سر ورق / لاحاصل سے حاصل ۔۔  مریم چودھری 

لاحاصل سے حاصل ۔۔  مریم چودھری 

لاحاصل سے حاصل ۔۔

مریم چودھری

آپ  کیسی بات کر رہی ہیں ؟ میں ان باتوں پر یقین نہیں رکھتا ؟ عجیب پاگل لڑکی ہیں آپ ؟ کتنی دفع منع کیا ہے آپ کو ایسے کلاس چھوڑ کر میرے آفس مت آیا کریں ؟ لوگ بلاوجہ شک کرتے ہیں ؟ اور میں میں آپ کو کتنی دفع سمجھا چکا ہوں میں کسی اور سے محبت کرتا ہوں اور enganged بھی ہوں اور میری بہت جلد اس سے شادی بھی ہے ۔۔۔ لہٰذا میرا پیچھا چھوڑو اور روز روز یہ محبت کی تسبیح پڑھنا چھوڑ دو ۔۔۔ اپنی تعلیم کو وقت دو ۔۔۔ تم یہاں پڑھنے آتی ہو نا کے محبت کرنے ۔۔۔

اتنا سب سننے کے بعد پھول پروفیسر عتیق کے آفس سے باہر آگئی مگر ان باتوں کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کیوں کے وو روز ایسے ہی باتیں سننے کی عادت ڈال چکی تھی ۔۔۔ اور محبت میں اسکو یہ باتیں بھی سکون دیتی تھی وو روزانہ پروفیسر کے آفس آتی اور ایسے باتیں سن کر آجاتی ۔۔۔ مگر اس دفع یہ آخری مرتبہ تھا ۔۔۔ کیوں کے پروفیسر کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں لاہور سے اسلام آباد جا رہے تھے اور انکی واپسی کی مزید دو ماہ تک ممکن نہیں تھی ۔۔۔ اور پروفیسر عتیق کو لگتا تھا شاید دو ماہ میں سب ٹھیک ہوجاے گا اور یہ پاگل لڑکی بھی بدل چکی ہوگی ۔۔۔

پھول نے ہر ممکن کوشش کی پروفیسر عتیق سے رابطے میں رهنے کی مگر ایسا ممکن نہیں ہو سکا کیوں کے پروفیسر عتیق کی فطرت باقی مردوں سے شدید مختلف رہی انکو موبائل فون کا استمال کرنا زندگی کا سب سے مشکل کام لگتا تھا ایسا نہیں تھا پھول نے کوشش نہیں کی وو روزانہ ناکام کوشش کرتی تھی ۔۔۔

خیر وقت کی رفتار بڑھتی گئی ۔۔۔ زندگی میں ہر دن نئے باب کے ساتھ گزرتا گیا وقت کا کسی کو پتا نا چلا سواے پھول کے ۔۔۔

پھول وو لڑکی تھی جو نا چاہ کر بھی خود کو محبت میں گرفتار کر چکی تھی ۔۔۔ انتہائی سنجیدہ لڑکی۔۔۔ خوبصورت بھی ۔۔۔ باوفا بھی ۔۔۔ مگر محبت کی آزمائش نا تو نزاکت دیکھتی نا خوبصورتی ۔۔۔ یہ چاہے تو عام کو خاص بنا دے یہ چاہے تو خاص کو عام بنا دے ۔۔۔ محبت راس ہی نصیب والوں کو آتی ہے ۔۔۔  اور جیسے راس نا آے وو تا حیات اس اذیت کو سہتا ہے ۔۔۔ پھول بھی اس ہی حالت میں جا چکی تھی ۔۔۔ پھول نے اپنی محبت کا ہر جگہ پیچھا کیا ہر موقع پر حاصل کرنے کی کوشش کی مگر محبت نصیب کا کھیل ہے اور نصیب تو ۔۔۔

پھول ہر لمحہ پروفیسر عتیق کی سوچو میں گم رہتی اور رات اپنی Dairy میں تحریر کرتی ۔۔۔

پروفیسر عتیق کو لاہور واپس آے بہت عرصہ گزر گیا تھا اور پھول کی بیچینی اور تڑپ مزید بڑھ گئی تھی مگر اب پھول ان کے آفس نہیں جاتی تھی مگر ساری  intention پروفیسر کی طرف رہی ۔۔۔

تین سے چار سال بیت چکے تھے پھول اپنے آخری smestor کے آخری روز  کینٹین میں بیٹھی اپنی دوست کا انتظار کر رہی تھی اچانک اسے پروفیسر عتیق کی شادی کی خبر ملی ۔۔۔ اس کی دوست ہاتھ میں سرخ اور گولڈن رنگ کا کارڈ لیۓ آئی ۔۔۔

دیکھو میں تو لازمی جا رہی ہوں اور تم بھی چلنا بہت مزہ آے گا ۔۔۔   مجھے انکی مسز دیکھنے کا بہت شوق ہے ۔۔۔ کیا وہ بھی ان کی طرح بہت خوبصورت ہوگی ؟ کیسا couple ہوگا ۔۔۔ گھر جاتے ہوۓ پھول کے دماغ میں اسکی دوست کی کہی باتیں گھوم رہی تھی ۔۔۔ اس کے ارد گرد اندھیرا تھا۔۔۔ وہ نا تو کچھ دیکھ پا رہی تھی اور نا  ہی سن ۔۔۔ اک وقت کے لیے اسکی زندگی جیسے رک سی گئی تھی ۔۔۔

مزید چارسال گزر چکے تھے ۔۔۔ پھول بہت بدل چکی تھی ۔۔۔ نا تو کسی محفل میں جا  پاتی اور نا ہی زندگی میں کوئی نیا باب شروع کر پاتی ۔۔۔ بظاہراٙ وہ بہت آگے آ چکی تھی مگر وہ آج آٹھ سال گزر جانے کے بعد بھی اپنی محبت میں گرفتار تھی ۔۔۔

سردیوں کی پہلی صبح تھی اچانک فون چیک کیا ۔۔۔ پھول سے کوئی رابطہ کرنا چاہ رہا تھا مگر پھول مکمل رابطہ نا کر سکی اور اگنور کر دیا ۔۔۔

کچھ وقت کے بعد پھر سے کسی نے رابطہ کرنا چاہا ۔۔۔ اس بار پھول نے کال اٹینڈ کر لی ۔۔۔ افسوس وو پھول کی محبت کی آخری کال تھی ۔۔۔ محبت کی خبر تھی ۔۔۔ پھول خود کو سمبھال نا پائی ۔۔۔ اور نا ہی اس بات پر یقین کر پا رہی تھی کے پروفیسر عتیق کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ دنیا فانی سے رخصت فرما گئے ہیں ۔۔۔

وقت گزرتا گیا زندگی چلتی گئی ۔۔۔ پھول مزید ایک سال اور پروفیسر کی یاد اور تڑپ میں گزار چکی تھی ۔۔۔ اس سال میں اور پچھلے آٹھ سالوں میں بہت فرق تھا ۔۔۔ اب وہ مزید بدل چکی تھی ۔۔۔ اس پر کوئی بات اثر نہیں کرتی۔۔۔ صرف عبادت میں وقت گزارتی ۔۔۔ دنیا داری سے مزید دور ہٹ گئی تھی ۔۔۔ پانچ وقت کی نماز کی عادت تو تھی ہی مگر اب تہجد بھی فرض سمجھ کر ادا کرتی ۔۔۔ لہجے میں مزید سادگی آگئی ۔۔۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی تڑپ ختم ہوگئی ۔۔۔ اذیت سے سکون کا سفر شروع ہوگیا تھا ۔۔۔ اور یہ ذکر الہی کی وجہ سے ہی تھا ۔۔۔ اب حقیقت میں اسکی زندگی کا دوسرا باب شروع ہوا تھا ۔۔۔عشق حقیقی۔۔۔

آٹھ سال کی محبت کا سفر در اصل اسے خدا تک پہنچانے کے لئے تھی ۔۔۔

پھول کی زندگی کا سفر آسان تب ہوا تھا جب وو سچے دل سے تسلیم کر چکی تھی  ‘ ہوگا وہ جو اسکی چاہت ہے ‘

وو تھکا دے گا تجھ کو اس میں جو تیری چاہت ہے ۔۔۔

اب پھول کی زندگی بہت آسان ہوگئی تھی کیوں کے اب وہ عشق حقیقی سے جا ملی تھی ۔۔۔ جہاں کرم ہی کرم تھا ۔۔۔ رحم ہی رحم تھا ۔۔۔ اور اللہ‎ کے سوا کچھ نہیں تھا اور اللہ‎ ہی سب کچھ تھا ۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے