سر ورق / شہر دل کے باسی .. نفیسہ سعید ..قسط نمبر 2

شہر دل کے باسی .. نفیسہ سعید ..قسط نمبر 2

شہر دل کے باسی

نفیسہ سعید

قسط نمبر 2

”تمہاری وین نہیں آئی۔ آجاﺅ، میں تمہیں چھوڑ دوں۔“

”نہیں یار! میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی۔“ سبرینہ کی اس آفر پر وہ یک دم ہی گھبرا اٹھی۔

”کیوں میرے ساتھ جانے میں کیا حرج ہے۔ کم آن یار میں بھی تمہارے جیسی ایک لڑکی ہوں اور ویسے بھی وریشہ آج کالج نہیں آئی۔ تم اکیلی واپس کیسے جاﺅ گی جبکہ تم تو شاید کبھی پبلک ٹرانسپورٹ سے گھر نہیں گئی ہو؟“

سبرینہ نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

”وہ تو ٹھیک ہے لیکن….“ کچھ کہتے کہتے وہ رکی۔ ”اچھا چلو…. میں چلتی ہوں۔“ پھر جانے کیا سوچ کر اس نے ہامی بھر لی۔

”تھینک گاڈ جلدی آجاﺅ ورنہ میرے بھائی نے تو مجھے زندہ ہی گاڑ دینا ہے بے چارا اپنا کام کاج چھوڑ کر مجھے لینے آیا ہے کیونکہ آج ڈرائیور چھٹی پر ہے۔“

وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتی ہوئی جلدی جلدی وضاحت دے رہی تھی جبکہ پلوشہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی کہ بالاج ابھی یونیورسٹی سے گھر نہ آیا ہو اور اسی دھیان میں وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گئی۔

”السلام علیکم!“ یہ آواز یقینا سبرینہ کے بھائی کی تھی۔

”وعلیکم السلام۔“ وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوئی کیونکہ اسے بیٹھنے سے قبل سلام کرنا چاہئے تھا۔

”سبرینہ! تمہاری دوست گونگی ہے کیا؟“

وہ دونوں بہن بھائی آگے بیٹھے جانے کیا باتیں کئے جا رہے تھے جبکہ اس کا دھیان مکمل طور پر اپنے گھر اور بالاج میں لگا ہوا تھا جب اچانک ہی سبرینہ کے بھائی کی تیز آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی اور ایسا یقینا اسے سنانے کےلئے کیا گیا تھا۔

”نہیں یار! گونگی تو نہیں ہے لیکن بولتی ذرا کم ہے۔“ سبرینہ نے گردن ترچھی کرکے اس کی جانب دیکھا ”اور ویسے بھی میرا ہی قصور ہے۔ میں نے آپ دونوں کا تعارف تو کروایا ہی نہیں، یہ میری دوست ہے پلوشہ عباسی اور پلوشہ یہ میرے کزن ہیں شہروز، آج بھائی گھر نہیں تھے۔ اس لئے مجھے یہ لینے آئے ہیں۔“

”تمہاری دوست کو تو میں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔“ شہروز نے سامنے والا آئینہ اس پر فوکس کرتے ہوئے کہا تو وہ یکدم ہی گھبرا اٹھی۔

”آپ اسے کیسے جانتے ہیں؟“ سبرینہ حیران تھی۔

”یار! تم سارا دن اس کا اتنا ذکر کرتی ہو کہ اگر تم نہ بھی بتاتیں تو بھی میں جان چکا تھا کہ شی از پلوشہ لیکن اسے دیکھ کر میں حیران ضرور ہوا کہ یہ اتنے عرصہ سے تمہارے ساتھ ہے لیکن پھر بھی ابھی تک تم نے اسے اپنے جیسا نہ بنایا۔ حیرت ہے یار! یہ تو تم سے بالکل مختلف ہے۔“

”اس میں حیرت والی کیا بات ہے۔ یہ مجھے اسی طرح اچھی لگتی ہے۔ سادہ سادہ سی، سہمی ہوئی ہرنی جیسی۔“ سبرینہ نے زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے کہا جبکہ وہ شرمندہ سی ہو گئی۔

”یہ اس طرف دائیں ہاتھ پر لے لیں۔“ اس کی نگاہ اچانک ہی اپنے گھر کی طرف جاتے ہوئے روڈ پر پڑی اور پھر اگلے چند ہی لمحوں بعد وہ اپنے گھر کے گیٹ پر کھڑی تھی۔

”آجاﺅ سبرینہ! اندر آﺅ۔ میری امی سے مل لو۔“ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے آفر کرنی پڑی۔

”نہیں یار! آج نہیں، آج شہروز کو دیر ہو رہی ہے پھر کسی دن آﺅں گی اوکے۔ ٹیک کیئریار۔ اللہ حافظ۔“

اس نے کھڑکی سے ہی ہاتھ ملایا اور جلدی جلدی وضاحت کی اور اگلے ہی پل گاڑی زن سے اڑ گئی۔

وہ گیٹ سے اندر داخل ہو گئی اور سامنے خالی پڑے پورچ کو دیکھ کر اس نے سکھ کی سانس لی۔

اس کا مطلب ہے، بالاج ابھی تک یونیورسٹی سے گھر نہیں آیا۔

QQQQ

نہانے کے بعد بھاگی نے اسے بلیک کلر کا قیمتی شیفون کا سوٹ پہننے کیلئے دیا جسے دیکھ کر وہ حیران ضرور ہوئی لیکن بولی کچھ نہیں۔ خاموشی سے کپڑے تبدیل کر لئے۔ بھاگی نے ہی اس کے بالوں میں اچھی طرح کنگھی کرکے انہیں سوکھنے کےلئے کھلا چھوڑ دیا اور پھر حیرت انگیز طور پر اگلے تیس منٹ میں اس کا کمرا جوسز اور پھلوں سے بھر گیا۔ لیڈی ڈاکٹر اس کاچیک اپ کرکے کچھ دوائیں بھی لکھ کر دے گئی۔ وہ ڈاکٹر کی دی ہوئی دوا کھا کر سو گئی شام تک اس کی طبیعت بہتر ہو چکی تھی۔ بھاگی اس کیلئے چائے بنا کر لے آئی۔ آج کافی عرصہ بعد وہ ایک صاف ستھرے ہوا دار کمرے کے آرام دہ بستر پر تھی۔ یہ ہی وجہ تھی کہ وہ پہلے سے کافی بہتر محسوس کر رہی تھی۔ ابھی اس نے چائے ختم ہی تھی کہ داخلی دروازہ کھول کر صندل اندر داخل ہوئی دلہناپے کے نئے روپ کے ساتھ وہ خاصی نکھری نکھری سی لگ رہی تھی، جانے کیوں صندل کو اتنے عرصہ بعد اپنے سامنے دیکھ کر بھی خوشی کے دل میں محبت کا وہ احساس نہ جاگا جو گزرے دنوں کی یادگار ہوا کرتا تھا۔ایک عجیب سی بے حسی نے اس کے پورے وجود کے گرد احاطہ کر رکھا تھا کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا اس کے سینے میںدل کی جگہ پتھر نے لے لی ہے۔ ان ہی پتھریلے تاثرات کے ساتھ چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ سیدھی ہو بیٹھی۔

”کیسی ہو خوشی؟“ صندل اس کے قریب آتے آتے جھجک کر رک گئی شاید وقت نے ان کے درمیان ایک نامعلوم سا فاصلہ کھینچ دیا تھا۔

”ٹھیک ہوں۔“ وہ دھیمے سے بولی، صندل اس کے قریب ہی بیڈ کی پائنتی پر بیٹھ گئی اور کئی خاموش لمحے بنا دستک دیئے ان کے درمیان سے گزر گئے بالکل ایسے جیسے دو اجنبی شخص موضوع ڈھونڈ رہے ہوں۔ بات شروع کرنے کیلئے ”صندل بھابی! آپ نے مجھ سے کوئی بات کرنی ہے؟“ اس نے اپنے تئیں صندل کی مشکل کو آسان کر دیا۔

”آں…. ہاں….“ صندل ایک دم چونک سی گئی اور خالی خالی نظروں سے خوشی کی جانب دیکھا جو سوالیہ نگاہوں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔

”وہ ایسا ہے خوشی! اس ہفتے زریاب پاکستان آرہا ہے۔“

یہ خبر یقینا اس کےلئے نئی تھی لیکن پھر بھی اس نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا بلکہ سپاٹ چہرے کے ساتھ اپنے قریب بیٹھی صندل کی جانب تکتی رہتی۔ وہ جاننا چاہتی تھی کہ صندل آگے کیا کہنا چاہ رہی ہے۔

”دیکھو خوشی! تم اچھی طرح جانتی ہو کہ جنید عباسی نے تمہاری بازیابی کیلئے تمہارے باپ بھائیوں پر مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ حویلی میں دو، تین دفعہ پولیس آچکی ہے اور اگلے ماہ ہمیں ہر حال میں تمہیں عدالت میں پیش کرنا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ اس کی منکوحہ کو حویلی والوں نے قتل کر دیا ہے۔“ وہ ذرا کی ذرا سانس لینے کور کی اور اک نگاہ خوشی کے سپاٹ چہرے پر ڈالی۔

”پھر….؟“ اس کی پل بھر کی خاموشی نے خوشی کو بے چین کر دیا وہ جلد از جلد جاننا چاہتی تھی کہ اس ساری تمہید کا اصل مقصد کیا ہے۔

”وہ ایسا ہے کہ خوشی اگر تم چاہو تو سب کچھ پہلے جیسا ہو سکتا ہے۔“

”میں سمجھی نہیں، آپ کیا کہنا چاہتی ہیں۔ صاف صاف بات کریں۔“

”تم کو زریاب مگسی سے نکاح کرنا ہو گا۔“ صندل نے تیزی سے اپنی بات مکمل کی۔

”نکاح….! یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟“ صندل کی بات سنتے ہی اسے حیرت کا شدید ترین جھٹکا لگا۔ ”آپ اچھی طرح جانتی ہیں میرا نکاح جنید عباسی کے ساتھ ہو چکا ہے اور قانوناً اور شرعاً میں اس کی بیوی ہوں اور جب تک یہ نکاح ختم نہ ہو گا۔ میں دوسری شادی نہیں کر سکتی۔“

دکھ اور صدمہ سے اس کی آواز بھرا گئی اور آنکھوں میں پانی سا بھر آیا جیسے دیکھ کر صندل کے دل کو کچھ ہوا ضرور لیکن وہ نظر انداز کر گئی کیونکہ یہ وقت جذباتی ہونے کا نہ تھا۔

”آہستہ بولو خوشی! باہر تمہارے دونوں بھائی موجود ہیں۔“

اس کی تیز آواز نے صندل کو خوفزدہ کر دیا اور وہ جلدی سے اس کا ہاتھ تھام کر اسے خاموش کرواتے ہوئے بولی جبکہ اس کی نگاہیں مسلسل دروازے کی جانب لگی ہوئی تھیں۔

”میری بہن تم نہیں جانتیں، تم کس قدر مشکل میں گھر چکی ہو اور اس مشکل سے نکلنے کا واحد حل یہ ہی ہے کہ تم زریاب سے نکاح کر لو کیونکہ تمہارے باپ اور بھائیوں کی بات مان لینے میں ہی تمہارا بھلا ہے ورنہ تم نہیں جانتیں، یہ لوگ تمہارا کیا حشر کرنے والے ہیں۔“ صندل کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے اور وہ خوفزدہ آواز خوشی کو سمجھنانے لگی۔

”کچھ بھی ہو جائے بھابی! میں نکاح پر نکاح نہیں کروں گی۔ یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔“

لیکن خوشی تمہارا بھائی کورٹ میں تحریری بیان جمع کروا چکا ہے جس کے مطابق تم شادی کے بعد اپنے شوہر کے ساتھ ملک سے باہر ہو انہوں نے تمہارے اور جنید کے نکاح کو کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنید کی طرف سے جمع کروایا گیا نکاح نامہ جعلی ہے اور تمہارا نکاح اس نکاح سے قبل زریاب مگسی کے ساتھ ہو چکا تھا۔“ اب صندل کیلئے تفصیل بتانا ناگزیر ہو چکا تھا۔ ”اپنی عزت کو بچانے کےلئے اس سے بہتر راستہ ہمارے لئے کوئی نہ تھا۔“

”آپ کے نزدیک اہمیت صرف عزت کی ہے۔“ دکھ سے اس کی آواز حلق میں ہی پھنس گئی اور اس نے اپنا ہاتھ صندل کی گرفت سے چھڑوا لیا۔

”شریعت کی کوئی اہمیت نہیں ہے آپ لوگوں کے نزدیک۔ آپ نہیں جانتیں، نکاح پر نکاح کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ کیوں نہیں ڈرتے بھابی! آپ لوگ اللہ کے عذاب سے۔ ایسا نہ کریں، اس کی لاٹھی بے آواز ہے جب پڑتی ہے تو بڑے بڑے سور ماﺅں کو زمین نگل جاتی ہے بھابی!“

وہ صندل کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے رو پڑی۔

”بس بابا بس۔ اب زیادہ ڈرامہ بازی نہ کرو۔ جو ہم نے کہا ہے۔ وہ تو تمہیں کرنا ہی پڑے گا کیونکہ اسی میں تمہاری بہتری ہے ورنہ یاد رکھو۔ تمہیں مار کر تمہاری لاش کمرا عدالت میں لے جاﺅں گا، کاری کر دوں گا تمہیں، تمہارے جیسی بدکردار بہن کے ہونے سے تو اچھا ہے کہ تمہیں مار کر زمین میں گاڑ دیا جائے اور میں تو یقینا ایسا ہی کرتا اگر اس حرامی نے ہمارے اوپر کیس نہ کیا ہوتا۔ میں تو اسے ہی کب کا مار چکا ہوتا اگر اس نے اپنی جان کی حفاظت کےلئے کورٹ میں اسائنمنٹ نہ جمع کروائی ہوتی۔ چھوڑوں گا تو خیر اسے میں اب بھی نہیں۔ مار کر ہی سکھ کا سانس لوں گا۔“

جانے کمرے میں کب فلک شیر داخل ہوا تھا اس کی پھنکارتی ہوئی نفرت بھری آواز ہتھوڑے کی طرح خوشی کی سماعتوں پر برس رہی تھی اور وہ خوف سے تھرتھر کانپ رہی تھی جبکہ صندل گھبراہٹ میں بیڈسے اٹھ کر کھڑی ہو گئی تھی۔

وہ خوشی کے قریب آیا اور بالوں سے پکڑ کر اسے گھسیٹ کر بیڈ سے اتار دیا۔ وہ تکلیف کی شدت سے بلبلا اٹھی۔

”دل تو چاہتا ہے، تجھے آج ہی آگ لگا کر جلا ماروں بلکہ اس کمرے کو ہی تیری قبر بنا دوں لیکن کیا کروں۔“

اس نے خوشی کے بالوں کو چھوڑ کر اسے ایک زور دار دھکا دیا وہ زمین پر گر گئی۔ اس کا سر بیڈ کے کنارے سے جا لگا، صندل اور بھاگی کے سامنے اپنی شدید توہین کا احساس اسے خون کے آنسو رلا گیا۔

”چلو بھابی….!“ اپنی ماں جائی پر ایک نفرت انگیز نگاہ ڈال کر وہ صندل سے مخاطب ہوا جو سر جھکائے وہیں کھڑی تھی کیونکہ وہ بھی اسی حویلی کی بیٹی تھی اور جانتی تھی کہ اس کی حیثیت بھی خوشی جیسی ہی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ اس نے آگے بڑھ کر فلک شیر کو روکنے کی کوشش نہ کی اور خاموشی سے اس کے پیچھے چلتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی۔

ان کے جاتے ہی بھاگی تیزی سے آگے بڑھی اور زمین پر پڑی خوشی کو اٹھایا۔ خوشی بھاگی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی، ایسے میں بھاگی بھی اپنی مالکن کے دکھ کو محسوس کرکے اس کے ساتھ رو دی۔

QQQQ

زریاب پاکستان واپس آچکا تھا اور اسے حیرت تھی کہ کس طرح اس جیسا پڑھا لکھا اور فارن پلٹ شخص ایسا غیر شرعی کام کر سکتا تھا۔ کبھی کبھی تو خوشی کو ایسا محسوس ہوتا کہ صرف جنید عباسی کو نیچا دکھانے کیلئے کئے جانے والے ایک عمل نے اس کے سارے خاندان کو یکجا کر دیا تھا ورنہ اسے سو فیصد یقین تھا کہ اس سارے قصہ کے ختم ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا قصہ بھی ختم کر دیا جائے گا جب دل چاہے گا اسے مار کر کسی اندھے گڑھے میں گارڈ دیا جائے گا۔ ”اگر میری موت ان کی غیرت کی سربلندی کیلئے ضروری ہے تو پھر اپنی زندگی کی بقاءکیلئے آخری وقت تک کوشش کرنا بھی میرا انسانی حق ہے۔ میں اس طرح نہیں مروں گی ایک کتے کی موت۔ مجھے کوشش کرنا ہو گی۔ آخری وقت تک جب تک میری زندگی کی ایک سانس بھی باقی ہو۔“

اور یہ ہی وہ فیصلہ تھا جس نے خوشی کے خوابیدہ ذہن کو ایک جھٹکے سے بے دار کر دیا اب اسے تلاش تھی ایک ایسی درز کی جہاں سے آنے والی روشنی کی ننھی سی کرن اس کی بقا کا پیغام لے کر آئے اور بالآخر اسے وہ درز مل ہی گئی۔

QQQQ

جانے اس کا موبائل کب سے بج رہا تھا اس نے بمشکل آنکھیں کھول کر یہاں وہاں ہاتھ مارتے ہوئے تکیے کے نیچے سے اپنا موبائل نکالا اور یس کا بٹن پش کرکے کان سے لگا لیا۔

”ہیلو!“ نیند میں ڈوبی اس کی آواز بڑی مشکل سے حلق سے نکلی۔ ”عماد بات کر رہا ہوں۔“

”جانتی ہوں۔“ عماد کی آواز سنتے ہی اس کی نیند اڑن چھوڑ گئی اس نے جلدی سے اٹھ کر کھڑی کا پردہ ہٹایا اور باہر پھیلے ہوئے اندھیرے کو دیکھ شاکڈ رہ گئی۔

”اومائی گاڈ! باہر تو گہرا اندھیرا چھا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے، رات کافی سے زیادہ ہو چکی ہے، حیرت ہے آج مجھے مما نے جگایا بھی نہیں۔“

”میں بھی کافی دیر سے ٹرائی کر رہا ہوں اور حیران تھا کہ تم دس بجے تک سو رہی ہو ورنہ یہ وقت تو تمہاری انجوائے منٹ کا ہوتا ہے بہرحال یہ سب فالتو باتیں چھوڑو اور پہلے یہ بتاﺅ میرے کام کا کیا ہوا؟“

”ظاہر ہے۔ آج کل صرف تمہارے ”کام“ پر ہی کام کر رہی ہوں۔“ ریا نے لفظ ”کام“ پر زور دیتے ہوئے کہا۔

”بس اب تھوڑا ہی وقت ہے۔ جلد ہی تمہاری مرضی کا نتیجہ سامنے آجائے گا۔“

”اینی وے جو بھی ہے بس اب جلد از جلد میرا کام ہو جانا چاہئے تقریباً چھ ماہ ہو گئے ہیں مجھے تمہیں ایڈوانس دیئے ہوئے اور اب اس سے زیادہ انتظار کرنا میرے لئے تقریباً ناممکن ہے۔“

”پلیز عماد! تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میرے پیشے میں کسی طرح کی دھوکا دہی شامل نہیں ہے آج اپنی فطرت کے برخلاف اگر میں کسی کو دھوکا دے رہی ہوں تو وجہ تمہیں سمجھ جانا چاہئے یقینا میں یہ سب پیسے کیلئے نہیں کر رہی بلکہ تمہاری محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کر رہی ہوں۔“

”یہ الو بنانے کیلئے تمہیں میں ہی ملا ہوں میں تم اور تمہاری محبت کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم جیسی عورتیں سوائے پیسے کے کسی کی نہیں ہوتیں یہ فون میں نے تمہاری رام کہانی سننے کیلئے نہیں کیا بلکہ اپنے کام کیلئے کیا ہے جس کی منہ مانگی قیمت تم نے مجھ سے لی ہے لہٰذا اب تمہاری ذمہ داری ہے کہ میرا کام جلد از جلد ہو۔“

اور یہ کہہ کر ہی دوسری طرف لائن بے جان ہو گئی یقینا عماد نے فون بند کر دیا تھا، ”الو کا پٹھا“ زیر لب اسے گالی دیتے ہوئے ریا نے فون بیڈ پر پھینکا اور غصہ کی حالت میں باتھ روم کی جانب چل دی۔

QQQQ

”سائیں! آپ کو بڑے سائیں نے یاد فرمایا ہے۔“

وہ جیسے ہی جیپ سے نیچے اترا، سامنے کھڑے اسمعیل نے اسے بابا جان کا پیغام پہنچا دیا، وہ پیغام سنتے ہی سمجھ گیا کہ اتنی رات کو باہر موجود اسمعیل شاید اسی کا منتظر تھا۔ سر سے اثبات کا اشارہ کرکے وہ دالان عبور کرتا ہوا اوطاق کے بند دروازے کے سامنے جاکھڑا ہوا۔ وہ جانتا تھا کہ اس وقت اس کا منتظر باپ یقینااسی اوطاق میں موجود ہو گا اور دروازے کو خاموشی سے دھکیل کر اندر داخل ہوتے ہی اس کے اندازے کی تصدیق ہو گئی سامنے ہی لکڑی کی بڑی سی کرسی پر فلک شیر نیم دراز تھا۔

”آﺅ بابا آﺅ۔ ہم تمہاری ہی انتظار کر رہے تھے۔“

دروازے کھلنے کی مدھم سی آواز سنتے ہی وہ یکدم سیدھا ہو بیٹھا۔ عماد نہایت خاموشی سے چلتا ہوا اپنے باپ کی کرسی کے پاس رکھے موڑھے پر جا بیٹھا۔ وہ بنا پوچھے جانتا تھا کہ اس کے باپ نے اسے کیوں بلایا ہے، پھر بھی خاموش رہ کر اپنے باپ کے سوال کا منتظر تھا لیکن دوسری طرف فلک شیر کن خیالوں میں گم ہو چکا تھا۔

”بابا جان! آپ نے مجھے بلایا تھا؟“ کچھ دیر کے انتظار کے بعد عماد نے آہستہ سے اپنے باپ کے گھٹنے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دریافت کیا۔

”ہاں بچہ! تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تمہارا باپ کیوں بے سکون ہے۔ آج چھبیس سال ہو گئے ایک ایک لمحہ، ایک ایک گھڑی میری اس بے سکونی کی گواہ ہے۔“

فلک شیر نے ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے عماد پر ایک نظر ڈالی جو نہایت توجہ سے اپنے باپ کی بات سن رہا تھا۔

”میری اس بے سکونی کا صرف ایک ہی حل ہے جو تم جانتے ہو۔“

”جی بابا! میں آج بھی اسی سلسلے میں ہی کراچی گیا تھا۔“ اس نے تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔

”یہ بات سنتے ہوئے آج مجھے پورا ایک سال ہو چکا ہے عماد! اب مجھے نتیجہ چاہئے جلد از جلد۔ اب مجھ سے مزید انتظار نہیں ہو رہا ہے۔“

علی شیر کی آواز غصہ کی شدت سے یکدم ہی بلند ہو گئی۔

”میں اپنی موت سے قبل اپنا بدلہ چاہتا ہوں بالکل ویسا ہی بدلہ جیسا آج سے چھبیس سال پہلے عباسی خاندان نے ہمیں بے عزت کرکے لیا تھا۔ میں جب تک ان کی بے عزتی اور جگ ہنسائی نہ دیکھوں گا، سکون سے نہ مر سکوں گا اور یہ بات تم بہت اچھی طرح جانتے ہو؟“

غصہ کے ساتھ ساتھ نفرت کی شدت نے فلک شیر کے سرخی مائل چہرے پر سیاہی پھیر دی تھی۔ اس کی آواز میں سانپ کی سی پھنکار شامل ہو گئی۔

”مجھے جلد از جلد وہ لڑکی چاہئے یا کچھ ایسا جس سے عباسی خاندان ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہو جائے۔“ یہ کہتے ہوئے وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اس کے کھڑے ہوتے ہی عماد بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔

”بس بابا! اب آپ کو زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔“

اپنے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے تسلی دیتے ہوئے عماد نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ اب اسے اپنا اگلا قدم جلد ہی اٹھانا ہو گا اگر ریا نے اس کی مرضی کا رزلٹ اسے نہ دیا تو پھر اسے کوئی اور راستہ دیکھنا ہو گا لیکن جلد از جلد کیونکہ اب وہ مزید دیر کرکے اپنے باپ کی ناراضی مول نہیں لے سکتا تھا۔

”مجھے امید ہے کہ اگلی دفعہ جب میں تمہیں بلاﺅں تو یقینا تمہاری کامیابی کی مبارکباد دینے کیلئے۔“ یہ کہہ کر فلک شیر اوطاق سے باہر نکل گیا۔

QQQQ

”تو یہ کنفرم ہے کہ تم میرے گھر میلاد پر نہیں آرہیں۔“ سبرینہ نے مایوسی سے سوال کیا۔

”نہیں یار! مجھے پتا ہے کہ مجھے اجازت نہیں ملے گی اس لئے میں پوچھ کر اپنے آپ کو ڈی گریڈ نہیں کرنا چاہتی۔“

”پھر بھی ایک دفعہ اپنی امی سے پوچھ کر تو دیکھ لو۔“

”کوئی فائدہ نہیں ہے سبرینہ! میں اپنی امی کو اچھی طرح جانتی ہوں وہ کبھی اجازت نہیں دیں گی اور پھر خوامخواہ کا انکار سن کر میری امید ٹوٹے میں ایسی کوئی امید باندھتی ہی نہیں ہوں۔“ پلوشہ نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا۔

”حیرت ہے یار تم کس صدی میں زندہ ہو؟ اللہ جانے تمہارے گھر والے کس قسم کے لوگ ہیں جو تم پر اتنا اعتماد بھی نہیں کرتے کہ تم اپنی دوست کے گھر میلاد پر جا سکو۔“ سبرینہ کو بے حد دکھ ہوا۔

”وہ میرے بڑے ہیں اور ہر معاملے کو مجھ سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ہو سکتا ہے ان کے خیال میں میری اسی میں بہتری ہو۔“ وہ بظاہر اطمینان سے بولی۔

”پتا نہیں اس طرح وہ تمہاری کون سی بہتری کر رہے ہیں۔ ہمارے گھر تو ہر سال یہ تقریب بڑے اہتمام سے منائی جاتی ہے بڑے بڑے نعت خواں آتے ہیں، تم ایک دفعہ شریک ہو کر دیکھتیں تو کتنا مز آتا ہے لیکن چلوچھوڑو جانے دو جیسی تمہاری مرضی۔“

سبرینہ نے گیٹ کی جانب بڑھتے ہوئے پلوشہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا اور پھر اس کا ہاتھ تھام کر باہر نکل آئی۔ سامنے ہی اس کی گاڑی کھڑی تھی۔

”اوکے اللہ حافظ یار! میرا خیال ہے، تم کچھ دیر باہر کھڑی ہو کر انتظار کر لو تمہاری وین بھی بس آنے ہی والی ہو گی۔“

اس کے گاڑی کی جانب بڑھتے ہی پلوشہ کی وین بھی سامنے آگئی اور وہ سبرینہ کو ہاتھ ہلاتی ہوئی اپنی وین میں سوار ہو گئی اور پھر سارے راستے وہ یہ ہی سوچتی آئی کہ کیا تھا جو اگر میں سبرینہ کے گھر میلاد میں شریک ہو سکتی؟ اسے تقین تھا کہ کبھی بھی اس کی امی اسے بالاج سے مشورہ لئے بغیر میلاد میں جانے کی اجازت نہ دیں گی اور بالاج یقینا منع کر دیتا یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی۔

QQQQ

آرزو ارمان، چاہت، مدعا کچھ نہیں

تھا بہت کچھ پاس لیکن اب رہا کچھ بھی نہیں

کیسی کیسی قیمتی چیزوں سے اٹھا ہے حجاب

دوستی، دل جوئی، ہمدردی، وفا کچھ بھی نہیں

وہ ابھی ابھی نہا کر کپڑے تبدیل کرکے آئی تھی۔ اس نے نماز پڑھنے کےلئے اپنے دوپٹے کو اچھی طرح سر پر لپیٹا ہی تھا کہ باہر کا دروازہ کھول کر صندل اندر داخل ہوئی۔ اسے اندر آتا دیکھ کر خوشی کے ہاتھ وہیں رک گئے۔ اس کا دل کسی انہونی کے احساس سے دھڑک اٹھا۔ وہ جانتی تھی کہ صندل کی آمد بے مقصد نہ تھی اور جلد ہی اس کے خیال کی تصدیق ہو گئی۔

”دیکھو خوشی! کل رات تمہارا اور میر زریاب مگسی کا نکاح ہے جس میں دو چار لوگ بابا سائیں کے جاننے والے بھی ہوں گے اور مجھے امید ہے کہ تم اپنے لئے اور ہمارے لئے کوئی مشکل کھڑی نہ کرو گی کیونکہ تمہاری وجہ سے ہم پہلے ہی بڑی پریشانی میں مبتلا ہیں۔“ صندل صرف کھڑے کھڑے اسے سمجھانے آئی تھی۔

”لیکن بھابی! اگر عدالت میں ثبوت ہی پیش کرنا ہے۔ تو پھر باقاعدہ نکاح کی کیا ضرورت ہے؟ آپ پیپرز لے آئیں۔ میں سائن کر دوں گی۔“ صندل کی بات سن کر وہ حیرت سے اپنی جگہ پر کھڑی رہ گئی۔

”نہیں۔ تمہارا میر زریاب کے ساتھ باقاعدہ نکاح ہو گا کیونکہ ہم میں سے کوئی بھی تمہارے پہلے نکاح کو تسلیم نہیں کرتا۔ وہ جو کچھ تم نے کیا صرف خاندان والوں کی بدنامی اور رسوائی کےلئے کیا اور اب تمہاری زندگی کی بقا کےلئے یہ نکاح بہت ضروری ہے تم شکر ادا کرو کہ میر زریاب تمہیں رکھنے کو تیار ہے، وہ تمہارے پہلے نکاح کو جوانی کی ایک بھول سمجھ کر بھلانے پر بھی رضا مند ہے۔ وہ تمہیں اپنا ساتھ لندن لے جائے گا کیونکہ اسی طرح تم اپنے بھائیوں کے قہر و غضب سے محفوظ رہ سکو گی۔“

صندل کے الفاظ تھے یا کوئی پگھلا ہوا سیسہ خوشی کو…. محسوس ہوا کہ اگر وہ مزید سنتی رہی تو شاید اپنے حواس کھو بیٹھے گی۔ ”پلیز بھابی بس کر جائیں۔ آپ جانتی ہیں کہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔“

”ہاں خوشی! میں صرف وہ جانتی ہوں جو ہمارے خاندان کے مرد جانتے ہیں کیونکہ اس سے زیادہ جاننے کی نہ ہمیں اجازت ہے اور نہ ہی ضرورت۔“

”یا میرے اللہ! یہ سب لوگ کس قدر جاہل ہیں بغیر طلاق اور عدت کے میرا دوسرا نکاح کر رہے ہیں۔ اے میرے خدا گواہ رہنا اگر میں خود کو اس گناہ آلود زندگی سے محفوظ نہ رکھ سکی تو میری خود کشی کو حرام موت نہ سمجھنا میرے مالک اس مشکل گھڑی میں میری مدد فرما۔“

اس خیال کے دل میں آتے ہی خوشی کی اس نفرت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا جو اپنے خاندان اور رسم و رواج کے خلاف اس کے دل میں پنپ رہی تھی لیکن اس وقت زبان سے کچھ بھی کہنا بے کار تھا کیونکہ وہ اس کا انجام جانتی تھی ابھی ایک دن قبل ہی اسے یہ سب فلک شیر سمجھا چکا تھا۔

وہ ان ہی سوچوں میں غلطاں و بیچاں تھی کہ بھاگی اس کیلئے کھانا لے آئی، اپنی پیاری مالکن کو اس اجڑی ہوئی حالت میں دیکھ کر اس کا دل بھر آیا اور آنکھیں آنسوﺅں سے لبریز ہو گئیں۔

”خوشی، بی بی! کپڑے نکال دوں بدل لیں۔“

”تم میرے کپڑوں کی فکر مت کرو بھاگی! اگر کر سکتی ہو تو میرا ایک کام کر دو۔“

آر یا پار یہ فیصلہ بہرحال اسے آج ہی کرنا تھا کیونکہ ہر گزرتا ہوا دن اسے موت کے قریب لے جا رہا تھا۔

”جی بی بی جی! بولیں۔“ بھاگی باہر کے ادھ کھلے دروازے پر ایک نظر ڈال کر خوشی کے مزید قریب ہو گئی۔

”ایک کاغذ اور پین لا سکتی ہو؟“ اس کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی۔ بھاگی نے یکدم گھبرا کر کمرے کے بیرونی دروازے پر ایک نظر ڈالی لیکن آج شاید نکاح کے متوقع انتظامات کے سبب ان سب کا دھیان اس کمرے اور خوشی سے ہٹ چکا تھا۔

”میں کوشش کرتی ہوں۔“

”کوشش نہیں وعدہ….“ اس نے اپنے ہاتھ کی دوسری انگلی میں موجود انگوٹھی اتار کر بھاگی کی ہتھیلی پر رکھ دی۔ بھاگی نے تیزی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ انگوٹھی بیڈ پر گر گئی۔

”یہ کیا بی بی جی! آپ نے مجھے اتنا ہی ذلیل سمجھ لیا ہے کہ میں آپ کے ایک ذرا سے کام کےلئے یہ انگوٹھی رکھ لوں گی۔“ دکھ اس کے لہجہ میں بول رہا تھا۔

”آپ یقین جانیں، میں اگر جان دے کر بھی آپ کے کسی کام آسکوں تو یہ میرے لئے ایک اعزاز کی بات ہو گی۔ آپ فکر نہ کریں چھوٹی بی بی! میں ابھی پین اور کاغذ لے کر آتی ہوں۔“

اور پھر جلد ہی اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور جانے کہاں سے اپنے گریبان میں چھپا کر ایک پین اور کاغذ کا ٹکڑا لے آئی۔ خوشی کو یہ سب تھماتے ہوئے اس کے ہاتھ مسلسل خوف سے کانپ رہے تھے جبکہ خوشی بھی بے حد خوفزدہ تھی اس نے جلدی جلدی بنا وقت ضائع کئے کاغذ کے پرزے پر جنید کا نمبر لکھا اور پرچہ بھاگی کی جانب بڑھایا۔

”یہ ایک نمبر ہے، تم اس پر فون کرکے صرف یہ بتا دو کہ میں زندہ ہوں اور جب آٹھ تاریخ کو میں عدالت میں پیشی کیلئے آﺅں تو تمام انتظامات کرکے آنا مجھے لے جانے کیلئے۔“

”ٹھیک ہے بی بی….!“

”بھاگی نے کوئی بھی دوسرا سوال کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اس پر خوشی نے اعتبار کیا تھا اس کیلئے اتنا ہی کافی تھا، اب چاہے وہ اپنی جان سے جاتی لیکن مالکن کے اعتماد کو توڑنا کبھی گوارا نہ کرتی۔

QQQQ

”یہ آج تم کس کی گاڑی میں گھر آئی ہو؟“

”وہ سبرینہ کے ساتھ آتے ہوئے جس بات کا خدشہ کا شکار تھا وہ بالآخر سامنے آہی گیا نہ صرف بالاج گھر پر تھا بلکہ ستم بالائے ستم گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی سامنے برآمدے کی سیڑھی کے قریب ہی کھڑا تھا بلیک ٹی شرف اور جینز میں ملبوس اس کا سرخ و سفید رنگ غصہ سے دہک رہا تھا اور اس کی تیز آواز سنتے ہی پلوشہ کانپ اٹھی اور اس کی آواز حلق میں ہی کہیں پھنس گئی جسے بمشکل اس نے برآمد کیا۔

”وہ میری دوست تھی۔“

”یہ تم نے ایسی دوستیں کہاں سے بنا لیں؟ جو ہر روز ایک نئی گاڑی میں تمہیں چھوڑنے آتی ہیں۔“

وہ سیڑھی سے اتر کر اس کے قریب آکھڑا ہوا ”اوہ میرے خدا یہ شخص کس قدر باخبر ہے اور میں آج تک یہ سمجھتی رہی کہ اسے میرے آنے جانے کا علم ہی نہیں ہے۔“

”اب کیا سوچ رہی ہو میں پوچھ رہا ہوں۔ اس کا جواب دو۔“

وہ غصہ سے دھاڑا، اس کی دھاڑ نے پلوشہ کی رہی سہی ہمت بھی ختم کر دی۔ اسے لگا کہ وہ ابھی گر جائے گی وہ تو بھلا ہوا کہ بالاج کی تیز آواز سنتے ہی امی اندر سے باہر آگئیں اور حیرت زدہ اپنی جگہ پر کھڑی ان دونوں کو تکنے لگیں۔

”تمہیں ہمیشہ منع کرتا ہوں۔ اجنبی لوگوں سے دوستیاں نہ کرو اور تم ہو کہ بغیر کسی سے پوچھے انجانے لوگوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھوم رہی ہو۔“ وہ اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورتا اس کے مزید نزدیک آگیا جبکہ خوف سے اس کی ٹانگیں لرز اٹھیں۔

”کیا ہوا بالاج خیریت تو ہے؟“ بالآخر لبنیٰ سے نہ رہا گیا اور انہوں نے تیزی سے آگے بڑھ کر بالاج کو بازو سے تھام لیا۔

”اسی سے پوچھ لیں یہ آپ کو زیادہ بہتر طور پر بتا سکے گی۔“

وہ اس پر ایک قہر آلود نگاہ ڈالتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ وہ اپنی جگہ حیران و پریشان ہی کھڑی رہ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وین نہ آنے کی صورت میں اگر وہ سبرینہ کے ساتھ گاڑی میں گھر آہی گئی تو اس میں کیا قیامت تھی بالاج کے بلا سبب اتنا غصہ کرنے کی کوئی بھی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آئی اور ایسے میں جب لبنیٰ نے اس سے کچھ پوچھنے کی کوشش کی تو وہ بلک بلک کر رو دی۔ اپنی ذات پر اس قدر بے اعتباری نے اس کے حساس دل کو دکھی کر دیا تھا۔

QQQQ

اور جانے کیسے بھاگی نے بارہ گھنٹے کے اندر اندر اس کا پیغام جنید تک پہنچا دیا۔

”اس سے کہنا کہ اپنا خیال رکھے۔“ جنید کے اس جوابی پیغام نے اسے زندگی کی نوید سنا دی۔

”انہوں نے کہا ہے کہ میں چھ تاریخ کو انہیں پھر سے فون کروں، وہ آپ کیلئے کوئی پیغام دینا چاہتے ہیں۔“ بھاگی نے آہستہ آہستہ اسے بتایا اس تمام عرصہ میں وہ مسلسل ادھ کھلے دروازے سے باہر دیکھتی رہی۔

”ٹھیک ہے۔ تم فون کر لینا۔“ خوشی نے سامنے لگے کیلنڈر پر ایک نظر ڈالی جہاں 29 کا ہندسہ چمک رہا تھا درمیان میں صرف نو دن تھے۔ نو دن بعد فیصلے کی گھڑی آنے والی تھی۔ زندگی یا موت کوئی ایک اس کے مقدر میں درج ہو جاتی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ناکامی کی صورت میں صرف اور صرف موت ہی اس کا مقدر بننے والی تھی لیکن اب وہ ڈر خوف کی کیفیت سے نجات پا چکی تھی اور فیصلہ کر چکی تھی کہ عدالت میں صرف وہ بیان دے گی جس کا حکم اس کا دل دے گا اور جو سچ ہو گا۔ سچ کے علاوہ اسے کچھ نہ کہنا تھا، اب اگر اسے انتظار تھا تو صرف جنید کے حکم کا کہ وہ اس سلسلے میں بھاگی کو کیا ہدایت دیتا ہے آج رات اس کا نکاح تھا ایک ایسا نکاح جس کی قانونی اور شرعی کوئی حیثیت نہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ نکاح پر نکاح کا عمل قطعاً غیر اسلامی اور جاہلانہ طرز عمل ہے لیکن اس کے باوجود وہ مجبور تھی۔ اس مسئلے پر جتنا وہ احتجاج کر سکتی تھی کر چکی تھی اور اب مزید کوئی فائدہ نہ تھا، اسی لئے اس نے مکمل خاموشی اختیار کر لی تھی۔

وہ جان چکی تھی کہ اگر آج اس کے بھائی پر جنید عباسی نے حبس بے جا اور اندیشہ قتل کا کیس دائر نہ کر رکھا ہوتا تو شاید آج وہ زندہ بھی نہ ہوتی۔ اس کی یہ زندگی محض کسی مصلحت کے تحت تھی پہلے پہل تو اس کی سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اگر زریاب اس سے شادی کیلئے تیار ہے تو کیوں یہ لوگ پہلے جنید عباسی سے طلاق اور پھر عدت کے بعد شادی کا سارا عمل قانونی اور شرعی طور پر انجام نہیں دیتے؟ لیکن آہستہ آہستہ وہ سمجھ گئی کہ اس کے بھائی نے جنید پر جعلی نکاح کا جوابی کیس دائر کر رکھا ہے، اب اگر وہ طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں تو عدالت انہیں جھوٹا قرار دے دے گی اور ان کا مقصد محض اپنی عزت بچانا تھا اور جنید عباسی کو جھوٹا قرار دینا تھا اور اپنی اس جھوٹی شان و شوکت اور عزت کیلئے اسے بھینٹ چڑھایا جا رہا تھا۔ نکاح نامہ پر تاریخ چھ ماہ قبل کی ڈالی گئی تھی۔ وکیل اور مولوی صاحب کی ملی بھگت اور پیسوں کے زور پر تمام عمل مکمل کر لیا گیا تھا۔ اب انتظار تھا صرف آٹھ تاریخ کا جس دن عدالت میں خوشی نے پیش ہو کر بیان دینا تھا کہ وہ جنید عباسی کو نہیں جانتی بلکہ زریاب اس کا شوہر ہے اور شاید جنید عباسی نے یہ جعلی نکاح نامہ اپنی کسی دشمنی کا انتقام لینے کیلئے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہ تھا کہ وہ فی الحال اپنے بھائیوں کی ہر بات خاموشی سے مانتی چلی جائے اور ایسا ہی وہ کر رہی تھی اور سب کچھ اس کے بھائیوں اور باپ کی مرضی کے مطابق ہوتا چلا گیا لیکن جب نکاح کے بعد اس نے رخصتی کا سنا تو اس کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔

یہ اس نے سوچا بھی نہ تھا کہ اس قسم کی صورتحال سے بھی دوچار ہوا جا سکتا ہے اور اب اپنی عزت بچانے کےلئے کوئی بھی راستہ اختیار کرنا پڑتا، جائز تھا۔ بھاگی شام سے ہی اس کے ساتھ تھی جب وہ زریاب کے ساتھ رخصت کی گئی تو بھی بھاگی کو ہی اس کے ہمراہ کر دیا گیا جبکہ اس کے دونوں بھائی فلک شیر اور علی شیر نہایت ہی پتھریلے تاثرات کے ساتھ اس سے کچھ قدم کے فاصلے پر موجود رہے لیکن بالکل ایسے جیسے ان کا کوئی بھی رشتہ خوشی سے نہ ہو۔ انہوں نے زریاب سے گلے مل کر اپنی بہن پر ایک نظر بھی ڈالنا گوارا نہ کیا۔ وہ بھی نہایت خاموشی سے خود کو بمشکل سنبھالتی ہوئی بھاگی کا سہارا لئے باہر کاریڈور تک آگئی جہاں زریاب اپنی گاڑی کے ساتھ اسی کا منتظر تھا اور اس وقت جب وہ پچھلا دروازہ کھول کر اندر داخل ہونا چاہتی تھی اچانک ہی اسے اپنے عقب میں اپنے باپ ابراہیم مگسی کی آواز سنائی دی۔

”ایک منٹ رکو زریاب! مجھے خوشنما سے کچھ ضروری بات کرنی ہے۔“ دروازے سے اندر داخل ہوتے ہوئے خوشی ٹھٹک کر رک گئی اور اس نے اپنے قدم واپس موڑ لئے۔ آج اتنے ماہ بعد اپنے باپ کی آواز سن کر اس کا دل بھر آیا اسے لگا شاید اس کے باپ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا ہو، شاید وہ اپنی بیٹی سے وقت رخصت ملنے آیا ہو۔ وہ منتظر تھی۔ کب اس کا باپ آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھے اور وہ اس کے سینے سے لگ کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرے زریاب آگے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ چکا تھا جبکہ بھاگی بھی اسے دروازے کے قریب تنہا چھوڑ کر جیپ کے اندر داخل ہو گئی تھی۔ رات کی تاریکی میں لان پر بنی روش پر وہ تنہا کھڑی تھی جب ابراہیم مگسی دھیرے دھیرے چلتا اس کے قریب آیا۔

”میں نے قسم کھائی تھی۔ اپنی زندگی میں کبھی تمہارا منہ دوبارہ نہ دیکھوں گا لیکن آج وقت کے ہاتھوں میں مجبور ہو گیا اور مجھے اپنی قسم توڑنی پڑی ورنہ تم جیسی حیا باختہ لڑکی کی شکل بھی شاید میں کبھی نہ دیکھتا۔ تم جیسی لڑکیاں جو چڑھتی جوانی کے جوش میں اپنے باپ بھائیوں کو دنیا کے سامنے ذلیل کرواتی ہیں، زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں رکھتیں۔“

وہ بغیر کسی تمہید کے بول رہا تھا۔ ان کے لہجہ کی سفاکی نے خوشی کے رگ و پے میں جھرجھری سی بھر دی اور ایک سرد لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں اتر گئی۔

لیکن جانے کیوں میر زریاب تمہارے قتل کے فیصلے کے خلاف ہمارے سامنے آکھڑا ہوا اور ہمیں اس کی بات ماننی پڑی۔ وہ جیسا چاہے تمہارے ساتھ سلوک کرے۔ ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا اور تم بھی یہ بھول جانا کہ تمہارے ماں باپ زندہ ہیں کیونکہ تمہارے جیسی لڑکی کو بیٹی کہتے ہوئے بھی ہمیں شرم آتی ہے اب جاﺅ لیکن یاد رکھنا جب تک زندہ ہو، کبھی ہمیں اپنا منحوس چہرہ نہ دکھانا اور ہاں بابا زریاب….“

اس سے بات کرتے کرتے ابراہیم مگسی نے اچانک ہی زریاب کو پکار۔

”جی بابا سائیں!“ وہ فوراً جیپ سے نیچے اتر کر اس کے باپ کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اس کا انداز نہایت ہی مو ¿دبانہ تھا۔

”بابا! جب تک یہ کیس چلے ٹھیک ہے۔ جب ختم ہو جائے تو جو تمہارا دل چاہے وہ سلوک اس لڑکی سے کرنا۔ ہمیں کوئی اعتراض نہ ہو گا۔ چاہو تو مار کر کہیں گاڑ دینا یا پھر گھر کے کسی کونے میں ڈال کر بھول جانا۔“

زریاب کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولتا ہوا ابراہیم مگسی کا لہجہ اس نفرت کا غماز تھا جو اس کے دل میں خوشی کےلئے موجود تھی وہ بڑی مشکل سے اپنی لاش کو گھسیٹتی ہوئی زریاب کی ہمراہ اس گھر تک پہنچی جو شاید زریاب نے حال ہی میں خریدا تھا وہاں اس کے استقبال کےلئے صرف پھوپھی الماس موجود تھیں لیکن بالکل ایسے جیسے اسے جانتی ہی نہ ہوں۔ ان کا رویہ اتنا حقارت آمیز تھا جیسے وہ کوئی ناپاک اور نجس چیز ہو جسے چھونے سے ان کے وجود کے گندے ہونے کا خدشہ ہو زریاب کے پیچھے پیچھے چلتی بھاگی کی ہمراہی میں اپنے کمرے تک آگئی جو بالکل سادہ سا تھا اور اتنے قیمتی گھر کا حصہ ہی معلوم نہ ہوتا تھا۔ اس کمرے کو دیکھتے ہی اسے اپنی اوقات سمجھ میں آگئی اور وہ جان گئی کہ زریاب کے نزدیک اس کی کیا حیثیت ہے۔

QQQQ

آٹھ تاریخ آپہنچی۔ آج اسے عدالت میں پیش ہو کر اپنے باپ، بھائیوں کے حق میں بیان دینا تھا۔ اس کا نکاح نامہ پچھلی پیشی میں ہی عدالت میں جمع کروا دیا گیا تھا۔ شادی میں شریک مختلف لوگ بھی بطور گواہ اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے تھے۔ ہر شخص نے حلفیہ بیان دیا تھا کہ وہ خوشنما اور زریاب کی شادی میں شریک تھا۔ اس کی تصاویر ثبوت کے طور پر پیش کر دی گئی تھیں۔ جنید عباسی کا کیس پچاسی فیصد کمزور ہو چکا تھا اور اب مگسی خاندان کو یقین تھا کہ خوشی کا بیان اس کیس کے تابوت کی آخری کیل ثابت ہو گا۔ خوشی نے پچھلے نو دن ایک امید و بیم کی کیفیت میں گزارے تھے اس نے شکر ادا کیا تھا کہ زریاب خود ہی اس کے کمرے میں نہ آیا تھا ماسوائے ایک دن کے جب وہ صرف اسے یہ یقین دلانے آیا تھا کہ اگر وہ عدالت میں جنید عباسی کے خلاف بیان دے دے اور بتا دے کہ وہ اسے قطعاً نہیں جانتی اور اس نکاح سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے تو وہ اسے دل سے اپنی بیوی تسلیم کر لے گا۔

اور اس لمحہ خوشی نے اسے یقین دلایا کہ جنید اس کے ماضی میں ایک غلطی تھا جسے وہ وقت گزرنے کے ساتھ بھول چکی ہے اور اب جو کچھ ہے اس کیلئے میر زریاب ہی ہے۔

خوشی کی اس یقین دہانی کے بعد اتنا ضرور ہوا کہ اسے اس گھر میں آزادانہ گھومنے پھرنے کی اجازت مل گئی باوجود اس کے کہ وہ ان نو دونوں میں سوائے چند لمحوں کے اس کمرے سے باہر ہی نہ نکلی جہاں وہ اس شادی کے بعد مقیم تھی اور وہ چند لمحے جن میں اس نے کمرے سے باہر نکلنے کی غلطی کی تھی اسے اچھی طرح اس کی اوقات یاد دلا گئے تھے۔ اس کی سگی اور لاڈلی پھوپھی نے اسے دیکھ کر بڑے کروفر سے کہا تھا۔

”آج ابراہیم کی اپنی لڑکی نے اتنا گند ڈالا تو کسی کو نظر نہ آیا اگر خاندان کی کوئی اور لڑکی ہوتی تو کاری کر دی جاتی، یہاں تو باپ بھائیوں نے اپنے گھر کا گند اٹھا کر میرے معصوم بچے کی جھولی میں ڈال دیا، خیر کوئی بات نہیں ہم نے کون سا اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا ہے کسی کا جھوٹا تو ویسے بھی میرے بیٹے نے کبھی زندگی میں نہیں کھایا۔ وہ تو ہمیشہ ستھری چیز کھانے کاعادی ہے۔ یہ منحوس کیس ختم ہو تو ہم بھی اسے جھاڑو پھیر کر باہر نکالیں اور میں اپنے بیٹے کی شادی کرکے اس کی زندگی خوشیوں سے بھروں۔“

بھاگی کمرے میں ہی اس کیلئے چائے، کھانا اور ضرورت کی ہر چیز لے آتی تھی جبکہ وہ ایک ایک دن گن کر آٹھ تاریخ کا انتظار کر رہی تھی۔ بھاگی کے ذریعے اسے جنید کا ایک اور پیغام مل چکا تھا اس نے کہا تھا کہ ”پیشی سے تقریباً پندرہ یا بیس منٹ قبل کسی بہانے سے عدالت کے احاطے میں بنے واش روم تک آجانا اس کے بعد جو ہو گا۔ وہ ہمارا کام ہے تمہارا کام صرف باہر احاطے تک آنا ہے۔“

اس نے مزید کہا تھا کہ ”عدالت میں دیئے جانے والے کسی بھی بیان سے ان دونوں کو کوئی فائدہ ہونے والا نہ تھا کیونکہ اگر خوشی کمرا عدالت میں اپنے باپ بھائیوں کے خلاف کوئی بیان دے بھی دے اور عدالت اس بیان کی روشنی میں اسے جنید کے ساتھ جانے کی اجازت بھی بے شک دے دے تو بھی اس کے بھائی کبھی اسے زندہ سلامت باہر نکلنے نہ دیں گے۔“ جنید کو سو فیصد یقین تھا کہ اسے پولیس کے پہرے میں بھی مار دیا جائے گا اور یقینا اس کا انتظام اس کے بھائی کرکے گئے تھے اور اپنے پچھلے دنوں کے حالات کو دیکھتے ہوئے وہ بڑی آسانی سے جنید کی بات پر یقین کر سکتی تھی کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے سو فیصد درست ہے اور اب اسے وہ ہی کرنا تھا جو جنید نے سمجھایا تھا۔ تقریباً بارہ بج کر پانچ منٹ پر وہ کمرا عدالت میں داخل ہوئی کیونکہ ایک بجے کے قریب اس کی پیشی تھی۔ اس کے ساتھ اس کے دونوں بھائیوں کے علاوہ زریاب، سجاول اور علی شیر کے باڈی گارڈ بھی تھے۔ اندر صرف وہ بھاگی زریاب، علی شیر اور فلک شیر گئے تھے جبکہ باقی لوگ باہر ہی رک گئے تھے۔

ان سب کے پاس بھاری تعداد میں اسلحہ موجود تھا لیکن وہاں کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اس سلسلے میں ان سے باز پرس کی جا سکتی۔ وہ آگے کی نشستوں پر بھاگی کے ساتھ بیٹھی تھی جب اچانک ہی اس کے پیٹ میں شدید درد اٹھا اتنا کہ وہ درد سے بے حال سی ہو گئی ویسے ہی اسے پچھلے دو دن سے ڈائریا ہو گیا تھا۔

”مجھے باتھ روم جانا ہے۔“ بالآخر تکلیف نہ برداشت کرتے ہوئے اس نے اپنے قریب بیٹھے میر زریاب سے کہا جس نے ایک نظر سامنے گھڑی پر ڈالی ایک بجنے میں دس منٹ باقی تھے جبکہ ابھی کمرے میں عدالت کا کوئی بھی آدمی موجود نہ تھا۔

”ٹھیک ہے آﺅ۔“ زریاب اٹھ کھڑا ہوا۔

زریاب ساتھ چل پڑے گا اسے یہ امید ہرگز نہ تھی، وہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”بھاگی باہر دیکھو سجاول ہو گا۔ اسے کہو تم دونوں کے ساتھ واش روم تک جائے۔“

جانے کیا سوچ کر زریاب نے بھاگی کو آواز دی۔ اس کی بات سنتے ہی خوشی نے اطمینان کا سانس لیا بھاگی جو کہ متوحش نگاہوں سے اس کی جانب تک رہی تھی۔ زریاب کا حکم سنتے ہی تیزی سے باہر کی جانب لپکی۔

”زریاب! تم بھی ان کے ساتھ ہی جاﺅ گے اور ذرا جلدی فارغ ہو کر واپس آجاﺅ جج صاحب آگئے ہیں۔“

باہر نکلتے نکلتے اس نے علی شیر کی آواز سنی اور پھر زریاب بھی اس کے ساتھ ہی باہر برآمدے میں آگیا جہاں سجاول اپنے گارڈز کے ہمراہ کھڑا تھا ان دونوں کو آتا دیکھ کر وہ سب احتراماً ایک جانب ہو گئے جیسے ہی وہ بھاگی اور زریاب کی ہمراہ ہی میں احاطے کی جانب بڑھی۔ سجاول اپنے گارڈز کے ہمراہ خاموشی سے ان کے پیچھے چل دیا، وہ بے حد خوفزدہ اور گھبرائی ہوئی تھی دل ہی دل میں مختلف قرآنی آیات کا ورد کرتی۔ وہ اس مقام تک آگئی جہاں سامنے ہی بنے ہوئے احاطے میں واش روم تھے۔ دائیں ہاتھ پر مردانہ جبکہ بائیں طرف زنانہ کا بورڈ آویزاں تھا اور ظاہر ہے کہ زنانہ واش روم میں چاہتے ہوئے بھی کوئی مرد اندر داخل نہ ہو سکتا تھا لہٰذا وہ صرف بھاگی کے ہمراہ دھڑکتے ہوئے دل سے اندر داخل ہوئی۔ سجاول اور زریاب باتھ روم سے چند قدم کے فاصلے پر ہی رک گئے تھے۔ اس تمام عرصہ میں ان دونوں نے بھی ایک دوسرے سے کوئی بات نہ کی تھی، اندر داخل ہو کر اس نے جیسے ہی بھاگی کی زرد رنگت دیکھی اسے احساس ہوا کہ وہ خوشی سے بھی زیادہ گھبرائی ہوئی ہے۔ آگے کیا ہونے والا تھا؟

یہ ان دونوں میں سے کوئی نہ جانتا تھا۔ وہ تو صرف جنید کی ہدایت کے مطابق یہاں تک آگئی تھیں اور اب کسی انہونی کی منتظر تھیں جو انہیں اس ایک لمحہ کی قید سے آزادی دلاتی اور بالآخر اگلے ایک سیکنڈ میں ہی وہ انہونی وقوع پذیر ہو گئی جس کے انتظار نے انہیں صلیب پر لٹکا رکھا تھا اچانک ہی داخل ہونے والے مردوں میں سب سے آگے جنید تھا جسے شاید اس نے آج کئی ماہ بعد دیکھا تھا۔ وہ سب بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوئے تھے جنید کے ساتھ موجود دیگر تمام مرد اسلحہ سے لیس تھے۔

”جلدی نکلو باہر جلدی۔“ جنید نے اندر داخل ہوتے ہی اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹا۔ اس کی کالی چادر سر سے ڈھلک کر کندھوں پر آگئی وہ یکدم گھبرا اٹھی۔

”میرے ساتھ بھاگی بھی جائے گی۔“ جنید کے ساتھ زندگی کا نیا سفر شروع کرنے سے قبل اسے بھاگی کی زندگی محفوظ کرنے کا کوئی دوسرا بہتر حل نظر نہ آیا تھا۔

جنید نے ایک نظر اجرک میں ملبوس سانولی سلونی سی بھاگی پر ڈالی جو سر جھکائے کھڑی تھی لیکن اس کے جسم کی کپکپاہٹ اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ موت کا خوف اسے اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔

”ٹھیک ہے۔ آجاﺅ تم بھی۔“ جنید کو ایک لمحہ لگا اور فیصلہ ہو گیا۔

وہ اور بھاگی جیسے ہی جنید کی ہمراہی میں باہر نکلیں، سامنے ہی میر زریاب اور سجاول جنید کے آدمیوں کے نرغے میں گھرے نظر آئے۔ ان سب کا اسلحہ چھین لیا گیا تھا اور اب وہ سب نہتے تھے۔

”میں ان دونوں کو لے کر نکل رہا ہوں تم دوسری جیپ میں انہیں بھی اپنے ہمراہ لے آﺅ۔ جلدی کرو ایسا نہ ہو اندر خبر پہنچ جائے اور وہ لوگ باہر نکل آئیں جلدی کرو جلدی۔“ جنید جلدی جلدی ہدایت دیتا ہوا تیزی سے باہر کی جانب لپکا۔ وہ جنید کے ساتھ تقریباً بھاگ رہی تھی اتنے اسلحہ کے نرغہ میں دو لڑکیوں کو لے جاتے آدمیوں کیلئے خود بخود ہی راستہ بنتا چلا گیا۔

چند قدموں کے فاصلے پر ہی جیپ موجود تھی، وہ سب تیزی سے اندر داخل ہوئے اور جیپ ہو اسے باتیں کرتی ہوئی گیٹ سے باہر نکل گئی اور اس عدالت کے گیٹ سے باہر نکلتے ہی وہ اپنے پیچھے سب کچھ چھوڑ آئی۔ اپنا خاندان اپنے سارے رشتے ناتے، عدالت میں کھڑے بظاہر غیرت مند اپنے بھائی جنہوں نے بغیر نکاح کے اپنی سگی بہن ایک نامحرم کے حوالے کر دی تھی اور میر زریاب جو کچھ نہ ہوتے ہوئے ہی بظاہر دنیا کے سامنے اس کا شوہر تھا یہ سب کچھ ایک خوف ناک بھولی بسری یاد کے طور پر دور کہیں رہ گیا۔

اگر کچھ اس کے ساتھ تھا تو وہ جنید عباسی اور برے وقت میں اس کا ساتھ دینے والی ایک ملازمہ بھاگی جو اسے آج اپنے ہر رشتہ سے زیادہ عزیز تھی۔ اسے افسوس تھا، کاش اس کے گھر والے قانونی طور پر جنید سے طلاق کے بعد اس کی دوسری شادی زریاب سے کرتے تو وہ کبھی یہ انتہائی قدم نہ اٹھاتی بہرحال جو ہونا تھا ہو چکا اور اب گزرتے وقت کو یاد کرنا بے کار تھا، وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے اس عمل کے بعد پیچھے کیا ہوا؟ لیکن جلد ہی اخبارات کے ذریعے اسے کافی کچھ پتا چل گیا۔ زریاب اور سجاول جنہیں حفظ ماتقدم کے طور پر جنید کے آدمی ساتھ ہی لے آئے تھے۔ اسی رات رہا کر دیئے گئے کیونکہ ان کا اغوا ¿ اس منصوبے میں شامل نہ تھا۔ اس کے جنید کے ساتھ فرار کی خبر نے اس کے بھائیوں کے ہوش اڑا دیئے انہوں نے نہ صرف باہر نکل کر اندھا دھند فائرنگ کی بلکہ جنید کے وکیل کو بھی احاطہ عدالت میں بری طرح پیٹا جس کی بنا پر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور دون دن بعد ابراہیم مگسی کی کوششوں کے نتیجہ میں ان کی ضمانت ہوئی۔

خوشی نے ہر روز کے اخبار میں اپنا اور اپنے سے وابستہ رشتوں کا نام کئی بار پڑھا۔

عدالت سے اس کے فرار کی خبر خوب مرچ مسالہ لگا کر اخبارات میں پیش کی گئی یہاں تک کہ چند اخبارات نے تو حد ہی کر دی کہا گیا کہ وہ اپنے شوہر کو چھوڑ کر تنسیخ نکاح کے بغیر فرار ہوئی ہے جس کی بنا پر اس پر شرعی دفعہ نافذ کی جائے وہ جب بھی کوئی نئی خبر پڑھتی اس کی نگاہوں میں اپنے باپ اور بھائیوں کے شرمسار چہرے آجاتے اور جانے کیوں نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ایک نامعلوم سا احساس جرم گھیر لیتا کاش وہ محبت میں اتنی اندھی نہ ہوتی کہ آج اپنے ہاتھوں اپنے باپ کی عزت کو روندنا نہ پڑتا لیکن شاید یہ تمام ذلت اس کے خاندان کا مقدر بن چکی تھی۔

جو بھی حقیقت یہ تھی کہ اب وہ حد سے زیادہ خوفزدہ رہنے لگی تھی حالانکہ اس کے حالات میں جنید کے گھر والوں نے بھرپور انداز سے اس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس کے دن بدن بڑھتے ہوئے خوف نے جنید کو مجبور کر دیا کہ وہ اسے لے کر پاکستان سے باہر چلا جائے۔

اپنے گاﺅں سے انہوں نے بالکل واسطہ ختم کر رکھا تھا کیونکہ اسی میں ان سب کی بہتری تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کے بھائی اسے جان سے مارنے کا عہد کر چکے ہوں گے جس کے مطابق وہ اپنا یہ عہد ہر حال میں پورا کریں گے چاہے انہیں اس کیلئے کتنا ہی انتظار کیوں نہ کرنا پڑے۔

بھاگی کی شادی کر دی گئی تھی۔ وہ ملتان اپنے شوہر کے ساتھ مقیم تھی جو جنید کی زمینوں پرہی کام کرتا تھا۔ شروع شروع کا کچھ عرصہ وہ خوفزدہ رہی لیکن جلد ہی جنید کی محبت اور بچوں کی پیدائش نے اسے سب کچھ بھلا دیا لیکن شاید جنید کبھی بھی کچھ نہ بھول سکا۔ اس نے ہمیشہ خوشی اور اپنے بچوں کو بہت زیادہ احتیاط سے رکھا۔ اسے ہمیشہ یہ خدشہ رہا کہ کہیں خوشی کے بھائی زندگی کے کسی موڑ پر اس سے ٹکرا نہ جائیں اور اس ٹکراﺅ کا نقصان اس کی اولاد کو نہ ہو اور اس کی طبیعت کی یہ انتہا پسندی اور دل کا خوف خود بخود اس کی اولاد میں بھی منتقل ہو گیا گزرتے وقت کے ساتھ جنید نے اپنی اولاد خاص طور پر اپنے بیٹے کو بھی سب کچھ بتا دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ بے خبری کے سبب انہیں کوئی نقصان پہنچے۔

بہرحال وقت کبھی نہ رکنے والی چیز ہے اور ہمیشہ ہر حال میں گزر ہی جاتا ہے۔ خوشی کی موت کے ساتھ ہی محبت کا وہ سفر جو مگسی حویلی سے شروع ہوا تھا اپنے اختتام کو پہنچا۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے