سر ورق / ” ایکسپو سینٹر میں کُتب میلہ“۔ کِرن صِدّیقی

” ایکسپو سینٹر میں کُتب میلہ“۔ کِرن صِدّیقی

” ایکسپو سینٹر میں کُتب میلہ“۔

کِرن صِدّیقی

    کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں اس کی پہچان کے اور کٸ حوالے ہیں وہیں ادب اور ادبی تقریبات بھی اس کا بہترین تعارف ہیں یہاں مختلف النّوع ادبی اجتماعات کے علاوہ کتب میلے بھی ہوتے رہتے ہیں کیوں کہ یہاں کے لوگ کتاب سے محبت کرتے ہیں اور کتاب پڑھنا چاہتے ہیں یہاں ہونے والا سب سے بڑا کتب میلہ ایکسپو سینٹر حسن اسکواٸر میں ہوتا ہے جو گزشتہ چودہ سال سے یہاں بلاناغہ ہورہا ہے جہاں لوگ جوق در جوق آتے ہیں اور اپنی پسندیدہ کتابیں خرید کے لے جاتے ہیں۔

    دورِ جدید میں ٹیکنالوجی کے انقلاب نے کتاب کو بھی اپنی لپیٹ میں لِیا اور اب ہم کتاب کو مطبوعہ شکل کے علاوہ پی ڈی ایف یعنی پورٹ ایبل ڈاکیومنٹ فارمیٹ کی صورت میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ پی ڈی ایف کی وجہ سے مطبوعہ کتاب پڑھنے اور اس کی فروخت پہ بہت اثر پڑا ہے جبکہ ہم ہر کتب میلے میں ناشران کی کثیر تعداد کو اسٹال سجاۓ دیکھتے ہیں۔ جہاں لوگ کتابیں خریدتے نظر آتے ہیں جبکہ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ پی ڈی ایف کی وجہ سے مطبوعہ کتاب پڑھنےکے رجحان اور اس کی فروخت پہ اثر پڑا ہے۔ ہم نے سوچا کہ اس بارے میں ناشران کی راۓ بہت اہمیت کی حامل ہوگی لہٰذا اُن سے اِس بارے میں پوچھنا چاہیۓ۔

      چلڈرن پبلیکیشنز کے مالک طاہر اختر نے اس بات کا جواب کچھ یوں دیا۔ پی ڈی ایف ایک ٹیکنیکل میڈیا ہے۔ لیکن اصل کتاب سے لوگوں کی محبت ابھی کم نہیں ہوٸ اور نہ ہوگی۔ میں آپ کو بتاٶں ہم کہتے ہیں کہ پی ڈی ایف کتابوں کی فروخت میں رکاوٹ ہے ایسا ہرگز نہیں ہے۔ پی ڈی ایف بنیادی طور پہ ٹیکنیکل لوگوں کے لیۓ کارآمد ہے۔ مِثال کے طور پہ ایک پندرہ سو صفحے کی میڈیکل کی کتاب ہے اور چاہٸیں آپ کو اُس کے دو چیپٹرز تو آپ کے لیۓ آسان ہے اس کے مطلوبہ چیپٹرز کو ڈاٶن لوڈ کرلیں۔ تو پی ڈی ایف اس سلسلے میں بہت کام کی چیز ہے لیکن آپ کوٸ ناول یا کتاب ڈاٶن لوڈ کرکے پڑھ لیں یہ ممکن نہیں۔ آنکھیں درد ہوں گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ ایکسز نہیں آۓ گا پی ڈی ایف آپ دس پندرہ منٹ آدھا گھنٹہ تو پڑھ سکتے ہیں پھر آپ کو پڑھنے کا مزہ نہیں آۓ گا اور آپ کہیں گے کہ بُک ہی مل جاۓ تو اچھا ھے۔ کتاب پڑھنے کا مزہ اسے ہاتھ میں لے کے پڑھنے کا ہے۔ ہاں یہ ہے کہ ہماری مذہبی کتابیں جو ہیں چودہ چودہ والیوم کی۔ اُنھیں خریدنا ہر آدمی کے بس کی بات نہیں۔ ان میں سے اپنے مطلوبہ حصّے پی ڈی ایف میں لیۓ جاسکتے ہیں۔ پی ڈی ایف اپنی جگہ ہے اور کتاب کی اپنی اہمیت ہے کتاب کو پی ڈی ایف سے کوٸ خوف یا نقصان نہیں ہے اور یہ کہنا قطعی غلط ہے کہ کتاب نہیں بِکتی یا پی ڈی ایف کی آمد نے کتاب کی اشاعت پہ اثر ڈالا ہے اگر واقعی ایسا ہوتا تو مارکیٹ میں آۓ دن اتنے پبلشرز کیوں آتے۔ ظاہر ہے کتاب بِک رہی ہے لوگ پڑھ رہے ہیں تبھی تو پبلشرز چھاپ رہے ہیں۔ یہ کہنا کہ کتاب نہیں بِکتی پی ڈی ایف یا کسی اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے، ناشُکراپن ہے جس کا میں سخت مخالف ہوں چاہے کتنی بھی ٹیکنالوجیز آجاٸیں کتاب کی اہمیت نہ تو کم ہوٸ ہے نہ کم ہوگی۔

       فرید پبلشرز کے مُنعم فرید نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے باوجود کتاب پڑھنے کے رجحان میں زیادہ فرق نہیں پڑا۔ پی ڈی ایف میں کتاب پڑھنے کی الگ بات ہے اور ویسے ہاتھ میں کتاب لے کے پڑھنے کا اپنا مزہ ہے صفحوں کو پلٹنا، کتاب کی اپنی خوشبو ہوتی ہے۔ پی ڈی ایف میں کتاب پڑھنے کا مزہ ہے ہی نہیں لیکن بیرونِ ملک جو لوگ رہتے ہیں انھیں تو کتاب ملنا آسان نہیں ہےتو وہ پی ڈی ایف کی شکل میں ہی وہ کتاب بآسانی پڑھ سکتے ہیں۔ پی ڈی ایف سے کتابوں کی اشاعت یا کتابیں پڑھنے کے رجحان میں کوٸ فرق نہیں پڑا۔

         لاہور سے آۓ ہوۓ بچوں کا کتاب گھر کے مالک محمد فہیم عالم نے کہا کہ سعود عثمانی صاحب نے کہا کہ ”یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی“ تو اب پی ڈی ایف بھی بہت پڑھا جاتا ہے۔ پی ڈی ایف کتابوں کی فروخت کے لیۓ معاون ثابت ہوا ہے۔ کتاب جو حقیقی فارم میں ہی پڑھی جاتی ہے کتاب کا مزہ اسی میں ہے۔ تشہیر میں سوشل میڈیا کا بہت کردار ہے۔ پچھلے تیس چالیس سالوں میں کبھی اتنی نہیں ہوٸ جتنی اب سوشل میڈیا سے ہوتی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ لوگوں نے کتاب چاہے پی ڈی ایف میں پڑھ بھی رکھی ہو لیکن انھیں پسند آتی ہے تو وہ خریدتے بھی ہیں کاغذ پہ چھپی کتاب کی اپنی ہی بات ہے۔ تو پی ڈی ایف کتاب کے لیۓ نقصان دہ نہیں بلکہ فاٸدہ مند ہی ہے۔

       حیدرآباد سے آۓ ہوۓ کویتا پبلی کیشنز کے مالک موہن مدہوش کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایف کی وجہ سے کتاب خریدنے کے رجحان میں فرق پڑا ہے لیکن لوگوں کے اپنے اپنے مزاج کی بات ہوتی ہے کسی کو پی ڈی ایف میں پڑھنا آسان لگتا ہے اور کسی کو ہارڈ کاپی پڑھنا پسند ہے لیکن جس کو کتاب پڑھنا پسند ہے وہ کتاب ہی پڑھے گا اور جسے پی ڈی ایف میں پڑھنا پسند ہے وہ اس میں ہی پڑھے گا۔

        اٹلانٹس پبلی کیشنز کے مالک فاروق احمد نے اس بارے میں کہا ٹیکنالوجی بدلتی رہتی ہے۔ چیزیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں، آگے بڑھتی رہتی ہیں۔ پی ڈی ایف

فارمیٹ جو ہے بیسکلی وہ پرنٹ ڈاکو منٹس فارمٹ ہے۔ اِس سے کتاب آپ کو الیکٹرونک میڈیا پہ دست یاب ہوجاتی ہے۔کاروباری نکتہ۶نظر سے اگر میں بات کروں تو کسی بھی طرح کی اِس قسم کی ایجاد سے جس سے قاری تک کتاب پہنچ جاۓ وہ مارکیٹ کے کل ساٸز جو ہوتا ہے اُس میں اضافہ کرتی ہے اور ریڈرشپ بڑھتی ہے۔ اب اگر آپ دیکھیۓ پی ڈی ایف نہ آٸ ہوتی تو کیا صورتِ حال ہوتی؟ مثال کے طور پر آپ اشتیاق احمد کے ناول یا عمران سیریز دیکھ لیجیۓ بہت سے بچّے ایسے ہمارے پاس آتے ہیں اور یہ کتابیں خریدتے ہیں وہ ان سے واقف ہی نہ ہوتے اگر انھوں نے پی ڈی ایف میں یہ کتابیں نہ پڑھی ہوتیں۔ پی ڈی ایف نے ان کتابوں کو آگے بڑھایا انھیں پھیلایا۔ میں اس خیال کو بالکل تسلیم نہیں کرتا کہ پی ڈی ایف کی آمد سے کتاب کو کسی قسم کا نقصان پہنچا ہے فرق صرف اِتنا ہے کہ ہم میں سے جو لوگ اپنے آپ کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کرتے ان کی خواہش یہ رہتی ہے کہ وقت ہمیشہ ایک سا رہے۔ چیزیں تھمی رہیں جتنا ہم کو آتا ہے دنیا اس سے آگے نہ بڑھے۔ پی ڈی ایف ایک ٹیکنالوجی ہے۔ دیکھنا پڑے گا ہم اس سے کیا فاٸدہ لے سکتے ہیں۔ ون لاٸن اگر میں کہوں تو پی ڈی ایف آنے سے کوٸ نقصان نہیں ہوا اس سے فاٸدہ ہوا ہے۔ قاری کو فاٸدہ ہوا ہے کتاب کی صنعت کو فاٸدہ ہوا ہے ادب کو فاٸدہ ہوا ہے۔ دنیا میں ہم سے کہیں زیادہ ترقی یاقتہ معاشرے ہیں وہاں پی ڈی ایف اور جدید ٹیکنالوجیز ہیں وہاں یہ سب چیزیں ہم سے پہلے ہوچکی ہیں لیکن کیا پی ڈی ایف کے آنے سے مغربی ادب کو کوٸ نُقصان ہوا؟ ایسا ہرگز نہیں ہے وہاں ادب زیادہ پھل پھول رہا ہے۔ ہمارے پاس ایسے بہت لوگ آتے ہیں جھوں نے پڑھنے کی ابتدا۶ ہی پی ڈی ایف سے کی لیکن اب وہ ہارڈ کاپی پڑھتے ہیں۔ جن کو کتابیں پڑھنا ہیں وہ پی ڈی ایف پڑھنے کے باوجود کتابیں بھی پڑھیں گے۔

    ان آرا۶ کو دیکھتے ہوۓ یہ کہنا غلط نہیں کہ کتاب کی اہمیت کو پی ڈی ایف سے کوٸ خطرہ نہیں کتاب کی اپنی کشش ہے جو پی ڈی ایف تو کیا کِسی بھی ٹیکنالوجی کے آنے سے کم نہیں ہوسکتی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے