سر ورق / تخلیق کار …رابعہ الرباء

تخلیق کار …رابعہ الرباء

تخلیق کار

رابعہ الرباء

جب وہ دیکھتا کہ شبِ وصل کی سعی رنگ لے آئی اور تخلیقی جوہر نے اپنا کام شروع کر دیا تو بے قراری و بے چینی اس کو مضطرب کر دیتے۔ اس کا انگ انگ دُکھنے لگتا پَور پَور میں درد ہوتا، کبھی دل بیٹھتا تو کبھی اُچھلتا محسوس ہوتا، دماغ شَل ہو جاتا۔ وہ سمجھ جاتا کہ معمہ کیا ہے؟

اور تب وہ اپنے خصّی جذبات کی مسیحائی کرتا، اپنے کارگر ہتھیار سے کسی چاند کی چاندنی چھین لیتا کسی کنوار جذبے کو لمحہ وصل میں بدل دیتا، کسی دل کے باغ کی نرم مٹی پر اپنے نقش چھوڑنے چل پڑتا، کبھی اپنی آواز سے تو کبھی وجود سے….!

وہ اپنے تخیل پہ اعتبار کرتا، سمجھتا تھا کہ لمس ایک مرض ہے، ایک نشہ جو بے منزل، بے نشاں راہوں کا راہی رہتا ہے…. جس میں قوتِ انعکاس و جذب ہے…. یہ قوت سانپ…. اک زہریلا اژدھا ہے….جو خامشی سے آتا ہے، ڈستا ہے اور چلا جاتا ہے اور….اور یہ نازک جذبہ، کہ نازک بدن میں سختی اور زہر بھر دیتا ہے اس لئے….بس اسی فلسفہ خودی نے اُسے کبھی مریض نہ بننے دیا۔

لہٰذا بادل کی طرح جو ہر جگہ ایک ہی وقت میں نہیں برستا…. خیال رکھتا ہے کہ کہاں بارش کی ضرورت ہے، کسے پیاسا رکھنا ہے، کہاں دھوپ چمکانی ہے…. وہ زمین کی خاصیتوں و کیفیتوں سے واقف …….. ہے۔

بادل بھی برسنے کے لئے ایک طویل انتظار کے زلزلے سے گزرتے ہیں۔ یہی کیفیات اس پر بھی آتیں….زمین کی جدائی میں….فراقی محبت میں ضبط و صبر کے طویل لمحوں میں بھی وہ قوت نفوذ بیدار رکھتا….اس کے بھیجے خشک قطروں کے پتھر اپنے سینے پہ سہنا….اور ان مرمریں پتھروں کو نشانیِ محبت سمجھ کر سنبھالتا، تب کہیں ان کا پیمانہ لبریز ہوتا ہے تو آسمان رقصاں تو کبھی خامشی سے خود کو زمین کے حوالے کر دیتا ہے۔

وہ خود آشنا پھول، گوشہ نشینی….تنہائی….فراق، ضبط….شدتِ جذبات کے موسموں کی سختی تو جھیل لیتا مگر قربت کی نہیں….!

لیکن پھر بھی وہ قریب، قریب تر ہوتا چلا جاتا کہ اپنے فلسفے کو کسوٹی پر پرکھ سکے۔ وہ اپنے فلسفے کی کسوٹی پر اس حسین شاہکار کو اپنی سانسوں سے سُولی پر چڑھا دیتا۔ اس کو بَلی کی شے بنا دیتا۔

اس کے سوا وہ کیا کرتا، بلاﺅں سے نجات کا ایک ہی تو ذریعہ تھا۔ ایک ہی تو طریقہ تھا…. جو ہر دور میں، ہر قوم مختلف انداز و اطوار سے دیتی آئی ہے۔

آدم سے یہ سلسلہ جاری ہے اور صور اسرافیل تک جاری رہے گا….!

لہٰذا شائبہ گناہ و ندامت اور بوجھ نفس و ضمیر و قلب نہیں تھا اس میں….طمانیت، قرار، سکون اور شانتی ہی شانتی کا رستہ ہے یہ….!

قربت کی آگ راکھ میں نہیں لگتی وہ جانتا تھا، سو خشک لکڑی، گھاس پوس، کنوار صورتوں کا متلاشی رہتا۔

وہ ایسا صنم آشنا تھا کہ اس کو یہ صورتیں مل بھی جاتیں۔ وہ باسی بھی تو اس باغوں کے شہر کا تھا جن میں تتلیاں باغوں میں، پھولوں کے گرد گھوما کرتیں، ناچا کرتیں، تھک جاتی تو پناہ بھی انہی پھولوں پر لے لیتیں۔ مگر وہ سب سے نایاب و کمیاب تتلی ہی کا انتخاب کیا کرتا…. اس نے اب کی بار بھی ایسا ہی کیا، تخلیق کار تھا ناں….سنگ تراش کی طرح، ترکھان کی طرح، جو صنم تراشتے اور کاٹتے وقت کبھی یہ نہیں دیکھتے کہ ان پتھروں اور لکڑیوں میں دل کہاں ہے صرف یہ دیکھتے کہ چھبیلاپن کہا آئے گا اور چَھب تختی کہاں رنگ لائے گی….؟

یہی تو حُسن و ذوقِ حسن کا رسیا جانتا ہے، اسی لئے تو فن کار کہلاتا ہے۔ جو خود تو مٹی میں مٹی ہو جاتا ہے مگر مٹی کی روح کو جسم دے کر زندہ چھوڑ جاتا ہے۔ جو کبھی وینس بن جاتی ہے تو کبھی تاج محل، کبھی احرام مصر تو کبھی ہیر وارث شاہ، کبھی سیف الملوک تو کبھی ڈیفوڈِل….!

تب ہی تو اس نے بے نیازِ قلب اس تتلی منش، پھول مانند، چندِ مہتاب، رُخ روشن، صوت مخمور و نفس پرست و نفس پرور پر نظر عنایت کر دی۔

جو اُسے ایک فون کال پر ملی تھی، اُسے نوکری کی ضرورت تھی، جس کو اس نے اپنی حاجت کی خاطر پورا کر دیا۔ اب وہ اس کے ساتھ والے کمرے میں اس کلر کی کرسی پر بیٹھی تھی۔ جس پر کبھی بیٹھی ایک مجبور آواز اس کے کانوں میں نفوذ ہو کر اس کے وجود کا حصہ بن چکی تھی۔

”آپ کی آنکھوں کی تنہائی اور بے کسی و بے بسی کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آپ کی آواز کی اس دل فریبی و دل کشی کے قصے آپ کے لہجے میں رقص کرتے ہیں تو آپ کو ان لفظوں کی ضرورت کیوں….؟ آپ کو گِلہ لا حاصلی و تنہائی کیوں؟“

سمجھ سکتی ہوں….! لیکن یاد رکھئے گا کہ آپ کا اکیلا پن نہ تو کبھی کم ہو گا، نہ ہی آپ کسی صاحب علم و عقل پر یہ باور کروانے میں کامیاب ہوں گے کہ آپ بہت سخی ہیں۔ بہت بندہ پرور ہیں۔ دیکھئے یہ دل فریبیاں بہت دلکش و دلنشین ہوتی ہیں….بہاروں کی مانند….!

تخلیق کرم و الہام سہی مگر…. خالق حسین ہو نہ ہو پُرکشش ضرور ہوتا ہے۔مقناطیس کی مانند، تب ہی تو صنفِ نازک کی طرف کھچے آنے کا عمل جاری ہے….!

پھول پھول کے رازِ وصل سے آشنا ہے، فن کار ہی خصوصیات فن سے باخبر….، ہر مخلوق اپنی زبان و رمز سے آشنا….!

یہ خود فریبی کے چند جملے….؟ آہ….محبت نہیں یہ….محض….!

لیکن پھر بھی وہ اس کرسی کا معترف، معترض، معتبر، اور معتقد تھا۔ جب بھی اس کو نطفہ خلق مضطرب کرتا وہ اس کمرے میں آجاتا، جو انتہائی چھوٹا سا گوشہ امن تھا۔ جس میں ایک وہ کرسی، ایک بڑا میز جس پر کمپیوٹر اور فائلیں، ایک طرف لکڑی کی بنی الماری جس میں دفتری کاغذات و فائلیں دیواروں پر ٹی پنک رنگ، مونا لیزا کی تصویر، ونیزا کا کیلنڈر، ایک طرف درختوں سے جھانکتے چاند کی تصویر تھی اور دو کرسیاں اس معتقد کرسی کے سامنے تھیں جس میں سے ایک پر وہ برجمان ہو جاتا۔

کتنا قرار تھا اس کرسی کے روبرو ہونے میں، کتنی مسیحائی تھی، کیسا حسین احساس تھا اور اس کرسی سے آنے والی آواز کبھی سہمی سہمی، کبھی دلفریب، کبھی پُراعتماد، کبھی سخت، کبھی مضطرب، کبھی اکتاہٹ کے پھولوں کی نمی لئے….مگر وہ ان سب سے بے نیاز و بے خبر رہتا کیونکہ اُسے ان لہجوں سے کوئی غرض نہ تھا۔ اُسے تو اپنے نطفہ خلق کی بے قراری کا قرار مقصود تھا۔ اُسے معلوم تھا کہ دورانِ حمل تکلیف و کرب کے کئی لمحے آتے ہیں۔ پھر بھی ذہنی تناﺅ کو کنٹرول کرتے رہنا چاہئے تاکہ نومولود نقص سے پاک رہے اور اچھے تخیل و تفکر کو زیبِ تن و زیبِ من رکھنا ضروری ہوتا ہے اسی لئے وہ خود کو بکھرنے نہ دیتا تھا۔ جب تک مبتلا کرب رہتا، ایسا ہی کیا کرتا۔

جب وہ ان لمحوں کی مستی سے سرشار و بے قرار ہو جاتا تو وہ اپنی آنکھیں اس کرسی پر گاڑھ دیتا، اور ایسے گاڑھتا کہ اس کا وجود زخمی ہونے لگتا۔ وہ اس وجود کی بتی بن کر جلتا اور وہ موم ٹپ ٹپ ٹپکتی رہتی….وہ نگاہوں سے ایسے وار کرتا کہ روح و جسم زخم زخم ہو جاتے جب نگاہیں نگاہوں سے چار ہوتی تو وہ جبری زنائی اور دو گل داﺅدی بن جاتیں۔ جن کو مالی نے تازہ پانی دیا ہو۔

مگر اس نے کبھی نہیں سوچا کہ اگر کوئی ان آنکھوں کا عادی ہو گیا تو…. اگر کوئی ان نگاہوں کا گھائل ہو گیا….تو….اگر کوئی بت ان نگاہوں کی تاب سے ٹوٹ گیا تو….اگر کوئی ان نگاہوں کا فقیر ہو گیا تو….اگر کسی نے ان نگاہوں کی وجہ سے جوگ لے لیا تو….اگر کوئی کانچ ان نگاہوں کے الاﺅ سے کرچی کرچی ہو گیا تو….!

اگر کوئی ان نگاہوں کے قدموں میں گر گیا تو…. اگر ان نگاہوں کے الٹ پلٹ سے ان نگاہوں کا لاوا پھٹ پڑا تو…. اگر ان نگاہوں کی وجہ سے وہ نگاہیں صاحب نظر نہ رہیں تو…. اور اگر کوئی ان نگاہوں سے روح و جسم کی جدائی میں مبتلا ہو گیا تو….!

مگر نہیں اس نے ایسا نہیں سوچا، کیونکہ اسے علم تھا کہ یہ فطری رویے ہیں اور ان کا مرہم وقت خود ہے۔ لیکن وقت کسک کے سوراخوں کو نہیں بھر سکتا اور یہ ہمیشہ پرانی چوٹوں کی طرح یادوں کی ٹھنڈ میں دُکھتے رہتے ہیں۔

اس نے شاید اسی شیوہ زیست کو سلام کئے رکھا۔ مگر وہ مخلوق کے ساتھ ساتھ اشرف بھی تھا اور پھر اشرف کے ساتھ ساتھ ایک خالق کا…. وہ خالق کہ جسے بناتا کوئی اور ہے اور اپناتا کوئی اور…. مگر نہ وہ بنانے والے کا بن پاتا ہے نہ ہی اپنانے والے کا….!

دل درد مند تو اس کا بھی تھا جو کبھی دل گرفتگی سے دل گداز ہو جاتا۔ اس لئے کبھی کسی تتلی کے دم توڑنے سے، کسی پھول کے شاخ سے ٹوٹ جانے کے باعث، کسی پتی کے کُملا جانے سے کبھی کسی بادل کے کسی پھول کے گال پر گرے اشک سے اسے بھی درد ہوتا تو صرف اتنا کہ جتنا بال کٹواتے ہوئے قینچی اچانک لگ جانے سے، شیو کرتے اچانک کٹ لگ جانے سے…. اور آفٹر شیو لگانے سے صرف ایک تیز چبھن ہوتی….اور دھیرے دھیرے چہرے پہ اس کٹ کا نشان بھی نہ رہتا….!

جو زخم اپنے نقش نہ چھوڑ سکتے ہوں وہ تو یادوں کے بازار میں نظر بھی نہیں آتے، اور یادوں کی پٹاڑی میں بھی عارضی کٹ، ادھ موئے سانپ کی سی حیثیت کے بھی مالک نہیں ہوتے۔ ہاں اگر یہ نگاہوں کا کھیل میدان خلق میں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر پاتا تو وہ آہستہ آہستہ فاصلے کم کرنے لگتا۔ اور اتنا کم کر دیتا کہ بدنوں کی حدتوں، کیفیتوں اور مہکوں کے تبادلے کا احساس ہوتا۔

لیکن یہ وہ قربتیں تھیں جو نہ فاصلوں کو ختم کرتی تھیں اور نہ ہی قربتوں کو مکمل…. مگر…. یہ پُل صراط کا سفر کبھی طول اختیار کر لیتا تو کبھی لمحوں میں طے ہو جاتا۔ مگر جو بھی ہوتا یہ حدت چھائے سرد بادلوں کو پھاڑ دیتی۔ ہر طرف اُجالا ہو جاتا۔ قوس قزح کے رنگ کبھی تو فوراً ہی بکھر جاتے تو کبھی کچھ دیر بعد اس کو اپنے رنگ میں رنگ لیتے…. تب اس کی مخفی قوتیں بیدار ہوتیں۔

یہ حدت اک پارس تھی شاید کہ جسم و روح سب مست و معطر ہو جاتے اور کمرے میں تارے ضوفشانی کرتے۔ جن کا چاند وہ خود بن جاتا اور چاندنی…. چاندنی شرمائے شرمائے، دھیرے دھیرے خود ہی بکھرتی چلی جاتی…. جوں جوں یہ چاندنی بکھرتی جاتی، اُس کا فولادی بدن نرم و مخمور ہونے لگتا۔ وہ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتا…. اس کا دل چاہتا….!

”ہواﺅں میں اُڑوں…. فضاﺅں میں رومانی گیت گاﺅں…. صبح بیدار مست پرندے کی مانند اٹھکیلیاں کروں….اور سورج چڑھے کسی آنگن میں جا بیٹھوں اور اک حسین شام کا انتظار کرتے کرتے، آنکھیں موندے، دو چار ڈوبکیاں نیند کی ندی میں بھی لگا آﺅں…. اور پھر اک حسین شام ہو….بہاروں کی مہکتی شام ہو جائے پھر وہ شام اداس ہو اور رات میں بدل جائے…. اور….اور….میں پھر رات کا چاند بن جاﺅں….تارے پھر رقص کریں اور چاندنی پھر رات بھر دھیرے دھیرے….!“

اب اس کی راتوں میں یہ چاندنی بکھرنے لگی۔ چاند، ستارے اور کہکشائیں اس کے کمرے کو منور کرنے لگے۔پھر….پھر….!

ایک رات ایسی آئی جب اس کا یہ عمل اپنے عروج کو پہنچ گیا اور صبح کاذب تک نقطہ اختتام ہوگیا۔

اس نے لکھے افسانے کا مسودہ بیگ میں رکھا، موبائیل بند کیا، بتی بجھائی اور سکون کی نیند سوگیا۔

٭٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے