سر ورق / تھیا، تھیا : شہباز اکبر الفت… قسط : 5

تھیا، تھیا : شہباز اکبر الفت… قسط : 5

تھیا، تھیا
قسط : 5
مصنف: شہباز اکبر الفت

” تابی، سب خیر تو ہے؟“ آخر تانیہ سے رہا نہ گیا اور اس نے تابش سے پوچھ ہی لیا جو آج خلاف معمول قدرے سنجیدہ اور بار باربے چینی سے موبائل کی طرف دیکھ رہا تھا، صاف لگ رہا تھا کہ اسے کسی کی کال یا میسج کا انتظار ہے ، وہ زیادہ بات بھی نہیں کر رہا تھا اور یہی چیز تانیہ کوکھٹک رہی تھی، تابش کم گو نہیں تھا،حالات خواہ جیسے بھی ہوں، بڑی سے بڑی پریشانی میں بھی وہ تانیہ کے سامنے زیادہ دیر چپ نہیں رہ سکتا تھا،انہیں ریستوران میں بیٹھے ہوئے لگ بھگ دو گھنٹے ہوچکے تھے، کھانے کے علاوہ چائے کے بھی دو دور چلے لیکن تابش نے ابھی تک اس بے وقت کی بھوک کا راز نہیں کھولا تھا جو انہیں سہ پہر ہی اس ریستوران میں لے آئی تھی حالانکہ وہ یونیکے کیفے سے بھی کھا پی کر ہی اٹھے تھے اور ریستوران سے کھانے کا ایک ہی مطلب تھا کہ انہیں کافی دیر تک بیٹھنا ہے ۔
” بتاﺅ نا تابی ۔۔۔“
” کک کیا“ وہ جیسے ہڑبڑا سا گیا
” کیا پریشانی ہے تمہیں“ اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا
” پریشانی تو کوئی نہیں ہے“ وہ بے ساختہ ہی ہنس پڑا
” توپھر ہم یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں “
” لوگ ریستوران میں کیوں آتے ہیں ؟“
” ہم بھی اسی لیے آئے ہیں لیکن ہم کھانا کھا چکے، چائے بھی پی لی اور وہ بھی دو، دو بار، اب آگے کیا ارادہ ہے ؟“
” ایک ایک چائے اور ۔۔۔۔“ تابش کے چہرے پر اس کی وہی روایتی مسکراہٹ اورشرارتی انداز دوبارہ لوٹ آیا جو ہمیشہ سے اس کی شخصیت کا خاصہ اور تانیہ کی جان ہوا کرتا تھا
” تابی اب میں رو دوں گی، سچ سچ بتاﺅ کہ تمہیں کیا مسئلہ ہے، تم کیوں اتنے ہراساں ہراساں سے نظر آ رہے ہو؟ “ تانیہ تقریباً روہانسی ہوگئی، اس کے ذہن میںبار بار ایک ہی خیال آ رہا تھا کہ تابش اپنے انگلینڈ جانے کے ارادے میں حائل رکاٹوں کی وجہ سے ہی پریشان ہے
” ہراساں تو نہیں لیکن کچھ بے چینی ضرور ہے اور اس بے چینی کاتعلق کسی پریشانی سے ہرگز نہیں ہے “
” پھر بھی، کچھ تو بتاﺅ“ تانیہ نے اصرار کیا ، اتنی دیر میں بیرا چائے لے کر آگیا ، تابش نے ایک معنی خیز مسکرا ہٹ کے ساتھ سر جھکاکرچائے بنانا شروع کر دی ، اسی دوران اس کے موبائل کی بیل بجی، تابش نے پہلی بیل پر ہی کال ریسیو کرلی
” جی بھٹی صاحب “ تابش نے کہا اور پھر کچھ دیر گفتگو کے بعد کال بند کرکے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا
”جلدی چائے پیو، یم ٹرانس کاسٹ میڈیا کے دفتر میں جا رہے ہیں “
” ٹرانس کاسٹ؟“ تانیہ نے استفسار کیا
” بہت بڑا پروڈکشن ہاﺅس ہے، فنکار آن لائن کے نام سے ایونٹ مینجمنٹ کا نیٹ ورک بھی چلا رہے ،اس کے سی ای او ذوہیب بھٹی فلم فیسٹویل میں ملے تھے ، انہوں نے ہمارے لیے کوئی کام نکالا ہے “ تابش نے آخرکاراپنی اندرونی کیفیت کا بھانڈہ پھوٹتے ہوئے انکشاف کیا ، خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی، تانیہ نے بھی اطمینان کا سانس لیتے ہوئے چائے اٹھا لی
٭٭٭
ٹرانس کاسٹ میڈیا اور فنکار آن لائن کے دفاتر احمد بلاک گارڈن ٹاﺅن میں واقع تھے، گوگل پر ٹرانس کاسٹ میڈیا کی لوکیشن رجسٹر تھی جس کی وجہ سے انہیں پہنچنے میں کسی قسم کی دقت نہ ہوئی، سی ای او ذوہیب بھٹی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا ،فنکار آن لائن کے مینجنگ ڈائریکٹر اور معروف پروموٹر غلام عباس بھی خوش دلی سے ملے،تابش اور تانیہ کو ذوہیب بھٹی کی شان دار شخصیت نے پہلی ملاقات میں ہی بہت متاثر کیا تھا، انتہائی خوش شکل اور خوش مزاج ذوہیب بھٹی نے شوبز میں اپنی اعلیٰ تخلیقی اور انتظامی صلاحیتوں کی وجہ سے بہت کم عرصہ میں بڑی اچھی شہرت اور نام کمایاتھا لیکن اس کے باوجودان کی ذات میں کسی قسم کا غرور اورتصنع و بناوٹ نام کی شے نہ تھی، چائے وغیرہ کے بعدانہوں نے دونوں کو اپنے دفاتر کا دورہ بھی کروایا جن میں ریکارڈنگ اسٹوڈیو اورتدوین کے شعبہ جات سرفہرست تھے ،ریکارڈنگ اسٹوڈیو میں ان کی ٹرانس کاسٹ میڈیا کےمینجنگ ڈائریکٹر ایاز چوہان سے بھی ملاقات ہوئی جومعروف گلوکارہ ماریہ میر کی آواز میںکسی پراڈکٹ کی تشہیری مہم کی صداکاری کو محفوظ کرنے میں مصروف تھے، ماریہ میر، تانیہ کی پسندیدہ گلوکارہ تھیں، تابش کے انکشاف پر ماریہ میر نے بھی تانیہ کے لیے انتہائی گرمجوشی کا اظہار کرتے ہوئے مصافحہ کیا اور سیلفی بھی بنائی ، بعد ازاں ان کے درمیان گفتگو کاباقاعدہ سلسلہ شروع ہوا
” تابش صاحب، میں نے فلم فیسٹویل میں آپ کا کام دیکھا ہے اور بہت متاثر ہوا ہوں، آپ کی شارٹ فلم مجھے اس لیے بھی پسند آئی کہ میں خود علی اکمل تصور کا بہت بڑا مداح ہوں،میں نے بھی اپنی عملی زندگی کا آغاز بچوں کے ادب سے کیا تھا اور کافی عرصہ بچوں کےلیے لکھتا رہا ہوں “ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا ” مزے کی بات یہ بھی ہے کہ میں خود کافی عرصہ سے اسی منفرد کہانی پر کام کرنا چاہ رہا تھا اوراس کے لیے علی اکمل تصور سے باقاعدہ اجازت بھی لے لی تھی لیکن آپ بازی لے گئے “
” سوری سر“ تابش نے کچھ کہنا چاہا لیکن بھٹی صاحب نے اسے ٹوک دیا
” ار ے بھئی سوری کی کوئی بات نہیں، علی اکمل تصور میرے بچپن کے دوست ہیں اور انہوںنے بھی یو ٹیوب پر آپ کو اس کاوش کو بہت سراہا ہے“
”یہ تو ان کا بڑا پن ہے سر، آپ دونوں کا بہت شکریہ “ تابش نے سر جھکا کر ممنونیت کا اظہار کیا
” اچھا! اب کام کی بات کرتے ہیں “ ذوہیب بھٹی نے انہیں شرمندہ کرنے کی بجائے بات کا رخ بدلا ” میر ے پاس ایک بیوٹی سوپ کا ایڈ ہے جو کمپنی کو ہر حال میں اسی ہفتے چاہیے، کمپنی مالکان میرے پرانے کلائنٹ ہیں اوروہ میرے ادارے کے علاوہ کہیں اور سے کام بھی نہیں کرواتے “
” یہ تو بہت اچھی بات ہے سر“
” اچھی بات تو ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میرے پاس ان دنوںکسی بھی نئے کام کے لیے بالکل بھی وقت نہیں “ انہوں نے نفی میں سر ہلایا “ دراصل ہمارے پاس پی وی سی پائپ انڈسٹری کا ایک بڑا کنٹریکٹ چل رہا ہے جس کے تحت ہم ان کی متفرق مصنوعات کی تیاری کے مراحل اور افادیت بارے دستاویزی فلموں کے ایک سلسلہ پر کام کر رہے ہیں جس کی پہلی فلم مکمل ہوچکی اور دوسری کی تدوین کا کام چل رہا ہے جبکہ تیسری کے لیے کمپنی کے ساتھ معاملات حتمی مراحل میں ہیں“ لمحہ بھر توقف کے بعد وہ گویا ہوئے ” اس لیے میں چاہتا ہوں کہ بیوٹی سوپ کا یہ ایڈ آپ لوگ ڈائریکٹ کرو“
” لیکن سر ۔۔۔۔ ہمیں تو اس کام کا بالکل بھی تجربہ نہیں “ تابش نے تانیہ کی طرف دیکھ کر صاف گوئی سے کہا
” میرا ماننا ہے کہ کسی بھی شعبے میں کام کو سمجھنے کی صلاحیت ہی تجربے کا بہترین نعم البدل ہوتی ہے اور تجربہ تو ویسے بھی کام کرکرکے ہی آتا ہے “
” وہ تو ٹھیک ہے لیکن ۔۔۔“
” لیکن ویکن کچھ نہیں تابش صاحب، اللہ کا نام لے کر کام شروع کریں، کاسٹ، کانسیپٹ اور کریوسمیت سب کچھ آپ کو تیار ملے گا،تین دن میںاسائنمنٹ کو مکمل کرکے اپنی عملی زندگی کا آغاز کر دیں “ انہوں نے مسکراتے ہوئے فائل میں سے ایک اشٹام پیپر نکالا ” اور یہ رہا آپ کا معاہدہ ، اچھی طرح پڑھکر دستخط کر دیں،ایڈوانس کا چیک بھی جاتے ہوئے اکاﺅنٹنٹ سے لے لیجئئے گا “
تابش اور تانیہ نے اپنی زندگی کے پہلے کنٹریکٹ کو دھڑکتے دل کے ساتھ بار بار پڑھ کر دیکھا ، معقول معاوضہ کے جگمگاتے ہوئے ہندسے ہی ان کی تسلی کے لیے کافی تھے پھر بھی انہوں نے انتہائی احتیاط کے ساتھ معاہدے کی تمام شرائط کو بغور پڑھ کر مخصوص مقامات پر دستخط کر دئیے
٭٭٭
ٹرانس کاسٹ میڈیا کی ساری ٹیم ہی ہنرمند نوجوانوں پر مشتمل تھی، سبھی خوش مزاج اور تعاون کرنے والے، بیوٹی سوپ کے لیے ملک کی مایہ ناز ماڈل و اداکارہ حنا کا انتخاب کیا گیا تھا جس نے بھی کمرشل کی عکس بندی کے دوران بہت تعاون کیا اور اپنے مصروف ترین شیڈول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صرف ٹرانس کاسٹ کی اچھی ساکھ کو مدنظر رکھتے ہوئے طے شدہ وقت سے بھی زیادہ دیر ان کے ساتھ رہ کر کام کے حوالے سے کسی شکایت کا موقع نہ دیا، عکس بندی کے لیے لاہور کی ایک معروف ہاﺅسنگ کالونی میں سٹیٹ آف آرٹ بنگلے اور پتوکی کے ایک فارم ہاﺅس کا انتخاب کیا گیا تھا، عکس بندی تو دو دن میں مکمل ہی ہوگئی تھی لیکن پس پردہ صداکاری اور تدوین کے مراحل پر دو دن مزید لگ گئے اور چوتھے دن جب کمرشل ہر لحاظ سے مکمل ہوکر ٹرانس کاسٹ میڈیا کے اسٹوڈیو ز کی بڑی اسکرین پر چلا تو اس کی اثرپزیری دیکھ کر سبھی سے چلا اٹھے، ذوہیب بھٹی صاحب نے تو بے اختیار اپنی نشست پر کھڑے ہوگئے اور اعلیٰ ظرفی کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے باقاعدہ تالیاں بجا کر انہیں داد دی۔
” تابش ۔۔۔ تم ایک دن بڑے ڈائریکٹر بنو گے “ انہوں نے خوش دلی سے اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا
” تھیک یو سو مچ سر لیکن اس میں آپ کی ٹیم اور تانیہ کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے اور خاص طور پر آپ کے اس بھرپور اعتماد کا جس نے میرے جیسے نوآموز کو بغیر کسی تجربہ کے اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا اتنا بڑا موقع فراہم کیا “ تابش آندیدہ ہوگیا، تانیہ کی آنکھیں بھی نم ہوگئی تھیں
” یہ آپ کا حق تھا بھئی، ہماری اپنی ذات پر بھی کبھی کسی نے ایسا ہی اعتمادکیا تھا، اللہ بھلا کرے کاوش صدیقی صاحب کا جنہوں نے پہلی بار میرے ہاتھ میں قلم کے ساتھ ساتھ مائیک بھی پکڑا دیا کہ بدلتے وقت کے ساتھ چلنا ہی دانشمندی ہے “
” یہ توہے سر “
” اور مجھے امید ہے کہ اب آپ ہمارے ساتھ رابطے میں رہیں گے “
” ان شاءاللہ سر، لیکن فی الحال تو میں فلم ڈائریکشن کے کچھ کورسز کے لیے انگلینڈ جا رہا ہوں، دو سال بعد واپسی ہوگی اور سب سے پہلے ٹرانس کاسٹ میڈیا کے دفتر میں ہی حاضری دوں گا“ اس نے صاف گوئی سے کہا
” بیسٹ آف لک “ بھٹی صاحب نے معاوضے کی باقی رقم کا چیک اکاﺅنٹنٹ کے ہاتھ سے لے کر اسے تھما دیا
٭٭٭
بیوٹی سوپ کے ایڈ سے تابش کو ساٹھ ہزار روپے ملے تھے، گوکہ یہ رقم اس کے خوابوں کی تکمیل کے لیے تو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہی تھی لیکن کام کے لحاظ سے واقعی ایک خطیر معاوضہ تھا ، اگر اسے انگلینڈ جانے کی جلدی نہ ہوتی تو ٹرانس کاسٹ کے ساتھ منسلک ہو جانا اس کے لیے بہت سودمند ثابت ہوتا، تانیہ کا بھی یہی مشورہ تھا کہ وہ بھٹی صاحب کے ساتھ مزید کام کرنے کی آفر کو قبول کرلے لیکن تابش کا یہی جواب تھا کہ پہلے انگلینڈ پھر کوئی اور کام، اپنی زندگی کی پہلی کمائی میں سے اس نے آدھے پیسے تانیہ کو بھی دینا چاہے لیکن تانیہ نے اس کے بے حد اصرار کے باجود پیسے لینے سے انکار کر دیا البتہ یونی کیفے میں دوستوں کے ساتھ دعوت ضرور اڑائی گئی

( جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے