سر ورق / دشتِ بے اماں ڈاکٹر افشاں ملک علی گڑھ ، انڈ یا

دشتِ بے اماں ڈاکٹر افشاں ملک علی گڑھ ، انڈ یا

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 83

دشتِ بے اماں

ڈاکٹر افشاں ملک علی گڑھ ، انڈ یا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سرکاری افسر کے انکشاف نے حمیدہ بانو کوایک جھٹکے میں آسمان سے زمین پرلا پٹخااوریقین کی وہ عمارت پل بھر میں زمیں بوس ہو گئی جس کی تعمیر میں انہوں نے آدھی صدی لگا دی تھی ۔انہیں لگا جیسے عمر بھر کی ریاضت کے بعد اعمال نامہ ان کے بائیں ہاتھ میں تھمادیا گیاہو۔

افسر کی زبانی سماعتوں میں اترنے والا وہ سفاک جملہ روح کو چھلنی کر گیا ۔ الفاظ کی چنگاریاں ایک لمحے میں پورے وجود کو خاکستر کر گئیں ۔ نظروں کے سامنے دھند سی چھا گئی ۔ اضطراب میں کرسی سے اٹھ کر واپسی کے لیے قدم بڑھائے تو یوں لڑکھڑائیں کہ گرتے گرتے بچیں۔ان کی یہ کیفیت دیکھ کر افسر بھی گھبرا گیا۔حمیدہ بانو کوبیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے میز پر رکھی گھنٹی بجائی اورچپراسی کو پانی لانے کا حکم دیا۔ پلک جھپکتے ہی چپراسی پانی لے آیا۔اشارے سے پانی حمیدہ بانو کو دینے کو کہااورایک ہمدردانہ نگاہ ان پر ڈال کر گویا ہوا ”ماں جی! میں آپ کا دکھ سمجھ رہاہوں، یہ ظلم نہیں بلکہ جرم کیا ہے آپ کے ہسبینڈ نے اورجاتے جاتے وہ ہمارے ہاتھ اس کاغذسے باندھ گیا ہے۔“ افسرنے ایک دستخط شدہ تحریری کاغذ ان کے سامنے رکھ دیا۔“ مگرحمیدہ بانو تو جیسے پتھر کی ہوگئی تھیں،کچھ سن ہی نہیں رہی تھیں۔ پانی کا بھرا گلاس یوں خالی کر دیا جیسے جنم جنم کی پیاسی ہوں پھر بمشکل تمام خود کو سمیٹا اور دفتر سے باہر آکر وہاں پڑی بینچ پر بیٹھ گئیں۔لب خاموش رہے لیکن شکوہ بھری آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائیں اور سر جھکا لیا ۔انہوں نے توخواب و خیال میں بھی نہ سوچا تھا کہ زندگی میں کبھی وہ لمحہ بھی آئیگا جب حقیقت اتنی سفّاک اور وقت اتنا بے رحم ہوجائیگا ان کے لیے۔

دفتر سے نکل کر اپنےٹوٹے بکھرے وجود کو لیے حمیدہ بانو کسی طرح گھر پہنچیں اوربستر پر ڈھئے سی گئیں۔ خاموش چہرے پر اس بلا کی ویرانی تھی کہ دیکھ کر سلیمن ڈر گئی ۔یوں لگ رہا تھاجیسے کسی نے بدن کا سارا خون نچوڑ لیا ہو ۔آنکھوں میں وحشت سی بھر گئی تھی لیکن لب خاموش تھے ۔

”کیا ہو ا ہے آپا جی؟کہاں گئی تھیں آپ؟ اتنی خاموش کیوں ہیں ؟ کچھ تو بولیں؟ ” لیکن حمیدہ بانو کے لب نہ کھلے۔” اچھا میں فرح یا زیبا بی بی کو فون لگاتی ہوں۔مجھے کیا ،چل پڑیں گی وہ سنتے ہی، پھر مجھے کچھ مت کہنا۔۔۔!“سلیمن نے تو اس لیے دونوں بیٹیوں کے نام لیے تھے کہ وہ ہمیشہ کی طرح تڑپ کر بول پڑیں گی کہ”چھوٹی چھوٹی باتوں پر بچیوں کو پریشان نہ کیا کرسلیمن ! “ لیکن حمیدہ بانو کی خاموشی بچیوں کے نام لینے پر بھی نہ ٹوٹی۔ سلیمن تو حمیدہ بانو کے ہر راز سے واقف تھی مگر اب اندازہ نہیں لگا پا رہی تھی کہ ایسا کیا ہو گیا جو حمیدہ بانو ایسی لُٹی لُٹی سی گھر آئی ہیں۔آخر گئی کہاں تھیں یہ ؟ بار بار خود سے ہی پوچھ رہی تھی ،اس کی فکر بھی بجا تھی ۔ بہنوں جیسا پیار دیا تھا سلیمن کو انہوں نے ۔تھی تو وہ حمیدہ بانو کے پشتینی ملازموں کی بیٹی لیکن جوانی میں ہی بیوہ ہو گئی تھی۔سسرال والوں نے اسے منحوس کہہ کر گھر سے نکال دیا۔ واپس آکر وہ اپنےوالدین کے ساتھ مالکوں کی خدمت کرنے لگی۔کچھ عرصے بعد سلیمن کی خواہش پر حمیدہ بانو اسے اپنے ساتھ لے آئیں اور چھوٹی بہنوں کی طرح ہر وقت اپنے دم کے ساتھ لگائے رکھا،کبھی خادمہ نہ سمجھا۔

حمیدہ بانو اپنے والدین کی آخری اولاد تھیں۔جب تک جوان ہوئیں والدین بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ چکے تھے۔اپنی ساری ذمہ داریاں پوری کر چکے ان کے والدین کی بس اب یہی خواہش تھی کہ حمیدہ بھی ان کی زندگی میں ہی اپنے گھر کی ہوجائے۔ امّاں کا تجربہ کہتا تھا کہ جب بڑی اولادوں کے سامنے ان کی اپنی اولادوں کی ذمہ داریاں ہوں تو والدین کی اولاد دوسرے درجے پر آجاتی ہے ۔ اماں کی تشویش بجا تھی مگر ابّا پُریقین تھے کہ ان کی خاندانی نجابت اور حمیدہ بیٹی کی سادگی کسی سے چھپی نہیں ہے۔کوئی اچھا رشتہ ضرورآئیگا ان کی بیٹی کے لیے اور ہوا بھی یہی۔قریب کے ہی گاؤں کے چودھری اپنے بیٹے کے لیے سوالی بن کر آگئے۔متمول اور معتبرلوگ تھے،ملکیت میں بڑی اراضی کے ساتھ ہی لڑکا سرکاری نوکری میں اچھے عہدے پر تھا سورشتہ منظور کر لیا گیا اور جلد ہی حمیدہ بانووالدین کی دعائیں سمیٹے چودھری خاندان میں بہو بن کر آگئیں۔

حمیدہ بانوکے شوہرچودھری قیصربھی اپنے گھر میں سب سے چھوٹی اولاد تھے،ان کے والدین بھی بوڑھے ہو چلے تھے۔ حمیدہ بانو نے والدین کی طرح ہی ساس سسر کی خدمت کو بھی اپنا نصب العین بنا لیا۔ویسے بھی حمیدہ بانو کے دو ہی شوق تھے، گھرداری اورخدمت گزاری۔ کہیں آنے جانے سے بہت گھبراتی تھیں۔محفلوں سے بھی کتراتی تھیں ۔ شادی کے بعد دونوں طرف کے خاندانوں میں جب دعوتوں کا سلسلہ چلا تو مارے باندھے کسی طرح بس دعوتیں نمٹائیں ۔ کچھ امّاں کا بھی ڈر تھا،انہوں نے بار بار سمجھایا ہی نہیں باقاعدہ دھمکایا بھی تھا ”اپنی عادتوں کو بدلو بی بی! شادی کے شروعاتی دنوں میں منمانی کرنے والی لڑکیاں بدنام ہو جاتی ہیں سسرال میں۔ سو زیادہ چوں چرا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔خاندان والے یا تمہارے میاں جہاں لے جائیں خوشی خوشی جانا سب کے ساتھ ورنہ ہماری پرورش پر ہی انگلیاں اٹھینگی۔ “ امّاں کی اس دھمکی آمیز نصیحت پر حمیدہ بانو کچھ دن ہی عمل کر سکیں ۔دراصل وہ اپنی عادت سے مجبور تھیں ۔ کسی سے بھی جلد بے تکلف نہیں

ہو پاتی تھیں شاید اسی لیے کنارا کیے رہتی تھیں سب سے۔

مگراس سب کے باوجود حمیدہ بانو شوہر پرست اس بلا کی نکلیں کہ بس سجدہ ہی نہ کیا تھا مجازی خدا کو کہ جانتی تھیں سجدہ صرف رب کے لیے ہی ہے ۔مگر مجازی خدا کے احکام بجاتے ،گھرداری اور خدمتیں کرتے “اس رب” کے ہی سجدے سے اکثر غفلت ہو جاتی تھی ان سے جس کے لیے سجدے کا حکم تھا۔ مگرجب اپنی اس کوتاہی کا احساس ہوتاتو یہ سوچ کر خود کو تسلّی دے لیا کرتیں کہ سنا ہے ”مجازی خدا ناراض ہو توآسمانی خدا بھی کوئی عبادت قبول نہیں کرتا”۔ عجیب طرح کی دیوانگی تھی ان کی شوہر کے لیے کہ خدمت اور فرمانبرداری میں خود کو مٹائے دیتی تھیں۔ بھلی مانس نے خود کو تو کبھی معتبر جانا ہی نہیں ۔ شوہر نے رات کو دن کہا تو مان لیا، صبح کو شام کہا تو یقین کر لیا۔نہ کوئی سوال! نہ کسی بات پر احتجاج! نہ کوئی خواہش، نہ تمنّا ! ضد بحث کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔جھکا ہوا سر اور ”جیسی آپ کی مرضی“ کے علاوہ کوئی جملہ ان کے منھ سے نکلتا ہی نہ تھا۔! حالانکہ حمیدہ بانو کے یہ محکومانہ انداز ان کی امّاں کو قطعاً پسند نہ تھے۔وہ شوہر کے سامنے یوں بچھے بچھے جانے والی حمیدہ بانو کی عادت پر اکثر ٹوک دیا کرتی تھیں ”بی بی! یہ اپنے میاں کے سامنے تم دم دبائے کیوں پھرتی ہو؟ ایسے خونخوار تو نہیں ہیں۔ کبھی کچھ اپنی بھی منوا لیا کرو ! “ ان کی یہ بات سن کر ابّا بھی چٹکی لینے سے باز نہ آتے اوراماں کے جملے میں ہی اپنا جملہ جوڑ دیتے ”کچھ اپنی امّاں سے ہی سیکھ لیا ہوتا!“ابا کی بات پر حمیدہ بانو مسکرا کر رہ جاتیں ۔

دراصل میاں بیوی کے رشتے کا یہ رمز حمیدہ بانو کبھی سمجھ ہی نہ پائیں کہ احترام کا مطلب سرجھکانا ہر گز نہیں ہے ۔شوہر کے سامنے اُٹھا سر عورت کو معتبر کرتا ہے ، جھکا سر غلام ہونے کی پہچان ہے ۔ زوجین میں اگر ایک حاکم بن جائے تو دوسرا خود بخود ہی محکوم بن جاتا ہے۔ حمیدہ بانو اور چودھری صاحب کا رشتہ حاکم اور محکوم کا ہی بن سکا۔ دونوں میں سے کوئی بھی نہ محبوب بن سکا نہ محب ! کچھ جوڑوں کوزندگی بھر ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہیں ہوتی ہے لیکن وہ ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے ہوں یہ بھی ضروری نہیں ۔ حمیدہ بانو اور چودھری صاحب بھی ایسے ہی جوڑوں میں سے ایک تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے سے کوئی شکایت بھی نہ تھی مگر ازدواجی رشتے میں والہانہ پن بھی نہ تھا۔ پھر بھی دونوں مطمئن سے ہی تھے۔ حمیدہ بانو گھر میں خوش رہتی تھیں اور چودھری صاحب کی دلچسپیاں گھر سے باہرتھیں۔ دونوں کی زندگی اپنی اپنی ڈگر پر رواں تھی صرف یہ تھا کہ شادی کے بارہ برس گزر جانے کے بعد بھی اولاد سے محرومی تھی ۔ طویل مدت کے انتظار کے بعد بالآخربچوں کے لیے علاج معالجے شروع کیے گئے۔ ڈاکٹر،حکیم،دعا، تعویذ غرض ہرممکن طریقہ اپنایا گیا۔ ڈاکٹروں نے دونوں میاں بیوی کو جانچ کے لیے بلایا۔حمیدہ بانوبڑی معصوم عورت تھیں انہیں یہ بھی عجیب لگا کہ بچوں کے لیے مردوں کی بھی جانچ ہونا چاہیے ۔ مردوں میں کیا خامی بھلا؟ کمی تو عورت میں ہی ہوتی ہے،مجھ میں ہی ہوگی کوئی کمی۔“ نہ جانے کون سی گھڑی تھی کہ زبان سے نکلی بات سچ ہو گئی اور تمام طبّی جانچوں کے بعد لیڈی ڈاکٹرکی حتمی رپورٹ آئی کہ حمیدہ بانوکبھی ماں نہیں بن سکتیں۔ لہٰذا علاج وغیرہ کرانے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔بہت دنوں تک حمیدہ بانواس صدمے سے نڈھال رہیں کہ وہ اپنے شوہر کی نسل کو آگے بڑھا نے میں تعاون نہ کر سکیں۔۔۔!!!

وقت ہردکھ کا مداوا ہے۔صدمہ کیسا بھی ہو گزرتے وقت کے ساتھ شدّت کم ہو ہی جاتی ہے۔رفتہ رفتہ حمیدہ بانو نے بھی اس تلخ حقیقت کو قبول کر لیا اور چودھری صاحب کے سامنے دوسری شادی کی تجویز رکھ دی ۔کہنے لگیں “بھلا میری وجہ سے آپ بے اولاد کیوں رہیں آپ کے بچوں کی میں بھی تو ماں کہلاؤنگی ۔سگی نہ سہی سوتیلی ہی سہی ۔” کہنے کو تو چودھری صاحب کو دوسری شادی کا مشورہ دے بیٹھیں لیکن فوراً ہی عورت کی فطرت عود کر آئی اور دکھ کی ایک لہر نے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ اوپر سے امّاں کی زبانی سنی ہوئی کہاوت نے بھی بھی یاد آکر دل کو دہلا گئی کہ ”سوکن تو چون(آٹے) کی بھی بری۔“ مگر اب تو بات زبان سے نکل چکی تھی۔بڑی شدّت سے دعا مانگی کہ”اللہ میاں ! چودھری صاحب دوسری شادی سے خود ہی انکار کر دیں۔“ میری بات بھی رہ جائے اور آزمائش سے بھی بچ جاؤں” خدا کا کرنا کچھ ایسا ہوا کہ چودھری صاحب نے دوسری شادی سے صاف انکار کر دیا۔ حمیدہ بانو نے اپنے اندر سکون سا محسوس کیا اور چودھری صاحب کی عزّت ان کی نظر میں اور سوا ہو گئ۔

مگردوسری شادی سے چودھری صاحب کا انکار حمیدہ بانو کو وقتی طور پر ہی مطمئن کر سکا۔ اولادنہ ہونے کی کسک خود حمیدہ بانو کے د ل سے بھی کسی طور نہ جاتی تھی ،اوپر سےچودھری صاحب کی طرف سے بھی ہر وقت دھڑکا ہی لگا رہتا تھاکہ نہ جانے کب اولاد کی خواہش ان کے اندر زور پکڑ لے اور وہ کوئی سخت قدم اٹھا لیں۔ سواپنی دانست میں انہوں نے اس مسئلے کا حل کچھ یوں نکالا کہ ایک دن چودھری صاحب سے خاندان کا ہی کوئی بچہ گود لینے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔مگراس بار بھی چودھری صاحب نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ ”گود لیے ہوئے بچے بہن بھائیوں کے ہی کیوں نہ ہوں، وارث تو ہو سکتے ہیں،اولاد نہیں ہو سکتے، اولاد اپنا ہی بچہ ہوتا ہے۔“

حمیدہ بانونے پھر اس سلسلے میں خاموشی ہی بہتر سمجھی اورخود بھی صبر کر لیا ساتھ ہی چودھری صاحب کی طرف سے دل میں آنے والے تمام شکوک و شبہات بھی جھٹک ڈالے۔ یقین کی شاہراہ پر قدم رکھا تو ہر طرف روشنی ہی روشنی نظر آئی۔ دل ہی دل میں چودھری صاحب کی اعلیٰ ظرفی کا اعتراف کیا کہ “نسل آگے بڑھانے کا معاملہ تھا اور خود ان میں کوئی کمی بھی نہ تھی تب بھی انہوں نے دوسری شادی سے انکار کردیا۔ورنہ عورت سے بچے نہ ہوں تو مردکو دوسری شادی کا جواز بغیر ڈھونڈے ہی مل جاتا ہے ۔ چودھری صاحب بھی اس معاملے میں عام مردوں سے مختلف نکلے، نہ کبھی دوسری شادی کی بات کی اورنہ کبھی اولاد نہ ہونے کا ذمہ دار حمیدہ بانو کو ٹھہرایا۔۔۔!!!

وقت کا پنچھی اڑان بھر رہا تھا ۔پچھلی نسلوں نے ابدی ٹھکانوں پر بسیرے کر لیے تھے ۔حمیدہ بانو اور چودھری صاحب بھی اپنی عمر کی آدھی صدی گزار کر کچھ آگے ہی نکل آئے تھے۔ ہمیشہ کی کم گو حمیدہ بانو عمر کے ساتھ ساتھ اور سنجیدہ ہو گئی تھیں۔ ہلکے رنگ کےلباس ، چہرے پر متانت اور بردباری نے شخصیت کا احاطہ کر لیا تھا۔اپنی عمر سے کچھ بڑی ہی لگنے لگی تھیں۔ لیکن چودھری صاحب نے وقت کو جیسے مٹھی میں پکڑ لیا تھا۔صحت مند اور چاق چوبند ہونے کی وجہ سے وہ اپنی عمر سے کم دکھائی دیتے تھے۔لباس بھی اچھا پہنتے تھے۔شخصیت میں رکھ رکھاؤ تھا سو دوستیاں بھی خوب نبھاتے تھے ۔ ان کی باہر کی سرگرمیوں سے حمیدہ بانو کو نہ پہلے کوئی شکایت تھی نہ اب وہ ان پر نظر رکھتی تھیں۔اکثرحمیدہ بانو کی بھاوجیں بہنیں انہیں چھیڑا کرتیں ’’بہنا! نظر رکھا کرو چودھری صاحب پر،ایسا نہ ہو کوئی محترمہ لے اڑیں۔ شخصیت بھی شاندار ہے اور عہدہ بھی!“ حمیدہ بانوکانوں کو ہاتھ لگاتیں ” توبہ کریں آپ لوگ! جوانی کے دنوں میں ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا تو اب اس عمر میں جب ان کے دوستوں کے بچے جوان ہو چکے ہیں وہ اپنا تماشہ بنوائینگے؟“ مگر ایسا ہو گیا ۔ حمیدہ بانوچودھری صاحب کی شرافت اور اعلی ظرفی کے قصیدےہی پڑھتی رہیں اورچودھری صاحب ان کے ساتھ رہتے ہوئے بھی کب ان کے ہاتھ سے نکل گئے پتہ بھی نہ چلا۔ اتنے پکّے کھلاڑی نکلے کہ د وسری شادی کرکے دو بچیوں کے باپ بھی بن گئے اور کسی کو بھنک تک نہ لگنے دی۔ سادہ دل حمیدہ بانو توتھیں بھی اتنی معصوم کہ اگر چودھری صاحب کے بڑے بہنوئی ان کی دوسری شادی کو حمیدہ بانو کے علم میں نہ لاتے تو ساری عمر بھی ان کوپتا نہ چلتا۔ یہ کارنامہ سن کر سکتے میں رہ گئیں، انہیں اس عمر میں چودھری صاحب سے ایسی توقع نہیں تھی۔ انہیں دوسری شادی سے بھی اتنی تکلیف نہیں پہنچی تھی جتنی اذیت اس دھوکے سے پہنچی۔ چودھری صاحب اگر حمیدہ بانو کو اعتماد میں لے کر یہ قدم اٹھاتے تو یقیناََ وہ ہمیشہ کا دہرایا ہواجملہ”جیسی آپ کی مرضی“ کہہ کر سرجھکا لیتیں۔ واویلہ کرنے والا ان کا مزاج ہی نہ تھا۔بھلے ہی اندر کتنی بھی ٹوٹ پھوٹ مچتی۔

دوسری شادی کا راز کھل جانے کے بعد چودھری صاحب نے حمیدہ بانو کی طرف سے بالکل ہی آنکھیں بند کر لیں۔ ملازمت سے سبکدوش ہو کر بھی گھر نہ لوٹے ۔ حمیدہ بانو دل میں یہ سوچ کر بھی کانپ جاتیں کہ” اگر سلیمن نہ ہوتی میرے پاس تو تنہائی کے ناگ نہ جانے کس کس طرح ڈستے مجھے ۔”

نوکروں سے بس اتنی اطلاع مل جاتی تھی کہ چودھری صاحب زمینوں پرآتے رہتے ہیں۔فصلوں سے ملنے والی رقم اور باغ کی آمدنی لے جاتےہیں اوپر سے پینشن کی رقم بھی تھی۔ دوسری بیوی کے ساتھ آسودگی کے دن گزاررہے تھے اور یہ بھول بیٹھے تھے کہ پہلی بیوی کے کفیل بھی وہی ہیں۔مالی مشکلات سے جوجھ رہی حمیدہ بانو کے پاس جو جمع جتھا تھارفتہ رفتہ ختم ہو رہا تھا۔اب ہر وقت یہی فکر دل کو ہولاتی رہتی تھی کہ اگرچودھری صاحب نے خبر نہ لی توکیا ہوگا؟وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھیں کہ اونٹ کس کل بیٹھے گا؟پھر بھی ان کی منتظر تھیں۔بیٹھی بیٹھی اکثر گزرے دنوں کی کڑیاں ملا یا کرتیں کہ ان سے کہاں غلطی ہو گئی تھی؟چودھری صاحب ایسے ایک دم بغیر کچھ کہے سنے کیوں دور ہوگئے مجھ سے ؟ مگر کچھ بھی یاد نہ آتا۔یوں تودوران ملازمت حمیدہ بانو ہمیشہ ان کے ساتھ ہی رہی تھیں ، بس پچھلی تعیناتی پرچودھری صاحب نے انہیں اپنے ساتھ نہ لے جاکر آبائی گھر میں شفٹ کر دیا تھا اور اکیلے ہی دوسرے شہر چلے گئے تھے۔لیکن ہر ماہ دو ایک دن کے لیے آجاتے تھے۔تین سال سے یہی سلسلہ چل رہا تھا۔

چودھری صاحب نےبھی دوسری شادی کسی منصوبے کے تحت نہیں کی تھی ۔بس اتفاق ہی تھا کہ ایک اسکول کے کلچرل پروگرام میں وہ بطور مہمان خصوصی مدعو تھے ۔ نیلوفر خان وہیں ان سے آٹکرائی تھیں۔ چالیس کی عمر پار کر چکی نیلوفرپروگرام کی نظامت سنبھالے ہوئے تھی۔ اپنے بے تکلف انداز ِگفتگو اور قاتل مسکراہٹ سے وہ چودھری صاحب کے دل میں اتر گئیں ۔ چودھری صاحب نے پہلی ہی دستک پرخوش آمدید کہہ دیا۔ دل نے کہا ”عورت کو ایسا ہی ہونا چاہیے،خوش مزاج اور خوش گفتار!” ذہن میں حمیدہ بانو کا ہیولیٰ ابھرا لیکن فوراً ہی دھندلا گیا۔ دل نے سرزنش کی اور دماغ نے فوراََ ہی اس خیال کو باہر نکال پھینکا۔

نیلوفر جیسی عورتیں عشق پیچاں کی بیل کی مانند ہوتی ہیں ۔ اپنے وجود کی بقا کے لیے ایک تناوردرخت چاہیے ہوتا ہے انہیں ۔چودھری صاحب ایک تناور درخت نظر آئے نیلوفر کو اور جو اب تک خوب سے خوب تر کی تلاش میں کافی وقت ضائع کر چکی تھی ،مزید ضائع کرنا نہیں چاہتی تھی۔ چودھری صاحب کی شاندار شخصیت اور عہدہ دیکھا تومرعوب ہو گئی۔ یوں لگا جیسے منزل خود چل کر اس کے قدموں میں آگئی ہو، دوسری بیوی بھی بننے کو تیار نیلوفر نے پھر دیر نہیں لگائی ،خود ہی پیش رفت کر ڈالی۔چودھری صاحب کو بھلا کیا اعتراض ہوتا؟ ہفتہ بھر کے اندر نیلوفر نےچودھری صاحب کی دوسری بیوی بن کر ان کے دل و دماغ پر قبضہ کر لیا۔ شادی کو تین برس پورے ہوتے ہوتے دو بیٹیوں کے باپ بن کر چودھری پھولے نہ سمائے۔ دوسری شادی کرتے ہوئے اولاد کے بارے میں تو انہوں نے سوچا بھی نہ تھالیکن جب باپ بنے تو احساس ہوا کہ کس نعمت سے محروم تھے ۔ پھر تو نیلوفر چودھری صاحب کی کمزوری بن گئی وہ جو کہتی ویسا ہی کرتے ،جیسا سمجھاتی انہیں صحیح لگتا،جو بتاتی سچ سمجھتے ۔

چودھری صاحب کی آمدنی سے نیلوفر نے ان کی ملکیت کا اندازہ لگا لیا تھا۔ لیکن یہ سمجھ رہی تھی کہ وہاں جائے بغیر کسی بھی چیز پر اس کا قبضہ ہونا قدرے مشکل ہوگا سو اس نے چودھری صاحب کو گھر چلنے کے لیے راضی کر لیا

یوں ایک دن اچانک ہی دوسری بیگم اور بچیوں سمیت چودھری صاحب گھر آگئے۔ انداز ایسا تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔حمیدہ بانو نے بھی بغیر کوئی گلہ شکوہ کیے بڑ ھ کر بچیوں کو گلے سے لگا لیا۔آخرکو یہ بچیاں چودھری صاحب کا ہی توخون تھیں۔البتّہ نیلوفرکو انہوں نے نگاہ بھر کر دیکھا بھی نہیں۔ اگر دیکھ لیتیں تو اس کی آنکھوں میں وہ چمک بھی انہیں یقیناََ نظر آجاتی جومیدان میں اترنے والے اس کھلاڑی کی آنکھوں میں ہوتی ہے جسے یہ احسا س ہو جائے کہ جس فریق سے مقابلہ ہے وہ کمزور ہے اور اس سے بازی جیتنا بہت آسان ہوگا۔۔۔!!!

نیلوفر کا فریق کمزور بھی تھا اور معصوم بھی پھر بھی وہ ہر قدم بہت احتیاط سے اٹھا رہی تھی۔چودھری صاحب کو تو اس نے پہلے ہی شیشے میں اتار لیا تھا،وہ اس کے کسی کام یا فیصلے میں دخل نہیں دیتے تھے۔جلد ہی آمدنی اور خرچ کا پورا حساب کتاب نیلوفر نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔زمینوں کی آمدنی،دکانوں کے کرائے،پینشن کی رقم سب پر اس کا قبضہ ہوگیا۔ اپنے لیے ایک کل وقتی ملازمہ رکھ لی اورحمیدہ بانو اور سلیمن کی رہائش گھر کی اوپر والی منزل میں کردی۔ باورچی خانے بھی الگ کر لیے۔ اب روزانہ کے سودا سلف کے لیے بھی حمیدہ بانو کو نیلوفر کا منھ دیکھنا پڑتا۔ایک دو بار دبی زبان سے انہوں نے چودھری صاحب سے کہا بھی کہ”خرچے کی رقم آپ اپنے ہاتھ سے مجھے دیا کریں۔“ جواب میں چودھری صاحب نے پہلے گھور کر دیکھا پھر بولے ”کیوں؟ کوئی مسئلہ ہے؟ نیلوفر کیا نقلی نوٹ پکڑا دیتی ہے تمہیں؟“صداکی خاموش مزاج حمیدہ بانو جواب تو کیا دیتیں بس دل سے ایک آہ نکلی ”آپ کو کیا معلوم کہ اس عورت کوایک ایک پیسے کا حساب دیتے ہوئےمیری عزت نفس کتنی مجروح ہوتی ہے۔؟“ چودھری صاحب نے پہلے بھی کب حمیدہ بانو کی کسی بات کو اہمیت دی تھی جو اب دیتے۔

نیلوفر ایک چالاک عورت تھی ۔وہ نہیں چاہتی تھی کہ چودھری صاحب اپنی دولت میں سے ایک کوڑی بھی

حمیدہ بانو کو دیں ۔ چودھری صاحب کے ہوتے ہوئے بھی

حمیدہ بانو کی زندگی میں بڑے دکھ در آئے تھے۔ ان دکھوں کا مداوا کرنے والا سلیمن کے سوا کوئی نہ تھا۔ سلیمن نیلوفر کی چالاکیاں خوب سمجھتی تھی ۔اکثر کہا کرتی ”آپا جی! بہت چالاک ہیں یہ چھوٹی باجی! یہی بھائی جی کے کان بھرتی ہیں ۔ نہ جانے یہاں کیوں لے آئے بھائی جی انہیں ؟ اس سے تو ہم پہلے ہی اچھے تھے،آپ کو یہ ذلّت تو نہیں اٹھانا پڑتی تھی!“ مگرحمیدہ بانواشارے سے سلیمن کو چپ کراکر سمجھادیتیں ”کہتی تو تو ٹھیک ہے میری بہن!لیکن میری مجبوری بھی تو دیکھ! وہ یہاں ہے تو چودھری صاحب بھی یہاں ہیں،بچیاں بھی ہیں۔وہ چلی گئی تو چودھری صاحب اوربچیاں بھی چلے جائینگے۔وہ بھلے میری پرواہ نہ کریں لیکن ہیں تو نظروں کے سامنے۔ ان کے نہ ہونے سے کیساویران ہو گیا تھا گھر۔۔۔۔۔ تو بھول گئی؟اور اب بچیوں کے بغیر تو میں بھی نہیں رہ سکونگی۔تجھے کیسے بتاؤں سلیمن! کیسا سکون اترتا ہے دل میں جب وہ ”بڑی امّی“ کہہ کر میری طرف لپکتی ہیں۔“ایسی باتیں سن کرسلیمن کا منھ حیرت سے کھلا رہ جاتا۔

حمیدہ بانو نے زندگی کے اس رخ سے بھی سمجھوتا کر لیاتھا۔وقت کتنا بھی مشکل کیوں نہ ہو اس کی سب سے اچھی بات اس کا گزر جاناہی ہے،سو گزر رہا تھا۔ بچیاں اسکول جانے لگی تھیں۔اس عرصے میں نیلوفرنے رہائشی مکان، دکانیں اور آموں کا باغ اپنے نام کروا لیاتھا۔صرف اراضی کی زمین اچھے دام نہ لگنے کی وجہ سے التوا میں پڑی تھی۔ سلیمن روز حمیدہ بانو کے سامنے یہ دکھڑا لے کر بیٹھ جاتی۔”آپا جی! آپ کے نام کچھ نہیں کیا بھائی جی نے؟ حمیدہ بانو بڑے رسان سے جواب دیتیں ”اری سلیمن! کسی کے بھی نام ہو،ہے تو سب بچیوں کا ہی۔ وہ بھی کہاں لے جائیگی؟اور میرا بھی کون بیٹھا ہے؟ بڑھاپا آہی چکا ہے ، کتنا اورجیونگی؟“ مگر کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ زندگی تونیلوفر کے پاس نہیں بچی تھی ۔ دل کے دورے میں ہی ڈاکٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی چل بسی۔چودھری صاحب ہکّا بکّا رہ گئے۔بچیوں کے چہرے اترگئے۔ چودھری صاحب کے ساتھ ہی دنوں بیٹیوں کی پوری ذمہ داری حمیدہ بانو کے کندھوں پر آگئی۔ اب تو چودھری صاحب بھی ستّرسال سے تجاوزکر چکے تھے۔”رعشہ“ کی موروثی بیماری میں مبتلا ہو گئے تھے۔ لیکن بہت ہلکا اثر تھا۔نیلوفر کے جانے کے بعد کمزور بھی ہوگئے اور بیماری میں بھی شدت آگئی۔رفتہ رفتہ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہوگئے۔ کانپتے ہاتھوں سے پانی کا گلاس بھی نہیں پکڑا جاتا تھا۔ کبھی کوشش کرتے تو سارے کپڑے بھیگ جاتے ۔جل نہ جائیں اس لیے چائے،دودھ وغیرہ کے کپ بھی حمیدہ بانو ان کے ہاتھ میں نہیں دیتی تھیں ۔بچوں کی طرح اپنے ہاتھوں سے کھلاتی پلاتی تھیں۔ اسی حالت میں پانچ برس تک صاحبِ فراش رہے بالآخر ایک دن وہ بھی چل بسے۔حمیدہ بانو بدحواس ہو گئیں،ان کی بھی تو عمر ہو چلی تھی۔دو جوان لڑکیوں کی ذمہ داری نبھانا آسان نہ تھا۔حالانکہ بچیوں کےلیے بھی یہ صدمہ بہت گہرا تھا لیکن دونوں نے بڑی ہمّت اور پیار سے اپنی ”بڑی امّی“ کو اپنے لیے دوبارہ کھڑا کر ہی لیا۔

وقت آگے بڑھا دونوں بیٹیاں کالج سے یونیورسٹی پہنچ گئیں۔سلیمن کو ساتھ لے کر حمیدہ بانو کبھی کبھی زمینوں پرہو آتیں۔وہاں کام کرنے والے پرانے ملازم اور ان کی نسلیں چودھری خاندان کے لیے ہمدردی اور احترام کا جذبہ رکھتے تھے۔فصل کا پیسہ ایمانداری سے پہنچا جاتے۔مہینہ پندھرہ دن میں آکرخیر خیریت بھی پوچھ لیتے تھے۔سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔اب صرف حمیدہ بانو کی پینشن کا معاملہ اٹکا ہوا تھا۔چودھری صاحب کو گزرے ہوئے تقریباََ ڈیڑھ سال ہو چکا تھا،سب ضروری کاغذات بھی دفتر میں جمع ہو چکے تھے لیکن معاملہ جوں کا توں ہی تھا۔

ایک دن پڑوس میں رہنے والے لڑکے اشرف نے خبر دی کہ” اب سرکاری دفتروں میں ہر ماہ کےآخری منگل کو بزرگوں کے لیے مختص کر دیا ہے ۔اب اپنی شکایتیں لے کر متعلقہ افسر سے ملا بھی جا سکتا ہے ۔ پرسوں آخری منگل ہے آپ خود پینشن کے دفتر چلی جائیں خالہ ۔” حمیدہ بانو کو لگا کہہ تو صحیح رہا ہے بچہ!منگل کا دن آیا تو خود ہی پینشن والے دفترپہنچ گئیں۔ زیادہ بھیڑ نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی اندر بلا لیاگیا ۔ افسر نے اشارے سے میز کے دوسری طرف پڑی کرسی پر بیٹھنے کو کہا اور پوچھا ” بتائیے ماں جی! کیا معاملہ ہے آپ کا ؟”

”میرے شوہر کو گزرے ڈیڑھ سال ہو گیا، ہےمگر ابھی تک پینشن نہیں بنی ہے میری“ کہتے ہوئے فائل نمبرکی پرچی حمیدہ بانو نے افسر کی طرف بڑھادی۔افسر نےمطلوبہ فائل نکلوائی ۔ کچھ دیر تک فائل کے اوراق پلٹنے کے بعد حمیدہ بانو سے پوچھا ”آپ کے ہسبینڈ چودھری قیصرنے دو شادیاں کی تھیں؟ “۔۔۔

”جی“ حمیدہ بانو نے دھیرے سے سر ہلا کر جواب دیا ”آپ کا نام کیا ہے؟“ افسر نے دوسرا سوال کیا ”میرا نام حمیدہ بانو ہے اور میں ان کی پہلی بیوی ہوں، ان کی دوسری بیوی کا نام نیلوفر خان تھا اور وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔“ حمیدہ بانو نے ایک ہی سانس میں ان سوالوں کے بھی جواب دے دیے جو ان کے خیال میں آگے پوچھے جانے والے تھے۔افسر بہت دھیان سے فائل پڑھ رہا تھا۔کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعداس نے فائل میں سے ایک کاغذ نکال کر اپنے سامنے رکھا اور حمیدہ بانو سے مخاطب ہوا ”ماں جی! ہمارے ریکارڈ کے مطابق آپ چودھری قیصر کی وارث نہیں ہیں ۔انہوں نے آپ کو طلاق دے کر دوسری شادی کر لی تھی۔اس کے بعد انہوں نے اپنا وارث اپنی دوسری بیوی نیلوفر خان کو بنا دیا تھا۔یہ رہا طلاق نامہ!”

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے