سر ورق / شکستہ آرزو !! ناہید طاہر

شکستہ آرزو !! ناہید طاہر

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 80
شکستہ آرزو !!
ناہید طاہر
رب العزت نے حیدر نواب کو عزت و وقار کے ساتھ ساتھ دو انمول رتنوں سے بھی نوازا تھا۔
ریان اور جواد !!
ریان بچپن ہی سے سنجیدہ، خاموش طبع واقع ہوا تھا۔ جبکہ جواد شوخ و شریر !
ریان ، مدینہ منورہ میں کسی ملٹی اسٹار کمپنی میں ملازمت اختیار کیے مسلسل پردیس میں وقت گزارنے پر مجبور تھا۔
ایک طویل عرصہ بعد جب وہ انڈیا لوٹا تو، حیدر نواب نے اپنے ایک عزیز دوست مظہر عبدالطیف صاحب کی دختر “عرشیہ پروین ” سے ریان کارشتہ طے کر دیا۔ فرزند نے بھی فرمانبرداری کا ثبوت دیتےہوئےآنکھیں موند کر بابا کی پسند پر اپنی پسند کا انگھوٹا لگوادیا۔اس فیصلے پر جواد نے اس کی سادگی کابہت مذاق اڑایا۔
“بھائی ایک مرتبہ لڑکی سے ملاقات تو کرلیں۔۔اسے دیکھ پرکھ لیں!”
“چھوٹے۔۔۔۔۔بزرگوں کی پسند نایاب ہوتی ہے۔۔۔۔۔ویسے بھی مجھے خوبصورتی سے زیادہ نیک سیرتی متاثر کرتی ہے۔لڑکی نیک سیرت ہو جو رشتوں کا تقدس سمجھے اوررشتوں کو پامال ہونے سے بچا لے۔ایسی لڑکیاں ازداوجی زندگی کے ہر پہلو کو خوبصورت رنگوں سے آراستہ کرتی ہوئیں زندگی کو گلزار بنادیتی ہیں!!”
“آپ بھی عجیب ہیں!!”
“چھوٹے ! شادی صرف دو جسموں کا میل نہیں بلکہ روح کا ایک خوبصورت سنگم بھی ہے !! اس سنگم سے ذہنی ہم آہنگی پروان چڑھے گی۔۔۔۔ تب ہی یہ بندھن دنیا کا سب سے مضبوط اور خوبصورت ترین بندھن کہلائےگا،پھردودل زندگی کو سرسبز و شاداب ،شائستہ ، خوشبو کی طرح معطر محسوس کرپائیں گے۔”
جواد مزاح میں کہہ اٹھا “بھائی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کوئی بنا دیکھے کیسےکرسکتا ہے بھلا۔۔۔۔؟ بات مانیں ، شادی سے پہلے بھابھی کوایک نظر دیکھ لیں۔۔۔تاکہ شادی کی رات اچانک ہونے والے صدمے سے محفوظ رہ سکیں۔”
جواب میں وہ کھل کر ہنس دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
بزرگوں کے کیے گئے فیصلے تو تب شکستہ پا ہونے لگے ،جب اس نے پہلی مرتبہ حُسن کی ملکہ کادیدار کیا،دل نے باغی ہونے کا فرمان جاری کیا تو والدین کی پسند، کسی ریت کے ذروں کی مانند مٹھی سے پھسلتی ہوئی محسوس ہونے لگی !
حیات کا فلسفہ بھی کہیں دور جا کھڑاتھا اور اس کی بےچارگی پر تمسخر سےقہقہ لگاتا ہوا ذہن کو پچھتاوے کی آگ میں جھونک رہاتھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔
قصہ یوں ہوا کہ وہ ایک ایسی روشن شب تھی جس میں ریان کا سب کچھ لٹ گیا
۔۔۔۔۔۔
آگرہ شہر! ریان کا پیدائشی شہر تھا اور ممتاز محل جیسے ماں کی گودی۔۔۔۔ریان اکثر رات واکنگ کرتا ہواتاج محل کے دلکش احاطہ میں چلا آتا تھا ۔۔اس رات ،
چاندنی شوخ دوشیزہ کی مانند سنگِ مرمر سے بنے تاج محل پر بانہیں پھیلائے ٹوٹ کر برس رہی تھی۔۔۔۔جیسے اپنی والہانہ محبت کااظہار کررہی ہو۔ اس سحر انگیز فضاءمیں، محبت کا شاہد ، تاج محل دلکش انداز میں جھومتا دکھائی دے رہا تھا۔
اچانک ایک ہوا کامعطر جھونکا سا آیا اور اس کی نگاہ اس چاندنی کی چادر تلےایک رشک قمر پر ٹہر سی گئی۔۔۔۔۔یہ ایک طلسماتی لمحہ تھا جس کے سحر تلے وہ گرفتار ہوتا چلاگیا۔ ۔وہ بلا کی حسین تھی سفید لباس میں ملبوس تاج محل کے احاطے میں کھڑی سیلفی کھینچ رہی تھی ۔
“دنیا کا آٹھواں عجوبہ تو تم ہو ! ”
وہ زور سے کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔جیسےایک جلترنگ سا بج اٹھا، اس نے جیسےریان کی بات سن لی ہو۔ریان سٹپٹاگیا۔وہ ہنستی ہوئی ریان پر ایک اچٹتی نگاہ بھی ڈالی تھی۔نگاہ کا یوں ریان کی جانب اٹھنا صرف اتفاق تھا۔
“قدرت کا شاہکار ! ” اس قاتل حسینہ کی قاتل نگاہوں سے قتل ہوتا ہوا وہ زیرلب بڑبڑایا۔
وجود کے اندر پھیلا ہوا مسرت بخش اجالا باہر کی پھیلی چاندنی سے مختلف تو نہ تھا۔ ایک جادوئی پل تھا ،بس وہ چاندنی کا ہیولہ بن کر ریان کےدل ودماغ پر چھاتاہوا جیسے سانسوں اور دھڑکنوں میں رچ بس گیا۔
۔۔۔۔۔۔
پہلی نظر کا اثر کہ ،دل گھائل تھا لیکن زخم ناسور کی شکل تو تب اختیار کرگئے جب وہ دوبارہ اس کے سامنے چلی آئی۔
امی کے کہنے پر ریان دلہن کے نکاح کا جوڑا خریدنے ،جواد کے ہمراہ شاپنگ سنٹر پہنچاتھا کیونکہ امی کی خواہش تھیں کہ ریان اپنی دلہن کا جوڑا خود پسند کرے۔انھوں نے جواد سے کہا تھا کہ عرشیہ کو بھی ساتھ لے جائے۔۔۔۔لیکن ریان نے ناگواری کا اظہار کیا تو جواد نے بھابھی کو ساتھ لینا مناسب نہ سمجھا۔ریان نہایت اکتاہٹ سے ان قیمتی اور خوبصورت ملبوسات کو دیکھ رہا تھا۔
“یار اسقدر اصراف کیوں۔۔۔؟دلہن کےایک ڈرس میں کئی غریب لڑکیاں بیاہی جاسکتی ہیں۔
بھائی پلیز!! جواد ریان کے فلسفہ پر جھنجھلاگیا۔
یار جب تمھاری باری آئےگی۔۔۔تب تم اپنی دلہن کے لئے اتنےقیمتی ڈرسس خریدنا۔۔۔۔میں اپنی دلہن کے لئے کوئی سادہ سا سوٹ خریدنا چاہوں گا۔ بےچاری سیلس گرل بھی ملبوسات کی نمائش کرتی ہوئی کافی تھک گئی تھی۔لیکن ریان کچھ فیصلہ نہ کرسکا۔
“بھائی ! حد ہوگئی۔”جواد جھنجھلایا اور موبائل پر میسج لکھا۔
“برائے مہربانی آپ آجائیں !!لوکیشن بھیج رہا ہوں۔”
ریان نے تعجب سے جواد کو دیکھا۔
“کس کو بلوارہے ہو؟”
جواد پہلے تو دبے لب مسکراتا رہا پھر نظریں چراتا ہوا گویا ہوا
“ہماری تو کوئی بہن ہے نہیں جو خواتین کی پسند جان سکے۔۔۔ہاں میرے قریبی دوست کی ایک بہن ہے۔اسی کو بلوایا ہوں۔”
چند ساعتیں گزریں نہیں کہ جو لڑکی اپنی تمام ترحشرسامانیوں کے ساتھ اس کے سامنے جلوہ افروز ہوئیں وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس رات والی رشکِ قمر تھیں۔
وہ نہایت حیرت سے اس لڑکی کو دیکھنے لگا ۔ اس نے سیاہ رنگ کا شِفان کاسوٹ زیب تن کیے ہوئےتھا۔دوپٹہ سیاہ و سرخ رنگ کی آمیزش میں بہت پیارا لگ رہا تھا۔ میک اپ سے عاری چہرہ ، سیاہ گھنی زلفیں جسے اس نے ایک خوبصورت پین سے قید کر رکھا تھا ۔ریان کے بدن پر ایک خوشگوار سی سنسناہٹ دوڑگئی۔زندگی کے اتفاقات تو بہت سنا تھا لیکن اس قدر حسین اتفاق کی امید نہیں کی تھی۔
“بھائی ان سے ملئے ۔۔۔۔”اس سے پہلے کے جواد تعارف پیش کرتا۔لڑکی اپنی شوخ آواز کی جلترنگ کے درمیان چہک اٹھی۔
“مجھے “عرش” کہتے ہیں !عرش کی ہنسی ایک ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے کی طرح ، فرحت بخش تھی جو ریان کے دل پر سکون کا باعث بنتی ہوئی روح کی گہرائیوں تک پھیل گئی۔
چند ہی ساعتیں گزریں نہیں کہ اس نے ایک خوبصورت ڈرس پسند کیا اور اسے خود کے خوبصورت سراپے پر پھیلا کر ریان کی جانب شوخ نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
“کیسا لگ رہا ہے؟”
ریان نےآج تک اس قدر قاتل حسن نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔دل طائر بسمل کی طرح تڑپ اٹھا ، وہ سحرزدہ انداز میں دیکھتا رہ گیا ۔
“بتائیں ناں کیسا لگا؟ “اس نے دوبارہ سے پوچھا تووہ بے خودی کے عالم میں کہا۔اتنا خوبصورت کہ میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی اتنی خوبصورتی دیکھی نہیں!!”
“کیا مطلب؟”
اس نے ریان کے سامنے کچھ خم ہوتے ہوئے اپنی جھالردار پلکیں اٹھائیں پھر حیا سے انھیں جھکا لیا۔
اس حسین نظارے کے بعد آنکھوں کو کسی اور نظارے کی جیسےآرزو باقی نہ رہی۔
“بہت حسین ہے!!”وہ حسرت اوردکھ سے بڑبڑایا۔
“واٹ!!” عرش نے اپنی پلکوں کی جالر کو دوبارہ حیرت سے جھپکایا۔جواد زور سے ہنس پڑا۔
“بھائی! اب یہی فائنل ہے ناں ۔۔۔؟”
“بالکل !! اس نے بے خودی کے عالم میں عرش کے سراپے کو نہارتاہواکہا تو وہ جواب میں مسکرانے کی کوشش کرنے لگی لیکن ناکام رہی ۔دل کا پتا نہیں کیا رابطہ تھا کہ عرش کے دل کی دھڑکنیں بھی شور کرنے لگیں ۔جواد نےعرش کا شکریہ ادا کیا اور سیلس گرل سے ڈرس پیک کرنے کو کہا۔
وہاں سے فارغ ہوکر تینوں نے آئسکریم کھائی ۔
ہلکی نیلی لائٹس کی روشنی اور اس کی شعاعوں سے اس کا سراپا کسی سنگ تراش کے مجسمے کی مانند چمکتا ہوانظر آرہاتھا۔نگاہیں اسی پر مرکوز کیے،اس نے وقت کو مٹھی میں بند کرنے کی آرزؤ میں اپنی بائیں ہتھیلی سختی سےبھینچ لی۔
بھلا وقت کہاں کسی کی قید برداشت کرتا ہے وہ تو ریت کے ذرات کی طرح ہر قید سے پھسل کر آزاد ہونے کے لئےبےچین رہتا ہے۔عرش کی قربت عجب سی سرشاری بخش رہی تھی۔اس کی خوبصورت باتیں، دلفریب انداز،بدن سے اٹھتی ہوئی بھینی بھینی معطر خوشبو ۔۔۔۔۔وہ اس خوبصورت لڑکی کے جادوئی حسن کا اسیرہوتاچلا گیا۔
زندگی کس موڑ پر کھڑی تھی ریان یہ بات سمجھنے سے بالکل قاصر تھا!!
جب وہ رخصت ہوئی تو ریان ، جواد سے کہنے لگا ۔
“چھوٹے !نکاح زندگی کا سب سے اہم ترین فیصلہ ہوتا ہے اور اس فیصلے کی بنیاد بنا سوچے سمجھےکوئی کیسےرکھ سکتا ہے بھلا؟ کہیں ان بے ربط فیصلوں سے بنیاد کھوکھلی نہ رہ جائے، ان کھوکھلی بنیادوں سے رشتوں کی عمارت کا بوجھ اٹھایا بھی تو نہ جائےگا۔۔۔اس طرح ایک دن یہ ڈھے جائےگی اورزندگی پچھتاوے کا کفن اوڑھے سسکتی رہ جائےگی۔”
“بھائی۔۔۔اتنی طویل تمہید کا حاصل مقصد بھی ظاہر کردیں۔”
“والدین کی پسند اب مجھے خوف کی گہری کھائی میں دھکیلتی محسوس ہورہی ہے۔”
“اوہ۔۔۔۔۔”جواد دھیرے سے ہنسا اورنہایت نرم لہجے میں گویا ہوا۔
“بھائی ! جب کسی کو اختیارات سونپے جاتے ہیں تو پھر ان پر سوال نہیں اٹھاتے۔۔۔۔۔بلکہ اعتماد کیا جاتا ہے۔۔
“خیر۔۔۔۔۔اب بھی وقت ہے اپنی ضد چھوڑ دیں اور بھابھی کو ایک نظر دیکھ لیں۔۔۔۔تاکہ آپ کے دل کی یہ خلش اور وسوسے جووجود کے کسی حصے میں اپنی جڑیں پھیلا رکھے ہیں وہ مزید نہ پھیل پائیں۔مجھے خدشہ ہے ان اندیشوں کے زیر اثر آگے چل کر کہیں آپ کی ازداوجی زندگی متاثر نہ ہوجائے ۔ ”
جواب میں ریان کرب سے مسکرادیا۔
“میں آج آپ کو مظہر چاچا کے گھر لے چلتا ہوں۔۔۔۔۔بھابھی کو دیکھ لینا۔۔۔ آپ سرپرائز ہوں گے۔۔۔۔وہ کائنات کی سب سے حسین لڑکی کوئی اور نہیں۔۔۔۔۔۔ بلکہ میری بھابھی ہیں۔۔۔”جواد معنی خیز انداز میں ہنسا”ریان جلتی ہوئی ماچس کی تیلی سے سگریٹ کوروشن کیا اور ایک طویل کش کھینچا۔”
“یوں دلیلوں سے مجھے قائل نہیں کرسکتے۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔
امی نے ہلدی کی رسم کے مطابق ایک بڑی سی تقریب منعقد کی تھی ،جس میں خاندان بھر کی خواتین اور لڑکیوں نےزرد رنگ کا لباس زیب تن کر رکھا تھا۔۔شادی وہ واحد زخم ہے جس میں ہلدی پہلے لگائی جاتی ہے!!ریان نے سوچا۔
۔۔۔۔۔ ۔
کل اس کا عقد تھا۔لیکن دل کسی اور کے لئے مضطرب تھا!!
ریان اندر ہی اندر کافی مغموم ہوا۔
“میں یہ شادی نہیں کرسکتا !!”وہ بستر پر لیٹابےچینی سے کروٹیں بدلتا ہوا دل کے ہاتھوں مجبور ،بڑبڑایا ۔
رات اداسی کی چادر تلے بھیگتی رہی۔جب شب کی تاریکی گہری ہوگئی اور اس کی آنکھوں سےنیند کے فاصلے کم نہ ہوئے تو وہ سر تھام کرکروٹیں بدلنے لگا۔یہاں تک کے صبح صادق کا اجالا کھڑکیوں سے جھانکتا ہوا کمرے کو اجالے کی بانہوں میں بھرلیا تووہ بستر سے اٹھ گیا۔ طبعیت بہت بوجھل سی محسوس ہورہی تھی۔بدن بھی درد سے ٹوٹ رہا تھا۔ جب حالات دل کا سکون چھین کر زخم کی سوغات نواز یں تب دماغ کے بجائے زخمی دل کی سن لینا چاہئے۔۔۔اس طرح شاید ہم دل کو راہٍ نجات دلانے میں کامیاب ہوسکیں۔
“میں یہ شادی نہیں کرسکتا !!!”
اس نے حتمی فیصلہ کیا اور الماری سے پاسپورٹ تلاش کرنے لگا۔کچھ ہی دیر میں وہ ائیرپورٹ ،ایمرجنسی ٹکٹ کے لئے کوشش کررہاتھا۔شایدتقدیر کو یہی منظور تھا۔ وہ حالات سے فرار حاصل کیےپردیس لوٹ آیا !!
چارگھنٹوں کی مسافت کے بعد وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر گرسا گیا۔جسم کی ساری توانائی سلب ہوچکی تھی۔۔۔۔فون چارجینگ پر لگایا۔۔۔۔۔جوادکا میسج تھا۔
“بھائی! اپنے شوق کی طویل عمری کے لئے کسی کی سانسیں تنگ نہیں کرتے !!” آپ نےاخلاقی قدروں کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔”
” آپ کو لڑکی پسند نہیں تھی تو ایک مرتبہ امی اور ابو سے کہہ دیا ہوتا !!”
“خیر۔۔۔۔۔جو کام آپ ادھورا چھوڑ گئے۔ ابو نے اسے میرے ذریعے انجام تک پہنچایا ہے۔
کمسن عمر ہونے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ قربانی کا بکرا بنادیا گیا ہوں۔”
رونے کی ایموجی کے ساتھ کھل کر ہنستا ہوا ایموجی بھی تھا۔
” عرشیہ پروین میری منکوحہ ہے !!!”
ساتھ میں تصویر بھی تھی۔
عرش کے ساتھ جواد کھڑا تھا۔
زندگی اس طرح بھی آزماتی ہے۔۔۔؟؟؟
وہ پوری جان سے لرز اٹھا۔
واہ رے قدرت !!
انسان کی سوچ کی حدیں جہاں ختم ہوتیں۔۔۔۔۔وہاں ، رب کا نقطہء آغاز ہوتا ہے!!
ریان کے ماتھے پرروشن تقدیر لکھ کر مٹادی گئی تھی اور دامن بھردیا گیا،شکستہ آرزؤ سے!!
اس نےمحبتوں کی عروج سے زوالِ عشق پایا تھا !!
زندگی میں کبھی کبھی زخم اتنے گہرے ہو جاتے ہیں کہ زندگی ختم ہوجاتی ہےلیکن زخم نہیں بھرتے یا پھر یہ ناسور کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔
ریان کے زخم بھی ناسور کی شکل اختیار کرگئے وہ تا عمر صحرا نشین ہوگیا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے