سر ورق / ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔

اک پری وش اور پریا شاعرہ

تحریر ۔۔خالد دانش

مشتاق عاجز ( اٹک سٹی) کا سنسکرت زبان میں اک شعر۔۔۔ناز عارف کی نذر کرتا ھوں۔۔

قول وچن کی سچی پکی،بول امر انمول

متر امتر کی پیاس بجھائیں امرت جیسے بول

ناز عارف ناز کا کہنا ھے کہ۔۔۔محبتیں سمیٹتے سمیٹتے میرا بچپن لڑکپن کو پہنچا تو میں نے اپنا آپ رنگ و نور و نکہت میں گھرا پایا۔۔بصارتوں پر منکشف ھونے والا ھر منظر ھرا بھرا اورشاداب تھا اور ھر ملنے والا چہرہ تر و تازہ اور کھلا کھلا سا ملا،سماعتوں کو چھوتی تمام آوازیں اور صدائیں شبنم و شمیم تھیں۔۔میرے خانوادے کا ھر بزرگ ھر جوان شعر و سخن کی آبرو کا محافظ تھا،لفظوں کی حرمت کا پاسدار تھا،ترسیل محبت انکا شیوہ اور اقدار کی پاسداری انکا نصب العین تھا۔۔۔۔

راقم الحروف کے نزدیک ناز عارف ناز تخلیقی ذہن اور فعال شخصیت کی مالک ہیں،سچی اور بے باک شاعرہ جس کے ھر کلام سے خلوص کی مہک اٹھتی محسوس ھوتی ھے۔۔ایسا ھر گز ممکن نہیں ہے کہ۔۔ناز عارف ناز کی شاعری پڑھکر یا سن کر اسکے کلام کی تمکنت،ٹہراو اور لہجے کی شائستگی سے قاری اور سامع متاثر نہ ھو بلکہ اسیر ھونا یقینی ھے۔۔۔۔

آپ حضرات کی خدمت میں ناز عارف ناز کا عود و عنبر میں رچا کلام پیش کرتا ہوں کہ۔۔

آپ  اپنی  مثا ل  ر کھتی  ہوں….!!

میں بھی حسن وجمال رکھتی ہوں

 سہتی رہتی ہوں سارے غم ہنس کر

حوصلہ  بھی  کمال  رکھتی  ہوں

منسلک ہیں جو میری ذات کیساتھ

میں  سبھی کا  خیال  رکھتی  ہوں

پاس  دولت  نہیں  زیادہ  میرے…!!

ہاں…، مگر حسب حال رکھتی ہوں

      بہت ممکن ھے کہ میری طرح ھر قاری ناز کی شاعری کے روشن پہلوؤں سے اپنی آنکھوں میں خلوص و وفا کے چراغ روشن کرے اور پھر چراغ سے چراغ روشن ھوتے چلے جائیں۔۔۔۔

ناز عارف ناز کی ایک اضطراب میں ڈوبی غزل سے چند اشعار پیش خدمت ہیں۔۔

شدت درد میں آواز چلی جاتی ھے

ایسے عالم میں کہاں بات چلی جاتی ھے

ھر کوئی پڑھ ہی نہیں سکتا محبت کی کتاب

دل کی آنکھوں سے یہ تحریر پڑھی جاتی ھے۔۔

شاعری میں کمال ملکہ رکھنے والی ناز عارف ناز اپنی ذات میں حسن کا بیکراں سمندر سموئے ھوئے ھے۔۔ناز کی وضع قطع پر اتنا کہنا چاھوں گا کہ۔۔جس طرح یونانی اساطیر میں زہرہ سیارے کو حسن کی دیوی کہا جاتا رھا ھے تم اسی کے مصداق ھو۔۔

ایک شاعرہ کے لئے حسن و جمال کی کشش کا ادراک ھونا مسلم ھے۔۔دامن میں سمٹی محبتیں،رنگ،نور،روشنیاں اور خوشبو اسکی دسترس میں رہتی ہیں مگر ہجر کی سسکیاں اور درد و الم سے بھی چولی دامن کا ساتھ رہتا ھے۔۔جہاں شاعرہ گلاب چہروں اور مہکتی سانسوں کا لمس محسوس کرتی ھے وہیں کرب کو طرب کرنے کا حوصلہ بھی ملتا ھے۔

ناز عارف ناز کا کہنا ھےکہ۔۔ایک شاعرہ کی حیثیت سے سالہا سال عالم بے خودی میں گزر گئے۔۔اپنے مصرعے گنگناتے اور جید شعراء اور اساتذہ کا کلام آنکھوں سے دل میں سموتے ھوئے کئی زمانے بیت گئے مگر۔۔میں آج بھی ادراک و آگہی کے جنگلوں میں آبلہ پائی کر رہی ھوں کہ کاش۔۔شاعری میں نور کا سایہ اوڑھ کر،خوشبو کا ھاتھ تھام کر،ہجر و وصال کی کیفیت سے گزرتے ہوئے کچھ علم حاصل کر سکوں۔۔۔

راقم کے نزدیک شاعری میں تخلیقی سوچ کا عنصر ایک وجدانی عمل ھے اور وجدان اپنے نفس کی سیر کا جمالیاتی نام ھے۔جمالیات کی پرکشش تاثیریں جب اپنے معمول پر کمند پھینکتی ہیں تو وہ شاعر یا شاعرہ بن کر خود کو منوانے کے لئے پر تولنے لگتے ہیں۔۔جیسا کہ ناز عارف ناز صاحبہ ہیں۔۔۔

ناز عارف ناز سے شرف گفتگو حاصل ھونے کے بعد راقم الحروف اپنی کم علمی کے اعتبار سے جو نتیجہ اخذ کر سکا وہ کچھ یوں ھے کہ۔۔

ناز عارف ناز بے مہر ساعتوں کو اپنے سچے جذبوں کی بھٹی میں ریاضت و لگن کے ایندھن سے پہنچ کر لفظوں کی مالا پروتی چلی آ رہی ہیں پھر وہ کلام قاری و سامع کو ہر حال میں انجانی مسرتوں سے آشنا کرتا دکھائی دیتا ہے۔۔۔

اگر ناز عارف ناز کو سچے جذبوں کی تر و تازہ اور توانا آواز کہوں تو یہی نقارہ حق ھے۔۔۔

میری دعا ھے کہ۔۔ناز عارف ناز کا یہ علمی سفر کامیابیوں سے ھمکنار ھو آمین۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دشت کے پار سمندر بھی ہوا کرتے ہیں۔ عادل رضا منصوری، جے پور، راجستھان

دشت کے پار سمندر بھی ہوا کرتے ہیں۔ عادل رضا منصوری، جے پور، راجستھان شاعری  اور کچھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے