سر ورق / اردو کہانی کا سفر…اکیسویں قسط …اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر…اکیسویں قسط …اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر

اکیسویں قسط

اعجاز احمد نواب

سسپنس ڈائجسٹ کے مدیران انور فراز نسیم جاوید اور بچوں کے مقبول مصنف کا تعارف

✍️✍️✍️✍️✍️بنظرِ غائر دیکھا جائے تو ہر نئی قسط کی اشاعت کے بعد اردو کہانی کا سفر کے گرد قارئین کا حلقہ کچھ سَوا ہوتا جا رہا ہے، اب قارئین کے خطوط ملنے کا دور تو لَد گیا، کام یابی کا پیمانہ فیس بک پر پسندیدگی (لائکس) اور تاثرات (کمنٹس) ہی سے لف ہزا ہے، فرینڈ ریکوئسیٹس کا گراف خطرے کے نشان سے اوپر جا رہا ہے، جب کہ پانچ ہزار فرینڈز، فیس بْک کی آخری بلندی یعنی نقطہ معدوم ہے،روزانہ کی بنیاد پر دوستوں کی فہرست سے کچھ کاذب دوستوں کو صبح کاذب کے چمکیلے اندھیرے میں جبری رخصت کرتا ہوں، جو خواہ مخواہ خوابِ غفلت کی نیند میں خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہوتے ہیں، تا کہ چڑھتے دن کی روپہلی دھوپ میں دستک دینے والے موزوں دوستوں کو مہمان سرائے میں خوش آمدید کہہ سکوں، اْدھر اِن باکس بھی باکس آفس والا کھڑکی توڑ رش لے رہا ہے بھانت بھانت کی بولیاں، کڑوے کسیلے سوالات، شک اور حسد سے لْتھڑے زبردستی کے تنقید نگار، جن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں مہرباں…. جن کے خیال میں یہ کوئی فی البدیہہ تحریر نہیں بلکہ… کوئی کتابی علم بول رہا ہے،
چند کتابیں رکھی ہیں، جن میں سے لکھنے والوں کے تعارف لے کر اردو کہانی کا سفر طے کیا جا رہا ہے، ورنہ کتابیں بیچنے والوں کا لکھنے سے کیا علاقہ، عرض ہے کہ.. میرے پاس چند نہیں الحمدللہ… کتابوں کا سمندر ہے، میں ہر کتاب سے واقف ہوں، اور ہر کتاب مجھے جانتی ہے، میرا شوق ہی میرا پیشہ ہے، حالانکہ اس دور میں غیر نصابی کتابوں کا بزنس ایسے ہی ہے جیسے اندھوں کے شہر میں آئینے بیچنا، جیسے برفانی علاقے میں جا کر فریج فروخت کرنا
ہمارے ہاں یہ عمومی تاثر پایا جاتا ہے، کہ کتاب فروش کتاب شناس نہیں ہوتا، چہ جائیکہ قلم شناس؟
دست بستہ عرض ہے کہ اردو کہانی کا سفر کوئی پتھر کا مجسمہ نہیں جسے اٹھا کر قارئین کی محفل میں ایستادہ کر دیا جاتا ہے، اس کا لفظ لفظ چِمٹی سے اٹھا کر رکھا جاتا ہے، کتابیں پڑھنے والے عالی دماغ ہوتے ہیں، ان کے ہاں سوچ کی گہرائی اور گیرائی کتابیں نہ پڑھنے والوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، یہ معاشرے کی کریم ہیں، قلم کی دنیا میں سرقہ بازی کبھی پوشیدہ نہیں رہ سکتی،
میں لفظوں کی عمارتیں تعمیر کرنے کے فن سے نا آشنا ضرور ہوں، ثقہ بند مصنف بھی نہیں لیکن جب اردو کہانی کا سفر کی یادداشتیں رقم کرنے کے لیے قلم

اٹھاتا ہوں تو ذہن کے سلور سکرین پر احساسات اور ماضی کے خیالات خود بہ خود ہی الفاظ کا جامہ زیب تن کرنا شروع ہو جاتے ہیں
✍️گئے دنوں آپ نے ڈاکٹر نسیم جاوید صاحب سابق مدیر سسپنس ڈائجسٹ کی ادارتی آپ بیتی ملاحظہ فرمائی، جو اقبال پاریکھ کے ساتھ پونے چار سال سب ایڈیٹر اور پھر ایڈیٹر کے طور پر چار سال تک سسپنس ڈائجسٹ کے ساتھ منسلک رہے، ڈاکٹر نسیم جاوید صاحب کی کچھ باتیں تاخیر سے ملنے کی بناء پرگزشتہ قسط کا حصہ بننے سے رہ گئی تھیں، پہلے اْن کی سنتے ہیں،… جی… ڈاکٹر صاحب… 👇👇
✍️✍️✍️✍️✍️ایک دوست نے کمنٹ کیا کہ ڈائجسٹوں کی اشاعت 8 سال میں دس/ بارہ ہزار سے بڑھ کر اک لاکھ سے اوپر چلے جانے پر ہم نے اپنا کریڈٹ لینے کی کوشش کی ہے۔ان کے لئے عرض ہے کہ فلم میکنگ ہو یا میگزین کی کامیابی، اس کے پیچھے پوری ٹیم کی محنت ہوتی ہے ۔اچھے رائیٹرز کی سلیکشن۔رائیٹرز کی اپنی کاوش، اسکیچ ڈرائینگ، لے آؤٹ، پرفیکٹ پروف ریڈنگ، کہانیوں کا انتخاب وغیرہ۔ہم جس ٹیم میں تھے اس میں معراج رسول سے لے کر اقبال پاریکھ، شافع صاحب، صفیہ ملک، راقم اور نامور رایٹرز سب شامل تھے۔اور ہماری خوش قسمتی یہ تھی کہ سب سے کم عمر ہونے کے باوجود سب سینئرز کا ہمیں تعاون بلکہ محبت حاصل تھی۔آج بھی ان سب کے لئے دعائیں نکلتی. ہیں ۔آٹھ برسوں میں ایک بار بھی کسی سے معمولی تلخی بھی نہ ہونا اپنی جگہ خود ایک کارنامہ تھا۔
ہم اس سے پہلے ایک گروپ میں اپنی سسپنس ڈائجست میں انٹری کی حد تک ذکر کرچکے ہیں ۔آپ کے اس سلسلے میں بہت سی باتیں اور واقعات نئے شامل کئے ہیں ۔اگر قابل قبول ہوں تو۔
✍️سسپنس میں رہتے ہوئے ایک بار ہفت روزہ دھنک کے ایڈیٹر و مالک سرور سکھیرا تشریف لائے۔دھنک اخبار جہاں سائز کا نیم مزاحیہ میگزین تھا اور ابتدا میں چلا بھی، لیکن پھر بیٹھ گیا۔سرور سکھیرا ہانگ کانگ سے ایک رسالہ نکالنا چاہ رہےتھے۔ سیر حاصل گفتگو رہی۔وہ معراج صاحب سے انویسٹمنٹ کے ساتھ پارٹنرشپ چاہ رہے تھے ۔لیکن بات فائنل نہ ہوسکی۔کچھ عرصہ بعد ایک دن پیپز پارٹی سندھ کے غالباً اس وقت کے سیکرٹری جنرل نفیس صدیقی (جن کے کالم اب بھی جنگ میں شائع ہوتے ہیں) اپنی بیگم شاہدہ نفیس صدیقی کے ساتھ تشریف لائے۔مسز شاہدہ بھی لٹریری خاتون ہیں ۔وہ ادارے کے بینر تلے دھنک ٹائیپ کا ہی رسالہ”محور” نکالنے کے خواہشمند تھیں۔معراج رسول مان گئے۔پھر ایک روز شاہدہ نفیس کچھ کاغذات اور ضروری سازو سامان کے ساتھ آفس آ گئیں۔چونکہ یہ طے تھا کہ میگزین مزاحیہ ہوگا، چنانچہ کچھ رائیٹرز کی تحریریں بھی ساتھ لائیں ۔بہت نرم خو اور اچھے مزاج کی خاتون تھیں۔ہم سے پوچھا کہ ہم بھی کچھ مزاحیہ لکھ سکتے ہیں؟ کہا جی، لکھ سکتے ہیں ۔. کہنے لگیں تو لکھ کر کل مجھے دکھانا۔
ہم نے دو دن مانگے اور نئے دور کے ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہیوال اور لیلیٰ مجنوں پر ایک داستان لکھ کر ان کے حوالے کی۔پڑھ کر بولیں”فینٹاسٹک۔یہ میں دوسرے شمارے میں شامل کروں گی۔ہماری ٹیبل پر ہمارےسامنے والی کرسی پر بیٹھتی تھیں۔ہم نے اپنی کرسی پیش کی تو منع کردیا۔اب روز ان سے ڈسکس ہوتی۔ہم سے کوئی مشورہ مانگتیں تو بساط بھر دے دیتے۔وہ خود بھی اس فیلڈ کے بارے میں کافی معلومات رکھتی تھیں۔محور چھپ کر آگیا۔اس میں ہمارا ایک مزاحیہ مضمون “ضرورت ہے” کےعنوان سے شائع ہوا۔
اگلے شمارے میں وہ مضمون جو لکھ کر دیا تھا، شائع ہوگیا۔نیا پرچہ تھا، ابھی ہٹ نہیں ہوا تھا۔تیسرے شمارے کے لئے انھوں نے قارئین کی طرف سے (فرضی)تبصرے اور ان کے مزاحیہ جواب لکھنے کو کہا اور پسند بھی کئے۔
محور کےچار شمارے شائع ہوئے ۔اس کے بعد سناٹا چھا گیا۔انھوں نے کہیں اور شفٹ کردیا یا بند کردیا، پتہ نہیں چلا ۔
✍️✍️✍️✍️✍️واقعات تو اتنے ہیں کہ لکھتے رہے تو کہیں طوالت کے بوجھ سے آپ ہی نہ اکتا جائیں۔بس ایک چھوٹے سے واقعے کا اور ذکر کریں گے
✍️کچھ عرصہ گزرا تو ہمیں بوجوہ.. پی آئی اے کے ملازمت سے جوابا مل گیا، لیکن پھر……. ہمیں ریڈیو پاکستان کے رسالے “آہنگ”،میں جاب مل گئی۔جس کے ایڈیٹر صبیح محسن تھے۔اگلے ماہ وہ چلے گئے تو مشہور شاعر محشر بدایونی (جن کا ایک جنگی ترانہ۔۔۔اپنی قوت اپنی جان۔۔۔جاگ رہا ہے پاکستان.. 1965کی جنگ میں بہت مشہور ہوا تھا) نے چارج سنبھال لیا۔کافی معمر تھے لیکن بہت نفیس اور دھیمے مزاج کے تھے۔اکثر ان کے آفس میں بیٹھ کر شاعری پر گفتگو ہوتی۔ہم گاہے گاہے اپنا کلام بھی سنادیتےاور داد پاتے۔
اب پھر ہم دو جگہ جاب کرنے لگے۔!
✍️✍️✍️✍️✍️سسپنس میں ایک کاتب تھے۔نام وصی بدایونی۔وہ ہم سے خدا واسطے کا بیر رکھنے لگے۔کہانیوں کی کتابت کرتے کرتے ایڈیٹر بننے کے خواب دیکھنے لگے۔کئی بار اس بات پر الجھنے لگ جاتے کہ ہم نے فلاں لفظ کیوں تبدیل کیا ۔(انھیں کتابت میں تصحیح جو کرنا پڑجاتی تھی۔)ہم کہتے، بھائی جو آپ کا کام ہے، آپ وہ کریں۔ہمارے استاد نہ بنیں۔
ہم بنیادی طور پر نرم خو ہیں ۔لڑائی جھگڑوں سے دور رہتے آئے ہیں ۔لیکن وہ تو ہماری نوکری کے پیچھے پڑ گئے تھے۔
ایک شام آفس پہنچے تو معراج رسول کا پیغام ملا کہ ان کے روم میں آؤں۔
ہم اندر گئے تو بہت سنجیدہ نظر آئے۔چہرہ بتا رہا تھا کہ بڑی مشکل سے غصہ ضبط کر رہے ہیں ۔
“بیٹھو”انھوں نے کہا ۔ہم بیٹھ گئے۔
انھوں نے ہاتھ میں پکڑا ہوا ایک دو صفحوں کا خط ہمارے آگے پھینک کر کہا۔”پڑھو اسے۔”
ہم سمجھے کسی تبصرہ نگار کا خط ہے، شاید ہم نےشمارے میں کوئی بلنڈر مار دیا ہے۔
✍️ہم جوں جوں خط پڑھ رہے تھے، ہمارا دماغ کھولتا جا رہا تھا۔وہ کسی نے فرضی نام پر معراج رسول کو لکھا تھا۔خط کیا تھا، ہم پر الزامات کا طومار تھا۔لُبِ لُباب یہ تھا کہ ہم مختلف لوگوں سے معراج رسول کے کردار پر “عورتوں سے تعلقات اور شراب نوشی”، کی کیچڑ اچھالنے پھرتے ہیں ۔انھیں گالیاں دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔
ہم نے خط بند کردیا اور سر جھکا کر بیٹھ گئے۔ذہن میں ایک ہی خیال آرہا تھا کہ آج یہاں ہمارا آخری دن ہے۔وہ نفیس کو بلائیں گے۔ہمارے حساب کی رقم منہ پر ماریں گے اور نکل جانے کو کہیں گے۔وہ مسلسل ہمارے چہرے پر نگاہ گاڑے ہوئے تھے۔ہم پی آئی اے کی طرح اب ذہنی طور پر یہاں سے”فاائر”ہونے کو تیار تھے۔
“یہ سب کیا ہے؟ “آخر انھوں نے اس خاموشی کو توڑا۔
“میں اپنی صفائی میں کچھ نہیں کہوں گاسر! سوائے اس کے میں سیّد زادہ ہوں اور سیّد دو کام کبھی نہیں کرتا۔ایک جھوٹ اور دوسرے نمک حرامی۔جس شخص نے مجھے سڑک سے اٹھا کر اتنی باعزت کُرسی پر بٹھایا ہو، میں کیوں اسے گالی دوں گا یا اس پر کیچڑ اچھالوں گا؟خصوصاً اس وقت جب مجھے پی آئی اے سے بھی نکالا جا چکا ہے۔ایسی نیچ اور گھٹیا حرکت کے پیچھے کوئی نہ کوئی محرک ہوتا ہے۔مجھے تو آپ سے کوئی شکایت بھی نہیں ہے۔نہ. ہی ایسا. کوئی محرک ہے۔میرا ریکارڈ اللہ کا شکر ہے، بے داغ رہا ہے۔آپ سے تو کیا، میری تو کبھی اختر یا امین جان پیون سے بھی تلخی نہیں ہوئی۔سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ تجربہ کار ہیں ۔انسانوں کو پرکھنے اور منتخب کرنے کا ہنر جانتے ہیں ۔میرے کردار کےبارے میں جتنا آپ جانتے ہیں، اس ادارے میں شاید ہی کوئی جانتا ہو۔”
ان کے کشیدہ اعصاب دھیرے دھیرے پُر سکون ہوتے گئے۔
“تمھارے خیال میں یہ حرکت کس نے کی ہوگی؟ ”
“سر! میری تو کسی سے دشمنی بھی نہیں ہے ۔صرف یہ اندازہ لگا سکتا ہوں کہ کوئی مجھے ہٹاکر خود اس پوسٹ پر آنا چاہتا ہے ۔”
وہ جیسے ایک دم بات کی تہہ تک پہنچ گئے۔
“ٹھیک ہے، جا کر کام کرو۔وصی اگر بیٹھا ہے تو اسے بھیج دینا۔”
ہم باہر آگئے۔وصی کتابت روم میں کتابت کر رہا تھا۔ہم نے اسے معراج رسول کا پیغام دے دیا اور اپنے آفس میں آگئے۔
پندرہ بیس منٹ بعد ہی وصی ہمارے روم میں تھا۔وہ عمر میں ہم سے بڑا تھا چالیس کے پیٹے میں تو ہوگا ۔اس کارنگ اُڑا ہوا تھا۔ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔آتے ہی ہماری ٹھوڑی کو چھونے لگا۔”مجھے معاف کرد جاوید بھائی! بہت بڑی بھول ہوگئی مجھ سے۔معراج صاحب نے کام سے جواب دے دیا ہے۔”،وہ رودینے کو تھا۔
ہم سارا قصہ سمجھ گئے تھے ۔کچھ اس نے بتادیا۔وہ کچھ دن پہلے معراج صاحب سے سسپنس سنبھالنے کی پیشکش کرچکا تھا۔کیونکہ ہم شام کو آتے تھے اور وہ دس گیارہ بجے۔
“معراج صاحب بہت ناراض ہیں مجھ سے ۔کہتے ہیں، وہ خط میں نے کسی کے ذریعے لکھوایا ہے۔قسم لے لو میں نے نہیں لکھوایا۔لیکن انھیں یقین نہیں آیا۔میری روزی ماری جائے گی۔چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔اللہ کے لئے مجھے معاف کردو بھائی! ”
“مجھ سے کیوں معافی مانگ رہے ہو۔معراج صاحب سے مانگو۔میں کیا کہہ سکتا ہوں۔”
“وہ کہتے ہیں مجھ پر کیچڑ اچھالی ہے اور جاوید پر جھوٹا الزام لگایا ہے۔ تم دونوں کے مجرم ہو۔جاوید سے معافی مانگ لوگے تو میں کچھ سوچوں گا۔”
قصہ مختصر، ہم نے اسے معاف کردیا اور پھر معراج رسول نے بھی۔
یہ ایک ہی ایسا واقعہ تھا جس میں کوئی ہمارے روزگار کے پیچھے لگ گیا تھا۔
✍️پاکیزہ نیا نیا نکلا تھا۔معراج صاحب کو ایک ایڈیٹر کی ضرورت تھی۔جسے ادب سے تھوڑی بہت شدھ بدھ ہو۔ساجدہ قدوسی اسی حوالے سے پرچے میں آئیں۔پہلے کسی اخبار کے ایڈیشن میں کام کررکھا تھا۔نکلتا ہوا قد، صحت مند سراپا۔گورا چٹا رنگ، ۔پھر بہت جلد وہ ساجدہ قدوسی سے ساجدہ معراج بن گئیں۔پاکیزہ میں بطور ایڈیٹر انچیف ساجدہ معراج اور پھر نادرہ گیلانی کو اپائینٹ کر لیا گیا جو ایڈیٹر کے مکمل فرائض سنبھالنے لگیں،
ہمارے ادارے میں ہوتے ہوئے کوئی اہم بات رونما نہیں ہوئی لیکن ہمارے جانے کے کچھ برس بعد معاملات ایک دم سے تنازعات میں بدل گئے۔ہمارے علم میں نہیں کہ وجہء تنازع کیا بنے… سننے میں آیا تھا کہ بات علیحدگی پر ہی ختم ہوئی۔اس سے آگے کے واقعات کا ہمیں علم نہیں۔ ۔پھر ہمارا رابطہ ادارے سے کٹ گیا۔
ہم 8 اگست 1982 تک ادارے سے وابستہ رہے۔9اگست کو ہماری سعودیہ کی فلائیٹ تھی۔
سعودیہ پہنچ کر کنگ فہد ہاسپٹل میں ڈیوٹی جوائین کرکے معراج رسول کو خط لکھ کر مطلع کیا۔شاید یہ ڈائجسٹوں کی دنیا کا منفرد واقعہ ہوگا کہ وہ معراج رسول جو ادارے سے جانے کے بعد کسی کو دوبارہ گھسنے کی اجازت بھی نہیں دیتے تھے، ان کی طرف سے جاسوسی، سسپنس اور پاکیزہ، اور پھر سرگزشت کے اجراء کے بعد چوتھا پرچہ بھی مسلسل بائیس سال تک ہمیں اعزازی طور پر بھجواتے رہے۔جنگِ خلیج کے دوران جب سعودیہ کے حالات خراب ہونے لگےتو ہمارے خط کے جواب میں معراج رسول کا خط ملا جس میں انھوں نے تسلی دیتے ہوئے لکھا کہ”،حالات زیادہ خراب ہوں تو پریشان مت ہونا۔سیدھے کراچی آجانا۔سسپنس ڈائجسٹ کے ایڈیٹر کی کرسی تمھیں خالی ملے گی۔آکر جوائین کرلینا۔”
اس سے زیادہ راقم سے ان کی محبت کیا ہوگی۔
ان کے آخری ایام کومے کی حالت میں گذرے۔دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ ان کا جسم سکڑ گیا تھا۔خوراک ٹیوب سے دی جاتی تھی۔
اور پھر ایک دن وہ جہانِ فانی سے چلے گئے اللہ پاک غرقِ رحمت کرے اور جنت میں اعلیٰ مقام سے سرفراز کرے آمین۔
……
……

✍️✍️✍️✍️✍️نسیم جاوید کے بعد ضیاء شہزاد مدیر سسپنس کے طور پر سامنے لائے گئے، جنہوں نے تھوڑا ہی عرصہ اس عہدے پر گزارا اور پھر انہوں نے اپنا ڈائجسٹ ست رنگ کے نام سے نہ صرف شروع کر لیا بلکہ جاتے جاتے سسپنس میں تاریخی کہانی لکھنے والے الیاس سیتا پوری ، کو بھی ساتھ لے گئے…. ضیاء شہزاد آج کل اردو لکھاری ڈاٹ کام سے اپنی یادداشتیں ست رنگی کے نام سے لکھ رہے ہیں ضیاء شہزاد کے جانے کے بعد یکے بعد دیگرے وصی بدایونی احمد سعید شکیل عدنان مدیر کے طور پر کام کرتے رہے، ان کے بعد قرعہ فال علی عمران آفاقی کے نام نکلاجو مشہور فلم ساز مصنف اور سرگزشت میں فلمی الف لیلہ لکھنے والے اور نوائے وقت کے ہفت روزہ فیملی میگزین کے ایڈیٹر علی سفیان آفاقی کے بھانجے ہیں!! علی عمران آفاقی بھی قلیل عرصہ ہی سسپنس کے ایڈیٹر کے طور پر رہے، ان سب کے بعد سسپنس کا ایڈیٹر وہ شخص بنا جس نے پھر طویل ترین عرصہ تک سسپنس پر راج کیا، جی ہاں انور فراز….. انہی کے دور میں سرگزشت کا اجراء ہوا، اور سرگزشت کے پہلے مدیر بھی وہی تھے، انور فراز سے میری پہلی لیکن سرسری علیک سلیک، آج سے 26برس قبل اس وقت ہوئی، جب سسپنس جاسوسی پاکیزہ سرگزشت کے ڈسٹری بیوشن ہمارے پاس تو نہ تھی، لیکن معراج رسول صاحب کے بھائی اعجاز رسول صاحب جو ڈائجسٹوں میں چھپنے والے سلسلے دیوتا مفرور گمراہ موت کے سوداگر انکا اقابلہ وغیرہ کتابی شکل میں شائع کرتے تھے، اور وہ معراج رسول صاحب کے بعد جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے سیکنڈ ان کمان بھی تھے، ان سے ملنے میں وہاں گیا تو وہیں انور فراز آئے تھے اور رسمی علیک سلیک ہوئی، اب جب میں نے اردو کہانی کا سفر لکھنا شروع کیا، تو یہ پہلی قسط سے ہی اردو لکھاری ڈاٹ کام پر بھی چھپنا شروع ہوا انور فراز صاحب بھی وہیں اپنی یادداشتیں ڈائجسٹوں کی الف لیلہ کے نام سے لکھ رہے ہیں، کچھ عرصہ سے ان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطہ جاری تھا گزشتہ دنوں اپنے کسی کام سے اسلام آباد آئے تو مجھ سے ملنے بطور خاص راولپنڈی میرے آفس میں تشریف لائے
انور فراز 1949 میں دھلی میں پیدا ہوئے تعلیمی لحاظ سے آپ گریجویٹ ہیں، آپ نے 1982/83 میں سسپنس ڈائجسٹ کی ادارت سنبھالی اور اس کے بعد 24سال کے طویل عرصہ تک اس عہدے پر بہ احسن وخوبی اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے،
✍️بنیادی طور پر ہومیو ڈاکٹر اور آسٹرالوجسٹ ہیں، ان دونوں شعبوں میں کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں، پاکیزہ ڈائجسٹ میں مسیحا کے نام سے، ایک کالم بھی لکھتے تھے، جو بعد ازاں تین جلدوں میں کتابی شکل میں شائع ہوا، اخبار جہاں میں آپ کے ستارے کے نام سے ایک عرصہ تک کالم نگاری کرتے رہے، روزنامہ جہانِ پاکستان کے سنڈے میگزین میں بھی کافی عرصہ کالم لکھا، پیشگوئی کا فن، جہانِ حیرت، آپ شناسی نامی کتابوں کے مصنف بھی ہیں،
✍️ان کے دورِ ادارت میں سسپنس ڈائجسٹ نے یکے بعد دیگرے معرکۃلآرا سلسلے وار طویل کہانیاں شائع کرنے کا ریکارڈ قائم کیا جن میں جبار توقیر کی گمراہ ناگ بھوّن مفرور سنگتراش اور اقلیم علیم کی موت کے سوداگر شامل ہیں،
✍️انور فراز شاعر بھی ہیں اور اکثر اوقات ان کے شاعری مختلف جرائد کی زینت بنتی رہتی ہے، محترم ڈاکٹر انور فراز نے بائیس سال سسپنس ڈائجسٹ کا بارِ ادارت اٹھایا اور بالآخر 2004 میں اپنے فرائض سے سبکدوش ہو گئے،
✍️آج کل ڈیفنس کراچی میں اپنا ہومیو کلینک کامیابی سے چلانے کے ساتھ ساتھ علمِ نجوم کے مشہور ماہنامہ آئینہ قسمت میں باقائدگی کے ساتھ لکھتے ہیں اور اسی ادارے سے چھپنے والی سالانہ شہرہءآفاق زنجانی جنتری میں ملکی وبین الاقوامی حالاتِ حاضرہ پر تجزیہ کے ساتھ ساتھ برج اور ستاروں کی روشنی میں پیشگوئیاں بھی کرتے ہیں ، پاکستان کے متعلق 2020 کے لئے ان کا کہنا ہے کہ، جون جولائی اگست میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ تین مہینے ملک کو کسی نئے سیٹ اپ کی طرف لے جا سکتے ہیں جو جمہوری بھی ہو سکتا ہے اور غیر جمہوری بھی،

……
…… 👈👈👈👈👈👈👈👈👇👇👇👇👇👇👇
✍️✍️✍️✍️✍️بچوں کے لیے لکھنا بچوں کا کھیل نہیں، اکثر مشہور لکھنے والے بچوں کے لئے کچھ نہیں لکھتے یا نہیں لکھ پاتے، اس کے وجہ یہ ہے کہ

بچوں کے لئے کہانی لکھنے کے وقت تخلیق کار کو اپنا خول توڑ کر اپنے آپ پر بچپنا طاری کرنا پڑتا ہے، اور اکثر معتبر لکھاریوں کے لئے اپنے انا کے دائرے سے باہر نکلنا ناممکن ہوتا ہے، کسی بھی قوم میں مطالعہ کا رحجان پیدا کرنے کے لئے بچوں کا ادب تسلسل اور تیز رفتاری سے تخلیق کرنا لازم ہے، اگر مسجدوں میں کھڑی جماعت کے پیچھے بچوں کی شرارتوں کا شور نہ ہو، تو مستقبل میں نمازی کہاں سے آئیں گے؟ اسی طرح اگر ہم آج کے بچوں کو مطالعہ کے طرف راغب نہ کر سکے، تو کل کلاں نسیم حجازی ابن صفی، بابا یحیی’ عمیرہ احمد انوار علیگی ایم ایس راحت اور مشتاق یوسفی کو کون پڑھے گا، کتب خانے ویران اور رہی سہی لائبریریوں میں اجاڑ پھر جائے گا
✍️گئی صدی کے ساتویں اور آٹھویں عشرے میں، پاکستان یا اردو میں بچوں کا ادب پورے جوبن پر تھا،
محمد یونس حسرت، عزیز اثری، جبار توقیر سعید لخت اے حمید اشتیاق احمد، رضا علی عابدی مسعود احمد برکاتی ، مرزا ادیب اور ان جیسے ان گنت….. لکھنے والے پوری جفاکشی سے بچوں کے ادب کا محاذ سنبھالے ہوئے تھے، لیکن پھر عین اسی وقت فلموں میں سلطان راہی اور بچوں کے مصنف کے طور پر اشتیاق احمد سامنے آ گئے، اور پھر انسپکٹر جمشید کے علاوہ( تقریباً) سب کچھ بند ہوگیا، اور بچوں کے ادب میں نت نئے مصنفین کی آمد اور غیر ملکی ادب سے ہونے والے تراجم کا سلسلہ منقطع یا انتہائی کم رہ گیا، یہ بحران کم وبیش تیس برس رہا، لیکن اب گزشتہ ایک عشرے سے یہ جمود ٹوٹنا شروع ہو چکا ہے،
اور مختلف پبلشرز بچوں کے ادب کو بچانے کے لئے کئی نئے اور پرانے مصنفین کے سہارے میدان عمل میں برسرِ پیکار نظر آنا شروع ہو چکے ہیں، تاہم ان تمام لکھنے والوں میں جو نام سب سے زیادہ جدوجہد کرتا نظر آرہا ہے وہ ہے احمد عدنان طارق،،
✍️احمد عدنان طارق دورِ حاضر میں بچوں کے نام ور مصنف ہیں، بلکہ ان کا نام ہم عصروں میں غیر معمولی طور پر نمایاں اس لئے بھی ہے کہ یہ متحرک بہت زیادہ ہیں
احمد عدنان طارق 14 جولائی 1963 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم تاندلیانوالہ ہائی سکول سے حاصل کی ایم اے( انگلش) جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کرنے کے بعد ایل ایل بی.. وارث شاہ کالج سے کیا، کہانیاں پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا، اور آج بھی روزِ اول کے طرح قائم و دائم ہے، ہم نے بھی بچوں کے ناول ہزاروں کی تعداد میں پڑھ رکھے ہیں ، لیکن انسپکٹر صاحب نے تو نہ صرف پڑھ رکھے ہیں بلکہ سنبھال رکھے ہیں، بچوں کے پرانے ناولوں کا اس قدر ذخیرہ، ہے ان کے پاس کہ…. مجھے تو د دوات ڈ ڈھول اور ذ ذخیرہ کا مطلب اب پتہ چلا ہے، سن ستر سے لے کر نوے تک بچوں کے جتنے بھی ناول چھپے ہیں ان کے پاس موجود ہیں, اور صرف موجود ہی نہیں، ان کے نام ان کے کہانیاں واقعات اور کرداروں کے نام تک بھی انہیں یاد ہیں اور مزید یہ کہ کون سا ناول کس نے لکھا ہے اور کون سا ناول ترجمہ شدہ ہے اور اصل مصنف کون ہے، یہ سب کچھ ازبر ہے انہیں…. میں سمجھتا ہوں کہ اردو میں بچوں کے ادب کے یہ انسائیکلوپیڈیا ہیں، اور یا پھر بچوں کے ادب پر انہوں نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے لیکن کسی کو بتاتے نہیں،
✍️احمد عدنان طارق محکمہ پولیس میں ہیں اور حاضر سروس ایس ایچ او ہیں، اور فیصل آباد جھنگ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تقریباً تمام اضلاع کے 30/32 تھانوں میں تعینات رہ چکے ہیں، میں تو انگشتِ بدنداں ہوں، کہ پولیس جیسے محکمے میں رہتے ہوئے جہاں سارا دن کریمنل اور بستہ ب کے بدمعاشوں سے واسطہ رکھنے کے بعد، بچوں کے لطیف اور آبگینے کے مانند نازک ادب سے رشتہ کیسے استوار رکھ پاتے ہیں،
✍️احمد عدنان طارق بچوں کے ثقہ بند ادیب ہیں آپ نے لکھنے کا آغاز 1974 میں کیا، نونہال انوکھی کہانیاں ساتھی تعلیم و تربیت سمیت درجنوں رسائل میں آج تک تین ہزار سے زائد بچوں کی کہانیاں لکھ چکے ہیں، انتہائی آسان زبان میں بچہ کی سطح پر جا کر کہانیاں لکھتے ہیں، گزشتہ دنوں نجی دورے پر اسلام آباد آئے تو مجھ سے ملنے بطور خاص میرے دفتر تشریف لائے، دو گھنٹے کی اس خوشگوار ملاقات میں، ہم نے بچوں کے ناولوں پر بلاتکان گفتگو کی، میں نے اپنے تینوں ناول ناگن آشیانہ اور تیری یادوں کے گلاب(خواتین کے ڈائجسٹوں میں چھپنے والی شارٹ سٹوریز جو میرے قلمی نام شازیہ اعجاز شازی کے نام سے آنچل شعاع اور مختلف ڈائجسٹوں اور میگزینز میں شائع ہوئے تھے) اعزازی طور پر پیش کئے، اور انہوں نے مجھے اپنی تیس کے قریب کہانیوں کے مجموعے تحفتاً پیش کیے جو علم و عرفان پبلشرز، نستعلیق پبلی کیشنز، مشتاق بک کارنر، لاہور، چلڈرن پبلی کیشنز کراچی نیشنل بک فاؤنڈیشن اور اکادمی ادبیات اسلام آباد سمیت پاکستان کے دیگر معاصر اداروں سے چھپی ہوئی تھیں،
✍️پاکستان کے اتنے مقبول ترین اداروں کا احمد عدنان طارق پر اعتماد کے اظہار سے اظہر من الشمس ہے کہ یہ بہت اچھا لکھتے ہیں میں نے خود پچھلے چند دنوں میں ان کی کچھ کہانیاں پڑھیں، تو اکتشاف ہوا کہ احمد عدنان طارق ایک جادوگر لکھاری ہیں، یہ کہانی کی بنت کچھ اس انداز میں کرتے ہیں کہ قاری پر ایک سحر طاری ہو جاتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ عام مصنف نہیں ہیں، ان کا مطمع نظر بھی کہانی کا صرف معاوضہ نہیں بلکہ نئی نسل کو کتاب اور مطالعہ کے طرف راغب کرنا ہے، جہاں بعض کہانیاں انتہا کی چنچل ہیں وہیں کچھ تحریریں بچوں کے دل و دماغ میں ایک ولولہ اور اضطراب بھر دیتی ہیں، یہاں یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ احمد عدنان طارق بچوں کے سب سے قدیم اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والے رسالے تعلیم و تربیت میں گزشتہ 80 ماہ سے مسلسل چھپ رہے ہیں،
(جاری ہے)
بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب
……
……
……
……
……
……
مدیران ناشران تاجرانِ کتب نیوزایجنٹ مصنفین اور قارئین کی مشترکہ غیر ادبی بیٹھک، ایک ہزار داستان اک طلسمِ ہوش رُبا، ناولوں کی باتیں ڈائجسٹوں کی باتیں، یادداشتوں کی پھٹی پرانی کتاب سے منتخب قصے کہانیاں
اردو کہانی کا سفر ابھی جاری ہے بقیہ واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط نمبر22کا…. جمعرات رات دس بجے انشاءاللہ
……
……
……
……
……
مطالعہ اردو اور کتاب کے فروغ میں اس مراسلے کا اشتراک (شیئر) ضرور کیجئے اور اپنے تاثرات( کمنٹس) سے ضرور آگاہ کیجئے کہ آپ نے اردو کہانی کا سفر کو کیسا پایا
اور اس میں مزید کیا شامل ہونا چاہیے،،

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    السلام علیکم۔ نواب صاحب کچھ اقبال پاریکھ کے بارے میں بھی لکھیے گا۔ کیا ابھی اللہ تعالی کی عطا سے حیات ہیں؟۔
    کافی سال پہلے انہوں نے دو ڈایجسٹ کی ادارت بھی سنبھالے رکھی۔ ایک تو بہت مشہور ڈایجسٹ تھا شاید الف لیلہ نام تھا۔۔ہندی ادب سے کچھ مشہور ناول اور سلسلہ وار کہانیاں بھی اس کا حصہ رہی ایک دو سال بعد پھر وہ بند ہو گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے