سر ورق / کراسنگ پوائنٹ عتیق رحمان۔ دبئی متحدہ عرب امارات ۔

کراسنگ پوائنٹ عتیق رحمان۔ دبئی متحدہ عرب امارات ۔

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 105

کراسنگ پوائنٹ

عتیق رحمان۔ دبئی متحدہ عرب امارات ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چہلانہ چیک پوسٹ پر معمول کی چیکنگ کے لیے رکنے کے بعد ہماری بس اب ٹیٹوال سیکٹر پر اس مقام کی طرف رواں دواں تھی جہاں نیلم روڈ دریا پار پھیلی ہوئ انڈین مقبوضہ کشمیر کے پہاڑوں سے گلے ملتی ہوئ محسوس ہوتی ہے۔ ہمارے بائیں طرف “آزاد”پہاڑ تھے جن کے پیٹ کے نچلے حصے میں نیلم روڈ بڑی آنت کی طرح بچھی ہوئ تھی۔۔سڑک کے دائیں کنارے پر چھوٹے چھوٹے پتھروں کی برجیاں تھیں۔ان کے ساتھ ہی گہری ڈھلوان شروع ہو جاتی جو کسی سپائنو سارس(spinosaurus) کی طرح جبڑے کھولے کھڑی تھی اس کا دھانہ سڑک پر تھااور دم پچاس فیٹ نیچے نیلگوں اور پر شور دریا میں ڈوبی ہوئ تھی۔۔یہ دریا بہنے کے علاوہ پچھلے چوالیس سال سے عارضی سرحد ہونے کی اضافی ڈیوٹی بھی سر انجام دے رہا تھا اور اب کام کے بوجھ سے خاصا تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس مقام پر انڈین کشمیر کے پہاڑ اتنے قریب تھے کہ وہاں بنی ہوئ چیک پوسٹس میں موجود فوجی اگر غلیل بھی استعمال کرتے تو سڑک پر بیٹھی ہوئ کسی فاختہ کو آسانی سے نشانہ بنا سکتے تھے۔۔یہ الگ بات ہے کہ یہ 1992 تھا اور غلیل اب فاختاوں کے ہاتھ میں تھی جسے وہ بطور احتجاج شکاری بندوقوں کے خلاف استعمال کررہی تھیں۔
بس جیسے جیسے آگے جا رہی تھی مسافروں میں تناو کی کیفیت بڑھ رہی تھی۔سب لوگ خاموش تھے۔اور دیدہ و دانستہ دریا سے اوپر پہاڑوں کی سمت دیکھنے سے گریزا ں تھے۔دائیں طرف کی تمام کھڑکیاں کھول دی گئ تھیں اور ان سے پردے ہٹا دیے گئے تھے۔طاقت ور دوربینوں اور ان کے پیچھے چھپی ہوئ خون خوار آنکھوں کے بھوت پوری بس میں دندناتے پھر رہے تھے۔۔ میں نے اپنے دائیں طرف اور کھڑکی کے ساتھ بیٹھے ہوئے کشمیری لڑکے کی طرف دیکھا جو مجھے گھورنے کے مشن سے تنگ آ کر اب باہر دیکھ رہا تھا۔ستمبر کا مہینہ تھا۔۔مظفر آباد سے چلتے وقت جو بوندا باندی شروع ہوئ تھی اب وہ باقاعدہ بارش کا روپ دھار چکی تھی۔ لڑکا اپنا ہاتھ کھڑکی سے نکال کر ہتھیلی کی بکل بنائے بیٹھا تھا۔جیسے ہی بارش کے کنوارے اور ڈھول کی کھال کی طرح تنے ہوئے بیضوی قطرے، جوانی کی شوخی میں مست اور کچی زمین سے متوقع وصل کے گیت گاتے ہوئے اچانک اس کی ہتھیلی پر آن گرتے وہ یک دم اپنی مٹھی بند کر دیتا۔۔کچھ دیر کسی قیدی پرندے کی طرح ان کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ سنائ دیتی رہتی ۔پھر لڑکا آہستہ آہستہ اپنا ہاتھ کھولتا۔” نچڑے” ہوئے نڈھال قطرے، گویا اپنی عصمت لوٹ لیے جانے کے احساس شرمندگی کے ساتھ، سر جھکائے، آہستہ آہستہ چلتے ہوئے اس کی ہتھیلی کے کناروں تک آتے اور نیچے بس کے پہیوں میں چھلانگ لگا کر اس دنیا کےتمام خرخشوں اور مسائل سے آزاد ہو جاتے۔۔ساتھ ہی لڑکے کے مکروہ چہرے پر ایک کمینی سی خوشی کی لہر دوڑ جاتی۔میں نے کراہت سے اپنی نظریں اس کی طرف سے پھیر لیں اور اپنے سامنے کی نشست پر بیٹھی لڑکی کو دیکھنے لگا۔۔۔
وہ ڈرائیور کے عین پیچھے والی سیٹ پر بیٹھی ہوئ تھی۔اس کا رخ ہماری طرف تھا لیکن اس کی آنکھوں کی سنہری مچھلیاں کھڑکی سے باہر دریائے نیلم کے پانیوں پر تیر رہی تھیں۔ جب تپ دق زدہ بوڑھی بس سڑک پر پڑے کسی پتھر سے ٹکرا کر اچھل اچھل کر کھانسنے لگتی تو مچھلیاں بھی اچک اچک کر کھڑکی کی سل پر آن بیٹھتیں، بس کے اندر ادھر ادھر کا جائزہ لیتیں ، نظر بچا کر مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتیں اور پھر شڑاپ شراپ کی آواز کے ساتھ دوبارہ دریا میں غوطہ زن ہو جاتیں۔…………….
” تساں کتھے جلسو”
میرے دائیں طرف بیٹھے ہوئے لڑکے نےاچانک پوٹھوہاری اور کشمیری زبانوں کے ملتے جلتے لہجے میں مجھ سے پوچھا۔اس کے انداز میں سخت ناپسندیدگی تھی ۔مجھے احساس ہوا کہ اس نے مجھے لڑکی کو بغور دیکھتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔
“میں سال خلہ گاؤں اتروں گا۔” میں نے مختصر جواب دیا۔
” شہکوٹ چھونڑیں نے الٹے پاسے؟”
(شاہ کوٹ چھاونی کے سامنے؟)
” ہاں۔۔”
“میکی اتھے ناں سارا پتہ وے۔ ماڑی ماسی اتھے ای رہنڑی ایں”
(مجھے وہاں کا سب پتا ہے۔ میری خالہ وہیں رہتی ہے) ۔۔
میں بے چین ہو کر پہلو بدلنے لگا۔وہ اب بڑے غور سے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھ رہا تھا۔پھر اس کی نظریں میرے پاؤں پر جا کر ٹھہر گئیں۔کچھ دیر کے لیے اس کا منہ کھلا رہااورپھر بند ہو گیا۔آنکھوں میں حیرت در آئ ۔پھر وہ جلدی سے بولا۔
” لوک بانڑیں نوں اتھے کل پش ٹٹھی سی۔بہوں سارے فوجی مر ی گئے ۔”
(سنا ہے وہاں کل لینڈ سلائیڈنگ ہوئ تھی۔بہت سے فوجی مارے گئے)۔
میں اس سے جان چھڑانے کا کوئ بہانہ سوچ ہی رہا تھا کہ اچانک بس کی بریکیں زور سے چرچرائیں۔ بس کچھ دیر کسی مست ہاتھی کی طرح دائیں بائیں ڈولتی رہی۔پھر ساکت ہو گئ۔میں ایک جھٹکے سےاٹھا اور ونڈ سکرین سے باہر دیکھنے لگا۔
ایک سویلین جیپ بڑی تیزی سے پیچھے سے آئ تھی اور اب آڑھی ترچھی ہو کر ہماری بس کے سامنے کھڑی تھی۔میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس میں سے مقامی کپڑوں میں ملبوس کچھ جوان اترے اور بڑی تیزی سے بس کی طرف دوڑ پڑے۔ان کی چادروں کے نیچے سے جی تھری رائفلیں جھانک رہی تھیں۔
مجھ سے زیادہ بہتر یہ بات کون سمجھ سکتا تھا کہ یہ پاکستانی فوج کے جوان تھے جو اب بڑی تیزی سے بس کے کھلے ہوئےدروازے سے اندر داخل ہو رہےتھے ۔………………..

دو فوجی تیزی سے دوڑتے ہوئے بس کے پچھلے حصے تک پہنچے اور وہاں بت بن کر کھڑے ہو گئے۔انہوں نے اب چادریں ایک طرف کردی تھیں۔ان کی رائفلوں کا رخ مسافروں کی طرف تھا۔دو بندے جن کی رائفلوں پر سنگینیں لگی تھیں دروازے کے ساتھ کھڑے رہے۔سب سے آخر میں ایک مونچھوں والا شخص اندر داخل ہوا جو اپنے بالوں اور چال ڈھال کی مخصوص بناوٹ سے کوئ جے سی او معلوم ہوتا تھا۔ بظاہر اس نے ہاتھ میں بڑے سائز کا ایک پاک ٹیل فون اٹھایا ہوا تھا۔لیکن اس پر موجود اینٹینا اور ڈائلز کو دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ یہ ارکسن کا AMPS سسٹم سکینر تھا۔یہ وائرلیس اور موبائیل فونز کی فریکوینسی کے ذریعے ان کو تلاش کرنے کے کام آتا تھا۔پاکستان میں پاک ٹیل ابھی بھی اے ایم پی ایس سروس دے رہا تھا جس کو ہیک یا سکین کرنا بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ ترقی یافتہ ممالک میں GSM سسٹم کا استعمال زیادہ تھا جو 850 میگا ہرٹز اوراس سے بھی زیادہ کی فری کوئنسی استعمال کر تا ہےاور نسبتا” محفوظ ہے۔ انسٹا فون ابھی کراچی اور اسلام آباد تک محدود تھا۔اور اس کا انحصار بھی پاک ٹیل کی طرح اے ایم پی ایس ٹیکنالوجی پر تھا۔۔۔۔
ہماری بس کے سامنے کھڑی جیپ بجلی کی سی تیزی سے کہیں غائب ہو چکی تھی۔
“چلو۔چلو۔۔نکلو یہاں سے!”
جے سی او نےدھاڑ کر ڈرائیور سے بس چلانے کا کہا اور ساتھ ہی سکینر آن کر دیا۔۔بس دوبارہ اونچائ کی طرف رینگنا شروع ہو گئ تھی۔اب اندر مکمل خاموشی تھی اور اتنی ٹھوس تھی کہ اسے ہاتھ سے چھو کر محسوس کیا جا سکتا تھا۔۔
سکینر سے ٹوں ٹوں کی آواز بلند ہوئ، آفیسراس پر موجود ڈائیل کو کچھ دیر ایڈجسٹ کرتا رہا۔ پھر مطمئن ہو کر اس نے دونوں ہاتھ آگے بڑھا کر سکینر کو اپنے سامنے کر لیا اور آنکھیں بھینچ کر اس پر موجود تیر کے رخ کو دیکھنے لگا۔دوسرے ہی لمحے اس کا اپنا رخ ہماری سمت ہو گیا تھا۔۔۔۔………………

جوں جوں وہ ہمارے قریب آ رہا تھا میرے ساتھ بیٹھے ہوئے مقامی لڑکے کی آنکھیں بڑی ہوتی جا رہی تھیں۔اس کا ماتھا جو کچھ دیر پہلے تک بے شکن تھا اب بان سے بنی ہوئ چارپائ کی طرح گٹھا ہوا لگ رہا تھا۔اس نے مضطرب ہو کر پہلو بدلا۔آفیسر اب ہمارے نزدیک پہنچ چکا تھا۔سکینر سے نکلنے والی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی۔
اچانک لڑکا تیزی سے اٹھا اور میرے سامنے سے گذر کر آفیسر کی طرف لپکنے کی کوشش کی۔ساتھ ہی اس نے چیخ کر کچھ کہا بھی۔میں نے اسے حملہ آور ہوتے دیکھ کر فورا” اپنا پاؤں آگے کر دیا۔ وہ الجھ کر گرا اور میرےاوپر آن رہا۔ دروازے پر موجود فوجی فورا” آگے بڑھا اور اس کے سینے پر سنگین رکھ دی۔میں لڑکے کے نیچے دبا ہوا تھا۔اسے اپنےاوپرسے ہٹانے کی کوشش میں میں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر جمائے اور اوپر کی طرف ایک زور دار جھٹکا دیا۔۔
لڑکے کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔میں نے بوکھلا کر سر اٹھا کر دیکھا۔سنگین کا پھل رائفل کے اگلے سرے تک اس کے سینے میں ترازو ہو چکا تھا فوجی نے گھبرا کر سنگین اپنی طرف کھینچ لی۔ساتھ ہی خون کا ایک فوارا چھوٹا اور ہم دونوں کے کپڑوں کو رنگین کر گیا۔لڑکے کا جسم ایک لمحے کے لیے تڑپا پھر اس کی گردن ایک سمت ڈھلک گئ۔
جے سی او نے اس پوری صورت حال میں اپنا پروفیشنل انداز برقرار رکھا۔اس نے بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں سکینر پیچھے موجود دوسرے فوجی کو تھمایا پھر میری طرف مڑا اور میری گود میں پڑے ہوئے مردہ لڑکے کی تلاشی لینے لگا۔میں نے ایک جھر جھری لی اور ایک لمحے کے لیے اپنی آنکھیں بند کر کے سانسیں بحال کرنے لگا۔
آفیسر تلاشی کے کام سے فارغ ہوا تو میں نے دیکھا اس کے ہاتھ میں ایک فون تھااس نے لاش کو میری گود میں ہی پڑا رہنے دیا اور خودجلدی جلدی فون پر کچھ بٹن دبائے۔فون فورا” ہی ان لاک ہو گیا۔اس نے کچھ دیر اسے چیک کیا۔اور پھر باقی فوجیوں کو دیکھ کر اطمینان سے سر ہلا دیا۔۔اس کا اشارہ پا کر ان سب کے چہرے کھل اٹھے تھے۔۔۔۔
جے سی او فون کو اپنی جیب میں ڈالنے لگا تھا۔پھر کچھ سوچ کر رک گیا۔سب مسافروں کی نظریں خلا میں اور سانسیں سینوں میں جمی ہوئ تھیں۔جونئیر کمیشنڈ آفیسر کچھ دیر اپنی زندگی کا یہ شاندار لمحہ انجوائے کرتا رہا،اس کی نرم آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اسے جہاں ایک جان کے زیاں کا افسوس ہے وہاں کچھ پانے کی خوشی بھی ہے۔
اس نے اپنا فون والا ہاتھ ہوا میں اٹھایا اور مسافروں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔
” فرینڈز۔میں آپ کو ڈیٹیلز بتانے کا مجاز نہیں ہوں۔بٹ۔۔”
یہاں تک پہنچ کر وہ رک گیا۔اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا اور پھر شاید ان کی آنکھوں میں کوئ اعتراض نہ پا کر کھنکار کر گلا صاف کرتے ہوئے بولا” ۔۔۔بٹ یو آل آر ناو انوالوڈ ان دس۔۔۔۔دس۔۔۔آ۔۔آ۔۔۔ ٹریجڈی۔۔اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ کا سسپنس کچھ نہ کچھ رائیٹ آف کر دیا جائے۔۔۔ہم آپ کی محافظ پاکستان آرمی کے جوان ہیں۔ اکراس دی بارڈر ہمیں اپنے سورسز سے انفارمیشن ملی تھی کہ ایک سپائ کچھ دن پہلے نیلم کراس کر کے ہماری ٹیری ٹوری میں اینٹر ہوا ہے اور اس کا مشن یہاں موجود ففتھ کالم سے انٹرایکشن ہے۔وی ور شوءر کہ اگر اسے واپسی پر کیچ کر لیا جائے تو اس کے تھرو کئ کالی بھیڑوں کی آئ ڈنٹیٹی۔۔۔۔”
ٹھاہ۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔
آفیسر کے الفاظ درمیان میں ہی رہ گئے۔۔
بس کے دائیں طرف کے دونوں ٹائر زور داردھماکوں سے پھٹے تھے ۔ فورا” بعد ہی دور پہاڑ سے مشین گن کی گولیاں چلنے کی آواز آئ۔ پھر ڈرائیور کے منہ سے ایک بھیانک چیخ نکلی۔ساتھ ہی بس بے قابو ہو گئ اور بائیں طرف موجود دیو ہیکل پہاڑ سے جا ٹکرائ۔ایک لحظہ کے لیے بس اور پہاڑ دم بخود ہو کر ایک دوسرے سے گلے ملتے رہےپھر بس نےایک جھٹکے سے اپنا دامن چھڑایا اور واپس سڑک پر آ گئ۔لیکن وہاں رکنے کی بجائے وہ پیچھے چلتی گئ۔پھر اس کا پچھلا حصہ نیچے جھکا، اس ایک لمحے میں مجھے ساری دنیا الٹی ہوتی ہوئ محسوس ہوئ اگلے ہی لمحے بس نیچے کھائ میں گرتی چلی گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مجھے علم نہیں ہے کہ میں کتنی دیر بے ہوش رہا تھا۔۔یہ ضرور یاد ہے کہ جب ہم بس میں تھے تو اس وقت سہ پہر ڈھل رہی تھی جب کہ اب رات کا کوئ ابتدائ پہر تھا۔ بارش رات کے اندھیرے کی چھاننی میں سے قطرہ قطرہ میرے منہ پر برس رہی تھی۔میرا سر کسی نرم لیکن گیلےتکیے پر دھرا تھا جس میں سے خس اور آہووان ختن کے ناقوں کی ملی جلی خوشبو نکل کر فضا میں پھیل رہی تھی اور مجھے مسحور کر رہی تھی۔تکیہ کچھ کسمسایا اور پھر تھوڑا سا ہلا تو مجھے احساس ہوا میرا سر کسی کی گود میں تھا۔
وہ مجھے آواز دے رہی تھی۔ بلا رہی تھی۔اور ساتھ ساتھ ہلا رہی تھی۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا ۔میرے سر سے درد کی ایک ٹیس اٹھی اور ریڑھ کی ہڈی میں جا کر میرے ساتھ ہی بیٹھ گئ۔۔
مجھے ہوش میں آتا دیکھ کر وہ تھوڑا پرے سرک گئ ۔ اوپر سڑک پر ایک گاڑی موڑ مڑی اور اس کی ہیڈ لائٹس کی روشنی میں دریا کا پانی چمک اٹھا ۔اس چمک میں جو چمتکار میں نے دیکھا وہ یہ تھا کہ یہ وہی کشمیری لڑکی تھی جو بس میں میرے سامنے بیٹھی ہوئ تھی۔اب وہ یہاں بھی میرے سامنے ہی بیٹھی تھی۔فلم کے فیتے پر منقش عکس کے سارے ڈبے ایک ایک کر کے گزر چکے تھے۔لیکن یہ سین جیسے پروجیکٹر میں منجمد ہو کے رہ گیا تھا۔
اس کے چہرے پر گہری سنجیدگی تھی۔اس کی خوبصورت آنکھوں کی بیضوی مچھلیاں اب ساکت تھیں اور مجھے گھور رہی تھیں۔۔
میں نےادھر ادھر دیکھا ہم کسی کھائ میں تھے۔چند فیٹ پرے بوڑھا دریا پورے زور شور سے بہہ رہا تھا ہم پہلے ہی بارش میں نہائے ہوئے تھے۔دریا سے آتی ہوئ یخ بستہ چھینٹیں ہم دونوں کو مز ید گیلا کر رہی تھیں۔سردی سے میرے دانت بجنا شروع ہو چکے تھے۔۔
یہ جگہ اس مقام سے خاصی پرے تھی جہاں ہماری بس گری تھی۔میں نے چونک کر اپنے کپڑوں کی طرف دیکھا وہ جگہ جگہ سے پھٹے ہوئے تھے اور ان پر ریت اور مٹی چمٹی ہوئ تھی مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہ مجھے گھسیٹ کر وہاں تک لائ تھی۔۔ ہم سے کافی دور دریا کے ساتھ چٹانوں کی اوٹ میں کئ لالٹیینیں اور ٹارچز جگنووں کی طرح حرکت کر رہی تھیں۔ بہتے ہوئے پانی پر آواز بہت دور تک جاتی ہے۔وہ لوگ جہاں تھے دریا بھی اسی سمت سے بہتا ہوا آ رہا تھا۔ہمیں فوجیوں اور کچھ مقامی لوگوں کی آوازیں صاف سنائ دے رہی تھیں۔وہ سب گری ہوئ بس کے پاس کھڑے تھے ان کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ مسلسل فائرنگ کی وجہ سے انہیں ریسکیو آپریشن رات تک ملتوی کرنا پڑا تھا۔۔مسلسل بارش اور اندھیرے میں دونوں طرف کے فوجی اب اپنے پہاڑی مورچوں میں واپس دبک گئے تھے اور شاید اپنے لوہے یا تام چینی کے مگوں میں گرم چائے کے گھونٹ بھر رہے تھے۔
” تم نے میری جان بچائ۔۔ میں بہت شکر گذار ہوں۔”
میں نے بڑے خلوص سے لڑکی کی طرف دیکھ کر کہا جو بارش میں بھیگ رہی تھی اور چپ چاپ بیٹھی ہوئ مجھے دیکھ رہی تھی۔
” یہ میرا فرض تھا۔۔۔”
اس کا لہجہ کسی بھی قسم کے تاثر سے خالی تھا۔۔
” کیا میں تمہارا نام پوچھ سکتا ہوں”
” نہیں۔”
“اوہ” میں نے خفیف ہو کر بے خیالی میں اپنے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ساتھ ہی میرے منہ سے سسکاری نکل گئ۔
” تمہارے سر پر چوٹ لگی ہے۔ لیکن یہ گہری نہیں ہے۔میں نے اپنا دوپٹا پھاڑ کر پٹی باندھ دی تھی۔خون رک گیا ہے۔ اب تم جہاں جانا چاہتے تھے جا سکتے ہو۔”
” باقی لوگوں کا کیا بنا؟”
” ڈرائیور مر چکا ہے۔اسے گولی لگی تھی۔باقی زخمی تھے۔چلنے پھرنے کے قابل نہیں تھے۔” اس نے کندھے اچکا کر کہا۔

” لیکن میں چل سکتا ہوں۔۔۔شاید۔۔۔”
” تمہاری قسمت اچھی تھی۔۔تم اس لڑکے کی لا۔۔۔ اس کے۔۔۔کے۔۔جسم کے نیچے چھپے ہوئے تھے۔۔اس لیے ۔” اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔لیکن میں نے اس کی آواز میں کپکپاہٹ محسوس کر لی تھی۔یہ میرا وہم بھی ہو سکتا تھا۔۔۔یا شاید سردی کا اثر تھا۔

” میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔”
” مجھے معلوم ہے کیا پوچھو گے۔۔”
” تم کیسے بتا سکتی ہو کہ میں کیا پوچھوں گا۔؟۔” میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر سوال کیا۔۔۔
وہ چپ رہی۔کچھ دیر فضا میں گھورتی رہی۔۔پھر بولی۔۔۔” تم یہی پوچھو گے نا کہ میں تمہیں یہاں تک گھسیٹ کر کیوں لائ۔۔”
میں نے اقرار میں سر ہلا دیا۔
وہ خطرناک حد تک ذہین بھی تھی۔اور یہ کافی خطرناک بات تھی۔
وہ کچھ دیر ملگجے سے اندھیرے میں میری طرف دیکھتی رہی۔۔ پھر بولی۔۔”وہ دیکھو۔۔ادھر دریا پر۔۔۔”
میرا رخ دریا کی طرف تھا۔دریا میرے بائیں طرف اٹھ مقام والی سمت سے آ رہا تھا اور دائیں سمت یعنی مظفر آباد کی طرف بہہ رہا تھا۔۔ اس نے دائیں طرف ہی اشارہ کیا تھا۔۔ یہاں دونوں کناروں پر ایک ایک قمقمہ جل رہا تھا۔میرے دل میں خیال آیا کہ اتنی بارش میں ان قمقموں کی روشنی دیکھنے کے لیے بھی شاید روشنی کی ضرورت پڑتی ہو گی۔
یہ یقینا پل تھا جو اس طرف کے علاقے کو دوسری طرف ملانے کے کام آتا تھا۔۔۔یعنی چلہانہ۔۔ٹیٹوال کراسنگ پوائینٹ۔……………….
میں نے ہاں میں گردن ہلائ، لیکن وہ میری طرف متوجہ نہیں تھی۔اور گم سم اپنے ہی دھیان میں بول رہی تھی۔
” ہمارا گھر کچھ آگے لیسوا میں ہے۔۔میری ماں انڈیا والے کشمیر سے ہجرت کر کے آئ تھی۔ اس کا پرانا گاوں دریا کے اس پار ہے۔وہاں ٹیٹوال میں۔۔پل سے پرے۔۔جہاں انڈیا کا جھنڈا لگا ہے۔۔”
وہ کچھ دیر نظر نہ آنے والے جھنڈے کو دیکھتی رہی۔پھر بولی۔” پل کے اس طرف دو جھنڈے ہیں۔ ایک پاکستان کا ۔ایک آزاد کشمیر کا۔۔۔لیکن دوسری طرف بس انڈیا کا جھنڈا ہے۔۔۔۔جانتے ہو کیوں؟۔۔۔”
وہ رکی پھر میرے جواب کا انتظار کرے بغیر ہی کہنے لگی۔
” انڈیا کے آئین میں ایک آرٹیکل ہے۔۔یہ آرٹیکل وہاں کےکشمیر والوں کو الگ ریاست کا درجہ دیتا ہے۔میرے لوگوں کے وجود کا اقرار کرتا ہے۔۔لیکن تم دیکھ رہے ہو وہاں پل کے دوسری طرف میری ریاست کا جھنڈا نہیں ہے۔۔اس کی وجہ جانتے ہو۔”
” ہاں۔کیوں کہ وہ دل سے کشمیر کو الگ ریاست تسلیم نہیں کرتے۔دیکھ لینا ایک نہ ایک دن یہ آرٹیکل بھی ختم ہو جائے گا۔اور ساتھ تمہاری ریاست بھی۔ آرٹیکل 370″.
میں اس بار جلدی سے بولا۔یہ سب باتیں مجھے ازبر تھیں۔
” یہ بھی ہے۔” وہ سر ہلا کر بولی۔” لیکن ہم کشمیری اس کا ایک دوسرا مطلب نکالتے ہیں ”
” وہ کیا؟”
” وہ یہ کہ ہم دونوں طرف کے کشمیری ایک ہیں۔ سو ہمارا ایک ہی جھنڈا ہو سکتا ہے۔چاہے وہ ادھر لگے یا دوسری طرف۔اس سے ہمیں کوئ فرق نہیں پڑتا۔اور۔۔۔ اور یہ کہ وہاں رہنے والے کسی کشمیری کی ادھر والے سے کوئ جنگ نہیں۔اگر جنگ ہے تو یہ ان دونوں ملکوں کے بیچ ہے جن کے جھنڈے ایک دوسرے کے مقابل لگے ہوئے ہیں۔۔ بس مجھے یہی کہنا تھا۔۔۔۔”
وہ خاموش ہو گئ۔وہ کھڑی ہو کر دریا کی طرف دیکھ رہی تھی۔اس کی کمر میری طرف تھی جس کے زیرو بم سے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ رو رہی ہے۔۔
میں اٹھ کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھنا چاہتا تھا اور اسے تسلی دینا چاہتا تھا۔لیکن میری تربیت کسی اچھے ماحول میں نہیں ہوئ تھی۔میں صرف اتنا ہی کہہ سکا۔۔۔
” لیکن تم مجھے گھسیٹ کر یہاں دور کیوں لے آئیں؟”۔
” تاکہ تم واپس جا سکو۔۔صحیح سلامت۔۔” اب وہ ہچکیاں لے کر رو رہی تھی۔۔
میں کھڑا ہو گیا تھا اور اس کی طرف بڑھنے لگا تھا۔ اس کی بات سن کر میں وہیں سن ہو کر رہ گیا۔

“میرے لوگ پہلے ہی بڑی مصیبت کا شکار ہیں۔” اب وہ باقاعدہ رو رہی تھی۔۔” ہفتے میں مشکل سے ایک دن یہ پل کھلتا ہے اور دونوں طرف کے رہنے والوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی اجازت ملتی ہے۔بچھڑنے والے پل بھر میں بچھڑ جاتے ہیں یہاں ۔لیکن ملنے کی باری آنے میں مہینے لگ جاتے ہیں۔ کل ملاقات کا دن ہے۔ میری ماں کے اپنے خاندان سے ملنے کی باری ہے۔۔۔میری ماں کینسر کی آخری سٹیج پر ہے۔اس کی آخری خواہش اپنے بھائیوں سے ملنے کی تھی۔۔”
” مجھے افسوس ہے۔۔
لیکن اس سب کا مجھ سے کیا تعلق؟۔۔۔”
” تعلق ہے۔” وہ چیخ کر بولنے والی تھی لیکن پھر فورا” خود پر قابو پا کر دھیمی ہو گئ۔۔”اگر تم آج یہاں پکڑے جاتے تو یقینا” یہاں صورت حال خراب ہو جاتی۔ملاقات منسوخ ہو جاتی۔اور اگلی باری آنے تک میری ماں شاید زندہ نہ رہے۔۔۔”
میں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔مجھے یاد نہیں کہ سائیں سائیں کا وہ شور دریا کا تھا یا میرے کانوں میں ہو رہا تھا۔۔۔میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیا جواب دوں۔۔۔
” تم اب جاؤ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اپنا ارادہ بدل دوں۔تمہیں علم نہیں کہ جسے تم نے مارا ہے وہ میرا کولیگ بھی تھا اور منگیتر بھی۔۔۔۔”

مجھے یاد آیاوہ شور میرے کانوں میں ہی تھا۔یہ پہاڑی دریا تھالیکن پھر بھی اتنی خوفناک آواز میں نہیں بہہ سکتا تھا۔
اس کے منہ سے سسکاری نکلی۔۔پھر وہ آہستہ آواز میں بولی۔۔”ہم دونوں باٹا کی ایک ہی دکان پر کام کرتے تھے مظفر آباد میں۔میں وہاں ایڈمن میں ہوں۔وہ سیلز مین تھا۔بہت محنتی۔تجربہ کار ۔اور۔۔۔اور۔۔ بہت محبت کرنے والا۔۔۔۔ہم نے ایک دوسرے کو پسند کیا تھا۔اگلے ماہ شادی تھی۔۔۔”
میں چپ رہا۔
” اس کی روح مجھ سے اپنے جسم کا حساب مانگ رہی ہے۔۔۔خون کا بدلہ خون۔۔لیکن۔۔۔۔لیکن میری ماں ۔۔۔۔اس کے لیے میں یہ قربانی دے دوں گی۔۔۔ہم۔کشمیریوں۔کے لیے قربان ہونا کوئ نئ بات نہیں ہے۔اور یوں بھی اب ہم کس کس سے کس کس کا انتقام لیں۔اتنا حساب رکھنے کے لیے انسان سے بنیا ہونا پڑتا ہے۔۔”

وہ آہستہ آہستہ چلتی ہوئ دریا کے کنارے ایک چھوٹی سی چٹان پر کھڑی ہو گئ اورایک پاؤں کھڑاوں سمیت یخ بستہ پانی میں ڈبو دیا۔ اچانک میں نے اسے چونکتے دیکھا۔۔وہ اپنے بائیں طرف دیکھنے لگی جدھر سے دریا آ رہا تھا۔پھر وہ بڑی تیزی سے پلٹی اور میرے پاس آ کر رک کر بولی۔”تمہیں اب جلدی کرنا ہو گی۔ میرا خیال ہے یہ عام بارش نہیں ہے۔دریا میں بہت بڑا طوفان آنے والا ہے۔ تمہیں اس سے پہلے ہی دریا عبور کر لینا چاہیے۔۔۔
میں نے تھکے تھکے انداز میں سوچا طوفان تو پہلے ہی آ چکا تھا۔۔۔میں کچھ دیر اسے دیکھتا رہا۔۔وہ دونوں ہاتھ اپنے پہلوؤ ں کے ساتھ لگائے کھڑی تھی۔اسے کوئ ڈر نہیں تھا۔۔۔ ڈر ہونا تو چاہیے تھا لیکن اسے لگ نہیں رہا تھا۔

بارش جاری تھی۔اور وہ کسی گرگ باراں دیدہ کی طرح کھڑی میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہی تھی۔

پھر یہ میں تھا جس نے پہلے پلکیں جھپکا دیں۔

اس نے سر ہلکا سا جھکا کر میرے فیصلے پر منظوری کی مہر لگا دی۔ میں مڑا اور اسے کھڑا چھوڑ کر چپ چاپ دریا کے ساتھ ساتھ کراسنگ پوائنٹ والی سمت میں چل پڑا۔۔

” ٹھہرو۔۔۔ ”
میں ٹھہر گیا۔اور پیچھے مڑا۔اس نے اپنے دونوں پیروں کو باری باری جھٹکا دیا۔اس کے کھڑاؤں دھپ دھپ کی ہلکی سی آوازوں کے ساتھ میرے سامنےریت پر آن گرے۔
“یہ پہن لو۔۔۔ورنہ تمہیں دوبارہ کوئ پہچان لے گا۔۔۔”
یہ کہہ کر وہ مڑی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئ اندھیروں میں گم ہو گئ۔اس کا رخ لالٹینوں سے آنے والی روشنی کی طرف تھا۔

مجھے اپنا سفر اندھیرے کی طرف جاری رکھنا تھا۔۔۔

میں نے اپنے باٹا کے جوگرز اتارے اور دریا برد کرنے سے پہلے ایک بار حسرت سے ان کی طرف دیکھا۔
یہ میرا پسندیدہ ڈیزائن تھا جو صرف باٹا کولکتہ والے ہی تیار کرتے تھے۔ ۔مجھے ان سے بچھڑتے ہوئے کچھ دکھ بھی ہوا۔۔

میرا خیال ہے اس میں میرا کوئ قصور نہیں تھا۔ یہ اس سر زمین کی آب وہوا تھی جس کا اثر اب مجھ پر بھی ہونے لگا تھا۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے