سر ورق / ٍ پتھرکے شیشے میں ٹوٹے ہوے عکس ایس اے عمران نقوی

ٍ پتھرکے شیشے میں ٹوٹے ہوے عکس ایس اے عمران نقوی

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر103

ٍ پتھرکے شیشے میں ٹوٹے ہوے عکس
ایس اے عمران نقوی

میں نے کھڑکی کھولی اور باہر جھانکا۔
مہیب سناٹوں کے سائے رینگ رہے تھے۔ مد ت سے بند فوارے کا حوض گلے سڑے فروٹ اور دیگرآ لائشوں سے لبا لب بھرا ہوا تھا۔ اس کے گر دو پیش فروٹ کی ریڑھیاں آج دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ ایک گرم اور بد بو دار ہوا کے جھونکے سے میری ناک سکڑ گئی اور میں نے جھلستے ہوئے چہرے کو اندر کھینچ کے کھڑکی بند کر دی۔
شہر کے مرکزی بازار سے گزرتا جلوس اب ڈھاباں بازار سے گزر رہا تھا۔ فلک شگاف نعرے شہر بھر کی سماعتیں خراش رہے تھے۔ بعض مارکیٹوں اور چوراہوں سے نکل نکل کر دولے شاہ کے چوہے جلوس کا حجم بڑھا رہے تھے۔ دکانیں بند تھیں اور لوگ تھڑوں پر بیٹھے چاری کھیل رہے تھے۔ جلوس کے راستے میں آنے والی ادھ کھلی دکان چند ہی منٹوں میں کتر کر رکھ دی جاتی۔ ایسی وحشت اور دہشت تھی کہ اکثر لوگ تو تھڑوں سے اتر اتر کر کچھ دیر جلوس کے ساتھ چلتے اور پھرپیچھے سے پلٹ آتے۔
میں اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹا ریموٹ سے ٹی وی کا چینل بدلتا جا رہا ہوں۔ میرا بالا خانہ پوری طرح کرنوں کی لپیٹ میں ہے اور گرمی بڑھتی جا ری ہے۔ لیٹے لیٹے میں نے کئی چینل بدل ڈالے، اینکرز، سیاست دان، کٹھ پتلی تماشے، رقص، کارٹون، شہر شہر ہنگامے، بچیوں سے جنسی زیادتی اور قتل کرنے والے ملزم کی تلاش۔ بوٹوں کے چلنے کی آواز۔۔۔۔ شہہ سرخیاں۔۔۔۔۔۔
میرے دائیں طرف پڑی تپائی پر چنگیر میں تنور سے اتری روٹی کا ٹکڑا پڑا ہے۔ پہلی رات کے چاند جیسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کمان نما۔۔۔۔۔۔۔شاید دھنک کی مانند۔۔۔۔ساتھ ہی پلیٹ میں ماش کی دال کے کچھ دانے پیندے پر چپکے ہیں۔ پلیٹ کے صحن میں جمے ہوئے سرخ گھی کی یوں لکیریں ہیں جیسے کھیت میں ہل چلا ہو۔
سامنے دیوار میں نصب ایل ای ڈی ٹی و ی کے نیچے کتابوں کی الماری کے پیچھے اپنی بل سے چوہا جھانک رہا ہے و ہ ہمت مجتمع کر کے اپنی بل سے نکلتا ہے اور کمان کا کونا کتر جاتا ہے ۔چاند گہنا رہا ہے اور دوزخ ٹھنڈی پڑ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اسے دیکھ کر ہنس پڑتا ہوں۔
ایک ساتھ رہتے ہوئے مجھے اپنا آپ بھی چوہا لگتا ہے۔ یا پھر وہ مجھ میں کہیں چھپ کر بیٹھا ہے۔ میں اکثر سوچتے ہوئے بھول جاتا ہوں کہ میں کون ہوں؟۔
انسا ن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یا چوہا”
کبھی تو چوہا مجھ میں حلول کر جاتا ہے اور میں ماضی کی میلی بوسیدہ شال کترنے لگتا ہوں اور کبھی جولاہا بن کر سہانے دنوں کی شال بننے لگتا ہوں۔ وقت کی یہ شال کبھی بنی جاتی ہے اور کبھی کتری جاتی ہے۔ میں پھر وہیں سے بننے کا عمل شروع کرتا ہوں جہاں سے کتری جاتی ہے۔ کبھی یوں بھی لگتا ہے کہ میرا دل چوہے کی بل ہے اور وہ سارا دن اند ر بیٹھاباہر جھانکتا رہتا ہے۔ جیسے ہی رات ہوتی ہے وہ اس بل سے باہر نکل آتا ہے۔ تب مجھے اپنے دل کے خالی پن سے بہت خوف آتا ہے۔
ایک رات میرے سامنے بیٹھے بیٹھے وہ خرگوش جتنا محسوس ہوا۔۔۔ میں سہم گیا۔ اس کے بڑا ہوجانے پر نہیں بل کہ اس خوف سے کہ اب وہ میرے دل میں سمائے گا کیسے؟۔ میں نے اپنے سر کو جھٹکا اور پلکیں جھپکیں۔۔ وہ چھوٹا ہو گیا۔ اور میرے دل کی دھڑکن معمول پر آ گئی۔
سوچ سمے میری آنکھوں کی گلی سے ایک مچھر کا گزر بھی ہوتا ہے اس کے آنے کا کوئی خاص وقت نہیں۔ بس بھیں بھیں کی بین بجاتا آتا ہے اور میرے پاؤں پر ڈنگ کر میرے گالوں پر اپنے نوکیلے دانت گاڑھ دیتا ہے۔
یہ داغ بہت دیر تک چمکتے ہیں۔ اس کی بین کان کی لووں کو سرخا دیتی ہے۔ میں اس کی قوالی پر تالیاں پیٹتے ہجڑا ہوجا تا ہوں۔ خیال پھرمرکز پر آجاتا ہے کہ میں انسان ہوں۔۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔۔۔ چوہا۔
گمان یہ بھی گزرتا ہے کہ میں پہلے انسان تھا۔۔۔۔۔ پھر چوہا بن گیا۔۔۔۔ یا پھر۔۔۔۔۔۔شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔پہلے چوہا تھا اور پھر انسان بن گیا
بحر حال ہم دونوں ایک ہی کمرے میں رہتے ہیں اور ایک ہی پلیٹ میں کھاتے ہیں۔ پہلے میں۔۔۔۔۔۔۔۔پھر وہ۔۔۔۔۔ہم دونوں چوہے یا پھر۔۔۔۔۔۔ہم دونوں انسان۔
اوپر چلتا ہوا پنکھا گھر رگھرر، چرخ چوں، چرخ چوں کی آوازیں دینے لگتا ہے۔ شاید بال بیرنگ خراب ہو گیا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ قریبی ہوٹل کا ملازم آئے گا تو اسے کہوں گاکہ کسی الیکٹریشنر کو لیتا آئے۔
گرمی کی تازہ لہر اور دانتوں پسینا۔۔۔۔میرے ہاتھ سے ریموٹ بھی چھوٹ کر نیچے گر جاتا ہے۔ چوہا پہلے ایل ای ڈی کے اوپر سے جھانکتا،چھپتا نظر آتا ہے پھر وہ ٹائی کستا ہوا ٹی وی کی سکرین میں آجا تا ہے۔ کیپٹل ٹاک۔۔۔۔۔۔گرما گرم بحث۔۔۔۔۔ چوہے بلی کا کھیل۔
میری رات بھر جلتی آنکھیں اب بجھنے لگتی ہیں۔
شدید گرمی۔۔۔۔۔۔۔۔بد حالی اور لُو کے تھپیڑے۔۔۔۔۔۔۔۔میں مینڈک کی طرح پھدکتا ہوا۔۔۔ٹانگ گھسیٹتا ہوا چلا جا رہا ہوں۔ کبھی دا ئرے ا ور کبھی دائرے سے باہر۔سناٹا بڑھتاجاتا ہے اور خاموشی کے سائے خشک پتوں کی طرح چر مرا رہے ہیں۔
بڑ کا ایک درخت اپنی جڑوں سمیت ہوا میں معلق میرے قریب سے گزر گیا۔ کچھ مقدس پہاڑوں کے بڑے ٹکڑے بھی کھلی فضا کے سمندر میں تیرتے ہوئے میرے پاس سے گزر گئے۔
پانی۔۔۔۔ پیاس۔۔۔۔۔۔ پسینا۔۔۔۔۔ مٹیالے سرخ زدہ سفید کپڑے۔۔۔ چہرے پر چپکے سرخ مٹی کے ذرے، ماتھے پر کرب کی شکنیں اور جسم پر وقت کی گزران کی سلوٹیں۔ لنگڑاتا ہوا میں او ر اڑتی ہوئی دھول۔۔۔۔ غیر منظم ٹھہراؤ اور سانسوں کی بے ربطی۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ایک مقام پر رک جاتا ہوں۔ آگے بند دروازہ ہے اور پیچھے۔۔۔ بے سمت راستہ۔۔۔دروازے پر تعینات خوش شکل پوچھتا ہے۔
“کہاں تھے اب تک؟”۔
دور سے پھر دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے وہ اب ان کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ بے چینی سراسیمگی۔ کرب پیاس اور درد کے تمام احساسات ایک دم بھڑک کر چمک اُٹھتے ہیں۔
”میں۔۔۔۔۔۔ میں۔۔۔۔ میں اپنی ٹانگ ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔۔۔ “میں نے اٹکتے، ہکلاتے ہوئے کہا۔ اس نے میری بائیں ٹانگ کی طرف دیکھا جو میری ران سے بندھی ہوئی تھی۔
“کہاں ہوں میں؟”۔ میں نے اپنے چاروں اور دیکھتے ہوئے کہا۔
صحرا، دردصحرا۔۔۔ اوپر آسمان خلا در خلا۔۔۔نیچے دھول مٹی کی غلام گردشیں۔۔۔ سامنے ایک دروازہ۔۔۔۔ ایک دربان۔۔۔ خاموشی۔۔۔۔۔ سناٹا۔۔ پھر قلم چلنے کی آواز۔۔۔ خوف۔۔۔ ابلتی ہوئی آنکھیں۔ بکھرے ہوئے بال۔۔۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھ سے آنکھوں میں جاتا ہوا پسینا پونچھا۔
” مجھے واپس جانا ہے”۔
میں نے اپنے خشک حلق سے آواز ڈھونڈ کر پھر نکالی۔
”اب ممکن نہیں ہے“۔ اس نے متانت سے کہا۔
میر امایوس چہرہ سینے تک لٹک گیا۔
میری عمر دیکھیں۔
میں نے اس کے رجسٹر کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا۔
نام؟
علی عمران
عمر؟
38سال
یہ تو اب ہے طبعی دیکھو
70سال
اور میرے 32سال؟
موقوف
یہ بھی ظلم ہے۔
وحشت چہرے سے اور بیچارگی آنکھوں سے چھلک گئی۔
میری آنکھوں کے پر دے سے بیوی، بچے، پارک جھولے، بکھرے اعضاء، چیخیں، کراہیں اور ذرا فاصلے پر پڑی میری ٹانگ لہراتی گھومتی گزر گئی۔
”مجھے والس جانا ہے“ میں نے پھر لجاجت کی۔
اس نے گھور کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔۔۔ُآس، امید کے سائے دھڑام، دھڑام سے گرے اور تڑپ کر ٹھنڈے ہوئے۔
“کہاں ہیں قم بہ ازن اللہ کہنے والے”
میں رندھے ہوئے گلے سے دھاڑا۔ میری آواز دھول کی دیوارں پر اپلوں کی طرح چپک گئی۔
اڑتی ہوئی دھول قریب آئی تو مختلف رنگ و نسل کے بچے، خواتین اور مرد ذومبی بنے،اپنا وجو د گھسیٹتے آکھڑے ہوئے۔
”یہ غیرت کی سولی کہاں سے نازل ہوئی؟“ ایک آواز
“مجھے میری ماں نے سکول بھیجا تھا میدان جنگ میں نہیں “۔ دوسری آواز
“میں دو ملکوں کی نفرت کا شکار فصلیں کاٹنا، سرحد پر مارا گیا”۔ ایک سرد آواز
”مجھے ہجوم کے حصار میں مارا گیا “۔ ایک بے بس آواز
“میں شہ رگ سے زیادہ قریب کو بچاتے ہوئے مارا گیا”۔
“مجھے واپس بھیجو۔۔۔۔۔۔ مجھے بھی۔۔۔۔۔۔ مجھے بھی۔۔۔مجھے۔۔۔”۔
رندھی ہوئی، کچلی ہوئی، کراہتی اور کانکھتی ہوئی آوازوں کا ایک جمگھٹا ہو گیا۔ میری آنکھوں سے بے بسی کے پرندے پیدا ہوتے اور اڑتے رہے۔
خوش آواز متذبب ہو کر ان سے مخاطب ہوتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔” سنو!۔۔۔۔۔سنو!”
چوہے نے ایل ای ڈی ٹی وی سے ایک جست میرے اوپر لگائی۔ میں ہڑ بڑا کر کانپ اُٹھا۔ ٹانگ سے درد کے کئی رنگ پھوٹ پڑے۔
جلوس میرے بالانے کے سامنے چوک تسنیم فوارہ پر آن پہنچا۔ دولے شاہ کے چوہے نعرہ ذن تھے۔قاتل کو گرفتار کرو۔ بینرز۔۔۔۔۔ پلے کارڈ۔۔۔۔۔ نعرے۔۔۔۔ سناٹا۔۔۔۔۔
خطاب!

“وہ معصوم ہماری بیٹی تھی۔۔۔۔ یہاں ہماری بیٹیاں غیر محفوظ ہیں۔۔۔۔۔”
میں سہارے پکڑتا کھڑکی تک آتا ہوں۔
“قاتل کو پکڑ کر قرار واقعی سزا دے کر نشان عبرت بنایا جائے۔۔۔۔۔ ”
میں کھڑکی کے دونوں پٹ کھول کر پکڑ لیتا ہوں۔۔۔۔۔۔
”وہ سن لے۔۔۔۔ وہ جہاں بھی چھپ جائے یہ مظلوم آنکھیں اس کو ڈھونڈ نکالیں گی۔”
میری ٹانگ میں ٹیس اٹھتی ہے۔میں مغموم دل اور چھلکتی آنکھ سے بچی کی حق میں ایک نعرہ لگاتا ہوں۔ جو شدت جذبات میں میرا حلق چھیل کر جم غفیر میں کود جاتا ہے۔زہریلی آنکھیں گر دو پیش دیکھتی ہیں۔۔۔
یہ آواز کہاں سے آئی؟۔۔۔۔ استفسار۔۔۔۔
خطیب کھڑکی کی طرف اپنی بھنویں سیکڑ کر اشارہ کرتا ہے۔
میں آہستگی سے کھڑکی بند کر کے اچھلتا ہوا پیچھے بیڈ پر جا گرتا ہوں۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے اب لوگ مجھے اطراف سے اپنے حصار میں لے رہے ہیں۔ میرا سانس اکھڑتا،گھٹتا فرش پر گرا محسوس ہوتا ہے۔ چہ مگوئیاں اور سرگوشیاں کھڑکی پر چڑھ دوڑتی ہیں۔ دل اس وہم کے پالنے میں پھڑکتا ہے کہ وہ مجرم عمران علی تھا اور میں۔۔۔۔۔۔ علی عمران۔۔۔۔
مگر ہجوم کب سنتا ہے کہ علی پہلے تھا۔۔۔ یا۔۔۔۔بعد میں۔۔۔ میں نے اپنے منہ کو نو چا۔۔۔۔۔ نام کو کوسا۔۔۔ زبان دانتوں تلے پیسی۔۔۔۔ کان دروازے پر پھینکے۔۔۔۔ چوہا اب بند کھڑکی کی درزوں سے باہر جھانک رہا ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے