سر ورق / تشبینہ____۳(فلیش بیک) ناصر صدیقی ( کراچی)

تشبینہ____۳(فلیش بیک) ناصر صدیقی ( کراچی)

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 119

تشبینہ____۳(فلیش بیک)

ناصر صدیقی ( کراچی)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنواری تشبینہ آج اس الجھن بھرے سوال کو لئے بیٹھی تھی کہ اس کے پہلے ایام اور پہلی بار سگریٹ پھونکنے کے بیچ کیا فرق ہے؟

اس وقت اس کا کوئی ایسا بھی نہ تھا جس سے وہ یہ سوال پوچھتی ۔ حبیبہ کو پانچ سال بعد ہی اسکی اکلوتی سہیلی بننا تھا اور دونوں کی پہلی ملاقات کسی کی شادی پہ ہونی تھی ۔ چلیں آپ قارئین کو اس ملاقات کا حال پیشگی بتاتے ہیں :

چاندنی رات تھی اورآج رات دولہے کو پار گاؤں سے آنا تھا ۔ ساز و رقص سے سجاپنڈال میں گاؤں کی کنواری چھوکری بالیوں کو الگ سا بٹھایا گیا تھا کہ کوئی ایسی ویسی شرارتیں نہ کرے کہ برات میں ٓا رہے لوگوں کواس برادری کا تمسخراڑانے کا موقع ملے ۔ بنی سنوری تشبینہ کے پاس ایک خاموش سی چھوکری بیٹھی تھی جس کا کنوارا بدن طبلے کی تھاپ پر جیسے تھرک رہا تھا ۔ تشبینہ کو یہ لڑکی بہت اچھی لگ رہی تھی ،چاہتی کہ اسکی سہیلی بنے ۔ لیکن کیسے ا ور کس بات سے اسکی ابتدا کرے؟ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ اچانک وہ لڑکی خود ہی بول اٹھی ۔ ’’تمہیں ناچنا آتا ہے؟‘‘

تشبینہ مسکرائی :’’بالکل نہیں ۔ لیکن تم ضرور ناچ رہی ہو ۔ ‘‘

لڑکی بھی مسکرائی:’’مجھے ناچنے اور گانے کا بڑا شوق چڑھا ہے لیکن گھر والے ۔ ۔ ۔ ۔ میرا نام حبیبہ ہے ۔ ‘‘

’’ میں تشبینہ ہوں ۔ ‘‘’’تم میرا ایک کام میں ساتھ دے سکتی ہو؟” اس پرتشبینہ کو لگا کا اسکا کام تو ہو گیا ۔ حبیبہ تو اسکی سہیلی ہی بن گئی ۔

’’ میں تمارا ہر کام میں ساتھ دے سکتی ہوں ‘‘‘‘تشبینہ نے ایک وارفتگی لئے کہا ۔

’’تو چل باہر چلتے ہیں ۔ کام وہیں بتاؤں گی ۔ ‘‘

دونوں سب کی نظریں بچاکر باہر چل دیں جہاں چاندنی نے دونوں کے حسن میں ایک الگ سی خوبصورتی بکھیر دی ۔ کسی سنسان سی جگہ پہ آکے دونوں رک گئیں ۔

’’اب کا م بتا ۔ ‘‘تشبینہ کو جیسے کسی چیز کی بڑی جلدی تھی ۔

’’ میں ناچنا چاہتی ہوں تم صرف دیکھتی رہو،پسند آئے تو داد دینے میں کنجوسی نہ کرو ۔ ‘‘اور چرتر سی ہنس پڑی ۔

مسکرا کرتشبینہ زمین پہ بیٹھ گئی ۔

حبیبہ ناچنے لگی تو جیسے ساری کائنات بھی ناچنے لگی ۔

کچھ دیر بعد ناچ بند ہوا تو کائنات بھی رک سی گئی ۔ گھاس میں ایک سرسراہٹ محسوس کی تو حبیبہ خوفزدہ سی ہوئی ۔ ’’کہیں سانپ نہ ہو ۔ مجھے سانپوں سے بڑا ڈر لگتا ہے ۔ تم بھی ڈرتی ہونا تشبینہ؟‘‘

’’ میں نہیں ڈرتی سانپوں سے ۔ بلکہ میں تو سانپوں سے کھیلنا چاہتی ہوں بس انکا کوئی زہر نکال کے مجھے پکڑادے ۔ ‘‘اورہنسنے لگی ۔

’’اگر کوئی زندگی بھر انکا زہر نکالنے کو تیار نہ ہوا تو؟‘‘

’’تو کیا؟میں شاید زہریلے سانپوں سے بھی کھیل جاؤں پھر ۔ لیکن ۔ اب چلیں کہ برات آچکی ہوگی ۔ ہمارے گھر والے ہمیں نہ پاکر پریشان ہو جائیں گے ۔ ‘‘

پھر دونوں چل کرپنڈال میں آئیں تو دیکھا کہ سارا جہاں رقص میں ہے کہ برات ا ٓچکی ہے ۔

قارئین!ملاقات کا حال تو بتایا دیا میں نے۔ اب واپس اس جگہ چلتے ہیں جہاں کنواری تشبینہ اس سوچ کو لئے بیٹھی تھی کہ اس کے پہلے ایام اور پہلی بار سگریٹ پینے کے درمیاں کیا فرق ہے؟

’’کس سوچ میں پڑی ہو؟آج فلک بی بی کے ہاں پڑھنے نہیں جانا کیا؟‘‘اپنی ماں کی اس جھڑک سے تشبینہ چونک پڑی اور پھر تابعدارانہ انداز میں بولی:’’ضرور جانا ہے ۔ ‘‘

فلک آراء______:

تشبینہ کا گھر سر سبز گاؤں کے دامن میں تھا ۔ اس کے بعد ایک مختصر صحرا اور پھر فلک آرا کا اکیلا اور کچھ حد تک پر اسرارگھر جہاں پہلے ایک بوڑھی عورت رہتی تھی جس کے بارے کسی کو بھی کچھ معلوم نہ تھا ۔ ہر ایک سے پوچھو ،تو وہ کہے جب سے ہم نے آنکھ کھولی اس بوڑھی کو اس گھر میں پایا ہے ۔ جب مر گئی تھی تو کافی دنوں بعد اسکے نعش کی بو سے پتہ چلا ۔ نام کسی کو معلوم نہ تھا ۔ کفن یا چتا؟اس بحث سے چھٹکارہ اس لئے ملی کہ گاوں کی اکثریت مسلمانوں کی تھی جن کے مشوروں سے اسے دفنایا گیا ۔ دفنا نے کے بعد جب لوگ اس نیت سے اسکے گھر کی طرف چلے آئے کہ کسی چیزسے اس کے رشتہ داروں کا کوئی سراغ ملے تو خبر کر دیں کہ صدر دروازہ ایک زنگ آلود تالے سے بند ملا ۔ سب حیران رہ گئے کہ یہاں تو اسکا ایک رشتہ دار بھی نہیں ، تو کس نے تالا لگا دیا! ساراگاؤں اپنے اباو اجداد کے زمانے سے توہم پرست اور جنوں بھوتوں سے ڈرا ہوا تھا ۔ لوگ سہم کر چلے گئے کہ ویسے بھی ہمارا درد سر نہیں ،ہمیں کیا ۔ پھر تو اس گھر کے قریب سے کوئی گزرتابھی نہیں ۔ ۔ کافی عرصہ بعد ایک دن نازک اندام اور حور جیسی لگتی فلک آرا ء نامی عورت ایک اونٹنی پہ سوار اس گھر میں آگئی ۔ لوگوں نے سمجھا کہ بوڑھی عورت کی رشتہ دار ہوگی کہ تالا کی چابی پاس ہے ۔ اونٹنی کا مہارایک سانولے چہرے والے اور راجھستانی لباس اور پگڑی پہنے ایک سانولے شخص نے پکڑا تھا ۔ گھنی مونچھیں ،سرخ اور خوفناک بڑی بڑی آنکھیں جیسے کوئی جن اور دیو ہو ۔ وہ بولتا نہیں تھا،فلک آراء کے لئے سودا سلف اشارے کی زبان سے لاتا اور پیسے ہمیشہ پگڑی سے نکال کر دیتا کچھ لوگ کہتے کہ پگڑی سے نکالنا بہانہ تھا پیسے تو جیسے جادو سے نکال کے دیتا ۔ کچھ عرصے بعد یہ شخص پھر کسی کو نظر نہیں آیا ۔ اب فلک ٓرا کے لئے کون سودا خرید کے لاتا ہےَ؟کچھ عرصے بعد لوگوں نے یہ بھی سوچناچھوڑ دیا ۔ فلک آرا کے گھر عورتیں صرف کسی شادی بیاہ یا گاوں کے کسی رسم رواج یا مذہبی تقریب کے لئے آتیں ۔ لیکن فلک آراء کسی کے ہاں نہیں جاتی ۔ صرف ایک بار تشبینہ کی ماں کے بلاوے پر اس کے گھر گئی تو دونوں میں ایک دوستانہ سا ماحول بنا ۔ ایک دن تشبینہ کی ماں بولی تھی ۔ ’’میری بیٹی کو پڑھاوَنا ۔ ‘‘

’’جو میں جانتی ہوں وہی ضرور پڑھاؤں گی،‘‘

’’ میں نہیں جانتی کیا پڑھا نا ہے کیا نہیں بس تشبینہ کو پڑھائیں ۔ ‘‘

اس پر فلک آرا مسکرائی تھی تو دانتوں کی چمک سے کمرا بھی چمک اٹھا تھا ۔ گھنیرے بالوں یا جسم کی خوشبو سے تو پہلے ہی ساری فضا معطر تھی ۔ اسکے گھر میں میں بھی کتنی نفاست رہتی ۔ ہر چیز قرینے سے رکھی ہوئی، گھر کا ہر کونہ کھدرا صاف ستھرا،صحن میں ہر روز جیسے کوئی جھاڑو دے ۔ اوپر سے نہ کوئی کچرادان اور نہ ہی گھر کے باہر کھانا بنانے کے پیاز،ٹماٹر کے چھلکے وغیرہ ۔ ادھر نہ باورچی خانہ میں مچھلی وغیرہ کی بو،جیسے کھانا آ سمان سے اترتا ہو ۔ گھر کی فضا پر اسرار سہی لیکن فلک ٓرا کی شخصیت میں دلکشی تھی جسکے پوشاک نہ جانے کس شہر اور گاوں کے تھے ۔ اب تک کسی نے ایسے لباس دیکھے ہی نہیں تھے ۔ وہ اکثر سپید،گلابی اور نیلا رنگ کے کپڑے پہنتی ۔ کالا پہنتی تو اپنے گورے پن، حسن اور خوبصورتی محسوس کر کے خود سے ہی شرما جاتی ۔ فلک آرا کے غسل خانے میں اب تک تشبینہ نہیں گئی تھی ۔ ایک دن پیشاب نے زور پکڑا تو شرما کر اپنی استانی سے کہا ۔ فلک آرا پہلے جیسے کچھ ہچکچائی پھر اسے غسلخانے کی راہ دکھائی جہاں جا کر تشبینہ نے اپنی حاجت پوری تو کی لیکن حیرانی سے بچ نہ سکی یہ دیکھ کر کہ لگتا ہے یہاں صدیوں سے کوئی نہیں آیا، وہ ہی یہاں پہلی بار پیشاب کر گئی ہے کہ نہ فرش پہ نمی اور نہ استعمال شدہ غسل خانوں میں پائی جانے والی مخصوص بو باس ۔ ’’فلک آرا تو ہر وقت صاف ستھرا رہتی ہے،پھر کہاں نہاتی ہے؟‘‘بس یہی سوال لے کر وہ اٹھی تھی جسے اپنی استانی سے پوچھ بھی نہیں سکتی تھی ۔

فلک آرا لکھاتی کم اور پڑھاتی زیادہ تھی ۔ دارلحکومت اور چند بڑے شہروں میں بولی جانے والی زبانوں کے جدید اور قدیم الفاظ بھی زبانی یاد کراتی ۔ تشبینہ کی مقامی زبان کے وہ الفاظ بھی سکھاتی جو اب معدوم سے ہو نے لگے تھے جنھیں تشبینہ پہلی بار سنتی تھی______

نہا دھو کر تشبینہ فلک آراء کے گھر پڑھنے آئی تو روز کی طرح آج بھی فلک آرا ایک نئے لفظ کو لئے بیٹھی:

’’پری دار کے معنی جانتی ہو تشبینہ؟‘‘تشبینہ نے نفی میں سر ہلایا تو مسکرا کر کہا:‘‘جس کے سر کوئی پری عاشق ہو جائے ۔ ‘‘

اس پر تشبینہ ڈر سی گئی ۔ چھٹی ہونے پر گھر آئی تو پر ی اور عشق کے سوچوں میں گرفتار تھی ۔ دوسرے دن خوب بن سنور کر آگئی تو فلک آرا بے چین سی ہو گئی ۔ پڑھائی ختم ہونے کے بعد پہلی باراپنے دل اور ذات کی بات لئے بولی:

تشبینہ! آج تم بہت اچھی لگ رہی ہو ۔ کاش تم میری آئینہ بنتی!‘‘

’’یہ کس طرح ہوتا ہے؟” تجسس میں گھری تشبینہ نے پوچھا،’’بنائیں مجھے! آئینہ مجھے کوئی’’اعتراض‘‘ نہیں ۔ ‘‘ اوریہ بات پہلے ہی تشبینہ جانتی تھی کہ فلک آرا کے گھر ظاہراً کوئی آئینہ نہیں جبکہ اس کے بال ہر روز بنے سنورے دیکھئے ۔ اور مانگ اتنی سیدھی کہ آئینہ دیکھ کر ہی بنائے، یا کوئی اور بنائے ۔ اور کوئی اور؟ یہاں تو ہے ہی نہیں !

لفظ اعتراض سے فلک آرا کو لگا کہ اب تشبینہ جوان اور ہوشیار ہو گئی ہے ۔ ایک کھلی ہوئی مسکراہٹ لئے بولی:’’آئینہ بننا یہ ہے کہ میں اپنا حسن تم میں دیکھتی ۔ میرے جلوئے اور ادائیں تم چراتی ۔ ‘‘

اس پر تشبینہ شرما سی گئی ۔ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پھر تو آئے دن تشبینہ فلک آراء کی ایسی ویسی باتوں کی تھوڑی بہت عادی ہو تی گئی ۔

وہ ایک بادلوں سے بھری شام تھی جب تشبینہ پڑھنے آئی تو دیکھا آج پہلی بار استانی بیمار پڑی ہے ۔ بغیر پڑھے جا بھی سکتی تھی لیکن خدمت کے جذبہ نے پاؤں روک دئے ۔

’’سر دباوں ؟‘‘تشبینہ نے کہا تو فلک آرامریل سے آواز میں بولی “نہیں !”پھر یک لخت تشبینہ کی طرف دیکھنے لگی توتشبینہ ایسے گھبرا گئی جیسے اسے چاہا جا رہا ہو ۔ ’’کیا بات ہے استانی جی؟ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟‘‘ اس نے شرمیلی نگاہیں اور مدھم سی آواز لئے پوچھا ۔

’’ایک دن میں نے پری دار کا بتایاتھا نا؟‘‘

’’جی ۔ تو؟‘‘تشبینہ کچھ اور بھی ڈر سی گئی۔

’’لیکن میرے لئے الٹ ہو گئی ہے ۔ ‘‘

’’ میں سمجھی نہیں ۔ ‘‘

’مجھ پر کسی آدم زات کا سایہ ہے وہ بھی ایک لڑکی کا ۔ ‘‘اور پیاسی آنکھیں جیسے تشبینہ کے حسن اور جسم پہ گاڑھ دیں ۔ لیکن اب کی بار تشبینہ گھبرا نہیں گئی اور بھی کھسک کر فلک آرا کے قریب آگئی جیسے اسے کوئی جادو سے بے بس کر کے اپنی طرف کھینچ رہا ۔

’’تو الٹ کیسیَ؟‘‘

’’وہ اس لئے کہ میں آدم زات نہیں ایک پری ہوں ۔ اور تم مجھ پر عاشق ہو ۔ اسی کا اثر سایہ بن کر مجھے بیمار کر گیا ۔ اب تم ہی میرا علاج ہو تشبینہ ۔ ‘‘یہ کہہ کر اس نے اپنی آنکھیں موند لیں ۔

تشبینہ ایک سوچ میں پڑ گئی کہ فلک آراء مذاق تو نہیں کر رہی ؟بظاہر نہیں ۔

’’اگر میں علاج ہوں تو دوا سمجھ کر پی اور کھا سکتی ہو‘‘تشبینہ نے مسکرا کر کہاتو فلک ٓرا نے آنکھیں کھولیں ۔

’’ میں مذاق نہیں کر ہی تشبینہ!‘‘ایک ملکوتی مسکرہٹ لئے فلک آراء نے کہا ۔

’’مذاق میں بھی نہیں کر رہی فلک آراء!‘‘تشبینہ نے پہلی بار اپنی استانی کا نام لے لیا ۔ اور لہجہ ایسا کہ فلک آراء تک گھبرا گئی کہ اب بیمار کون؟اور کس پر کس کا سایہ ہے؟

مستانی نظریں لئے فلک آراء نے ہاتھ بڑھا کر تشبینہ کا ہاتھ چھو لیا تو اسکی گرمی اور تپش سے فلک آرا ء کا ہاتھ جل گیا ۔ پھر سارا جسم جل گیا ۔ اور پھر تو ساری کائنات جل کر خاک ہوگئی ۔ آگ نے برف پگھلا دی تو ساری فضا سرد ہو گئی اور پھر جو بارش ہوئی اس سے سارا جلا ہوا جگ بھیگ کر ٹھنڈا ہو گیا ۔

دوسرے دن پڑھنے سے زیادہ ملنے کے شوق میں گھری تشبینہ،فلک آراء کے گھر آئی تو دروازے پہ ایک زنگ آلودہ تالا لگا ہوا تھا ۔ دراصل یہ وہی تالا تھا جسے کھول کر یہاں سے ہمیشہ کے لئے جا چکی فلک آراء اس گھر میں داخل ہوئی تھی ۔

فلک آرا کی یادوں کے ساتھ تشبینہ جوان ہوئی تو ایک خاص معاملے میں ’’بے وفا‘‘ گردان کراسے عورت سے نفرت سی ہو گئی ۔ حبیبہ ملی تو کچھ راحت ضرور ملی لیکن فلک آراء کا تجربہ اسے حبیبہ سے مل نہیں سکتا تھا ۔

اور جب تشبینہ کی شادی ہو گئی تو فلک آراء اور بھی شدت سے یاد آنے لگی ۔ اب تشبینہ اچھی طرح سمجھتی اور جانتی تھی کہ فلکی آراء کی یاد کیوں آتی ہے ۔ اب وہ عورت کی بےوفائی سے زیادہ اپنے میاں سے وابستہ خاص شکایتیں لے کر مردوں سے نفرت کرنے لگی تھی ۔ اور جب کافی وقتوں بعد اسے ناصر مل گیا تب وہ زندگی اور اپنی نسوانیت بلکہ انسانیت کو سمجھ گئی ۔ لیکن ناصر اپنی کسی مجبوری کی وجہ سے غائب ہو گیا تو تشبینہ کی کشتی ہجر و غم اور نئی شکایتوں کے دریا میں کبھی ڈوبتی تو کبھی امید کے ناخدا سے ابھرتی ۔

پھر کچھ اتنازیادہ وقت گزر گیاکہ ایک خود سے آگاہ جسم تھک بھی جاتا ہے ۔ اور تشبینہ؟اسکا حال نہ پوچھا جائے تو بہت بہتر ہے کہ وہ تو آج پھٹنے کے بھی قریب تھی کہ کم سے کم ایک مرد کی شکل میں اسکا شوہر بھی دس دنوں سے غائب تھا اگرچہ اسکا ہونا اور نہ ہونا برابر ہی تھا ۔ کچھ دیر بعدباہرسے کسی بھکاری فقیرکی گرجدار صدا آئی تو شبیبہ کے کانوں میں رس گھلنے لگا ۔ لیکن وہ اپنی انا اور طبعیت کی بھی غلام تھی ۔ بے شک شکست کھا سکتی تھی لیکن اپنی مرضی سے ۔ کسی اور کی جیت اسے ہر گز قبول نہ تھی ۔

رات کو شوہر آیا تو اسکے ہمراہ ایک ایسا رشتہ دار بھی تھا جسے تشبینہ پہلی بار دیکھ رہی تھی اور جس کے ہاتھ میں سگریٹ کا پیکٹ بھی تھا لیکن ابھی تک اس نے کوئی سگریٹ سلگایا نہیں تھا ۔

’’ پوراپیکٹ ہاتھ میں اور ہونٹ ہیں کہ سگریٹ سے ابھی تک دور ۔ میرے ناصر کی طرح کا شخص لگتا ہے ۔ ‘‘تشبینہ دل میں خوش سی ہوئی ۔ اسکی نظریں نیچی تھیں صرف ایک نگاہ وہ تشبینہ کی طرف دیکھ گیا تھا ۔ اور اس ایک ہی نگاہ سے تشبینہ اسے پوری طرح سمجھ گئی تھی کہ ہماری تشبینہ کوئی واجبی عورت نہیں ہے میرے قارئین دوستو!

رات کچھ ہی پھیل گئی کہ ایمرجنسی میں ایک ہمسایہ تشبینہ کے میاں کو مجبور کرنے آگیا کہ اپنی گاڑی سے درد زہ میں مبتلا اسکی بیوی کو شہر لے جائے ورنہ یہاں بے چاری مر جائے گی ۔ تشبینہ کو کچھ ہدیتیں اورپیسے دے کے کہ مہمان کے لئے کیا کیا کرنا ہے وہ گاڑی نکال کر چلا گیا ۔ مہمان بیٹھک میں سویا ہوا تھا اور ان سب باتوں سے بے خبر تھا ۔

میاں کیا چلا گیا کہ ’’تشبینہ’’ نے خود کو زیادہ سوچنے کا موقع ہی نہ دیا اور آکر مہمان کا بند دروازہ پہ دستک دی ۔ دوسری دستک پہ اندر کا آدمی جاگ اٹھا ۔

’’کون؟‘‘

’’ میں تشبینہ ہوں ۔ ‘‘لہجہ میں پھولوں سی نرمی تھی ۔

’’خیریت؟‘‘

’’میرے میاں چلے گئے ہیں ‘‘ لہجہ کی پیاس سب کچھ بتا اور سمجھا سکتی تھی اگر کوئی سمجھدار نکلا تو ۔

وہ خاموش رہا شاید سب کچھ سمجھ گیا بس رد و قبول کے نرغے میں تھا ۔

کچھ ہی دیر میں اندر روشنی ہوئی اور وہ دروازہ کھول کر سامنے آگیا ۔ مسکراہٹ اسکی تیار تھی بات صرف اندر آنے یا باہر جانے کی رہ گئی تھی ۔ تشبینہ اندر داخل ہوئی ۔ بستر پہ نہیں صوفے پہ فاتحانہ انداز میں بیٹھ گئی تومرد سمجھ گیا کہ شکست دینے آئی ہے میری جیت کے لئے نہیں ۔

’’مجھے سمجھ سکتے ہو یا سمجھاوں ؟‘‘تشبینہ نے مسکر کر پوچھا ۔ نظروں میں جو مستی تھی اس سے بچنا محال تھا ۔

’’کچھ کچھ سمجھ تو گیا ہوں لیکن ’’اگر مگر‘‘ بھی آس پاس گھومتے ہیں ۔ ‘‘

’’لیکن میں اگر مگر والی عورت نہیں ۔ اپنی مرضی سے شکست کھا سکتی ہوں ۔ قبول کروگے؟‘‘

’’میری ہار پہ آپ کوخوشی ملتی ہے تو مجھے بھلا کیا اعتراض لیکن میں کچھ سچ لئے بھی پھرتا ہوں جو شاید ٓپ کو پسند نہ آئے ۔ ‘‘

’’بتا دیجئے!ہر چیز ہضم کر سکی ہوں ۔ ‘‘

’’ میں بہت زہریلا ہوں ۔ میرے لمس سے کو ئی مر بھی سکتا ہے ۔ ‘‘

’’ میں مرنے کے لئے بھی تیار ہوں اس وقت ۔ ‘‘

’’اس وقت؟اسکے بعد کا قصہ کیا ہوگا؟‘‘

’’یہ وقت گزر جائے تو بعد میں ، میں ہی مارنے پہ نکل سکتی ہوں ۔ ‘‘اور کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔

’’ میں چھرا بھی گھونپ سکتا ہوں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ تمہارے میاں نے اس کام کے لئے مجھے پیسے دیئے ہوں ۔ ‘‘اور اسکا لہجہ مذاق اور سچ کے درمیاں پھنسا ہوا تھا ۔

تشبینہ نے اس بار کچھ سوچا اور پھر کہا ۔ ’’نتیجہ جو بھی ہو، مجھے اس وقت خوشیاں چاہیئے ۔ دیر نہ کرنے کی ذرا سی منت کرتا ہوں کہ آگے میری انا اور طبیعت اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ ‘‘ یہ کہہ کر تشبینہ نے اپنی آنکھیں بند کیں کہ وہ اپنے اندر شکست کھا سکتی تھی باہر سے نہیں ۔

مرد کا کے ہاتھوں کا لمس سخت تھا جو تشبینہ کے مزے لوٹنے اب آزاد تھے ۔ تشبینہ،پیاسی تشبینہ کی سوچ اب بھی اس چیز میں پھنسی تھی کہ یہاں شکار کون ہے؟

مرد نے کرتی کے پہلے بٹن پہ ہاتھ رکھا اور پھر ٹھہر گیا ۔

’’رک کیوں گئے،‘‘اب تشبینہ نے اپنی آنکھیں کھولیں ۔

’’آپ کی طبیعت اور مزاج سے واقف نہیں ۔ کچھ عورتیں اپنے کپڑے خود ۔ ۔ ۔ اور کچھ دوسروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیتی ہیں ۔ ‘‘

تشبینہ کو ’’رحم و کرم‘‘کا لفظ پسند نہیں آیا ۔ کرتی کے بٹن خود کھول دئے لیکن اسے نکالا نہیں ۔ مرد باقی خود سمجھ گیا ۔

’’ایک بات پوچھوں ؟‘‘تشبینہ نے نشیلی آنکھیں اور شرابسا لہجہ لئے پوچھا ۔

’’ہزار باتیں پوچھئے !‘‘مرد نے جواب دیا جو جان چکا تھا کہ تشبینہ کس قبیل کی عورت ہے

’’ سگریٹوں کا پورا پیکٹ رکھتے ہو ۔ لیکن ابھی تک ایک بھی سگریٹ پھونکا نہیں ۔ وجہ؟‘‘

اس پر مرد پہلے مسکرایا،پھر کہا،’’سگریت اور اسکے خوبصورت پیکٹ سے پیار ہے لیکن سگریٹ پھونکنا اتنا پسند نہیں ۔ اگر کبھی شوق ہوا تو آدھا ہی پھونکتا ہوں ۔ ‘‘

تشبینہ نے دل میں سوچا بالکل ناصر جیسی باتیں کرتا ہے ۔ یہاں سگریٹ، سگریٹ نہیں کچھ اور چیز نظر آتا ہے ۔

کچھ دیر بعد کمرے کی بتی بجھانے کی بات ہوئی تو اسے رد کر دیا گیا ۔ روشنی ہی میں عریانی کی چمک اتنی خیرہ خیز بن گئی کہ آنکھیں چندھیا گئیں ۔

پھر مدہوشی کا دور چلا ۔ عورت مرد گہرے سکون میں اتنے غرق ہو گئے کہ اب صبح ہی دونوں کو جگا سکتی تھی ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے