سر ورق / ،،آگاہی کا ایک لمحہ ،، صائمہ امتیاز۔اوکاڑہ .

،،آگاہی کا ایک لمحہ ،، صائمہ امتیاز۔اوکاڑہ .

،،آگاہی کا ایک لمحہ ،،

صائمہ امتیاز۔اوکاڑہ

. مہ جبیں کتنی بار کہا ہے کہ مہمانوں کے سامنے اتنی بڑی چادر میں مت آیا کرو کچھ تو ہمارے معیار کا خیال کر لیا کرو اچھی خاصی جدید دور کی لڑکی تھی پتہ نہیں کن اسلامی لوگوں کے ساتھ میل جول رکھ لیا ہے آجکل ۔۔مہ جبیں خاموشی سےاپنی ماں کی باتیں سن رہی تھی کیونکہ یہ ایک دن کی بات نہی تھی یہ روز کا معمول بن چکا تھا کبھی امی کی باتیں تو کبھی ابو، بہن اور بھائی کی باتیں ۔۔۔۔۔ امی امی یہ دیکھیں یہ نیا فیشن ہے کتنا اچھا لگے گا نہ مجھے پہنا ہوا پینٹ کے اوپر یہ بہت پیاری لگے گی بنا آستین کے یہ شرٹ بہت اچھی لگے گی مہ جبیں اپنی امی کو اپنے نئے کپڑوں کے بارے میں بتا رہی تھی جو اس نے بازار سے نئے خریدے تھے مہ جبیں نئے دور کے فییشن کی دلدادہ تھی ماں بھی بہت خوش تھی کہ ان کی بچی آجکل کے دور میں اچھے سے رہنا سیکھ رہی ہے. مہ جبیں کے گھر میں دوپٹہ اوڑھنے والیوں کو اچھی نظر سے نہی دیکھا جاتا تھا ان کا نظریہ تھا کہ یہ دقیا نوسی کی باتیں ہیں اور دوپٹہ یا چادر عورت کے گھر میں مقید ہونےکی نشانی ہے چادر کرنے سے عورت غلام بن کے رہ جاتی ہے اور وہ اپنی مرضی نہی کر سکتی۔ یہ بھی مانا جاتا تھا کہ پردہ یہ حجاب خوبصورتی کو ماند کر دیتا جو جتنا کم لباس میں وہ اتنا زیادہ جدید ۔۔ مہ جبیں بھی خوشی خوشی سے ہر وہ کام کر رہی تھی جس کی اجازت نہ اسلام دیتا نہ مہذب معاشرہ ۔کچھ کام گھر کے ماحول نے سکھا دئیے اور باقی کثر موبائل نے پوری کر دی۔رفتہ رفتہ مہ جبیں منشیات کا بھی استعمال کرنے لگی کیونکہ امیر گھرانوں کی لڑکیوں میں یہ معمولی بات تھی مہ جبیں کی دوستیں بھی مہ جبیں جیسی تھی لڑکوں سے دوستیاں بھی معمولی بات تھی وقت گزرتا گیا ایک دن حسب معمول مہ جبیں اپنی دوستوں کے ساتھ بازار میں گھوم رہی تھی کہ اچانک ایک پردہ دار لڑکی سے زور سے ٹکرا گئی لڑکی سنبھل نہ سکی اور بری طرح زمین پر جا گری لڑکی نے اٹھ کر مہ جبیں سے معافی مانگی کے شاید اسکی وجہ سے مہ جبیں کو کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو لڑکی کے الفاظ تھے یا کوئی جادو جو مہ جبیں کی روح اور ضمیر پر سیدھےاثر کر رہے تھے لڑکی بول رہی تھی اور مہ جبیں کا سویا ضمیر جاگنے پر مجبور ہو رہا تھا لڑکی نے معافی کچھ اس انداز سے مانگی تھی کہ۔،،بہن معاف کیجیے گا میری وجہ سے آپ کو مشکل کا سامنا کرنا پڑا اسلام میں ہے کہ کبھی کسی کے لیے تکلیف کا موجب نہ بنیں اور بیشک اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ کون پہنچا ہے روح تک کس نے دیکھی ہے دل کی گہرائی.؟ ﻭَﺍﻟﻠَّﻪُ ﻋَﻠِﻴﻢٌ ﺑِﺬَﺍﺕِ ﺍﻟﺼُّﺪُﻭﺭِ “ﺍﻭﺭ ﺧﺪﺍ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺑﮭﯿﺪﻭﮞ ﺳﮯ ﻭﺍﻗﻒ ﮨﮯ” القران وہ کچھ اور بھی کہتی پر آگے سننے کی مہ جبیں میں اب ہمت نہ رہی مہ جبیں نے وہاں سے سیدھا گھر کی راہ لی دوستیں کہتی رہی کہ لڑکی کی باتوں پر دھیان نہ دو وہ تو ایک جاہل لڑکی تھی جس نے خود کو مردوں سے چھپایا ہوا تھا ضرور وہ پیاری نہی ہو گی وغیرہ وغیرہ پر مہ جبیں کے ذہن میں ایک ہی بات تھی کہ اس کی غلطی نہی بھی تھی تو وہ معافی مانگ رہی تھی وہ اسلام کی باتیں کر رہی تھی جو اس نے کبھی سمجھی ہی نہی تھی گھر پہنچتے ہی اس نے اسلامی باتیں پڑھنا اور سننا شروع کر دی وہ اسلام جسے اس نے بیس سال سے بھلا دیا تھا وہ اسلام جس نے اسے نبی کریمﷺ کے امتی ہونے کا شرف بخشا آج ایک پردہ دار لڑکی نے اسے راہ ہدایت پر لانے میں اہم کردار ادا کیا ایک جگہ اس نے پڑھا ﻗﺮﺁﻥ ﻧﮯ ﺟﮩﺎﻥ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﻮ ﭘﺮﺩﮮ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﻭﮨﺎﮞ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﺮﺩ ﮐﻮ ﻧﮕﺎﮨﯿﮟ ﻧﯿﭽﯽ ﺭﮐﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔۔۔ ﺍﺏ ﯾﮧ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﭘﺮ ﻻﺫﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻻﺫﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﻧﮧ ﺑﻨﯿﮟ۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﻐﺮﺏ ﮐﯽ ﺍﻧﺪﮬا دھند ﺗﻘﻠﯿﺪ ﮨﻤﯿں بے راہ روی ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺍﻏﺐ ﮐﺮ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ۔ ﺟﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ( ﺳﯿﺮﺕ ) ﮐﮯ ﺧﻼف ﮨﮯ۔ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮﮨﺪﺍﺋﺖ ﻋﻄﺎ فرمایں۔ آمین جگہ اس نے پڑھا رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ “بیشک ہر دین کی ایک خصلت (خاص خوبی ) ہوتی ہے اور اسلام کی خصلت حیا ہے۔”(ابن ماجہ) وہ جیسے جیسے قرآن بمعہ ترجمعہ تفسیر پڑھ رہی تھی اس کے دل سے زنگ اترتا جا رہا تھا اس آیت نے اسے بدلنے پر مجبور کر دیا “بھلا یہ لوگ قرآن پر غور نہی کرتے یا(ان کے ) دلوں پر قفل پڑے ہوے ہیں”سورت محمد :۲۴ قرآن مجید نےاس کی روح کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا۔اور ہدایت کے راستے پہ آنے میں دیر نہی کی چاہے راستے کتنے ہی کھٹن کیوں نہ ہو اس نے اللہ کی رسی کو ہاتھ سے نہی چھوڑا۔گھر والے ہزار طعنے دیں پردہ کرنے پر اسے کسی کی پرواہ نہی اب پردہ ، حجاب نماز کی پابندی ہی اس کی پہچان ہے وہ اب بھی ماں ۔باپ،بہن ،بھائی سب کی باتیں سنتی ہے پر منہ سے کچھ نہی کہتی صرف اللہ سے دعا کرتی تھی کہ اس کے گھر والے اور ان جیسے لاکھوں نام کے مسلمان صیحیح راستے پر آ جائیں آمین۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

2 تبصرے

  1. Avatar
    ملک عبدالرحمن ایڈووکیٹ

    بہت ہی کمال کی تحریر۔۔۔۔

  2. Avatar

    Wah wah ahla kya likha hai

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے