سر ورق / اردو کہانی کا سفر بائیسویں قسط : اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر بائیسویں قسط : اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر
بائیسویں قسط
تحریر: اعجاز احمد نواب
✍️✍️✍️✍️✍️کافی شش و پنج کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اردو کہانی کا سفر ہر جمعرات کی شب دس بجے شائع نہیں ہونی چاہیئے، بلکہ اسے اْس وقت آن ائیر جانا چاہیے، جب تحریر کی نوک پلک پوری طرح سنواری جا چکی ہو، مخصوص وقت اور مخصوص دن کے چکر میں معیار متاثر نہیں کیا جا سکتا، مجھے اس اعتراف میں کوئی عار نہیں، کہ اردو کہانی کا سفر اکیسویں قسط پسندیدگی کے اعتبار سے پڑھنے والوں کے معیار پر پورا نہیں اتری جس وقت اکیسویں قسط کو ڈولی میں بٹھا رہا تھا، میں اس وقت بھی مطمئن نہیں تھا لیکن، اس کے دوگھنٹے بعد ہی کمنٹس کی سست روی سے میرا ماتھا ٹھنکا، پھر ایک مہربان نے بھی باقاعدہ فردِ جرم عائد کی کہ… کیا اردو کہانی کا سفر بند کرنے کا ارادہ ہے کافی جلدی میں لگے ہیں، ان باکس میں کچھ پیغامات میں مایوسی کے ساتھ سخت الفاظ استعمال کئے گئے، لہٰذا میں نے الف تا ی اکیسویں قسط کا از سرِ نو باریک بینی سے جائزہ لیا، تو ادراک ہوا کہ… یہ قسط معیار کے مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کر سکی،
اْڑی اُڑی سی رنگت، پریشاں گیسو، آشفتگی
بد حواسی .ندامت اردو کہانی کے سفر کا شیوہ نہیں، عرق آلود جبیں آنکھوں میں تاسف ڈھلکی گردن اور سلوّٹ سلوّٹ پیرھن کے ساتھ آنے سے بہتر ہے کہ نہ ہی آیا جائے مہنہ ہی چْھپا لیا جائے،
بقول شکیل عادل زادہ… لفظوں کی کاشت دنیا کا سب سے مشکل کام ہے، اچھے لفظ کم یاب ہیں، کہنے کو تو ایک سمندر ہے، مگر نادر موتی خال خال ہی دستیاب ہوتے ہیں، اِن کے لئے بھی کڑی ریاضت شرط ہے،
نہیں بھئ میں جمعرات کے جمعرات نہیں آسکتا، جہاں خوشی سرفرازی کی ہوتی ہے، وہیں بارِ خاطر کا دھڑکا بھی لگا رہتا ہے،
✍️گزشتہ دو اقساط سے محترم ڈاکٹر سید نسیم جاوید صاحب اردو کہانی کا سفر میں اپنی کہانی متوازی طور پر چلا کر ہمارے ہم سفر ہیں بیسویں اور اکیسویں قسط میں انہوں نے سسپنس ڈائجسٹ میں سب ایڈیٹر اور ایڈیٹر کے طور پر گزارے گئے پونے آٹھ سال کی خودنوشت انتہائی خوبصورت پیرائے میں بیان کی، اب بار آخری قسط کے طور پر ، مصنف بننے کی جدوجہد کا بیانیہ لے کر آئے ہیں، امید ہے ہم سب محظوظ ہوں گے! 👇👇نسیم جاوید 👇👇
✍️✍️✍️✍️✍️آداب عرض ہم باقاعدگی سے خریدتے تھے، مبادا شاید ہماری کہانی چھپ جائے، لیکن شائع نہ ہوئی۔ایڈیٹر، پبلشر حامد حسین وحشی مارہروی مرحوم کو ہر ماہ خط لکھتے۔جواب طلب امور کے لئے ڈاک ٹکٹ ساتھ بھیج دیتے(یہ ہر شمارے میں ایک نوٹس کی صورت میں لکھا ہوتا تھا) لیکن ان. اللہ کے بندے نے شاید ہم سے ہی ضد لگا لی تھی کہ ساری دنیا کو جواب دینا ہے، بس ہمیں نہیں دینا۔
انھی دنوں لائل پور (فیصل آباد) سے ایک نیا میگزین، چناب رنگ کے نام سے نکلا۔کوئی وکیل صاحب اس کے ایڈیٹر تھے۔بعد میں بوجوہ اس کانام بدل کر

ملاقات ڈائجسٹ رکھ دیا گیا۔ہم نے آداب عرض سے دل شکستگی کے باوجود پھر سے کمر ہمت باندھی اور ایک کہانی لکھ ماری جس میں گاؤں کے مناظر، ان کی جزیات، ایک لیڈی ٹیچر، جس کی پوسٹنگ گاؤں میں ہو جاتی ہے ۔رہائش کے لئے ایک شریف زمیندار اسے اپنے گھر میں جگہ دے دیتا ہے۔اس کی اپنی بھی جوان بیٹیاں ہیں ۔ایک بیٹا شہر میں پڑھتا ہے۔گھر آتا ہے تو اس ٹیچر سے محبت ہوجاتی ہے۔۔امیری اور غریبی کے معاملات چلتے ہیں ۔کہانی پڑھ کر ایڈیٹر صاحب پھڑک اٹھے۔فوراً ہمیں فون کیا کہ دوسری کہانی بھیجو۔یہ کہانی میں شائع کررہا ہوں۔ہماری جان میں جان آئی۔محمود احمد مودی کی کہانی بھی اس میں شائع ہوئی تھی۔ہم نے اپنی کہانی والے کافی شمارے خریدے اور دوستوں، جاننے والوں میں شیرینی کے طور پر بانٹ دئے۔دو ماہ بعد وہ میگزین بھی بند ہوگیا۔پتہ نہیں ہم ہی سبز قدم تھے ہمتِ مرداں، مددِ خدا۔ہمارے اندر کا لکھاری ہمیں بے چین رکھے ہوئے تھا۔۔پھر ایک کہانی ماہنامہ سلام عرض کو بھیج دی۔مرزا شبیر بیگ ساجد اس کے ایڈیٹر تھے۔انھوں نے پہلی کہانی پر ہی ٹائیٹل بنوایا اور سرِ ورق کی کہانی کے طور پر شائع کردی۔سو روپے کا منی آرڈر بطور معاوضہ بھیجا جو ہمارے لئے حیران کن تھا۔ سو روپے اس دور میں معقول رقم تھی۔ساتھ ہی ان کا دُوسری کہانی کی فرمائشی والا خط ملا۔ وہ کہانی بھی ٹائیٹل اسٹوری کے طور پر شائع ہوئی۔سلام عرض میں دوسری کہانی شائع ہونے کی دیر تھی۔وحشی صاحب شاید اپنے ہم عصر اس میگزین کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے تھے۔ہماری آگے پیچھے دو ٹائیٹل اسٹوریز شائع ہوتی دیکھ کر ، اور کہانیوں کو پڑھ کر انھوں نے ، ہماری کہانی ریکارڈ سے نکالی۔معاوضے کی رقم کا منی آرڈر کیا۔ساتھ لکھا، ۔میں نے تمھاری دونوں کہانیاں پڑھی ہیں ۔دوسری کہانی اگلے ماہ شائع ہوجائے گی۔اب یہ سلسلہ رکنا نہیں چاہئے ۔ماشاءاللہ بہت جان ہے تمھارے قلم میں ۔یوں ہمارا آداب عرض میں داخلہ ہوا۔پھر ہم لگاتار اسی کے لئے لکھتے چلے گئے۔کراچی، سسپنس میں جاکر بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔آداب عرض، بنیادی طور پر معاشرے کی سچائیوں کا علمبردار میگزین تھا۔آج کی جوان نسل کو تو شاید اس کا نام بھی معلوم نہ ہو لیکن تیس سے پچاس سال کے مردوخواتین اسے بہت شوق سے پڑھتے رہے ہیں ۔بہت کم لوگوں کو علم ہوگا کہ اس میگزین نے جو وحشی صاحب نے پاکستان بننے کے فوری بعد نکالا، اسی آداب عرض نے پاکستان کے نامور ادیبوں کو نام دیا، ان کے فن کو جِلا دی جن میں علی سفیان آفاقی، امجد اسلام امجد، بابا یحییٰ خان(جن کی کہانیاں ہمارے ساتھ ہی شائع ہوتی رہی ہیں) فلمساز اور کہانی نویس ریاض شاہد، امجد جاوید اور بہت سے جن کے نام اس وقت یاد نہیں، اسی آداب عرض سے نکل کر آگے بڑھے ہیں ۔
✍️وحش ماہ راہروی نے آداب عرض کا ایک معیار قائم رکھا تھا جو ان کے بعد ان کے بیٹے… خالد بن حامد… نے بھی برقرار رکھا۔خالد صاحب حیات ہیں، وحشی صاحب نے مزاحیہ رسالہ ماہنامہ”چاند”کے نام سے بھی نکالا تھا ۔ا
الحمد للہ راقم نے اس میں بھی لکھااس حوالے سے تبصرہ نگاروں ، قارئین اور پرستاروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہم سمیت دیگررائیٹرز اور شاعروں سے پہلے خط و کتابت اور پھر فون پر رابطہ کرتی تھی۔
✍️آداب عرض میں پہلی کہانی ہی قارئین سےپسندیدگی کی سند پا گئی تھی۔پھر ہم لکھتے رہے ۔شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آداب عرض ہمارا کامیاب عشق تھا ۔شروع شروع میں ہماری کہانیاں دس پندرہ صفحات کی ہوتی تھیں۔پھر جیسے جیسے تحریر میں مزید پختگی آتی گئی، معاشرے میں بکھرے ہوئے زخم ہماری تحریروں میں بھی آتے گئے۔ہم نہیں جانتے کہ دوسرے رائیٹرز کی لکھتے ہوئے اندرونی کیفیات کیا ہوتی ہونگی، لیکن خود ہماری کیفیت یہ ہوتی رہی ہے کہ کردار کو اس حد تک خود پر حاوی کرلیتے رہے ہیں ۔یوں لگتا تھا جیسے اندر دھواں ہی دھواں بھر گیا ہو،
گلابی چاند لکھی تو خطوط کا طوفان آگیا۔۔سانحہء مشرقی پاکستان اس کا پس منظر تھا۔پھر پتھر کے مسیحا لکھی۔وحشی صاحب اور پھر خالد بن حامد نے میگزین کا ایک اصول بنا رکھا تھا کہ اس میں قسط وار کہانیاں نہیں چھپتی تھیں۔پتھر کے مسیحا، ایک لیڈی ڈاکٹر کی کہانی تھی جس سے اس کا ایک ماتحت محبت کرنے لگتا ہے۔۔وہ عمر میں اس سے کافی بڑی ہوتی ہے۔پتھر کے مسیحا کے بعد ہم لگاتار طویل کہانیاں لکھتے چلے گئے۔ان میں دو قسطوں سے لے کر چار، سات اور تیرہ شماروں پر محیط کہانیاں شامل تھیں۔کرچیاں نامی ایک کہانی پڑھ کر پشاور ٹیلی ویژن سینٹر کے ایک ڈائریکٹر ضیاء اللہ نے ہم سے رابطہ. کیا ۔انھیں کہانی پسند آئی تھی اور وہ اس پر ٹی وی سیریل “خلیج” کے نام سے بنانا چاہتے تھے۔پہلی قسط کے معاوضے کا چیک اور کنٹریکٹ کے پیپر سائن کرنے کے لئے بھیج دئے۔ہم نے چیک قبول کرکے کنٹریکٹ پر سائن کردئے۔ابھی تیاری کے مراحل میں تھی کہ ہماری باہر سلیکشن ہوگئی۔انھیں فون پر بتایا،، چاندنی کے زخم،(اس کہانی کی دوسری قسط لینے خالد بن حامد خود کراچی آئے تھے اور اپنے سامنے تکمیل کروا کر، یہ کہہ کر لے کر گئے تھے کہ جس ماہ ہماری کہانی کی قسط شائع ہوتی ہے، انھیں کم از کم پانچ ہزار اضافی پرچہ شائع کرانا پڑتا ہے۔)بوجھ ہے کم، ایک تھی کیپٹن زاہدہ، ایک تھی میجر نائلہ،( یہ دونوں آرمی میڈیکل کور سے تعلق رکھنے والی الگ الگ کردار اور الگ کہانیاں تھیں) پیاس کا صحرا، سو میں نے جیون ہار دیا، ۔اور بیشمار ۔2003میں نئی قسط وار کہانی “مرحلے وفا کے”شروع کی۔ابتدا میں خیال تھا کہ بارہ تیرہ اقساط پر مشتمل ہوگی۔لیکن پھر جوں جوں کہانی آگے بڑھتی گئی، نئے کردار اور واقعات شامل ہوتے گئے اور کہانی کا کینوس وسیع ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ ہم وطن واپس آگئے اور قسطیں چلتی رہیں ۔کہانی کی 114قسطیں شائع ہوچکی تھیں۔آداب عرض اب لڑکھڑانے لگا تھا۔۔دو دو ماہ کا وقفہ آنے لگا تھا۔14سال لگاتار شائع ہونے والی یہ کہانی آداب عرض کی بندش کے ساتھ ہی رک گئی۔مرحلے وفا کے اور آداب عرض کی موت کے بعد کسی میگزین میں نہ لکھا، نہ لکھنے کو جی چاہا۔محبوب تھا جو چلا گیا۔
آخر میں اپنے دو شعر قارئین کی نذر۔۔۔
ہاتھوں کی لکیروں نے کوئی گھر نہ بنایا
چکر میری تقدیر میں پاؤں کی طرح تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لازم تو نہیں تھا کہ نئے زخم بھی دیتے
میرے لئے یادوں کی اذیت ہی بہت تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
نسیم جاوید صاحب نے اپنی بائیو گرافی میں تین ڈائجسٹوں کا ذکر کیا، آداب عرض سلام عرض اور چناب رنگ کا، آخر الذکر چناب فیصل آباد سے جاری ہوا تھا، جس کے ناشر و ایڈیٹر حاتم بھٹی صاحب تھے ، اس ڈائجسٹ کے شاید چار ہی شمارے شائع ہو سکے تھے عدمِ اشتہارات کی بناء پر بند ہو گیا تھا،
✍️حاتم بھٹی صاحب پچھلے دنوں ہی کینیڈا سے واپس لوٹے ہیں، ان کی تازہ ترین تصویر اسی پوسٹ میں شامل ہے، آپ شمع بکسٹال فیصل آباد کے مالک بھی تھے،
سلام عرض نام کا رسالہ بھی عرصہ دراز چھپتا رہا نیم کامیاب اسے کہہ سکتے ہیں، تاہم ماہ نامہ آداب عرض، اور مزاحیہ رسالہ تیس روزہ چاند تو انتہائی کامیاب اور کلاسیک رسالے تھے، شاید ہی اردو کا کوئی ایسا مزاح نگار ہو، جو یہ دعوی’ کر سکے کہ اس نے لکھنے کا آغاز چاند سے نہیں کیا یا چاند میں کبھی نہیں چھپا، اسی طرح ان گنت ناول اور افسانہ نگاروں نے لکھنے کا آغاز آداب عرض سے کیا ہے،
✍️آداب عرض پہلے عرصہ دراز تک چھوٹے سائز عمران سیریز یا اشتیاق احمد کی ناول کا سائز سمجھ لیں یا طباعت کی زبان میں 20×30 =16 سائز کا تھا، تاہم پچھلی صدی کے آخری عشرے میں اس کا سائز ڈائجسٹ کی طرح یعنی 23×33 =16 ہو گیا تھا ، آداب عرض کا شمار بھی ان بڑے ڈائجسٹوں میں ہوتا ہے جو ذاکر حسن کا بنایا سرورق لگاتے تھے، البتہ چاند شروع سے اخیر تک 20×30 =8 یعنی عمران سیریز یا اشتیاق احمد کی کی کتاب سے دوگنا سائز میں چھپتا رہا ہے، جنگ کے مشہور کارٹونسٹ جاوید اقبال کے کارٹون بھی شاید جنگ سے پہلے چاند میں شائع ہوتے تھے
✍️اگر کسی دوست کے پاس آداب عرض چاند اور سلام عرض کے رسالے ہوں تو کمنٹ میں تصاویر شیئر کر کے، اور قارئین کا لطف دوبالا کر کے دعائیں سمیٹ سکتا ہے، البتہ اس پوسٹ سے لف ہزا ایک تصویر میں آداب عرض اور چاند کے ایک اشتہار کا عکس شامل ہے، جو میرے ذاتی ڈائجسٹ مسٹر میگزین میں تسلسل سے شائع ہوتا تھا،
✍️✍️✍️✍️✍️گزشتہ قسط میں احمد عدنان طارق صاحب کا تزکرہ چل رہا تھا، آپ بچوں کے مصنف ہیں، اور بچوں کے لئے چھپنے والے ناول ہی ان کی بہت بڑی لائبریری کا حصہ ہیں، میری ان سے ملاقات ہے، یہ بچوں کے ادب پر اس قدر جذباتی ہیں کہ ان کا بس چلے تو، یہ تمام ڈائجسٹ و اخبارات پر لازم قرار دیے دیں، کہ بچوں کے لئے ہر اشاعت میں چند صفحات ضرور مختص کرنے ہیں، عدنان صاحب کی 30سے زیادہ کتابیں اب تک شائع ہو چکی ہیں اور کہانیاں تین ہزار سے زائد زیادہ لکھ چکے ہیں، اور روزانہ کی بنیاد پر مسلسل نان سٹاپ بلا تکان لکھے ہی جا رہے ہیں،
احمد عدنان طارق صاحب میں اضافی خوبیاں یہ ہیں کی آپ کی والدہ اور والد دونوں ایم اے انگلش تھے اور والدہ تاندلیانوالہ ہائی سکول کی ہیڈ مسٹریس تھیں اور عدنان صاحب بزات خود بھی ایم اے انگلش ہونے کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی ہیں اور محکمہ پولیس میں ایس ایچ او ہیں
کتابوں بالخصوص بچوں کی کہانیوں میں ان کی جتنی دلچسپی، اور بچوں کے ملکی غیر ملکی ادب اور بچوں کے مصنفین بارے معلومات ہیں، اور جس طوفانی رفتار لیکن معیاری طرز تحریر سے وہ بچوں کا ادب تخلیق کئے جا رہے ہیں، مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، کہ آنے والے قلیل عرصے میں احمد عدنان طارق اےحمید مظہر کلیم ایم اے اور اشتیاق احمد کے بعد بچوں کے مشہور و مقبول ترین مصنف کہلائیں گے، حالانکہ میری اس پیشگوئی سے کئی جاننے والے بچوں کے مصنفین شاید خفا ہوں، لیکن میرے تجربے کے ستارے یہی کہتے ہیں،
اس اشاعت میں احمد عدنان طارق کی کہانیوں کے چند مجموعوں کی تصاویر شامل ہیں جو گزشتہ اشاعت میں شامل ہونے سے رہ گئی تھیں، ان کا بچوں کے لئے کہانیوں کا تازہ ترین مجموعہ “اس دنیا کے جوتے” ہے جسے المجاہد پبلشرز گوجرانوالہ سے ناصر اقبال مجاہد نے شائع کیا ہے،
✍️✍️✍️✍️✍️ دعائیں، اوّراد، اور وظائف…. مومن کا ہتھیار ہیں، جب کوئی خوف دامن گیر ہو، جب امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہو، جب بچوں کے مستقبل پر والدین فکر مند ہوں، جب مسلمان کو اپنے گناہوں کی گٹھڑی بہت بھاری محسوس ہونے لگے، تو ایسے میں بے اختیار لبوں پر کوئی نہ کوئی دعا جاری ہو جاتی ہے،
کتاب کا کاروبار کرنے والے یہ نکتہ خوب سمجھتے ہیں کہ وظائف اور دعاؤں کے مجموعے کسی بھی بْک شاپ کے لئے کس قدر اہم ہیں، اور کتنی کثیر تعداد میں ہدیہ کیے جاتے ہیں، سیکڑوں اشاعتی اداروں نے ہزارہا دعاؤں کے مجموعے شائع کر رکھے ہیں اور روزانہ کے حساب سے ان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، اسلامی تعلیمات پر مبنی دیگر کتب بھی
بقیہ کتابوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ پسند کی جاتی ہیں، تاہم چند کتابیں تو ایسی ہیں، جو اتنی کثیر تعداد میں چھپتی ہیں، کہ عام آدمی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا!! انہی میں سے ایک کتاب ہے موت کا منظر معہ مرنے کے بعد کیا ہو گا، اب بھی بے شمار اداروں سے چھپتی ہے اب بھی اچھی کھپت ہے اس کی، لیکن دس پندرہ سال قبل تو اس کی فروخت اپنے پورے جوبن پر تھی، بیس پچیس مختلف پبلشرز اسے پرنٹ کرتے تھے اور لگاتار مسلسل چھپتی تھی، اور اس کی مانگ کم ہونے پر نہ آتی تھی، موت کا منظر کے مؤلف تھے خواجہ محمد اسلام، دھیمی گفتگو کرتے فربہ گٹھا جسم نورانی سفید، باریش چہرہ سفید شلوار قمیض واسکٹ میں ملبوس ہر وقت مسکراہٹ ہوتی ان کے چہرے پر، اور عاجزی تو جیسے کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، لاہور کے اردو بازار کی قزافی مارکیٹ میں ان کی دوکان پہلے تو تھی


✍️موت کا منظر کتاب پاکستان بھر میں آج تک لاکھوں کی تعداد میں فروخت ہو چکی ہے، اس کتاب کا ایک اور پس منظر بھی ہے، پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں ایک اردو پشتو فلم بنی تھی، اردو ورژن میں اس کا نام تھا دلہن ایک رات کی،پشتو میں اس کا نام ناوے دہ یو شپے تھا، یہ ایک بلاک بسٹر فلم کہلائی اس فلم کی ہیروئین نئی لڑکی نمی تھی جو اس فلم کی ناقابلِ یقین کام یابی کے بعد مصروف اور مہنگی ہیروئین بن گئی، فلمیں اور دھن دولت اس پر بارش کی مانند برسنے لگے، پھر اچانک ایک دن اس نے فلموں میں کام کرنے سے انکار کر دیا، کیونکہ اس نے خواجہ محمد اسلام کی کتاب موت کا منظر معہ مرنے کے بعد کیا ہو گا پڑھنا شروع کر دیا تھا، یہ کتاب پڑھنے کے بعد نمی کی زندگی کا رخ ہی بدل گیا، اوروہ شوبزنس کی چکا چوند روشنیوں سے یکسر کنارہ کش ہو کر پردہ نشین اور گوشہ نشین ہو گئی، اس نے بھریا میلہ چھوڑ دیا تھا، پچھلے سال اس کا انتقال ہو گیا، لیکن مرتے دم تک نمی اپنی توبہ تائب پر قائم رہی، یہ صرف سنی سنائی بات نہیں، بلکہ حقیقت ہے،، ابھی کل ہی میں نے اس بات کی تصدیق * گڈو فلم آرکائیو* کے روح رواں جناب گڈو خان سے کی ہے جو میری فرینڈ لسٹ میں شامل ہیں آپ پاکستان فلم انڈسٹری کی چلتی پھرتی تاریخ تو ہیں ہی، اس کے ساتھ ساتھ ان کے پاس تمام فلمی شخصیات کا جوانی سے بڑھاپے تک کا ریکارڈ موجود ہے، ان کا اپنا یو ٹیوب چینل بھی ہے جہاں نمی کا آخری ایام میں لیا گیا انٹرویو بھی موجود ہے جس میں نمی اس بات کی تصدیق کرتی دکھائی دیتی ہیں
✍️✍️✍️✍️✍️✍️دعاؤں اور وظائف کی ایک کتاب کا نام ہے، فقری مجموعہ وظائف، دعاؤں اوراد اور وظائف کا یہ مجموعہ پاکستان میں بیس سے زیادہ اشاعتی اداروں سے چھپ رہا ہے اور بے حساب چھپ رہا ہے، اس کی مانگ گزشتہ بیس برس سے ہے، اس کے مؤلف ہیں عالم فقری،
َفقری مجموعہ وظائف اس وقت پاکستان میں سب سے زیادہ چھپنے اور فروخت ہونے والی دعاؤں اور وظائف کی کتاب ہے، میرے خیال میں خاص طور پر خواتین کی اکثریت فقری مجموعہ وظائف سے اچھی خاصی واقفیت رکھتی ہے،


✍️ حضرت عالم فقری رحمتہ اللہ علیہ کا اصل نام محمد عالم ہے آپ 5شوال المکرم 1364ھ بمطابق 13 ستمبر 1945 بروز جمعرات اپنے آبائی گھر چاہ میراں لاہور میں پیدا ہوئے، پرائمری تعلیم میونسپل کارپوریشن اسکول چاہ میراں سے، میٹرک اسلامیہ ہائی اسکول مصری شاہ سے سکالر شپ کے ساتھ پاس کیا، 1965 میں ایف اے، 1967 میں بی اے اور 1969 میں ایم اے اسلامیات اور پھر ایم اے اردو کیا، 1975 میں آپ نے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی
آپ اوائل عمری سے ہی توکل صبر اور فقر کے قائل تھے، اسی لئے آپ فقری مشہور ہو گئے،،، آپ کا فارغ وقت، زیادہ تر دربار میراں حسین زنجانی رحمتہ اللہ علیہ کی مسجد میں گزرتا، ساری زندگی تصنیف و تالیف میں گزری مطالعہ کے بے پناہ شوق کے باعث تمام تفاسیر اور احادیث کے مجموعے پڑھ رکھے تھے، آپ کی پہلی تصنیف، سید میراں حسین زنجانی کی سیرت <آفتابِ زنجان >تھی ،، یہ کتاب آپ نے 1974 میں لکھی، اور پھر ایک کے بعد ایک کتاب لکھتے چلے گئے، مجموعی طور پر 260 چھوٹی بڑی کتابیں لکھیں، انہی میں شہرہءآفاق… فقری مجموعہ وظائف بھی شامل ہے، جو آج گھر گھر موجود ہے، زندگی کے آخری ایام میں آپ پیٹ کے عارضے میں مبتلا ہو گئے، جس کے بعد تیز بخار اور شدید کھانسی شروع ہو گئی، آخر کار 10رجب المرجب بمطابق 28 مارچ 2018 بروز بدھ فجر کے وقت جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی، حضرت علامہ محمد عالم فقری رحمتہ اللہ علیہ کے جسدِ خاکی کو آبِ زم زم سے غسل دیا گیا، اور جلو پارک کے قریب تدفین کی گئی، حضرت علامہ فقری کا مزار مبارک فقری سٹریٹ میں جلو پارک روڈ لاہور میں مرجع گاہِ خلائق ہے، آپ کے فرزندِ ارجمند حسیب فقری ان کی تصنیفات کو شائع کرتے ہیں، (جاری ہے)
بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب
……
……
……
……
……
اردو کہانی کا سفر کے حقوقِ اشاعت بحق مصنف محفوظ ہیں، بغیر تحریری اجازت اس کو کاپی پیسٹ کرنا، یا اس کا Pdf بنانا یا کسی بھی ویب سائٹ یا پرنٹ میڈیا پر اسی یا کسی دوسرے نام سے شائع کرنا جرم ہے پوسٹ کو صرف شئیر یا اس کا لنک شئیر کیا جا سکتا ہے،
……
……
……
……
……
مدیران ناشران تاجرانِ کتب نیوزایجنٹ مصنفین اور قارئین کی یہ مشترکہ بیٹھک ابھی جاری ہے بقیہ واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط نمبر 23 کا، بہہہہہہت جلد انشاءاللہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے