سر ورق / تنہائیاں ۔۔۔ عاکف محمود.چکوال ۔پاکستان

تنہائیاں ۔۔۔ عاکف محمود.چکوال ۔پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر76

تنہائیاں

عاکف محمود.چکوال ۔پاکستان

یہ بات کسی قدر عجیب تھی کہ جوشوا کی اپنی گرل فرینڈ اور منگیتر کو دی گئی دعوت‛ کس قدر جلد قبول کر لی گئی تھی ۔وہ کیبن پر جا رہے تھے ۔پہاڑ کی اونچائیوں کے بیچوں بیچ ایک آرام دہ کیبن میں اختتام ہفتہ کی چھٹیاں گذارنا ایک خوش کن تصور تھا ۔ باہر فضا میں برف گھل رہی تھی ۔ ٹھنڈی ٹھار ہوا ،فضا مجموعی طور پر نیم تاریک ۔
جوشوا نے اسے کام کے دوران فون کیا تھا ۔ویک اینڈ سے کچھ دیر پہلے ‛ ہمیشہ کی طرح اس نے بے تابی سے اس کا فون وصول کیا ۔ ایسے میں ‛ جب آپ ایک دوسرے سے چار سال سے مل رہے ہوں ۔ فون اٹھانے میں دیر کون لگائے گا ؟ وہ بھی اس وقت جب جمعہ کے دن اختتام ہفتہ کی تیاری ہو ۔ وہ اختتام ہفتہ پر اس کے فلیٹ کے نیچے رکا ۔ اسے اٹھایا اور پہاڑوں کی سمت طویل سفر کا کا آغاز کر دیا ۔ ٹھنڈی ہوا کی چلت تیز ہو گئی تھی ۔ بل دار راستے پر تیز رفتار ڈرائیو‛ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ دونوں ستاروں کے ساتھ محو سفر ہیں ۔ آخر کار کیبن تک پہنچ کر دونوں گاڑی سے اترے ۔اور تیزی سے کیبن میں جا گھسے ، شیبا نےجلدی جلدی تمام لائیٹس آن کرنے کے بعد انگیٹھی میں ترنت آگ دہکا دی ۔ اس اثنا میں جوشوا گاڑی سے سامان نکال کر گھر کے اندر لے آیا اور کچھ سامان وہ بیڈ روم میں بھی لے گیا ۔کیبن چھوٹا تھا کل تین کمرے کچن ہال وے اور لونگ روم اوپن ایریا تھا کچن چھوٹا سا تھا ۔ لیکن اس میں ان کے پاس ضرورت کا ہر برتن موجود تھا ۔ کافی پاٹ ، لکڑی کا سٹوو اورمائکرو ویو اوون سب موجود تھا ۔ ایک چھوٹا ریفریجریٹر بھی تھا جسے حال ہی میں بئیر ، وائن اور مختلف شرابوں سے بھرا گیا تھا ۔ جب وہ آخری بار شیبا کی سال گرہ پر یہاں آئے تھے ۔ یہ کیبن کافی استعمال شدہ تھا ۔ یہ ان دونوں کے لئے سخت حقائق سے فرار اور تحفظ کا نیم گرم گوشہ تھا ، ایک جائے پناہ !
تمام سامان کے کھلنے پر سینڈوچز بنا لیے گئے ۔دونوں اپنے پیار کے گھونسلے یعنی کاوچ میں آن دبکے ۔یخ ٹھنڈی بئیرز ہاتھوں میں لیے ۔
کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ ہم دونوں یہاں آ رہیں ؟ ہمیں کم کام کرنا پڑے گا ۔میں کہتی ہوں کہ یہ جگہ تمہارے والدین نے بہت پہلے لی تھی ۔ (کھللکھلا کر ہنستے ہوئے )ممکن ہے پتھر کے زمانے میں اور مجھے یہ جگہ بہت مرغوب ہے ”
شیبا چٹکلہ چھوڑنے کے بعد اپنی بوتل کی طرف متوجہ ہو گئی ۔اس نے آہستگی سے اس کا سر اپنی نرم ہتھیلی سے دبایا ۔اپنی روشن سبز آنکھیں جھپکائیں ۔اور بوتل کے پار جوشوا کے تراشیدہ چہرے کی سمت دیکھا ۔
وہ بھی کھلکھلا کر ہنس دیا جس سے اس کے چہرے کی ساخت درھم برہم ہو گئی ۔ جو اس نے اپنے کیبن میں آنے سے اب تک سنبھال رکھی تھی ۔
” ایسا ہو سکتا ہے ۔ سارا دن تمہارے ساتھ بتانے کا تصور بہت حسین ہے ۔وہ اپنی آواز کی پوری گہرائی کے ساتھ بولا “سرخی مائل بالوں کے ساتھ تراشیدہ خط و خال والا، جوشوا جسمانی طور پر توانا اور گھٹا ہوا‛ سیدھا آنکھوں میں اتر رہا تھا ۔ شیبا نے اپنی بوتل احتیاط سے میز پر رکھ دی ۔ اور جوشوا پر رینگ گئی ۔ جوشوا نے کوشش کی کہ وہ بروقت اپنی بوتل میز پر رکھ سکے مگر ایسا ممکن نہ تھا ۔ اس نے شیبا کی کمر کو نرمی سے پکڑا شیبا اس پر چڑھ بیٹھی تھی ۔ اس نے سختی سے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر جما لیے اور ایک جذبات سے بھرپور بوسے سے نوازا ۔وہ اس کے تلے دبا بےحس و حرکت تھا اور جوابا ً اب اسے نرمی سے چوم رہا تھا کہ اچانک ہی دروازے پر بلند دستک ہوئی ۔ اس کے ساتھ ہی کیبن کے اندر کی روشنیاں جھٹپٹائیں ۔ دونوں نے خوف زدہ نظروں سے کیبن کی چھت کی سمت دیکھا ۔ دستک ڈرا دینے والی تھی ۔ وہ اس جگہ پر اکیلے تھے دور و نزدیک کسی اور انسان کا مسکن نہ تھا ۔
جوشوا نے شیبا کی طرف دیکھا جو ہنوز اس پر سوار تھی ۔ ” یہ کیا تھا ؟”وہ منمنائی ۔
جوشوا نے اسے نرمی سے خود سے الگ کیا ۔ اور کندھے اچکا دئیے ۔اس نے جلدی سے اپنی نیام باندھی اور شکاری خنجر اس میں گھسیڑ لیا ۔ ہال کمرے میں شیبا اس کے ساتھ کھڑی دکھائی دی جو ہال وے سے ہوتا ہوا دروازے تک جانے کا راستہ تھا ۔ اس نے اسے خاموش رہنے اور واپس بیڈ روم میں جانے کو کہا ۔ کیبن میں ایک بار پھر بجلی کا تیز جھماکا ہوا ۔ دونوں نے خوفزدہ نظر سے کیبن کی چھت کی سمت دیکھا ۔ شیبا نے واپس جانے سے انکار کر دیا ۔
فضا کی نا خوشگواری میں اضافہ ہو رہا تھا ۔ ہوا کا شور عجیب تھا ۔ جب تیز ہوا ہزاروں درختوں میں سے بل کھاتی کیبن کے کھلے فرنٹ پر آ چنگھاڑتی تو عجیب منحوس شور برپا ہوتا ۔ دروازے پر ایک بار پھر زوردار دستک گونجی جس نے دونوں کو دہلا کر رکھ دیا تھا ۔ دستک کے بعد ایک دم سے خامشی چھا گئی تھی ایسی کہ جیسے پوری دنیا خاموش ہو گئی ہو ۔ حتٰی کہ درختوں کے عقب میں بہہ رہی آبشار کی آواز بھی سنائی نہ دیتی تھی کہ دفعتا ً دروازے زور زور سےدھڑ دھڑایا گیا اتنے زور سے کہ اس کے قبضوں تک سے آوازیں آنے لگی تھیں ۔ جوشوا آگے بڑھا اور اس نے ایک ہاتھ خنجر کے دستے پر اچھی طرح سے جمایا اور بائیں ہاتھ سے دروازے کا ہینڈل آہستگی سے گھما دیا ۔ لیکن باہر کا منظر دیکھ کر وہ حیران رہ گیا تیز رفتار برف دروازہ کھلتے ہی اس پر حملہ آور ہوئی۔ ہال کی فضا یک دم ٹھنڈی ہو گئی تھی ۔ برف کے گالے تیز ہوا کے ساتھ اندر آ گھسے تھے اور اب فرش پر گر کر پگھل رہےتھے ۔سامنے سردی کی شدت سے زرد ہوتا ایک مرد کھڑا تھا جس کے کوٹ (پارکا)پر بہت برف گر چکی تھی ۔ وہ یوں کانپ رہا تھا کہ جیسے بہ مشکل کھڑا ہو ۔
“ک ککیا کیامیں اندر آ کر خود کو گرم کر سکتا ہوں ؟ مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میری ٹانگیں مزید میرا بوجھ نہ اٹھا سکیں گی ۔ میں اوپر پہاڑ پر جا رہا تھا کہ مجھے طوفان نے آن لیا “بات کرتے ہوئے اس کے دانت شدت سے کٹکٹا رہے تھے ۔ اس کا لہجہ نرم اور مہذب تھا ۔ جوشوا نے ہاتھ بڑھا کر اسے اندر کھینچ لیا ۔ اور ہال وے تک ساتھ لے آیا ۔
” بیڈ روم سے کچھ کمبل اور کچن سے تازہ بنی ہوئی کافی لے آو شیبا !امید کرتا ہوں ابھی ٹھنڈی نہ ہوئی ہو گی ، ہمیں گرم بھی کرنا پڑی تواسے آگ پر گرم کر لیں گے ۔ شیبا جلدی سے بیڈروم کے اندر دوڑی اور ساری الماریاں کھول کر کمبل نکال لائی کچھ ہی دیر میں وہ دخانی کافی کا کپ بھی لے آئی جو ابھی تک بھاپ دے رہا تھا ۔ جو اس نے نووارد کے ہاتھ میں پکڑایا ۔ جس نے انگلیوں کے ذریعہ گرمی اپنے جسم میں منتقل ہوتی محسوس کی تو ایک جھر جھری لی ، لڑکی دبلی پتلی اور خوش بدن تھی ۔لمبے، سرخ بالوں والے جوان آدمی نے (پارکا )اتارنے میں اس کی مدد کی جو کپکپاتے ہاتھوں کے باعث اس کے لیے اتارنا ممکن نہ تھا آدمی کا جیکٹ اتار کر جو شوا نے اسے کاوچ پر لابٹھایا ۔
“تمہارا نام کیا ہے ؟”
وہ کوئی لمبا تڑنگا آدمی نہ تھا ، عمر بارے جوشوا کا اندازہ تھا کہ ان کی عمروں میں زیادہ فرق نہیں ۔
“میرا نام جیسن ہے ، جیسن خولوشوف میں ایک ماہر نباتات ہوں اور اس موسم سرما میں اوپر اگنےوالی نباتات پر تحقیق کر رہا ہوں ۔ میں آج بھی کچھ ہائیکنگ اور اسی کام سے آیا تھا کہ مجھے طوفان نے آ لیا ۔”
کافی کی کچھ مقدار اندر جانے کے بعد اس کی ناک بے طرح سرخ ہو رہی تھی ۔بالکل برف سے جل جانے والی کیفئیت جیسی۔
“آپ لوگوں کا تعارف ؟”
“میں جوشوا کارٹر ہوں ، اور یہ میری منگیتر شیبا موہر ۔”
جیسن دنوں کو بار بار ایک نظر دیکھتے ہوئے صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
“میں مداخلت کی معذرت چاہتا ہوں “دراصل مجھے اپنی ٹانگیں جسم کا ساتھ دیتی محسوس نہیں ہو رہیں تھیں۔
جیسن نے بالآخر تناو بھری خاموشی کو کا خاتمہ یہ کہتے ہوئے کیا ” کہ مجھے اشارہ کرنا پسند نہیں لیکن شیبا آپ کی ناک ہڈی کی اونچائی والی جگہ سے بے طرح سرخ ہو رہی ہے ۔ اور ایکدم سے سوجی ہوئی اور زخمی لگنے لگی ہے ۔جما ہوا سرخی مائل مادہ اس کی ناک سے ٹپک رہا تھا ۔شیبا نے مڑ کر خود کو آئینے میں دیکھا اور تاریک کچن کی طرف ناک کی صفائی کے لیے سامان کے لیے لپکی ۔
” اسے چھوڑو ! ہم تمہاری بات کر رہے تھے ” جوشوا بولا ۔ شیبا نے اپنا سر پیچھے کو جھکایا اور ناک کی چوٹی کو چٹکی میں پکڑ لیا تا کہ خون کو روکا جا سکے ۔ لیکن اس سے یہ ہوا کہ خون کا بہاو ناک سے اندرونی نتھنوں سے ہوتا گلے کو تر اور نمکین کر گیا ۔
“اچھا ! (کچھ ہکلاتے ہوئے ) کیا میں آج کی رات یہاں گذار سکتا ہوں ۔ رات کے اندھیرے میں ، میں نیچے کا راستہ کھو دوں گا ۔ ”
“کیوں نہیں !”
“آج کی رات تم کاوچ پر سو سکتے ہو، صبح ہم خود تمہیں نیچے چھوڑ آئیں گے گاڑی پر ناشتے کے بعد ! کیا تم راضی ہو ؟ ”
شیبا نے یہ سب اپنی ناک کو پکڑے پکڑے کہا تھا ۔ لیکن اس سے یہ ہوا تھا کہ آواز ناک میں سے نکلتی محسوس ہو رہی تھی مگر اس کی ناک میں شدید درد ہو رہا تھا ۔ جیسن نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ اور پھر کمبل کاوچ پر بچھا دئیے گئے اور وہ ان میں دبک گیا ۔ پھر جوڑا اپنے بیڈروم کی طرف چل دیا ۔ وہ سوچ رہے تھے کہ کیسا عجیب مہمان ہے جو اتنی رات گئے آ ٹپکا تھا ۔
رات سکون سے گذر گئی مگر جب صبح ہوئی تو جوڑا ٹھنڈ سے کپکپا رہا تھا ۔ اپنی کمزور ترین سانس کو بھی وہ ہوا میں بھاپ بنتے ہوئے دیکھ سکتے تھے۔ وہ بہت سے کپڑے چڑھائے لونگ روم میں آئے ۔ ان میں سے کوئی نہیں جانتا تھا کہ ناشتہ کیسے بنے گا ؟اتنی بھاری برف باری ہوئی تھی کہ بیرونی دروازہ کھولنا ممکن نہ تھا ۔ مگر پھر بھی ! “وہ کوشش کر سکتے تھے ! “روشن چمک دار برف سے ٹکرا کر پلٹنے والی روشنی کھڑکیوں سے کیبن کے اندر آ رہی تھی ۔جیسن پہلے سے ہی جاگ چکا تھا اور اب کاوچ پر بیٹھا جلدی جلدی ڈائری پر کچھ نوٹس لکھنے میں مصروف تھا ۔ اس نے قدموں کی چاپ پر مڑ کے دیکھا ۔
” صبح بہ خیر کیا آپ دونوں جانے کے لیے تیار ہیں ؟اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔ ”
شیبا نے اپنی گردن کی مالش کی جو بے طرح اکڑ چکی تھی ۔ اس کا سارا جسم درد کر رہا تھا ۔ اور بہت عجیب سے انداز میں چھلا ہوا تھا ۔ حتٰی کہ جب وہ جاگی تو اس کے ناک میں خون سوکھ چکا تھا مگر اب اس کی ناک صاف تھی ، جسے اس نے احتیاط سے صاف کیا تھا ۔ شیبا بہ مشکل چل پا رہی تھی ، حد تو یہ تھی کہ سانس لینا بھی دو بھر تھا ۔
“ممکن ہے تمہیں الٹا ہماری مدد کرنی پڑ جائے ۔ باہر جا کر دیکھو پلیز کہ لینڈ روور سٹارٹ ہوتی ہے یا نہیں ؟ اور پھر برائے کرم رینجرز آفس تک جاو اور انہیں بتاو کہ اوپر ہمیں مدد کی شدید ضرورت ہے ”
جوشوا جس نے سینہ پکڑ رکھا تھا نے دروازے کی دہلیز کے ساتھ ٹیک لگائے گرتے ہوئے کہا ۔جیسن نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔اور اس کے ہاتھ سے چابی پکڑ لی ۔ جو برف کی طرح ٹھنڈی تھی ۔ پہلے اس نے دروازے کو بہ مشکل اتنا ہٹایا کہ اس میں سے باہر نکل سکے پھر بہت مشقت سے اس کے سامنے سے برف ہٹائی ۔ اور پھر گاڑی کے کیبن تک پہنچ کر اس کے اندر رینگ گیا ۔ گاڑی کو سٹارٹ کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ چابی اگنیشن میں گھمانے پر کچھ ایک بار تو انجن غرایا ۔ مگر سٹارٹ نہ ہوا ۔ حتٰی کہ آخری بار تو اگنیشن سے کوئی آواز برآمد نہ ہوئی ۔ وہ ڈرائیور سیٹ سے نکلا ۔ دروازہ کھول کر کیبن کے اندر کا محتاط جائزہ لیا ۔ اور اپنے پیچھے دروازہ سختی سے بند کر دیا ۔ اور پیدل ہی رینجرز آفس کی سمت چل دیا ۔ کئی گھنٹے کی مشقت کے بعد جب وہ دوپہر کے وقت رینجرز آفس کے اندر داخل ہوا تو سیدھا ہیلپ ڈیسک کی طرف چل دیا ۔
“ہیلو ” اس نے نرمی سے کہا ۔ جوابا ً اسے ایک خاموش استقبالیہ نظر کا سامنا تھا ۔
“دیکھیے مجھے آپ کی مدد درکار ہے اوپر کیبن میں ایک جوڑا ہے آدمی کو سانس میں مشکل کے ساتھ سینے میں شدید درد ہے ۔ اور عورت بھی بری طرح زخمی ہے ۔”
اس نے تھکے ہوئے انداز میں کہا ۔ استقبالیہ ڈیسک پر موجود عورت کی سرد مہری پر اسے پہلے ہی غصہ آ رہا تھا ۔
“ایک جوڑا ” یہی کہا تم نے ؟
کیا تم ان کے نام جانتے ہو ؟
ان کے نام جوشوا کارٹر اور شیبا موہر ہیں ۔ وہ سبز رنگ کی روور چلاتے ہیں ۔
اس نے جواب دیا ۔
با لآخر وہ عورت اس کی بات سننے پر آمادہ تھی ۔
یہ احساس خوش کن تھا ۔
“یہ نا ممکن ہے سر! “اس نے کہا اور اپنا چشمہ اتار کر بہ غور اسے دیکھا ۔ ”
” نہیں یہ نہیں ہو سکتا میں نے پچھلی رات ان کے ساتھ ان کے کیبن میں گذاری ہے ۔تمہارا مطلب کیا ہے ؟” یہ نا ممکن ہے ”
سوال کرتے ہوئے اس کی آواز کی پچ اور والیم کچھ بلند ہو گئے تھے ۔ اس کی ہتھیلیوں میں پسینہ آ رہا تھا ۔ وہ ایک بار پھر اپنے جسم میں کپکپی محسوس کر رہا تھا ۔
“سر ہمیں گہرے سبز رنگ کی ایک لینڈ روور ملی ہے جو پہاڑیوں سے گری تھی اور ایک درخت سے ٹکرا کر رک گئی ۔ ڈرائیور جو ایک لمبے قد سرخ بالوں والا نوجوان تھا کہ سینے کے آر پار ایک درخت کی شاخ گذر گئی ۔ جبکہ اس کی ساتھی کی گردن ٹوٹ چکی تھی ۔ مرنے والوں کے نام جوشوا کارٹر اور شیبا موہر ہیں ۔ اور یہ دو دن پہلے کا واقعہ ہے ۔ دونوں کی عمریں 26 برس تھیں ۔”
“وہ دو دن پہلے مرچکے سر ! “

نوٹ : پارکا /گھٹنوں تک لمبا ایک کوٹ جس کی گردن پر فر کی ایک تہہ ہوتی ہے ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے