سر ورق / پینٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری میرٹھ ۔ انڈیا

پینٹھ ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری میرٹھ ۔ انڈیا

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 136

پینٹھ

ڈاکٹر اسلم جمشید پو ری

شعبۂ اردو ، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی ، میرٹھ ۔ انڈیا

’’بیٹی ذرا تیار ہو جائو۔۔۔۔۔ مہمان آ نے وا لے ہیں‘‘

سلطانہ بیگم نے آنگن سے ہی آواز لگائی۔ او پر وا لے کمرے میں بستر میں اوندھی پڑی سیما کے کانوں سے سلطانہ بیگم کی آواز ٹکرا ئی۔ سیما تلملا کر رہ گئی۔ آج پھر پینٹھ لگے گی، خریدار آئیں گے۔ گھما پھرا کر، آگے پیچھے سے دیکھیں گے۔ہر طرح کی معلومات لی جائے گی۔ آواز کا امتحان لیا جائے گا۔ بازار میں جانور کو ایک وقت میں ایک بار ہی امتحان سے گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن لڑکیوں کو ایک ہی وقت میں کئی کئی امتحان دینے ہو تے ہیں۔

’’ ایسا کیوں ہو تا ہے‘‘؟

سیما کے ذہن میں سوال کھڑا ہو گیا تھا۔

صرف لڑکیوں کو ہی کیوں یہ سب برداشت کرنا ہو تا ہے۔

کیا لڑکے ہر صورت میں مکمل اور مناسب ہو تے ہیں؟

کیا یہی سماج میں عورتوں کو برابری کا مقام حا صل ہے؟

سوال نے اپنے دوست و احباب بلا لیے تھے۔ سیما کے ذہن میں سوا لات کا لاوا پکنے لگا۔ وہ عمر کی ۲۷ بہا ریں دیکھ چکی تھی۔ اس کی قسمت میں شا دی جیسا لفظ اب تک نہیں آ یا تھا جبکہ بیسیوں رشتے آ چکے تھے۔مختلف النوع لڑکے۔۔۔۔لڑکے کیا تھے ایک تماشہ تھے۔کسی کا رنگ پکا،کسی کا کالا، کوئی دسویں پاس، کوئی بزنس مین،کوئی ملٹری میں کلرک۔۔۔۔۔۔۔کوئی فوج میں چپرا سی۔کسی کا قد چھوٹا،کسی کے سر پر بال برائے نام۔کسی کی آ نکھوں پر آنکھیں۔۔۔۔۔۔ایک بھی لڑکا تو ایسا نہ تھا جو اس کے خوا بوں کے شہزادے جیسا ہو۔ ایسابھی نہیں تھا کہ وہ بہت بڑا فلم اسٹار چاہتی ہو۔اُس نے ایم اے کیا تھا، چاہتی تھی کم از کم اس کا شوہر اس سے زیادہ پڑھا لکھا ہو۔ اس کے قد سے نکلتا ہو۔گورنمٹ جاب ہو یا اپنا بزنس۔۔۔۔۔۔۔کسی بھی طرح بس اپنے پیروں پر کھڑا ہوا۔ سر چُھپانے کو ایک گھر ہو۔۔۔۔۔ یہ کو ئی خواب تھا۔۔۔اُس نے تو کبھی یہ بھی نہیں سو چا کہ ڈاکٹر،انجینئر،آئی اے ایس آ فیسر یا ٹا ٹا برلا اس کی قسمت میں ہو۔ اب ایسا بھی کوئی لڑکوں کا کال نہیں پڑ گیا جو وہ کسی بھی ایرے غیرے سے شا دی کو را ضی ہو جائے۔ لیکن قسمت کا کچھ پتہ نہیں۔اب تک جو رشتے آ چکے تھے۔سب کے سب کسی نہ کسی زا ویے سے نا مکمل تھے۔ابھی پچھلے دنوں ۱۸ واں رشتہ لے کر مہمان آ ئے تھے۔۔۔سیما کے ذہن میں واقعات زندہ ہو نے لگے۔

۔۔۔۔

’’آئو بیٹا۔بیٹھو۔‘‘

ایک درمیانہ قد کی قدرے گوری عورت نے سیما کی طرف دیکھتے ہو ئے کہا۔

’’بیٹا تمہا را نام کیا ہے؟‘‘

دوسری قدرے بزرگ عورت نے اس سے دریافت کیا۔

’’جی۔۔۔۔سی۔۔۔۔۔۔۔سی۔۔۔۔ما۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’شرما ئو نہیں۔۔۔۔ہم سب تمہا رے اپنے ہی ہیں۔‘‘

’’ہاں سیما بیٹا جو یہ پوچھ رہے ہیں ۔بتا دو۔‘‘

سیما کی وا لدہ نے اس کی ہمت بڑھا ئی۔۔۔۔

’’ آپ کیا کر رہی ہیں ان دنوں؟‘‘

۲۰ برس کے قریب عمر وا لی نو جوان لڑکی، جو شاید لڑ کے کی بہن تھی، نے پو چھا۔

’’جی ایم اے اردو۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ اردو بھی کو ئی پڑھنے کی چیز ہے۔۔۔۔۔۔؟‘‘

نو جوان لڑ کی نے ایسا منھ بنایا، گو یا اُس نے بریا نی کے سا تھ کالی مرچ اور لونگ کھا لی ہو۔

’’ اور تمہا رے شوق کیا ہیں۔‘‘

یہ سوال گوری عورت نے کیا تھا جو حُلیے سے لڑ کے کی ماں لگ رہی تھی۔سیما کے جی میں تو آ یا کہہ دے۔۔۔۔۔

’’ ساس نندوں کو جو تے مارنا۔۔۔۔۔۔‘‘

لیکن وہ کچھ کہہ پا تی کہ اُس سے پہلے ہی قدرے بو ڑھی عورت بول پڑی۔

’’بیٹی ذرا کھڑی ہو نا۔۔۔۔۔۔۔‘‘

سیما غصے کو قا بو میں کرتے ہو ئے کھڑی ہو گئی۔‘‘ یا اللہ یہ تو ہم لڑکیوں کا کیا کیا امتحان لیتا ہے۔‘‘

’’ ذرا وہاں کچن تک جا کے آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

سیما نے قہراً جبراً منوں بھا ری قدم اُٹھا ئے۔ دماغ میں درد اور غصے کا طو فان جوش ماررہا تھا۔ وہ کچن تک گئی اور واپس آ کر کرسی پر بیٹھ گئی۔ اس کی گردن جھکی ہو ئی تھی۔۔۔۔اُ سے بازار میں آ ئے خریداروں کے تا ثر دیکھنے کی تاب نہ تھی ۔وہ اپنا فیصلہ سننے کی سما عت کھو چکی تھی۔ عورتوں میں کھسر پسر شروع ہو گئی تھی۔۔۔۔سیما نے ہمت کرتے خود کو کرسی سے اُ ٹھا یا سلام کیا اور تیز قدموں اندر کمرے میں کچھ اس طرح سما گئی گویا کو ئی روح غائب ہو گئی ہو۔۔۔۔

۔۔۔۔

مہمان عورتوں نے آپس میں باتیں شروع کردیں۔ چا ئے آ گئی تھی۔

’’لڑکی تو ٹھیک ہے۔ بس ذرا سا رنگ دبا ہوا ہے۔‘‘

’’ ذرا سا قد بھی کم ہے۔۔۔‘‘

’’امّی بھیا سے جو ڑی جمے گی نہیں۔‘‘لڑکے کی بہن نے جملہ اُچھا لا۔

’’بیٹا ابھی مردوں کا فیصلہ بھی تو آ نے دو۔۔‘‘سمدھن نے سلطانہ بیگم سے مخاطب ہو تے ہو ئے کہا۔

’’ دیکھئے ہمیں جلدی نکلنا ہے۔ ذرا بیٹی کو جلدی سے مردانہ بیٹھک میں بھجوا دو۔‘‘

’’ جی۔۔۔۔۔۔۔ابھی۔۔۔۔ کرتی ہوں انتظام۔۔‘‘

۔۔۔۔

سیما کی آ نکھوں سے آ نسو رواں تھے۔اُسے دنیا کے نظام پر غصہ تھا۔اس کی نظروں میں بچپن کا واقعہ گھوم گیا جب وہ ایک بار اپنے ابو مرزا غفران کے سا تھ بقر عید کے مو قع پر بکرا خرید نے پینٹھ چلی گئی تھی۔ ہر طرف بکرے ، بکری ،بھیڑ، بھینس کھڑی تھیں۔ کچھ اونٹ بھی آ ئے ہو ئے تھے۔ہر طرف بدبو پھیل رہی تھی۔ جانوروں کی بھیڑ سے زیادہ انسا نوں کی بھیڑ تھی۔کبھی کبھی تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا کہ کون خریدار ہے اور کون بکنے والا۔لوگ بکروں اور بکریوں کو دیکھ رہے تھے۔ جو بھی آ تا پہلے پو چھتا۔

’’ کتنے دانت ہیں؟‘‘

’’ چار‘‘

لیکن کسی کو یقین نہیں آ تا اور وہ بیچارے جانور کے جبڑوں میں ہا تھ ڈال کر اس کا منھ کھولتا اور دانت گننے کے بعد ہی چھو ڑ تا۔ کو ئی کسی جانور کی ٹا نگ اُٹھا کر دیکھتا، تو کوئی سینگ۔۔۔۔

مرزا صا حب تو بکرے کی خریداری میں مصروف تھے اور گندگی سے بچنے کے لیے سیما دور سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔ اس کی نظر بہت دیر سے ایک بکری پر ٹکی تھیں۔بیچا ری کمزور سی بکری۔۔۔۔ گرا ہک آ تے۔ کبھی دانت دیکھتے، پیٹ دابتے، کمر پر ہا تھ مارتے۔ بکری ادھر اُدھر چکر کا ٹنے لگتی۔۔۔۔سیما نے آ ناً فاناً خود کو بکری تصور کیا تو کانپ گئی۔ لڑکیوں کی حا لت بھی تو کچھ مختلف نہیں۔ اس کا دل گھبرا نے لگا وہ مرزا غفران کو بنا خریداری کیے ہی وا پس گھر لے آ ئی۔

۔۔۔۔

سلطانہ بیگم اندر کمرے میں آ ئیں۔ سیما رو رہی تھی۔

’’ امّی آپ کو اچھا لگتا ہے۔ میں اب کسی کے سا منے نہیں جائوں گی۔ شا دی ہو تی ہو، یا نہ ہو۔‘‘

’’ بیٹا بس مردانے میں اور چلی جا ئو۔۔۔‘‘

’’ میں قطعی نہیں جا ئوں گی۔۔۔۔۔۔‘‘

سلطانہ بیگم بیٹی کے تیور دیکھ کر ڈر گئیں۔ انہوں نے اپنے شوہر مرزا غفران کو بلوا یا۔۔۔۔

’’دیکھئے نا سیما باہر جا نے کو تیار نہیں ہے۔ آپ ہی سمجھایے کچھ۔ یہ لڑکی بے عزتی کرا دے گی۔‘‘

مرزا غفران، سیما کو پیار سے گلے لگا تے ہو ئیء بو لے۔

’’بیٹا۔ بس اب کی عزت رکھ دو۔ آ ئندہ ہم تم سے کچھ نہیں کہیں گے۔‘‘

سب کے سمجھا نے پر سیما نے اُٹھ کر آ نسو خشک کیے۔ ڈریسنگ ٹیبل کے سا منے کھڑے ہو کر میک اپ درست کیا۔ دوپٹہ سر پر رکھا اور آ نگن پار کرتے ہو ئے اپنے وا لد کے پیچھے پیچھے ڈرا ئنگ روم میں دا خل ہو ئی۔

’’ اسلام علیکم‘‘

سیما کے دا خلے اور سلام پر آ پس میں گفتگو میں محو لڑکے کے والد، تایا، بہنو ئی اور چھو ٹے بھا ئی خا موش سیما کی طرف دیکھنے لگے۔

’’ وعلیکم السلام‘‘

سیما خالی کرسی پر بیٹھ چکی تھی۔

اس کی نظریں زمین میں اندر گھسنے کی کوشش کررہی تھیں۔ پسینے کی بو ندیں اس کے سا رے جسم میں اُگ رہی تھیں۔

’’بیٹا آپ کیا کیا کام جانتی ہیں۔‘‘

’’ جی۔۔۔۔ گھر کے سبھی کام کرلیتی ہے‘‘مرزا غفران نے بیٹی کا ہا تھ بٹایا۔

’’ اچھا یہ بتا ئو آپ پڑھنے کے بعد جاب کرو گی یا نہیں۔‘‘

غفران صا حب جواب دینے ہی وا لے تھے کہ لڑکے کے تایا نے سیما کی طرف اشا رہ کرتے ہو ئے کہا۔

’’ ہم بیٹی سے سننا چا ہتے ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ ہاں۔۔۔۔ہاں۔۔۔ بولو بیٹا۔۔۔۔‘‘

سیما کی خا موشی طویل ہو تی جا رہی تھی۔ وہ غصے میں تھی، کسی بات کا جواب نہیں دینا چا ہتی تھی۔اُسے تو لڑکے کاکام ہی پسند نہیں تھا۔ کسی بڑی ٹیلرنگ شاپ میں کام کرتا تھا۔اوپر سے تعلیم۔۔۔۔دسویں پاس۔ وہ کسی قیمت پر حیوا نوں کی پینٹھ میں جانا نہیں چاہتی تھی۔ مگر اس سے اپنے وا لد کا غمزدہ چہرہ اور امّی کی ویران آ نکھیں نہیں دیکھی جا تی تھیں۔۔۔۔۔والدین کی آنکھوں کے سمندر خا لی پڑے تھے۔ گو یا سا را پانی خشک ہو چکا ہو۔

’’ بولو بیٹا۔۔۔۔‘‘

ایک بار پھر آواز گو نجی۔

’’ بیٹا سیما۔۔۔۔۔دیکھو انکل کیا پوچھ رہے ہیں۔۔۔۔جواب دو۔‘‘

’’ہاں۔۔۔۔ں۔۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

سیما کو کچھ پتہ نہیں تھا وہ کیا کہہ رہی ہے۔ اس کی قوت بردا شت جواب دے گئی۔ وہ اچا نک اُٹھ کھڑی ہو ئی۔پیچھے گھوم کر وہ دروا زے کے اندر غا ئب ہو گئی۔۔۔۔۔

’’بھا صا حب کیا ہوا۔؟‘‘

’’ اس کی طبیعت خراب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ اچھا آپ ایسا کریں ہما ری خوا تین کو بھیج دیں۔۔۔۔ہم چل رہے ہیں۔۔۔۔‘‘

’’ چائے ناشتہ تو کرلیجئے۔‘‘

’’نہیں ۔۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔ہمیں جلدی جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔‘‘

اتنے میںاندر سے عورتیں بھی آ گئیں۔

’’ چلئے۔۔۔۔بھئی چلئے۔۔۔۔۔‘‘

’’ اب ہم کیا اُمید رکھیں۔‘‘ غفران صا حب نے دھڑکتے دل سے مہما نوں سے پو چھا۔

’’بتا دیں گے۔۔۔۔۔ فون پر۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘بڑی بے دلی سے جواب کا پتھر آ یا۔

’’ سیما بیٹا مہمان آ گئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

مرزا غفرا ن کی آواز نے سیما کو خیالا ت کی حدود سے نکال کر حقیقت کی دنیا میں لا کھڑا کیا۔ ابھی ایک ماہ ہی تو گزرا تھا۔۱۸ ویں رشتے کے انکار کا فون آ گیا تھا۔ گھر کا ما حول کشیدہ ہو گیا تھا۔ سیما کی خفگی اور نا را ضگی کا سب کو علم تھا۔ مرزا غفران اور سلطا نہ اب اپنی بیٹی سے ڈرنے لگے تھے۔ سیما نے شا دی نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس نے پاس کے ہی اسکول میں بطور ٹیچر نو کری کرلی تھی۔خالی وقت میں اُس نے افسا نے لکھنا شروع کردیا تھا۔

۔۔۔۔

مرزا غفران اوسط درجے کے شا عر تھے۔ ان کا شہر میں فرنیچر کا شوروم تھا۔ سیما ان کی بڑی بیٹی تھی۔ نازیہ اور شا ذیہ ابھی بی اے اور انٹر میں تھیں۔ فرقان نے دسویں کے امتحان دیے تھے۔سیما پڑھنے میں بہت ذہین تھی۔ ہمیشہ اچھے نمبر لاتی۔۔۔۔اُس نے پہلے ہی طے کرلیا تھا کہ وہ اپنا میدا اُردو کو بنائے گی۔ اُردو صرف زبان ہی نہیں تہذیب بھی ہے۔جب اس نے دسویں پاس کرکے انٹر میں قدم رکھا تھا مرزا غفران اس کی اُٹھان اور جسم کے تغیرات سے فکرمند ہو نے لگے تھے۔اس کا رنگ بھی صا ف ہو گیا تھا۔جوا نی کے رنگ نے سب کچھ اپنے رنگ میں رنگ دیا تھا۔

’’بیگم اب ہما ری بیٹی جوان ہو رہی ہے۔ اس کا خیال رکھا کرو۔‘‘

’’آپ نہیں کہیں گے تو جیسے میں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہوں گی۔‘‘

’’ میں تو ابھی سے رشتے تلاش کرنا شروع کردوں گا۔ اب اچھے رشتے کہاں ملتے ہیں۔‘‘

’’میری بیٹی کے لیے رشتوں کی کوئی کمی نہ ہو گی۔ آپ ابھی اُسے پڑھنے دیں۔‘‘

’’بیگم پڑھنے کو میں منع نہیں کررہا ہوں،ہاں منا سب اور اچھا رشتہ مل گیا تو ہم جلد شا دی کردیں گے۔‘‘

’’کوئی بات نہیں ۔۔۔۔۔دیکھا جائے گا۔‘‘

۔۔۔۔

سیما کے رشتے تو بہت آ ئے۔لیکن جیسا وہ چا ہتے تھے ویسے رشتے نہیں تھے۔اس تگ و دو میں وقت کا پرندہ اۃڑتا رہا۔ سیما نے بی اے کرلیا۔ ایم اے میں داخل ہو گئی تھی۔ اس پیچ کئی رشتے آ ئے۔ کسی کو لڑکی پسند نہیں آ ئی۔۔۔۔۔۔کچھ بڑی پارٹی کی خواہش لیے گزرتے چلے گئے۔ لڑکے وا لوں کا آ نا جانا لگا رہتا۔ ضیافتیں اور دعوتیں ہوتیں رہتیں۔ سیما کو کبھی عورتوں کے درمیان ،کبھی مردوں کے بیچ۔۔۔۔۔۔۔نظروں کے تیروں سے چھلنی ہو نا پڑتا۔عجیب و غریب سوا لات کی بارش۔۔۔۔۔سیما کے ذہن میں شادی کے تعلق سے ڈر ،خوف، نفرت اور وحشت نے گھر کرنا شروع کردیا تھا۔عمر تو وقت کی ہمسفر ہو تی ہے وہ کب وفا کرتی ہے۔اپنے گزرنے کے نشا نات ثبت کرتی چلی جاتی ہے۔ سیما کے خوب رو اور دلکش سرا پے پر وقت کی لکیریں اور گزرتی عمر کے قدموں کے نشان ابھر نے لگے تھے۔بال کے ریشوں میں سفیدی حا صل کرنے کی ہو ڑ سی لگی تھی۔اکثر وہ برق رفتاری سے بڑھ کر کا لی مہندی کا بھی مسکرا تے ہو ئے مذاق اُڑا نے لگتے تھے۔اچھی خا صی ۲۷ سا لہ سیما نڈھال ہو کر کا فی بڑی لگنے لگی تھی۔

مرزا غفران اور سلطا نہ بیگم رشتوں کی سعی میں تھک چکے تھے۔۔۔۔اخرا جات کا تو کہنا ہی کیا۔۔۔۔ہر طرح سے رشتہ والوں کو لبھا نے کی کوشش کی جاتی۔۔۔۔۔اچھی خاطر توا ضع۔۔۔۔۔۔۔عمدہ کراکری۔۔۔صوفے کے دیدہ زیب کور۔پردوں کے کئی سیٹ۔۔۔غرض ہر ممکن کو شش ہو تی کہ کو ئی بات بن جائے۔۔۔۔۔ماں باپ کو ہر رشتے سے اُمید ہو تی۔شا ید خدا کو ترس آجائے۔یہی وجہ ہے کہ جب غفران صا حب کے دوست شیخ انعام نے ایک رشتے کی بابت بات کی تو مرزا صا حب کو اندھیرے میںاُمید کی کرن دکھا ئی دی۔

’’مرزا بھا ئی۔ میرے ایک دوست ہیں۔ ان کا لڑ کا سعودی عرب میں ملا زم ہے۔ چھٹی آ یا ہوا ہے۔تم کہو تو میں لڑکے کو دکھوا دوں۔۔۔۔۔بلکہ ایسا کرو۔انہیں لڑکی دکھا نے کے لیے مدعو کر لیتے ہیں۔لڑکا بھی آ جائے تو کیا حرج ہے۔ اب زمانہ بدل چکا ہے۔دونوں کو ایک دوسرے کو دیکھ لینا چا ہیے۔‘‘

’’ انعام بھائی۔۔۔۔۔تم جیسا اچھا سمجھو کر لو۔ مجھے تو یہ بتا دو تم انہیں لے کر کب آ رہے ہو؟‘‘

’’میں اُن سے بات کر کے تمہیں بتا دوں گا۔‘‘

۔۔۔۔

ایک بار پھر گھر کی صفا ئی ستھرا ئی کی گئی۔ نئے پردے لگے اور قا لین بچھوا ئے گئے۔ صوفے کے جا لی دار کور، دیوان پر بڑے پھو لوں وا لی چادر، گا ئو تکیے کا پھولدار کور۔ گلدا نوں میں نئے پلا سٹک کے پھول۔ دیوا روں پر دیدہ زیب تصا ویر کے فریم۔با ورچی خا نے میں کراکری کا نیا سیٹ۔۔۔۔۔۔۔۔طے پایا کہ پہلے خوا تین لڑکی پر نظر ڈا لیں گی اور بعد میں لڑکا اور اس کے گھر وا لے۔ سیما کو خبر ہو گئی تھی۔وہ کسی قیمت بھی اس ڈرامے کے لیے تیار نہ تھی۔۔۔۔۔۔اسے تو اب شا دی کرنی ہی نہیں تھی۔۔۔۔وہ اپنے قدموں پر کھڑا ہو نا چاہتی تھی۔۔۔۔دو ڈھائی ہزار رو پے تو اُسے مل ہی رہے تھے۔نیٹ کا امتحان پاس کر کے وہ لیکچرر بننا چاہتی تھی۔ اس کے بعد جو مقدر میں ہو گا دیکھا جائے گا۔

جب سلطانہ بیگم نے اس کو مہمانوں کے بارے میں بتایا تو وہ آ پے سے باہر ہو گئی۔

’’کیا امّی ابھی اور بے عزتی برداشت کرنے کی طا قت ہے آ پ میں‘‘

’’ نہیں بیٹا۔سب لوگ ایک جیسے نہیں ہو تے۔‘‘

’’ امّی آپ بہت معصوم ہیں۔ آپ کو نہیں پتہ۔ رشتے ناطے کے معاملے میں سب ایک جیسے ہو تے ہیں۔ مجھے بتایئے آپ نے اپنی پو ری عمر میں کو ئی شا دی ایسی دیکھی ہے جس میں لڑکے وا لوں نے جہیز نہ لیا ہو۔۔۔کیا کسی لڑ کے نے جہیز میں دی جانے وا لی بائیک اور کار واپس کردی ہو۔ یا لینے سے انکار کردیا ہو۔۔۔۔ کو ئی ایسا نہیں ہے جو مال و دولت نہیں چاہتا۔ حتیٰ کہ جہیز مخالف کمیٹی کے عہدیداران اور نام نہاد مسلم مذہبی رہنما بھی اندر اندر جہیز لیتے ہیں۔ یہ دنیا ایک بازار ہے، پینٹھ ہے جہاں لڑکیوں کی اہمیت پینٹھ کے جانوروں جیسی بھی نہیں۔ ایک شادی کے لیے نہ جا نے کتنی بار اُسے پینٹھ میں بٹھایا جاتا ہے۔سیما کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا۔جوش اور غصے سے اس کے چہرے پر تنا ئو تھا۔ اس کے جی میں آ رہا تھا کہ پورے محلے کو اکٹھا کرکے، کھری کھری سنائے۔۔۔۔۔۔نام نہاد مسلمانوں کو بتا ئے کہ یہ عہد دورِ جاہلییت سے کم نہیں ہے۔وہاں لڑکیوں کو زندہ ماردیا کرتے تھے۔ یہاں مرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔یہی نہیںیہاں ماں باپ کو چلتی پھرتی لاش بنا دیا جاتا ہے۔‘‘

۔۔۔۔

’’بیٹا سیما۔۔۔۔آئو مہمان آ گئے ہیں۔‘‘ ابو کی آواز کے درد میں ڈو بی التجا نے سیما کو توڑ کر رکھ دیا۔ وہ اپنے وا لد کا چہرہ دیکھتی تو ڈر جاتی۔ ایک بیٹی کا غم کتنا بڑا غم ہو تا ہے۔ باپ کے مضبوط شا نے جھک جاتے ہیں۔ چہرے پر پژ مردگی چھا جاتی ہے۔عمر کے نقوش گہرے ہو تے جاتے ہیں۔ اس کے وا لد وقت سے پہلے بو ڑھے لگنے لگے تھے۔ اُسے اپنے ابو سے بہت محبت تھی۔ وہ ان سے کہہ چکی تھی کہ انہیں چھوڑ کر نہیں جائے گی۔

وا لد کی عزت کی خا طر وہ مہمان خوا تین کے درمیان پا نی لے کر حا ضر تھی

’’بیٹھ جا ئو بیٹے‘‘

سیما نے خود کو کرسی کے حوا لے کردیا۔‘‘

’’ بیٹے آج کل کیا کررہی ہو‘‘؟

ایک عورت نے سوال کیا ۔ساری عورتیں سیما کو غور سے دیکھ رہی تھیں۔ سر سے لے کر پا ئوں تک، لباس، رنگ، قد، شرم و حیا۔ ہر چیز کا بخوبی جائزہ لیا جارہا تھا۔ گو یا پینٹھ میں جانور کو ہر طرح سے پرکھا جارہا ہو۔

’’ جی میں ایک اسکول میں پڑھا رہی ہوں اور دلّی یو نیورسٹی سے پی ایچ ڈی بھی کررہی ہوں۔‘‘

’’ اتنا پڑھ کر کیا کرو گی؟‘‘

’’آپ کے بیٹے اور آپ کو پڑھا ئوں گی مار مار کر‘‘

سیما غصے میں کہنا چاہتی تھی لیکن لفظوں کے سا منے وا لدین نے عزت کے پہرے بٹھا رکھے تھے۔

’’ کوئی جاب کر لوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘

’’ہمیں تو لڑکیوں کا جاب کرنا پسند نہیں۔‘‘

’’آپ لوگ جیسا چا ہیں گے بیٹی ویسا ہی کرے گی‘‘سلطانہ بیگم بیچ میں بول پڑیں۔

عورتوں نے سیما کو چلا پھرا کر دیکھا اور پاس کردیا۔ خوشی کی لہر سلطا نہ بیگم کے چہرے پر ادھر سے ادھر دوڑتی پھر رہی تھی۔انہوں نے مرزا صا حب کو بھی خو شی کا حصہ دار بنا لیا۔اب مردانے میں نا شتے کی تیاری تھی۔۔۔۔۔

جیسے ہی سیما ڈرا ئنگ روم میں داخل ہو ئی سب کی نظریں اس پر ٹوٹ پڑیں،گو یا اچا نک کسی نے ٹارچ کی تیز روشنی چہرے پر ڈال دی ہو۔ شرم اور غصے کی ملی جلی اُبٹن چہرے پر ملتے ہو ئے نظروں نے زمین کا رُخ کرلیا۔ وا لد کے کہنے پر وہ کرسی کا حصہ بن چکی تھی۔

’’ماشا ء اللہ۔۔۔۔۔بیٹا ذرا چہرہ تو اُٹھا ئو۔۔۔۔۔۔‘‘

کسی کی آوازبلند ہو ئی۔ سیما کی حا لت تو کا ٹو تو لہو نہیں، وا لی تھی۔پو ری قوت سے نظریں اُ ٹھا نے کی کوشش کے باوجود وہ نظر نہیں اُٹھا سکی۔ جی میں آ یا کہنے وا لے کا منھ نو چ لے۔

’’ شرما رہی ہیں۔۔۔۔۔۔‘‘

لڑکے کے چھو ٹے بھا ئی نے شو خی سے کہا۔

شیخ انعام نے لڑکے کے والد سے آ نکھوں آ نکھوں میں کچھ اشا رے سے دریافت کیا۔ مثبت جواب کے بعد وہ مرزا صاحب کی طرف مخاطب ہو کر بولے۔

’’بھئی لڑ کے لڑکی کو ایک دوسرے سے بات کر نے دو ۔شا دی ان کو کر نی ہے۔ہم سب دوسرے کمرے میں چلتے ہیں۔‘‘

مرزا صا حب دوسرے کمرے کی طرف جا تے ہوئے خوش تھے ۔ انہیں اُمید تھی یہ رشتہ طے ہو جائے گا۔

۔۔۔

کمرے میں لڑکا تھا اور ڈری ،سہمی ،گھبرا ئی اور شرمائی اپنے آ پ کو سیما ئوں میں سمیٹتے ہو ئے سیما تھی۔اُسے امید نہیں تھی کہ اچا نک ایسے معا ملات پیش آ جائیں گے۔اس میں تو گویا دم ہی نہ رہا تھا۔

’’آپ کا کیا نام ہے؟‘‘لڑ کے کے لہجے میں ترنم تھا۔

’’جی۔۔۔۔‘‘سیما کی آواز حلق میں اٹک رہی تھی۔ وہ چونک پڑی۔

’’ میں نے پو چھا آپ کا نام کیا ہے؟‘‘

’’سی۔۔۔۔۔سی۔۔۔۔۔۔۔ما۔۔۔۔‘‘

’’گھبرا ئو نہیں سیما۔۔۔۔‘‘

’’آج کل کیا کررہی ہو؟‘‘

’’جی! پڑھا تی ہو ں اور پی ایچ ڈی کررہی ہوں۔‘‘

’’ریلیکس ہو کر بات کریں‘‘لڑکے نے کچھ رو مانی انداز اختیار کرتے ہو ئے کہا۔

’’جی۔۔۔۔۔۔۔‘‘سیما تو اپنی شرم و حیا کی حدود میں ہی قید تھی۔

’’مجھے نوکری وا لی لڑکیاں اچھی نہیں لگتیں‘‘

خاموشی۔۔۔۔۔۔سیما کا پا رہ چڑھ رہا تھا۔

’’سنا ہے آپ کے کئی رشتے ٹوٹ چکے ہیں۔‘‘

’’آپ نے غلط سنا ہے۔۔۔۔۔‘‘سیما اُبل پڑی ،اس کی غیرت کو للکا را گیا تھا۔

’’آپ کی تاریخ پیدا ئش کیا ہے؟‘‘

’’اچھا چھوڑیے با یو ڈا ٹا تو ہوگا؟‘‘لڑکے نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔

’’ میں آپ سے ایک سوال پو چھوں ۔۔۔؟‘‘سیما نے شرم و حیا کی سیما ئوں سے با ہر آ تے ہو ئے پو چھا ۔اُس کے اندر کا طوفان ،کنارے توڑ کر باہر آ نے کو بیتاب تھا۔

’’جی۔۔۔‘‘

’’آپ کی تعلیم کیا ہے؟‘‘سیما کی ہمت دیکھنے لائق تھی۔

لڑکا گھبرا گیا۔

’’جی ، وہ گھر کے حا لات ایسے ہو گئے تھے کہ مجھے انٹر کے بعد ہی سعودی عرب جانا پڑ گیا تھا۔‘‘

’’کو ئی بات نہیں۔ ایسا ہو جا تا ہے،آپ کام کیا کرتے ہیںاورآ پ کا عہدہ کیا ہے؟‘‘

’’آپ یہ کیوں پوچھ رہی ہیں؟‘‘سوا لوں کی بو چھار سے پریشان لڑکے کو غصہ آ گیا تھا۔

’’آپ کو بتا نے میںکوئی اعتراض ہے۔۔۔۔؟‘‘

’’میں وہاں ٹمبر ٹریڈنگ کمپنی میں ملا زم ہوں۔‘‘لڑ کے نے بمشکل تمام اپنی بات پو ری کی۔

’’آپ نے پھر اپنا کام نہیں بتایا۔۔۔آپ کس عہدے پر ہیں اور کیا کام کرتے ہیں ؟‘‘

’’آپ کو عہدے سے شادی کر نی ہے یا مجھ سے؟‘‘لڑ کا کھسیا گیا تھا اور غصے سے لال ہو رہا تھا۔

’’آپ مجھے ادھر اُدھر کیوں گھما رہے ہیں؟‘‘

’’میں کمپنی میں سینئر کار پینٹر ہوں!‘‘

سیما کے دماغ میں بجلی کا سا دھماکہ ہوا گویا ٹرانسفارمر ایک دھماکہ کے سا تھ جل کر بجھ گیا ہو۔اس کے دما غ میں مہمان عورتوں کی پسندیدگی، مردوں کا اظہار خو شی ، وا لدین کے خوش رو چہرے ،اپنی تعلیم ، نوکری، مستقبل کے خواب، لڑکے کا غرور و تکبر، مرد ذات کی برتری۔۔۔۔جیسے الفاظ و جذبات کا میلہ لگا تھا۔اُسے فیصلہ کرنا تھا۔اس کے اندر خود

اعتمادی،ہمت،جرأت اور حوصلہ ۔۔۔سبھی چلے آ ئے تھے۔

’’سینئر کار پینٹر صا حب !آپ غلط پینٹھ میں آ گئے ہیں۔‘‘

سیما نے ایک ایک لفظ کو رُک رُک کر صاف تلفظ کے ساتھ ادا کیا اور اپنے اعتماد سے لبریز قدم اُٹھا تی ہو ئی آنگن میں کھلنے وا لے دروا زے کی طرف بڑھ گئی۔ اس وقت اسے ایسا لگ رہا تھا گویا وہ کسی پینٹھ میں ہے اور بو لی لگانے وا لے کی بولی لگا چکی ہے۔

۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے