنٹی زور زور سے بجنے لگی۔کافی دیر بعد یہ سمجھ میں آیا کہ وہ میوزک یا موبائل کے رِنگ ٹون کا حصہ نہیں تھی۔دروازہ کھولتے ہی پِزّا ڈیلیوری بوائے کو نہ دیکھ کر ساحل جھجک کر پیچھے ہٹا۔ سامنے مما اور نِکھل دادا تھے۔ساحل نے لپک کر موسیقی بند کر دی ۔ مجھے اندازہ نہیں تھا۔مما ہفتہ کی چھٹی میں کبھی پنویل کے اِس گھر نہیں آتی تھیں ۔ دراصل جب سے اِس گھر میں کمپیوٹر آیا ہے ، نکھل بھی تبھی سے گھر آنے لگا ہے ۔لیکن آج اس کی امید بالکل نہیں تھی۔ بدقسمتی سے مما اور بھائی اُس رات گھر آ گئے تھے۔

” کس سے پوچھ کر پارٹی رکھی ؟ تیرے اکیلے کا تو گھر نہیں ہے !“ اور بھائی مجھ پر چلانے لگا تھا …….. میں چپ رہا ۔ پھر وہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے میرے دوستوں سے ذرا نرمی سے بولا ۔

”تم لوگوں کو تو عقل نہیں ہے ……..تم لوگ ایسے کیسے منھ اٹھائے پارٹی کرنے چلے آتے ہو ؟“

میرے دوستوں نے پہلی بار بھائی کو دیکھا تھا اور وہ بھی اس طرح ! یہ گھر میں نے مما کے ساتھ مل کر خریدا ہے کیوں کہ مجھے بینک سے اتنا قرض نہیں مل سکتا تھا ۔

”تُو ہمیشہ پارٹی کرتا رہتا ہے۔“،مما کہتی ہیںمیرے دوست کبھی کبھی آتے ہیں نا گھر!

وہ رات مجھ پر بھاری تھی۔بے چین جو تھا۔ قریب تین بجے میں نے ٹی وی پر فلم لگا لی۔

”اتنی صبح صبح ٹی وی کیوں لگالیا …….. ارے کم سے کم آواز تو کم کرو۔“مما کی چیخ گونجی۔

”آپ اندر جاکر سو ئیں نا مما!“، لیکن انھیں تو ہال میں ہی سونا پسند ہے۔وہ کروٹ بدلتی ہیں۔کانوں پر چادر لپیٹ لیتی ہیں۔میں ٹی وی بند کردیتا ہوں اور کمپیوٹر چلا دیتا ہوں۔کار ریس میں خوب جوش ہے۔ خوبصورت کاریں ایک دوسرے کو روندتی ہیں۔ٹکراتی ہیں۔

 ” کمپیوٹر کی آواز کم کرو۔“

”تمھیں تیز آواز کے بغیر کار ریس میں مزہ نہیں آتا؟“، مما اٹھ کر میرے پاس آتی ہیں، ” تم ذرا بھی ایڈ جسٹ نہیں کرتے، یہ غلط ہے ۔“، وہ میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتی ہیں۔

” غلط ہے …. مگر میری لائف تو دیکھو!گھر آکر نارمل انسان کی طرح کمپیوٹر یا ٹی وی چلاتا ہوں ۔ اب تم کو ڈسٹرب ہوتا ہے تو میں کیا کروں ؟ “ ،میںبھی پلٹ کر جواب دیتا ہوں ، ”نائٹ ڈیوٹی کر رہا ہوں ۔ شام کے ساڑھے سات بجے سے صبح چار بجے تک ڈیوٹی کر کے آو ¿ں گا تو کیا تھوڑی سی تھکن دورنہیں کروں گا ؟“

”لیکن آج تو سنڈے ہے نا! سوتے کیوں نہیں؟“

” کال سینٹر میں کا م کرتاہوں۔ میری روزمرہ کی زندگی بالکل اُلٹی ہو گئی ہے۔ چُھٹی کے دن بھی رات بھر جاگتا اور دن بھر سوتا ہوں۔کیا کروں!“

” تو کبھی ایڈ جسٹ نہیں کرتا !“، ماں کا سر ہلا کر بار بار کہنا مجھے بحث کرنے پر اکساتا ہے ۔

”دنیاحیران ہے اورآپ آسا رام باپو کا ایک فوٹو، فریم کروا کر گھر لے آئی ہیں۔“

”توتُجھے کیا!“

” دن میں جس وقت میں سوتا ہوں ، ٹی وی پر پروچن نہیںسنتیں کیا ؟ ’سنسکار ‘ اور ’آستھا‘چینل چلائے رکھنا چاہتی ہیں ۔ مجھے بھی ڈسٹرب ہو تاہو گا…. کبھی سوچتی ہیںکیا ؟ ‘، مما چِڑ کر اندرچلی جاتی ہیں۔

’ ’ الگ رہنا چاہیے ‘ ، جب آپسی جَھک جَھک دماغ خالی کر دیتی ہے تو سوچتا ہوں، ”میں چاہوں گا کہ میرا اپنا گھر ہو۔‘، میں منھ ہی منھ میں بڑ بڑاتاہوں،” یہ نہ کرو….، وہ نہ کرو “ ….کوئی نہ کہے۔ان لوگوں کا ساتھ تو میری زندگی کی الجھنوں کو اور بڑھاتا ہے ۔

 ہفتہ بھرگھر پر نہیں تھیں ، آج ہیں تو پوچھتی ہیں توپُرانی یادیں نئے زخم دینے لگتی ہیں۔ میں تڑپنے لگتا ہوںوہ صبح یاد آرہی ہے جب ممّا ہمیں چھوڑ گئی تھیں

 ماں چھوڑگئی تھیں!

یاد ہے، وہ میری ساتویں کلاس کی ایک عام سی صبح تھی ۔ شاید مما نے مجھے جگایا نہیں تھا۔ آنکھ کھلی۔ دوپہر کے بارہ بجے تھے ۔صفائی کرنے والی بائی ہال میں پوچھا لگا رہی تھی ۔

” ممّا کہاں گئیں ؟“ میں نے پوچھا۔

-”ممبئی گئی ہیں ، نانی کے گھر ۔“، مجھ پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ اکثر وہی تو ہوتا ہے۔ لیکن اُس شام کے بعدوہ گھر نہیں لوٹیں ۔ کھانے پینے کا برا حال ہو گیا ۔ رونے کے لیے کوئی کندھا تو ہو! سب کچھ اچانک ختم ہو گیا تھا۔۔اور ایک کہانی جس نے پانجراپول سے شروعات کی تھی ، ایک عجیب موڑ پر پہنچ گئی

٭ پانجرا پول

چیمبور میںگولف کلب کے پاس آر کے اسٹوڈیو کے سامنے شیواجی کا ایک پُتلا ہے ۔یہ علاقہ ’ انو شکتی نگر‘کے آگے، ’بی پی سی ایل‘ اور ’ آر سی ایف‘ ، ممبئی کی جانب واقع ہے۔ ہمارے پونا والے چا چا ، یہیں اپنے کسی دوست کے گھر میرے ڈیڈی کے ساتھ کرائے پر رہتے تھے ۔ یہیں سے دونوں بھائی میرے ڈیڈی کے لئے لڑکی یعنی میری موسی کو دیکھنے ہماری نانی کے گھر آئے تھے مگر پسند کرلیا میری مما کو! اور ممّی ڈیڈی کی شادی ہوگئی ۔اِس شادی کے بعد چچا پونا جا بسے۔اگلے سال نِکھل دادا کا جنم ہوا ____

کچھ دنوں بعد بلکہ شادی کے چوتھے سال ’بی پی سی ایل‘ کمپنی میں انھیں کوارٹر مل گیا اور وہیں چیمبور اسپتال میں اُسی سال میں پیداہوا ___یہاں ہم دو سال رہے اورجب میں واشی کے سیکٹرسولہ میں چار منزلہ عمارت کے گراو ¿نڈ فلور کا ہمارا فلیٹ بن کر تیار ہو گیا تو ہم واشی میں رہنے لگے ۔چھ سال بعد واشی میں ہم نے ایک دوکان بھی خرید لی ۔

____اس تیز ترقی کے ساتھ ساتھ ڈیڈی نے سیاست کی طرف رُخ کیا اورجب میں دوسری تیسری کلاس میں تھا،چناو ¿ کا فارم بھر دیا ۔بس ممااور ڈیڈی کے درمیان تناو ¿ شروع ہوا اور ڈیڈی نے چھوٹے ماما کی پٹائی کی ۔ تین چار سال بعد مما گھر چھوڑ کر نانی کے پاس دادرچلی گئیں ۔ مہینے بھر بعد نکھل دادا بھی وہیں چلا گیا اور گھر اجڑ گیا__اس اجڑے مکان میں اُسی سال مینکا آ بیٹھی اور اُسی سال ساتویں کلاس میں ، میں پہلی بار فیل ہو گیا ۔

کبھی کبھی سوچتا ہوں مینکا ڈیڈی کی زندگی میں کب آئی ہوگی!

٭ ا بتد ا ئ

میرے حساب سے جب ڈیڈی سیاست میں اترے تھے توالٹے سیدھے لوگوںسے ملے ۔ ایک وکیل کے ساتھ بار میں جانا ان کی عادت بن گئی۔ اس بیچ ڈیڈی کی پہچان مینکا سے ہوئی __ایک پارٹی ورکر کی بیٹی نے خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اس نے نیرول کے پُل سے چھلانگ لگائی تھی ……..اُسی کے گھر۔

مما اوربھائی نکھل کے گھر چھوڑ کرجانے کے بعدمیں اور ڈیڈی ایک مہینہ واشی کے اُسی اپنے گھر میںرکے رہے۔ مجھے پیلیا ہو گیا تھا ۔ڈیڈی اسپتال میں روزانہ ڈبہ لاتے۔

” ڈبّہ کون دیتا ہے ؟ “ ، میں ان سے ہرروز پوچھتا ۔

” مینکا آنٹی !“

ایک دن وہ اسپتال آئی۔ ڈیڈی نے ہمار اتعارف کرایا،” یہی مینکا آنٹی ہیں ۔“

مینکا ڈیڈی سے دس سال چھوٹی تھی۔برہمنوں جےسی دکھائی دیتی ۔ وہ مانسا ہاری کھانے شوق سے کھاتی ۔ گہرے خوبصورت رنگوں کے شلوارسوٹ میں رہتی ۔ اپنے طورطریق سے احساس کراتی کہ ماڈرن ہے ___قد میں میری مما سے کچھ اونچی ہوگی ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی گہری کالی آنکھیں مجھے مکاری بھری لگتیں ۔گول مٹول چہرہ ، کھڑی ناک،دانت ذرا سے باہر ، باب کٹ بال اور مردانہ انداز ___دیکھنے میں اچھی نہیں تھی ، صرف گوری تھی …….. یا مجھے ہی اچھی نہیں لگتی تھی !

مینکا سی بی ڈی ، کی ہاکرس کمیٹی کی ممبر تھی ۔ راستے پر گاڑیاں اور ٹھیلے والے، پانی پوری اسٹال ، آئسکریم ،وڑا پاو ¿ ، پیپر اسٹال ، پان پٹی والے ہمیشہ مسئلوں میںگھرے رہتے ۔ سڈکو کی گاڑی آئی کہ دوکان اٹھاو ¿ ، بھاگو اس کے لیے انھیں ہمیشہ تیّار رہنا ہوتا۔ تب وہاں میونسپل کارپوریشن نہیں تھا ۔ سب سڈکو کے ما تحت تھا ۔ غیر قانونی عمارت سازی ہوتی ۔ بغیر لائسنس یا معاہدے کے ہاکرس، سڑک کی جگہ پکڑتے ۔ٹھیلہ لگاتے یا سڑک کے کنارے گاڑی کھڑی کر لیتے اور دھندا شروع …….. کبھی کوئی مانگ ہو یا قیمیتیں بڑھانی ہوں تو ان کی یونین کی میٹنگ ہوتی ۔ شاید اس کی ممبر ہونے کی وجہ سے اس کی سب سے بُری چیز اس کی زبان تھی ۔درشت زبان، نرمی ذرا نہیں تھی ، کسی کا لحاظ نہیں تھا ۔

٭ سی بی ڈی بیلا پور دوسری ممی

سی بی ڈی بیلا پور میں مینکا کا گراو ¿نڈ فلور پر ڈھائی بیڈ روم ، ہال، کچن کا فلیٹ تھا۔پیلیا سے ٹھیک ہو کر ، اسپتال سے سیدھے ہم اُسی کے گھر گئے ۔

 ایک دن میں نے ڈیڈی سے پوچھ لیا۔

– ’ پتہ ہے اِن کی شادی ہو چکی ہے ؟“ میں نے اس کے برتنوں پر مسز مینکا گپتا لکھا دیکھا تھا۔

” ہاں پتہ ہے !“مجھے برا لگا ۔ڈیڈی کو سب پتہ ہے ، پھر بھی ……..!

-” اُس کو ممی بولو ۔“

-” نہیں ۔کیوں بولوں؟“ …….. وہ مجھے مارتے …….. پھر بھی جب تک مینکا کے گھر رہاتھا ، ڈیڈی میرا خیال رکھاکرتے تھے ۔

مینکا کا گھر بہت گندا تھا ۔ اس گھر میں دو کتّے بھی تھے ،جنھیں بہت بارباہر نہیں لے جاتے تھے ۔ فلیٹ میںایک کمرہ کتوں کابھی تھا ۔ کچن میں پانی کیچڑ بن کر چپچپاتا رہتا ۔ گندی زمین پر جھینگر رینگتے۔ دیکھ کر اُبکائی آتی ۔

– ’کہاں آ پھنسا !…….. ڈیڈ ی بے لگام ہو گئے ۔ انھیں یا د نہیں رہا ،کہاں اور کیا کررہے ہیں ؟ ___شاید ان کی حالت بھی ویسی ہی ہو جیسی کسی ایسے نوجوان کی جسے اچانک آزادی ملی ہو، میں سوچتا ۔ …….. جیسے آج آر بی کی ہے_آج سوچتا ہوں_

سی بی ڈی بیلا پور کے اس گھر میں رہتے ہو ئے میری دوستی ساحل سے ہوئی ___ آج بھی وہ میراسب سے پیارا دوست ہے ۔ وہ اکیلا انسان ہے جس کے ساتھ رہ کر میں پوری دنیا کو بھول جاتا ہوں ۔ ساحل کے ڈیڈی ایک حادثے میں چل بسے تھے ۔ اس کی ماں کو میں موسی بلاتا۔ اس کے گھر جا کر کھانا کھاتا اور کبھی کبھی وہیںسو بھی جاتا ۔ دن میںاُسی وقت مینکا کے گھر جاتا ، جب ڈیڈی گھر میں ہوتے، وہ بھی صرف کپڑے بدلنے کے لیے ۔

نئی ممبئی میں سی بی ڈی بیلا پور علاقے کا ماحول بہت اچھا ہے۔ یہاں بہت سکون ہے ۔ پوری نئی ممبئی میں سب سے زیادہ ہر یالی یہیں دکھائی دیتی ہے ۔ پولیس اسٹیشن کے پیچھے اور بس اسٹینڈ سے لگا ہوا ایک بڑا آم کا بغیچہ ہے ۔ نیرول، واشی،جوئی نگر، پنویل جیسے نئی ممبئی کے علاقوں میں جیسی سہولتیں ہیں ویسی یہاں بھی ہیں ۔ یہاں سیکٹر چاراور چھ میں بڑے مارکیٹ ہیں ۔ شام کو گھومنے کے لیے اچھی جگہیں ہیں ۔ یہاں میرے بہت سے دوست بن گئے ۔ ساحل کے ساتھ کی یادیں کچھ گہری ہیں ___مجھے یہ پورا علاقہ اچھا لگتا ہے ۔ سیکٹر آٹھ میں بند باندھے ہوئے ہیں ۔ اس کے قریب ’ آرٹسٹ ولیج‘ ہے ۔ سڈکو کے پلاٹ پر بنے ہوئے ، چھوٹے چھوٹے گھر کاٹج نما تھے ۔ آج یہاںان گھروں پر سان پاڑہ جیسی ہی ایک اور دو منزلہ عمارتیں بن گئی ہیں ۔ سی بی ڈی میں سڈکو کی نرسری بڑی فطری لگتی ہے ۔ شیڈیولڈنیٹ یعنی جالی یا ہرے شیڈ میںپودے نہیں لگائے گئے ہیں ۔ پہاڑ کی ڈھلان پرفینسنگ میں وہ اپنی بہار دکھاتے ہیں ۔

 سنیچر اور اتوار کو ہم دوست سیکٹر آٹھ کے اندرونی کنارے پر پہاڑوںپر گھومنے جاتے۔ یہیں سے تو پورا پہاڑ شروع ہو تاہے ۔ یہ علاقہ تینوں طرف سے پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے ۔ یہاں بارش اچھی ہوتی ہے ۔ دھول کثافت ممبئی کے مقابلے میں کم ہے اور علاقہ ٹھنڈا رہتاہے ۔ پہاڑ کی دوسری طرف نیرول ہے۔

” مینکا کے ساتھ نہیں رہوں گا ۔“، ایک دِن میں نے کہہ ہی دیا۔اور بس چاٹے کلاس میں دسویں کے ٹیوشن کے لیے ڈال دیا گیا اور ڈیڈی کے ساتھ ایک کرائے کے گھر میں رہنے لگا ۔

ساحل کے فرصت کے اوقات میرے وقت کے ساتھ میل نہیں کھاتے تھے ۔ دوست ڈھونڈ رہا تھا۔ یہاں ، اس علاقے میں لڑکے زیادہ نہیں تھے۔ لڑکیاں ہی لڑکیاں دکھائی دیتیں ۔

” ہائے! نیاہے ؟“ ریکٹ والی ایک لڑکی نے آواز لگائی ۔

”ہاں !“ میں نے جواب دیا ۔

” کھیلو گے ؟ دوستی کرو گے ؟“ ، میرے وہاں جانے کے ایک مہینہ پہلے ہی شلپی اپنے گاو ¿ں سے یہاں آئی تھی ۔اچھی رنر تھی ۔ اسکول کے اسپورٹس ڈے میں حصہ لیتی ۔ اس دن میں نے چھوا چھووّل میں اسے خوب دوڑایا ۔ آخر پکڑاگیا ۔ اُس دن اُس سے حسد بھی محسوس ہو ئی ، متاثر بھی ہوا …….. اس وقت کوئی خیال نہیں بنا تھا …….. جذبات بھی کوئی نہیں تھے ۔میں نے سوچا،’ چلوٹائم پاس کر لیتے ہیں ‘۔

”چلو ایک دوسرے کو جان لیتے ہیں ۔“اُسی وقت اُس نے پوچھ لیا۔

ہم باہر ملتے ۔

” کھانا کون بناتا ہے ؟“

”اکیلے کیوں رہتے ہو؟“، سب کچھ وہی کہتی ۔

 وہ سائی ناتھ اسکول میں گانے کی کلاس میں جاتی ۔ میں اسے سائیکل پر ملنے جاتا ۔ بارش میں دونوں بھیگتے ہو ئے آتے ۔ اس کے پاس بھی سائیکل تھی۔

ایک دن ہم بھیگتے ہوئے آ رہے تھے ۔

” قریب آو ¿۔“ اس نے کہا اور خودہی قریب آکر میرے سینے سے لگ گئی ،بولی،

” آئی لو یو ۔“

” تھوڑی دیر ایک دوسرے کو جان لیتے ہیں ۔“ ، وہ پھر گہری سانس لے کر بولی ۔

اس کا صبح کا اسکول تھا ۔تیار ہو کر بلڈنگ کے نیچے انتظار کرتی رہتی۔ میرا اسکول دیر سے تھا ۔ پھر بھی میں گھر سے نکل جاتا۔ دونوں ساتھ ساتھ سائیکل چلاتے ہو ئے اسکول جاتے ۔ مجھے اس سے بڑا لگاو ¿ ہونے لگا تھا ۔ اس کو اپنا ہر احساس بتاتا ۔ شاید مجھے کسی کی ضرورت تھی جو میرا حوصلہ اور اعتماد بڑھائے ، رہنمائی کرے ، پڑھنے کی تحریک دے ۔

ڈیڈ ی کی سکینڈ شفٹ تھی ۔ میں پڑھائی کرنے کے لیے ٹیبل پر بیٹھا تھا ۔ در وازے کی طرف سے شلپی آتی ہوئی نظر آئی ۔ اس نے مجھے بر آمدے میں بلایا اور ہاتھ میں چٹھی تھما دی ۔

’ بعد میں پڑھوں گا ‘ ، میں نے اپنے آپ سے کہا اور دوڑ کر گھر کے اندر گیااورچٹّھی کو ٹیبل پر رکھکراس کے پاس لوٹ آیا۔وہ میرے سینے سے لگ گئی۔مجھے کچھ یاد آیا، پلٹ کر دوڑا۔ چٹھی ٹیبل پر پڑی تھی ۔اطمینان ہوا۔ اسے کتاب کے نیچے رکھا ۔ دوبارہ برآمدے میں لوٹا ۔ وہ پھرسے میرے سینے سے لگ گئی ۔ اتنے میں ڈیڈی آگئے اور ہمیں گھورتے ہوئے نکل گئے ۔

” بعد میں ملتا ہوں “، میں نے اسے اپنے سے دور ہٹایا۔

”ارے! چٹھی ٹیبل پر ہے!“ ،…. اچانک یاد آیا …. اندر بھاگا۔ ڈیڈ ی کے ہاتھ میں چٹھی تھی____ا س میں کیا لکھا تھا ؟ کبھی نہیں پڑھا ۔

” کیوں بھئی ! بڑے ہو گئے ہو؟ جب تمھاری عمر کا تھا ، میں بھی یہی کرتا تھا …. مگر یاد رکھنا ، پڑھائی پر اثر ہو گا ……..کون سی عمر میں کیا کرنا چاہیے تمھیں ہی طے کرنا ہوگا۔ ہم نے بھی ایسا بہت کیا۔ مگر یاد رہے، پڑھائی پر اثر نہ پڑے “۔

” تمہارا لیٹر تو بھیگ گیا اور پھٹ بھی گیا ۔ کیا لکھا تھا اُس میں ؟“ میں نے شلپی سے بہانہ کیا ۔

” تم مجھے اچھے لگتے ہو ۔ تمھارے ساتھ وقت گذارنا اچھا لگتا ہے ۔ آل ویٹ رومانٹک اسٹوری یو ‘نو !“ ، اس نے مزے لے لے کر اپنے خط کے بارے میں بتایا۔

” دیکھو تمھارابیٹا کیا گُل کھلا رہا ہے! “،انھیں دنوں مما اور ڈیڈی کی کسی رشتہ دار کے گھر ملاقات ہوئی تھی ۔ جُدا ہونے کے بعدوہ ان سے پہلی بار بولے تھے ۔ مما چپ تھیں ۔

اس رات مینکا ہمارے کرائے والے گھر آئی تھی ۔

” تو نے میری زندگی برباد کی ۔ تیرے ساتھ میں کبھی خوش نہیں رہ پاو ¿ں گی ۔ دھوکا دیا …….. قسم سے تو نے مجھے دھوکا دیا ۔“ ،وہ ڈیڈی پر چیختی رہی ۔ پھر وہ دندناتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی ۔

اگلے دن صرف ایک دن کاوعدہ کرکے ڈیڈ ی مجھے مینکا کے گھر لے گئے لیکن ہم وہاں ایک ہفتہ رہ گئے ۔ان دنوں شلپی سے بات نہیں ہو ئی ۔ بعد میں گھر لوٹ کر میں نے اسے فون کرکے پوچھا ،

” کیا پرابلم ہے ؟ بات کیوں نہیں کر رہی ہو ؟“

” یہاں فو ن مت کرنا ۔“ ، میری آواز سن کر شلپی نے فون اپنی ممی کو دے دیا تھا ۔

ہر بار یہی ہونے لگا ۔ پہلے وہ فون اٹھاتی اور میری آواز سن کر اپنی ماں یا ڈیڈی کو فون دے دیتی ۔ میں فون بند کر دیتا ۔ دھیرے دھیرے میرا فون کرنا کم ہو گیا۔ پھر بند ہو گیا ….پچھلے دنوں فون کیا تھا ۔ اس کی سالگرہ تھی مگر اس کی آواز سنے بغیر رکھ دیا ۔

ڈیڑھ سال بعد شلپی سے کالج کے باہر ملا ۔وہ ” فادر ایگنل“ کے جونیئر کالج میں پڑھتی تھی۔

” کیوں کیا ہوا ایسا؟…….. میں نے کیا کیا تھا؟“، میں نے تڑپ کر اس سے پوچھا۔

” اب وہ سب ختم ہو گیا ۔…….. کتنے دنوں سے ملے نہیں، آج اچانک ملے ہیں تو فائدہ کیا یہ پوچھنے کا ؟“

” اتنا آسان ہے یہ کہنا ؟“

” ہاں “،اس نے رکھائی سے کہہ دیا ۔ کیا بولتا ! چلا آیا ۔

پھر کبھی اس سے بات نہیں کی نہ کبھی ہم ملے ہی۔ہاں ’آرکُٹ‘پر اسے دوستی کا اِنوِٹیشن بھیج دیاتھا۔ آج کل ’فیس بُک ‘اورواٹس ایپ‘پرایک دوسرے کو کوئی کامن سی بات یاجوک وغیرہ بھیج دیتے ہیں۔کبھی کبھی وہ ٹویٹ کرتی بھی نظر آجاتی ہے۔بس سوشل نیٹ ورکنگ کا ہی رشتہ رہ گیا ہے۔

”کیسے ہو؟“

” ٹھیک“ ، اب کچھ ہے ہی نہیں بات کرنے کو ۔

” ہاو ¿ از لائف؟“

”امتحا ن کیسے گئے ؟“بس اتنا ہی۔

اب وہ انجینئرنگ کے آخری سال میںہے ۔ شاید میری فرینڈبنانے کی درخواست پر جواب دینے پر مجبور ہوئی ہو ۔مجھے بھی پتہ ہے ۔ جب تک میں اذیت نہیں دیتا، تبھی تک فیس بک پر یہ سلسلہ چلے گا ۔اگر ایک سے دو بارپوچھ لوں کہ ” میں نے کیا غلط کیا ؟“ تو اپنے دوستوں کی فہرست سے نکال دے گی ، سوچتا ہوں جب اس کو یاد آئے گی، تو خود پوسٹ یا پیغام چھوڑ دے گی! ___مگر ایسا ہوتا ہی نہیں ۔

جب شلپی زندگی میں تھی ،اس دوران میں دسویں میں تھا ۔اور آج!!!!آج بھی آج جب کچھ لوگ مجھے ابنارمل کہتے ہیں!

” بھول جا ۔“ لوگ کہتے ہیں ۔ کبھی لگتاہے ، یہ سب چھوڑدوں ، سب رشتوں سے دور چلا جاو ¿ں۔

کئی بار سوچتا ہوں ، ہر وہ چیز جو میرے ساتھ ہوئی ہے ، اسے یاد رکھوں ۔

” تو ابنار مل ہے ، سنکی ہے ۔“، آج مما کہتی ہیں۔

آج مما مجھے الگ نہیں ہونے دیتیں ۔ اکیلا رہنا چاہتا ہوں، مگر ہم ساتھ ہیں۔ ہم ساتھ ہیں ، مگر دور دور تک ساتھ دکھائی نہیں دیتا ۔

” بارہ سے پہلے گھر آجا ۔“

” سوجا۔“

”کھانا وقت پر کھا۔“

بھوک لگی تو پانی پلائیں گے ۔ پیاس لگے تو تیکھا کھلائیں گے ۔ اس قسم کے لوگ ہیں۔

” تم نے مجھے آج تک ایک روپیہ بھی نہیں دیا ۔“، کبھی کبھی مما مجھ سے شکایت کرتی ہیں ۔

اب کیاکہوں !

ہم ایک دوسرے سے غیر متعلق رہتے ہیں __وہ اپنا جئیں، میں اپنا ۔مجھے ان کی زندگی سے کچھ لینا دینا نہیں ۔ ان کی مدد کروں گا مگر لینا نہیں چاہتا ____ہاں اگر ضرورت پڑ ہی گئی تو مانگ لوں گا ……..مگر مفت نہیں ………… کیوں کہ باتیں بھی سننی پڑیں گی نا!

میں نے ٹیبل کی دراز سے ڈائری نکالی، لکھا ،

”فلیٹ میں مما نل کھلا چھوڑ گئیں ۔ ©“

”میری ایک ڈائری اورکئی ڈرائنگ خراب ہو گئیں ۔“

”آج مما سے خوب جھگڑا ہوا ۔“ اور ڈائری بند کر دی۔

٭ ڈائری

پہلے میں ڈائری لکھتا تھا ۔شروعات میں مراٹھی میں، پھر انگریزی میں لکھنے لگا۔ جس ڈھنگ سے سوچتا تھا اسی ڈھنگ سے لکھتا تھا _____وجہ ! ………… اپنے آپ سے باتیں کرنا ۔ ڈیڈی کو ڈائری مل جاتی تو وہ اسے پڑھتے ، جھگڑتے اور اسے پھاڑ کر پھینک دیتے ___پھر بھی جب کبھی مجھے لگتاکہ لکھنا چا ہیےمیں ضرور لکھتا ۔

قدرت ہمیشہ میرے ساتھ ہے ۔ آٹھویں تک میں ہر سنیچر کو ہنومان مندر جاتا ۔ ساحل کو بھی ساتھ لے جاتا __ _آج میں ناستک ہوں ۔

 ساحل شادی شدہ ہے ۔ اس نے اپنے ماما کی بیٹی سے شادی کی ہے ۔ اس کی بیوی ڈیلوری کے لیے اپنے مائیکے ناسک گئی ہوئی ہے ۔ آج بھی جب کبھی فون کرتا ہوں …….. وہ چلا آتا ہے ۔ یا مجھے گھر بلا لیتا ہے ۔ ہماری دوستی ، پیاریا جو بھی کہیے ، خالص دوستی ہے ۔ وہ میری ذہنیت اور سوچ کو سمجھتا ہے ۔

” یوں نہیں یوںکرنا چاہیے ۔“ غلط ہوں ، تو کہتا ہے ،جھڑکتا بھڑکتانہیں ۔ساحل کی دوستی میں کبھی کمی بیشی نہیں محسوس ہو ئی مگر مما!!! مما اب پیار جتاتی ہیں ۔ لیکن یہ پیار اچانک کہاں سے آگیا ؟سمجھ میں نہیں آتا ! ماں باپ کے بارے میں میرے دل میں بڑی کڑواہٹ ہے …………شاید ڈیڈی کے بارے میں کچھ کم ہو ___وہ پیار نہیں جتاتے۔دوری رکھ کر پیش آتے ہیں ۔

” یہ مت کرو …….. ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔“، کہہ کہہ کر کسی معاملے میں ٹانگ نہیں اڑاتے ۔ کبھی کبھی کہتے ضرور ہیں لیکن سب کچھ ہو جانے کے بعد ۔ مماسے کہوں تو فوراً ٹوک دیتی ہیں ___بچپن میں موقع تھا ، ہمیں شکل نہیں دی ۔ اب کِلے یا چکنی مٹی کی طرح سوکھ کر اپنے آپ ڈھل گیا ، تو یہ لوگ شیپ بگاڑنا چاہتے ہیں ____اوریہ سب ماں باپ کے ہاتھوں

مجھے یاد آتا ہے بچپن میں جب مما کام پر جاتے ہو ئے مجھے اوربھائی کوبستر سے اٹھاکر کھڑا کر دیتی تھیں ۔وہ وقت ہمارے بننے کاتھا مگر انھیں گھر میں ہمیں تہذیب سکھانے کا وقت نہیں تھا ___مما پوسٹ آفس میں نوکری کرتی تھیں ۔ اس وقت ان کی تنخواہ چار پانچ ہزار رہی ہوگی ۔ مانتا ہوں …….. مما نے گھر چھوڑنے تک بہت سہا ۔

٭ بچپن

مجھے بچپن یاد ہے ۔ پہلی کلاس میں تھا ۔مما کے پیٹ پر بیٹھ کر لہک لہک کر ، ان کے کان پکڑ کر،ان کی آنکھوں کو اپنی انگلیوں سے کھول کر بڑاکرتا ہوامراٹھی میںگیت گاتا ۔جیسے وہ ہی خرگوش ہوں ،

” سسارے سسا

دِستوس کسا

پیولے پیولے ڈولے

ایولے موٹھے کان

گوت کھاو ¿ں

پُُھگتوس ٹُم“

” اب تو اسکو ہندی میں گا“، وہ مجھے کھیل کھیل میںہندی سکھاتیں ۔

” خرگوش ارے او خرگوش / تو کیسا دکھائی دیتاہے / پیلی پیلی آنکھیں / اتنے بڑے کان / گھاس کھا کر / پھولتا ہے ٹُم !“، مجھ سے ٹوٹی پھوٹی ہندی کویتا سن کر مما خوب ہنستیں ۔ مجھے گدگداتیں ، ہنساتیں ۔

” اب آپ کی باری “، میں ضد کرتا ۔

” اچھا!اب میں تجھے ایک گیت سناتی ہوں۔ دیکھ باہر بار ش ہو رہی ہے ناچھم چھم! تو سن ، وہ گانے لگتیں، میں جھومنے لگتا۔

”ناچ رے مور ا امبیا چیا و نات

ناچ رے مورا ناچ

ڈھگاشی وارا جھُنجلا رے

کالا کالا کاپوس پِنجلا رے

آتا تجھی پالی، ویج دیتے تالی

 پُھُلوَ پِسارا ناچ“

” اب آپ ہندی میں اسے گایئے مما ۔“، میں انھیں کسی طرح نہیں چھوڑتا ۔

”ناچ رے مور ناچ / آم کے باغوں میں تو ناچ/ ناچ رے مور ناچ /ہوا باد لوں سے ٹکرائی/ کالے کالے بادل روئی جیسے دُھنکے / اب تیری ہے باری / بجلیاں دیتیں تالی / تو پنکھ پھیلا کر ناچ / ناچ رے مور ناچ ۔“

”شاباش“، میں تالیاں بجا کر مما کو شاباشی دیتا۔

صبح مما آفس جاتے ہو ئے اٹھاتیں ۔میں اور نکھل اٹھ کردوبارہ سو جاتے ___ اسکول دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے شام ساڑھے چھ بجے کا تھا ۔ گھر لوٹتے تو اکثر ڈیڈی کی بھابھی یعنی ہماری چاچی ، بوا یا کوئی نہ کوئی رشتہ دار وہاں موجود ہوتا ۔ شاید اسی لیے دن میں جتنا بھی وقت ملتا ، پڑوس کے بچوں کے ساتھ ڈبّہ ایکسپریس …….. یہ …….. وہ، جانے کیا کیا کھیلتا رہتا۔

ایسا خوبصورت بچپن! اور اب میں اسی ماں سے ابنارمل پکارا جاتا ہوں!!!

٭ شاید چار لڑکیاں

شاید اسکولی زندگی میںمیری زندگی میں چار لڑکیاں آئیں ، مِلی، زاہدہ، شِلپی اور رانی

٭ مِلی:

بچپن کی وہ اسکول کے دنوں کی محبت تھی ۔ کیتھلک عیسائی صاف رنگت کی مِلی مجھے اچھی لگتی ___ساتویں کلاس میں پڑھتا تھا ۔ مشکل سے بارہ سال کا تھا ۔ میں اور ڈیڈی سی بی ڈی کے سیکٹر آٹھ میں مینکا یعنی ڈیڈی کی دوسری بیوی کے گھر رہتے تھے ۔ میں گھر سے باہر ہی زیادہ تر وقت گذارتا ۔ کالونی کے سارے لڑکے ملی کے پیچھے پاگل تھے ۔ وہ مجھ سے باتیں کرتی تھی ۔ ہم اچھے دوست بن گئے ۔

” چل پروپوز کر کے دیکھتے ہیں ۔“ ایک دوست بولا ۔

” ’ ہاں ‘، بلوا کر رہنا ۔“

اس نے بھی ’ہاں ‘کہہ دی ۔ کالونی میں چار عمارتیں تھیں ۔ چاروں کے درمیان مشترکہ گراو ¿نڈ تھا ۔ ہم یہیں باتیں کرتے تھے ۔ یہ پپی لَوpuppy loveتھا ۔

” اِس کے ساتھ مت رہو ۔وہ ایک خراب لڑکا ہے ۔“، اس کے گھر پتہ چل گیا تھا ۔

” تمہاری عمر کیا ہے ؟………… تمہارا دماغ کہاں جا رہا ہے؟“، اس کے انکل نے میرے سامنے ہی ملی سے کہہ دیا ۔

” یہ لڑکا ٹھیک نہیں ۔ اس کے ڈیڈی کیسے ہیں ، پتہ ہے؟…….. مینکا کے ساتھ رہتے ہیں۔“

اس دن کے بعد ہم دونوں کا گراو ¿نڈ پر جانا بند ہو گیا ۔ ہم بھول گئے ۔کبھی یاد نہیں آئی ۔ اب پچھلے دنوںمِلی ملی ۔ اس کی شادی ہو چکی تھی …….. اب وہ اچھی نہیں لگتی ۔

٭ زاہدہ:

 اس واقعے کے بعد دو تین دن گھر رہا ۔ پھر ساحل کے گھرجانے لگا ۔ اس کی بلڈنگ کے کمپاو ¿نڈ میںکھیلتا ۔

میری سالگرہ تھی ۔ ڈیڈی نے سب کو مینکا کے گھر پارٹی کے لیے بلایا ۔ انھوں نے مجھے ایک سوٹ بنوا دیا تھا ۔

ہیما، ساحل کے گھر کے سامنے والے گھر میںرہتی تھی ۔ زاہدہ ا سکی سہیلی ، دیکھتی رہتی …. میں کیسے کھیلتا ہوں ،کیسے ہنستا ہوں ۔

”زاہدہ کو بات کرنا ہے …….. کچھ کہنا ہے تجھ سے ، باہر آ۔“ہیما نے چپکے سے کہا۔برتھ ڈے کا کیک کاٹنے کے بعد میں باہر آیا ۔ ہیما اور زاہدہ وہیں کھڑی تھیں۔

” شی لَوزیُو “ ، ہیما بولی ۔

” کیا یہ سچ ہے ؟‘ ‘ میں نے سیدھے زاہدہ سے پوچھا ۔

” ہاں “ اس نے جواب دیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔ میں نے اسے دھیان سے دیکھا ۔ گوری ، دبلی خوبصورت آنکھوں والی ۔

” میں بھی ہاں“ میں نے فوراً کہا ۔

” ساحل ،پتہ ہے ،زاہدہ نے مجھے پرو پوز کیا!“، میں ساحل کے پاس یہ خوش خبری سنانے کے لیے دوڑا تھا ۔

” ہاں ،پتہ ہے ۔“

” تجھے پتہ تھا، مجھے نہیں !“

”ہیما تجھے بتانے ہی والی تھی نا!“

ایک ہفتہ عشق چلا ۔ ہم پانچ دس منٹ ملتے لیکن میری گرل فرینڈ ہے ، یہ فخر رہتا۔

اس وقت تک وہاںکسی اور لڑ کے کو گرل فرینڈ نہیں ملی تھی ۔ ہم دونوں نے ساتویں جماعت کا امتحان دیا تھا ۔

” ساحل تو بھی چل ، ہیما تو بھی ۔“ زاہدہ نے اپنے گھرکھانے پر بلایا ۔

”کیا ہے؟“

”میرا عقیقہ ہے۔“

”یعنی؟“

”تم مُنڈن کہہ سکتے ہو۔“

”تو ٹکلی ہو جائے گی!“ ہم سب ہنسنے لگے ۔وہ چونکی۔

”نہیں نہیں۔وہ میرے جمال بال میرا مطلب ہے ، پہلی بار اُس وقت مونڈ چکے ہیں جب میں سات دنوں کی تھی۔اب صرف بکرے کی قربانی دیں گے۔“

”تو بکرا کھلاو ¿گی؟“

”ہاں پورا بکرا، بریانی میں۔“ وہ ہنسی۔

”میٹھا بھی ہےزردہمیٹھے چاولوں کاہُم!“

”ہم تینوں اُس کے عقیقے میں گئے تھے۔اُس کے بہت سے رشتے دار آئے تھے۔ زاہدہ نے ہمیں اپنے گھر والوں سے ملایا ۔اس کے ابّا نہیں تھے ۔ وہ یتیم اپنی ماں اور دو بھائیوں کے ساتھ رہتی تھی ۔

 چار پانچ مہینے بعد ایک دن زاہدہ ساحل کے کمپاو ¿نڈ میں نظر آئی ۔

” ارے یار ! سب کو پتہ چل گیا ۔ اب کچھ نہیں ہو سکتا ۔“ اس کی بات سن کر میں پریشان ہوا۔

” چل راکھی باندھتے ہیں ۔“زاہدہ نے اچانک کہا ___میں نے ہاتھ بڑھا دیا …….. کچھ سوجھا ہی نہیں ۔

” یہ کیا کر رہا ہے؟“ ، ساحل اشارے میں بولا ۔

” میں کیا کروں ؟“ ، کہنے کے انداز میں میں نے کندھے اچکائے …….. میرے خیال میں بھی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہوسکتاہے ۔

’ ’ تیری جگہ میں ہوتا تو طمانچہ لگاتا“، ساحل آج بھی کہتا ہے ……..

سوچتا ہوں اب وہ بہت بدل چکی ہو گی ۔

میری انگریزی اچھی تھی …….. اس پرزاہدہ لٹو تھی ۔ یقین ہی نہیں کیا کہ میں مراٹھی میڈیم سے ہوں۔ لڑکیاں خوبیاںدیکھ کر آتی ہیں ۔ بھرم ٹوٹا کہ اڑن چُھو

” لڑکیاں کیسے پٹتی ہیں بے تجھ سے!“، دوست پوچھتے۔

” مجھے نہیں پتہ !“

اس کے بعد تین سال تک کوئی کوشش نہیں ہوئی۔

ان دنوں میں بندر کی طرح چھلانگ لگاتا ، جوکرکی طرح کامیڈی کرتا ۔ حد سے گذر کراسکیٹس اور سائیکل کے کرتب کرنا ، ساحل کے ساتھ گھر سے باہروقت گذارنا…….. اتنی شرارتیں، اتناایڈوینچرہم رات ساڑھے دس بجے سے ڈیڑھ بجے تک سیکٹر چار سے چھ کے بیچ چکرلگاتے ۔ گرودوار ے کے آس پاس بھی ۔

YMCAکے دو کوچ بھی بہت سے بچوں کےساتھ وہاں ہوتے ۔ اور بچوں کے ساتھ میںاور ساحل بھی ان سے اسکیٹنگ سیکھتے ___ویسے بھی کوئی ہمیں ٹوکنے والا نہیں تھا۔ ساحل کی ممی کو حالات کاپتہ تھا ۔ وہ بھی ساتھ دیتیں وہ مجھ سے بڑی محبت سے پیش آتیں۔

” کیابار بار جاتا ہے ساحل کے گھر ؟“ڈیڈی کبھی کبھی چلاتے ۔

” مجھے یہاں اچھا نہیںلگتا ، اس لیے جاتا ہوں ۔“

ڈیڈی کو بھی شاید پتہ تھا کہ مجھے اپنے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔

ڈیڈی بھی جانتے تھے ، میں وہ دن بھول نہیں پاتا تھا، جب ہمارے گھر میں مما اور ڈیڈی کے درمیان کشمکش شروع ہوئی تھی۔

٭ گالیاں

” سرکاری نوکری میں ہوõõ ہارے کہ گئے ۔یہ چکّر چھوڑو۔“، اُن دنوں الیکشن میں مما نے کہا تھا ۔

” اپنے بھائی کومت بتانا کہ میں چناو سے پیچھے ہٹا ہوں ۔“، ڈیڈی نے ایک دن مما سے کہا تھا لیکن وہ تو پہلے ہی بتا چکی تھیں ۔شاید تبھی سے ممی ڈیڈی میں ان بن شروع ہوئی تھی۔

اور پھر میری زندگی میں وہ دن بھی آگئے جب رات کے وقت ڈیڈی مجھے پی سی اولے جاتے،” ماں کو گالیاں دے۔“پبلک فون کا رسیور میرے کان پر زور سے دبادیتے، ”تیری ماں نے ………… ایسا کیا …….. ویسا کیا …….. تو اس کو گالیاں دے “، وہ شراب کے نشہ میں ہو تے ۔ مجھے جھنجھوڑتے …….. پیٹتے ____میں اپنی ہی ماں کو گالیاں دیتا اورروتا …….. مما سے کہہ نہیں پاتا کہ یہ الفاظ میرے نہیں ۔ وہ ضرور دکھی ہوتی ہو ں گی ۔ وہاں سے لوٹ کر میں آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے آپ میں کھو جاتا ۔

’ مما میری ہی طرح تو دکھائی دیتی ہیں ….‘، میں مما کہہ کہہ کر خود سے باتیں کرتا۔

٭ تلسی کی مالا

 نانی دیکھنے میں بہت کڑک ، بہت سخت لگتی ہیں ۔ وہ گلے میں سونے کی موٹے موتیوں کا ہار اور ہاتھوں میں کانچ کی چوڑیاں پہنتی ہیں ۔ نانا کے رہنے تک ہاتھ بھر ہری چوڑیاں بھی پہنتی تھیں ۔گلے میں تلسی کی مالا بھی پہنے رہتی ہیں ۔ وار کری ہیں نا! مانس مچھلی نہیں کھاتیں ۔ مما بھی ویسی ہی ہیں مگر مما تلسی کی مالا نہیں پہنتیں ۔ منگل سوتر پہنتی ہیں ، جسے انھوں نے دو تین بار بدلا ہے۔ڈیڈی کا سرنام بھی نہیں بدلا۔ میں نے کبھی پوچھا بھی نہیں ………… شاید اس لیے کہ سر نام الگ ہونے سے ہم سے نام کا ربط ٹوٹ جائے گا !

ڈیڈ ی نے مما اور بھائی کا نام راشن کارڈ سے پہلے ہی کٹوا دیاتھا ۔

” یہاں سے نام کٹوا کر اپنا راشن کارڈ بنا لے ۔“ ، اب وہ مجھ سے طنز سے کہتے ہیں۔

” تینوں کا ایک راشن کارڈ بنائیں گے !مماکہتی ہیں ۔

مما بہت کم زیور پہنے رہتی ہیں ۔گلے میں منگل سوتر ، کان میں چھوٹے چھوٹے بُندے ، دونوں ہاتھوں میں دو چوڑیاں۔ کبھی کبھی گھڑی بھی پہن لیتی ہیں ۔ ان کے بال گھنگھرالے ہیں۔

تو مجھ جیسا دکھائی دیتاہے، پتہ ہے کہ نہیں؟“

”ہاں۔ بس ذرا رنگ میں فرق ہے ۔“

”میں سانولی ہوں نا؟ مگرتجھ سے صاف رنگ ہے ۔تو مجھ سے زیادہ سانولا ہے اور مجھ سے بہت دبلا !“، وہ ہنس دیتی ہیں۔

 میری یاد میں، پہلے ان کے بال ایڑی تک لمبے تھے …….. بال ا ب بھی کالے ہیں ۔ اڑتالیس کی عمر میں آج بھی کالے گھنے بال ۔ شادی سے پہلے ان کے بال گھٹنوں تک لمبے تھے، بعد میں کمر تک ہوئے ، اب پیٹھ تک کٹ گئے ہیں ۔ ہمیشہ وینی یعنی چوٹی باندھتی ہیں۔ ان کی آنکھیں میری طرح ہیں ، سندر، کالی۔ مما پہلے دبلی تھیں۔ اب تھوڑی موٹی ہو گئی ہیں ۔ ایک عام کام کاجی عورت۔ آج کل زیادہ ترساڑی پہنتی ہیں۔ پہلے شلوار قمیص پہنتی تھیں ۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی ہتھیلی چھوٹی ہے اور انگلیاں ہتھیلی کی بہ نسبت زیادہ چھوٹی ہیں ۔ پیروں کا بھی یہی حال ہے ۔پیر میری طرح چوڑے ہیں اورپیروں کی انگلیاں چھوٹی۔ ڈیڈی کی طرح میری انگلیاں بھی لمبی ہیں۔ مماکی ناک ایک دم سیدھی ہے اورآگے ذرا سی مڑ گئی ہے ۔میں اسے کہتا ہوں ،

” تُجھا ناک چِیٹکِن سارکھا آہے۔ مکڑی فلم میں شبانہ اعظمی نے جیسے چڑیل کا رول کیا تھا، بس ویسی ہی گھنی گھنی بھنوو ¿ں کے ساتھ !“…….. میری بات سن کرمما ہنستی ہیں۔انھیںسجنا سنورنا اچھا لگتا ہے مگر عام طور پر لپ اسٹک نہیں لگاتیں۔ فاو ¿نڈیشن پاو ¿ڈر کاجل لگا کر کام پر جاتی ہیں۔

٭ پونا : آٹھویں کلاس

” ڈیڈ ! مام اسکول ملنے آئی تھیں ۔“

میں اس وقت آٹھویں کلاس میں تھا ۔

” اگر میں تجھے پونا کے اسکول میں ڈالوں تو !“، میری بات سن کر وہ پریشان ہو کر بولے تھے۔

” چلے گا ۔“ میں نے فوراً جواب دیا تھا ۔ مجھے پتہ تھا ڈیڈی نے ایسا کیوں پوچھا ہوگا! …….. مینکا کے لیے میں ہمیشہ ا ڑچن تھا ۔کیوں کہ ڈیڈ ی اس سے کہتے،

” اِس کے حساب سے کھانا کیوں نہیں بنتا ۔“مجھے سبزی اچھی لگتی تھی ۔ڈیڈ کی بات سن کر وہ میری طرف دیکھتی۔ مینکا کی نظروں میں جانے کیا تھا کہ میں اپنی نظریں جھکا لیتا ۔ وہ اکثر کالی مسور کی پتلی دال اور پتلی پتلی روٹیاں بناتی ۔ اسکول کے ٹفن میں بھی وہی دیتی۔صبح کی بنی ہوئی دال رات تک چلتی رہتی ۔ میں اکثر بغیر کچھ کھائے گھر سے نکل جاتا ۔ شاید تبھی کی عادت ہے کہ آج بھی چار دنوں تک بغیر کھائے رہ سکتا ہوں اور آج بھی اتنا دبلا ہوں ۔

” باہر جا کر کھا آو ¿۔“ ڈیڈی سے پیسے مانگتا تو وہ دس بیس روپے دے دیتے۔ وڑاپاو ¿ کھاتا اور دوستوں کے ساتھ گھومتا رہتا ۔ ویسے بھی میں مینکا کے گھر کھانا بہت کم کھاتا تھا۔کھانے کا کوئی وقت تھا نہ ٹھکانا ۔ باہر جا کروڑا پاو ¿ کھاتا تو ساتھ میں بیس پچیس تلی ہو ئی ہری مرچیں کھاتا۔ بعد میں خوب پانی پیتا۔ اکثر ایسا ہو تا…….. آج بھی بھوک زیادہ لگے تو مرچ بہت کھاتاہوں ، اسی لیے مما کہتی ہیں ۔” تو ابنارمل ہے ۔“

٭ درد

اُن دنوں میں نے سیکھا ، درد ہو تو دردمحسوس کرو ۔ چھٹکارا پانا ہو تو دبا کر ، بڑھا کر، دیکھ لو کس حد تک بڑھ سکتا ہے ۔ درد کا مزہ لینا چاہیے ! میں اذیت پسند انسان نہیں ہوں مگر لوگ درد دبا کر، اپنا دھیان ہٹاتے ہیں، ایسا لگتا ۔

تب محسوس نہیں ہوا مگر آج سوچتا ہوں ، اس وقت کسی سے گھل مل نہیں پاتا تھا ۔ لوگوں سے کھل کر آج بھی بات نہیں کر پاتا۔شاید آج بھی وہ جھجھک میری جڑوں میں موجود ہے ۔

” تیرے مام ڈیڈ کہاں ہیں ؟“ ، اُن دنوں جب کوئی پوچھتا تو برا لگتا ۔

پونا میں ڈیڈی کے بڑے بھائی کے گھرمجھے رکھاگیاتھا ۔ یہ ہڑ پسر کا علاقہ تھا ۔ شکر وار پیٹھ میں ’ شیواجی مراٹھا اسکول ‘ میں میرا داخلہ کیا گیا تھا ۔ یہ اسکول پونا کے مشہور’دگڑو سیٹھ حلوائی ‘ کے گنپتی مندر سے قریب تھا ۔

” صبح سویرے اٹھو۔“

‘ ’ جھاڑو لگاو¿۔“

”برتن دھوو “تا یا کے گھر بالکل نئی زندگی تھی ۔ یہ میری روز مرہ کا حصہ نہیں تھااب سب بدل گیا تھا ۔

” ڈسپلن سکھا رہے ہیں ۔“ وہ کہتے تھے ۔

مجھے کھٹک گیا ۔نہیں آنا چاہئے تھا یہاں! وہاں فادر ایگنل اسکول میں اچھی پڑھائی ہو رہی تھی ۔مینکا سے بچنے کی خواہش بھاری پڑی ۔ گھر سے باہر جانے لگا ……..

”گھر سے باہرمت جانا۔“

” ایساکرنا “

” ویسا کرنا ۔“ وہاں بڑی سختی تھی ۔ میں نے حالا ت کاجائزہ لینا شروع کیا ۔ الگ زاویے سے دنیا کو دیکھنے لگا ۔ ’اوم شانتی سنستھا‘کے ست سنگ میں ادھیاتم بیٹھک میں بیٹھتا ، اپنے خیالوں میں کھو جاتا …….. یہ ست سنگ ایک نیا نظریہ میری زندگی میں لے آیا ____یہ صرف شروعات تھی جس کا پتہ مجھے بھی نہیں چلا ۔

” میں یہاںنہیںپڑھ سکتا ، مجھے نہیں رہنا ۔“، میں نے ٹھان لیا۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

٭ سنسکرت گرل

پونا میںہمارے پڑوس کے رو ہاو ¿س میں ایک لڑکی اچھی لگتی تھی۔ ٹیرس پر پڑھنے جاتا تو وہ بھی کھڑکی میں آجاتی۔ ان کے گھر میں ہمارے گھر سے ایک منزلہ زیادہ تھا___وہ شاید میری ہی کلاس کی تھی ۔کیوں کہ ہم دونوں سنسکرت پڑھتے تھے۔سوچتا ہوں، سنسکرت سب سے مضبوط بھاشا ہے ۔ بھارت کی ساری زبانیں اسی کی بولیاں اور ڈائلیکٹ ہیں ۔ کسی نہ کسی روپ میں وہ اپنے کو بچائے ہوئے ہے ۔ جب تک یہdialectsہےں، تب تک ختم نہیں ہوگی۔ ویسے شدھ سنسکرت کہاں رہ گئی ہے ؟ صر ف گرنتھوں میں یا آرتی پوجا پاٹھ میں!

” دیو، دیوو، دیواہ “ ، میں ٹیبل پر بیٹھ کر سنسکرت کے شلوک یاد کرتا تھا ، نئے نئے انداز میں خود کوسنسکرت کا بڑا جانکار ظاہر کرتا ۔

” دیو، دیوو، دیواہ “، وہ وہاں سے شروع ہو جاتی اور میں یہاں سے۔ میں اور زور زور سے دہراتا ۔وہ بھی دہراتی۔ کبھی با ت نہیں کی ،میں سوار گیٹ جاتا ۔ وہ بھی اُسی علاقے کے کسی اسکول میںجاتی تھی۔مجھے اس سے بات کرتے ہوئے ڈر لگتا تھا۔ تایاکے گھر رہتا تھا نا!

 پہلی بار گھر سے دور رہاتھا۔

” چل رہا ہے، چلنے دو !“ بس یہی سوچ بننے لگ گئی تھی ۔مما کے جانے سے ’سنسکرت گرل‘ کے چپکے سے زندگی میں داخل ہونے تک میں دنیا کے کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔…….. ہڑ پسر میں رہتا تھااور سوارگیٹ بس سے روز سفر کرتا تھا۔ بس میں لوگوں کی باتیں دھیان سے سنتا اور سوچتا۔

” چار سو سال پہلے شیواجی مہاراج کے زمانے میں کیسے اور کیا ہوتا ہو گا ؟…. ٹی وی …. نہیں…. فیشن نہیں …. مال نہیں ….تھئیٹر نہیں کمپیوٹر نہیں۔

 انھیں دنوں میں نے کارگل جنگ کے بارے میں جانا۔

پونا میں بھی مجھے اپنا پہلا اسکول ہی یاد آتا۔

٭ اسکول کے دن یاد گار

تب میں بہت شرارتیں کرتا تھا ہر روز شرارت ۔

” آج اُس کو مارا۔“

” شور مچایا ۔“

” ہوم ورک نہیں کیا …….. ڈیڈی کی سائن لاو ¿ ۔“

”جھگڑا کیا “…. سب سے زیادہ مستی والا میں ہی تو تھا ۔

دو مہینے پہلے اپنے اسکول گیا تھا ۔ پرانا اسٹاف شاید کم رہ گیا ہے ۔ ایک جانا پہچانا چہرہ صفائی کرتا ہوا دکھائی دیا ۔

” تو جیتیش ہے نا !“ پہچان کر اس نے کہا۔

” ہاں! کیسے یاد رہا ؟“

” تیری ممی کی کنڈیشن کیسی ہے ؟ کیا اب بھی ویسا ہی چل رہا ہے ؟“

” تمھیں کیسے معلوم ؟“

” سب کو معلوم تھا ۔ تیری ممی تجھ سے ملنے اسکول آتی تھیں نا!۔“

 شاید میرابچپنا تھاوہ۔یاد ہےجب میں ساتویں کلاس میں تھا ۔مما چھوڑ گئی تھیں، تب الگ سے میرے لیے کاو ¿نسلر رکھی گئی تھی ۔ کیوں ؟ ___آج بھی پتہ نہیں ۔ ممی ڈیڈی نے رکھوائی یا پرنسپل نے ؟

کاو ¿نسلر آکر ورزش اورمشق کرواتی ۔ اس کے سوال مجھے بے مطلب لگتے۔

” کیا سوچتے ہو؟“

” کیا لگتاہے تمھیں ؟“

” صحیح کہا کہ نہیں ؟“

” یہ براہے یا اچھا ہے؟“

ہو سکتاہے ، پرنسپل نے ہی اسے میرے پیچھے لگا دیاہو۔

” تم نے اسکول میں کسی کے ٹائر کی ہوا نکال دی کیا ؟“

” کس موٹر سائیکل سے پٹرول نکالا ؟“

” اسکول کی عمارت کے پچھواڑے جا کر کانچ توڑآئے؟“

…. یہی تو کرتا تھا ۔ اب کچھ نہیں کرتا ، پتھر بن گیا ہوں ۔ شاید میں نے خود کو ڈھک لیا ہے ۔ لیکن مذاق آج بھی ہے بچوں سا ! ہمیشہ بر قرار رہے !چاہتاہوں ۔

” جیتوا ہمیشہ شانت بیٹھتاہے ۔ مگرکبھی کبھی مستی میں آیا توبس ۔“، آج بھی جب میں موڈ میں آتاہوں تو دوست یہی کہتے ہیں ۔

” نہیں ، آج میں ایک عام انسان بن رہاہوں۔“، میں مسکرا دیتا ہوں۔

کبھی مجھے بھی ان کا کہنا صحیح لگتا ہے۔

 میں نے ڈائری نکالی، لکھا،

”مجھے اکثر لگتا ہے۔ماں، ماں نہیں ۔ صرف ذریعہ ہے ، دنیا میں لانے کا ۔میری ماں، ’مدر نیچر ‘ ہے ۔ ’میری ماں، قدرت ہے‘ ____کیوں کہ اسی نے مجھے جینا سکھایا ہے۔

___زندگی میں بہت کچھ سوچتا ہوں ، ’ ایسا کرنا ہے ۔‘، ’ ایسا ہو نا چاہیے!‘ __سوچ کی گہرائی اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کھو جاتا ہوں۔ پھر سوچتا ہوں ،” ممی ڈیڈی ہیں ہی نہیں ۔“، میں چاہتا تھا کہ عام لوگوں کی طرح رہوں ۔ دوسرے گھروں کی طرح ۔جہاں سب ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوں ۔ جھگڑے ٹھیک ، لیکن اتنی حد تک بھی نہ ہو ںکہ چار کونے بن جائیں ۔ ہر مسئلہ کو میں ایک جنگ ، ایک مشن سمجھتاہوں۔ جنگ آج ہی شروع ہوتی ہے …….. اُسی پل اوراُسی وقت ختم ہو گی، جبتک کہ جیت نہ جاوں ، یا مر جاوں _____نہ جھکوں گا ،نہ تھموں گا ، نہ درد ہی محسوس کروں گا ۔ اپنی زندگی کے سفر کو میں اپنی زندگی کے خلاف ایک جنگ مانتا ہوں اور خود کو ایک جنگ جُو ۔

” ارے! کہیں مجھ پر انگریزی فلموں کا اثر تو نہیں ہو رہا ہے ، ہوتا ہے تو ہو!“، میں کھلی ڈائری کو دونوں ہاتھوں میں لے کر بال ڈانس کرنے لگا۔قدم آگے پیچھے کا سفر کرتے رہے اور میں کہتا رہا،

”سلام ماں قدرت !“ میںجیتیش ، اپنی پوری زندگی …….. تم کو اور صرف تم کو وقف کرتا ہوں ۔ تم میری زندگی کی کل مالک ہو ۔

”تمھارے مطابق میری آتما ، میری سوچ اور میرے اعمال چلتے ہیں …….. تم جو بھی راستہ دکھاو ¿ گی ، اس پر میں ایک اندھے یا نیند میں چلنے والے کی طرح چلوں گا ۔تمھارے فیصلے کے سامنے پوری طرح جھکتا ہوں___ تمہاری خواہش ، میرا حکم ہے تم سے امید کرتا ہوں اورمجھے تم پر یقین ہے ۔ جانتا ہوں تمھیں میری فکر ہے ۔ اور میں تمھارا سب سے چہیتا بیٹا ہوں۔ ہر ایک چیزکے لیے شکریہ !hail mother natureجے ہو …….. جے ہو !…….. تمہارا چہیتا بیٹا جیتو !____“

پھر میں نے تھرکنا بند کر دیا اور اپنی ڈائری بند کر کے تکیے کے نیچے رکھ دی ۔

٭ پونا سے واشی

مجھے واپس لوٹنا پڑاتھا ۔ واشی کے ماڈرن اسکول میں داخلہ لینا پڑا ۔ ہوا یوں کہ ایک دن تایا کے لڑکے سندیپ دا دانے مجھے بلایا ۔میں باہر کھیل رہا تھا ۔

” اس پِگّی بینک سے پیسہ تو نے نکالا ؟“

تایاکی الماری میں ایک پِگی بینک کا ڈبہ تھا ۔ ہمارے چھوٹے چچا کی بیٹی بھی وہاں رہ رہی تھی۔ اس کے سامنے ہی سندیپ دا دا نے چار چانٹے میرے گالوں پر لگائے ۔ بولے ،

” اپنے پیر کے انگوٹھے پکڑ کر کھڑا ہو جا۔“ شام ساڑھے سات بجے سے ساڑھے بارہ بجے رات تک مجھے کھڑا رکھا ۔ بیچ بیچ میں میرے سر پر ہلکا سا دھپّا بھی لگاتے رہے ۔ پاس پڑوس والے مہمان آ ئے۔ گئے ۔ سب کے سامنے سندیپ دا دا کہتے ۔

” پیسے نکالے ہیںمگر مان نہیں رہا ہے ۔“

سوچ نہیں سکتا ، کیسا محسوس کیا ۔ لگا ، اٹھوں اور سب کوتباہ کردوں ۔پیٹھ میں درد ہونے لگا تو میں نے زور سے کہہ دیا ، تب دادا نے چھوڑا۔

 ڈیڈی کو فون کر چکے تھے ۔ وہ اگلے دن آئے۔

” جانے دے زیادہ سوچ مت ۔ میں نے انھیں پچاس ہزار روپے دیے تھے ، تجھے رکھنے کو ۔“ ، انھوں نے نرمی سے مجھے سمجھایا۔

” کہا کیوں نہیں کہ بیٹے نے نہیں لیے ۔ اتنی بے عزتی کی ……..“

” ٹھیک ہے ……..“

” آئندہ کبھی ادھر نہیں آو ¿ں گا ۔“

” ٹھیک ……..“

”مگر مجھے مینکا کی شکل نہیں دیکھی جاتی ۔“، میں نے کہا تھا۔ میرے دل کو بہت چوٹ لگی تھی ۔

پچھلے دنوں پونا والی تائی آئی تھیں۔تایا کے مرنے کے بعد وہ پہلی بار ہمارے گھر آئی تھیں ۔

” کیاکر رہا ہے ؟“ ، مجھے ،تائی کی یہ سب باتیں بے تکی لگتی ہیں ۔دل سے کچھ نہیں کہا تھا …….. اُس وقت شاید پونا میں میرا ان کے گھر رہنا انھیں برداشت نہیں ہو رہا ہو !!!

” کیاکر رہا ہے ؟“ہونہہ!

٭ نیوی

پونے سے لوٹے توڈیڈی نے ایک الگ فلیٹ لے لیا ۔یہ دسویں کا اہم سال تھا۔ میرا نئی ممبئی واشی کے ماڈرن اسکول میںداخلہ کر دیا گیا تھا۔’ چاٹے کلاسس ‘کا ان دنوں کریز بلکہ جنون سا تھا ۔اب کتنی ہی کلاسیںشروع ہو گئی ہیں۔ ایک دھندا ہی بن گیا ہے اس کا!

” دیکھ تیرے لیے اتنے خرچ کیے ۔ ڈیڈی نے رسید دکھا کر مجھے کہا تھا ۔ انھوںنے وہاں ’ چاٹے کلاسس‘ میں پیسے بھرے تھے ۔

 میں اچھی طرح پڑھتا ۔ نیوی میں جانے کا میرا خواب پرانا تھا۔ اسی مقصد کے ساتھ پڑھتا ۔ میں سائنس لائن لینا چاہتا تھا ۔

٭ مینکا کرائے کے گھر میں

ہم چودہ اپریل کو اس فلیٹ میں آئے تھے۔ اس کے بس کچھ ہی دنوں بعد یعنی جولائی میں ہی ، مینکا ایک دن ہمارے گھر آئی ____میں تو سمجھتا تھا …. اب ڈیڈی بھی مینکا کے گھر نہیں جاتے ہیں!

”یہ کیوں آئیں ؟ اچھا نہیں لگا ۔“ مینکاکو یہاں دیکھ کر میں پریشان ہوا تھا ۔

” ایک ہی بار آئی ہے…….. اب نہیں آئے گی ۔“ ڈیڈی نے سمجھایا تو تسلی ہوئی ۔

شروع میں ہم دونوں مل کر کھانا بناتے ۔ کچھ دنوں بعد ٹفن شروع کروالیا ۔ ڈیڈی کے لئے میں اور میرے لیے وہ تھے ۔

مینکا جب پہلی بار گھر آئی تو چپ رہی، مگر پھر بار بار آنے لگی ۔

” کیا کروں ؟“ میں بے چینی محسوس کرتا ۔ پھرمیں ساحل کے گھر جانے لگا۔

” تو نے میری زندگی برباد کی ہے ۔“ رات کے قریب ڈھائی بجے ہوں گے ۔ مینکا کے چلانے کی آواز سے میں اٹھ بیٹھا ۔وہ چِلّا چِلّاکر ڈیڈی کو جس بات سے شرمندہ کررہی تھی

 میری سمجھ میں یہی آیا تھا کہ وہ حمل سے تھی ۔ ہمارا یہ گھر گراو ¿نڈ فلور کا تھا ۔ پڑوس کے لوگ کھڑکی سے گھورہے تھے ۔

’کچھ نہیں ، اب نہیں رکنا !!‘، یہ سوچتے ہوئے میں ساحل کے گھر نکل گیا ۔ میں بہت ڈسٹرب تھا ۔۔

”پھر وہی زندگی ! بھاگنے کا راستہ کون سا ہے ؟“

” ماںکے پاس کیوں نہیںچلاجاتا ؟“، ساحل کی ممی نے کہا۔

” نہیں جا سکتا! یس ایس سی کا سال ہے ۔ کوئی راستہ نہیں ہے ۔“، میں گہری فکرمیں ڈوباتھا ،پھر بھی میں نے طے کیا ، بولا، ’ ’…….. ہاں جاو ¿ں گا ۔“

پڑوسیوںنے ڈیڈی اور مینکا کی شکایت کی تھی۔ کرائے کا گھرتھا۔نکال دیے گئے ۔

مجھے اپنی ساتویں کلاس کی پُرانی باتیں یاد آنے لگیں،اُن دنوںکبھی کبھی ڈیڈی مجھے کورٹ لے جاتے تھے۔ ممی اور ڈیڈی دونوں ہی کے وکیل مجھ سے باتیں کرتے ، سمجھاتے ، ایک دن نہ جانے کیا ہوا ۔ اچانک ممی نے ڈیڈی کو تھپڑ لگا دیا ۔ ڈیڈی نے بھی زور سے ہاتھ گھما کرگھونسا جڑ دیا ۔ عدالت کے بر آمدے میں ممی زمین پر پڑی تھیں۔ لوگ جمع ہوگئے…. وہ واقعہ آج بھی مجھے یاد ہے ۔ ایسا تماشا بن جائے گا ،مجھے امید نہیں تھی ۔ مجھے کیا محسوس ہوا ، انھوں نے نہیں سوچا ۔ انھیں کیسا لگتا ہو گا …. پھر میں کیوں سوچوں ان کے لیے! ایک سوچ بنتی ہے۔

” کیا کروں ؟؟“، میں رو رہا تھا، ”بھاگ جاو ¿ں ….؟کیا کروں؟“ میں تڑپ رہا تھا۔ ایک بچہ کر بھی کیا سکتا تھا !

” کس کے ساتھ رہنا ہے ؟“، دونوں پوچھتے ۔ میرے ماں باپ نے میرے بارے میں نہیں سوچا، کوئی قدم اٹھانے سے پہلے ….! نفرت ہے مجھے ان لوگوں سے جو اپنے بچوں کے بارے میں نہیں سوچتے ۔

’ اتنی کڑواہٹ کیوں ؟…. ، غلطی دونوں کی ہے …. یا دونوں کی نہیں ہے !‘، میں خود سے پوچھتا۔

ڈیڈی نے جو چاہا مجھ سے کہلوایا ۔ ماں کی جیسی چاہی امیج بھر دی…. دونوں نے یہی کیا۔ وہ امیج اب اتنی گہری ہو چکی ہے کہ بس! اب اگر بولیں کہ اچھے ہیں ، تو بھی بیکارہے ۔ یعنی دس سال بر باد ہو ئے ۔ اب یقین نہیںہو گا…. مجھے ان کی ضرورت ہے مگر نہیں ہے ۔ اب ان کے بغیر جینا سیکھ چکا ہوں ….

جو کچھ بھی ہوا اچھا ہی ہوا ۔ بہت کچھ سیکھا ۔اتنی سی عمر میں بہت کچھ دیکھا …. وہ چاہے مجھے ’ابنار مل ‘اور’سر پھرا‘ بولتے ہوں ۔ مگر میری جگہ ہوتے تووہ بھی وہی تو کرتے۔

میں اپنا نقطہءنظر بول نہیں پاتا کیوں کہ الفاظ نہیں ملتے ۔ سمجھ میں نہیں آتا بات کیسے کروں ۔

” گھومنا ہے“ تین بجے رات کو دوست سے فون کرکے کہتا ہوں ۔

” پاگل ہے “ میری بات سن کر دوست کہتے ہیں ، کیوں کہ وہ اس وقت کبھی نہیں گھومے، میں گھوما ہوں ۔

٭ دو بارہ مینکا کا گھر

ڈیڈی اپنے گھر نہیں رہتے تھے، انھیں ڈر تھاکہ کہیںیہ گھر ممی کو نہ دینا پڑے ۔ اُس گھر کو انھوں نے کرایے پر دے دیا تھا ۔ کرایہ دار پر ممی حق نہیں جتائیں گی نا….!!

٭ ٹیوب لائٹ کے ٹکڑے

مینکا کے گھر، ایک رات بستر کی چادر ہٹائی تو دیکھا کہ ٹوٹی ہو ئی ٹیوب لائٹ کے ٹکڑے نیچے بچھے ہوئے ہیں ۔ ڈیڈی کو بتایا ۔

” کیا سمجھا تھا ، کیا ہو گا؟“ ڈیڈی نے مجھے مارا ۔” تیرا بستر کوئی صاف نہیں کرتا ، یہ تجھے کیا سو جھا !“

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے