سر ورق / سماج….! … رابعہ الرباء

سماج….! … رابعہ الرباء

سماج….!

رابعہ الرباء

کتنے شیریں ہیں تیرے لب کہ رقیب گالیاں کھا کے بھی بے مزہ نہ ہوا۔

جب اس نے اپنی کھنکتی دل چھو لینے والی آواز میں ماں اور بہن کی دو گالیاں دیں تو میری خواہش نے پھر جنم لے لیا کہ کاش میری زبان سے بھی یہ پھول جھڑتے۔ میں بھی دشنام کاری اور فحش زبانی سے لطف لے سکتی، مگر بس یہی کمیاں ہی تو انسان کو سماجی پسندیدہ بنا دیتی ہیں جن کو لوگ پسند کر رہے ہیں وہ کسی احساسِ کم تری کا حد درجہ شکار ہیں وہ اپنے اندر کی کمی سے آپ ہی جنگ میں ہیں مگر اس کا مخالف طاقت ور ہے اسی لئے سماج اس کو مسلسل قبول، قبول، قبول کئے جار ہا ہے۔

ہاں اس نے جو گالیاں نکالیں تو لگا ہی نہیں کہ وہ گالیاں ہیں اگر اس کی آواز کا وجد مجھ پہ ہوا تو جنس مخالف کا کیا حشر ہوتا ہو گا۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ تھی بھی حسین بلکہ حسین سے کچھ بڑھ کر اس کا سارا بدن نپا تلا سراپا تھا صرف قد قدرے مختصر تھا جس کی وجہ سے ہر توجہ طلب شے بھرپور توجہ کا باعث بنی کھڑی تھی…. بس جس کی نظر جہاں پڑی ٹھہر گئی، چمکتا رنگ پُرکشش مجسم صنم، نہلے پہ دھلا سونے پہ سہاگا اس کا پیراہن، سکن فٹ ٹخنوں سے اونچا پاجامہ جس کے نیچے گورے گورے سفید پیروں میں دو فیتوں والی جوتی اور قدرے بدن سے ڈھیلی کرتی جس کی کمر میں ایک سنہری لہراتی بیلٹ اور آستین کلائیوں کو چھوکر فخر محسوس کرتی مگر اس میں سے بھی اس کا بہار کے پھولوں جیسا جوبن جاتی سردی کی سی سنسناہٹ پیدا کر دیتا تھا۔

اگر میرا یہ حال ہے تو پھر ان سب لوگوں کا کیا حشر ہوتا ہو گا۔

نہیں اس کو سماج قبول نہیں کرتا کیونکہ اس میں کمی نہیں تھی کوئی کمی نہیں تھی کیونکہ جس کی دشنام کاری کا جادو چل سکتا ہے اس کی گفتار میں بھی سحر انگیزی کا عنصر موجود ہو گا مگر سماج کو کمی قبول ہے تکمیل ہرگز نہیں۔

”ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے“ سو میری بھی ایسی خواہشیں ہیں جن پہ دم نکلتا ہے، کلیجہ نکلتا ہے مگر نہیں نکلتا تو حوصلہ ہی نہیں نکلتا۔ سڑکوں کے کنارے کھڑے ہو کر پھیری والے سے آلو چھولے کھاﺅں، کسی ٹھیلے والے سے نان کباب، نان پکوڑے، پٹھان سے ریت میں بھنوا کے مونگ پھلی یا مکئی کے دانے یا پھر راکھ میں پکے بھٹے، کسی نکر کے کھوکھے سے چائے کا ایک چھوٹا سا کپ، ایک دھات کی کیتلی میں پکی چائے پی سکوں، کسی سائیکل پہ بیچنے والے سے برف کی رنگ دار لولی لے کر زبان رنگ لوں، گندی میلی سڑکوں پہ مٹی اڑاتی گلیوں میں چپل پہن کر ہلکے سے بے وزن شفون کے دوپٹے کو لہراتی چلوں، کبھی پلو پکڑوں کبھی چھوڑ دوں، لُر لُر پھروں بڑی بے نیازی سے گلیوںمیں پڑے کنکروں پتھروں کو پاﺅں سے اچھالوں، مٹی بھی اڑے کبھی بھاگوں کبھی ٹھہر جاﺅں…. پھولی پھولی سانسوں سے تیز تیز چلوںپیشانی پہ آئے پسینے کے قطروں کو شہادت کی انگلی سے اٹھا کر، اکٹھا کرکے ہوا میں اچھالوں….!

مگر نہیں سماج تو یہ سب قبول نہیں کرتا۔ لہٰذا میں نہیں کر سکتی، کیونکہ میں سماج کا باعزت بلکہ باعزت سماج کا باعزت حصہ ہوں، ہماری تربیت چولہے پہ رکھے ان پتیلوں جیسے گھروں میں ہوتی ہے جن میں پانی بھی ڈالا جاتا ہے، آگ بھی لگائی جاتی ہے اور ڈھکن بھی رکھ دیا جاتا ہے Electric Steamer جیسے گھروں میں جہاں بھاپ کے نکلنے کے لئے اطراف میں سوراخ بھی رکھے جاتے ہیں تو اتنے کہ زیادہ مقدار اندر ہی رہے…. رہے کیوں، رکھی جاتی ہے کہ گوشت گل جائے کیونکہ سماج کو تو گلا گوشت پسند ہے کچا گوشت تو جنگلی اور بدتہذیب کھاتے ہیں ہم سب سماج قبول لوگ تو تہذیب یافتہ ہوتے ہیں جب کہ ہمارا دل بھی چاہتا ہے کہ ہم بھی کبھی کبھار ہی سہی چپکے سے ہی سہی، کسی کی چیڑ پھاڑ کر دیں اس کے ساتھ وحشیانہ سلوک کریں مگر نہیں ہم ایسا کر ہی نہیں سکتے بلکہ ایسا چاہ بھی نہیں سکتے کہ اظہار پر بھی پابندی ہے کیونکہ سماج کو یہ قبول نہیں۔

ہاں مگر سماج کو یہ قبول ہے کہ میرا شوہر جب چاہے مجھ سے بور ہو جائے اور کسی بھی لڑکی کو کسی بھی عورت کو کسی بھی نظر سے کہیں بھی دل کھول کر دیکھے۔ اس سے میٹھی میٹھی باتیں کرے اس کی ہر زاویہ سے تعریف و توصیف کرے اور اگر شیطان کا غلبہ ہو جائے تو اس سے جو جو چاہے کرے، سرسے پاﺅں تک مگر پھر غسل کر کے توبہ کر لے بس!

کیونکہ وہ بیچارہ تو مرد ہے مگر سماج کو یہ قبول نہیں کہ میں بھی شادی کے بعد شوہر سے بوریت محسوس کر سکتی ہوں اور اگر کرنے لگوں تو اس کے اور زیادہ قریب ہو جاﺅں وہ بھلے دھتکار دے مگر میں سمجھوں وہ تھکا ہوا ہے۔ میں کسی اور مرد کو بھی کسی اور نظر سے نہیں دیکھ سکتی کیونکہ میں بیوی ہوں۔ میں تو کسی اور مرد کے بارے میں کسی اور زاویہ سے سوچ بھی نہیں سکتی کیونکہ میرے نکاح میں میرا دماغ بھی شامل تھا جیسے بدروحیں نکاح میں بندھ جاتی ہیں بالکل یونہی….!

چونکہ یہ حدود بیوی پر لاگو ہوتی ہیں اور میں بھی بیوی ہوں کیا ہوا کہ شوہر اور مجھ میں صرف اتنا فرق ہے کہ وہ مردانگی سے Expire ہونے والے تھے اور میں ابھی شناختی کارڈ بنوانے کے قابل ہوئی تھی۔ سماج کا خیال تھا کہ عورت کی شناخت اس کا سسرال اس کا شوہر ہے لہٰذا شناختی کارڈ بھی وہاں جا کر ہی بنوانا شگن ہوتا ہے۔ اول تو یہ بھی سماج کے قانون سے کچھ آگے کا سفر ہو گیا قانون کی پہلی شق میں تو زبانی تحریر ہے کہ لڑکی کو بلوغت شوہر کے گھر ہونی چاہئے۔ اتنا سفاک قانون تھا مگر پھر بھی سماج، اتنا ظالم بھی نہیں۔ رائی برابر راہ نجات زہر دے ہی دیتا ہے کہ چلو شناختی کارڈ جتنی ہی سہی، اور اب اللہ کے کرم سے میرے چار بچے ہیں۔ پہلے دو تو اکٹھے ہی ہو گئے ان کو شاید خطرہ تھا کہ کہیں Expire date نہ آجائے اور پھر اگلے دو سالوں میں چار مرتبہ تک جنت کی حامل ہوگئی۔اس کے بعد بھی جنت میرے قدموں تلے آجاتی مگر اب وہ Expire ہونے سے بچنے کے لئے تمام تر دوائیاں کھاتے ہیں اور ان کا اپنا خیال ہے کہ بس اتنے ہی بچے بہت ہیں مگر یہ بھی ان کا اپنا ذاتی خیال ہے جو ان کی تمنا دل کے مترادف ہے متضاد ہے مگر وہ یہ کہہ نہیں سکتے کیونکہ اب….!

لیکن سماج کو یہ سب قبول ہے میری آرزوِ دل کو سماجی قوانین میں دخل نہیں۔ نئی قانون ساز اسمبلی کا بھی خیال ہے کہ قانون میں نقص نہیں لہٰذا مجھے ماننا پڑتا ہے کہ تمنا دل اور قانون دونوں علیحدہ ہیں۔

میں ایک عورت ہوں اس لئے یہ سب نہیں کہتی بلکہ میں تو ایسے بہت سے مردوں کو بھی جانتی ہوں جو سماج کو پسند نہیں لیکن چونکہ وہ مرد ہیں بقول سماج کے نہائے دھوئے گھوڑے اس لئے ان کو نہ پسند ہونے کے باوجود ایک ظاہری قبولیت مل ہی جاتی ہے۔ ہاں وہ نکڑ والے انکل وہ جو پروفیسر ہیں کسی کالج میں، کسی بڑے کالج میں تو وہاں بڑے بڑے لوگ ہی آتے ہوں گے۔ باہر کا کالج ہے کوئی شاید مگر ریشم بھی وہیں پڑھتی ہے۔ وہ تو بڑے لوگ نہیں۔ ریشم بھی دوسری طرف کے نکڑ والے گھر میں ہی رہتی ہے اور پروفیسر انکل نے ہی اسے اپنے کالج میں داخل کروایا تھا وہ بتاتی ہے کہ پروفیسر انکل وہاں لڑکیوں کو….مطلب ان کی شہرت کوئی ٹھیک نہیں ہے اس لئے وہ سماج کو قبول نہیں ہیں مگر مزے کی بات تو یہ ہے کہ پروفیسر انکل کو بھی پرواہ نہیں۔ وہ خود کو سماج کی پسند میں شامل نہیں کرتے سماج کی ڈگر پر خود کو نہیں ڈالتے بس وہ تو….!

ہاں ریشم ہی بتاتی ہے کہ وہاں بڑے بڑے نامی گرامی پاکی پروفیسر بھی ہیں جو دروازے بند کر کے عبادت کرتے ہیں اس وجہ سے سب ہی ان سے عقیدت رکھتے ہیں اور سماج ان کو باوضو قبول کرتا ہے۔

لیکن ہائے وہ فرمان بیچارہ ہے جب میں بیاہ کے بعد بڑی ہو گئی اس وقت وہ بھی تقریباً میرے جتنا ہی چھوٹا تھا مگر میں بڑی ہو گئی اور وہ چھوٹا ہی رہ گیا۔اس کی ماں تو اس کو اور دو بڑی بیٹیوں کو پیدا کر کے اللہ کو پیاری ہو گئی دونوں بہنوں کا تو باپ نے نکاح کر دیا اور پھر خود سہرے باندھ لئے۔ دلہن بھی جہیز میں تین سابقہ کاکے لے کر آئی۔ منہ دکھائی میں باپ نے بھی فرمان دیا اور بَری میں دو بیٹے اور ایک بیٹی تین سال کے عرصہ میں ملے، یوں گھر بھر گیا جہاں ایک ہنگامہ بپا رہتا۔

مگر بے چارہ فرمان ہے اچھا۔ میرے شوہر سے چوری مجھے ڈائجسٹ اور رسالے پڑھنے کو لادیتا ہے، نمانا اور اپنی سوتیلی ماں کو خبر بھی نہیں ہونے دیتا بھابھی کہتا ہے مجھے۔ بس میرے میاں کو بھی اسی لفظ کی تسلی ہے ورنہ تو وہ شاید فرمان سے بھی پردہ کرنے پر زور دیتا، مگر فرمان چونکہ بے چارہ ہے اس میں کمی ہے اس لئے سماج کو بڑا پسند ہے بڑا مقبول ہے محلے میں۔ پتلا سا، سوکھا سا، پیلارنگ روز بروز پیلا ہوئے جا رہا ہے جیسے روز بروز میں موٹی ہوتی جا رہی ہوں مگر نہ سماج کو پتہ ہے کہ وہ کیوں پتلا ہو رہا ہے؟ اور نہ ہی یہ کہ میں کیوں موٹی، مگر وہ نمانا تومیرے بچوں کو پروفیسر کے گھر ٹیوشن چھوڑنے اور لینے جاتا ہے کیونکہ اس کے بھی چھوٹے بہن بھائی پروفیسر صاحب کی بیٹی سے ٹیوشن پڑھتے ہیں۔

پروفیسر صاحب کے سامنے والے گھر میں ایک بہت ہی باعزت انکل اکرام رہتے ہیں۔ سارے محلے میں لوگ ان کی بڑی عزت کرتے ہیں۔ ہائے شکل پہ بھی کیا نور ہے سچی! اللہ کی دین ہے بس دیکھو تو کوئی نورانی پہنچے ہوئے بزرگ لگتے ہیں محلے کی کچھ آنٹیاں تو کہتی ہیں کہ ہمیں مرید کر لیں، مگر وہ کہتے ہیں لو بھلا میں کہاں اس قابل….سنا ہے ایک دفتر میں کام کرتے ہیں وہاں بھی لوگ ان کی بہت ہی عزت کرتے ہیں، کسی اچھے عہدے پر ہیں بہت سے لوگ ان کے گھر آتے جاتے ہیں۔ مٹھائیاں اور تحائف لے کر وہ بھی بڑے فیاض دل ہیں۔ کھانا کھلائے بغیر کسی کو نہیں بھیجتے مگر ان کی بیوی اور بیٹی کو محلے والوں نے کم کم ہی دیکھا ہے۔ بس ہر گیارہویں شریف کو جو میلاد ان کے گھر ہوتا ہے وہاں ان سے ملاقات ہو جاتی ہے بیٹا اسلام آباد پڑھنے گیا ہوا ہے بڑے ہی بھلے مانس انسان ہیں۔

اماں کے ہاں چونکہ اتنا جاتی نہیں کیونکہ اماں کا کہنا ہے کہ شوہر کو اکیلا چھوڑنا مناسب نہیں ہوتا۔ خصوصاً جب اس کی ماں بھی نہ ہو تو، وہ غیر عورتوں کے چکر میں پڑ جاتا ہے۔ اب اماں کو کیا معلوم کہ اس چکر کے چکر ہی کا خدشہ نہیں رہا…. مگر پھر بھی صبح جاﺅ شام آجاﺅ….!

اسی سبب کسی سہیلی سے ملاقات نہیں ہو پاتی۔ پھر بچوں کے بکھیرے علیحدہ ان بکھیروں میں نہ کسی کی خیر نہ خبر…. بس صبح شام، رات دن…. آج فرمان نہیں آیا، بچوں کو لے کر ذرا دس منٹ اور دیکھ لوں پھر جا کر اس کی اماں سے پوچھتی ہوں کیا ہوا….؟دس منٹ بھی بیس بن کر گزر گئے فرمان کے گھر سے معلوم ہوا کہ اس کا فون آیا تھا کہ وہ آج لیٹ ہو جائے گا اس لئے بچوں کو لے آنا، اب میرے تو مہمان آئے ہوئے ہیں تم اپنے بچوں کو لینے جاﺅ تو میرے بھی لے آنا۔

میں اپنا سا منہ لے کر رہ گئی میاں صاحب تو یہ چاہتے ہی نہیں کہ پروفیسر صاحب کے گھر جاﺅں۔ اب کیا کروں۔ اگر چلی گئی تو غصہ ہوں گے، چارہ بھی کوئی نہیں اس کے سوا اور آخرکار بے اختیار پروفیسر صاحب کے گھر کی طرف چل پڑی،یہ بھی بھول گئی کہ گھر کو تالا نہیں لگایا رستے میں خیال آیا۔ابھی چند ہی قدم دور تھی کہ انکل اکرام اپنی گاڑی سے نکلتے دکھائی دئیے گھر کا تالا کھولنے لگے۔ سوچا انہی سے کہہ دوں کہ اندر سے بلوا دیں تاکہ سرتاج ناراض نہ ہو جائیں۔

انہیں کہا تو فوراً مان گئے مگر شرط رکھی کہ ”نہیں بھئی ہمارے گھر کے پاس سے گزرو اور خالی منہ رہو، ہماری مہمان نوازی پہ حرف آتا ہے اندر چلو بس دس منٹ“ اور میں لاچار اندر چلی گئی، ان کی چونکہ شہرت بھی اچھی تھی سوچا بھی کچھ نہیں۔ گھر پہ کوئی بھی موجود نہ تھا مگر گھر بہت سلیقہ و قرینہ سے صاف ستھرا تھا، میز پر سب کچھ یوں موجود تھا کہ گویا پہلے سے ہی معلوم تھا کہ کوئی آنے والا ہے۔ انہوں نے کوک اور فانٹا میں سے فانٹا یوں اٹھائی جیسے کہ انہیں معلوم ہو کہ مجھے فانٹا ہی پسند ہے اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بوتل گلاس میں ڈالنے لگے۔ یہ سچ تھا کہ مجھے فانٹا پسند ہے مگر ان کو….خود کوک پینے لگے میں گھبرائی گھبرائی سی تھی۔ انہوں نے مجھ سے دھیمے لہجے میں باتیں شروع کیں تو مجھے اطمینان سا ہو گیا ان کو تو جیسے سب خود ہی معلوم ہو جاتا آج مجھے احساس ہوا کہ وہ واقعی پہنچے ہوئے بزرگ ہیں۔ گھنٹے بعد ان کے گھر سے نکلی تو آج کئی سالوں کے بعد خواہشوں کی گٹھڑی میرے کاندھوں پر نہ تھی، بوجھ سے مُبرا تھی، پُرسکون، ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی آج میرے اندر اور باہر سب کچھ سانس لے رہا تھا بہت عرصے کے بعد۔ پھر انکل نے پروفیسر صاحب کے گھر سے سب بچوں کو بلوا دیا میں بچوں کو لے کر گھر پہنچی تو سرتاج آچکے تھے۔ برہم ہوئے کہ میں کیوں گئی بچوں کو لینے، ابھی میں نے جواب بھی نہ دیا تھا کہ دروازہ کھٹکا۔

بھابھی بچے آگئے معاف کرنا مجھے کام پر گیا تھا اماں کو کہا تھا لے آنا….!

میںنے دروازہ کھولا، ہاں میں بچوں کو تو لے آئی ہوں اکرام انکل سے کہا تھا کہ وہ اندر سے بلوا دیں، وہ بلا لائے سچ میں بہت ہی پہنچے ہوئے ہیں، سب ان کی صحیح تعریف کرتے ہیں۔

میں نے کن انکھیوں سے دیکھا سرتاج اندر جا چکے تھے انہیں یہی سن کر تسلی ہو گئی تھی اچھا بھابھی…. وہ ذرا حیرانی سے بولا۔

”ہاں فرمان جب احتیاطیں اور مجبوریاں مل جائیں تو عذاب بن جاتی ہیں مگر سماج کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔“

٭٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے