سر ورق / “لکھاری کی محبوبہ” وجیہہ جاوید 

“لکھاری کی محبوبہ” وجیہہ جاوید 

“لکھاری کی محبوبہ”

وجیہہ جاوید

اس نے آنے میں آج پھر دیر کر دی تھی نہ جانے عاشی کیوں اتنی لاپروا طبیعت کی مالک ہے۔ ریحان کو سخت کوفت ہو رہی تھی ۔اس نے اپنی گھڑی کو دیکھا سوا دو بجے کا ٹائم ہو رہا تھا ۔نومبر کی ٹھنڈی دوپہر اپنے جوبن پر تھی۔سورج سے نیچے اترنے والی کرنیں کمسنی کی جوان بیوہ کی طرح پھیکی اور ٹھنڈی تھیں۔ اس نے اپنے اردگرد ماحول پر نظر دوڑائی۔

سامنے ایک 30 سال کی لڑکی اپنی پانچ سالہ بیٹی کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی اس کی دلچسپی بچی کے ساتھ کھیلنے سے زیادہ موبائل میں اس کی تصویریں اتارنے پر تھی۔بچی ماں کی ان حرکتوں پر شدید بیزار تھی ۔زیادہ لاڈ اور توجہ بھی بچوں کی شخصیت پر نہایت برا اثر ڈالتے ہیں ریحان نے خود کلامی کی تھی ۔

دوسری طرف سامنے ایک شادی شدہ جوڑا بیٹھا تھا ۔وہ گھریلو لڑائیوں کا تذکرہ کرنے میں مصروف تھے شوہر ان مسائل پر اپنی بیوی کو صبر کرنے کی تلقین کر رہا تھا۔ ان کے بچے ان تمام صورتحال سے لاپروا کھیلنے میں مصروف تھے تھے جیسے یہ سب باتیں ان کے معمول کا حصہ ہوں ۔

ریحان سے قدرے فاصلے پر دو ادھیڑ عمر عورتیں اپنی بہو کی چالاکی کے قصے اور ان پر اپنی مظلومیت کے رونے رو رہی تھیں۔

میں آج کس عذاب میں پھنس گیا ہوں

اس نے جھنجھلاتے ہوئے عاشی کا نمبر ڈائل کیا۔تھوڑا سا صبر کر لو ریحان بس دس منٹ میں پہنچ رہی ہوں ۔

پچھلے دو گھنٹوں سے تمہارے دس منٹ پورے نہیں ہور ہےاگر تمہیں آنے میں وقت ہے تو بتا دو میں جا رہا ہوں تم جانتی ہو کہ مجھے انتظار کرنے سے کتنی کوفت ہوتی ہے ۔ریحان نے غصے سے فون بند کردیا ۔

نہ جانے اس لڑکی میں کیا کشش تھی جو اس کی طرف کھچا چلا آتا تھا اس کی اس سے پہلی ملاقات اسی گارڈن میں ہوئی تھی جہاں وہ تنہا کسی خیال میں غرق تھی۔

وہ روز شام کو اس گارڈن میں آتی تھی۔ بہت جلد ہی دونوں میں بےتکلفی کے تمام مرحلات طے ہوگئے۔

وہ اکثر اسے کہتی تھی

ریحان مجھے شدید شوق ہے کہ میں کسی لکھاری کی محبوبہ بنوں۔

وہ اس کی باتیں سن کر ہنستا رہتا تھا۔ کافی عرصے بعد عاشی پر یہ انکشاف ہوا کہ ریحان خود ایک لکھاری ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اس کے آج دس منٹ نہ جانے کب پورے ہوں گے

اس نے بیگ سے اپنا قلم نکالا اور تخیلاتی دنیا میں قدم رکھ لیا

کبھی تم نے ہجر زدہ مکان دیکھے ہیں؟؟ جہاں سے مکینوں کے قہقہے بلند ہو رہے ہوں ۔ مگران قہقہوں میں بے چارگیاں اور مجبوریاں رقص کر رہی ہوں۔ اس کی دیواروں پر یاسیت طاری ہو؟؟چاند کی چاندنی کٹورے بھر بھر کے اس کی چھتوں پر روشنی انڈیل رہی ہو مگر اس کے درودیوار پر ہْو کا عالم ہو۔اندر موجود ہر انسان اپنی پہچان مٹانے کے در پر ہو۔یا کبھی ان لڑکیوں کو جو شارٹ کٹ کے چکر میں اپنے ٹھنڈے ہاتھ کامیاب مردوں کو تھما دیتی ہیں اور وہ حرصی مرد لڑکیوں کو اپنے پیراےُ میں ڈھالنے کے لیے ان کے سرد ہاتھوں کو اپنی ہوس کی گرمی سے تاپ لیتے ہیں ۔ لڑکیاں اس خوش فہمی کا شکار ہو جاتی ہیں کہ یہ بے لذت لمس خواہشات کی ادھوری کتابیں مکمل کرنے میں ان کی مدد کریں گے ۔مگر حقیقت میں یہ تمام کھیل کسی کے ادھورے خوابوں اور خواہشات کی تکمیل کے لئے نہیں بلکہ نفس کی تسکین کے لئے کھیلا جاتا ہے اور جب تک لڑکیوں کو ان باتوں کا ادراک ہوتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

لڑکوں کی آنکھوں سے معصومیت کی مے کے آخری قطرے تک نچوڑ لینے والی عورتیں بعد میں انہیں کی بدکرداری کے ڈھنڈورے پیٹتے ہوئے نظر آتے ہیں .

اس کا قلم تیزی سے حرکت کرتا ہوا معاشرے کے جھوٹے کرداروں کو بے لباس کر رہا تھا

عاشی کی آواز نے اس تخیلاتی دنیا سے اس کا رابطہ منقطع کردیا ۔

ریحان

ریحان !!ریحان نے ایک گہری نگاہ اس پر ڈالی۔ اس کے آنچل کی نازک شکنیں اور کاجل کی لکیریں ہر بار اس کو سحر میں جکڑ لیتی تھیں ۔

تمہیں کتنی بار کہا ہے مجھے ایسے مت دیکھا کرو ۔

کیسے مت دیکھا کروں؟ ؟

ریحان نے شرارت سے کہا تھا

جیسے ابھی دیکھ رہے ہو

عاشی نے جھنجھلاتے ہوئے کہا

اور اب کیسے دیکھ رہا ہوں؟؟

ایسے جیسے تمہاری نگاہیں میرے جسم کے اندر اتر کر میری رگوں میں بہتے ہوئے خون میں سرایت کر گئی ہیں ۔لہو کے ساتھ میرے دل کی دھڑکنوں تک رسائی حاصل کرکے ان کی شدتوں کو بڑھا رہی ہے۔

ریحان اس کی بات سن کر دھیمے سے مسکرا دیا۔

تمہیں ایک بات بتاؤں عاشی میں تو تمہارے اندر موجود بھٹکی ہوئی آشاوُں اور بکھرے سپنوں کا گرویدہ ہو ں۔

اچھا تم اب پھر سے مت شروع ہو جانا مجھے تمہاری کتابی باتیں بالکل سمجھ نہیں آتی ۔

یہ باتیں کتابی نہیں مشاہداتی ہیں چلو چھوڑو ان باتوں کو تم میری ایک بات کا جواب دو

ہاں بولو

(ریحان نے عاشی کے ٹھنڈے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما تھا )

تمہیں کیا لگتا ہے میری نظر تمہارے جسم پر ہے ؟؟

میں نے تم سے ایسا کچھ نہیں کہا تم ایسے کیوں پوچھ رہے ہو عاشی خفگی سے پوچھتی ہے ۔

میں نے کب کہا کہ تم ایسا کچھ کہہ رہی ہوں میں تو بس ایک سوال پوچھا تھا ۔

اس سوال کا جواب ہے میرے پاس، تمہاری نظر میرے جسم نہیں روح پر ہے۔

ہاں میں یہ بات مانتا ہوں کے ایسا ہی ہے

پھر تو تم یہ بھی جانتے ہوگے کہ عورت صرف من چاہے مرد کو ہی اس تک رسائی دیتی ہے ۔

خوش قسمتی سے مجھے اس بات کا علم بھی ہے کہ میں ہی وہ من چاہا مرد ہو

اب کے عاشی اپنے ہاتھ چھڑواتے ہوئے مسکرائی تھی

اب میں تم سے ایک سوال پوچھوں؟؟

ہاں بولو میری جان

تم لکھاری حضرات جنسی طور پر اتنے متحرک کیوں ہوتے ہو ؟؟

میری کسی حرکت سے تمہیں کبھی ایسا کچھ لگا ؟؟

تم نے کبھی ایسی کوئی حرکت نہیں کی ،مگر تمہاری آنکھیں چیخ چیخ کر اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ میرا وجود تم میں اشتعال پیدا کرتا ہے ۔

اس میں لکھاری ہونے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ہر انسان کی اپنی کیمسٹری ہوتی ہے ۔ہاں مگر میں یہ بات مانتا ہوں کہ جیسا تمہیں میرے بارے میں محسوس ہوا ویسا ہی ہے،مگر میں کبھی اپنی حدود سے باہر نہیں نکلا ہوں۔

ہاں یہ بات درست ہے اسی لیے تو تم مجھے خاص لگتے ہو۔ عام مردو ں سے بالکل مختلف مردجو اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے کے ہنر سے واقف ہے۔

اچھا آج میں نے تم سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔

تم اس تعلق کا کیا انجام دیکھتے ہو ؟؟؟

ریحان حیرت سے عاشی کو دیکھتا ہے

تم کس طرح کا انجام چاہتی ہو؟؟؟

میں تو محض تمہارا ساتھ چاہتی ہوں ۔

لیکن میں تو تمہارے ساتھ ہوں ۔

میں شریک حیات کی طرح تمہاری زندگی میں شامل ہوکر تمہارے سکھ دکھ کی ساتھی بننا چاہتی ہوں ۔

مگر عاشی میری جان ،اس کے لیے شریک حیات ہونا ضروری نہیں ذہنی ہم آہنگی کا ہونا ضروری ہے .بہت سے کھوکھلے رشتوں میں منسلک لوگ تاحیات بھی ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی بن ہی نہیں پاتے ہیں ۔

اس قسم کا کوئی بھی تعلق میرے لیے ایک سراب ہے ۔جب تک ہم دونوں کے درمیان وہم برقرار رہے گا یہ تعلق ہم دونوں کے لیے راحت کا سبب بنے گا ۔جیسے ہی تمہیں اس بات کا یقین ہوا کہ میں تمہیں شدت سے چاہتا ہوں یا مجھ پر یہ انکشاف ہوگیا تم مجھ پر دل ہار بیٹھی ہوں اس دن سب کچھ ختم ہو جائے گا اور میں سب کچھ ختم نہیں کرنا چاہتا۔میں اس تعلق کو کسی قسم کی رشتہ داری میں بدلنا نہیں چاہتا۔میں نہیں چاہتا کہ اس تعلق کی لذت ختم ہو جائے ۔

اگر تمہارا یہی فیصلہ ہے تو پھر میں ایسے رشتے سے انکاری ہوں جسے ہمارا مذہب اور معاشرہ ہی تسلیم نہ کرتا ۔

تم ایک لکھاری کی محبوبہ ہو۔ لکھاری کبھی اپنے محبوب کو تعلق کو ختم کرنے دیتا ہی نہیں ہے۔ تمہیں اس بات پر ذرا بھی شک ہے تو تم آزما کر دیکھ لو ۔

ریحان تم جانتے ہو میں ناممکنات کی آخری حد پار کر چکی ہوں ۔تمہارا سحر مجھ پر پوری شدت کے ساتھ طاری ہے مگر یہ بھی ایک سچ ہے کے میرے گھر کے دروازے پر اب اجنبی لوگوں کی دستکیں سنائی دیتی ہیں۔ میں اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کے دروازوں کے پیچھے کھڑی رہتی ہوں ۔خود کو سمجھاتی رہتی ہوں کہ یہ لمحاتی عذاب ٹل جائے گا مگر حقیقت سے منہ موڑنے سے وہ بدل تھوڑی جاتی ہے۔ میرے گھر والے کسی دن میرا ہاتھ خوابوں کے کسی شہزادے کے ہاتھ میں تھما دیں گے ۔

تم کس کو خوابوں کا شہزادہ کہہ رہی ہو ؟؟؟

عاشی :وہی اجنبی مرد جو میرے گھر والوں کو بھا جائے گا اور ان کے خوابوں کا شہزادہ ہوگا۔

ریحان مایوسی سے کہتا ہے

اور تم کیا نکاح کے وقت اس کا نام اپنے نام سے جوڑ کر قبول ہے کہنے کا حوصلہ اکٹھا کر پاؤگی ؟؟؟

اگر تم مجھے کھو دینے کا حوصلہ ہے تم میں بھی خود کو اتنا مضبوط کرنے کا حوصلہ رکھتی ہو ں۔

مطلب تم نے مجھے چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے؟؟

فیصلہ میں نے نہیں تم نے کیا ہے میں تو اس فیصلے پر سر جھکا رہی ہو ں

مطلب اب سارا الزام مجھ پر ڈال کر جا رہی ہو

تم جو مرضی سمجھ لو ۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ انگلیوں کی پوروں پر سالوں کا حساب کر رہی تھی ۔ہفتے کب مہینوں سے سالوں میں ڈھل گئے تھے۔ صدیوں پر محیط ہر رات اس نے کتنی تڑپ کر گزاری تھی اس بات کو سمجھنا کسی عام انسان کے بس کی بات ہی نہ تھی ،اس نے صرف اسی بات کی تو سزا پائی تھی کہ ایک لکھاری کو دل دے بیٹھی تھی۔ٹی وی پر ریحان کا انٹرویو چل رہا تھا .

آپ نے جس لڑکی کے حسن اور اس سے وصال کی خواہش پر اتنا کچھ لکھ دیا ہے آخر وہ لڑکی ہے کون ؟؟آپ کو پڑھنے والوں کی اس بات کو جاننے میں شدید دلچسپی ہے ۔

وہ لکھاری کی محبوبہ ہے ۔لکھاری اپنی محبوبہ کے معاملے میں بڑے حساس ہوتے ہیں۔ میں چاہ کر بھی آپ کو اس کے متعلق کچھ نہیں بتا سکتا ۔

لکھاری کی محبوبہ !!

عاشی آج نہ جانے کتنے سالوں بعد پھر سے پھوٹ کر روئی تھی ۔

لکھاری کی محبوبہ کے حصوں میں ایسے ہی بدنصیبی اور حجر آتے ہیں ۔ان کی محبوباؤں کی جستجو کرنے والوں کی کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے، مگر وہ خود اس لکھاری کے ساتھ ،موجودگی ،آواز اور لمس تک کو ترس جاتی ہیں ۔کسی لکھاری کا ساتھ کتنا بڑا نشہ ہوتا ہے اسے اس بات کا اندازہ ریحان کو چھوڑتے ہوئے نہیں ہوا تھا ۔اس زہریلے نشہ کا نہ ملنا شخصیت کی عمارت کو کیسے منہدم کرنے لگ جاتا ہے ۔خدا کبھی کسی دشمن کو بھی ایسے عذاب میں مبتلا نہ کرے۔

وہ لکھاری تھا سچ ہی تو کہتا تھا کہ لکھاری کبھی محبوبہ کو تعلق توڑنے نہیں دیتے ہیں ۔مگر وہ شاید اس بات سے آج تک لاعلم ہی رہا تھا کے اس کی محبوبہ بھی کسی اجنبی کا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑنے کا حوصلہ کر ہی نہ پائی تھی ۔اس کے ساتھ گزارے گئے حسین لمحوں کی یادیں اور ہجر کی لذتیں اس محبت کی سزا اور جزا تھیں، جو ان دونوں کے حصوں میں آئی تھیں ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے