سر ورق / عشق سیڑھی کانچ کی ۔۔۔ امجد جاوید ۔۔۔ قسط نمبر1

عشق سیڑھی کانچ کی ۔۔۔ امجد جاوید ۔۔۔ قسط نمبر1

عشق سیڑھی کانچ کی

امجد جاوید

قسط نمبر1

”تھائی لینڈ! یہی کہا ہے نا تم نے؟“ ذیشان نے انتہائی حیرت سے میری جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔ اس کے انداز سے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے میں نے کوئی بہت ہی انہونی بات کہہ دی ہو۔ ایسا ہی حال میرے سامنے بیٹھے فہد کا بھی تھا۔ جس نے چونکتے ہوئے کوئی تبصرہ تو نہیں کیا لیکن اس کے چہرے پر ناگواری، طنزیہ احساس اور حیرت کے ملے جلے اثرات میں مجھے اپنی بات کی ناپسندیدگی واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی۔ چند لمحے پہلے جو میرے دفتر کا ماحول انتہائی خوشگوار تھا، ایک دم سے بوجھل ہوگیا۔ جیسے کسی واٹر کلر سے بنی ہوئی تصویر پر اُوس پڑ جانے سے اس کے رنگ بھدے اور بے ترتیب سے ہوجاتے ہیں۔ ان دونوں کے رویّے سے مجھے دفتر کا ماحول کچھ ایسا ہی محسوس ہوا تھا۔

ذیشان اور فہد میرے کلاس فیلو تھے۔ ہم نے اکٹھے پڑھا تو تھا لیکن میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدے پر فائز ہوگیا۔ ذیشان اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں شریک تھا جبکہ فہد کا معاملہ ابھی طے نہیں ہو پایا تھا کہ اسے کرنا کیا ہے۔ اس کا کہنا یہی تھا کہ وہ مزید تعلیم کے لیے باہر جائے گا لیکن اصل میں وہ کرنا کچھ بھی نہیں چاہتا تھا۔ میں فہد کے بارے میں اچھی طرح اس لیے جانتا تھا کہ وہ میرا پھوپی زاد تھا۔ اس کے پاپا الطاف انور نے ایک اعلیٰ حکومتی عہدے پر بہت ترقی کے ساتھ ڈھیروں دولت جمع کرلی تھی۔ اس لیے اب اگر وہ ساری عمر بھی بیٹھ کر کھاتا رہتا تو وہ ختم نہ ہوتی۔ وہ میرا دوست تو تھا لیکن اس میں ہلکی سی خود پسندی بھی تھی۔ اسے یہ زعم تھا کہ اب جو میں ایک اعلیٰ حکومتی عہدے پر ہوں، اس کے پاپا کی وجہ سے ہوں۔ حالانکہ انہوں نے اپنے تئیں خود دلچسپی لی تھی، میں نے ایک بار بھی انہیں نہیں کہا تھا۔ ذیشان میں خامیاں کم اور خوبیاں اس لیے زیادہ تھیں کہ وہ دوستوں کا دوست اور دوسروں کے بہت کام آنے والا بندہ تھا۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود ہم اچھے اور بااعتماد دوست تھے۔ اس لیے میرے تھائی لینڈ جانے کی بات پر وہ اس قدر حیرت زدہ ہوئے تھے۔ میں نے ان کی طرف دیکھا اوراثبا ت میں سر ہلایا تو ذیشان بولا۔

”میرے خیال میں ان دنوں جبکہ تمہاری شادی کو فقط ایک ماہ رہ گیا ہے، تمہیں کہیں نہیں جانا چاہیے اور وہ بھی تھائی لینڈ جیسے بدنامِ زمانہ ملک میں۔“ اس نے کہا تومجھے یوں لگا جیسے اسے میرے جانے پر شدید غصہ آیا تھا۔

”میری بات سنو گے تبھی تجھے معلوم ہوگا ،اپنی ہی کہے جارہے ہو۔“ میں نے تحمل سے کہا۔

”میں تو اتنا جانتا ہوں پیارے۔ اس ملک کی شُہرت اس قدر خراب ہے کہ وہاں کا نام لیتے ہی عیش و عشرت کا خیال ذہن میں آتا ہے۔ ایسا ہونا فطری سی بات ہے۔ کس کس کو اپنی بے گناہی کے بارے میں بتا سکو گے اور وہ بھی ان دنوںمیں جبکہ تمہاری۔۔۔“ وہ پھر وہیں سے شروع ہوگیا تو میں نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔

”میری شادی کو ابھی پورا ایک ماہ پڑ اہے اور ابھی حتمی تاریخ طے ہونا باقی ہے۔ میں اسی لیے ان دنوں میں جانا چاہتا ہوں کہ پھر مجھے شاید ہی وہاں جانے کا موقعہ ملے اور ممکن ہے وہ مقصد ہی نہ رہے جو ان دنوں میرے پیش نظر ہے۔“ میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا۔

”مقصد! کیسا مقصد میری جان؟“ اس نے مزید حیرت سے پوچھا، لہجے میں انتہائی درجے کا طنز تھا۔

”وہ میں تم لوگوں کو آکر بتاﺅں گا۔“ میں نے بھی وہ بات چھپالینا مناسب سمجھی کیونکہ تھائی لینڈ کے نام پر ہی ان کا ردعمل یہ تھا، مقصد کے بارے میں جان کر تو ان کا بھڑک جانا لازمی تھا۔

”یار! تم کچھ عجیب و غریب قسم کی باتیں نہیں کر رہے ہو؟“ ذیشان نے کہا پھر اپنے دائیں طرف بیٹھے فہد کو ٹھوکا دیتے ہوئے بولا، ”تم بھی تو کچھ منہ سے پھوٹو، یونہی بت بنے بیٹھے رہو گے۔“

اس کے یوں کہنے پر وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر طنزیہ سے لہجے میں بولا:

”اگر تو یہ فقط عیاشی وغیرہ کے لیے جارہا ہے تو میرا نہیں خیال کہ ان دنوں میں اس کا جانا ضروری ہے اور پھر اتنا سرمایہ خرچ کرنے کی ضرورت بھی نہیں۔ ممکن ہے اسے خود پر اعتماد نہ ہو اور وہاں جاکر یہ اپنا اعتماد بحال کرنا چاہتا ہو۔“ فہد نے دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ سیدھے میرے کردار کونشانہ بنایا۔ وہ میری مردانگی پر شک کا اظہار کر رہا تھا۔ یہ کسی بھی مرد کو جذباتی کردینے والی بات تھی چونکہ ایسا کچھ تھا نہیں، مجھے اپنے آپ پر اور اپنے کردار پر پورا اعتماد تھا، اس لیے فہد کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے کہا

 ”ایسی بات نہیں ہے۔“

”تو پھر کیسی بات ہے یار؟“ ذیشان نے کہا، ”فہد ٹھیک کہتا ہے، وہ تمام سہولیات اور مواقع ہم تمہارے لیے یہاں مہیا کرسکتے ہیں تو پھر تمہیں اتنی دور جانے کی ضرورت کیوں ہے؟“ اب کہ اس کا انداز مجھے زچ کرنے والا بھی تھا۔

”اچھا تم لوگ بکواس ہی کرتے چلے جاﺅ گے یا پھر میری بات بھی سنو گے۔“ میں نے واقعتا زچ ہوتے ہوئے کہا۔

”اچھا، تم اپنی سنالو، اس کے بعد ہم فیصلہ کریں گے کہ تمہیں جانا بھی چاہیے یا نہیں۔“ ذیشان نے فہد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو بالکل خاموش تھا اور کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔

”دیکھو میرے بھائی! میں وہاں کسی عیاشی وغیرہ کے لیے نہیں جارہا ہوں اور نہ ہی میرا ایسا کوئی مقصد ہے۔ اگر تم یہاں پر عیش و عشرت کی سہولیات حاصل کرسکتے ہو تو مجھے تمہاری اس آفر کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اگر مجھے تم لوگوں کی مدد درکار نہ ہوتی نا تو میں تم دونوں کو تھائی لینڈ جانے کے بارے میں بتاتا بھی نہ، اور یونہی خاموشی سے چلا جاتا۔“ میں نے ان دونوں کی جانب باری باری دیکھتے ہوئے ذرا سے سخت لہجے میں کہا۔

”مدد۔! کیسی مدد؟“ ذیشان نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

”لیکن اب شاید میں تم دونوں سے مدد بھی نہ مانگوں یہی میرے لیے اچھا ہے۔“ میں نے مایوس ہوتے ہوئے کہا۔

”نہیں! بتاﺅ، تم کیسی مدد چاہتے ہو۔“ فہد نے میری جانب گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

”میں اس کے جانے کے حق میں ہی نہیں ہوں اور تم مدد کی آفر کر رہے ہو۔“ ذیشان نے تڑپ کر کہا تو وہ بولا

”دیکھو ذیشان! جہاں تک بلال کے کردار کی بات ہے تو میرا نہیں خیال کہ ہم اس پر کوئی شک کرسکیں۔ اس کا لڑکپن، اس کی جوانی ہمارے سامنے ہے، سو یہ کہنا کہ یہ تھائی لینڈ اس مقصد کے لیے جارہا ہے، اسے ذہن قبول نہیں کرتا۔“ یہ کہہ کر وہ چند لمحے سوچنے والے انداز میں میری جانب دیکھتا رہا، پھر بولا: ”دوسری بات یہ ہے کہ اگر اس کا مقصد کوئی اور ہے تو وہ ہمیں بتائے۔“

”نہیں! فی الحال میں تم دونوں کو نہیں بتاﺅں گا، ہاں مگر، واپس آنے پر پوری تفصیل سے بتا دوں گا۔ مجھے یقین ہے کہ تم دونوں میرے اس مقصد کو اچھا خیال کرو گے۔“ میں نے پورے اعتماد سے کہا۔

”پھر بھی، وہ کیا مقصد ہے، کچھ تھوڑا بہت ہمارے پلے بھی پڑے، واپس آکر جو بتاﺅ گے، جانے سے پہلے بتانے میں کیا حرج ہے۔“ ذیشان نے الجھتے ہوئے کہا۔

”نہیں، اب نہیں، واپس آکر تفصیل سے بتاﺅں گا، میرا وعدہ رہا۔“ میں نے صاف طورپر جواب دیتے ہوئے کہا۔

”اچھا چلو بتاﺅ، تمہیں ہماری کیا مدد چاہیے۔“ فہد نے پھر پوچھا

”کمال کرتے ہو یار اسے بجائے روکنے کے، اس کی مدد کرنے پر تلے ہوئے ہو۔“ ذیشان نے پھر سے ٹانگ اڑا دی۔

”اور تم اسے کیوں روکنا چاہتے ہو؟“ فہد نے پلٹ کر اس سے پوچھا، لہجے میں دبا دباغصہ تھا۔

”اس کی کئی ساری وجوہات ہیں۔ یہ ابھی چھٹیاں لے گا، پھر چند دنوں بعد اپنی شادی کے لیے۔۔۔“ اس نے کہنا چاہے تو وہ بولا

”یہ کوئی دلیل نہیں ہے، یہ کون سا مہینے رہنے کے لیے جارہا ہے، زیادہ سے زیادہ دو چار دن رہے گا۔“ یہ کہہ کر اس نے مجھ سے پوچھا”کتنے دن کے لیے جارہے ہو؟“

”دس دن کے لیے۔“ میں نے کہا تو ایک لمحے کے لیے وہ بھی چونک گیا۔ اس پر ذیشان تو جیسے شروع ہی ہوگیا۔

”اب دیکھو، دس دن اور وہ بھی دوسرے ملک میں، اتنا خرچ، اپنی شادی پر کیوں نہ خرچ کرے۔ ایسا ہی ٹور اپنے ہنی مون کے لیے بچا رکھے، اس کے لیے جو اس کی ہونے والی بیوی اور محبوبہ ہے۔ فہد! تم بھی جانتے ہو اور میں بھی، یہ ماہا سے عشق کی حد تک محبت کرتا ہے۔ وہ جو کچھ دنوں بعداس کی ہوجانے والی ہے، اس کے بارے میں سوچنے کی بجائے یہ عجیب عجیب سی باتیں کر رہا ہے۔ یہ اچانک تھائی لینڈ میں اس کا کون سا مقصد آن پڑا ہے۔“

”ذیشان! میں اعتراف کرتا ہوں کہ مجھے ماہا سے عشق ہے۔ اس کے علاوہ میں کسی اور کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں نے اس کے لیے بھی پورا پلان کیا ہواہے۔ اسی لیے تو کہتا ہوں نا کہ پھر مجھے وقت نہیں ملے گا میں ہوں گا اور ماہا۔ ہماری اپنی ایک دنیا ہوگی۔ تمہیں یہ بھی معلوم ہے ذیشان کہ میں نے اس کے لیے، اس کی پسند کے مطابق یہاں گھر بنایا ہے، ماہا کو میں نے بتا دیا ہے کہ جب اس گھر میں آئے گی تو اپنی پسند سے سجائے گی۔ پھر بھی وہ آج کل حویلی کا وہ حصہ سجانے کی فکر میں ہے، جو ہمارے لیے مخصوص کردیا گیا ہے۔ سو۔! اس کی کوئی فکر نہیں۔“ میں نے بھرپور انداز میں ذیشان کی بات کو رد کردیا تو اس نے اک نیا پینترا بدلتے ہوئے کہا۔

”دیکھو! اگر وہاں کسی لڑکی کا کوئی چکر ہے نا تو پھر بھی تمہیں مایوسی ہوگی، تمہیں نہیں معلوم کہ وہ کیسی ہیں۔ تم دس دن کا کہہ رہے ہو، میرے گمان میں تو یہی آتا ہے کہ تم دوسرے یا حد تیسرے دن وہاں سے واپس آجانے کی بابت سوچو گے، تو پھر خواہ مخواہ میں اتنا پیسہ برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟“ وہ سمجھانے والے انداز میں بولا۔

”تو اس سے یہ ثابت ہوا، میری جان کہ تم لوگ میری مدد نہیں کرو گے۔ اس لیے یہ موضوع یہیں چھوڑ دیں، کوئی اور بات کریں۔“ میں نے واقعتا اکتاتے ہوئے کہا۔

”میں نے کہا نا، بولو، تمہیں کیا مدد چاہیے، تم خود ہی اس کی باتوں سے الجھ رہے ہو۔“ فہد نے کہا۔

”یار! تم اس کے ہی نہیں، ماہا کے کزن بھی ہو۔ تمہیں ان دونوں کا خیال رکھنا چاہیے، تم ہو کہ اس کی مدد کرنے پر تلے ہوئے ہو۔“ ذیشان نے اب بھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ اس پر فہد نے ذرا سخت لہجے میں کہا۔

”اور میں یہ پوچھتا ہوں کہ جب ایک بندہ جانا چاہتا ہے، تم کیوں اسے روک رہے ہو؟“

”ٹھیک ہے، بتاﺅ بھئی، ہم کیا مدد کریں تمہاری؟“ آخر کار اس نے ہتھیار پھینک ہی دئیے۔

”ہاں بولو!“ فہد نے سنجیدگی سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ میں کچھ دیر خاموش رہا تو وہ دونوں میری جانب انتظار طلب نگاہوں سے دیکھتے رہے، تب میں نے کہا۔

”میں نے ریٹرن ٹکٹ کے ساتھ کراچی سے ویزہ بھی لے لیا ہوا ہے یہ سارا کام میرے دوست علی نے کیا ہے۔ تم بھی اس کے بارے میں جانتے ہو۔ ٹھیک دو دن بعد میں نے یہاں سے نکلنا ہے، یہ طے ہوچکا ہے۔ میں تم دونوں سے الگ الگ مدد چاہتا ہوں۔“

”دونوں سے الگ الگ۔۔۔مطلب؟“ ذیشان نے پوچھا

”ہاں! تم سے میں یہ مدد چاہتا ہوں کہ تمہارا وہ کزن جو بنکاک میں ہے۔کیا نام ہے اس کا ،جو وہاں گارمنٹس کا بزنس کر رہا ہے؟“ میں نے پوچھا۔

”شعیب ہے اس کا نام! وہی نہیں، اسکے والد صاحب بھی کئی برسوں سے وہاں پر ہی کاروبار کر رہے ہیں۔“ اس نے کہا۔

”ہاں! وہی شعیب، چونکہ ملک نیا ہے اورمیں اس کے بارے میں اتنا نہیں جانتا ۔ دوسری بات کہ مجھے وہاں جاتے ہی۔۔۔“ میں نے کہنا چاہا تو وہ درمیان ہی میں بول اٹھا۔

”اوکے! تم اس سے جس طرح کی مدد بھی چاہو گے، وہ دے گا۔ میں ابھی اس سے بات کروا دیتا ہوں۔ اس کے علاوہ؟“ اس نے پوچھا اور ساتھ ہی اپنا فون نکال کر اس کے نمبر پش کر ڈالے۔ تب میں نے اس کی آمادگی دیکھی تو خاصا حوصلہ ہوا۔

”چلو، میں خود ہی اس سے بات کرلوں گا“۔ میں نے کہا اور رابطہ ہوجانے کا انتظار کرنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد رابطہ ہوگیا۔ تو چند لمحے حال احوال پوچھنے کے بعد اس نے کہا۔

”شعیب! میرا جگری دوست بلال۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں وہی۔۔۔ وہ تھائی لینڈ آرہا ہے۔“ یہ کہہ کر وہ دوسری طرف سے سنتا رہا پھر بولا۔ ”ہاں! اسے کوئی کام ہے وہاں پر، یہ میرے پاس ہی بیٹھا ہے۔۔۔ لو اس سے بات کرو۔“ یہ کہہ کر اس نے فون میری جانب بڑھا دیا۔ میں نے فون پکڑا اور پھر حال احوال کے بعد اسے اپنے تھائی لینڈ آنے کے بارے میں بتایا۔

”میرے سر آنکھوں پر بھائی جان، آپ آﺅ، جو بھی اور جیسی بھی خدمت ہوسکی میں ضرور کروں گا۔ آپ سیدھے مجھے فون کرکے حکم دے دیتے، اس میں سفارش کی کیا ضرورت تھی۔“

”نہیں میرے بھائی، سفارش کی بات نہیں ہے، میں چاہتا تھا کہ بندے کا ایک اعتبار۔۔۔“

”اُوہ۔۔۔ کیا کرتے ہیں آپ، کیا میں نہیں آپ کو جانتا، یہ اعتبار وغیرہ کو چھوڑیں، مجھے تو خوشی اس بات کی ہے کہ آپ نے اور ذیشان بھائی نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں آپ کے کسی کام آسکوں۔ کب آرہے ہیں آپ؟“

”پرسوں رات میری فلائیٹ ہے، میں کل آپ کو تفصیل سے بتاﺅں گا کہ مجھے کیا چاہیے۔ پھر وہیں آکر لمبی باتیں ہوں گی۔“ میں نے کہا اور فون ذیشان کو دے دیا۔

”بات سن! کوئی ایسی بات نہ ہو، ساری زندگی۔۔۔ اچھا چل ٹھیک ہے، اللہ حافظ“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔پھر میری جانب دیکھ کر بولا، ”لوجی! یہ تمہاری مدد تو ہوگئی، اب اس سے کیا چاہتے ہو؟“ اس نے فہد کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

”ہاں بولو!“ فہد نے پوچھا

”تم سے میں یہ چاہتا ہوں میری جان کہ کسی کو بھی میرے تھائی لینڈ جانے کی خبر نہ ہو، میں یہاں لاہور میں دس دن نہیں ہوں گا، اتنے دن غائب رہنا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ سب پوچھ سکتے ہیں۔ انہیں کس طرح مطمئن کیا جاسکتا ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے۔“ میں نے الجھتے ہوئے کہا

”سیدھی سی بات ہے کہ تم کسی اور ملک جانے کا کہہ دو، وہ ہم طے کرلیتے ہیں۔“ فہد نے سوچتے ہوئے کہا۔

”ملائیشیا کہہ دو۔“ ذیشان نے لقمہ دیا۔

”ہاں یہ ٹھیک ہے۔“ فہد نے کہا۔ پھر مجھ سے پوچھا، ”اور دوسری بات؟“

”چونکہ شادی کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ میں نے پاپا اور ماما سے کہا تھا کہ چند دن بعد وہ خریداری کے لیے یہاں لاہور آئیں۔ اول تو انہیں آنے ہی نہ دینا اور اگر وہ آجاتے ہیں تو ان کے ساتھ خریداری کروا دینا۔ ممکن ہے وہ سب یا ماہا میرے یوں اچانک جانے پر پریشان ہوں۔ یہ تم نے ہی سب کو سنبھالنا ہے، میں تم سے رابطہ رکھوں گا۔“

”اوکے باس!“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔ ”فائنل ہوگیا۔ میں کل شام ہی گاﺅں چلا جاﺅں گا اور تمہارے آنے تک ادھر ہی رہوں گاےا جو بھی میں نے بہتر سمجھا، تم پریشان نہیں ہونا۔ میں سب سنبھال لوں گا۔“ اس نے دبے دبے جوش سے کہا تو نجانے کیوں مجھے اس کا لہجہ اس قدر اجنبی لگا کہ وہ خود بھی مجھے اجنبی دکھائی دینے لگا۔ لیکن یہ ایک لمحاتی کیفیت تھی کیونکہ میں ذیشان کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔

”چلو یار اب تو بتا دو کہ وہاں کیا کرنے جارہے ہو؟“

”پھر وہی بات؟“ میں نے اکتاتے ہوئے کہا۔

”اچھا چلو جاﺅ۔“ اس نے حتمی انداز میں کہا، پھر آنکھ مارتے ہوئے بولا۔ ”لیکن! اس وعدے کے ساتھ، جب تم واپس آﺅ گے نا تو پوری تفصیل سنوں گا، بلکہ ایک ایک دن کی روداد، بولو منظور ہے؟“

تب میں نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔ ”یار میں تم لوگوں کو بتانے کے لیے خود بے تاب ہوں گا۔“ اس پر وہ بھی ہنس دئیے تو میں نے پورے خلوص سے کہا ”آﺅ! اس خوشی میں کسی بہت اچھے ریستوران میں اعلیٰ قسم کا کھانا کھلاﺅں۔“

”ہاں! اب یہ تو بنتا ہے۔ فہد نے مسکراتے ہوئے کہا۔ تب ماحول ایک دم سے خوشگوار ہوگیا جیسے کسی ماہر مصور کی واٹر کلر سے بنائی ہوئی تصویر میں سبھی رنگ اس خوبصورتی اور مہارت سے بھرے ہوں، جس سے تصویر نکھر جاتی ہے۔ سو ہم تینوں دفتر سے نکل پڑے۔

ز….ز….ز

نور پور شہر سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر آباد گلاب نگر، کہنے کو تو ایک گاﺅں تھا لیکن جدید دور کی تقریباً تمام تر سہولیات وہاں میسر تھیں۔ وہاں کھلی ہوا، پُرفضا مقام اور پرسکون ماحول تھا۔ بیشتر سے زیادہ لوگ غیر ممالک میں کمانے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ یوںوہاں کے لوگ خاصے خوشحال تھے۔ اس لیے گلاب نگر میں سفید حویلی اتنی زیادہ اجنبی نہیں لگتی تھی جس کا طرز تعمیر پرانا تھا۔ اس حویلی کو چوہدری نور الٰہی نے تعمیر کروایا تھا۔ یہی وہ شخص تھا کہ جس نے یہاں آکر جنگل بیابان کو سبزہ زار میں تبدل کردیا تھا۔ وہ اس علاقے کا بااثر زمیندار تھا۔ اس گاﺅں کا نام بھی اسی لیے گلاب نگر پڑا تھا کہ چوہدری نور الٰہی کو گلاب کے پھول سے عشق کی حد تک لگاﺅ تھا۔ اس نے زمین کے ایک قطعے کو گلاب کے پھولوں کی کاشت کے لیے مختص کر دیا تھا۔ یوں یہاں کے پھولوں نے شہر کو بھی مسحور کردیا۔ چوہدری نور الٰہی دین دار، صوم و صلوٰة کا پابند اور بہت ہی مخلص انسان تھا ۔اس نے جہاں زمینوں کو آباد کیا تھا، وہاں اس نے اپنے علاقے کی تعمیر و ترقی میں بے حد دلچسپی لی تھی۔ جس کے ثمرات سے لوگ اِن دنوں مستفید ہورہے تھے۔ پورا علاقہ نہ صرف ان کے اثر و رسوخ کو مانتا تھا بلکہ ان کے خاندان کی بہت عزت کرتا تھا۔ جب چند سال قبل اس کی بیوی اللہ کو پیاری ہوئی تو سب کچھ اپنی اولاد کو سونپ کر یاد الٰہی میں مصروف ہوگیا۔

چوہدری نور الٰہی کو اللہ نے ایک بیٹی نجمہ نور اور دو بیٹے احسان نور اور افضال نور سے نوازا تھا۔ بڑی بیٹی نجمہ نور کو اس نے الطاف انور کے ساتھ بیاہا جو ان دنوں اعلیٰ حکومتی عہدیدار تھا۔ وہ خاندان، دولت، عزت اور مرتبے میں ان کے ہم پلہ تھا۔ وقت کے ساتھ الطاف انور ترقی کرتا رہا اور مختلف شہروں میں رہتا ہوا، لاہور میں آن ٹکا اور اب وہیں سے سبکدوشی چاہتا تھا۔ نجمہ نور اور الطاف انور کی اولاد میں بیٹافہد اور بیٹی فائزہ ہی تھے۔ لاہور اور نورپور کے درمیان کافی فاصلہ ہونے کے باعث ان کا آنا گلاب نگر میں بہت کم ہوتا تھا۔

چوہدری نور الٰہی کا بڑا بیٹا احسان نور اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ، ایک اچھا انسان بھی تھا۔ وہ مقامی کالج میں پروفیسر تھا اور پھر نور پور ہی کو اپنا مسکن بنالیا۔ اس نے حکومتی نوکری اس لیے کی کہ خود کو مصروف رکھ سکے اور لکھنے پڑھنے والی دنیا کے ساتھ اس کا تعلق مضبوط رہے۔ شہر کی سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں وہ بھرپور شرکت کرتا اور ہفتے بعد چھٹی کا ایک دن گلاب نگر میں گزارتا۔ اس کی بیوی ذکیہ بہت اچھی خاتون تھی۔ ان کی اولاد میں فقط ایک اکلوتی بیٹی ماہا تھی۔ قدرت کی جانب سے مزید اولاد نہ ملنے پر وہ دونوںمیاں بیوی صبر کر رہے تھے اور ماہا کو دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔

چوہدری نور الٰہی کا دوسرا بیٹا افضال نور کچھ زیادہ تعلیم حاصل نہ کرسکا، اس کی ساری دلچسپی اپنے باپ کی طرح زمینداری کی طرف ہی تھی۔ اگرچہ وہ بھی اپنے والد کی مانند ہمدرد، مخلص اور اچھا انسان تھا، لیکن سیاسی سرگرمیوں کے باعث کسی حد تک گروپ بندیوں میں مشغول رہتا۔ دنیاداری کے تقاضوں کو نبھانا خوب جانتا تھا۔ اس لیے پورے علاقے میں اس کی اچھی خاصی پہچان بن چکی تھی۔ اس کی بیوی زبیدہ خاتون کو باہر کے جھمیلوں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا تھا، اسے بس حویلی کے اندر چاردیواری سے مطلب تھا۔ نوکر چاکر ہونے کے باوجود وہ خود کام کرنا پسند کرتی اور اِسی دنیا میں خوش تھی۔ ان کا ایک بیٹا بلال تھا اور بیٹی رقیہ۔ دونوں کو بہت ناز نخروں سے پالا گیا۔ رقیہ تو بس اپنی ماں کی ہو کر رہ گئی۔ اس نے اچھی تعلیم حاصل کی مگر کالج کی حد تک جو نور پور میں واقع تھا۔ مزید تعلیم کے لیے وہ کسی بڑے شہر میں نہ جاسکی۔ لیکن بلال کی تعلیم پربہت توجہ دی گئی۔ اس کا دادا چوہدری نور الٰہی تو جیسے اس کا عاشق تھا۔ جب وہ سکول جانے کی عمر تک پہنچا تو اس کے لیے الگ سے کار خریدی گئی اور ڈرائیور رکھا گیا۔ جو اسے نور پور میں موجود سب سے اچھے سکول لے کر جاتا اور پھر واپس لے آتا۔ اکثر اوقات دادا بھی ساتھ جاتا۔ پھر ماہا بھی اسی سکول میں پڑھنے لگی۔ یوں بلال اور ماہا، اپنے دادا کی محبت میں پروان چڑھتے گئے۔ ان دونوں کو یہ معلوم ہی نہ ہوا کہ وہ کب ایک دوسرے کو چاہنے لگے ہیں۔ بلال جب تعلیم مکمل کرکے حکومتی عہدے پر فائز ہوا تو دونوں کی منگنی دھوم دھام سے کر دی گئی۔ اس وقت طے یہ پایا کہ جونہی ماہا کی تعلیم مکمل ہوگی، ان کی شادی کردی جائے گی۔ سو ان دونوں کی شادی کے بارے میں تاریخ طے کرنا باقی تھی۔ باقی سب تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں۔ دادا کی یہ سب سے بڑی خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی میں ان دونوں کی شادی کرے۔ اس لیے اُن دنوں حویلی میں شادی کی تیاریاں عروج پر تھیں۔

فہد علی اور بلال نوردونوں کزن تھے۔ یونیورسٹی میں دونوں نے ایک ہی کلاس میں داخلہ لیا، ان کی رشتے داری اپنی جگہ لیکن وہ دونوں دوست بہت اچھے بن گئے چونکہ فہد کے والدین کا آنا جانا بہت کم تھا۔ لیکن بلال کی دوستی کے باعث وہ اکثر گلاب نگر آتا، پھر نور پور جاتا، ماہا بھی بلال ہی کے باعث فہد کے ساتھ اچھا برتاﺅ کرتی تھی۔ اس حوالے سے ان میں ڈھیروں باتیں ہوتیں۔ سو فہد کی وجہ سے ان خاندانوں کے درمیان تعلق برقرار تھا۔

اس دن بھی ماہا اپنے والدین کے ساتھ گلاب نگر آئی ہوئی تھی۔ زبیدہ خاتون نے اُسے خاص طور پر بلایا ہوا تھا۔ اس وقت سارے ہی بڑے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے اور شادی کے بارے ہی میں باتیں چل رہی تھیں۔ ان میں فقط بلال نہیں تھا، جس کی کمی دادا نور الٰہی کے ساتھ ماہا نے بھی بہت محسوس کی تھی۔

”آج اگر بلال بھی ہوتا تو کتنا اچھا تھا، یہ نوکری بھی نا بڑی ظالم شے ہوتی ہے۔“ دادا نور الٰہی نے خود کلامی کے سے انداز میں کہا تو احسان نور نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔

”بات تو آپ کی بالکل ٹھیک ہے۔ مگر اب وہ آجائے گا تو پھر جلدی واپس جائے گا، تب آپ کہیں گے کہ وہ جلدی کیوں چلا گیا؟“

”ہاں! یہ بھی ہے، یار میں نے تو بہت کہا کہ چھوڑ نوکری، کیا رکھا ہے اس میں، یہاں رہ مزے کر لیکن وہ ہے کہ بس نوکری کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔“ دادا نے پھر سے خود کلامی میں کہا۔

”جب تک اللہ عمر دراز کرے بھائی افضال ہے، تب تک اسے نوکری کرنے دیں۔ اس سے زندگی کا تجربہ بہت ہوتا ہے، یہاں وہ کیا کرے گا، زیادہ سے زیادہ سیاست، اس کے لیے بھائی افضال ہی بہت ہے۔“ احسان نور نے کہا۔

”ہاں اباجی! لوگوں سے تعلق بنتا ہے، پڑھا لکھا ہے، کچھ عرصہ اس دنیا کی موج بہار دیکھ لے، پھر اس نے گلاب نگر ہی میں رہنا ہے۔ ویسے آپ کو اس کی نوکری اس لےئے اچھی نہیں لگتی نا کہ وہ آپ پاس نہیں رہتا۔“

”سچی بات تو یہی ہے۔“ دادا نے مسکراتے ہوئے کہا۔ سبھی ان کے ساتھ مسکرا دئیے۔

”چلو آپ سے اس کی بات کروا دیتے ہیں۔“ احسان رانا نے کہا اور اپنی جیب سے فون نکالا تو افضال جلدی سے بولا

”یہ فون رہنے دیں، وہ دوسرا لاتے ہیں بڑے اسپیکر والا، سارے اس کی بات سنیں گے۔“ یہ کہہ کر اس نے ایک ملازمہ کو فون لانے کے لیے کہا۔ اپنے سامنے میز پر فون سیٹ رکھ کر بلال کا نمبر پش کردیا۔ ذرا سی دیر میں رابطہ ہوگیا۔ حال احوال پوچھنے کے بعد وہ بولا۔

”میں ابھی تھوڑی دیر بعد فون کرنے والا تھا، مجھے معلوم تھا کہ آپ سب یہیں حویلی میں ہوں گے۔“

”کیا بات ہے پتر، خیریت تو ہے۔“ دادا نے پوچھا۔

”وہ دادا جی۔۔۔ مجھے چند دنوں کے لیے۔۔۔ اُدھر ملائیشیا جانا ہے بہت اہم میٹنگ ہے، آتے ہی۔۔۔“

”ملائیشیا۔! وہاں کیا کرنے جارہے ہو اتنی دور۔۔؟“ دادا نے تذبذب سے پوچھا۔

”بتایا ہے نا دادا جی، ایک بہت ہی اہم میٹنگ ہے، جس کی تفصیلات میں ابھی نہیں بتا سکتا، بس چند روز کے لیے جانا ہے اور پھر آتے ہی پورے ایک مہینے کی چھٹی لے کر آجاﺅں گا۔“ اس نے کہا۔

”اُویار کسی دوسرے کو بھیج دو۔ اتنی دور کیا کرنے جانا ہے تم نے، شادی کے بعد بھی تو تم نے جانا ہے۔“ اس نے کہا۔

”وہ میں نے سارا بندوبست کرلیا ہے آپ فکر مند نہ ہوں۔ باقی وہاں میرا جانا ضروری ہے۔ اس لیے جارہا ہوں نا؟ اور پھر کون سا میں زیادہ دنوں کے لیے جارہا ہوں۔ یوں سمجھیں جیسے میں نے چند دن اسلام آباد میں گزارے ہیں۔“ بلال نے بھرپور قسم کی تسلی دے ڈالی ”اور ہاں! میں نے فہد کو سمجھا دیا ہوا ہے۔ اگر کوئی کام ہو تو اسے بتا دیں۔“

”اچھا، چل ٹھیک ہے، ذرا دھیان سے جانا، وہاں جاکر اپنا خیال رکھنا، وہ بھی تو اسلامی ملک ہے نا؟“ دادا نے پوچھا۔

”جی! وہ بھی اسلامی ملک ہے۔“ بلال نے تائید کی۔

”اچھا اب اپنی ماں سے بات کرلے۔“ دادا نے کہا تو پھر بلال نے فرداً فرداً سب سے بات کی، ان سے پسند کی کسی شے کے بارے میں پوچھا۔ یوں کافی دیر تک باتوں کے بعد فون بند کردیا گیا۔

ماہا، جو کچھ دیر پہلے تک بلال کے ذکر پر بہت خوش تھی، رقیہ کے ساتھ ایک جانب سمٹی ہوئی باتیں سن رہی تھی، بلال کے یوں ملائیشیا جانے پر اچانک اس کے اندر ایسی لہر اٹھی جسے وہ فوری طور پر نہ سمجھ سکیتاہم وہ بجھ کر رہ گئی۔ بلاشبہ اسے بلال کا یوں جانا اچھا نہیں لگا تھا،اس لےئے یہ کیفیت ہوئی تھی۔ پھر اسے پتہ ہی نہ چلا کہ وہ سب کیاباتیں کر رہے ہیں اس کا سارا دھیان اپنی جانب ہوگیا۔ وہ اٹھی اور اندر کی جانب چلی گئی اور تنہائی میں سوچنے لگی۔

”تمہیں یوں بلال کا جانا اچھا کیوں نہیں لگ رہا ہے؟“ اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔

”پتہ نہیں۔“ من سے آواز آئی۔

”یہ تو کوئی بات نہ ہوئی، وہ ایک اعلیٰ حکومتی ادارے میں کام کر رہا ہے، اسے اپنے کام کے سلسلے میں جانا ہوگا، تمہیں کیوں پریشانی ہے۔ اتنی معمولی سی بات پر۔۔۔“

”اس نے پہلے مجھے کیوں نہیں بتایا۔ جب جانے کا پروگرام تھا تو ایک فون کال کرکے نہیں بتا سکتا تھا۔“

”بس اتنی سی بات پر دل گرفتہ ہوگئی ہو کہ اس نے تمہیں بتایا نہیں۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔“

”نہیں! اسے مجھے بتانا چاہیے تھا۔“

”یہ بھلا کیا ضد ہوئی۔ وہ ایک ذمہ دار آفیسر ہے۔ اب سارے معاملات تو وہ تم سے شیئر نہیں کرسکتا۔“

”کیوں نہیں کرسکتا؟ میں جب اس کی ہوں اور وہ میرا ہے تو اس کے سارے معاملات میرے ہیں۔ میں تو اسے اپنا مان چکی ہوں۔ میرا سب کچھ وہ ہے تو۔۔۔“

”اس طرح نہیں سوچتے۔ تم خود پوچھ لینا، اس میں کیا حرج ہے؟“

”پوچھوں گی میں، ابھی پوچھوں گی۔“

یہ سوچتے ہی اس نے اپنا فون نکالا اور بلال کے نمبر پش کردئیے۔ دوسری بیل پر اس نے فون ریسیو کرلیا اور بولا

”مجھے معلوم تھا کہ تم فون کرو گی۔“ اس نے خوشگوار لہجے میں کہا۔

”کیوں؟، تمہیں کیوں معلوم تھا؟“ ماہا نے تنک کر کہا۔

”یہی کہ تم پوچھو گی میں اچانک۔۔۔“ اس نے کہنا چاہا لیکن ماہا نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔

”ہاں! کیوں جانا ہے، پھر مجھے بتایا بھی نہیں۔“

”بابا، اچانک جانا پڑ رہا ہے، اور اس میں بتانے والی کوئی اتنی اہم بات بھی نہیں۔ میں نوکری کرتا ہوں، اس میں احکام ماننا پڑتے ہیں۔ میں منع تو نہیں کرسکتا۔ ہر بات میں تم سے کس طرح شیئر کرسکتا ہوں۔“ بلال نے سنجیدگی سے کہا۔

”اچھا ٹھیک ہے کتنے دن کے لیے جانا ہے؟“ اس نے ایک دم سے نرم پڑتے ہوئے پوچھا۔

”ہفتہ تو لگ جائے گا۔ خیر چھوڑو اس بات کو، تم بتاﺅ، کیا لاﺅں میں تیرے لیے۔“ بلال نے جواب دیتے ہوئے موضوع بدل دیا۔

”کچھ نہیں، جب ہم جائیں گے تو بہت کچھ اپنی پسند کا خریدیں گے۔“ وہ بولی۔

”اچھا خیال ہے۔“ اس نے تعریف کی۔

”پتہ ہے، آج میں یہاں کس لیے آئی ہوں؟“ ماہا نے بہت خوشگوار موڈ میں کہا۔

”تم بتاﺅ گی تو مجھے معلوم ہو گا نا؟“ بلال نے بھی پیار بھرے لہجے میں کہا۔

”تمہارے کمرے والا جو حویلی کا حصہ ہے نا، وہ چاچی جی نے مجھے دے دیا ہے اور کہا ہے کہ میں اسے اپنی پسند کے مطابق سجا سنوار لوں، اب مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ میں کیا کروں۔ تم ہوتے نا تو مجھے بہت آسانی رہتی۔ آج میں نے ایک انٹرئیر ڈیکوریٹر کو بلوایا ہے۔ کچھ دیر بعد وہ آجائے گی۔ پھر اس کے مشورے سے اس پورے حصے کو سجاﺅں گی۔“ ماہا نے دبے دبے جوش میں کہا۔

”اچھی بات ہے۔ لیکن خدا کے لیے میرے کمرے میں افراتفری مت مچانا، وہاںبہت سارے اہم کاغذات، کتابیں اور بہت ساری ایسی چیزیں ہیں۔ میں آجاﺅں گا تو اس کمرے کو دیکھ لیں گے۔ باقی سارا حصہ تم ٹھیک کروا لینا۔“ بلال نے ذرا ساگھبراتے ہوئے لیکن پیار بھرے انداز میں کہا۔

”مجھے پہلے ہی معلوم ہے۔ تم اتنا گھبراﺅ نہیں۔“ ماہا طنزیہ انداز میں بولی۔

”شاباش! یہ ہوئی نا بات۔“ وہ ایک دم سے خوش ہوگیا۔

”اچھا، کب جارہے ہو ملائیشیا؟“ اس نے پھر پوچھا۔

”تماری سوئی وہیں پر اٹکی ہوئی ہے؟“ بلال نے پوچھا۔

”اچھا، چلو نہیں پوچھتی، لیکن یہ تو پوچھ سکتی ہوں نا کہ کب واپس آرہے ہو؟“ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

”او میرے اللہ! یار بتایا تو ہے تمہیں ایک ہفتے کے بعد۔“ بلال نے تنگ آتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی اور بات کرتی کمرے میں زبیدہ خاتون آگئیں، تب ماہا نے کہا۔

”چاچی جی آگئیں۔ بعد میں۔۔۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا اور اس کی جانب متوجہ ہوگئی۔

”ماہا! پتر، وہ تمہاری کوئی ملنے والی آئی ہے۔ یہ وہی ہے گھر سجانے والی۔“ زبیدہ خاتون نے پوچھا۔

”جی چاچی جی،“ اس نے اختصار سے کہا اور اٹھ گئی۔

”اچھا چل تو اسے اپنے ساتھ ادھر لے آ، میں چائے وغیرہ بھجواتی ہوں۔ پھر بعد میں اسے حویلی دکھا لینا۔“

”جی ٹھیک ہے۔“ اس نے کہا تو زبیدہ خاتون کچن کی جانب چلی گئی۔ انٹریئریر ڈیکوریٹر اس کی ماما ذکیہ کے ساتھ باتیں کر رہی تھی۔ پھر وہ تینوں ہی اندر کی جانب آگئیں۔

ز….ز….ز

میں روانگی کے لیے تیار ہوچکا تھا۔ میرے ملازم نے میرا بیگ اٹھا کر پورچ میں رکھ دیا تو میں نے کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھا۔ شام ہورہی تھی اور ائیرپورٹ سے کراچی کے لیے جہاز نکلنے میں تقریباًدو گھنٹے رہتے تھے مجھے فہد اور ذیشان کا انتظار تھا۔ جو بس چند لمحوں میں پہنچنے والے تھے۔ میں گیٹ تک آیا تو مجھے فہد کی کار دکھائی دی اس نے گیٹ پر کار روکی، ذےشان آگے بےٹھا ہوا تھا۔میرے پچھلی نشست پر بیٹھنے تک ملازم نے بیگ رکھ دیا اور ہم ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوگئے۔

”کاش میں بھی تیرے ساتھ جاتا، لیکن تم نے اتنی راز داری سے یہ ٹور بنایا ہے کہ ہوا نہیں لگنے دی۔“ ذیشان نے میرے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

”اب میں تمہیں اس کا جواب کیا دوں میرے چندا۔ تم ہو کہ سر کھائے جارہے ہو؟“ میں نے چڑتے ہوئے کہا۔ مجھے اندازہ تھا کہ اگرا س کی بات کو بڑھاوا دیا گیا تو اس کی تان اس سوال پر آکر ٹوٹے گی کہ آخر میں تھائی لینڈ کیا کرنے جارہا ہوں۔

”اچھا چل نہیں کھاتا سر!“ اس نے مسکرائے ہوئے کہا، پھر چند لمحوں بعد بولا۔ ”ابھی تھوڑی دیر پہلے شعیب کا فون آیا تھا، پوچھ رہا تھا کہ تم کب بنکاک پہنچ رہے ہو؟ میں نے اسے اندازہ ہی بتایا ہے۔“

”کیا بتادیا اندازہ؟“ میں نے پوچھا۔

”یہی کہ تم رات کسی وقت کراچی سے اُڑو گے۔“ اس نے عام سے لہجے میں کہا۔ ”وہ ابھی کچھ دیر میں تمہیں فون کرے گا۔“

”ٹھیک ہے، لیکن میں اسے کراچی جاکر ہی ساری تفصیلات بتاﺅں گا، میں آگے پیچھے بھی ہوا تو اسے بتا دینا۔“ میں نے اسے سمجھایا۔

”ویسے بلال! اتنی راز داری تم برت رہے ہو، لگتا ہے کہ کوئی اونچا کھڑاک ہی ہے۔“ فہد نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیا۔

”کچھ بھی نہیں ہے یار، اور ہاں میں نے سب کو وہی ملائیشیا ہی بتایا ہے۔ کہیں کوئی پوچھے توخدا کے لےئے یہی بتانا“ میں نے تسلی کے لیے کہا۔

”میں سمجھ گیا ہوں اور ماہا مجھ سے پوچھ چکی ہے۔“ فہد نے بتایا۔

”پھر! کیا کہا ہے تم نے؟“ میں نے تجسس سے پوچھا۔

”وہی جو تم کہہ رہے ہو۔ تم پریشان مت ہونا، میں سنبھال لوں گا۔“ فہد نے حوصلے بھرے لہجے میں کہا۔ پھر ایسی ہی باتوں میں ہم ائیر پورٹ جا پہنچے۔

اس وقت ہم ائیر پورٹ کی عمارت کے ا ندر پہنچے ہی تھے کہ شعیب کا فون آگیا۔ میں نے اسے یہی بتایا کہ تمام تر تفصیل میں کراچی ائیر پورٹ پہنچ کر بتاﺅں گا۔ وہ مطمئن ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد میں ان دونوں سے مل کر اندر چلا گیا۔ تقریباً تین گھنٹے بعد میں کراچی ائیر پورٹ پر تھا۔ وہاں جاتے ہی سب سے پہلے میں نے شعیب کو فون کیا۔ حال احوال کے بعد میںنے کہا۔

”بہت انتظار کروایا ہے میں نے، اس پر میں معذرت چاہتا ہوں۔“

”کوئی بات نہیں بلال بھائی، میں کل سارا دنآپ کے لیے فری ہوں۔“ اس نے خلوص سے کہا۔

”نہیں میرے بھائی، آپ اپنا کام نہیں چھوڑیں، کیونکہ میں نے بنکاک میں کوئی وقت نہیں گزارنا، وہاں ٹھہرے بغیر میں نے ”پتایا “کے لیے روانہ ہوجانا ہے۔“ میں نے اسے بتایا۔

”مطلب! آپ نے پتایا جانا ہے؟“ اس نے حیرت سے پوچھا۔

”ہاں۔! اور یہ چند دن میں نے وہیں گزارنے ہیں۔“ میں نے اسے بتایا۔

”اُو۔! اچھا۔۔۔“ یہ کہہ کر اس نے پھر پوچھا۔ ”آپ کہہ رہے تھے کہ آپ کو یہاں میری مدد چاہیے۔ کیا آپ ابھی بتا دیں گے یا پھر یہیں آکر؟“ اس نے اپنے طور پر سمجھتے ہوئے کہا۔

”نہیں! میں نے فون اس لیے کیا ہے کہ ابھی آپ کو بتا دوں۔“ میں نے کہا۔

”ٹھیک ہے بتائیں۔“

”آپ نے مجھےایک سےل فون دینا ہے اور ایک لیپ ٹاپ، تاکہ میں اس پر انٹرنیٹ استعمال کرسکوں۔“ میں نے اسے بتایا۔

”یہ ہوگیا۔ اس کے علاوہ؟“ اس نے پوچھا

”یہ کہ تھائی لینڈ میرے لیے بالکل اجنبی ملک ہے، اگرچہ تھوڑی بہت شدھ بدھ ہے لیکن کچھ معلومات چاہوں گا، رقممےرے پاس کافی ہے، اس کے لیے علاوہ کریڈٹ کارڈز بھی ہیں۔ ایسی کوئی فکر والی بات نہیں ہے۔ آپ نے ایک کام کرنا ہے کہ میں آپ کو اس ہوٹل کا نام ایس ایم ایس کردیتا ہوں، وہاںمیرے نام سے نہیں، اپنے نام سے بکنک کروادےں ہے اور یہ بکنکآج ہی کروانی ہے، تفصیل میں آکر بتاﺅں گا کہ یہ راز داری کیوں؟“

”اوکے! یہ بھی ہوجائے گا، اور کچھ؟“ اس نے پوچھا۔

”اور کچھ نہیں، یہاں سے تقریباً بارہ بجے کی فلائیٹ ہے، جو میرے خیال میں صبح ساڑھے چھ بجے کے قریب بنکاک پہنچے گی، تکلیف کی معذرت کہ آپ کواتنی سویرے اٹھنا پڑے گا۔“ میں نے معذرت بھرے لہجے میں کہا۔

”آپ مجھے بار بار شرمندہ مت کریں پلیز! آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے آنے کی مجھے کتنی خوشی ہو رہی ہے۔ ممکن ہے مجھے خوشی سے نیند ہی نہ آئے۔ لیکن آپ یہ زیادتی کریں گے کہ میرے پاس نہیں ٹھہریں گے۔“ اس نے شکوہ بھرے لہجے میں کہا۔

”کوئی بات نہیں ممکن ہے ہم کچھ وقت ساتھ میں گزاریں۔ اس کے لیے فکر مت کرنا۔“ میں نے کہا تو اس نے ایک دم خوش ہوتے ہوئے کہا

”یہ تو بہت اچھا ہوگا۔ مزید میرے کرنے والا کوئی کام؟“

”نہیں!“ میں نے کہا اور پھر ساتھ ہی کہہ دیا۔ ”اوکے! پھر صبح ملاقات ہوتی ہے۔“

”اوکے جی، میں انتظار کر رہا ہوں، اس نے کہا اور پھر فون بند کردیا۔ تب میں نے محسوس کیا کہ میرے ذہن سے بہت سارا بوجھ اُتر گیا ہے۔ اس لیے میں پوری یکسوئی کے ساتھ بین الاقوامی روانگی والے کاﺅنٹر کی جانب بڑھ گیا تاکہ کاغذات وغیرہ کی جانچ ہوسکے۔

تقریباً آدھا گھنٹہ دیر سے جہاز نے تھائی لینڈ کی جانب پرواز کی۔ سیٹ بیلٹ کھول لینے کے بعد میں پرسکون ہوگیا۔ اس جہاز میں زیادہ تر چہرے ایشیائی تھے۔ میں نے ایک طائرانہ نگاہ ڈالی اور پھر آنکھیں بند کرکے سیٹ سے ٹیک لگالی۔ میرے ساتھ ایک بوڑھا اور نوجوان بیٹھے ہوئے تھے۔ وہ شاید پاکستانی تھے چونکہ انہوں نے ایک مسکراہٹ بھی میری جانب نہیں اچھالی تھی، اس لیے میں نے بھی کوئی راہ و رسم بڑھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ میں اپنے خیالات میں کھو جانا چاہتا تھا لیکن فضائی میزبان خواتین نے اپنی جانب متوجہ کیے رکھا۔ ان کی مصروفیات ختم ہوئیں تو سکون ہوگیا۔ تب میں نے سیٹ سے ٹیک لگائی اور سونے کی کوشش کرنے لگا، لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اس کی جگہ میں ان خیالوں میں کھو گیا، جن کے باعث میں یہ سفر کرنے پر مجبور ہوگیا تھا۔

ان دنوںمیں مقابلے کا امتحان دے کر فراغت کے دن گزار رہا تھا۔ فہد اور ذیشان کے ساتھ گھومنے پھرنے یا پھر گپ شپ کے علاوہ یہی ایک کام تھا کہ انٹرویو کی تیاری کے لیے اپنی معلومات کو وسعت دیتا رہوں۔ اس کے لیے اخبارات، رسالے اور کتابیں میرے زیرِمطالعہ رہتیں ہی تھیں، اس کے علاوہ نیٹ پر بھی میں خاصا وقت گزارتا تاکہ تازہ ترین معلومت رہیں یا پھر تھوڑی بہت تفریح ہوجائے۔ میں دنیا کے مختلف لوگوں کے ساتھ چیٹ کرنے کی کوشش کرتا، کسی سے لمبی گپ شپ ہوجاتی اور کوئی محض تھوڑی دیر بعد ہی رابطہ ختم کرلیتا۔ ایسا بھی ہوتا کہ کسی کے ساتھ ایک دو دن بات چلتی یا چند دن پھر وہ بھی اندھیرے کی اس دنیا میں گم ہوجاتا۔ یہ واقعتا اندھیری دنیاہی ہے، چیٹ کرنے والوں کو بالکل معلوم نہیں ہوتاکہ دوسری جانب کون ہے، وہ آپ سے ساری باتیں سچ کہتا ہے یا پھر جھوٹ ہی بولتا جاتا ہے۔ آپ ا س پرکوئی حتمی فیصلہ نہیں دے سکتے۔ بہر حال، دو افراد ایسے تھے جن سے میری دوستی خاصی طویل ہوگئی تھی۔

ارون ورما ،میرا پہلا نیٹ دوست بھارتی ہندو تھا جو ان دنوں لندن میں اعلیٰ تعلیم کی غرض سے مقیم تھا۔ بھارت میں اس کا آبائی شہر امرتسر تھا۔ وہ اپنے خیالات میں انتہا درجے کا تعصب رکھتا تھا۔ میری اس کے ساتھ بہت لمبی بحث چلتی تھی۔ اگرچہ مختلف وقت میں، موضوعات مختلف ہوا کرتے لیکن اس کی ہر بات کی تان اس نکتے پر آکر ٹوٹتی کہ ہندوستان کی تقسیم یہاں کے باشندوں کا بہت بڑا المیہ ہے جبکہ میں اسے نظریہ پاکستان سمجھانے کی بھرپور کوشش کرتا۔ اگرچہ ہم دونوں ہی ایک دوسرے کے دلائل سے قائل نہیں ہوئے تھے لیکن اس کا مجھے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ وہ ہندو تعصب، جس کے بارے میں فقط کتابوں یا رسالوںمیں پڑھتا تھا، براہِ راست ایک بھارتی سے باتیں کرکے، اس کی ذہنیت کا اندازہ کرچکا تھا۔ دوسرا مجھے یہ معلوم ہوا تھا کہ بھارتی تقسیم ہند اور پاکستان کے بارے میں کس طرح سوچتے ہیں۔ ظاہر ہے اسے دلائل دینے کے لیے مجھے خوب پڑھنا پڑتا تھا، اور میں نے خوب پڑھا۔ ارون ورما کی بہر حال ایک خوبی یہ تھی کہ وہ مذہب پر بات نہیں کرتا تھا، لیکن اپنے تئیں یہی خوبی، اس کی خامی بن جاتی جب وہ ”دھرتی ماتا“ کی بات کرتا، اس کا پسندیدہ ترین موضوع تقسیم ہند کے مابعد اثرات تھا۔ بسا اوقات وہ تضاد بیانی میں آکر اس پر ضد کی حد تک اَڑجاتا۔ مثلاً وہ جلیانوالہ باغ کے واقعے کو ہندوستانی تاریخ کا ایک بہت بڑا سانحہ تسلیم نہیں کرتا تھا۔ لیکن اس سے پہلے ہندو مسلم اتحاد کو ہندوستان کے لیے سنہرا دور مانتا تھا۔ بہر حال اس سے یہ بحث جاری تھی، اس یقین کے ساتھ کہ شاید ہم دونوں ایک دوسرے کی بات کبھی نہیں مانیں گے۔ یہاں تک کہ ہم بھی اندھیرے کی اس دنیا میں گم ہوجائیں گے۔

میری دوسری نیٹ دوست ایک تھائی لڑکی ”پی اون“ تھی۔ اگرچہ اس کا نام بہت لمبا چوڑا تھا جو مجھے کبھی یاد نہیں رہا تاہم پی اون اس کا نک نیم تھا۔ میری اور اس کی دوستی کی بنیاد انگریزی زبان تھی۔ اس کی مادری زبان تھائی تھی لیکن وہ انگریزی زبان میں عبور حاصل کرنا چاہتی تھی، کسی نے اسے مشورہ دیا تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لکھ کر باتیں کرے گی تو اس کی زبان بہت بہتر ہوجائے گی۔ ابتداءمیں جو اس نے اپنا تعارف کرایا تھا وہ یہی تھا کہ وہ طالبہ ہے، پڑھنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک ہوٹل میں جز وقتی ملازمت کرتی ہے۔ اس کی نسل میں تھوڑا بہت امریکی خون بھی شامل ہے۔ جنگ عظیم دوئم میں ویت نام سے بھاگے ہوئے امریکی زیادہ تر تھائی لینڈ کا ہی رُخکرتے تھے۔ ایسا ہی ایک امریکی ،تھائی لینڈ میں آیا اور اس نے تھائی لڑکی سے شادی کرلی۔ جس سے ایک بیٹا پیدا ہوا۔ وہ امریکی سن پچاس کے لگ بھگ بغیر بتائے امریکہ چلا گیا تو اس تھائی لڑکی نے اپنے بیٹے کو پالا، تھائی لڑکے نے پھر وہیں ایک تھائی لڑکی سے شادی کی، جس سے پی اون پیدا ہوئی اس نے بتایا کہ اسے اپنی تعلیم کے اخراجات خود برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ مستقبل کے لیے وہ چاہتی ہے کہ اس کی انگریزی بہت اچھی ہو تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ بھات (تھائی کرنسی) کما سکے۔ بہت عرصہ تک میری اس سے انگریزی زبان کے بارے میں بات چلتی رہی۔ پھر دھیرے دھیرے اس نے اپنے بارے میں بھی بتایا اور کئی باتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ وہ چھٹی والے دن اپنے سارے کام ختم کرکے عبادت کے لیے ”واٹ“ (عبادت گاہ) ضرور جاتی ہے۔ مذہب کے لحاظ سے وہ بُدھ تھی۔ ایک ایسے خاص فرقے سے تعلق رکھتی تھی جو خدا کے وجود سے انکاری تھا۔ عبادت کے نام پر محض مراقبہ کرتے اور بس۔ دھیرے دھیرے اس کی باتوں میں حالات حاضرہ پر تبصرہ بھی آنے لگا۔ عالمی واقعات کے تناظر میں ایسے تبصرے کرتی کہ جس میں اس کی مسلمانوں سے نفرت خاص طور پر جھلکتی تھی۔ میں کبھی نہیں سمجھ سکا تھا کہ وہ اس طرح کیوں کرتی ہے؟ اگرچہ اسے معلوم تھا کہ میں مسلمان ہوں، پھر بھی وہ اپنی نفرت کا اظہار بہت واضح انداز میں کردیتی۔ بعض اوقات مجھے شک ہونے لگتا کہ پی اون کے نام کے پیچھے کوئی ایسا فرد ہے جو باقاعدہ ایک مشن کے طور پر کام کر رہا ہے۔ جن دنوں پی اون سے میری بات شروع ہوئی تھی، میرے پاس بھی دین اسلام کے بارے میں وہی معلومات تھیں جو عموماً ہم نصابی کتابوں میں پڑھتے چلے آتے ہےں۔ مجھے اعتراف ہے کہ میرے پاس بھرپور معلومات نہیں تھیں کہ میں اسے موثر جواب دے سکتا، میں بہر حال کوشش کرتا کہ مطالعہ کے بعد اسے مطمئن کرسکوں لیکن نہ کرسکا۔ کچھ عرصے کے بعد ہی وہ مذہب پر بات کرنا چھوڑ گئی۔ اس کی باتوں میں امریکی نفرت آگئی یا پھر اپنی معاشی جدوجہد۔ میرے دل میں انہی دنوں ایک خواہش پیدا ہوئی، دھیرے دھیرے وہ خواہش اس قدر مضبوط ہوتی چلی گئی کہ میں خود پر قابو نہ رکھ سکا۔ میں اسے دیکھنا چاہتا تھا اور اس کے ساتھ تھوڑا وقت گزارنا چاہتا تھا۔ یہاں تک کہ میں نے تھائی لینڈ کے شہر پتایا کے لیے رخت سفر باندھ لیا۔ پی اون پتایا ہی میں رہتی تھی اور اس شہر ہی کے ایک ہوٹل میں جز وقتی ملازمت کر رہی تھی۔ میرے پاس اس کے بارے میں یہی معلومات تھیں۔ میں نے اپنی تصویریں اسے بھجوائیں تھیں اور اس کی تصویریں بھی میرے پاس تھیں۔ خاص طور پر وہ تصویر جو وہ واٹ کے باہر کھڑی تھی اور اس کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ تھی۔ مجھے اس کے ساتھ ہونے والی ایک ایک بحث کا حوالہ یاد آتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ نجانے کب میری آنکھ لگ گئی۔ مجھے یہی محسوس ہوا تھا کہ ایک جھپکی آئی تھی، لیکن ایسا نہیں تھا، میری آنکھ اس آواز پر کھل گئی، جس میں بنکاک پہنچ جانے کی نوید سنائی جارہی تھی۔ ایک دم سے میرے بدن میں سنسناہٹ شروع ہوگئی، اجنبی دیس میں ایک اجنبی لڑکی کی تلاش کے لیے یہاں تک پہنچا تھا۔ بظاہر ایک احمقانہ فیصلہ تھا لیکن میں بہرحال پراُمید تھا کہ میں جس مقصد کے لیے یہاں آیا ہوں، وہ بہر حال ضرور پورا ہوگا۔

وہ اوائل نومبر کے دن تھے۔ جب میں تھائی لینڈ کے شہر بنکاک کی فضاﺅں میں تھا۔ جہاز اترنے کے لیے تیار تھا۔ میں نے اپنی گھڑی تھائی وقت کے مطابق دو گھنٹے آگے کرلی۔ میں نے کھڑکی سے ”سوورنا بھاﺅمائی“ ائیر پورٹ کا نظارہ کرنا چاہا جہاں تیز روشنیوں میں مجھے ایسی عمارت نظر آئی جس میں آدھے آدھے گنبد تھے۔ شاید ابھی سورج نہیں نکلا تھا اس لیے مجھے یہی لگا جیسے ابھی وہاں رات ہی ہے۔ جہاز اترنے اورائیر پورٹ کے مراحل طے کرنے کے بعد بس کے ذریعے میں اس جگہ آگیا جہاں مجھ شعیب مل سکتا تھا۔ اس وقت سورج نکل آیا تھا اور چہار سو روشنی پھیل چکی تھی۔ موسم میں قدرے خنکی تھی مگر ویسی نہیں جیسے میں کراچی میں یا پھر لاہور میں چھوڑ آیا تھا۔ میں نے شعیب کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھا۔ بہت پہلے اس سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ اس وقت کا چہرہ میرے لیے دھندلا سا تھا لیکن ذیشان نے جو تصویر میرے سیل فون میں بھیجی تھی، میں اسے اچھی طرح دیکھ چکا تھا۔ وہ اس کی تازہ تصویر تھی۔ ایسی ہی ایک تصویر اس نے میری بھی شعیب کو بھیج دی ہوئی تھی۔ میں بیگ زمین پر رکھے اس کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ میرے سامنے پتایا جانے والی ایک بس کھڑی تھی۔ گہرے پیلے رنگ کی لگژری بس پر بڑے بڑے حروف میں پتایا لکھا ہوا تھا۔ مجھے وہاں کھڑے چند منٹ ہوئے تھے کہ میرے قریب آکر شعیب نے زور سے السلام علیکم کہا اور پھرمیرے ساتھ لپٹ گیا۔ حال احوال کے بعد بولا۔

”آئیے بھائی جان! چلیں۔“

”وہ سامنے پتایا جانے والی بس کھڑی ہے۔“ میں نے اس گہرے پیلے رنگ کی لگژری بس کی جانب اشارہ کیا۔

”آپ آج ہی پتایا پہنچیں گے۔ اس بات کی آپ فکر نہ کریں۔ میں جب کہہ رہا ہوں آئیں تو بس پھر آئیں۔“ اس نے میرا بیگ اٹھاتے ہوئے کہا۔ میں بادل نخواستہ اس کے ساتھ چل پڑا۔ وہ میرا میزبان تھا۔ ابھی میں نے اس کے ساتھ بہت ساری باتیں بھی کرنا تھیں۔ کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد ہم پارکنگ میں آگئے۔ اس نے ایک قیمتی گاڑی کا دروازہ کھولا پچھلی سیٹ پر بیگ رکھا اور مجھے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کرکے خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ پھر اس وقت تک خاموش رہا، جب تک وہ بڑی سڑک پر نہیں آگیا۔

”اور سنائیں بھائی جان، کیسے ہیں آپ؟“ اس نے خالص لاہوری انداز میں پوچھا۔

”میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ سناﺅ“ میں نے بھی رسمی سے انداز میں کہا۔

”او مجھے چھوڑیں جی، سنائیں لاہور کیسا ہے؟، یقین کریں، مجھے لاہور بہت یاد آتا ہے، یہ بنکاک ٹھیک ہے، یہاں بہت بزنس ہے۔ جدید شہر بن گیا ہوا ہے، لیکن یقین جانیں بھائی جان جو مزہ وہاں کی صبح اور شام میں ہے، کہیں نہیں ملتی، یہاں رہ کر تو یوں لگتا ہے جیسے ویرانے میں جی رہے ہیں۔“ اس نے اداسی بھرے لہجے میں کہا۔

”فطری سی بات ہے شعیب، اپنا وطن بہت یاد آتا ہے۔ اس کا احساس فقط وہی کرسکتا ہے جو دیارِ غیر میں رہتا ہے، اسے احساس نہیں ہوسکتا جو باہر نہ رہا ہو۔“ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اس کا چہرہ یوں تھا جیسے اس کی نگاہیں بنکاک کی سڑک پر ہوں لیکن اس کا ذہن لاہور کی گلیوں میں گھوم رہا ہو۔ وہ کتنی دیر تک خاموش رہا پھر چونکتے ہوئے بولا۔

”او! میں بھی کیا سوچنے لگا۔“ یہ کہہ کر اس نے چہرے پر مسکراہٹ سجاتے ہوئے کہا۔ ”بلال بھائی! آپ کا لیپ ٹاپ، پچھلی سیٹ پر پڑا ہے اور یہ فون۔“ اس نے جیب سے ہاتھ ڈال کر ایک قیمتی سیل فون نکالتے ہوئے کہا۔ پھر آن کرکے مجھے تھما دیا۔ ”یہ میرا ہی کنکشن ہے۔ آپ اسے جس طرح چاہیں استعمال کریں۔“

”میں نے اسے فقط نیٹ کے لیے اور آپ سے رابطہ کے لیے ہی استعمال کرنا ہے۔“ میں نے اسے بتایا۔

”اچھا تو وہ آپ معلومات کیا چاہ رہے تھے؟“ اس نے پوچھا

”یہی کہ یہاں کے لوگوں کا رویہ کیسا ہے؟ میں کس طرح ان سے بات چیت کرسکوں گا؟ یا پھر۔۔۔“ میں نے کہنا چاہا تو اس نے میری بات اُچکتے ہوئے کہا۔

”آپ بہترین انگریزی جانتے ہیں، بولتے ہیں، تو یہاں آپ کو نہیں، انہیں مسئلہ ہوگا۔ زیادہ تر لوگ انگریزی جانتے ہیں۔ بات چیت کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ آپ نے جس ہوٹل میں کمرہ بک کرنے کو کہا ہے، وہ تو بہت مہنگا ہے۔ یہاں بہت سارے سستے گیسٹ ہاﺅس ہیں اور بہت ساری رہائش گاہیں ہیں جو انہی کے طرح سہولیا۔۔۔“

”نہیں میرے ویر، میں نے اسی ہوٹل میں ٹھہرنا ہے۔ مجھے سستے یا مہنگے سے کوئی غرض نہیں ہے۔“ میں نے اس کی اُلجھن دور کی۔

”وہ تو میں نے ریزورویشن کروا دی ہے اور پانچ دن کی ادائیگی بھی کردی ہے۔“ شعیب نے مجھے بتایا۔

”کیا ہیں اس کی تفصیلات۔۔۔“ میں نے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا تو اس نے سے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

”فی الحال آپ ادھر رہیں جب جانا ہو تو یہ سب ہوجائے گا۔“ یہ کہہ کر اس نے کہا۔ ”اور ہاں، آپ کو یہاں کی کرنسی چاہیے ہوگی وہ بھی میں آپ کو دیتا ہوں۔“ یہ کہہ کراس نے ایک طویل موڑ لیا اور پھر ایک چھوٹے سے ریستوران کے آگے گاڑی روک دی۔

”بلال بھائی! یہ ہے بنکاک میں حلال کھانوں کا مرکز، یہاں آپ کو ہندوستانی طرز کا بہترین ناشتہ ملے گا۔“ اس نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا۔

”یہ تو بہت اچھی بات ہے یار، ویسے پتایا میں کوئی ایسا مرکز ہے، مطلب کوئی ریستوران وغیرہ۔“

”میرے علم میں نہیں ہے، خیر آئیں، میں نے یہ مسئلہ بھی کسی حد تک حل کیا ہوا ہے، آئیں میں آپ کو اطمینان سے بیٹھ کر بتاتا ہوں۔“ شعیب نے گاڑی میں سے نکلتے ہوئے کہا۔ پھر ہم دونوں وہاں سے نکلتے ہوئے ریستوران میں چلے گئے، جہاں اندر سناٹا تھا۔

”شعیب یہاں تو لگتا ہے کوئی بھی نہیں ہے۔“ میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔

”ہم جلدی آگئے ہیں نا، ویسے ان کا زیادہ رش کا وقت دوپہر اور شام کو ہوتا ہے۔“ اس نے ایک ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا تو میں بھی اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ چند لمحوں بعد ایک تھائی لڑکا نمودار ہوا۔ وہ بالکل تروتازہ دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے آتے ہی شعیب کے ساتھ بڑی گرم جوشی سے سلام لیا۔ اس سے مجھے اندازہ ہوگیا کہ وہ مسلمان ہے۔ میرا تعارف کرانے پر وہ اور زیادہ گرم جوشی سے ملا، پھر جلدی ناشتہ بھجوانے کا کہہ کر واپس چلا گیا۔

”یہی اس ریستوران کا مالک ہے، اس کے ساتھ اس کی بیوی ہوتی ہے۔“ اس نے معلومات دیں اور پھر پرس نکال کر بولا، ”بلال بھائی! یہ تھوڑے سے بھات ہیں، اسے رکھیں۔“

”یار میرے پاس ٹریول چیک ہیں، ڈالر ہیں، کوئی بات نہیں۔“ میں نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔

”آپ یہ رکھیں، وہ جاتے ہوئے میں لے لوں گا۔“ اس نے واضح کرتے ہوئے کہا تو میں نے وہ بھات لے لیے۔ تب اس نے کہا۔

”بلال بھائی! جب آپ پتایا پہنچیں گے، تب وہاں آپ کو ہمت سنگھ ملے گا۔ میرا مطلب ہے پتایا بس ٹرمینل پر وہ آپ کا انتظار کر رہا ہوگا۔“

”یہ ہمت سنگھ کون ہے؟“ میں نے پوچھا۔

”یہ کچھ عرصہ قبل ہمارے پاس ادھر بنکاک میں کاریگر کے طور پر کام کرتا تھا، ہندوستانی ہے اور بہت اچھا درزی ہے۔ اباجی نے اسی پتایا میں دوکان بنا دی ہے۔ اب یہ وہیں کام کرتا ہے۔ کچھ مال ہم سے بھی لیتا ہے۔ اس کے ہونے سے آپ کو ذرا سی بھی اجنبیت محسوس نہیں ہوگی۔ آپ اس سے ملیں گے تو خوش ہوجائیں گے۔ بہت مخلص آدمی ہے۔ اس کا نمبر سیل فون میں ہے۔ اگر آگے پیچھے ہوجائے تو فون کرلیجیے گا۔“ شعیب نے تفصیل سے بتایا تو میں خوش ہوگیا۔

”یار! یہ تو بہت اچھا کیا تم نے۔“

”باقی اگر آپ مجھے بلائیں گے تو میں حاضر ہوجاﺅں گا۔ ان دنوں بہت مصروفیت ہے۔ آپ چند دن پہلے بتاتے تو میں آپ کے ساتھ ضرور جاتا، ویسے ہمارا رابطہ تو رہے گا۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔

”ٹھیک ہے۔“ میں نے اختصار سے کہا۔ میں چاہتا بھی یہی تھا اور ویسے بھی شعیب مجھے سمجھدار لگا تھا کہ میرے رویے سے اس نے خود ہی اندازہ لگا لیا تھا۔ اس وقت یہ ساری آسانیاں مجھے عطیہ خداوندی معلوم ہورہی تھیں اور میں جانتا تھا کہ یہ سب میری حوصلہ افزائی ہی کے لیے ہے ورنہ چند دن پہلے تک میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے اتنی آسانیاں میسر آجائیں گی۔ میں یہ خیال کر ہی رہا تھا کہ ایک دھان پان سی لڑکی ٹرے اٹھائے نمودار ہوئی، اس کے پیچھے وہی تھائی لڑکا تھا۔ اس نے آتے ہی مجھے سلام کیا اور پھر میز پر ناشتہ لگانے لگی، لڑکے نے بھی اپنا ٹرے میز پر خالی کردیا۔

”یہ دونوں میاں بیوی ہیں۔“ شعیب نے ان سے تعارف کرایا۔ تو وہ دونوں مسکراتے ہوئے چلے گئے۔ ناشتہ کانٹی نینٹل قسم کا تھا۔ جو ہم دونوں نے ڈٹ کر کھایا۔ اس دوران شعیب مجھے اپنے طور پر بہت ساری باتیں بتاتا رہا۔ میں سنتا رہا اور جہاں ضرورت پڑتی وہاں اس سے سوال کرلیتا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد ہم ناشتے سے فراغت کے بعد ریستوران سے باہر تھے۔

ز….ز….ز

لاہور پر سورج اپنی سنہری کرنیں نچھاور کرنے کے لیے رات کے بطن سے نکل آیا تھا۔ اس پوش علاقے میں زندگی کی ہلچلابھی اتنی نہیں ہوئی تھی، وہاں دن کا آغاز اس وقت ہوتا تھا جب سورج آسمان کے ایک تہائی حصے کا سفر طے کرجاتا ۔ وہ سرکاری آفیسران کے لیے مخصوص علاقہ تھا۔ جہاں سارے گھر حکومت کی طرف سے مہیا کیے گئے تھے۔ ایک ہی جیسے گھروں مےں مختلف مزاج، گریڈ اور رویہ رکھنے والے لوگ بستے تھے۔ کون کس قدر دولت جمع کر چکا ہے اور کس کی رسائیاں کہاں تک ہیں ،یہ اندازہ کرنا بھی مشکل تھا۔ ایسے ہی بڑے سے گھر میں الطاف انور اپنے چھوٹے سے خاندان کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کے اپنے گھر کے فرد اتنے نہیں تھے، جتنے اس کے ملازمین تھے۔ وہ صبح سویرے اٹھ جانے کا عادی تھا اور جوگنگ کے لیے نزدیکی پارک جانا اس کی عادت تھی۔ اس کے ساتھ نجمہ بھی اٹھ جاتی، وہ اپنے ہاتھوں سے شوہر کے لیے ناشتہ بناتی۔ اسے تیار کرتی، جب تک وہ دفتر نہیں چلا جاتا، وہ اس کے سارے کاموں کا دھیان خود رکھتی تھی۔ اپنے شوہر کے ساتھ ناشتہ کرنے کے بعد وہ سوجاتی، ان کے بچوں کے لیے ملازمین ناشتہ بناتے تھے۔ بہت عرصے سے یہی معمول تھا۔ اس دن نجمہ الطاف جب ناشتہ بنا کر ڈائننگ ٹیبل پر رکھ رہی تھی وہاں فہد بھی آگیا۔ نجمہ الطاف نے اسے حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”فہد! بیٹے خیریت تو ہے، تم اتنی صبح صبح جاگ گئے ہو؟“

”بس امی، آپ سے میں ایک بات شیئر کرنا چاہتا تھا۔“ اس نے ایک کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔

”تو بیٹا یہ کون سا وقت ہے، ہم سکون سے دوپہر کے وقت بات کرلیں گے۔“ نجمہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پیار سے کہا۔

”دوپہر۔! اسے چھوڑیں، میں رات بھر اس بات پر سوچتا رہا ہوں۔“اس نے گہری سنجیدگی سے کہا۔

”ہائیں! ایسی کون سی بات ہے، بولو، “نجمہ کی حیرت زدہ آواز میں تجسس کا بھی عنصر تھا۔ اس پر وہ چند لمحے خاموش رہا پھر بڑے عجیب سے لہجے میں بولا۔

”امی! کیا اب بھی آپ کے دل میں یہ خواہش موجود ہے کہ میری شادی ماہا سے ہوجائے؟“

نجمہ نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی پلیٹ میز پر رکھتے ہوئے، حیرت زدہ انداز میں فہد کی طرف دیکھا۔ جیسے وہ کوئی بہت ہی انہونی بات کر رہا ہو اور اس بات نے جیسے اس پر سحرطاری کردیا ہو۔ اس لیے انتہائی حیرت سے بولی۔

”یہ تم کیا کہہ رہے ہو فہد! تمہیں معلوم ہے کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“

”امی! مجھے پتہ ہے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں، میں نے جو پوچھا ہے، آپ اس کا جواب دیں۔“ اس کے لہجے میں اصرار تھا۔ تب نجمہ نے گہری سانس لی اور بے جان سی ہوکر کرسی پر بیٹھ گئی۔ پھر خود کلامی کے سے انداز میں بولی۔

”خواہش کا پوچھتے ہو، اب تو یہ خواہش حسرت میں بدل گئی ہے۔ میں نے بڑی کوشش کی تھی کہ ماہا میری بہو بن جائے۔ اتنی پیاری ہے وہ، میرے بھائی کی بیٹی، پھر اس کے ساتھ آنے والی اتنی بڑی جائیداد کہ جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے ہو۔ گلاب نگر کی وہ زمین جس پر بلال قابض ہوجانے والا ہے، وہ تمہاری ہو تیں، میرا حصہ ملانے کے بعد تم اس سے کہیں زیادہ بڑے زمیندار کہلاتے۔ نور پور میں بنائی ہوئی بھائی کی جائیداد، وہ خوبصورت بنگلہ تمہارا ہوتا، لیکن کیا کروں، میں کچھ بھی نہ کرسکی، یہ بلال اور ماہا کا جو عشق چل رہا ہے نا، اس نے میری ساری کوششوں پر پانی پھیر دیا۔“ نجمہ نے حسرت بھرے لہجے میں کہا تو فہد نے حد درجہ جذباتی ہوتے ہوئے کہا۔

”امی! میں بھی جانتا ہوں کہ وہ دونوں عشق کی حد تک ایک دوسرے کو چاہتے ہیں۔ لیکن اگر ان دونوں میں یہ عشق ہی نہ رہے تو پھر۔۔۔؟“

”یہ کیا بہکی بہکی باتیں کر رہے ہو تم؟“ نجمہ نے انتہائی حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔

”میں بہکی باتیں نہیں کر رہا ہوں بلکہ مجھے عقل ہی اب آئی ہے۔ اس وقت تو میں آپ کو یہ بھی نہیں بتا سکا کہ دولت جائیداد کی کشش سے ہٹ کر بھی ماہا مجھے اچھی لگتی ہے، اور۔۔۔“

”ایسی باتیں کرکے تم مجھے پاگل کرنا چاہتے ہو۔“ نجمہ نے انتہائی مایوسانہ لہجے میں کہا جس میں غصہ بھی جھلک رہا تھا۔

”نہیں امی، میں آپ کو پاگل نہیں کرنا چاہتا، بلکہ یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ ان دونوں میں اگر نفرت، بد اعتمادی اور شک آجائے تو پھر آپ کیا کریں گی؟“ فہد یہ کہتے ہوئے بالکل نارمل ہوچکا تھا، وہ جو کچھ دیر پہلے اس پر جذباتیت چھا گئی تھی، اب اس کا دور دور تک نشان نہیں تھا۔ وہ انتہائی سنجیدگی سے بات کر رہا تھا۔

”اگر ایسا ہوجائے نا فہد تو میں اپنا وہ خواب جو اب ایک حسرت بن کر مجھے اکثر دُکھ دیتا رہتا ہے، میں اس خواب کو پورا کرنے کے لیے پوری کوشش ہی نہیں، اسے چھین لوں گی۔“ نجمہ نے اپنے ہی اندر کسی احساس کے تحت عجیب سے لہجے میں کہا تو فہد چونک گیا، اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی، تب وہ بڑے اعتماد سے بولا۔

”تو امی! وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے اور آپ یہ سوچ لیں کہ آپ نے کیا کرنا ہے۔“

”ایسا ہونا ممکن نہیں ہے میرے بچے، ان دونوں کی شادی میں فقط ایک ماہ رہ گیا ہے۔ تقریباً ساری تیاریاں ہوچکی ہیں جس دھوم دھام سے وہ شادی کرنا چاہتے ہیں میرا نہیں خیال کہ وہ کسی بھی وجہ سے اس شادی کو مزید چند دنوں کے لیے التواءمیں ڈالیں گے اور تم ان کے درمیان جدائی کی بات کر رہے ہو؟“

”امی! اگر بندے کے پاس دماغ ہو اور وہ اسے استعمال کرنا بھی جانتا ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔ کامیاب بندہ وہی ہوتا ہے جو دوسروں کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے فائدہ اٹھائے، بلال ایک بہت بڑی غلطی کر چکا ہے۔ اس کی اسی غلطی کو میں اپنے حق میں کرلینا چاہتا ہوں۔“ فہد نے عجیب سے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔

”مگر کیسے؟ کیا غلطی کی ہے اس نے؟“ نجمہ نے حیرت سے پوچھا، اس کی یہ حیرت ختم ہونے ہی کو نہیں آرہی تھی۔

”یہ میں آپ کو چند دن بعد بتاﺅں گا، بلکہ آپ کو خود بخود معلوم ہوجائے گا، اگر میں ایسا کرنے میں کامیاب ہوگیا تو پھر ماہا کو اس گھر کی بہو بنانے کے لیے آپ ہی کو سب کچھ کرنا ہوگا۔“ فہد نے اپنی ماں کو بھرپور حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔

”اگر ایسا ہو جاتا ہے نا فہد، تو سمجھو، ماہا اس گھر کی بہو بنے گی، یہ میرا تم سے وعدہ ہے۔“ اس نے اعتماد سے کہا۔

”تو بس پھر ٹھیک ہے، مجھے آپ سے یہی سننا تھا۔“ اس نے ہونٹوںمیں مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا۔

”لیکن۔۔۔ لیکن تم یہ سب کیسے کرو گے، کہیں کوئی ایسی غلطی نہ کرجانا کہ میرے میکے والے ہی مجھ سے چھوٹ جائیں اور ہاتھ بھی کچھ نہ آئے۔“ وہ ایک انجانے خوف سے کانپ گئی۔

”نہیں، ایسا نہیں ہوگا، میں سب سنبھال لوں گا، آپ بالکل فکر نہ کریں۔“ اس نے خود اعتمادی سے کہا۔ پھر چند لمحے اپنے ہی خیالوںمیں کھوئے رہنے کے بعد بولا۔ ”امی! زمین، جائیداد اور دولت اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے لیکن آپ کو اس بات کا خیال رہے کہ ماہا میرے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ میں اس سے محبت کرتا ہوں، اسے دل سے چاہتا ہوں۔ میں یہی سوچتا رہتا ہوں کہ کاش کچھ ایسا ہوجائے کہ ماہا میری بن جائے۔ لیکن دو دن پہلے تک ایسا نہیں ہوسکا تھا، شاید قدرت میری جانب دیکھ کرمجھ پر مہربان ہوگئی ہے۔ اس نے مجھے ایک موقع دے دیا ہے اور میں اس سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں۔ میں اس موقع کو ضائع نہیں ہونے دوں گا۔“ فہد پھر سے جذباتی ہوگیا اور اپنی رُو میں کہتا چلا گیا۔ نجمہ اس کی طرف دیکھتی چلی گئی۔ وہ اس وقت چونکی جب باہر اس کے شوہر کے بولنے کی آواز آئی، وہ کسی ملازم سے بات کر رہا تھا۔ تب وہ جلدی جلدی پلیٹیں سیدھی کرنے لگی۔ چند ہی لمحوں بعد الطاف انور اندر آگیا، وہ سیدھا ڈائننگ ٹیبل کی طرف آیا۔ اس نے فہد کی طرف دیکھا اور دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔

”ارے واہ برخوردار! آج تم اتنی جلدی جاگ گئے ہو؟، خیریت تو ہے نا؟“

”ابو جی! میں سویا ہی کب تھا جو اتنی جلدی جاگتا۔“ اس نے ہنستے ہوئے کہا۔

”کوئی مسئلہ ہے!“ الطاف نے سنجیدگی سے پوچھتے ہوئے کہا اور پھر جواب کے انتظار میں اس کی جانب دیکھتا ہوا کرسی پر بیٹھ گیا۔

”نہیں! کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ بس وہ رات دیر تک بلال کے ساتھ رہا تھا، وہ چند دنوں کے لیے ملائیشیا گیا ہے اور مجھے کہہ گیا ہے کہ میں ایک آدھ چکر گلاب نگر کا لگا لوں۔ اگر انہیں کوئی کسی قسم کی مدد چاہیے ہوگی۔۔۔“ اس نے کہا تو الطاف نے طنزیہ انداز میں کہا۔

”وہ ایویں ہی تمہارا دل رکھنے کو کہہ گیا ہوگا، ورنہ شادی کی تیاریوں کے لیے حویلی میں تھوڑے لوگ ہیں اور تم ہو کہ اس کی دوستی میں اب گلاب نگر جانا چاہتے ہو۔“

”جی ابو! اور اس میں حرج بھی کیا ہے۔“ فہد نے دبے دبے لفظوں میں کہا نجمہ نے مزید گفتگو کا رخ موڑنے کے لیے اپنے شوہر سے پوچھا۔

”مجھے یہ سمجھ آج تک نہیں آئی کہ اتنے بڑے عہدے کے لیے آپ نے بلال کی اتنی مدد کیوں کی؟، حالانکہ اتنا کچھ آپ نے فہد کے لیے نہیں کیا۔“

”اچھا ہوا بیگم تم نے یہ بات پوچھ ہی لی اور یہ فہد بھی سامنے ہے۔ پہلی بات ہے بلال کی مدد کیوں کی۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنے سامنے پلیٹ سیدھی کی تو نجمہ ناشتہ رکھنے لگی، تب وہ بولا۔ ”میں اگر اس کی مدد نہ کرتا، تب بھی وہ ایسے ہی کسی عہدے تک لازماً پہنچ جاتا۔ وہ باصلاحیت ہے، اس حقیقت کو مانتے ہوئے میں نے اس پر احسان کیا۔ اب ساری زندگی وہ کم از کم میرے سامنے کھڑا نہیں ہوسکتا۔ میری ملازمت دو چار سال مزید ہوگی، پھر بعد میں اپنے کام میں نے اسی سے لینے ہیں۔ دوسرے کسی اور کو میں اتنا استعمال نہیں کرسکوں گا، جتنا اس بلال کو میں نے استعمال کرنا ہے۔“ الطاف اتنا کہہ کر خاموش ہوگیا تو نجمہ جھٹ سے بولی۔

”اور دوسری بات!“ اس کے لہجے میں ہلکا ہلکا طنز تھا۔

”ہاں! دوسری بات یہ ہے کہ فہد کی طبیعت ایسے کسی عہدے یا سرکاری ملازمت کے لیے قطعاً موزوں نہیں ہے۔ یہ میں جانتا ہوں۔ یہ حقیقت ہے کہ اس ملک پر بیورو کریسی حکمران ہے اور یہ جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ ان کے پاس بہت اختیارات ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے اختیارات کو استعمال کرنا کوئی کوئی جانتا ہے۔ میں فہد کو ایک سیاستدان کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہوں اور اس کے لیے موزوں ترین حلقہ گلاب نگر ہے۔ جہاں افضال نے اپنی بنیاد بنا لی ہوئی ہے۔“

اس طرح تو آپ ان کے مقابلے۔۔۔“ نجمہ نے جلدی سے کہنا چاہا۔

”نہیں، ان کے مقابلے میں نہیں، بلکہ وہی اسے رکن اسمبلی منتخب کروائیں گے،میں اسے بتاﺅں گا کہ اختیارات کیسے استعمال کرتے ہیں۔ سرکاری ملازم الیکشن نہیں لڑسکتا۔ اس لیے میں نے بلال کا بندوبست پہلے ہی کردیا ہے۔“ اس نے کہا تو نجمہ چونک گئی، اس کا شوہر کس حد تک سوچ چکا تھا۔

”تو اس لیے آپ نے۔۔۔“ وہ کہتے کہتے رک گئی، فہد بڑے غور سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا جو اس کے مستقبل کے بارے میں وہ کچھ بتا رہا تھا جس کی منصوبہ بندی اس نے پتہ نہیںکب سے کرنا شروع کردی تھی۔

”ہاں! میں نے بہت سوچ سمجھ کر یہ سب کیا ہے۔ ہم نے آج تک سیکھا ہی یہی ہے۔ سنو سب کی، کرو اپنی، سو بیگم صاحبہ میں نے یہ بات اب ہی تم لوگوں کو کیوں بتائی ہے، اس کی بھی وجہ ہے اور وہ یہ کہ میرے اس منصوبے کے آغاز کا وقت بہت قریب آگیا ہے۔ جیسے ہی بلال کی شادی ہوجاتی ہے۔ ان دنوں میں فہد کا ہاتھ بڑے چوہدری صاحب کے ہاتھ میں تم دو گی تاکہ وہ اپنی بیٹی کی لاج رکھتے ہوئے خود فہد کا ہاتھ افضال کے ہاتھ میں دے دے۔ بلال تو یہاں لاہورمیں رہے گا اور یہاں پر اسے انتہائی مصروف رکھنا میری ذمے داری ہے۔ باقی تم دونوں سمجھدار ہو۔“ الطاف انور نے کہا اور ناشتے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اب ان دونوں کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا، وہ گہری سوچ میں ڈوب چکے تھے۔ فہد کے سامنے ایک نیا وژن آچکا تھا، جسے سوچتے ہوئے اس کے اندر ہلچل آچکی تھی۔ وہ یہی خیال کر رہا تھا کہ قدرت اس پر مہربان ہوچکی ہے۔ کہاں وہ ماہا سمیت اپنی زندگی سے مایوس ہوچکا تھا اور کہاں زندگی اس کے دامن میں ساری خوشیاں ڈال دینے پر آمادہ دکھائی دے رہی تھی۔ وہ زیرِ لب مسکرانے لگا، وہ بہت کچھ سمجھ چکا تھا، اس نے کہا۔

”ابو جی! میں تیار ہوں۔“

”شاباش بیٹے! مجھے معلوم تھا کہ بس تمہیں بتانے کی دیر ہے، باقی تم خود ساری بات سمجھ جاﺅ گے۔“ یہ کہہ کر اس نے اپنی بیگم کی جانب دیکھا جو سوچوں میں گم تھی۔ پھر مسکراتے ہوئے بولا، اپنی ماں کو سمجھا ﺅ، اتنا مت سوچے کہ تمہیں ناشتہ دینا ہی بھول جائے۔ ابھی تو بہت سارے مرحلے طے کرنا ہیں۔“

اس کے یوں کہنے پر نجمہ چونک گئی۔ پھر کچھ کہے بغیر اس نے پلیٹ فہد کے سامنے رکھ دی۔

”میں آج ہی گلاب نگر جاﺅں گا۔“ فہد نے کہا تو الطاف نے عام سے لہجے میں کہا۔

”جیسے تمہاری مرضی، تم جو چاہو سو کرو۔“

اس پر ان تینوں میں خاموشی چھا گئی۔ جیسے طوفان سے پہلے کی خاموشی ہوتی ہے۔

ز….ز….ز

شعیب بڑے سکون سے ڈرائیونگ کرتے ہوئے میرے ساتھ باتیں کرتا رہا۔ وہ تھائی لوگوں اور ان کے رویے کے بارے میں تفصیل سے بتاتا رہا تھا۔میں نے رات بھر میں اک ذرا سی جھپکی لی تھی اور ناشتے کے بعد طبیعت خاصی بوجھل ہورہی تھی۔ اس لیے مجھے اس کی کچھ باتیں سمجھ میں آئیں اور کچھ نہ آئیں۔ انہی باتوں کے دوران وہ سڑک پر موڑ مڑا اور بولا۔

”لیں جی! ہم اب جس روڈ پر آگئے ہیں اسے ”سوکھوم ویٹ روڈ“ کہتے ہیں۔ یہی سڑک آپ کو پتایا لے جائے گی۔ یہاں تھوڑے سے فاصلے پر پتایا جانے والی بسیں آپ کو مل جائیں گی۔ میرے خیال میں آپ کو بس کے ذریعے ہی جانا چاہیے۔“

”اس کی کوئی خاص وجہ؟“ میں نے پوچھا۔

”یوں تو ہر طرح کی ٹیکسی مل جاتی ہے۔ وہ ہزاروں میں بھات مانگیں گے، ٹرین بھی جاتی ہے لیکن وہ اس طرح کی نہیں ہے کہ آپ کواتنے وقت میں پہنچا سکے، تقریباً ڈھائی گھنٹے میں یہ آپ کو پتایا پہنچا دے گی۔ میرا مطلب ہے لگژری بس جو یہاں سے جاتی ہے۔ یہ باتیں اپنی جگہ مگر میں جو آپ کو بس کے ذریعے بھجوا رہا ہوں، ہمت سنگھ وہیں آپ کو ملے گا۔ دوسرا بس سے سفر محفوظ ہے۔“ اس نے مجھے تفصیل سے بتایا اور میں قائل ہوگیا۔

”ظاہر ہے ٹیکسی اور بس کے کرائے میں بہت فرق بھی تو ہوگا نا۔“ میں نے کہا۔

”وہی کہہ رہا ہوں نا، یہ مختلف ہوٹلوں سے جانے والی کوچز اور ٹیکسی بہت مہنگی ہے۔ وقت بھی تقریباً اتنا ہی لگتا ہے، وہ کون سا اُڑ کر جاتی ہے۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا پھر جیسے اچانک اسے کچھ یاد آگیا ہو، اس لیے بولا، ”جس ہوٹل میں آپ جانا چاہتے ہیں، وہ بس ٹرمینل سے تقریباً آدھے گھنٹے کی مسافت پر ساحل کی جانب ہے اور اس جانب ہی ہمت سنگھ کا گھر ہے۔ ممکن ہے ہوٹل جانے سے پہلے وہ آپ کو اپنے گھر لے جائے۔ اس لیے پریشان نہیں ہونا۔“

”ٹھیک ہے۔“ میں نے اس کی بات سمجھتے ہوئے کہا تو اس نے ادھر ادھر دیکھ کر گاڑی سے یوٹرن لیا اور پھر پارکنگ میں روکتا ہوا بولا

”لیں جی، یہاں سے آپ پتایا جائیںگے، یہ ایکا مائی بس ٹرمینل ہے۔ آئیے!“یہ کہہ کر وہ گاڑی سے باہر نکلا، پھر میرا بیگ اور لیپ ٹاپ اٹھایا۔ میں نے اس سے پکڑنا چاہا لیکن اس نے مجھے نہیں دیا۔ وہ بس ٹرمینل کے طویل برآمدے میں آگیا جہاں ایک جانب باہر کی طرف بسیں کھڑی تھیں۔ اس نے مجھے ایک بینچ پر بٹھاتے ہوئے کہا۔

”وہ سامنے بورڈ دیکھیں، جس پر ایک نمبر لکھا ہوا نظر آرہا ہے۔“

میں نے اس جانب دیکھا، وہاں بڑے سارے ہندسے کے ساتھ پتایا لکھا ہوا تھا۔ اس کے ارد گرد چند مسافر کھڑے تھے۔ میں سمجھ گیا کہ سفید اور ہلکے نیلے رنگ کی بس جائے گی۔ اس نے سامان میرے قریب رکھا اور اندر کی جانب چلا گیا۔ بلاشبہ وہ اندر سے ٹکٹ لینے گیا تھا، میں نے بھی اپنا بیگ اٹھایا، اسے کاندھے پر ٹکاکر لیپ ٹاپ کو ہاتھوں میں لیا اور اس کے پیچھے لپکا۔ وہ چند مسافروں کے پیچھے کھڑا تھا۔ کھڑکی کے پار ایک تھائی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جو بھات پکڑ کر ٹکٹ دیتی چلی جارہی تھی۔ شعیب کی نگاہ مجھ پر پڑی تو وہ ذرا سی حیرت کے ساتھ بولا۔

”بلال بھائی، آپ وہاں بیٹھیں، میں ٹکٹ لے آتا ہوں۔“

اس پر میں نے کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ جیب سے بھات نکال کر اس کی جانب بڑھا دئیے۔ سامنے شیشے پر کرایہ لکھا ہوا تھا۔

”یہ لو“ میں نے کہا۔

”بلال بھائی، کوئی بات نہیں میں۔۔۔“ اس نے کہنا چاہا تو میں نے ٹوک دیا۔

”یہ جو آپ نے مجھے بھات دئیے ہیں، میں ان کا کیا کروں، پلیز!“ یہ کہہ کر میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے چپ چاپ پکڑ لیے میں نے ایک طائرانہ نگاہ ڈالی اور باہر آگیا۔

تقریباً دس منٹ بعد بس جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ میرا بیگ ایک جانب رکھوا دیا گیا اور میں لیپ ٹاپ کے ساتھ بس کے اندر چلا گیا۔ شعیب میرے پیچھے ہی آگیا، ٹکٹ اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے براﺅن رنگ کا ٹکٹ میرے حوالے کرتے ہوئے سیٹ کی طرف رہنمائی کی۔ میں نے بیٹھتے ہی کہا۔

”شعیب، تمہارا بہت شکریہ۔“

”بلال بھائی! کیسی بات کر رہے ہیں آپ، شکریہ تو مجھے ادا کرنا چاہیے کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا۔“ اس نے خوش اخلاقی سے کہا۔

”یقینا۔!“ میں نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے اختصار سے کہا تو وہ ہاتھ ہلاتے ہوئے چلا گیا۔

 جلد ہی میرے ساتھ ایک تھائی نوجوان آکر بیٹھ گیا۔ پھر بس چل پڑی۔ نیلی سیٹوں اور سفید پردوں کے ساتھ ماحول خاصا خوشگوار ہورہا تھا۔ اے سی کے باعث ہلکی سی خنکی تھی۔ بس میں تھائی اور غیر ملکی کئی لوگ سوار تھے۔ میں نے نہیں جانتا کہ اس وقت کس کے کیا جذبات ہوں گے یا پھر کوئی کسی کی جانب متوجہ بھی تھا یا نہیں، لیکن جونہی بس سوکھوم ویٹ روڈ پر چڑھنے کے بعد تیز ہوئی تو میں نے آنکھیں بند کرکے کھڑکی کے ساتھ ٹیک لگا لی۔ تب میری نگاہوں میں پی اون کی وہی تصویر گھوم گئی جو اس نے مجھے چند ماہ پہلے ای میل کی تھی۔ وہ ایک واٹ کے باہر بنچ پر بہت سمٹ کر بیٹھی ہوئی تھی۔ سفید قمیص کے ساتھ منی سکرٹ گرے رنگ کی تھی، جس میں اس کی گلابی پنڈلیاں واضح دکھائی دے رہی تھیں۔ سفید رنگ کی ہلکی سی چپل، ہلکا سا میک اپ اور شانوں تک تراشے ہوئے گہرے براﺅن بال پہلی نگاہ میں یہی کچھ دکھائی دیتا تھا۔ اگرچہ تھائی لڑکیاں سبھی ایک جیسی ہی دکھائی دیتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی آنکھیں، چپکا ہوا ناک، قدرے موٹے ہونٹ اور سفید رنگ جس میں چینیوں کی مانند پیلاہٹ سی ہوتی ہے لیکن پی اون کے نین نقش خالص تھائی لڑکیوں جیسے نہیں تھے۔ میں نے بہت غور کرنے کے بعد اس کے نین نقش کو یوں سمجھا تھا کہ جیسے اس کی بنیادی خدو خال تو تھائی لڑکیوں جیسے ہی تھے مگر ان کی بناوٹ میں مغربی نقوش کی ہلکی سی جھلک تھی جیسے ناک تیکھا ہونے کا احساس، کھلی سی بادامی صورت آنکھیں جن پر بھنویں فطری تھیں اور پتلے سے لبوں کے ساتھ گالوں کا اُبھار، گوری رنگت میں گلابی پن تھا۔ اس نے اور بھی تصویریں مجھے ای میل کی تھیں۔ ان سب کے مجموعے میں وہ مجھے ایک لاابالی لڑکی لگی تھی اور پھر اس کے سوال اکثر اوقات ان موضوعات کے گرد ہی گھوما کرتے تھے۔ جس میں مسلمانوں کے لیے نفرت زیادہ ہوتی تھی۔

پی اون سے دوستی اور گفتگو کے بعد مجھے تھائی لینڈ کے ساتھ اچھی خاصی شناسائی ہوگئی تھی لیکن اس کے ساتھ وہی تاثر جڑا ہوا تھا جس کا اظہار، میرے ذکر کرنے پر فہد اور ذیشان نے کےا تھا۔ جہاں سستی عیاشی کے لیے لوگ جمع ہوتے ہوں، وہاں کی اخلاقی قدروں کا حال کیا ہوگا۔ میں قطعاً یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا تھا کہ جس طرح پی اون نے میرے سامنے اپنا تاثر بنایا تھا وہ ویسی ہی ہوگی۔ ممکن ہے وہ ویسی ہی ہو یا پھر تیسرے درجے کی طوائف۔ اور یہ بھی ممکن تھا کہ وہ سرے سے لڑکی ہی نہ نکلے، کوئی مرد ہو یا پھر ہیجڑا۔ جیسے وہاں کی زبان میں ”لیڈی بوائے“ کہتے تھے۔ میری ذہنی رو پھر سے اس جانب بہک گئی تھی۔ میں جس کے بارے میں سوچنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لیے میں نے اس خیال کو جھٹک کر ذہن سے نکال دیا اور اس کی جگہ اپنی ماہا کو سوچنے لگا۔

 آخری بار جب میں نے اس سے بات کی تھی۔ وہ حویلی کے اس حصے کو سجانے کا فیصلہ کر چکی تھی جو ہمارے لیے مخصوص ہوجانے والا تھا۔ انٹریئر ڈیکوریٹر سے اس کی بات ہوگئی تھی اور اس نے مجھ سے بنیادی رنگ کے بارے میں پوچھا تھا۔ میں نے اسے ہلکا کا سنی رنگ بتایا تھا جو اسے بھی بہت پسند تھا۔

ماہا! میری بچپن کی دوست ہی نہیں، میرا عشق تھی۔ میں نے کبھی اسے خود سے الگ نہیں سمجھا تھا ہمیشہ اس کی سوچ اور مزاج کے مطابق ہی میرا رویہ ہوتا۔ وہ رُو دیتی تو میں اسے بہلاتا، وہ خوش ہوتی تو میں بھی خوش ہوجاتا، اکلوتی ہونے کی وجہ سے اس کے ناز ہی بہت اٹھائے گئے تھے۔ میں جو خود ناز و نعم میں پلا تھا، ماہا کے ناز اٹھاتا۔ جی میں آتا تو لمحے بھر میں پوری کلاس کو ٹریٹ دینے کا فیصلہ کرلیتی اور مجھے حکم دیتی کہ اس کا بندوبست کروں اور کبھی روٹھ جاتی تو کسی سے بات تک نہ کرتی۔ چھٹیاں ہوتے ہی وہ حویلی چلی آتی، نور پور میں اس کا جی نہیں لگتا تھا۔ ہم جی بھر کے کھیلتے، مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی اس کی ضد رَدّ کی ہو، ہمیشہ اس نے جو چاہا وہی کیا۔ پھر گزرتے دنوں کے ساتھ اسے شعور آتا گیا۔ اسے احساس ہونے لگا کہ محبت کسے کہتے ہیں۔ دھیرے دھیرے اس کی ضدیں ختم ہوتی چلی گئیں۔ بے تکلفی میں احترام اُتر آیا تھا۔ اگرچہ وہ مجھے اب بھی ”تم“ ہی کہتی تھی لیکن اس قدر اپنائیت کے ساتھ کہ اس پر ہزار ”آپ“ قربان کر دئیے جائیں۔ مجھے نہیں یاد کہ میں نے کبھی اپنی پسند سے کوئی لباس بنایا ہو۔ ہمیشہ ماہا ہی میرے لیے لباس کا انتخاب کرتی، وہی خریدتی یا پھر بنواتی، فقط ایک بار دیکھتی اور اس لباس کی اہمیت ختم ہوجاتی۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ مجھ سے مشورہ کرتی۔ اصل میں اس کی دنیا بہت محدود تھی۔ نور پور اور حویلی یا پھر سکول، اس کے بعد جب وہ کالج میں آئی تو میرے ساتھ اس قدر ہم آہنگ ہوچکی تھی کہ اس کی کوئی بھی گہری سہیلی نہ بن سکی۔ ماہا، بنیادی طور پر معصوم، لاابالی اور جذباتی لڑکی تھی۔ جو بات اس کی سمجھ میں نہ آتی، اس کے بارے میں اتنا کرید کرتی کہ دوسرا تنگ پڑ جاتا، وہ میرے ہر معاملے میں شریک ہو جانے کی کوشش کرتی۔ اس میں ماہا کا کوئی قصور نہیں تھا بلکہ میں اس کے قریب ہی اتنا تھا وہ خود کو مجھ سے جدا خیال ہی نہیں کرتی تھی۔ بہت جلد سہم جانے والی ماہا، میرے ساتھ پر بہادر ہوجاتی۔ یہ کوئی اچھی بات نہیں تھی۔ میں اسے ایک بہادر لڑکی دیکھنا چاہتا تھا جو اپنی بات منوا سکے۔ سو جب وہ یونیورسٹی میں پہنچی تو میں نے جان بوجھ کر اسے کم وقت دینا شروع کردیا اور زیادہ سے زیادہ سہیلیاں بنانے پر حوصلہ افزائی کی۔ یہاں تک کہ جب اس نے تعلیم مکمل کی تو نور پور کے سماجی حلقوں میں اس کی پہچا ن تھی۔ اگرچہ وہ بولڈ تھی لیکن رشتوں کا احترام کرنا وہ جانتی تھی۔ بہت ساری باتیں مجھے یاد آتی رہیں۔ مجھے احساس ہی نہیں ہوا کہ کب میری آنکھ لگ گئی۔

میری آنکھ کھلی تو میں نے خود کو بس میں پایا۔ خود کو سنبھالنے پر میں نے دیکھا، میرا لیپ ٹاپ ساتھ بیٹھے تھائی نوجوان کی گود میں پڑا ہے۔ مجھے اپنی غفلت پر بہت افسوس ہونے لگا۔ میں نے شرمندگی بھری مسکراہٹ کے ساتھ اس کی جانب دیکھا اور لیپ ٹاپ کی جانب ہاتھ بڑھایا۔ اس نے مسکراتے ہوئے وہ واپس کردیا۔

”شکریہ“ میں نے انگریزی میں کہا۔

”کھرب کون کھریپ“ اس نے منمناتے ہوئے کہا۔ اس کی مجھے سمجھ تو نہ آئی بعد میں مجھے پتہ چلا کہ وہ بھی میرا شکریہ ادا کر رہا تھا، میں اس کی بات نہیں سمجھا تو خاموشی سے اپنی جگہ سمٹ گیا۔ تب اس نے پوچھا، ”پتایا؟“ اس پر میں نے فقط سرہلا دیا۔ تو وہ آہستہ ہنستے ہوئے بولا، ”مائی ین رائے“ (کوئی بات نہیں) میں اس کی بات پھر نہ سمجھا تو وہ بھی شرمندہ سی مسکراہٹ کے ساتھ خاموش ہوگیا۔ میں نے خجالت سے بچنے کے لیے کھڑکی سے پردہ ہٹایا تو باہر خوب دھوپ چمک رہی تھی نیلے آسمان پر سفید بادل چھائے ہوئے تھے۔ تبھی بس ایک بڑے سارے چوراہے تک پہنچ گئی۔ جس سے میں سمجھ گیا کہ اب پتایا زیادہ دور نہیں ہے۔ میں نے گھڑی دیکھی، ہمیں سفر کرتے ہوئے دو گھنٹے ہوگئے تھے۔ پھر بس اڈے پر پہنچ گئی۔

میں بس میں سے نکلا تو سامنے نیلی پلاسٹک کی کرسیں پر بہت سارے لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ انہی میں ایک جانب سفید پتلون، میرون چیک دار شرٹ اور سر پر گہرے نیلے رنگ کی مخصوص پگڑی باندھے ایک سکھ جوان کھڑا بس میں سے اترتے ہوئے مسافروں کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا، چونکہ وہاں پر وہی ایک سنگھ تھا، اس لیے میں سمجھ گیا کہ وہی ہمت سنگھ ہوگا۔ میں نے اپنا بیگ لیا اور اس کی جانب بڑھنے لگا۔ تبھی میرا سیل فون بج اٹھا، میں نے دیکھا، ہمت سنگھ پریشانی چہرے پر سجائے فون سیٹ کان سے لگائے کھڑا ہے۔ میں نے فون ریسیو کرلیا۔

”ہیلو آپ بلال بھاءجی او۔“

”ہاں جی، میں بلال ہی ہوں، آپ ہمت سنگھ؟“ میں نے جواب دیتے ہوئے قدم اس کی جانب بڑھا دئیے۔

”جی جی، آپ کدھر ہو، آپ کی بس تو آچکی ہے۔“ اس نے کہا تو میں اس کے پاس جاکر کھڑا ہوگیا۔

”میں آپ کے پاس کھڑا ہوں لیکن آپ مجھے پہچان ہی نہیں رہے ہو۔“ میں نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ اس نے میرے یوں کہنے پر چونک کر ارد گرد دیکھا، پھر نگاہیں مجھ پر ٹکا دیں۔ پھر جلدی سے بولا۔

”گرے رنگ کے سوٹ والے آپ ہی۔۔۔“ اس نے کہا تو میں مسکرا دیا۔ اس نے جلدی سے فون کان پر سے ہٹایا اور تیر کی طرح میری جانب بڑھا۔ اس کے چہرے پر خوشی برس رہی تھی۔ جیسے کوئی ترسا ہوا بندہ کسی جانب لپکتا ہے۔ ہم میں چند قدم کا فاصلہ اس نے اڑنے کی مانند طے کیا۔

”اور جی آیاں نوں بلال بھاءجی۔“ جوش جذبات میں اس نے کہا اور پھر مجھے اپنی بانہوں میں بھرلیا۔ پھر معانقہ کے انداز میں کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب کئی بار ملا۔

”ہمت سنگھ جی، بس کریں، کوئی ہڈی وڈی۔۔۔“

”او چھوڑو جی، میرے پنجاب سے آنے والا شیر اس قدر نازک نہیں ہوسکتا۔ سفر کیسا رہا؟“ اس نے یہ پوچھتے ہی میرا بیگ پکڑا۔

”بہت اچھا، ذرا بھی تکلیف نہیں ہوئی۔“ میں نے کہا تو اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔

”بابے دی مہر ہے جی، آئیں چلیں۔“ پھر اچانک رک کر بولا۔ ”کوئی اور سامان تو نہیں ہے نا۔“

”نہیں، بس یہی بیگ ہے۔“ میں نے بتایا تو وہ ایک جانب بڑھتے ہوئے بولا۔

”آئیں!“ یہ کہہ کر وہ چل دیا۔ میں اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ وہ سیدھا ایک کاﺅنٹر پر گیا۔ وہاں سے اس نے کوک کے دوٹےن پیک لیے اورایک مجھے دیتے ہوئے بولا ”تھوڑی بہت پیاس تو بجھائیں نا، چاہ لسی گھر چل کر پیتے ہیں۔“

”تو اس کا مطلب ہے ہمت سنگھ، آپ پہلے گھر چلیں گے۔“ میں نے تصدیق چاہی۔

”اُو کیا باتیں کرتے ہو بلال بھاءجی، میری جند کورتے ساری رات نہیں سوئی۔ پنجاب سے اور پھر لاہور سے کوئی آئے تو اسے ویسے ہی چاہ چڑھ جاتا ہے اور میرا جیت سنگھ، اوئے کیا بات ہے اس کی، ایک منٹ میں دوستی، آپ کے آنے کا سن کر سکول نہیں جارہا تھا، اسے سمجھایا کہ تیرے آنے تک ادھر ہی رہیں گے۔“ وہ جوش جذبات اور پورے خلوص سے بولتا چلا جارہا تھا۔ اس وقت مجھے لگا اپنا وطن اوراپنا دیس کتنا پیارا ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ اس کے ساتھ ایک روحانی تعلق بھی ہو۔

ہم ٹیکسی میں بیٹھ گئے۔ ہمت سنگھ نے خود ہی بات کی اور پھر اگلی سیٹ پر بیگ رکھ کر جیب سے فون نکال لیا۔ پھر نمبر پش کرتے ہوئے بولا۔

”شعیب بھاءجی کو بتا دیںکہ آپ پہنچ گئے ہیں۔“ یہ کہہ کر دوسری طرف سے رابطہ ہوجانے کا انتطار کرتا رہا۔ پھر جیسے ہی رابطہ ہوا۔ اس نے میری آمد کے بارے میں بتایا۔ ”ہاں ہاں جی۔ یہاں سے سیدھے گھر جائیں گے۔ پھر دوپہر کے بعد میں انہیں وہاں چھوڑ دوں گا۔۔۔ نہیں جی! دوکان کھلی ہے، کاریگر ہیں ادھر، اگر بند بھی کرنی پڑتی تو کوئی بات نہیں تھی جی۔۔۔ آپ فکر نہ کریں جی، میں پورا خیال رکھوں گا، اور کوئی شکوہ نہیں آئے گا۔۔۔ جی جی میں سمجھتا ہوں۔۔۔ میں بتا دوں گا۔۔۔“ یہ کہہ کر اس نے فون میری جانب بڑھا دیا۔ میں نے مختصر سی بات کی اور فون بند کرکے اسے دے دیا۔ تب میں نے باہر دیکھا تو مجھے لگا یہ منظر میں نے پہلے بھی دیکھا ہے۔ ابھی یہیں سے گزر کر بس اسٹیشن کی جانب گئے تھے۔ میں نے اس کا اظہار کیا تو وہ بولا۔

”جی بھاءجی! ہم ابھی اس روڈ سے واپس جارہے ہیں، جدھر سے آپ آئے تھے۔ اب ہم آگے جاکر دائیں جانب مڑ جائیں گے۔ میرے گھر سے آپ کا ہوٹل نزدیک ہی ہے۔“

”اچھا ایک بات یاد رکھنی ہے، راستے میں کسی ایسی جگہ جانا ہے، جہاں سے پھل مل سکیں۔“ میں نے کہا تو اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے تھائی زبان میں ڈرائیور سے کہا۔ وہ بھی سر ہلاتا رہا۔ پھر اس نے ٹیکسی ایک ذیلی سڑک پر موڑ لی۔

جاری ہے۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے