سر ورق / “محبت” از صلہ مرزا

“محبت” از صلہ مرزا

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 79
“محبت”
از صلہ مرزا
کمرے میں ہلکی ہلکی سسکیوں کی آواز ابھر رہی تھی ۔
چیخ نما سسکی پر اس نے جلدی سے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں دبا لیا ۔
اس وقت عجیب سے احساس سے سرشار ہوگئی ورنہ اس کے لئے یہ مرحلہ بہت تکلیف دہ ثابت ہورہا تھا۔
اس نے اب تک جتنی شادیاں دیکھی تھیں دوسرے دن کی دلہنوں کے چہروں پر سجی مسکراہٹیں اسے مصنوعی لگ رہی تھیں جو شاید وہ اپنا ، اپنے گھر اور سسرال والوں کا بھرم رکھنے کے لئے سجا لیتی تھیں ورنہ پچھلے تین گھنٹوں سے یہ عمل اس کے لئے بہت تکلیف دہ ثابت ہو رہا تھا ۔ جانے کون لڑکیاں تھیں جو اس سب کے متعلق ایک دوسرے کو بتاتے ہوئے مزہ لیتی تھیں ۔
اذیت کے یہ لمحات صبح ہونے سے کچھ پہلے تک اس پر حاوی رہے پھر وہ تو کروٹ بدل کر سو گیا جب کہ وہ جانتی تھی اب اسے اٹھنا ہوگا ۔
ماں نے سب کچھ سمجھا کر بھیجا تھا بڑی بہنوں اور شادی شدہ سہیلیوں نے بھی بہت کچھ بتایا تھا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی حال میں بھی شوہر کو منع نہیں کرنا ۔ انیس سال کی فاخرہ یہ سب سنتی ہوئی ایسا محسوس کر رہی تھی جیسے اس کی شادی نہیں ہورہی ہے اسے محاذ جنگ کے لئے تیار کیا جارہا ہے۔ مگر جنگ بھی ایسی جس میں اسے ہر حال میں ہارنا ہی ہے تب ہی تو اسے وہ سب نعمتیں حاصل ہو سکتی تھیں ۔ جو اس سے پہلی والیوں کو حاصل تھیں۔
نیند اور تھکن سے چور اٹھنا ایک عذاب ہی لگ رہا تھا۔ کہاں وہ جب اور جہاں چاہتی پڑ کر سو رہتی۔ اگر کوئی اسے غلطی سے جگا بھی دیتا تو گھر سر پر اٹھا لیتی ۔ مگر اب اسے اٹھنا ہی تھا۔
اس کی ساس کی تیز نظریں اسے ہر وقت گھورتی ہوئی محسوس ہوتیں۔ شاید اس نے اس کا سب سے لائق بیٹا ہتھیا لیا تھا۔
غسل کر کے آئی تو عاصم ابھی بھی سو رہا تھا۔ اس نے بال سکھائے اور صوفے پر بیٹھ کر ارد گرد کا جائزہ لینے لگی ۔ کمرے کو کاغذی پھولوں کی لڑیوں سے سجایا گیا تھا۔ اسے یاد آیا اسے تازہ پھولوں کی سیج کا کتنا شوق تھا اپنی سہیلیوں سے کہا کرتی تھی،
“جس نے مجھ سے شادی کرنی ہوگی وہ تازہ پھولوں کی سیج سجائے ۔”
“اور اگر اس نے ایسا نہ کیاتو ؟ ”
“تو پھر میں اسے اپنے پیار سے اتنا مجبورکر دوں گی کہ وہ ایک دن ایسا ضرور کرے گا خواہ شادی کو پچاس سال بھی گزر چکے ہوں ”
اس کی سہیلیاں اس کے اس پاگل پن پر ہنس دیتیں۔
شادی کی مصروفیات گزرنے کے بعد دن اور رات یکساں معمول پر آچکے تھے ۔
رت جگے جاری تھے گھر کی بڑی بہو ہونے کے ناطےمکمل ذمہ داریاں اس پر ڈال دی گئی تھیں اور رات کی ذمہ داری الگ تھی ۔
اسے پہلے دن سے ہی یہ احساس رہا کہ وہ ایک فرض ادا کر رہی ہے۔
” اس میں اس کی اپنی کوئی رضا خوشی یا خواہش شامل ہے ؟”
وہ خود سے جب یہ سوال کرتی تو جواب نفی میں ہی ملتا ۔
کسی کمی کااحساس اسے ستاتا ۔
مگر عاصم کے رویے سے اسے ایسا کبھی محسوس نہیں ہوا تھا کہ اسے بھی کوئی ایسی کمی محسوس ہوتی ہے۔
اس کی جب خواہش ہوتی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنے قریب کرتا اور ضرورت پوری ہو جانے پر کروٹ بدل کر سو جاتا ۔
وہ ریت کی طرح پیاس کے ساحل پر پڑی رہتی کبھی کبھار چند تند و تیز لہریں اسے اپنے ساتھ بہا لے جاتیں وہ بھی سیراب ہوتی مگر ایسا بہت کم ہوتا تھا ۔
جب بھی ایسا ہوتا اگلی بار اس کی خواہش شدید ہوتی مگر اس کے پورا نہ ہونے پر جس تڑپ کا اسے سامنا ہوتا وہ کسی سے کہہ نہ پاتی تھی۔ اس سے بھی نہیں جو بھرے جام لئے بس خود کو ہی سیراب کرتا چلا جاتا ،ایسی کسی خواہش کا اظہار بھی گناہ جیسا ہی تھا۔
ایک بار اس نے صرف اتنا ہی کہا تھا آپ ذرا بھی رومینٹک نہیں ہیں ۔
اس بات پر اس نے اسے کس بری طرح سے جھاڑ دیا تھا ۔
“رومینٹک ؟ یہ لفظ تم نے کہاں سے سنا کس نے بتائیں تمہیں یہ سب باتیں؟” وہ گھبرا ہی تو گئی اس کے لہجےمیں ایسا ہی شک تھا ۔
بہت مشکل سے اس نے اسے مطمئن کیا کہ اس کی شادی شدہ سہیلیاں اپنے قصے سناتےہوئے یہ لفظ بولتی ہیں ۔۔
اسے یوں لگا کہ بد کردار عورت کا ٹھپہ لگنے سے مشکل سے ہی خود کو بچا پائی ہے ۔
برس پر برس گذرتے گئے اس کے دامن میں دو پھول کھل چکے تھے دن اور رات کے معمولات کم و بیش وہی تھے ۔
اب اس کی خواہش اور آس دب کر رہ چکی تھی وہ جان چکی تھی کہ سمندر پر خواہ کتنی دور کتنے گہرے پانی میں اترے پیاس ہی اس کا مقدر ہے۔ کوئی تند وتیز طوفانی ریلا ہی اس کی جھولی میں سیرابی کے چند لمحے ڈال دے تو ٹھیک ، ورنہ اب وہ اس سب سے سمجھوتہ کر چکی تھی ۔
وہ بھی اتنا لاپرواہ تھا کہ اپنی ضرورت رات کے وقت اسے جگائے بغیر ہی پوری کر لیتا وہ کسمساتی مگر سارے دن کی ذہنی اور جسمانی تھکن اسے بیدار نہ کرتی ۔
ویسے بھی اس تعلق میں کوئی دلکشی باقی نہ تھی جو شاید کبھی تھی ہی نہیں ۔
کبھی کبھار یوں بھی ہوتا کہ وہ اپنے جذبات کی شدت کے ہاتھوں بہت مجبور ہوجاتی، اس دوران اس کی پوری کوشش ہوتی کہ ان لمحات میں اپنی ساری توجہ اسی طرف رکھے مگر اس پر یہ خوف طاری رہتا کہ اگر وہ اس کا احساس کئے بنا الگ ہوگیا تو یہ شدت اسے مزید تڑپائے گی۔ ایسا کئی بار ہوچکا تھا ۔ اور یوں ادھورا رہ جانے پر شدید سر درد ہوتا ۔ اس کے جسم کی اینٹھن اسے پوری رات بے چین رکھتی ایسے میں بے بسی کے چند آنسو اس کے تکیے میں جذب ہوجاتے اور کسی کو ان آنسووں میں چھپے طوفانوں کا پتہ ہی نہ چلتا۔
وہ دوسری طرف منہ کئے سکون سے سویا رہتا۔
اب وہ یہ آس ہی چھوڑ چکی تھی ۔خود کو زیادہ سے زیادہ مصروف رکھتی۔ بچے اب بڑے ہورہے تھے۔ عاصم اپنا بستر الگ کر چکا تھا، جب ضرورت ہوتی تو اسے اپنے کمرے میں بلا لیتا ،وہ بھی جس طرح اسے پانی کا گلاس تھمانے جاتی یہ ذمہ داری پوری کر کے اپنے کمرے میں آجاتی ۔
اسے رات کو نیند نہیں آتی تھی۔ اس لئے اس نے سوشل میڈیا پر کچھ مذہبی گروپ جوائن کر لئے جن میں وہ مختلف قسموں کی چیزیں پڑھتی رہتی ۔اس نے صرف چند خواتین کو اپنی فہرست دوستاں میں شامل کر رکھا تھا ۔ ان سے بات چیت بھی کر لیتی ۔یوں اس کا وقت اچھا گزرنے لگا ۔
ایک دن اسے ان باکس میں پیغام ملا
“سیکس چیٹ کرو گی ؟ ”
یہ جملہ پڑھ کر اسے لگا اس کےگال تپنے لگے ہیں اس نے گھبرا کر لاگ آوٹ کر دیا۔
اور دو تین دن اسے آن ہی نہیں کیا۔ اس کے دماغ میں یہی جملہ گونجتا رہا ،مگر کتنے دن خود کو روک پاتی
اس نے دل کو تسلی دی مین تو ایسا کچھ نہیں کر رہی ہوں جو غلط ہو ۔ اس نے فیس بک لاگ ان کر کے سب سے پہلے اس شخص کو بلاک کیا اب اپنے گروپ میں پھر سے سرگرم ہوگئی ۔مذہبی گروپس کے ساتھ ساتھ کچھ اچھی شاعری کے گروپس میں بھی شامل ہوچکی تھی ۔
اس طرح کے گندے پیغام بھی کبھی کبھار مل جاتے تھے جو اس کے تجسس کو ہوا تو دیتے مگر خوف غالب آجاتا وہ اس قسم کا میسج کرنے والے کو فورا” سے پہلے بلاک کرتی تھی ۔ اور اب خود بھی کوئی اچھی چیز اسے ملتی تو گروپ میں لگا دیتی لوگ اس کے حسن انتخاب کی داد دیتے تو اسے اچھا لگتا ۔
ان میں شہزاد رضا نام کا شخص اس کی ہر پوسٹ کو لائک کرتا اور کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور کرتا کہ وہ اسے جواب دینے پر مجبور ہو جاتی۔ اس کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ اس نے کبھی اسے دوستی کی درخواست نہ بھیجی تھی، نہ ہی کبھی ان باکس رابطے کی کوشش کی تھی ۔۔ اس کی اپنی پوسٹس بھی بہت دل کش ہوتی تھیں وہ بے ساختہ داد دیتی ۔
اب اسے عاصم کی بے رخی کی پرواہ نہیں رہ گئی تھی اس کا معمول وہی تھا جب ضرورت ہوتی اسے کمرے میں بلوا لیتا ۔ اور جیسے کوئی کچرا پھینک کر ہاتھ جھاڑتا ہے اسی طرح وہ اس سے الگ ہوتا ۔
کئی دن ہو گئے تھے شہزاد رضا کا نہ کوئی کمنٹ تھا نہ ہی کوئی پوسٹ ۔
مجبور ہوکر اس نے اسے میسج کیا
آپ خیریت سے ہیں ؟ کئی دن سے نظر نہیں آئے۔
اب وہ اس کے جواب کا مسلسل انتظار کر رہی تھی تین دن کے طویل انتظار کے بعد اس نے جواب دیا کہ کسی مصروفیت کی وجہ سے وہ دوسرے شہر گیا ہوا تھا ۔نیٹ کے مسئلے کی وجہ سے وہ اس نے فیس بک لاگ ان نہیں کی ۔
یہاں سے باتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا
انہوں نے ایک دوسرے کی ذات کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا بس ادھر ادھر کی باتیں کرتے رہتے ۔۔
اس رات پھر عاصم نے اسے اپنے کمرے میں بلایا تھا ۔
وہ اس کے کمرے میں گئی ۔حسب عادت وہ اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ وہ ایک جیتی جاگتی عورت ہے کوئی ڈمی نہیں اس پر حملہ آور ہوچکا تھا۔ اسے اتنا شدید غصہ آرہا تھا کہ وہ دونوں بازو سائیڈ پر رکھ کر بے حس و حرکت چت لیٹ گئی ۔
تمہیں کیا ہوا ہے ؟ اس نے اس کی اس حرکت کو محسوس کر لیا۔
“کچھ نہیں تھکی ہوئی ہوں ۔”
“کس بات سے تھکی ہوئی ہو؟ کام سارے ملازمہ کرتی ہے بچے خود ہی سکول آتے جاتے ہیں
تم سو سو کر ہی تھک گئی ہو ؟ ”
“مجھے ابھی بحث نہیں کرنی ۔”
اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
“تو پھر دفع ہو جاؤ یہاں سے!”
وہ اٹھ کر ملحقہ غسل خانے کی طرف بڑھ گیا۔وہ جس طرح بے لباس لیٹی ہوئی تھی اسے لگا مزید ننگی ہوگئی ہے ۔ذلت کے احساس سے اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے، وہ اٹھی اس کی کوشش تھی کہ اس کے باہر نکلنے سے پہلے کپڑے پہن کر اپنے کمرے میں چلی جائے ۔۔
کمرے میں آکر وہ اپنے بستر پر بیٹھ گئی ، آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ سر میں جیسے ہتھوڑے برس رہے تھے ۔
اسے سیل کی سبز لائٹ جلتی نظر آئی ۔
“میں کیوں روتی رہوں ؟ ”
اس نے سیل فون پکڑا ۔
شہزاد رضا کا پیغام تھا ایک کے بعد ایک
“کہاں ہیں ؟”
“جواب تو دیں !”
“سو گئی ہیں کیا ؟___ مگر آپ تو اس وقت نہیں سوتیں !”
“طبیعت ٹھیک ہے ؟ ”
“پلیز بتائیں۔”
“مجھے فکر ہو رہی ہے۔”
وہ میسج پڑھتی گئی، آنکھوں سے بھل بھل آنسو بہتے گئے
“یہیں ہوں میں!”
اس نے لکھا ۔
“شکر ہے آپ نے جواب تو دیا ۔”
“تم مجھے آپ نہیں تم کہا کرو ۔”
بے تکلفی کی ابتدا تھی ۔
بات کہاں سے چلی کہاں پہنچی ۔
کیمرا آن ہوا وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔
“آپ بہت خوبصورت ہیں ۔”
وہ شرما گئی اسے اپنے اس طرح شرمانے پر حیرت ہوئی ۔مگر اسے لگا کہ وہ کوئی ان چھوئی دوشیزہ ہے جس کے کانوں میں پہلی بار اپنی تعریف کے بول پڑے ہیں۔”
اس کے کان اب اس تعریف کے منتظر رہنے لگے تھے ۔ایک دن تعریف کرتے ہوئے اس نے اس کے گال کو ہلکے سے چھوا ۔ کیمرے کی سکرین میں دیکھتے ہوئے اسے یوں محسوس ہوا جیسے اس نے سچ مچ چھو لیا ہے ۔ اس کے پورے جسم میں سنسنی کی ایک تیز لہر دوڑ گئی ۔
رفتہ رفتہ اس کے ہاتھوں کی گستاخیاں بڑھنے لگیں اب ہونٹ بھی شامل ہو چکے تھے ۔ اور جب پہلی بار وہ بھر پور طریقے سے سیراب ہوئی تو حیرت سے گنگ رہ گئی ۔
اتنا بھرپور اور مکمل احساس تو اسے اس جیتے جاگتے انسان سے بھی نہیں ملا تھا ۔
کچھ احساس گناہ اس میں شامل ہوا مگر برسہا برس کا ادھورا پن اس پر غالب آگیا۔
وہ سر سے پاؤں تک اسے چومتا ، اس کی ایک ایک خوبصورتی کا اس سے ذکر کرتا اسے اتنی نرمی سے چھوتا جیسے وہ پھول کی کوئی نازک سی کلی ہو ۔ اس کے ہر احساس پر اپنے لفظوں سے دستک دیتا
کواڑ کھلتے جاتے ۔وہ پوری طرح اس میں داخل ہوتا وہ سرتاپا سرشار ہوجاتی ۔ وہ بعد میں بھی اسے بتاتا رہتا اسے اس سے کیا ملا ہے ایک خوبصورت رشتے کا بھر پور احساس !
وہ اس کی باتیں سنتے سنتے سو جاتی تو وہ کال بند کر دیتا اور اگلے دن اسے پھولوں کی تصویریں بھیج کر صبح بخیر کہتا۔
اسے لگتا وہ تازہ پھولوں کی سیج پر سو کر اٹھی ہو۔
وہ خوش رہنے لگی تھی ،
اب اسے عاصم کا بلانا برا نہیں لگتا تھا۔۔
ان کے پڑوسیوں میں کوئی گٹار بجانے کا شوقین تھا ۔ کبھی کبھار ان کے گھر سے بہت خوبصورت دھنیں بجنے کی آواز آتی ۔ اور کبھی یوں لگتا کہ کوئی بچہ بے ہنگم طریقے سے تاروں پر ہاتھ مار رہا ہے۔
اسے بھی ایسا ہی لگتا ۔کوئی نرمی سے تاروں کو یوں چھوئے کہ ہلکی ہلکی موسیقی سے روح تک سیراب ہوجائے۔ یا کوئی یوں تاروں کو چھیڑے کہ ہر احساس جھنجھنا اٹھے اور ایک کوفت سی پورےوجود کا احاطہ کرلے ۔ انگلیوں سے تاروں کے بیچ صرف احساس کی نزاکت اور نفاست کا فرق تھا۔
شہزاد رضا کی سنگت میں اسے اس فرق کا پتہ چلنے لگا تھا ۔
کبھی کبھار اسے لگتا کہ وہ کچھ غلط کر رہی ہے مگر وہ یہ سوچ کر خود کو سمجھالیتی کہ
“میری زندگی میں شامل جن لوگوں کا مجھ پر حق ہے میں اس کی ادائیگی میں کوئی کمی نہیں کر رہی ہوں نہ ہی کروں گی ۔
اور میری زندگی پر کچھ حق میرا بھی ہے میں اسے چھین کر لوں یا چوری کر کے، مگر میں اتنا جانتی ہوں کہ یونہی مجھے وہ ملنے والانہیں ہے۔”
کئی دن ہوئے اسے عاصم نے نہیں بلایاتھا ۔
ایک رات عاصم نے اسے آواز دی۔ وہ اس وقت آنکھیں بند کیے شہزاد کی محبت کے تصور میں بھیگی ہوئی تھی۔
وہ میکانکی انداز میں عاصم کے پاس پہنچی۔ عاصم نے حسب عادت اسے دبوچنا چاہا۔ تو اس نے آہستگی سے اس کے سینے پر ہاتھ رکھا اور خواب ناک لہجے میں بولی۔
“جلدی کیا ہے؟ آرام سے بیٹھ جائیں !” اس کے لہجے میں اس قدر مٹھاس تھی کہ وہ چپ چاپ بستر پر بیٹھ گیا۔
اس نے کمرے کی روشنی بجھائی اور بستر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کافی وقت گزر گیا۔ عاصم اس کے دلبرانہ انداز پر حیران تھا۔
” تم آج انوکھی لگ رہی ہو۔” وہ بولا۔” تمھیں کیا ہوا ہے؟”
اس نے سسکاری لی اور آنکھیں بند کیے ہوئےزیرلب بولی۔
“محبت”

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے