سر ورق / جنت الفردوس۔۔۔ رابعہ الرباء

جنت الفردوس۔۔۔ رابعہ الرباء

جنت الفردوس

رابعہ الرباء

یہ ملبہ نہیں ہے۔ یہ ایک کہانی ہے، داستان ہے۔ اس سب کے پیچھے ایک ایک ذرہ میں کہانی ہے۔ یہ دیکھیں ناظرین، اگر یہ کیمرہ آپ کو دیکھا رہا ہے تو آپ کو یہ سب بربادی نظر آئے گی۔ وہ بربادی جو سفاک دلوں نے جوان دلوں سے، زندہ دلوں سے کی، جوان امنگوں،تمناﺅں سے، مستقبل سے کی، مگر نہ کوئی پوچھنے والا ہے، نہ کوئی جواب دینے والا، پوچھنے والے غلامی کے نشے میں، امداد کے نشے میں مست ہیں تو جواب دینے والے بربادی میں دُھت….!

پوچھنا اور جواب دینا تو درکنار یہاں کوئی روکنے اور حالات کو قابو میں رکھنے والا نہیں ہے۔ کوئی یہ کہنے والا نہیں ہے کہ امداد نہیں دینی نہ دو، ہم جی لیں گے، کسی کو توکل رہا ہی نہیں، نہ خود پر نہ خود سے اوپر والے پر، اگر توکل رہ گیا ہے تو صرف اور صرف ڈالرز کی امداد دینے والوں پر، جو امداد کے نام پر قیمت دے کر ہمیں خریدنا چاہ رہے ہیں ہماری قیمت لگا رہے ہیں اور اپنی مرضی کی لگا رہے ہیں۔

اور ناظرین یہ دیکھیں یہ عمارتیں، کوئی مکاں تھا، کوئی گھر….مگر اب سب کھنڈر ہے، نہ آج تک کسی کے گھر بنے ہیں، نہ اب ان تباہ حالوں کو کچھ ملے گا، سوائے چند جملوں کے، چند دلاسوں کے، چند بے وفا وعدوں کے….انہیں خود ہی فاقے کاٹنے ہیں، خود ہی اینٹیں لانی ہیں۔ مگر…. کوئی زندہ بھی تو اس قابل نہیں رہا ہو گا کہ وہ اینٹیں لا سکے،…. یہاں صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے (آواز دب جاتی ہے)….مگر وہاں…. وہاں ہم ان صفوں کی تعداد کے مطابق امداد لینے میز پر بیٹھے سودے کر رہے ہیں۔

ناظرین آئیے یہ ایک چھوٹا سا بچہ نظر آیا ہے۔ اس سے بات کرتے ہیں۔

بیٹا یہ سب کیا ہے؟ آپ کو پتا ہے؟

جی….ابو بتاتے ہیں دھماکا ہوا ہے۔

آپ کو پتا ہے یہ دھماکا کیا ہوتا ہے؟

(اس نے نفی میں سر ہلایا)

ناظرین یہ معصوم تو یہ بھی نہیں جانتا کہ دھماکا کیا ہوتا ہے!

آپ نے کیا دیکھا بیٹا؟

خون دیکھا۔ مرے ہوئے لوگ دیکھے۔

کتنے؟

بہت زیادہ….!

ڈر لگا آپ کو؟

جی….!

رات کو سوئے تھے؟

نہیں….! ڈر سے آنکھ کھل جاتی تھی۔ مرے ہوئے لوگ نظر آتے تھے۔

ناظرین یہ میرے ملک کا مستقبل ہے۔ خوف زدہ مستقبل….! آئیے آگے بڑھتے ہیں۔ کیمرے کی آنکھ سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہاں کسی بھی گھر کی دیوار اور کھڑکیوں کے شیشے نہیں ہیں، اور چھتیں اُڑ چکی ہیں۔ یہاں تو آبادی کی کوئی آس بھی فی الحال کسی آنکھ میں نظر نہیں آتی۔ سب آنکھیں جو بچ گئی ہیں، بُجھ چکی ہیں۔ وہ باپ کہ جس کی اپنی آنکھ کا کل آپریشن ہوا ہے۔ وہ اپنے بچے کو ڈھونڈتا پھر رہا ہے۔یہ درد ناک منظر بھی کیمرے کے توسط سے آپ تک پہنچ چکا ہے، اور یہ بچے ناظرین جو اس وقت آپ دیکھ رہے ہیں اپنے والدین کے منتظر، آنکھوں میں خوف لئے بیٹھے ہیں، اور سرکار اسلام آباد میں میز پر بیٹھی ان سب کے لئے امداد اکٹھی کر رہی ہے۔

یہ دیکھیں یہ وہ جگہ ہے…. (وہ یہ کہتے ہوئے بیٹھ گیا) اور ملبے میں ہاتھ ڈال کر مُٹھی میں کچھ بند کر کے اوپر کیمرے کے سامنے کیا….!

یہ ملبہ ہے ناظرین…. یہ ملبہ نہیں، یہ امید تھی…. یہ زندگی تھی۔

کیمرہ اس کے ہاتھ پر تھا اور اس کی آواز بھر گئی تھی۔

اس کے ساتھ ہی ناظرین ہم اپنی پوری ٹیم کے ساتھ اجازت چاہیں گے۔ دِکھانے کو تو بہت کچھ ہے۔ مگر سرکار کی طرح وقت کا بھی جبر ہم پر موجود ہے….!

اللہ حافظ!

کیمرے بند ہو گئے اور اس نے وہ سب جو اُٹھایا تھا۔ اپنی جیب میں ڈال لیا۔ آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔ آج رات اُسے یہیں گزارنا تھی اور اگلے دن پھر سے یہیں ایک اور پروگرام کرنا تھا۔

وہ جب رات بیڈ پر لیٹا تو بہت دیر تک چھت کو گھورتا رہا اور نجانے کیا سوچتار ہا۔ پھر اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ لیکن اُسے چوڑیوں کی آواز سنائی دی۔ وہ اچانک سے اُٹھ بیٹھا، اِدھر اُدھر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔ خود کو بہلانے لگا، بھلا اس ہوٹل کے کمرے میں، یہاں کوئی عورت کیسے ہوسکتی ہے۔خود کو دلاسہ دے کر پھر لیٹ گیا۔ پھر آنکھیں بند کیں تو کسی کی ہنسی کی کھنکھناہٹ، چوڑیوں کی آواز، پائیل کی ہلکی سی چَھن…. جیسے کوئی پہاڑی حسینہ اُس کی اور دوڑے چلی آرہی ہے…. اُس نے پھر آنکھیں کھول لیں۔ یونہی ساری رات آنکھ مچولیوں میں گزر گئی…. کبھی چوڑیاں….کبھی پائیل….تو کبھی ہنسی کی کھنکھناہٹ….اور وہ سو نہ سکا۔

اگلے دن وہی روٹین….شیو….باتھ….ناشتہ….!

پھر جستجو کی تلاش میں خواری….کبھی کسی کا فون تو کبھی کسی کا….وہ جائے وقوعہ پر تھا لہٰذا اس سے حقائق جاننے کی کوششیں کی جا رہی تھیں۔ وہ بھی یہ سب کام فرض سمجھ کر عبادت کی طرح کر رہاتھا۔

دوپہر کو وہ قیلولہ کے لئے کمرے میں چلا گیا کیونکہ رات کو براہِ راست پروگرام کرنا تھا۔ گوکہ اب وہ اعصاب پر قابو پا سکتا تھا صحافتی زندگی کے آٹھ سالہ تجربے نے اُسے بہت کچھ سہنا اور کرنا سکھا دیا تھا۔ لیکن حد درجہ تھکاوٹ سے وہ بیزار تھا، لیٹا اور آنکھیں بند کر لیں۔

وہ کمرے میں دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا باہر سے کسی کے قہقہے کی آواز ہوا کے دوش پر آئی اور سب رستے چیڑتی سیدھا اُس کے دل میں اُتر گئی، اور وہ زلزلے کے جھٹکوں کی طرح لرز اُٹھا۔

پھر وہ آواز دھیرے دھیرے قریب ہوتی گئی اور اس میں چوڑیوں کی چھن چھن کی آمیزش ہو گئی اب وہ دو لڑکیوں کے ساتھ کمرے میں آچکی تھی، اور اس کے دائیں طرف دوسری لائین میں وہ تینوں کرسیوں پر بیٹھ گئیں۔ اس کی تصویر تو نہیں لیکن چوڑیوں بھری کلائیاں اس کو صاف نظر آرہی تھیں۔ دونوں بانہوں میں ست رنگی چوڑیاں اور ویسا ہی ست رنگی دوپٹہ اور سادہ سوٹ، ہاتھوں کی انگلیوں میں کانچ کے چھلے اور ہاتھوں پر مہندی….!

یہ اس کی پہلی ادھوری جھلک تھی جو وہ دیکھ پایا تھا۔ اس کے بعد جب جماعت میں تعارف ہوا تو اُسے معلوم ہوا کہ اُس کا نام جنت الفردوس ہے۔ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں مگر وہ اپنی حیرتوں کو اپنے تک ہی محدود رکھتا تھا۔ اس نے یہ سب ہلچل کسی پر عیاں نہ ہونے دی۔ کلاس کا وقت ختم ہوا تو وہ اُٹھ کر باہر گئی تب اس نے پہلی بار اُسے دیکھا۔ کِھلا ہوا گندمی رنگ جس کو گورا بھی نہیں کہہ سکتے اور سانولا بھی نہیں۔

مسکراتا چہرہ، سرمے سے بھری، زمانے سے بے خبر شرارتی آنکھیں…. بھرے بھرے گال، لمبے بال جن کی کچھ لٹیں کبھی پیشانی تو کبھی گالوں کو چھیڑتی تو وہ اُنہیں مہندی بھری انگلیوں سے پیچھے ہٹا دیتی۔

وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کی یہ سب دیسی سادگی، ولایتی حسن پر کس قدر وزنی ہے اور کسی کے لئے تو کسی سونامی سے کم بھی نہیں۔ مگر وہ تو شاید ہمیشہ سے ایسی تھی کیونکہ وہ تو اپنے ہوش سے بھی قبل یہ سنتی آرہی تھی کہ سرمہ، چوڑیاں، مہندی عورت کو ان کا حساب دینا ہے لہٰذا پہننا ضروری ہے۔

اس کو پڑھنے کے باوجود یہ علم نہیں تھا کہ یہ کس کی منطق ہے۔ مگر پھر بھی وہ یہ سب عاشق کی طرح کئے چلے جا رہی تھی اور خود کو بھی ان سب کے بغیر ادھورا محسوس کرتی۔

بی اے کے بعد اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ مزید پڑھے گی۔ بس بہنوئی نے یونیورسٹی میں داخلہ کروا دیا۔ مگر وہاں بھی وہ اپنے ہی ڈھنگ سے رہی۔ ہمیشہ سادہ سوٹ، رنگوں بھرا قوس قزح کا سا دوپٹہ اور دوپٹے کے جیسی چوڑیاں، ہمیشہ تِلے والی جوتی، کبھی کُھسہ تو کبھی کولاپوری، مہندی سرمہ….مگر ان سب کے باوجود وہ کوئی پکی دیہاتن نہیں لگتی تھی۔ سٹائیلش لگتی تھی۔ مگر نہ تو اس کا یہ سٹائل تھا، نہ ہی کوئی ادا تھی، بس وہ تو تھی ہی ایسی۔ اُس نے کبھی خود کو فیشن کے رنگ میں رنگنے کی کوشش بھی تو نہ کی تھی۔ اگر کرتی تو بھی شاید اس میں فِٹ نہ ہو پاتی۔

جو بھی تھا اُس میں ایک کشش تھی۔ جس کی اور حُسین کھنچا ہی چلا جا رہا تھا۔

ہم جماعت ہونے کے باوجود اس سے بات کرنا اگرچہ مشکل نہ بھی تھا مگر کسی قدر دشوار ضرور تھا۔ ایک ماہ تو صرف ہمت کرنے میں ہی گزر گیا کہ اس سے بات کس طرح کی جائے، کوئی مناسب بہانہ یا موقع ایسا ملا ہی نہیں۔ دوسرا مہینہ اس تلاش میں گزر گیا کہ اگر وہ کسی یونیورسٹی سوسائٹی کی ممبر ہے تو شاید کوئی موقع محل بن جائے مگر ایسا بھی نہ ہو سکا۔ کیونکہ وہ کسی بھی سوسائٹی کی ممبر نہ تھی۔ اب تو کوئی نامعقول بہانہ ہی بنانا پڑنا تھا۔ وہ بھی تو نہ سُوج رہا تھا۔

اچانک پروفیسر علوی عرش سے کسی ملائیک کی مانند اُترے اور کہنے لگے ”حسین یہ کتاب جنت الفردوس کو دے دینا وہ کل مجھے دے کر بھول گئی تھی۔ اُس کی تو جیسے لاٹری نکل آئی وہ تو جنت کے باغوں کی بھی سیر کرنے لگا اور اس کو تو جنت کی حور مل گئی۔“

وہ اُسی لمحے بھاگا کیونکہ تمام کلاسز ختم ہو چکی تھیں یا تو اب وہ کسی کینٹین میں ہو گی یا پھر لائبریری میں، وہ پہلے تو لائبریری گیا لیکن وہاں کوئی حور موجود نہیں تھی پھر وہ کینٹین گیا تو وہ اُسے اُنہی دونوں لڑکیوں کے ساتھ نظر آئی۔ جن کے سائے میں وہ رہتی تھی۔ وہ دھیرے دھیرے چلنے لگا کہ سانسوں پہ قابو پاتے…. مگر دل کی دھڑکن بڑھ جاتی…. وہ کسی صورت میں خود پہ قابو نہیں پا رہا تھا۔ لیکن یونہی دھڑکتے دل اور بے ترتیب سانسوں سمیت اس کے میز کے پاس گیا۔

مس جنت….؟

اس نے آنکھیں اوپر اُٹھائیں تو اس کی دھڑکن مزید اِدھر اُدھر ہو گئی۔

جی کہئے….؟

یہ….وہ….یہ بُک سر علوی نے دی ہے آپ بھول گئی….!

اوہ شکریہ….بہت بہت شکریہ حسین….!طاری

اس کی زبان سے اپنا نام سنتے ہی اس پر سرور و مستی طاری ہو گئی۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں چلا گیا….میرا نام اس کی زبان….!

آئیے شکریہ کے طور پر ایک کپ چائے یا بوتل….؟

وہ تو جیسے تیار ہی تھا اور اس کے اشارے پر بیٹھ گیا۔

چائے….!

چائے کے ساتھ کچھ اور ….؟

جی نہیں Thanks۔

جنت نے چائے منگوا لی۔

حسین آپ نے تکلیف کی خوامخواہ….!

یوں بات بڑھتے بڑھتے بڑھ گئی اور ایک چاند کو دونوں چاندنی راتوں میں تکنے لگے۔ اس سے باتیں کرنے لگے….خیالوں میں ٹھٹھرتے ایک دوسرے کے جذبوں پر گرم شالیں اوڑھنے لگے….تو دوسرے سال میں کیسے اور کب قدم رکھا معلوم ہی نہ ہو سکا….مگر پھر نجانے کس کی نظر….کس کی حسد….کیا رنگ لائی۔

وہ گھر جانے کے لئے یونیورسٹی سے نکلی بس سٹاپ پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی۔ بس رُکی….وہ آگے بڑھی….سامنے سے موٹر سائیکلوں پر کچھ لوگ فائرنگ کرتے گزرے…. کوئی گولی اُسے لگی…. بس بھی اچانک چل پڑی…. باقی کی گاڑیاں بھی خوف سے دوڑنے لگیں اور…. وہ اور کچھ ان گاڑیوں تلے کچلے گئے۔

حسین جب پہنچا تو ایک مجمع تھا۔ آگے بڑھا، دل یونہی کانپ رہا تھا۔ اُس کی چوڑیاں ہر طرف ٹوٹ کے بکھری پڑی تھیں۔ دونوں بازو کچل چکے تھے….مگر وہ جیسے مسکرا رہی تھی۔

حسین یکدم کانپ کر اُٹھ بیٹھا…. وہ پسینے سے شرابور تھا۔ بھیگا ہوا تھا…. نیند پھر اس سے کوسوں دور چلی گئی…. سر درد….پھر سے ستانے لگا۔

لیکن وہ جانتا تھا کہ نہ تو یہ سردرد ہے، نہ ہی کوئی خوف…. یہ اس کا وہ ماضی ہے…. وہ عذاب….ماضی کہ جس نے اس کے حال کی بنیاد رکھ کر اُسے بے خوف کر دیا…. ہے اور اگر اب وہ ڈرتا ہے تو صرف چوڑیوں کے ٹوٹنے سے….!

اس نے پانی پیا….واش روم گیا۔ منہ دھویا اور بال بنا کر باہر نکل گیا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اب وہ مزید کمرے میں رہا تو طبیعت پھر سے ماضی….کے ملبے میں، زلزلے سے تباہ گھروں میں لے جائے گی اور وہ مزید بکھرتا چلا جائے گا….اور ابھی تو اُسے آج کا براہِ راست پروگرام بھی کرنا ہے۔

اسلام علیکم ناظرین….کل آپ نے لائیو شو دیکھا اور دیکھا کہ کس قدر نقصان ہوا ہے۔ لیکن ابھی تک سرکاری اعداد و شمار ہمارے سامنے نہیں آسکے اور اگر آبھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ کیونکہ ان اعداد و شمار کی ضرورت ہمیں آپ کو بتانے کے لئے نہیں ہے۔ ہمیں انہیں بتانے کے لئے ہے جن کے لئے یہ خون یہ تباہ کاری کوئی معنی نہیں رکھتی…. فقط سودا بازی کے لئے موزوں ہے اور اگر ایسا بھی ہے تو ذہن میں بہت سے سوالات جنم لے سکتے ہیں۔ آئیے آپ کو دکھائیں کہ ابھی تک کیا امدادی کاروائیاں عمل میں آسکیں ہیں۔

یہ دیکھیں ناظرین یہ پوری چھ منزلہ عمارت ختم ہو چکی ہے لیکن یہاں بھی لوگ اپنی چیزیں اور سامان اپنی مدد آپ کے تحت نکال رہے ہیں اور ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ابھی تک کوئی سرکاری نمائندہ ان تک نہیں پہنچ سکا۔ البتہ کچھ غیرسرکاری تنظیمیں ضرور ان کی مدد کے لئے آئیں اور انہوں نے ملبہ ہٹانے میں ان کی مدد بھی کی۔ لیکن پھر بھی جس بھاری مشینری کی ضرورت ہے یہ ملبہ اٹھانے کے لئے ان کی آمد کے یہ سب بھی منتظر ہیں۔ ان کی روکھی آنکھیں بھی انتظار سے کھلی ہوئی ہیں ہم نے رات کو دیکھا اور آج بھی صبح سے یہ سب لوگ خود کام کرتے رہے ہیں۔

یہ دیکھیں ناظرین یہ شخص اپنی دکان سے اپنا بچا کُھچا سامان باہر نکال رہا ہے۔ اس آس پہ کہ وہ دوبارہ زندگی شروع کرے گا۔ یہی جذبہ ابھی تک ان کو زندہ رکھے ہوئے ہے، اور نہ صرف ان کو، اس دنیا کو یہی ایک جذبہ چلا رہا ہے، اور اسی کا نام زندگی ہے۔ جس کے لئے ہم صبح اُٹھ کر گھروں سے نکلتے ہیں مگر حالات کے ہاتھوں یہ ہم سے چھن بھی جاتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ پیچھے کتنوں کو ہماری ضرورت تھی اور کتنے ہی گھر ایک فرد کے نہ ہونے سے حقیقتاً اُجڑ سکتے ہیں۔ حقیقتاً ان کا کوئی نہیں رہتا اور حقیقتاً ان پر آسمان ٹوٹ جاتا ہے۔ بجلی گر پڑتی ہے۔ جیسی بجلی آج اس گنجان آبادی پُررونق بستی پر گری اور سب جل گیا۔

ناظرین ابھی ابھی اطلاع ملی ہے کہ راولپنڈی کے بازار میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے جیسے ہی ہمیں مزید معلومات ملتی ہیں ہم آپ کو up date کرتے رہیں گے۔ ناظرین ہمارے ذرائع سے پتا چلا ہے کہ دھماکا کافی شدید تھا اور مرنے والوں کی تعداد کافی ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے ہمیں معلومات ملتی جائیں گی ہم آپ کو مطلع کرتے رہیں گے۔

یہیں پہ ہم اپنا پروگرام ختم کرتے ہیں اور آپ کو live لئے چلتے ہیں اس جگہ جہاں دھماکا ہوا ہے۔

پروگرام ختم کرتے ہی وہ اپنی پوری ٹیم اور سامان کے ساتھ وہیں سے راولپنڈی کی طرف روانہ ہو گئے تاکہ وہاں سے براہِ راست اور فوری معلومات حاصل کی جا سکیں۔ دوسرے وہ اس کا شہر تھا جس سے وہ جڑا ہوا تھا۔ اس کا فون مسلسل بج رہا تھا۔ لیکن اس نے اُسے دیکھے بغیر آف کر دیا۔ اس کی تمام توجہ دھماکے کے حوالے سے معلومات اکٹھی کرنے پر تھی۔ کبھی وہ ریڈیو آن کرتا تو کبھی وہاں موجود نمائندوں سے رابطہ کرتا۔

جب وہ وہاں پہنچا تو پہلی نظر میں ہی ہولناک تباہی کا منظر دیکھ کر اس کے دل کو ایک زوردار جھٹکا لگا تازہ خون بکھرا پڑا تھا۔ امدادی ٹیمیں اپنا کام شروع کر چکی تھیں۔ نمائندے براہِ راست رپورٹنگ کر رہے تھے۔

اس کی ٹیم نے بھی اپنے ہتھیار سنبھالے اور اپنے کام میں لگ گئی۔ وہ ریکارڈنگ کروا رہا تھا کہ ایک سٹریچر اس کے قریب سے گزرا۔ کسی بچی کا ہاتھ لٹک رہا تھا، اور اس کے جسم پر پڑا سفید کپڑا سرخ دھبوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس کی نظر اچانک اس کی کلائی پر پڑی، چوڑیاں، خون کی مہندی بھرے ننھے ہاتھ تو اس کے دل کو ایک جھٹکا سا لگا۔ وہ پل بھر کے لئے سُن ہو گیا۔ اس کے سامنے سے کئی ایسی لاشیں گزریں، مگر وہ لمحہ اس میں کہیں ٹھہرا ہوا تھا۔ اس کی جیکٹ کی جیبوں میں اس کے دونوں موبائیل مسلسل بج رہے تھے۔ جس سے وہ باخبر بھی تھا اور بے خبر بھی بنا ہوا تھا۔ کیونکہ وہ اپنے پیشے کی عبادت میں مصروف تھا۔ پھر بھی اس نے بے دھیانی سے دونوں موبائیل نکالے تو اس کی بیوی کی بھی آٹھ کال آچکی تھیں۔ مگر اس وقت وہ اُس سے بات نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اس وقت اُسے اُس کے کاندھے کی ضرورت ہے۔ اس لئے بھی وہ اُسے نظر انداز کرتا رہا۔ وہاں سے وہ قریبی ہسپتال گیا۔ وہاں وہ ریکارڈنگ کروا رہا تھا کہ اس کے ایک کیمرہ مین اسسٹنٹ نے اس کو اپنا موبائیل دیتے ہوئے کہا ”سر بھابی کا فون ہے“ اس نے فون اٹینڈ کیا اور خاموش ہوگیا۔

بس اس کے ذہن میں ایک جملہ گردش کر رہا تھا۔ ابّو اور جنت….!

مریضوں کو بے قراری سے دیکھنے لگا جو ابھی دھماکا گاہ سے آئے تھے۔ اس کے چہرے پر پریشانی بڑھتی جا رہی تھی۔ اس کے بعد وہ…. وہ اندر گیا اور نعشوں کے منہ سے کپڑا اُٹھا کر دیکھنے لگا۔ وہ ننھا چوڑیوں والا ہاتھ ابھی بھی چادر سے باہر تھا۔ اس نے اس کے ساتھ والی نعش پر سے کپڑا اٹھایا تو پل بھر کو سکتے میں آگیا۔ پھرننھے ہاتھ والے چہرے پر سے کپڑا اُٹھایا تو اس کا چوڑیوں بھرا ہاتھ تھام کر اپنی آنکھوں سے لگا لیا۔ فقط سب نے ایک لفظ سنا اس کی بھری مدھم سی آواز میں ”جنت الفردوس“….!

٭٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے