سر ورق /   ” شہ رگ “  محمد فیاض ماہی

  ” شہ رگ “  محمد فیاض ماہی

                                ” شہ رگ “

 محمد فیاض ماہی

                ہر روز کی طرح مولوی کریم بخش نے اذان فجر دینا شروع کی لیکن مسجد اور وادی میں ہر شخص یہ جانتا تھا کہ آج مولوی کریم کی اذان پہلے دی گئی سبھی اذانوں سے مختلف تھی ان کی آواز میں سوز اور جو دردتھا وہ گلے سے نکل کر مسجد کے سپیکر وں سے ہوتا ہوا پورے گاﺅں کے مکینوں کو سوگوار کر رہا تھا اذان کی آواز پر ہر مسلمان اللہ اکبر کہتا ہو ا اپنے بستر سے اٹھ پڑا تھا لیکن آنکھوں میں آنے والے آنسو ہر کسی کا بھید کھولنے کے لئے امڈ امڈ کر پلکوں کی حدود کو توڑ کر باہر چھلک رہے تھے لوگ جوک در جوک مسجد کی جانب رواں ہونے کی بجائے مولوی کریم کے گھر کے باہر جمع ہو رہے تھے مولوی کریم کے گھر کے اندر سے کبھی کبھی رونے کی کوئی آواز آ جاتی تو کچھ عورتوں کے دلاسے اور پرسے کی آوازیں بھی ان میں شامل ہو جاتی تھیں ۔ نماز فجر کے بعد سبھی ایک ایک کر کے مولوی کریم سے مل رہے تھے ان کی آنکھوں میں ایک پر سکون مگر پر سوز اطمینان تھا وہ ہر کسی کو گلے لگا کر ایک ہی با ت کہتے ” میرے اللہ کا شکر ہے کہ اس نے میرے بیٹے کو شہادت کے لئے چنا ہے ، “ وادی کے لوگ ان کے حوصلے کی داد بھی دے رہے تھے اور ان کی دل جوئی بھی کر رہے تھے ۔

                موسیٰ کا جسد خاکی ایک ایمبولینس میں بڑی شان سے پڑا ہوا گاﺅں کی حدود میں داخل ہوا تو نوجوانوں کا ایک لشکر اپنے پورے جوش اور ولولے کے ساتھ اپنے دوست اور عظیم ہیرو کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ایمبو لینس کے ساتھ ساتھ بھاگنے لگا اپنے تئیں لوگوں کو خوفزدہ کرنے والے ایمبولینس کے ہوٹر ہرایک کے دل میں ایک نئی امنگ پیدا کرنے لگے تھے عورتوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر مولوی کریم کے گھر سے باہر نکل کر ایمبولینس کے راستوں پر کھڑا ہونے لگا تھا ان کے ہاتھوں میں گلاب کے پھولوں کی پتیاں پکڑی ہوئی تھیں جو وہ اس گاﺅں کے عظیم سپوت موسٰی کی میت پر نچھاور کرنے کے لئے کل شام سے ہی منگوالی گئی تھیں ۔ مولوی کریم کی اہلیہ اپنے جوان بےٹے کی میت کو دیکھنے کے لئے ہجوم کو چیرتی ہوئی آ گے بڑھیں اور ایمبولینس کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئیں تھیں گویا کہ وہ اپنے جوان بیٹے کے استقبال کے لئے کب سے بے چین دھڑکنوں کو قابو میں کئے ہوئے تھیں جیسے ہی ایمبو لینس سے موسٰی کا جسد خاکی ایک سٹریچر پر لٹا کر نکالا گیا تو پھر سبھی ضبط کے بندھن جوا ب دے گئے صبح نور کے وقت فضا ایک محسور کن خوشبو سے مہکنے لگی تھی اس گاﺅں کی ہلکی ہلکی اڑنے والی مٹی بھی آج با ادب ہو کر ایک طرف کھڑی اس شہید کے جسم کو دیکھ رہی تھی جس پر ظالموں نے ظلم و تشدد کی انتہا کرتے ہوئے اپنی اوقات دکھائی تھی لیکن کشمیر کی اس عظیم دھرتی کے سپوت کو ایک انچ بھی اس کی جگہ سے نہ ہلا سکے تھے اور نہ ہی اس کے منہ میں اپنی گندی زبان کے گندے الفاظ ڈال سکے تھے موسیٰ کی زبان پر ایک ہی لفظ تھا ” پاکستان زندہ باد ۔۔ کشمیر بنے گا پاکستان ۔ پاکستان زندہ باد “ اپنی پوری کوششوں کے باوجودبھی ہندوستانی فوج اس مرد مجاہد سے کچھ نہ اگلوا سکی تھی کیونکہ وہ پکا سچا کشمیری تھا جو مقبوضہ کشمیر کی وادی کا ہونہار سپوت تھا اس کے دل و دماغ میں ایک ہی بات بیٹھ گئی تھی کہ کشمیر ایک جنت ہے اور اس جنت پر صرف اور صرف مسلمانوں اور کشمیریوں کا حق ہے وہ اپنے حق کی خاطر ہندوستان کی سات لاکھ ظالم فوج سے ٹکرا گیا تھا اپنے وطن کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دینے والا یہ پہلا سپوت نہ تھا بلکہ بہت سے نوجوان شہادت کے اعلٰی ترین رتبہ پر فائز ہو چکے تھے انہی شہیدوں میں سے ایک موسٰی بھی تھا جس کا باپ مسجد کا ایک مو ¾ذن اور پرہیز گار نمازی انسان تھا پورے گاﺅں میں ان کی شرافت کی مثال دی جاتی تھی ایک بوڑھی ماں اور ایک جوان بہن پر مشتمل یہ خاندان اپنے گھر اور وادی میں ہر روز ہونے والے ہندوستانی افواج کے ظلم وستم کی داستانوں پر کڑھتے رہتے تھے لیکن ایک ایسی لہر جس نے موسٰی کے پورے بدن میں خون کی جگہ پارہ بھر دیا تھا وہ اپنے جسم پر پاکستانی پرچم سجائے بڑی شان سے سٹریچر پر لیٹا ہوا تھا اس کے ہونٹوں پر سجی ہوئی مسکان اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ وہ اپنے مشن کی کامیابی پر اللہ کے حضور مطمئن ہو کر جا رہا ہے ، اس نے جس کام کا بیڑہ اپنے سر لیا تھا وہ اپنے کام میں بخوبی نہ صرف سرخرو ہوا ہے بلکہ اللہ کی رضا پر راضی و خوشی اپنی جان بھی جان آفرین کے سپرد کرتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر پر سکون مسکراہٹ سجی ہوئی تھی ،

ماں نے اپنے لال کی میت کو دیکھ کر چپ سادھنے کی بجائے اللہ کے حضور خود کو گرا لیا تھا گاﺅں کی عورتیں ان کو سنبھالا دینے کے لئے کندھوں اور بازﺅں سے پکڑپکڑ کر مبارکبادیں دینے والے انداز میں اللہ کے حضور اپنے آنسوﺅں کا نذرانہ پیش کر رہی تھیں بہن کو اس کی سکھیاں مبارکبادیں دے رہی تھیں کہ وہ اب ایک شہید کی بہن ہے اور اللہ اس گھرانے سے بہت خوش ہے کہ اس نے اس گھرکے ایک جوان کو وطن کی حرمت اور عزت پر قربان ہونے کے لئے چنا تھا ۔ موسٰی کی تدفین کے وقت پورے ملک کا الیکٹرانک میڈیا اس شہادت کو کوریج دے رہا تھا احترام اور عزت کے ساتھ موسٰی کی تدفین پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر کی گئی تھی اس کو اس اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کرنے پر گاﺅں کے نوجوانوں نے فوجی انداز میں سلامی پیش کی تھی پورے گاﺅں کے نوجوان پاکستان زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرو ں سے اپنے لہو کو گرما رہے تھے پورے گاﺅں کی فضا میں ایک نہ سمجھ میں آنے والی خوشبو پھیل گئی تھی ،

                موسٰی کا بچپن بھی عام بچوں کی طرح ہی گزرا تھا لیکن اس کے ارادے ہمیشہ دوسرے بچوں سے منفرد اور مختلف ہوا کرتے تھے اس نے کبھی بھی کاغذکے جہاز بنا کر نہ اڑائے تھے وہ کبھی بھی لکن مٹی نہ کھیلا تھا نہ ہی کبھی اس نے اپنے دوستوں کے ساتھ کنچے یا اخروٹ کھیل کر وقت کو برباد کیا تھا وہ بہت اونچی سوچ اور اونچی اڑان کو ہمیشہ ذہن میں رکھ کر دوستوں میں بیٹھا کرتا تھا اس نے تعلیم کے میدان میں بھی اپنا لوہا منوایا تھا وہ ہمیشہ ہر کلاس میں پہلی پوزیشن لے کر دوسرے کلاس فیلوز سے آگے ہی رہا تھاوہ اپنی بہن کے سر پر ہاتھ رکھ کر اکثر یہ کہا کرتا تھا کہ تم دیکھنا ایک دن یہ دنیا تمہارے بھائی کو سلام کرے گی ،اور آج اس کی بہن تو کیا کشمیر کی ہر لڑکی اور ہر عورت موسٰی کی شہادت پر رشک کے آنسو بہا رہی تھی اور پوری دنیا میں موسٰی کے جنازے کا منظر براہ راست ٹیلی ویژن سکرینوں پر دکھایا جا رہا تھا اور لوگ موسٰی کی شہادت پر عش عش کر رہے تھے ۔

                 موسٰی کی شہادت کو تین ماہ کا عرصہ بیت گیا تو دور پار کے گاﺅں سے کچھ دوست اس کے گھر پہنچے ان میں سے ایک کی ٹانگ کٹی ہوئی تھی وہ گاڑی سے جب اترا تو اس کو وہیل چئیرپر بٹھا کر اتارا گیا اس کے ساتھ دو اور لوگ تھے جو کہ جوان ہی تھے معذور لڑکے کا نام ہارون تھا جب کہ باقی دو اس کے دوست ایک گاڑی ڈرائیو کرکے لایا تھا اور دوسرا ہارون کا بھائی معاز تھا ہارون اور باقی دونوں کو دیکھ کر مولوی کریم آگے بڑھا اور ان کے آنے کا مقصد پوچھا ہارون نے بتایا کہ وہ موسیٰ کے ساتھ ہی ہندوستانی فوج کے خلاف لڑتا رہا ہے تو مولوی کریم کی آنکھیں اس جوان کی معذوری کو دیکھ کر بھیگ گئیں ان کو اندر بٹھایا گیا گاﺅں کے چند لوگ اور بھی ان جوانوں کو دیکھ کر مولوی کریم کے گھر پہنچ گئے تھے ہارون نے نے موسیٰ کی ماں کو سلام کیا اور ان کو اپنے سامنے بیٹھنے کی درخواست کی ماں جی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا تو مولوی کریم نے پردے کے پیچھے ان کو بٹھا دیا ماں جی کے ساتھ موسٰی کی بہن اور گاﺅں کی کچھ اور عورتیں بھی بیٹھ گئیں تو ہارون نے بات کرنا شروع کی سبھی لوگ اس کی جانب متوجہ تھے وہ کہ رہا تھا ۔” مقبوضہ وادی میں ہر جگہ ہندوستانی افواج کی موجودگی کے باعث سب سے پہلا مسلہ ایک محفوظ ٹھکانہ ڈھونڈنے کا تھا نیت کو صاف دیکھ کر اللہ نے ان کو رہنے کے لئے ایک ایسی جگہ مہیا کر دی تھی جو کبھی کسی بڑے مجاہد کے زیر استعمال رہی تھی موسیٰ ہارون اور چند اور دوستوں نے مل کر اپنے اس ٹھکانے سے ہندوستانی فوج پر چڑھا ئی کرنے کی ٹھانی لیکن موسٰی نے ساری پلاننگ سننے کے بعد یہ کہہ کر بات کو رد کر دیا کہ وہ لوگ ہماری سوچ سے بھی زیادہ چالاک اور شاطر ہیں ۔ لہٰذا ہمیں بھی انہی کی طرح سوچنا چاہیے موسیٰ میں پلاننگ اور لیڈ کرنے کی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ہم سب دووست اس کے مشورے پر عمل کر کے ہندوستانی فوج کو تین بار اچھا خاصا نقصان پہنچا چکے تھے لیکن وہ لوگ ہماری گرد کو بھی نہ پہنچ پائے تھے کیونکہ جو ٹھکانہ ہمارے پاس تھا وہ کافی خفیہ جگہ پر تھا کشمیری رہنماﺅں سے ہماری کافی ملاقاتیں بھی رہیں لیکن ہم نے ان کو بھی اپنے کسی پلان کی بھنک نہ پڑنے دی تھی اس جگہ پر ہم کسی پر بھی کوئی بھی بھروسہ کرنے کی پوزیشن میں نہ تھے اور نہ ہی ہم کوئی بھی ایسا رسک لے سکتے تھے کہ ہمارے پلان کی ذرا سی بھی کوئی بات باہر نکلے ۔ “ یہ کہہ کر ہارون خاموش ہو گیا تھی لیکن گھر میں بیٹھے سبھی لوگ ایسے بیٹھے تھے کہ وہ کوئی سسپنس والی فلم دیکھ رہے ہوں یا پھر کسی بڑے بوڑھے سے کوئی فرضی کہانی سن رہے ہوں موسیٰ کی ماں جی اور بہن کے ساتھ ساتھ باقی خواتین کی دلچسپی بھی بڑھتی جا رہی تھی ہارون نے اپنی ٹانگ کی طرف کراہ کر دیکھا اور اپنے کرب کو چھپاتا ہوا ایک بار پھر گویا ہوا ۔

                ” ہم ایک رات اپنے ٹھکانے سے باہر نکلے ہمارا پلان ہندوستان کی فوج کے کیمپ پر ایک بھر پور حملہ کرنا تھا پوری تیاری اوربھر پور جذبہ کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس جدید اسلحہ بھی تھا جو ہمیںکشمیری مجاہدین کی جانب سے مل چکا تھا ہم نے ایک فول پروف پلاننگ کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہوں پر سے ہوتے ہوئے ایک ہی بار حملہ آور ہونا تھا ہندوستانی فوج کے بزدل سپاہی لمبی تان کر سو رہے تھے لیکن کچھ سپاہی اپنی ڈیوٹی پراس لئے موجود تھے کہ ان کے جاگنے کی باری تھی ابھی ہم ہندوستانی کیمپ کے پاس ہی پہنچے تھے کہ ایک طرف سے ایک ٹرک آتا دکھائی دیا ہم سب رک گئے موسٰی ہمیں لیڈ کر رہا تھا وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ اگر ٹرک میں ہندوستانی فوج کے لئے نئے اسلحہ کی کھیپ آئی ہے تو پھر لگے ہاتھوں اس کو بھی ساتھ ہی اڑا دیں گے ہم دم سادھے ہاتھوں میں اسلحہ تھام کر ٹرک کے رک جانے کا انتظار رکرنے لگے لیکن تب ہمارے ہوش اڑ گئے جب ٹرک میں سے اسلحہ اور مزید فوجی اترنے کی بجائے جوان اور خوبصورت لڑکیاں اترنے لگیں جو کہ کسی سہمی ہوئی ہرنی کی طرح اندھیرے میں ادھر ادھر کسی مسیحا کی تلاش میں اپنی نظروں کو دوڑا رہی تھیں وہ سب کشمیر کی مائیں بہنیں اور بیٹیاں تھیں ایک سپاہی ان کو دھکیلنے والے انداز میں ہاتھ سے ہانکنے لگا تو ایک لڑکی نے اس کے منہ پر تھوک دیا یہ ہمارے لئے کوئی اچھنبے کی بات نہ تھی کیونکہ کشمیر کا بچہ بچہ ہندوستان کی فوج اور حکومت سے نفرت کا اظہار اسی طرح ہی کرتا ہے ۔ “

                ہارون اب ان سب کو کسی فلم کا ایک ایسا کردار لگنے لگا تھا جو نہ تو رومانوی بات کر رہا تھا اور نہ ہی ابھی تک اس نے کوئی جنگ لڑنے کی بات سنائی تھی لیکن بات چونکہ ان کے گاﺅں کے بہادر سپوت موسٰی کی ہو رہی تھی اسی لئے اور پھر ہندوستان کی فوج کے خلاف لڑائی کی بات ہو رہی تھی اسی لئے بھی ان سب کے لئے دلچسپی کا باعث بن گئی تھی ۔ ہارون نے اپنا سانس درست کرتے ہوئے ان سب کی طرف باری باری دیکھا اور بولا ،

                ” ہندوستانی فوجی نے لڑکی کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا تو وہ بوکھلا سی گئی اور فوجی سے بھڑ گئی لیکن پھر اس فوجی کی مدد کو کچھ اور فوجی آگئے ان میں سے ایک بولا ” اس کی ساری اکڑ فوں نکل جائے گی جب ہندوستان کے ٹارچر سیل میں بند کر دی جائے گی “ اس خوفناک منصوبے نے ہم سب کو ایک بار تو لرزا کر رکھ دیا تھا لیکن فی الحال موسٰی خاموش تھا ہم سب سمجھ گئے تھے کہ یہ لوگ ان لشمیری لڑکیوں کو کل صبح یا ابھی کے ابھی ہندوستان لے جا کر یا تو بیچ دیں گے یا پھر ان کی عصمت دری کرنے کے لئے ظالم اور بے ضمیر ہندوستانی حکمرانوں کے سامنے پیش کر دیں گے ۔ موسیٰ نے آ نکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا جو کہ رات کے اندھیرے میں سمجھنا خاصا مشکل کام تھا لیکن ہم جو ٹریننگ لے چکے تھے وہ ہمارے کام آ گئی تھی ہم نے آہستگی سے آگے بڑھتے ہوئے دو فوجیوں کو اپنی بانہوں کے گھیرے میں لے کر اد موا کر دیا اور پھر ان کو اپنے ساتھیوں کے حوالے کرتے ہوئے آگے اندر کی جانب بڑھ گئے ہم نے دیکھا کہ لڑکیا ں بے چاری سہمی ہوئی ایک جگہ بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کے پاس کوئی بھی نہ تھا یا پھر جو لو گ تھے وہ دونوں ہی ہمارے ساتھیوں کے حوالے تھے ہم نے لڑکیوں کو منہ پر ہاتھ رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور ان کو ایک ایک کرکے خیمے کی دوسری طرف سے باہر نکل کر بھاگنے کا کہا وہ ہماری بات کو سمجھتے ہوئے کمال ہشیاری سے آہستگی سے ایک ایک کرکے کیمپ سے باہر نکل گئیں تو موسیٰ اور میں نے اطمینان کی ایک پر سکون سانس خارج کی کیونکہ اللہ کی پاک ذات نے ہم سے وہ کام کروایا تھا جو اس نے چاہا تھا اورجو ہم نے چاہا تھا وہ نہ ہو سکا کیونکہ اللہ کی چاہت میں ہی راضی رہنا انسان کے لئے بہتر ہوتا ہے ، ہم اپنے کام سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ ہمیں اپنے ساتھیوں کی آوازیں آنا شروع ہو گئیں کہ ہم چاروں طرف سے ہندوستانی فوج کے گھیرے میں ہیں لیکن ہم نے ہتھیار پھینکنے کی بجائے اپنے ساتھیوں کو پیغام دیا کہ ہم لڑیں گے پھر ایک ایسی جنگ شروع ہوگئی جسے گھمسان کی جنگ بھی کہا جا سکتا ہے ۔“ہارون کا ایک بار پھر اس طرح خاموش ہو جانا وہاں پر بیٹھے سب لوگوں کو اچھا نہ لگا تھا کیونکہ بات اب بہت آگے جا چکی تھی پھر بھی وہ سب خاموش ہو کر ہارون کی طرف دیکھنے پر مجبور تھے لیکن ماں جی کی سسکیاں ہارون کی سماعتوں سے ٹکرانے لگی تھیں ہارون نے بات کو آگے بڑھانا ہی بہتر سمجھتے ہوئے بولنا شروع کیا تو ایک بار سب لو گ پھر اس کی جانب متوجہ ہوگئے ان سب میں سے کسی کو بھی یہ ہوش نہ تھا کہ ان آنے والے مہمانوں کی خاطر تواضع کے لئے کوئی چائے پانی کا اہتما م ہی کیا جائے بس سبھی موسٰی کی بات سننے کے لئے ہارون کے چہرے کی طرف دیکھ رہے تھے

                ”اس لڑائی میں ہمارے چار ساتھی اللہ کو پیارے ہو کر جام شہادت نوش کر چکے تھے اور میرے سمیت موسٰی اور باقی تین ساتھیوں کو انہوں نے گرفتار کر لیا تھا اس رات ہمیں اسی کیمپ میں رکھ کر انہوں نے اپنے ہیڈ کوارٹر میں اطلاع کر دی کہ کچھ دہشت گردوں کو گرفتار کیا ہے اور کچھ کو مار دیا ہے ۔ اگلے دن ہمیں ہندوستان کی ہائی کمان کے سامنے پیش کر دیا گیا ہمیں ایک ایسے کمرے میں بند کر کے رکھا گیا جس میں اذیت دینے والے اوزار اور بہت ہی خطر ناک لوگ موجود تھے موسیٰ کا حوصلہ چٹان کی طرح مضبوط تھا وہ ایک مضبوط ارادے کے ساتھ فوجی افسر کے سامنے سینہ تان کر کھڑا تھا فوجی افسر کو موسیٰ کا یہ انداز ایک آنکھ نہ بھایا تو اس نے موسیٰ پر تشدد کرنا شروع کر دیا وہ موسٰی کے منہ سے سسکیاں اور رحم کی آوا ز سننا چاہتا تھا لیکن موسٰی نے ہمت کر کے اپنا سر زور سے اس فوجی افسر کی ناک سے ٹکرایا جس سے وہ تیورا کر گر پڑا اس کی ناک کی ہڈی کئی جگہ سے ٹوٹ چکی تھی اس کے ناک منہ اور ہونٹوں سے خون نکلنا شروع ہو گیا تھا اس کو فوراََ باہر لے جایا گیا اور پھر تو جیسے ہم سب پر قیامت ہی ٹو ٹ پڑی تھی ۔ وہ لوگ ہم پر ظلم و تشد د کے نت نئے طریقوں کو آزما رہے تھے انہوں نے موسیٰ کے ہاتھ اور پاﺅں کے ناخنوں کو پلاس سے کیھینچ دیا تھا موسٰی کے منہ سے ایک بھی سسکی نہ نکلی تھی ۔ “ ہارون یہ بات سناتا ہوا اپنے آنسو ضبط کرنے کی کوشش میں خاموش ہو گیا لیکن ماں جی اور بہن کی سسکیاں اور آہیں اور پھر اونچی آواز میں رونے کی آوازوں نے ہارون اور باقی لوگوں کو بھی رلا دیا تھا ایک ماں کے سامنے اس کے جوان بیٹے کی بہادری کی داستان پیش کی جارہی تھی لیکن ماں کی مامتا اور دل کی دھڑکنوں نے بیٹے پر ظلم و تشدد کی بات سن کر صبر کادامن چھوڑ دیا تھا ماں جی کو دلاسہ اور حوصلہ دینے والیوں نے چپ کروایا تو مولوی کریم نے ہارون کی طرف اس انداز میں دیکھا کہ اپنی بات کو جاری رکھو ۔

                ” میرے منہ پر انہوں نے تھپڑوں کی بارش کر دی تھی موسیٰ کی بے ہوشی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے موسٰی کے سر کے بال کاٹ دئے اور ایک ہاتھ کی انگلی بھی کاٹ دی اورپھر مجھ پر اپنے ظلم کے اوزار آزماتے ہوئے انہوں نے میری ٹانگ کاٹ دی وہ لوگ موسٰی کو ہوش میں لا کر اس سے ایک ہی با ت کہتے تھے کہ موسیٰ بولے کہ پاکستان مردہ باد لیکن آفرین اور قربان جاﺅں اپنے اس دوست کے اس نے ان کے ہر ظلم پر ایک ہی نعرہ لگایا ” پاکستان زندہ باد کشمیر بنے گا پاکستان ۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،پاکستان زندہ باد “ موسٰی کا دلیرانہ نعرہ اور انداز ان کو مزید طیش دلا گیا ان کے ایک کمانڈر نے موسٰی پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی مگر موسٰی کی مسکراہٹ کو شکست نہ دے سکنے والے بزدل ہندوستانی فوجی غصہ میں آگ بگولہ ہوتے ہوئے میرے دوسرے ساتھیو ں پر بھی گولیاں برسانے لگے لیکن پھر ان کی ساری بہادری ہوا ہوگئی جب ہمارے کشمیر ی مجاہدین کا ایک لشکر نعرہ تکبیر کا پرچم بلند کرتا ہوا اس کیمپ پر دھاوا بول کر ان کو نیست و نابود کرتا ہوا جہنم واصل کرکے اس کیمپ سے موسیٰ سمیت سب شہید ساتھیوں کے جسموں کو اپنے مقام پر لے آیا ۔میں اپنی ٹانگ کٹوا چکا تھا لیکن موسٰی اورباقی ساتھیوں کی شہادت پر مجھے خوشی تھی کہ اللہ نے انہیں اپنے دربار میں اس طرح بلایا ہے کہ ان کو حوروں اور فرشتوں کے جھرمٹ میں سلامی پیش کرنے کے لئے آسمانی مخلوق کی ڈیوٹیاں لگا دی ہونگی مجھے اپنے زندہ رہ جانے پر اتنا ہی افسوس ہے کہ میں اس مقام کے قابل ہی نہ سمجھا گیا کہ مجھے بھی اللہ کریم شہادت کا رتبہ اور مرتبہ عطا فرماتا لیکن وہ پاک ذات سب بہتر جانتی ہے وہ جو کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے ۔ “

                ہارون خاموش ہو کر اپنے آنسو روکنے کی ناکام کوشش کرنے لگا تو مولوی کریم نے آگے بڑھ کر اس کو گلے لگا لیا اور بولے ۔ ” تم میرے موسٰٰٰٰی ہو دل چھوٹا مت کرو اللہ کو تمہاری قربانی اس اندازمیں ہی پسند ہے وہ دلوں کے بھید خوب جانتا ہے ۔ میرا موسٰی اللہ کی بارگاہ میں تمہارے لئے بھی دعا گو ہے ۔“ ماں جی نے بھی ہارون کو اپنے گلے سے لگا کر خوب پیار کیا اور اپنے آنسوﺅں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے اپنے آنسو ہارو ن کے گالوں پر گرا دیے ۔

                زیر قلم تحریر قرطاس پر بکھرنے تک ان شا ءاللہ لشمری آزاد ہوچکا ہو گا یا پھر اس کی آزادی کے لئے کی جانے والی کوششیں اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیں گی کیونکہ ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن جیسا کہ ہمارے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ اگر جنگ ہوئی تو ہم آخری گولی آخری فوجی اور آخری سانس تک لڑیں گے یہ پوری دنیا کو وہ پیغام ہے کہ چالیس روز ہو نے ہیں اور پوری جنت نظیر وادی کو کرفیو کی آگ میں جھونکنے والے مودی کے لئے کوئی بھی ایک لفظ تک نہیں بول رہا عالم اسلام کی خاموشی اور اقوام متحدہ کی گونگی بہری سوچ اس بات کی غمازی ہے کہ پاکستان کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور ہم وہ بہت کچھ کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں ہماری فوجیں ہماری قوم ہماری حکومت اور اس ملک کا بچہ بچہ کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے اور یہ شہ رگ دشمنوں کے قبضہ میں ہو تو راتوں کو نیند نہیں آتی ہر وقت یہی جذبہ دل میں پارہ بن کر دوڑتا ہے کہ اس شہ رگ کو ظالم اور غاصب ہندوستانیوں کے قبضہ سے چھڑا کر دم لیا جائے ۔ اور وہ دن دور نہیں ہیںجب ان شا ءاللہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ بن کر پاکستان کے دل و دماغ کے ساتھ ایک سینے

 میں دھڑک رہا ہوگا ، کیونکہ پوری دنیا کے میڈیا نے اپناجو کردار ادا کیا ہے اس اہم کردارنے مسلہ کشمیر کو پوری دنیا میں اجاگر کرکے یہ بتا دیا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا اندرونی اور ذاتی مسلہ نہیں ہے ۔ اور یہ پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا کیونکہ ہر کشمیری پاکستان کا پرچم تھامے ظالموں سے اپنی جنت نظیر وادی کو آزادی دلانے کے لئے ایک ہی نعرہ لگا رہا ہے ” کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے “

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے