سر ورق / بلاوا … خورشید پیر زادہ … قسط نمبر12

بلاوا … خورشید پیر زادہ … قسط نمبر12

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر12

”یہ کیا ہوگیا—- ہم کیا جواب دیں گے ان کو– اس سے تو اچھا کہ ہم اس کی بات مان لیتے-“

ساری بات کا پتہ لگتے ہی امی اور ابو کے پیروں تلے زمین کھسک گئی- ریتو کے ابا بھی وہیں آچکے تھے- سب کے ماتھے پر فکر کی لکیریں ابھری ہوئی تھیں-

”میں گاڑی لے کر دیکھ آتا ہوں-“ نیرو کے ابو پریشانی میں مزید کسی کوئی بات کئے باہر نکل گئے-

٭٭٭٭٭٭٭

”چاچا بس کتنی دیر میں چلے گی-“ نیرو نے بس میں بیٹھ کر کنڈیکٹر سے پوچھا-

”پانچ سات منٹ اور لگیں گے بیٹی- ایک بار مستری کلچ ٹھیک کر دے- پھر تو یہاں سے سیدھی پانچویں گیئر میں ہی چلنی ہے- ہی ہی ہی-“ کنڈیکٹر نے کہا اور گے چلا گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

نیرو کے ابو سیدھے بس اسٹینڈ ہی پہنچے اور میرپورخاص جانے والی بس کے پاس جاکر کھڑے ہوگئے- اچانک ان کو گھر سے فون آیا- وہ واپس پلٹے اور تھوڑی دور کھڑے ہوکر فون ریسیو کیا-

”ہاں جی-“

”ریتو کہہ رہی ہے کہ وہ میرپورخاص جانے کا بول رہی تھی اپنی سہیلی کریمہ کے پاس-“ امی نے بتایا-

ریتو بھی اب تک وہاں آچکی تھی-

”شکر ہے— وہی نا جو ہاسٹل میں رہتی ہے-“

ہاں جی-وہی- “ امی نے تصدیق کی-

”ٹھیک ہے- تم وہاں فون مت کرنا- میں اس کو لے کر ہی آﺅںگا- اوکے-“ ابو نے یہ کہہ کر فون کاٹ دیا اور جیب میں رکھ کر میرپورخاص جانے والی بس میں چڑھ گئے-

انہوں نے تمام سواریوں پر نظر ڈالی مگر نیرو وہاں نہیں تھی- وہ سیدھے کنڈیکٹر کے پاس پہنچے-

”اس سے پہلے کوئی بس میرپورخاص کے لئے روانہ ہوئی ہے کیا؟-“

”جی ہاں- ایک بس پندرہ منٹ پہلے ہی نکلی ہے- کیوں؟-“ کنڈیکٹر نے سوالیہ انداز میں پوچھا-

”نہیں- کچھ نہیں-“ ابو نے کہا اور تیزی سے اترتے ہوئے باہر نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھ کر میرپورخاص جانے والی سڑک پر آگئے-

٭٭٭٭٭٭٭

پانچ سات منٹ کا وقت ملنے پر نیرو بس سے اتر کے بس اسٹینڈ کے پی سی او میں چلی گئی تھی- وہیں سے اس نے کریمہ کے ہاسٹل میں فون ملایا- مگر کسی نے فون نہیں اٹھایا- وہ باہر نکلنے ہی والی تھی کہ اس نے ابو کو بس سے باہر کھڑے دیکھ لیا- نیرو ایک دم سہم گئی اور واپس پی سی او میں گھس گئی-

”آپ نے فون کر لیا ہو تو باہر آجایئے- مجھے بھی فون کرنا ہے-“ بوتھ کے باہر کھڑے آدمی نے کہا-

”ایک منٹ پلیز-“ کہہ کر نیرو نے مجبوری میں ریسیور اٹھا کر نمبر ری ڈائل کیا‘ مگر اب بھی فون نہیں اٹھایا گیا-

نیرو نے باہر دیکھا- ابو بس سے اتر رہے تھے- نیرو نے ایک بار اور فون ملایا-

”ہیلو-“ اس بار کسی نے فون اٹھا لیا تھا-

”روم نمبر بارہ سے کریمہ کو بلا دیں گے پلیز-“ نیرو نے درخواست کی-

”کالج میں تین دن کی چھٹیاں ہیں- سب اسٹوڈنٹس اپنے اپنے گھر گئے ہوئے ہیں- آپ کون؟-“ ادھر سے آواز آئی- سنتے ہی بری طرح سے گھبرا کر نیرو نے فون رکھ دیا- ابو جا چکے تھے اور اسی وقت بس بھی چل پڑی- وہ باہر نکلی اور بس اسٹینڈ کے پیچھے چلی گئی-

”اب کیا کروں-“ مایوسی اور بے بسی سے نیرو کی آنکھوں سے آنسو چھلک اٹھے-

٭٭٭٭٭٭٭

ابو نے بس پکڑنے میں زیادہ وقت نہیںلگایا- بس کو رکوا کر وہ اوپر چڑھے مگر اس میں بھی نیرو کو نہ پاکر تشویش میں مبتلا ہوگئے- بس سے اتر کر انہوںنے گاڑی میرپورخاص کی طرف دوڑا دی- ہاسٹل جاکر نیرو کا انتظار کرنے کے علاوہ ان کے پاس کوئی چارہ نہیں بچا تھا-

٭٭٭٭٭٭٭

ادھر نیرو کے پاس بھی کوئی چارہ نہیں بچا تھا- تقریباً آدھے گھنٹے تک وہ اسی شش و پنج میں مبتلا رہی کہ گھر واپس جاﺅں یا نہیں- پھر جانے اس کے دل میں کیا خیال آیا کہ وہ باہر نکلی اور ایک تانگے میں بیٹھ گئی-

تھوڑی دیر بعد ہی وہ امان کی کوٹھی کے باہر موجود تھی-

”وہ گھر پر ہیں؟-“

”جی ایک منٹ-“ راجو اندر جاتے ہوئے بولا- اندر اس کو سب سے پہلے رویندر ملا- ”صاحب- باہر ایک صاحبہ آئی ہیں- آپ لوگوں کو پوچھ رہی ہیں- کیا بولوں؟-“

”دیکھیں تو سہی کون ہے؟-“کہتے ہوئے رویندر باہر نکلا آیا-

باہر آتے ہی ایک پل کے لئے تو وہ ٹھٹھر سا گیا- وہ کچھ دیر تک پاگلوں کو طرح اس کو دور سے ہی دیکھتا رہا- پھر اپنے سر کو پکڑ کر تیزی سے اندر بھاگا-

”بھائی- بھائی-“

”کیا ہوگیا- چلا کیوں رہے ہو-“ روہن نے پوچھا-

”وہ- وہ- آپ خود ہی دیکھ لیں- میں نہیں بتاتا-“ رویندر کے چہرے کی چمک بتا رہی تھی کہ کچھ نہ کچھ اچھا ہی ہوا ہے-

”کہاں دیکھ لوں- بتاﺅ تو سہی- تم اتنے بے تاب کیوں ہو رہے ہو-“ روہن نے حیرت سے کہا-

”نہیں- نہیں- تم مت دیکھو- تم کپڑے بدل لو- میں لے کر آتا ہوں اندر -“ رویندر نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-

”کپڑے بدل لوں؟-“ روہن کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا- رویندر کو گھور کر دیکھتے ہوئے روہن باہر نکل آیا-

”آآ– آپ-“ روہن کی نیرو کو دیکھتے ہی ہوائیں اڑ نے لگیں- وہ تیزی سے گیٹ کی طرف گیا اور بولا- ”آپ یہاں—؟-“

”اندر آجاﺅں؟-“ نیرو نے مرجھائے لہجے میں کہا-

”ہا— ہاں ہاں- آیئے نا- آپ- — کیا ہوگیا ہے-“ روہن نیرو کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا بول رہا تھا-” سب ٹھیک تو ہے نا-“

نیرو کے چہرے سے لگ نہیں رہا تھا کہ سب ٹھیک ہے- اس لئے وہ گہری فکر میں تھا-

”ہوں- — وہ— تم کیا کہہ رہے تھے پرانے ٹیلے کے بارے میں-“ نیرو نے آہستہ سے پوچھا-

”وہ مجھے سچ میںآپ کے خواب آتے ہیں- رویندر کی قسم- — میں کچھ بھی جھوٹ نہیں بول رہا تھا-“ روہن بات کو سمجھ نہیںپایا تھا-

تب تک امان اور رویندر بھی وہاں آچکے تھے-

”آپ بیٹھیں نا-“ امان نے احترام سے کہا-

”میرا وہ مطلب نہیں ہے-“ نیرو نے بیٹھتے ہوئے کہا-”آپ کہہ رہے تھے نا کہ ٹیلے پر جاکر مجھے سب یاد آجائے گا-“

”جی ہاں- وہ کہہ رہی تھی- نیرو— خواب میں- میں سچ کہہ رہا ہوں-“ روہن اب تک کھڑا ہی تھا-

”تو چلو-“ نیرو نے کہا-“

”کہاں؟-“ روہن نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا-

”پرانے ٹیلے پر-“ نیرو نے جواب دیا-

”کیا- سچ؟-“ روہن خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا- مگر اگلے ہی لمحے وہ مایوس ہوتے ہوئے بولا- ”مگر وہ تو یہاں سے بہت دور ہے- وہاں جاکر آج کے آج واپس نہیں آسکتے-“

”کتنے دن لگ جائیں گے- تین دن- چار دن- ہفتہ-“ نیرو نے پوچھا-

”ہاں ایک ہفتے میں تو سب کچھ ہوجائے گا- مطلب یہ کہ ہم آرام سے جا سکتے ہیں- مگر؟-“ روہن پوچھنا چاہتا تھا کہ گھر والے کیا کہیں گے-

لیکن نیرو نے بیچ میں ٹوک دیا- ”ٹھیک ہے- چلو-“ نیرو نے اداس لہجے میں کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

”پتہ نہیں کہاں چلی گئی وہ پاگل- یہی کرنا تھا تو بتا تو دیتی- ہم شادی کینسل کر دیتے-“ گھر واپس آکر نیرو کے ابو سب کے ساتھ گہری سوچ میں بیٹھے ہوئے تھے-

” اگر ہاسٹل بند ہے تو کہاں گئی ہوگی میری بچی- کہیں کچھ ہوگیا اس کو تو— وہ تو اکیلی کہیں جاتی بھی نہیں تھی-“ امی لگاتار آنسو بہائے جا رہی تھیں-

”بھائی صاحب- لڑکے والوں کو تو منع کردیں- کم سے کم وہاں تو کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہوگی- “ ریتو کے ابا نے کہا-

”کیاکہوں— کیسے کہوں— میں میرپورخاص جا رہا تھا تو ان کا فون آیا تھا- میں نے تب تو کچھ کہا بھی نہیں ان سے- اب تو ان کے رشتے دار بھی آچکے ہوں گے- یہ کیسا دن دکھایا ہے قسمت نے-“ ابو کی آنکھیں بھی بھیگ چکی تھیں-

اچانک باہر دو گاڑیاں رکنے کی آواز سنائی دی- سب سہم گئے- باہر نکلے تو دیکھا کہ آنند کے گھر والے ہی تھے-

”اب کیا کیا جائے- “ بڑبڑاتے ہوئے نیرو کے ابو ‘ آنند کے والد کی طرف بڑھے-

آنندکے والد بڑی گرم جوشی سے ان کے گلے ملے-

”ارے ایسے چہرہ کیوں لٹکا رکھا ہے یار— یہ لو سنبھالو میرا بیٹا اور شینو بیٹی کو مجھے سونپ دو-“ انہوں نے کھلکھلاتے ہوئے کہا-

آنندنے انہیں ادب سے نمستے کہتے ہوئے چرن چھوئے- مگر حیران پریشان نیرو کے ابو انہیں نمستے کا جواب تک دینا بھول گئے-

”میرے ساتھ آئیں- کچھ بات کرنی ہے-“ نیروکے ابو نے آہستگی سے کہا-

”دیکھو بھائی جہیز کی بات مت کرنا-“ آنندکے والد نے خوش مزاجی سے کہا-

”آپ آئیں تو سہی- چلیں اوپر چلتے ہیں-“ نیرو کے ابو نے انکا ہاتھ پکڑا اور اوپر جانے لگے-

ریتو کے ابا بھی انکے ساتھ ہی تھے- آنے والے مہمانوں کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے – باقی لوگ نیچے بیٹھ کر میل ملاپ میں لگ گئے-

٭٭٭٭٭٭٭

”یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی صاحب- آپ کو پہلے ہی پوچھ لینا چاہئے تھا- اب- یہ تو میری پگڑی اچھالنے والی بات ہوگئی-“ سارا معاملہ سنتے ہی آنندکے والد کے ہوش اڑ گئے- وہ چہرہ جو خوشی سے چمک رہا ایک دم پھیکا پڑ گیا-

”بھائی صاحب – میں مانتا ہوں- مگر آپ کسی طرح سے آج کا پروگرام ٹال دیں- کچھ دن بعد تو وہ واپس آہی جائے گی- آپ کو تو پتہ ہی ہے شینو کی فطرت کا- وہ ایسی نہیں ہے- اس کے آنے کے بعد ہم کوشش کریں گے وہ مان جائے-“ نیرو کے ابو نے سر جھکاتے ہوئے کہا-

”کمال کر رہے ہیں آپ- بھائی صاحب- میرے رشتے داروںکو میں کیاکہوں؟— یہی کہ میری بہو کہیں چلی گئی ہے بنا بتائے— اور پھر آنے کے بعد بھی اس کو زبردستی شادی کے لئے تیار کرنے کا کیا فائدہ- کل کو پھر چلی جائے گی ہمارے گھر سے- نہیں نہیں- یہ نہیں ہوسکتا بھائی صاحب-“ آنند کے والد کے لہجے میں شدید غصہ تھا-

”تو پھر آپ ہی بتائیں- میں کیا کروں— یہ تو انہونی ہے-“نیرو کے ابو نے شرمندگی سے کہا-

”نہیں- نہیں- یہ انہونی نہیں- یہ آپ کی نادانی ہے – زبردستی آپ کو اڑنا نہیں چاہئے رشتے کے لئے- وہ منع کر رہی تھی تو آپ کل تک بھی فون کرکے بات ٹال سکتے تھے— ہم کچھ بھی کہہ دیتے- مگر آج کی طرح ذلت کا سامنا تو نہ کرنا پڑتا-“ انہوں نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا-

”اب پچھلی باتوں کو دوہرانے سے کیا فائدہ بھائی صاحب- جو ہونا تا وہ تو ہوچکا— یہ سوچیئے کہ اب کیاکر سکتے ہیں-“ ریتو کے ابا نے بیچ میں دخل دیتے ہوئے کہا-

”یار- اب کرنے کو رہ کیا گیاہے- میں تو کسی کو منہ دکھانے لائق نہیں رہا- مجھے تو بہو چاہئے تھی- وہ یہاں ہے ہی نہیں-“ انہیں بہت زیادہ غصہ آرہا تھا-

”ایک بات کہوں بھائی صاحب- اگر آپ برا نہ مانیں تو-“ اتنا کہہ کر ریتو کے ابا رک گئے-

بنا کچھ بولے ہی دونوں ان کی طرف دیکھنے لگے-

”اگر آپ کو میرا گھر بار پسند ہو تو میں اپنی بیٹی دینے کو تیار ہوں-“ ریتو کے ابا نے کہا-

نیرو کے ابو چونک کر ان کا منہ تکنے لگے-

”یہ تو لمبی کہانی ہے بھائی صاحب- آنندنے لڑکی کو دیکھ رکھا ہے- شینو اس کو بے حد پسند تھی- آپ تو سمجھتے ہوں گے آج کل کے بچوں کو- پھر کیا پتہ آپ کی بیٹی کو بھی شینو کی طرح آنندپسند نہ آیا تو- اور پھر یہ سب ایک ہی دن میں تو نہیں ہوسکتا نا-“ آنندکے والدکے چہرے پر اب بھی غصہ تھا اور ناراضگی بھی-

”میری بیٹی نیچے ہے- میں اس کی ماں اور ریتو کو بلا لیتا ہوں- آپ آنندکو بلالیں- دیکھ لیجئے اگر بات بنتی ہے تو-“ ریتو کے ابو نے کہا-

اور کوئی چارہ اب بچا بھی تو نہیں تھا- وہ باہر نکلے اور آنندکو بلا لائے-

٭٭٭٭٭٭٭

آنندبھی ساری بات سن کر سن رہ گیااگلے ہی پل اس کو احساس ہوا کہ ہو نہ ہو نیرو روہن کے پاس ہی ہے- مگر پھر وہی بات ہوتی- زبردستی کا رشتہ- آنندنے اپنے والد کے چہرے پر پھیلی فکر کی لکیروں کو دیکھا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا-

”ٹھیک ہے پاپا- جیسا آپ ٹھیک سمجھتے ہیں کریں- مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے-“

یہ سنتے ہی اس کے والد نے فوراً کھڑا ہوکر اپنے بیٹے کو بانہوں میں بھر لیا-

”ایسی ہوتی ہے اولاد- مجھے تم پر فخر ہے بیٹا- “ ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے-

”آپ ایسا مت سوچیں پاپا- میں نے ریتو کو دیکھا ہے- مجھے پسند ہے یہ رشتہ- میں ہی پاگل تھا- میں کبھی شینو کی آنکھوں کے تاثر کو پڑھ ہی نہیں پایا- آپ ریتو سے پوچھ لیں- اگر ان کو منظور ہو تو یہ میری خوش قسمتی ہی ہوگی-“ آنندکا گلا رندھ سا گیا-

”ہمیں معاف کر دینا بیٹا- ہم سے چوک ہوگئی-“ نیرو کے ابو کی آواز میں پچھتاوا تھا-

”آپ بھی چاچا- اوپر والے کی مرضی کے بغیرکبھی کچھ ہوتا ہے کیا؟— کوئی غلطی نہیں ہوئی آپ سے- آپ مجھے شرمندہ نہ کریں-“ آنندنے کہا تو نیرو کے ابو بھی خود کو اسے اپنی بانہوں میں بھرنے سے نہ روک سکے-

٭٭٭٭٭٭٭

جب ریتو اوپر آئی تو اسے اندازہ بھی نہیں تھا کہ کیا سے کیاہوگیا ہے- وہ تو یہی سوچ رہی تھی کہ نیرو کے بارے میں پوچھنے کے لئے ہی اس کو بلایا گیاہے-

”بیٹی- اگر آنندسے شادی کرنے میں تمہیں کوئی اعتراض نہ ہو تو ہماری عزت بچ جائے گی- آنندکے والد نے بغیر کسی لگ لپٹی کے ہی پوچھ لیا- ریتو کو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں ہوا- لمبا چھریرا انسپیکٹر اس کے سامنے کھڑا اس کو ہی دیکھ رہا تھا-

”مم- میں-“

”کوئی زور زبردستی کی بات نہیں ہے بیٹی- تمہارے ابا نے ہم پر احسان کرنے کے بہانے ہی یہ مشورہ دیا ہے- لیکن اگر تمہیں کوئی اعتراض ہے تو-“

ریتو نے آنندسے نظریں ملائیں اور شرما کر اپنی ماں کے پہلو میں چھپ گئی-

”بول دو بیٹا- جو کچھ بھی تمہارے دل میں ہے بول دو-“ ماں نے نہایت دلار سے کہا-

”مم – مجھے کیوں اعتراض ہوگا ماں- یہ تو میری خوش قسمتی ہوگی – اور پھر اس سے اچھا حل نکل بھی نہیں سکتا-“ ریتو نے ماں کے کان میں دھیرے سے کہا- مگر سن سب نے لیا- اس کے ساتھ ہی گھر میں پھر سے خوشیاںپھیل گئیں-

موقع دیکھ کر نیرو کے ابو‘ ریتو کے ابا کے پاس گئے-

”آپ نے مجھے بچا لیابھائی صاحب- میں تو برباد ہی ہوجاتا- یہ داغ لے کر جی نہیں پاتا میں-“

اور دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ کر آنسو بہانے لگانے —- خوشی کے بھی— اور غم کے بھی-

٭٭٭٭٭٭٭

”مگر آج کیسے جاسکتے ہیں- ابھی تو میرے پاس گاڑی بھی نہیں ہے-“ روہن نے نیرو کے سامنے اپنی پریشانی بیان کی-

”کہیں تک تو چلیں گے نا- راستے میں رک جائیں گے— کیسے بھی کرو- مگر ابھی چلو یہاں سے-“ نیرو اس بات سے ڈر رہی تھی کہ کہیں آنندگھر والوں کو لے کر ڈھونڈتا ہوا یہاں نہ آجائے-

روہن کو آگے کنواں اور پیچھے کھائی نظر آرہی تھی- ٹال مٹول کرنے پر نیرو کے واپس لوٹ جانے کا بھی خدشہ تھا- اور اگر چلتا بھی تو نیرو کو ٹھہراتا کہاں-رویندر کے علاوہ وہاں کسی کو اس کی کہانی کا پتہ نہیں تھا- ہوٹل میں وہ اس کو رکھنا نہیں چاہتا تھا اور رویندر جہاں پر روم لے کر رہتا تھا وہ نیرو کو ٹھہرانے کے لحاظ سے ٹھیک نہیں تھی- کچھ دیر سوچنے کے بعد اس نے جواب دیا-

”ایک منٹ- ممی سے بات کرلوں-“

”ہاں- کرلو- مگر جلدی کرو پلیز-“ نیرو ہڑبڑائی ہوئی سی تھی-

روہن نے موبائل نکال کر گھر کا نمبر ڈائل کیا-

”ہیلو-“ گھر سے نوکر کی آواز آئی-

”کاکا- ممی کو فون دینا-“ روہن نے جلدی سے کہا-

”چھوٹے مالک کہاں چلے گئے ہو آپ- گھر پر سب آپ کے لئے فکرمند ہو رہے ہیں- بیگم صاحبہ بہت غصے میں ہیں-“ کاکا نے کہا-

”یار جلدی فون دو- میں سمجھا دوں گا انہیں- “ روہن بولا-

”یہ لیں- آگئیں— بیگم صاحبہ روہن بابا کا فون ہے-“ کاکا فون ممی کو دے کر چلا گیا-

”کہاں چلے گئے ہو تم؟— یہاں کون جی رہا ہے- مر رہا ہے- تمہیں فکر بھی ہے-“ ممی کی آواز سے غصہ او رپیار دونوں جھلک رہے تھے-

”ممی— وہ— میں نے آپ کو بتایا تو تھا کہ کہیں جا رہا ہوں-“ روہن ہلکے سے مسکراتے ہوئے بولا-

”کیا خاک بتایا تھا- تین دن کا کہہ کر گئے تھے- آج پورے آٹھ دن ہوگئے ہیں- فون تو کر ہی سکتے تھے نا-“ ممی کی آواز اب بھی نرم نہیں پڑی تھی-

”اس کے لئے سوری ممی- میری بات سنیں-“ روہن نیرو کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا-

”تمہارا تو سوری کہہ کر ہی کام چل جاتا ہے— خیر — چھوڑو ان باتوں کو — پہلے میری بات سنو— مینانے تمہارے لئے بہت اچھا رشتہ دیکھا ہے آسٹریلیا میں— لڑکی پڑھی لکھی ہے— اور بہت ہی خوبصورت ہے— اپنے ہی ملک کی ہے- بہت ہی اچھا خاندان ہے– تم جلدی سے گھر آجاﺅ— لڑکی کے فادر پاکستان آئے ہوئے ہیں آج کل- تم سے مل لیں گے— کیا ہوا—- فون کاٹ دیا کیا-“ ممی نے ایک سانس میں سب کچھ کہنے کے بعد پوچھا- فون پر کافی دیر سے آواز نہیں آئی تھی-

”نہیں ممی- یہیں ہوں-“ روہن نے مری ہوئی آواز میں کہا-

”تو کل پکا آرہے ہو نا تم- بول دوں لڑکی والوں کو-“ ممی نے پوچھا-

”نہیں ممی – – وہ-“ روہن بولتا بولتا رک گیا-

”نہیں کے بچے- تم گھر آجاﺅ ایک بار- کیا نہیں نہیں کی رٹ لگا رکھی ہے- کل آرہے ہو نا؟-“ ممی شاید آسٹریلیا والے رشتے کے لئے بے تاب سی ہو رہی تھیں-

”میری بات تو سن لیں ممی-“ روہن مایوس ہوکر بولا-

”ہاں بولو- جو بولنا ہے- مگر کل نہیںآئے تو دیکھ لینا– پہلے ہی بتا رہی ہوں-“ ممی نے طیش میں آکر کہا-مگر پھر بھی ان کے ہر لفظ سے بیٹے کے لئے پیار جھرنے کی طرح بہہ رہا تھا- ما ں تو ایسی ہی ہوتی ہے-

”آنے کو تو میں آج بھی آجاﺅں گا ممی- لیکن-“ روہن سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ نیرو کے بارے میں ممی کو کیسے بتائے- کہاں سے آغاز کرے– اور وہ بھی تب جب ممی نے پہلے ہی رشتے کا ڈنکا بجا دیا ہے-

”لیکن کیا؟— یہ تو اور بھی اچھی بات ہے- آج ہی آجاﺅ-“ ممی خوش ہوتے ہوئے بولیں-

”پہلے میری پوری بات تو سن لیں ممی-“ روہن دھیمے لہجے میںکہا-

”بولو گے تبھی تو سنوں گی نا- بولو-“ ممی نے پیار سے کہا-

”مم- میں شادی نہیں کروں گا ممی-“ روہن نے سانس چھوڑتے ہوئے آدھی بات کہی-

”کیا- یہ کیا کہہ رہے ہو تم— شادی کیوں نہیں کرو گے تم؟-“ ممی پھر غصے سے بولیں-

”مم-میرا مطلب ہے یہ والی شادی نہیں کروں گا-“ روہن نے جلدی سے بات کہہ دی-

”کیوں؟— دیکھ تو لو پہلے- مینانے دیکھا ہے اس کو- اور وہی رشتے کے لئے زور دے رہی ہے— تمہیں اس کے غصے کا تو پتہ ہی ہے نا-“ ممی نے اپنی لہجے میں تھوڑی نرمی لاتے ہوئے کہا-

”میں نیرو سے شادی کروں گا ممی-“

بات سنتے ہی ممی کا غصہ اور بڑھ گیا-”اب یہ نیرو کون ہے— تمہیں تومیں نے کبھی ان چکروںمیں نہیں دیکھا– کوئی ضرورت نہیں ہے- تمہارے پاپا کے لاڈ نے تمہیں بگاڑ دیا ہے- باقی اپنی بہن سے بات کر لینا- میں تو اس کو صاف صاف بول دوں گی کہ میری تو سنتا ہی نہیں ہے-“

”ممی میں دیدی سے با ت کرلوں گا- مگر ابھی تو ایک اور پرابلم ہے-“ روہن نے کہا-

”اب کیا ہوگیا-“ ممی نے منہ بنا کر کہا-

”میںنیرو کو گھر لے آﺅں- آپ سب بھی اسے دیکھ لیں گے-“ روہن نے پھر سے اسی مری ہوئی آواز میں پوچھا-

”یہ تم کیا کہہ رہے ہو بیٹا— پاگل ہوگئے ہو کیا— پرائی امانت کو گھر میں ایسے نہیں لاتے- تم اکیلے آجاﺅ– کسی کو ساتھ لانے کی ضرورت نہیں ہے- ویسے بھی تمہارا رشتہ وہیں ہوگا جہاں مینا چاہے گی- سمجھ رہے ہو نا؟-“ ممی پہلے تو چونکیںاور پھر ناراض سی ہوکر سمجھانے لگیں-

”وہ پرائی نہیں ہے ممی— اور اس کا آنا بھی بہت ضروری ہے- آپ پلیز مان جائیں- گھر آکر آپ کو سب کچھ بتا دوں گا-“ روہن نے درخواست کرتے ہوئے کہا-

”نہیں- بالکل نہیں- کسی بھی لڑکی کو شادی سے پہلے تو میںگھر میں اس طرح گھسنے ہی نہیں دوں گی-تم چپ چاپ گھر آجاﺅ- میں فون رکھ رہی ہوں-“ ممی نے غصے سے کہا اور فون بند کر دیا-

”اوہ ہ ہ ہ -“ روہن نے ایک لمبی سانس لی اور واپس رویندر اور نیرو کے پاس آگیا-

”کیا ہوا؟-“ رویندر نے اس کے چہرے پر بارہ بجتے دیکھ کر کہا-

”کچھ نہیں- پاپا کو فون کرتا ہوں-“ روہن نے کہا اور دوبارہ ان سے پرے ہٹ گیا-

”ہیلو پاپا-“

”اوئے پاپا کی جان- کہاں ہو تم— یہاں ایک ہفتہ ہوگیا ہے تمہاری جگہ مجھے ڈانٹ کھاتے ہوئے—واپس کیوں نہیں آئے اب تک-“ پاپا بالکل بھی غصے میں نہیں تھے-

”آرہا ہوں نا- میری بات تو سن لیں- “ روہن کی باتوں سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس میںاور پاپا میں گہری دوستی ہے-

” ٹھیک ہے – ٹھیک ہے- میں تو تمہاری ممی کو سنانے کے لئے تمہیں ڈانٹ رہا تھا- تمہاری ممی یہیں میرے برابر میں کھڑی تھی- اب اس عمر میں نہیں گھومو گے پھرو گے تو کب گھومو گے- ہا ہا ہا — دو چار دن اور بھی لگنے ہوں تو کوئی بات نہیں- میں سنبھا ل لوںگا-“ پاپا نے کھلکھلا کر ہنستے ہوئے کہا-

”کیا کہہ تھی ممی- ابھی میرے فون پر؟-“ روہن نروس سا ہوکر بولا-

”ارے کچھ کہنے ہی والی تھی کہ تمہارا فون آگیا- میں بعد میں بات کرلوں گا- تم بولو-“ پاپا نے سیرئیس ہوتے ہوئے کہا-

”وہ – آپ کو تو پتہ ہی ہوگا — میرا رشتہ-“ روہن کہہ ہی رہا تھا کہ پاپا نے اس کی بات کاٹ دی-

”اوہ لے- یہ خوشخبری تو مجھے دینی تھی تمہیں— تمہاری ممی اپنے نمبر بنا گئیں-“

”مجھے شادی نہیں کرنی ہے پاپا-“ روہن نے ہمت کرتے ہوئے کہا-

”ارے- یہ کیا کہہ رہے ہو تم- کیوں نہیں کرنی شادی؟-“ پاپا نے ڈانٹنے والے انداز میں روہن کو جھڑکا-” جب میں تمہاری عمر کا تھا تو تمہاری دیدی کا باپ بن چکا تھا- سمجھا-“

”مطلب یہ ہے کہ مجھے وہ شادی نہیں کرنی ہے پاپا-“

”تو کون سی شادی کرو گے بیٹا- ہاں؟-“

”وہ – ایک لڑکی ہے نیرو- مجھے اسی سے شادی کرنی ہے-“ روہن نے ہلکا سے جھینپتے ہوئے کہا-

”واہ بیٹا- میں تو تمہیں یونہی سمجھ رہا تھا- مجھے بتایا تک نہیں-“ پاپا نے مذاق میں کہا اور پھر سنجیدہ ہوتے ہوئے بولے- ”مگر وہ آسٹریلیا والوں کو کیا جواب دیں- مینا تو بہت غصے ہوجائے گی— تمہیں پتہ ہے نا اس کا؟-“

”ہم- کچھ کریں نا پاپا- “ روہن نے التجا کرتے ہوئے کہا-

”چلو آجاﺅ- پھر دیکھتے ہیں- دونوں مل کر سوچیں گے کوئی کہانی-“ پاپا آسانی سے مان گئے-

”مگر— وہ بھی میرے ساتھ آرہی ہے-“ روہن نے جواب دیا-

”وہ کون؟-“ پاپا نے آئیڈیا لگانے کی بجائے اس سے پوچھ لینا مناسب سمجھا-کیونکہ روہن نے آج تک ان سے جھوٹ جو نہیں بولا تھا-

”وہی نیرو اور کون-“ روہن نے جلدی سے کہا-

”ارے واہ- تم تو مجھ سے بھی آگے نکل گئے- مانا تمہاری جنریشن ایڈوانس ہے- مگر اتنی جلد بازی بھی ٹھیک نہیں ہے یار- پہلے گھر آکر بات تو کر لو- پھر ڈولی میں -اوہ سوری – اپنی بڑی سی گاڑی میں بٹھا کر لائیں گے تمہاری دلہن- فی الحال تو تم اکیلے ہی آجاﺅ-“ پاپا نے چونکتے ہوئے جواب دینا شروع کیا تھا مگر آخر تک آتے آتے ان کا لہجہ پھر سے دوستانہ ہوگیا-

” پاپا سمجھنے کی کوشش کریں- کوئی پرابلم ہے تبھی تو کہہ رہا ہوں-“

”ایسی کیا پرابلم ہے یار- تھوڑی بہت تو بتا دو ابھی-“ پاپا فکر مند سے ہوگئے-

”اتنی بڑی بات بھی نہیں ہے پاپا- مگر اس کا میرے ساتھ آنا بہت ضروری ہے- ممی منع کر رہی ہیں- کچھ کریں نا پلیز-“ روہن نے روہانسا ہوتے ہوئے کہا-

”چلو آجاﺅ پھر- تمہاری ممی نے تو میری نیند حرام کر دینی ہے- ایسا کرو— پھر تم کل آجاﺅ- تب تک میں کچھ سوچتا ہوں- مگر دھیان رکھنا- کوئی الٹی سیدھی بات ہوئی تو ماروں گا بہت-“ پاپا نے بناوٹی غصہ دکھایا-

”اوہ تھینکس پاپا- آئی لو یو–ٹھیک ہے- میں کل نیرو کے لے کر آتا ہوں- اوکے بائے-“ روہن نے یہ کہتے ہوئے فون بند کیا-

”ارے سنو تو سہی– – لو فون ہی کاٹ دیا- پاپا موبائل میز پر رکھ کر صوفے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے اور آنکھیں بند کرکے کچھ سوچنے لگے- سوچتے سوچتے ان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیلنے لگی- روہن کو جان سے بھی زیادہ چاہتے تھے وہ- انہیں یقین تھا کہ ان کا بیٹا کبھی کوئی غلط کام کر ہی نہیں سکتا-

٭٭٭٭٭٭٭

روہن واپس نیرو کے پاس پہنچاتو اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا-

”پاپا مان گئے ہیں- مگر انہوں نے کل آنے کو کہا ہے- اب کیا کریں؟— تم کل صبح نہیں آسکتیں کیا؟-“

نیرو نے کوئی جواب نہیں دیا- وہ خیالوں میں کہیں اور ہی کھوئی ہوئی تھی- جوں جوں وقت گزر رہاتھا نیرو کو گھر والوں کی یاد ستا نے لگی تھی- گھر سے نکلتے وقت اس نے اس بات کو جتنا آسان سمجھا تھا‘ دراصل یہ فیصلہ اب اس کو اتنا ہی بھاری لگ رہا تھا- امی ابو کی یاد اور اس کے بنا ان کی حالت کی فکر نے اس کو بے چین سا کر دیا تھا-

”نیرو-“ روہن نے اس کو خیالوں میں کھویا ہوا پا کر پھر آواز دی-

”آں– میرا نام شینو ہے- مجھے اسی نام سے بلاﺅ پلیز-“ نیرو نے چونک کر خیالوں سے پلٹتے ہوئے کہا-

”پاپا مان گئے ہیں – مگر کل آنے کو کہہ رہے ہیں-“ روہن نے اس کی جھکی ہوئی آنکھوں میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا-

”مجھے ایک فون کرنا ہے- — دو گے پلیز-“ نیرو نے جواب میں اتنا ہی کہا-

”ہاں ہاں- یہ لو نا-“ روہن نے خوش ہوکر فون نیرو کی طرف بڑھایا-

”وہ- مجھے اکیلے میں بات کرنی ہے-“ نیرو نے روہن کی طرف دیکھے بنا ہی کہا-

”ٹھیک ہے- ´ ´ ´ — ہم اندر جا رہے ہیں- بات کرنے کے بعد بلا لینا-“ روہن نے کہا اور روہن کے ساتھ اندر چلا گیا-

”ہیلو-“ دوسری طرف سے آواز آئی- آواز ریتو کی ماں کی تھی- نیرو نے کوئی بات کئے بغیر فون کاٹ دیا-

—————

”کون تھا ماں-“ ریتو ان کے پاس ہی بیٹھی تھی-

”پتہ نہیں- فون کٹ گیا-“ ماں نے جواب دیا-

”ضرور شینو کا ہوگا- اب کی بار مجھے اٹھانے دینا- “ ریتو آکر فون کے پاس بیٹھ گئی-

”ٹھیک ہے- پیار سے بات کرکے پوچھنا کہاں ہے- اور ہو سکے تو اس کو واپس بلا لینا- میں تھوڑا سا آرام کرلوں—آج تو سب کام ایسے کا ایسے ہی پڑا ہے-“ یہ کہہ کر ماں اٹھیں اور اندر جاکر دروازے کی آڑ میں کھڑی ہوگئیں- ان کو یقین تھا کہ اگر فون پر شینو ہوئی تو ریتو آنندسے اپنا رشتہ طے ہونے کی بات ضر ور بتائے گی- وہ جاننا چاہتی تھی کہ نیرو اس رشتے سے خوش ہے بھی یا نہیں- سب کچھ اتنی جلدی ہوگیا تھا کہ ان کو اپنی بیٹی کے دل کی بات جاننے کا موقع بھی نہیں ملا تھا- ان کو پتہ تھا کہ ریتو‘ شینو سے کچھ نہیں چھپائے گی-

امید کے مطابق ان کے باہر نکلتے ہی پھر گھنٹی بجی- ریتو نے جھٹ سے فون اٹھا لیا-

”ہیلو-“

”ہیلو ریتو-“ نیرو نے بوجھل سی آواز میں کہا-

”کہاں مر گئیں تم- میں سمجھی تم مذاق کر رہی ہو- مگر تم تو سچ میں ہی چلی گئیں—- ایسے بھی کوئی کرتا ہے بھلا— تمہیں پتہ ہے یہاں سب کتنے پریشان ہیں-“ ریتو‘ نیرو کی آواز پہچانتے ہی شروع ہوگئی-

”چاچی کہاں ہیں؟-“ نیرو نے پوچھا-

وہ باہر ہیں- میں اکیلی ہی ہوں- بتاﺅ نا کہاں ہو تم-“ ریتو نے پیار سے پوچھا-

”امی ابو تو ٹھیک ہیں نا-“ نیرو کو ان کی فکر زیادہ تھی-

”ایسے کیسے ٹھیک رہ سکتے ہیں- چاچی کا تو صبح سے برا حال ہے- تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا شینو-“ ریتو نے اس کی سرزنش کی-

”وہ– لوگ— آئے تھے کیا؟-“ نیرو نے پوچھا-

”ہاں آئے تھے- مگر اب تمہیں ان کی فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے- تم گھر آجاﺅ-“ ریتو نے کہا-

”ابو مجھے کبھی معاف نہیں کریں گے- میں نے ان کی عزت مٹی میں ملا دی- کیا منہ لے کر واپس آﺅں؟-“ نیرو کی آواز سے لگ رہا تھا جیسے وہ اپنا رونا شروع کر دے گی-

”ایسا مت کرو یار— میں نے تو پہلے بھی تمہیں سمجھایا تھا- مگر تمہاری سمجھ میں کچھ نہیں آیا— آجاﺅ- گھر پر سب تمہارا انتظار کر رہے ہیں— بے فکر ہوجا- تمہاری ٹینشن میں نے اپنے گلے میں ڈال لی ہے-“ ریتو ہنستے ہوئے بولی-

”کیا مطلب؟-“ بات نیرو کی سمجھ میں نہیںآئی-

”ان کا رشتہ میرے ساتھ طے ہوگیا ہے— اب تو خوش ہو نا تم-“ ریتو نے بڑی خبر سنانے کے سے انداز میں کہا-

نیرو تھوڑی دیر یونہی سن سی ہو کر کھڑی رہی- پھر اچانک اس نے رونا شروع کر دیا- اس کے رونے کی آواز دوسرے کمرے میں روہن اور رویندر تک بھی پہنچی اور وہ گھبرا کر باہر نکل آئے- مگر نیرو کو فون کان سے لگائے دیکھ کر واپس اندر چلے گئے-

”ارے یہ کیا کر رہی ہو تم— رو کیوں رہی ہو— اب اس سے شادی کے لئے تمہارا دل مان گیا ہے کیا- چلو کر لیں گے ایڈجسٹ-“ ریتو ہنسنے لگی-

”تم کیا ہو یار— میرے لئے تم نے یہ سب کر لیا- میں کیا کہوں-“ نیرو سسکتے ہوئے کہہ رہی تھی-

” میں پاگل ہوں کیا جو تمہارے لئے کروں گی- میں نے تو تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اگر ایسا رشتہ میرے لئے آتا تو میں کبھی منع نہ کرتی- وہ تو ابا کے دماغ میں جانے کیسے یہ خیال آگیا- ہی ہی ہی— اب تم یہ ساری باتیں چھوڑو اور یہ بتاﺅ کہ کہاں ہو— میرپور خاص والا ہاسٹل تو بند ہے- خیر جہاں بھی ہو جلدی سے اڑ کر آجاﺅ- باقی باتیں یہاں بیٹھ کر ہی کریں گے-“ ریتو نے بنا لاگ لپٹ کے اپنے دل کی بات اپنی بہن جیسی سہیلی کو بتا دی-

”ٹھیک ہے- تم میرے گھر پر ہی ملنا- میں آرہی ہوں- بیس پچیس منٹ میں-“ نیرو نے کہا اور فون رکھ دیا-

فون رکھتے ہی اس نے روہن کو اس کا نام لے کر پکارنے کی کوشش کی- مگر جانے کیوں اس سے نام لیا نہیں گیا-

”ارے— سنیں-“ روہن تو بلاوے کا انتظار ہی کر رہا تھا- رویندر کا اندر ہی رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے باہر آگیا تاکہ نیرو کو اپنے دل کی بات کہنے میں کوئی پریشانی نہ ہو-

”آپ رو کیوں رہی ہیں؟-“

”مجھے اپنے گھر جانا ہے-“ نیرو نے فون روہن کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا-

”یہ- یہ- یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ- میں نے تو پاپا سے بھی کہہ دیا ہے-“ روہن ‘ نیرو کی یہ بات سن کر دم بخود سا رہ گیا-

”سوری– مگر مجھے لگتا ہے کہ مجھے گھر واپس جانا چاہئے— میں جانتی ہوں کہ آپ میری یہ بات بہت بری لگ رہی ہوگی- مگر- میں نہیں جاسکتی- میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہیں— سوری- مگر میںآپ سے بعد میں بات کرلوں گی- وعدہ رہا-“ نیرو سر جھکائے بولتی جا رہی تھی-

”تت- — تو کیا آپ گھر والوں کو بتائے بغیر آئی تھیں- ایسا کیوں کیا آپ نے– میں تو آپ سے پہلے ہی پوچھ رہا تھا کہ-“

”سوری-“ نیرو نے پہلی بار روہن سے دو پل سے زیادہ دیر تک نظریں ملائیں- آج اس کو روہن کی آنکھوں میں اپنا پن سا نظر آرہا تھا- اس کی نظروں میں وہ چبھن نہیں تھی جو نیرو کو دوسرے لڑکوں کی آنکھوں میں دکھائی دیتی تھی-

”میں بعد میں ملوں گی آپ سے-“ نیرو نے کہا اور باہر نکل گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے