سر ورق / شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 3 آخری قسط

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 3 آخری قسط

شہر دل کے باسی

نفیسہ سعید

قسط نمبر 3

آخری قسط

”دیکھو پلوشہ! اب میں تمہارا انکار نہیں سنوں گی۔ تمہیں ہر حال میں میری سالگرہ کا فنکشن اٹینڈ کرنا ہی ہو گا۔“ سبرینہ نے حتمی طور پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا۔

”لیکن سبین….“

”نو لیکن ویکن بس آج اور ابھی فیصلہ کر وہاں یا ناں اگر ہاں تو ٹھیک ہے اور اگر تمہارا فیصلہ ناں ہے تو پھر سوری۔ میری اور تمہاری دوستی کا یہ سفر بھی یہیں ختم ہو جائے گا کیونکہ اب میں مزید کسی ایسی لڑکی سے دوستی کی متحمل نہیں ہو سکتی جو خود اور اس کے گھر والے مجھے قابل بھروسہ نہ سمجھتے ہوں۔“

وہ ذرا کی ذرا سانس لینے کو رکی۔

”ٹو بی ویری فرینک یار! اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں کوئی خراب لڑکی ہوں جس کی بنا پر تم مجھے اپنے گھر والوں سے متعارف کرواتے ہوئے گھبرا رہی ہو یا شاید تمہارے گھر والے تمہاری اور میری دوستی کو پسند نہیں کرتے تو ایز یو وش اپنی اور میری دوستی کے چیپٹر کو یہیں کلوز کر دو۔“

جانے کیوں آج اسے خوامخواہ ہی پلوشہ سے انکار سن کر غصہ سا آگیا ورنہ وہ ہمیشہ اس کی مجبوری کو با آسانی سمجھ جایا کرتی تھی اور اب پلوشہ کےلئے بھی انکار کی مزید گنجائش باقی نہ بچی تھی، اسی بات پر کچھ سوچتے ہوئے اس نے پوچھا۔

”ٹھیک ہے یار! کیوں ناراض ہوتی ہو، یہ بتاﺅ پارٹی کا ٹائم کیا ہے؟“

”بالآخر وہ ہار مان ہی گئی کیونکہ اپنے گھر والوں کی فضول سی ضد کے سبب وہ اپنی اتنی اچھی دوست کو ناراض نہ کر سکتی تھی۔

”پارٹی تو لیٹ نائٹ تک چلے گی لیکن میں تمہیں زیادہ دیر تک نہیں روکوں گی۔“ پلوشہ اس کی رضا مندی سے خوش ہو گئی اور وہ جلدی جلدی اپنا پروگرام ترتیب دیتے ہوئے بولی۔

”میں سمجھی نہیں….“

”بھئی دیکھو، ایسا کرتے ہیں۔ کل کالج میں فن فیئر ہے۔ تم گھر والوں کو بتا کر آنا کہ لیٹ آﺅ گی کل ہم صبح کالج سے بھائی کے ساتھ گھر چلے جائیں گے۔ میں شام میں برتھ ڈے کا کیک کاٹنے کے بعد جلد ہی میں تمہاری وین کے آنے تک تمہیں واپس کالج چھوڑ دوں گی۔ اس طرح تمہارے گھر والوں کو بھی علم نہ ہو گا اور میری برتھ ڈے پر ہونے والی تمہاری کمی بھی پوری ہو جائے گی۔“

”چلو ٹھیک ہے یہ زیادہ صحیح رہے گا۔“ وہ با آسانی مان گئی کیونکہ اسے اس تمام عمل میں کوئی قباحت نظر نہ آرہی تھی۔

”گڈ یار! تم نے تو آج میرا دل خوش کر دیا۔“ سبرینہ خوشی سے چلا اٹھی ”تم جان نہیں سکتیں تمہارے اس اقرار نے مجھے کتنا مان دیا ہے۔ شکریہ میری اچھی دوست اس بھروسہ کا جو تم نے مجھ پر کیا۔“

”وہ تو ٹھیک ہے سبین! لیکن خیال رہے یہ بات کالج میں کسی کو پتا نہ چلے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ وریشہ کے ذریعے یہ خبر میرے گھر تک پہنچ جائے۔“ وہ خدشہ ظاہر کرتے ہوئے بولی۔

”اچھا ہوا، تم نے خود ہی کہہ دیا ورنہ میں تو تمہیں خود منع کرنے والی تھی کہ اس بات کا ذکر کالج میں کسی سے نہ کرنا ویسے بھی کل کالج میں فن فیئر ہے۔ آل ریڈی تم نے گھر کے کپڑوں میں ہی آنا ہے لہٰذا تمہارے میرے ساتھ جانے کا علم کسی کو بھی نہ ہو گا ٹھیک ہے نا۔“

”ہاں ٹھیک ہے۔“ وہ مزید مطمئن ہو گئی۔

QQQQ

ساری رات اس کے ذہن پر سبرینہ ہی سوار رہی، اس کے گھر جانے کی خوشی کے ساتھ ساتھ ایک انجانے سے خوف نے بھی اسے گھیرے رکھا۔

اگر جو بالاج یا امی کو پتا چل گیا کہ میں کالج سے کہیں گئی تھی تو کیا ہو گا؟ وہ سبرینہ کی چار دن کی دوستی کی خاطر اپنے گھر والوں کی محبت، پیار اور اعتماد کو دھوکا دینے چلی تھی، جس کا احساس اسے ابھی نہ تھا اس نے رات ہی چپکے چپکے اپنا سوٹ استری کرکے ہینگ کر دیا تھا۔ میچنگ کی جیولری اپنے ہینڈ بیگ میں چھپا کر رکھ لی تھی تاکہ کالج جا کر پہن سکے، صبح جلدی جلدی اٹھ کر وہ خوب اچھی طرح تیار ہوئی لیکن جیسے ہی وہ ناشتے کےلئے کچن میں داخل ہوئی، امی کی تنقیدی نگاہوں سے نہ بچ سکی۔

”اپنی لپ اسٹک کا کلر ہلکا کرو او یہ تم فن فیئر میں جا رہی ہو یا کسی فیشن شو میں شرکت کیلئے۔ کیا ضرورت تھی اتنا بھاری سوٹ پہننے کی، جاﺅ جا کر کوئی کاٹن کا سوٹ پہنو۔“

حالانکہ وہ وین آنے سے تقریباً پندرہ منٹ قبل ہی باہر آئی تھی تاکہ جلدی جلدی میں امی کی نگاہوں کی زد سے بچ سکے لیکن ایسا ناممکن تھا۔ پلوشہ نے بے بسی سے اپنی ماں کو دیکھا اور دوسری نظر اپنے بلیک جار جٹ کے کڑھائی والے سوٹ پر ڈالی جو اتنا بھی قیمتی اور بھاری نہ تھا جتنا لبنیٰ نے جتا دیا تھا لیکن اس کا ارادہ اس لباس کو تبدیل کرنے نہ تھا۔ اسی لئے خاموشی سے ناشتہ کرنے کیلئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔ وہ اس وقت لبنیٰ کو کوئی جواب بھی نہ دینا چاہتی تھی، کیونکہ اسے اندازہ تھا کہ اس اس کی امی غصہ میں آگئیں تو شاید آج وہ فن فیئر کیلئے گھر سے ہی نہ نکل سکے۔

”ارے تم نے ابھی تک کپڑے تبدیل نہیں کئے؟“

چائے لے کر کچن سے واپس آتی لبنیٰ کی نظر جیسے ہی پلوشہ پر پڑی غصہ سے ان کی بھنویں تن گئیں اور انہوں نے سخت لہجہ میں اسے مخاطب کیا۔

”جی امی! جا رہی ہوں کپڑے تبدیل کرنے۔“

اس کی مری مری آواز حلق سے برآمد ہوئی، کیونکہ اب ناگزیر تھا۔ اسی لئے وہ خاموشی سے کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی کہ اچانک ہی قدرت کو اس پر رحم آگیا اور باہر تیز ہارن کی آواز سنائی دی، جسے سنتے ہی اس نے ایک بے بس سی نگاہ لبنیٰ کے سخت چہرے پر ڈالی۔بات لبنیٰ کی سمجھ میں بھی آہی گئی۔ بالاج پچھلے دو دن سے اسلام آباد گیا ہوا تھا۔ اب جو اگر وین چلی جاتی تو لازماً پلوشہ کو کالج سے چھٹی کرنا پڑتی جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ فن فیئر میں شریک نہ ہو سکتی تھی اور فن فیئر میں شرکت کی جو خوشی اس لمحہ انہیں پلوشہ کے چہرے پر نظر آرہی تھی، وہ اسے خراب نہ کرنا چاہتی تھیں۔ اس لئے ہی مجبور ہو گئیں۔

”چلو ٹھیک ہے، آج تو چلی جاﺅ، لیکن آئندہ احتیاط کرنا اور دوپٹہ اسے سر پر اوڑھو۔“

اس کے گیٹ سے باہر نکلنے تک پیچھے سے لبنیٰ کی نصیحت آمیز آواز اسے سنائی دیتی رہی، جسے سن کر نظر انداز کرکے وہ ویں میں سوار ہو گئی اور سارا راستہ اپنی دوست کے گھر گزارے جانے والے ایک بہترین دن کا تصور لے کر وہ کالج گیٹ کے سامنے اتر گئی جیسے ہی وہ گیٹ پار کرکے اندر داخل ہوئی، پہلی ہی نگاہ سامنے کھڑی سبرینہ پر پڑی جو غالباً گھر کے عام سے کپڑوں میں ملبوس تھی۔ ٹراﺅزر کے ساتھ شرٹ اور دوپٹہ ندارد دیکھتے ہی وہ تیزی سے آگے بڑھی۔

”شکر ہے خدا کا، تم آگئیں، چلو آجاﺅ جلدی کرو، چلیں۔“

”ارے اتنی صبح صبح، کچھ دیر صبر تو کرو، ہم پہلے تھوڑا سا فن فیئر تو انجوائے کر لیں، پھر چلتے ہیں۔“

جانے کیوں سبرینہ کے لہجے نے پلوشہ کو خائف سا کر دیا اور وہ یکدم ہی پریشان سی ہو اٹھی۔ اسے احساس ہوا کہ شاید وہ کچھ غلط کرنے جا رہی ہے۔

”نہیں یار! میں تو سچ میں ناشتہ بھی نہیں کرکے آئی۔ پلیز چلو، بہت بھوک لگی ہے۔“

سبرینہ نے لجاجت سے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام لیا اور چند لمحے پہلے دل میں پیدا ہونے والا احساس بھی خود بخود معدوم ہو گیا۔ وہ دونوں کالج گیٹ سے باہر آگئیں، جہاں سبرینہ کی گاڑی ڈرائیور سمیت موجود تھی۔

گاڑی میں بیٹھنے سے قبل ایک بار تو پلوشہ کا دل چاہا کہ سبرینہ کے ساتھ اس کے گھر نہ جائے۔ جانے کیوں اس کا دل گھبرا رہا تھا۔ سبرینہ گاڑی میں بیٹھتے ہی اپنے سیل کے ہیڈ فون کانوں میں لگا کر آس پاس سے بے خبر ہو چکی تھی اور پھر اسی خاموشی میں سبرینہ کے گھر کا فاصلہ طے ہو گیا اور اگلے دس، پندرہ منٹ تک وہ اس کے گھر پہنچ چکی تھی، داخلی دروازے سے اندر لاﺅنج میں داخل ہوئی اور سامنے نظر آنے والی قیمتی فرنیچر اور آرائشی سامان نے اسے گنگ سا کر دیا۔

”مما آگئی ہیں؟“ سبرینہ نے کچن میں داخل ہو کر غالباً اندر موجود کسی ملازمہ سے سوال کیا جبکہ وہ وہیں لاﺅنج میں ہی کھڑی تھی۔

جی بی بی جی! ابھی ابھی آئی ہےں اور اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی ہیں۔ ملازمہ کی جوابی وضاحت اس کے کانوں سے ٹکرائی۔

”جسٹ آمنٹ پلوشہ! تم یہاں بیٹھو، میں مام سے مل کر آﺅں، دراصل آج ہی دبئی سے واپس آئی ہیں۔“

کچن سے عجلت میں نکل کر اسے صوفہ پر بٹھا کر وہ تیزی سے سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گئی، وہ سارے ٹی وی لاﺅنج کا تفصیلی جائزہ ہی لے رہی تھی کہ سبرینہ واپس آگئی۔

اس کے ساتھ اس کی مام بھی تھیں، بے حد اسٹائلش کندھوں پر آتے گولڈن بال، سلیو لیس ٹاپ اور کیپری کے ساتھ وہ کہیں سے بھی ایک جواں سال بیٹی کی ماں نظر نہ آرہی تھیں، انہیں اس قدر ویل ڈریسڈ دیکھ کر یکدم پلوشہ کے ذہن میں اپنی سادہ سی گھریلو حلیے والی ماں کا تصور آگیا، خدایا کس قدر فرق ہے میری امی اور سبرینہ کی مام میں۔

”مام! میٹ ہر، شی ازمائی بیسٹ فرینڈ پلوشہ۔“

”السلام علیکم….“ جائزہ لیتی لیتی وہ یکدم گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔

”ارے بیٹھو بیٹی۔ میں تو صرف تمہیں دیکھنے آئی تھی۔ دراصل میری بیٹی تمہارے حسن کی بہت شیدائی ہے۔“

تعریف کا عجیب سا انداز سب کچھ نارمل ہوتے ہوئے بھی پلوشہ کے ذہن کو الجھا سا گیا۔ جانے کیوں ان کے بولنے سے زیادہ دیکھنے کا انداز پلوشہ کو ڈسٹرب کر رہا تھا۔

”سبرینہ! تمہاری دوست تو واقعی بہت ہی پیاری ہے، بس ذرا سی سیدھی ہے، ورنہ آج اپنے حسن کے زور پر دنیا کو اپنی انگلیوں پر نچا رہی ہوتی۔“

وہ اس کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے ذرا سا ہنس کر بولیں جبکہ پلوشہ کا چہرہ ان کی تعریف سے سرخ سا پڑ گیا۔

”اوکے ریا بیٹا! انجوائے یور سلف، میں اب آرام کروں گی۔“ اوپر جاتے جاتے ہاتھ میں پکڑا سگار اپنے لائٹر سے جلا کر انہوں نے ہونٹوں سے لگا لیا۔

اور ہاں ریا! ملازمہ کو لنچ کیلئے بتا دینا۔“

”اوکے مام….“

”تمہاری امی سگریٹ پیتی ہیں؟“ وہ قدرے حیران تھی، کیونکہ ان کی فیملی میں مردوں کی بھی سگریٹ نوشی پسند نہ کی جاتی تھی۔

”ہاں کیوں؟“ اس کے سوال نے سبرینہ کو حیران سا کر دیا اور اس نے کندھے اچکاتے ہوئے دریافت کیا۔

”بس۔ ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔“

”چلو آﺅ میرے کمرے میں چلیں، شہناز میرے کمرے میں جوس کے دو گلاس لے آﺅ، پھر اچھا سا ناشتہ بنا دینا۔“

پلوشہ سے کہتے ہوئے ساتھ ہی اس نے ملازمہ کو بھی ہدایت دی اور آگے کی جانب چل دی، پلوشہ بھی اپنا ہینڈ بیگ اٹھا کر خاموشی سے اس کے ساتھ ہو لی، سبرینہ کا کمرا بھی باقی گھر کی طرح بے حد خوبصورت تھا، ابھی وہ کمرے کا جائزہ ہی لے رہی تھی کہ ملازمہ جوس لے کر آگئی جو اس نے کمرے میں موجود ٹیبل پر رکھ دیئے اور خاموشی سے واپس پلٹ گئی، وہ سکڑی سمٹی سی بیڈ کے کونے پر ٹک گئی جبکہ سبرینہ نے اپنا ہوم تھیٹر آن کر دیا۔ اتنی بڑی اسکرین شاید نہیں بلکہ یقینا اس نے آج زندگی میں پہلی بار دیکھی تھی۔ سبرینہ نے جوس کا گلاس اسے تھما دیا۔ بے حد خوبصورت کرسٹل کے بلوریں گلاس سے گھونٹ گھونٹ جوس اس کے حلق میں اترنے لگا۔ سبرینہ جانے الماری کھولے کیا نکال رہی تھی۔

”تم ذرا بیٹھو، میں ملازمہ کو ناشتہ اور لنچ کا کہہ آﺅں۔ ریلیکس ہو کر بیٹھو یار۔ اتنا گھبرا کیوں رہی ہو؟“

وہ تیزی سے باہر جاتے جاتے واپس پلٹی۔

”ذرا اپنا دوپٹہ دے دینا، یہ وقت میرے دادا کے واک سے واپس آنے کا ہے، اگر انہوں نے مجھے اس حلیے میں دیکھ لیا نا تو نہ پوچھو میرا کیا حشر ہو گا۔“

اس نے خاموشی سے اپنا دوپٹہ اتار کر اسے تھما دیا اور خود ریلیکس سی ہو کر بیڈ کے کراﺅن سے ٹیک لگا کر قریب رکھا ریموٹ اٹھا لیا اور مختلف چینل سرچ کرنے لگی، جانے سبرینہ کو گئے کتنا وقت ہو گیا تھا، اسے ٹی وی دیکھتے ہوئے احساس ہی نہ ہوا، لیکن اتنا ضرور ہوا کہ کمرے کے پرسکون ماحول میں اسے نیند سی آنے لگی، جانے کیوں اس کی آنکھیں بند سی ہو رہی تھیں جنہیں وہ بمشکل کھول رہی تھی کہ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی، غالباً سبرینہ واپس آئی تھی، وہ اسی بے فکری سے ٹی وی اسکرین کی جانب دیکھتے ہوئے بے فکری سے لیٹی رہی۔

”سبرینہ کہاں ہے؟“ اچانک ہی کانوں سے ٹکرانے والی مردانہ آواز سن کر وہ کرنٹ کھا کر پلٹی، ادھر ادھر ہاتھ مارا، یاد آیا دوپٹہ تو سبرینہ لے گئی، وہ یکدم شرمندہ ہو گئی، کیونکہ سامنے دکھائی دینے والا مرد صرف ایک ٹراﺅزر میں ملبوس تھا اور واش روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔

”دراصل میرے واش روم میں گرم پانی نہیں آرہا تھا، اسی لئے ریا کا واش روم استعمال کرنا پڑا۔ وہ قدرے وضاحت سے بولا۔

اس سے قبل کہ وہ کوئی جواب دیتی، اسے غنودگی کا زور دار جھٹکا سا لگا اور اس کے گرنے سے قبل ہی سامنے کھڑے اجنبی مرد نے اسے تھام لیا۔

”آر یو اوکے۔“ وہ اس پر جھکاتا ہوا دریافت کر رہا تھا، پلوشہ نے چاہا کہ خود کو چھڑوائے لیکن اس کا جسم بے جان ہو چکا تھا۔

”لگتا ہے تمہاری طبیعت خراب ہے۔“

اسے خود سے قریب کرتے ہوئے وہ کان میں بولا۔ پلوشہ کے جسم میں کپکپی سی دوڑ گئی۔ اس نے چاہا کہ وہ دھکا دے کر اس اجنبی کو خود سے دور کر دے، لیکن جانے کیوں اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس انجان مرد کے جسم سے آتی بھینی بھینی کلون کی خوشبو نے اسے مدہوش کر دیا ہے۔

”پلیز مجھے چھوڑ دو۔“ خود کو چھڑانے کیلئے ناکام سی مزاحمت کرتے ہوئے وہ مدھم سی آواز میں بولی۔

”چھوڑ دیتا ہوں یار! لیکن ایک بات ہے تم جو کوئی بھی ہو، چیز قیامت کی ہو۔“

وہ اسے خود سے قریب کرتا ہوا بولا۔

”میرا خیال ہے تمہاری طبیعت خراب ہو رہی ہے تم یہاں لیٹو، میں ریا کو بلا کر لاتا ہوں۔“ اسے ساتھ ساتھ لگائے وہ بیڈ کے قریب پہنچ گیا۔ وہ چکراتے سر کے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس کا سرجانے کیوں بھاری بھاری ہو رہا نیند بری طرح اس پر غلبہ پا چکی تھی، شاید میرا بلڈ پریشر لو ہو رہا ہے یا پھر رات کی بے آرامی…. اس سے زیادہ وہ نہ سوچ سکی، کیونکہ اس کا ذہن سن ہو چکا تھا۔

”پلوشہ…. پلوشہ۔“ وہ بارش میں بھیگ رہی تھی اور ٹھنڈک بری طرح اس کے رگ و پے میں سرائیت کر چکی، جب اسے محسوس ہوا کوئی اسے پکار رہا ہے، ایسے میں اچانک ہی بجلی کی تیز چمک سے وہ گھبرا اٹھی اور ایک تیز چیخ کے ساتھ اس کی آنکھ کھل گئی، پہلے تو اس کی سمجھ ہی میں نہ آیا کہ وہ کہاں ہے پھر جیسے ہی اس کا ذہن بیدار ہوا آہستہ آہستہ اسے سب کچھ یاد آگیا، وہ تیزی سے اٹھ بیٹھی۔ اس کے پاس ہی سبرینہ بیٹھی تھی پانی کا پیالہ لے کر جو شاید اسے ہوش میں لانے کیلئے استعمال کیا گیا تھا اسے کپکپاہٹ محسوس ہو رہی تھی۔

”شکر ہے، تمہیں ہوش آگیا، ورنہ میں تو ڈر گئی تھی۔“

سبرینہ کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ اس کا سر ابھی بھی بھاری تھا۔

”کیا ٹائم ہوا ہے؟ بمشکل اس کے منہ سے نکلا۔

”تین بجے ہیں۔“ شکر خدا کا، میں سمجھی شام ہو چکی ہے“ خود کو سنبھال کر وہ جلدی سے بستر پر سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اپنا بے ترتیب لباس درست کیا، جانے کیوں اس کا دل بھاری ہو رہا تھا، اسے خود بخود رونا آرہا تھا۔

”سبرینہ پلیز۔ مجھے جلدی گھر جانا ہے، کیونکہ میں اپنے گھر کالج کے مینا بازار کا کہہ کر آئی ہوں، اگر مجھے مزید دیرہو گئی اور میری تلاش میں کوئی کالج تک آگیا تو بہت مشکل ہو گی۔“ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں سبرینہ کو مخاطب کیا۔

”وہ تو ٹھیک ہے یار، لیکن میرا خیال ہے، تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں تمہیں خود ڈرائیور کے ساتھ جا کر چھوڑ آتی ہوں، اپنی امی سے کہہ دینا کہ کالج میں تمہاری طبیعت خراب ہو گئی تھی، پہلے ذرا منہ دھو کر فریش ہو جاﺅ اور کھانا کھا لو۔“

”سبرینہ!“ باتھ روم کی طرف جاتے ہوئے وہ یکدم پلٹ آئی۔

”بولو۔“

”کچھ نہیں۔“ جانے کیا سوچ کر اس اجنبی مرد سے متعلق کوئی بھی سوال پلوشہ کی نوک زبان پر آکر واپس پلٹ گیا، یہ بھی نہ پوچھ سکی کہ جوس پیتے ہی اس کا ذہن اتنا بوجھل کیوں ہو گیا تھا؟

”میں کھانا نہیں کھاﺅں گی۔“ اپنی جانب منتظر نگاہوں سے تکتی سبرینہ سے کہتے ہوئے وہ تیزی سے واش روم میں گھس گئی اور پھر واپس آتے ہوئے تمام راستہ اس کا دماغ الجھا رہا۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ اس بات کو کس طرح سبرینہ سے ڈسکس کرے، آج اسے احساس ہوا کہ اپنے گھر والوں کے علم میں لائے بغیر اٹھایا جانے والا چھوٹا سا قدم بھی کتنا خطرناک ہو سکتا ہے، وہ دل ہی دل میں شکر ادا کر رہی تھی کہ کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جو اسے بدنامی کے عمیق گڑھے میں گرا دیتا، وہ اپنی عزت و ناموس کے محفوظ رہ جانے پر اللہ کی شکر گزار تھی۔ لیکن نہیں جانتی تھی کہ گھر والوں کو دیا جانے والا یہ چھوٹا سا دھوکہ جو بظاہر بے ضرر بھی تھا، آگے جا کر اس کیلئے کتنے بڑے بڑے مسائل کو جنم دینے والا ہے۔

QQQQ

جانے کیا بات تھی، پلوشہ کا وہم تھا یا واقعی میں حقیقت تھی، اسے سبرینہ کا رویہ پہلے سے خاصا تبدیل لگ رہا تھا، پہلے والی گرم جوشی اور محبت تقریباً مفقود ہو چکی تھی۔ اس دن کے بعد سے وہ پلوشہ کو جب کالج میں ملی تو خاصی نارمل سی تھی، پلوشہ کو لگتا کہ وہ جان بوجھ کر اسے اگنور کر رہی ہے، لیکن یوں؟ وہ ایسا ری ایکٹ کیوں کر رہی ہے؟ بغیر کسی وجہ کے اور یہ ہی بات پلوشہ کے ذہن کو الجھا رہی تھی۔ وہ چاہتی تھی کہ سبرینہ سے پوچھے، لیکن اسے موقع ہی نہ مل رہا تھا شاید سبرینہ جان بوجھ کر اسے موقع فراہم نہ کر رہی تھی۔

اس دن بھی وہ فری پریڈ میں سیڑھیوں پر بیٹھی ان ہی سوچوں میں گم تھی، جب سبرینہ بڑی خاموشی سے اس کے پاس آکر بیٹھ گئی، کانوں میں ہیڈ فون ڈالے بڑی بے فکری سے چیونگم چباتی ہوئی۔ آج کئی دنوں بعد سبرینہ کو یوں اپنے پاس بیٹھا دیکھ کر پلوشہ کو حیرت تو ضرور ہوئی، مگر کچھ بولی نہیں بلکہ خاموشی سے اپنی کتابوں میں الجھی رہی۔

”عماد تم سے ملنا چاہتا ہے۔“ بغیر کسی تمہید کے وہ اچانک پلوشہ سے مخاطب ہوئی۔

”کون عماد؟“ وہ حیرانی سے بولی۔

”اب اتنی بھی بھولی نہ بنو تم، اچھی طرح جانتی ہو کہ عماد کون ہے۔“

الفاظ تھے یا زہریلے ناگ جو پلوشہ کو خود کو ڈستے ہوئے محسوس ہوئے، سبرینہ کا انداز تخاطب اس کی سمجھ سے بالکل بالا تر تھا۔ اس کا ذلت آمیز خشک رویہ پلوشہ کو حیران کر رہا تھا۔

”یقین جانو، میں بالکل بھی کسی عماد کو نہیں جانتی۔“ اپنے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے وہ بمشکل بولی، اس کی آواز حلق میں ہی کہیں پھنس سی رہی تھی۔

”تو پھر یہ کیا ہے؟“ اگلے ہی پل سبرینہ نے اپنا آئی فون اس کے سامنے کر دیا۔ سامنے ہی اسکرین پر نظر آنے والی تصویر نے اس کے چودہ طبق روشن کر دیئے اور اسے بے ساختہ سبرینہ کے گھر جانے والا اپنا پہلا اور آخری دن یاد آگیا، ساتھ وہ اجنبی بھی جسے سبرینہ عماد کے نام سے پکار رہی تھی، وہ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ اس ایک پل کو جب وہ پلوشہ کے قریب تھا۔ اس طرح موبائل کی اسکرین پر منتقل کیا جائے گا اور پھر یاد آیا سکول میں لکھے جانے والے موبائل فون کے نقصانات پر مضمون لیکن یہ تو….

آگے اس کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ وہ کیا وضاحت دے۔

”دیکھو یار! مجھے نہیں پتا کہ تمہارا اور عماد کا کیا سین ہے؟ اب بات صرف اتنی ہے کہ وہ تم سے ملنا چاہتا ہے۔“ سبرینہ کا ٹھنڈا ٹھار لہجہ پلوشہ کو زمین میں گاڑ رہا تھا، جانے وہ کیا سمجھ رہی تھی۔

”سبرینہ! میرا یقین کرو۔ جو تم سمجھ رہی ہو ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔“ وہ روہانسی ہو کر بولی۔

”چلو، میں کچھ بھی نہیں سمجھ رہی، سمجھنا تو تمہیں ہے، اگر تم عماد سے نہ ملیں تو ایس ایم ایس کے ذریعے وہ یہ تصویر نہ صرف بالاج بلکہ تمہارے دیگر رشتہ داروں کو بھی بھیج دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے سارے خاندان کو جانتا ہے، وہ تمہاری تصویریں بنا کر بھی سب کو پوسٹ کر سکتا ہے، تم نہیں جانتیں۔ وہ بہت کچھ کر سکتا ہے، بہتر یہ ہے کہ تم ایک دفعہ اس سے مل لو، دیکھو وہ تم سے کیا کہنا چاہتا ہے؟ تم سے کیوں ملنا چاہتا ہے؟ ایک دوست ہونے کے ناتے یہ میرا تمہیں مشورہ ہے، باقی آگے جو تم بہتر سمجھو۔“ بات کرتے کرتے سبرینہ اٹھ کھڑی ہوئی۔ ”اور ہاں اپنے فیصلہ سے تم مجھے ایک ہفتہ تک آگاہ کر دینا، ورنہ دوسری صورت میں ذمہ دار تم خود ہو گی۔“

کندھے پر بیگ ڈالے وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی، یہ جانے بغیر کہ پیچھے رہ جانے والی ہستی کس حال میں ہے، یقینا سبرینہ جیسے لوگوں کو سوائے اپنی ذات کے دنیا میں کسی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ پلوشہ کو آج احساس ہوا کہ ماں کے علم میں لائے بغیر اٹھایا جانے والا ایک چھوٹا سا قدم، کبھی کبھی کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ تو اس نے کبھی سوچا نہ تھا کہ سبرینہ اس کے ساتھ اتنا بڑا دھوکہ کر سکتی ہے، اب آگے کیا ہو گا؟ اس سوچ نے ہی اس کے دماغ کو ماﺅف کر دیا، وہ اپنی تمام ہمت کو مجتمع کرکے بمشکل وہاں سے اٹھی اور پھر کس طرح گھر تک پہنچی اسے کچھ ہوش نہ رہا۔ گھر کے کھلے گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی اسے تحفظ کے احساس نے اپنے حصار میں لے لیا، تھکی تھکی سی چال چلتی ہوئی وہ اپنے کمرے میں آئی اور بستر پر گر سی گئی۔

”اسے کیا ہوا ہے؟“ فریج سے کچھ نکالتی ہوئی لبنیٰ کی نگاہ جیسے ہی پلوشہ پر پڑی انہوں نے حیرت سے سوچا جبکہ پلوشہ ان کے پاس سے ایسے گزری جیسے نیند کے عالم میں ہو۔ انہوں نے فریج کا دروازہ جلدی سے بند کیا اور پلوشہ کے پیچھے ہی کمرے میں آگئیں۔

”کیا ہوا ہے تمہیں؟“ نڈھال سی پڑی پلوشہ کو دیکھتے ہی وہ وحشت زدہ ہو گئی، جوان بیٹی کی ماں تھیں، ایک دم ہی دل میں بے بنیاد اندیشے سر ابھانے لگے، ایسے اندیشے جن سے وہ خود بھی گھبرا اٹھیں۔

”پلوشہ! کیا بات ہے؟“ وہ تیزی سے چلتی ہوئی اس کے بستر پر آگئیں اور جیسے ہی اسے کندھے سے تھام کر سیدھا کرنا چاہا، وہ تڑپ کر ماں کے گلے لگ گئی اور لگی بلک بلک کر رونے، اسے روتا دیکھ کر لبنیٰ بیگم بدحواس سی ہو گئیں۔

”مجھے بتاﺅ، پلوشہ کیا ہوا ہے؟“

”کچھ نہیں امی!“ بمشکل آواز اس کے حلق سے برآمد ہوئی۔ ”راستے میں بہت برا ایکسیڈنٹ دیکھا تھا، اسی لئے دل بھر آیا۔“ بروقت پلوشہ کے ذہن میں آنے والے بہانے نے لبنیٰ کومطمئن دیکھا تھا۔

”میں تو ڈر ہی گئی تھی کہ جانے کیا بات ہے۔“ اسے خود سے دور کرتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی ”تم ہاتھ منہ دھو کر باہر آﺅ۔ کھانا کھاﺅ۔“

اسے ہدایت دے کر وہ باہر نکل گئیں اور پھر اگلا پورا ہفتہ وہ کالج ہی نہ گئی، کالج جانے کا خیال آتے ہی اس کا دل کانپ اٹھتا، لبنیٰ بیگم اس کے کالج نہ جانے کو ایکسیڈنٹ کا خوف سمجھتے ہوئے خاموش تھیں جبکہ پلوشہ کو کبھی کبھی بالاج کا رویہ سہما دیتا اسے ایسا محسوس ہو تاکہ وہ کھوجتی ہوئی نگاہوں سے پلوشہ کو تکتا ہے، حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ نہ صرف آج کل نیچے زیادہ آنے لگا تھا، بلکہ پلوشہ کی پڑھائی اور روزمرہ کے امور سے متعلق گفتگو بھی کرنے لگا تھا۔

اب وہ مزید چھٹیاں بھی نہیں کر سکتی تھی، کیونکہ امتحان سر پر تھے۔

وہ عشاءکی نماز پڑھ کر کمرے میں آئی جب امی نے آواز دے کر پکارا کہ اس کی کسی دوست کا فون آیا ہے اور بغیر نام کے ہی وہ سمجھ گئی کہ فون کس کا ہو گا اور پھر ہیلو کہتے ہی اس کے بدترین اندیشے کی تصدیق ہو گئی، دوسری طرف سبرینہ تھی۔

”کہاں غائب ہو تم؟“ بغیر کسی سلام دعا کے ایک سپاٹ اور خشک لہجہ پلوشہ کے کانوں سے ٹکرایا۔ کافی دیر تو وہ بول ہی نہ سکی۔

”طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔“ مری مری آواز بمشکل اس کے حلق سے نکلی۔

”اوہو! اچھا۔ اب کیسی ہو؟ بہرحال یہ بتاﺅ کالج کب آرہی ہو؟“

پہلے سوال کا جواب جانے بغیر ہی وہ اپنے مطلب کی بات پر آگئی، وہ خاموش رہ گئی۔

”دیکھو میری بات سنو، وہ تم سے صرف ملنا چاہتا ہے، اس نے مجھ سے وعدہ کیا ہے، وہ تمہاری ساری تصویریں ڈیلیٹ کر دے گا، بشرطیکہ تم ایک بار اس سے مل کر درخواست کرو۔“

”میں شاید کل آجاﺅں۔“ وہ مرے مرے لہجے میں بولی، سبرینہ نے فون بند کر دیا جبکہ کتنی دیر تک ریسیور اپنے ہاتھ میں تھامے پلوشہ ساکت سی کھڑی رہی۔

”فون کس کا تھا؟“ وہ بالکل اس کے قریب ہی کھڑا تھا۔

”دوست کا۔“ مزید کوئی سوال سنے بغیر وہ تیزی سے اس کے قریب سے گزر کر کمرے میں آگئی اور وہ ساری رات اس نے ایک عجیب سی کیفیت میں گزاری۔ جانے کیوں ایک انجانے خوف نے اسے اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ اسے پتا تھا، کچھ ہونے والا ہے، ایسا کچھ جو اسے تباہ و بربادکر دے گا۔ وہ اپنی اس کیفیت کو کسی سے شیئر نہیں کر سکتی تھی، وہ بے وقوف لڑکی اپنوں کے شدید ردعمل سے سہمی ہوئی تھی، لیکن یہ نہ جانتی تھی کہ ماں سے زیادہ اولاد اور وہ بھی بیٹی کا کوئی غم گسار نہیں ہو سکتا۔ وہ ساری رات اس نے سوتے جاگتے گزار دی۔ صبح تیار ہو کر جیسے ہی ناشتہ کرنے ڈائننگ ٹیبل پر پہنچی سامنے ہی اخبار پڑھتے بالاج کو دیکھتے ہی خون مزید خشک ہو گیا۔ یہ اتنی صبح صبح نیچے کیا کر رہا ہے۔ سوچا ضرور لیکن زبان سے کچھ نہ کہا اور خاموشی سے کرسی کھینچ کر ناشتے کےلئے بیٹھ گئی، لیکن اس تمام عرصہ جانے کیوں اسے محسوس ہوا کہ بظاہر اخبار پڑھتا بالاج مکمل طور پر اس کی جانب متوجہ ہے، پہلے ہی اس کا ناشتہ کرنے کا دل نہ چاہ رہا تھا، اب اس نئے احساس نے اس کی بھوک کو بالکل ہی ختم کر دیا، دو تین لقمے لینے کے بعد اس نے ہاتھ کھینچ لیا۔

”کیا بات ہے بیٹا! ناشتہ کیوں نہیںکر رہیں؟“ چائے کا گھونٹ لیتے رحمان صاحب نے بڑے ہی پیار سے اسے مخاطب کیا۔

”ویسے ہی ابو! دل نہیں چاہ رہا، کینٹین سے کچھ کھالوں گی۔“ آہستہ سے کہتے ہوئے اس کی آواز بھرا سی گئی، جس پر صبح کی افراتفری میں کسی نے دھیان ہی نہ دیا۔ اسی دم باہر سے آتی وین کے ہارن کی آواز سنتے ہی اس نے بیگ اٹھایا اور خاموشی سے باہر کی جانب چل دی۔

”ٹھہرو۔“ لاﺅنج کا دروازہ کھولتے ہی پیچھے سے آتی بالاج کی آواز نے اس کے قدم جکڑ لئے ”یا اللہ خیر۔“ دروازہ کے ہینڈل پر رکھا اس کا ہاتھ کانپ سا گیا اور وہ پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھ سکی۔

”چلو! میں تمہیں چھوڑ آﺅں؟“ اس کے پاس سے کہتا ہوا وہ تیزی سے باہر نکل گیا اور وہ مرے مرے قدموں سے اس کے پیچھے چل دی اور پھر سارے راستہ وہ یہ ہی دعا کرتی آئی کہ سبرینہ اسے کالج سے باہر نہ مل جائے، ورنہ یقینا آج اس کی خیر نہ تھی۔

ان ہی سوچوں میں گھری جانے کب کالج آیا اسے پتا ہی نہ چلا۔

”واپسی میں لینے آجاﺅں؟“ بالاج کی آواز نے اسے سوچوں کی دنیاسے باہر کھینچ نکالا۔

”نہیں۔ میں وین میں ہی آجاﺅں گی۔“ آہستہ سے جواب دے کر وہ گاڑی کا دروازہ بند کرتی باہر نکل گئی اور کالج گیٹ سے اندر داخل ہونے تک اسے اپنی پشت پر بالاج کی نگاہیں محسوس ہوتی رہی۔

QQQQ

جاری ہے۔۔۔۔۔

دلربا

نفیسہ سعید

قسط نمبر8

”بابا! میں شام تک حویلی پہنچ جاﺅں گا اور وہ میرے ساتھ ہی ہو گی۔“

فون پر رابطہ ہوتے ہی عماد نے فلک شیر کو اطلاع دی۔

”نہیں۔ تمہیں اس کو یہاں نہیں لے کر آنا۔“

علی شیر کے جواب نے عماد کو حیران کر دیا، کیونکہ سب کچھ پہلے سے پروگرام کے مطابق طے تھا، پھر اچانک اس تبدیلی کی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آئی، لیکن پھر بھی وہ کوئی سوال کرکے اپنے بابا کے غیض و غضب کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لئے بہتری اسی میں تھی کہ خاموشی سے ان کی اگلی ہدایت سنی جائے۔

”جی بابا!“ وہ جانتا تھا کہ یہ دو الفاظ ہی اسکے انا پرست باپ کو پسند ہیں۔

”تم نکاح کرکے اس لڑکی کو گھر بھیج دینا، باقی حساب کتاب اس کے گھر آکر میں خود جنید رضا عباسی سے لوں گا۔ اچھا چھبیس سالہ پرانا حساب بالکل اسی طرح بابا! جس طرح اس نے ہم سے لیا تھا، میں بھی اسے اس کے شہر میں ہی ذلیل کروں گا، ساری دنیا کے سامنے پولیس لے کر جاﺅں گا میں بھی اس کے گھر، عماد جس طرح وہ تیری پھوپھی کو لینے پولیس لے کر آیا تھا۔“

اور عماد اپنے باپ سے یہ بھی نہ پوچھ سکا کہ پھوپھی نے تو جو کچھ کیا اپنی رضا سے کیا تھا، لیکن جو ہم آج اس لڑکی کے ساتھ کرنے جا رہے ہیں، وہ بے خبر تو اس سے انجان ہے، لیکن اپنی روایتوں اور بدلہ کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ایک پڑھے لکھے شخص کی زبان بھی گنگ تھی اور اس وقت اس کا مقصد صرف اور صرف آج سے سالوں پہلے جنید رضا عباسی کے عمل کا بدلہ تھا جو ہر حال میں اس کے خاندان کو بھگتنا تھا، بدلہ جو لیتے تو بظاہر مرد ہیں، لیکن اس کی زد میں ہمیشہ عورت آتی ہے۔ مردوں کے اس معاشرے میں ایک عورت کو پھر سے رسوا ہونا تھا۔ اس کی اگر غلطی تھی تو صرف اتنی کہ اس نے دوستی پر اندھا اعتبار کرکے اپنے گھر والوں کو بے اعتبار کیا۔

”یہ تمہارا گھر تو نہیں ہے؟“ سامنے نظر آنے والے مشہور فائیو سٹار ہوٹل کے پاس ہی گاڑی رکتے دیکھ کر بے ساختہ پلوشہ کے منہ سے نکلا۔

”ہاں…. تمہیں عماد نے ملنے کے لیے یہاں ہی بلایا ہے؟“

”لیکن تم نے تو کہا تھا….“ وہ ہراساں ہو گئی۔

”ہاں ڈیر! میں نے کہا تھا کہ وہ تم سے میرے گھر ملے گا، لیکن جانے کیوں رات اس نے اپنا پروگرام تبدیل کر دیا۔“ دروازہ کھول کر باہر نکلتے ہوئے اس نے لاپروائی سے جواب دیا۔

”گاڑی پارکنگ میں مت لگانا، میں ابھی واپس آرہی ہوں۔“ ڈرائیور کو ہدایت دے کر وہ آگے کی جانب چل دی اور مرتا کیا نہ کرتا کہ مصداق وہ بھی قدم گنتی اس کے ساتھ ہو لی۔

”اگر آج میرے گھر کے کسی فرد نے مجھے یہاں دیکھ لیا تو یقینا مجھے زندہ دفن کر دیا جائے گا۔“ یہ سوچتے ہوئے بھی وہ دل ہی دل میں دعا کر رہی تھی۔

”کاش مجھے یہاں بالاج مل جائے، بے شک وہ مجھے جان سے مار دے، لیکن میں اس اذیت سے تو بچ جاﺅں گی، اے میرے خدا میری عزت کو محفوظ رکھنا۔“ بے خیالی میں سبرینہ کے ساتھ چلتی ہوئی وہ ایک روم کے سامنے رک گئی، جس کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔

”تم جاﺅ اندر، واپسی میں تمہیں عماد چھوڑ دے گا۔“

”پلیز سبرینہ!“ آخری بار التجا۔

”دیکھو پلوشہ! ایک بار اس کی بات سن لو، اس نے مجھے سے وعدہ کیا کہ صرف ایک بار تم سے مل کر وہ تمہاری ساری تصویریں موبائل سے ڈیلیٹ کر دے گا اور پھر تمہیں کبھی تنگ نہیں کرے گا۔“ وہ پلوشہ کا ہاتھ تھامے اسے یقین دہانی کروا رہی تھی، لیکن جانے کیوں اسے یقین نہ آرہا تھا یہ کمرا اسے ایک پنجرہ لگ رہا تھا، جہاں قید ہونے کے بعد وہ کبھی باہر نہ نکل پاتی اور پھر شاید یہ قید تنہائی اس کا مقدر بننے والی تھی۔

”او کم آن یار! جو بات کرنی ہے اندر آکر و۔“

دروازہ میں یقینا عماد تھا جو اس کا منتظر تھا۔

”بس عماد! میں چلتی ہوں، تمہارا کام ہو گیا۔ میری رقم میرے اکاﺅنٹ میں آج ہی آجاتی چاہئے۔“ سبرینہ تیزی سے آگے بڑھ گئی، پلوشہ کو ایک نئی حقیقت سے روشناس کروا کر۔ تو یہ سب کچھ پیسے کیلئے کیا گیا تھا۔

سبرینہ سے نفرت کے شدید احساس نے اسے گھیر لیا۔

”آجاﺅ پلوشہ! یہاں بیٹھو، مجھے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔“

وہ جو جانے کیا کیا سوچ رہی تھی۔ عماد کے الفاظ سنتے ہی چونک اٹھی اور خاموشی سے اس کی جانب ٹکر ٹکر دیکھے گئی جو نہایت سنجیدگی سے ہاتھ باندھے اس کی جانب متوجہ تھا۔

”میں نہیں بیٹھ رہی، تم مجھے یہ بتاﺅ کہ تم نے یہ سب کیوں کیا؟ میں نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟ کیوں بلوایا مجھے اس طرح یہاں اس ہوٹل میں؟“

عماد کے رویہ نے اسے حوصلہ بخشا، یقینا بات کچھ اور تھی جو وہ سمجھ رہی تھی، وہ نہ تھا اس خیال کے آتے ہی وہ لگاتار سوال کر بیٹھی۔

”تم نے کچھ نہیں بگاڑا، تم تو صرف سزا بھگتنے والی ہو، اس عمل کی جو تمہارے خاندان والوں نے چھبیس سال پہلے کیا تھا ہمیں رسوا کرکے۔“

”میرے خاندان نے؟“ وہ حیرت زدہ سی تھی۔

”ہاں پلوشہ! تمہارے تایا جنید عباسی نے ہمیں چھبیس سال پہلے جو ذلتیں بخشی تھیں، آج اس کا حساب برابر ہو گا۔ میں تمہیں کچھ بھی نہیں کہوں گا، صرف تمہیں مجھ سے نکاح کرنا ہوگا، پھر میں تمہیں واپس گھر چھوڑ آﺅں گا۔“ اطمینان سے یہ سب کہتا وہ پلوشہ کو پاگل لگا۔

”واٹ ڈویو مین! تم پاگل ہو کیا؟“ وہ چلا اٹھی۔ ”نکاح کا مطلب سمجھتے ہو؟ اور میں تم سے نکاح کیوں کروں، کمال ہے، تم نے نکاح کو کوئی کھیل سمجھ رکھا ہے؟“

”چلاﺅ مت، مجھے تم سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، میں آل ریڈی شادی شدہ ہوں۔“ ایک اور انکشاف۔

”یہ سب تو میں اپنے بابا جان کے کہنے پر کر رہا ہوں۔ میرا یقین کرو، نکاح کے بعد میں تمہیں بنا ہاتھ لگائے گھر چھوڑ آﺅں گا، بالکل ویسے جیسے تمہارے تایا نے میری پھوپھی کے ساتھ کیا تھا۔“ استہزائیہ لہجہ۔

”پر پھر حویلی والوں کے ساتھ تمہیں رخصت کروانے آﺅں گا۔“ وہ آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آگیا۔

”مجھے صرف اپنی پھوپھو خوشنما کا بدلہ لینا ہے۔“

”خدا کیلئے ایسا نہ کرو۔“ بالاج کے تصور نے اسے رلا دیا اور وہ ہاتھ باندھ کر عماد کے سامنے کھڑی ہو گئی، آنسو اس کے چہرے کو بھگو گئے۔ اسے آج پتا چلا کہ اس کے گھر والے اتنے محتاط کیوں تھے، کاش یہ سب داستان اسے پہلے پتا ہوتی تو وہ بھی اتنی ہی محتاط ہوتی، لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔ وقت تو گزر گیا اور گزرا وقت شاید کبھی واپس نہیں آتا۔

”پلیز عماد! مجھے جانے دو۔ میرا تو اس قصہ میں کوئی قصور نہیں ہے۔“

”قصور ہے پلوشہ! تمہارا قصور ہے، تم اس خاندان کی عزت ہو جس کو ہم نے مٹی میں ملانا ہے۔“

بے بسی عماد کے لہجہ میں در آئی، اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی اچانک دروازے پر ہونے والی دستک سے دونوں ہی چونک ٹھے۔

”یقینا سجاول قاضی صاحب کو لے کر آیا ہو گا، تم واش روم میں جا کر منہ ہاتھ دھو لو۔“ اسے ہدایت دیتا وہ تیزی سے دروازے کی جانب بڑھا اور بے فکری سے لاک کھول دیا، دروازہ کھلتے ہی کسی نے عماد کو دھکا دیا اور کچھ افراد تیزی سے کمرے میں داخل ہو گئے جن میں سے ایک یقینا بالاج تھا، جسے دیکھتے ہی پلوشہ کے جسم میں بجلی سے بھر گئی۔

”اللہ تیرا شکر ہے؟“

آخری احساس اس کے ذہن میں جاگا اور پھر شاید وہ بے ہوش ہو گئی، اس کا شدید نروس بریک ڈاﺅن ہوا تھا اور پورے ایک ہفتہ بعد جب وہ ہوش میں آئی تو شرمندگی کے شدید احساس میں گھری ہوئی تھی، وہ خود کو کسی سے بات کرنے کے قابل نہ پائی تھی۔

ہوش میں آتے ہی اس کے ذہن میں بہت سے سوالات نے سر ابھارا، جن میں سب سے قابل ذکر سوال تو یہ تھا کہ بالاج اس تک کس طرح پہنچا؟ پھر وہ جاننا چاہتی تھی کہ اس کی تائی خوشنما کے بارے میں جو کچھ عماد نے بتایا کیا وہ درست تھا؟ لیکن وہ خود کو اس کے قابل نہ پاتی تھی کہ کسی سے کچھ پوچھتی، وہ تو صرف یہ ہی سوچ سوچ کر شرمندہ تھی کہ عماد کے ساتھ ہوٹل کے کمرے میں اپنے موجود ہونے کا کیا جواز اپنے گھر والوں کو پیش کرے گی؟ وہ اس وقت سے ڈر رہی تھی جب یہ سوال اس سے کیا جائے گا؟ اسے سب سے زیادہ فکر بالاج کی تھی، جس دن سے وہ ہوش میں آئی تھی بالاج اس سے ملا ہی نہ تھا، وہ نیچے آتا ضرور تھا، اس کی آواز کسی نہ کسی وقت اس کے کان میں پڑ جاتی تھی، لیکن کبھی وہ پلوشہ کے سامنے نہیں آیا۔

QQQQ

اس دن غالباً اتوار کا دن تھا، صبح سے ہی نمرہ آئی ہوئی تھی، دو دفعہ وہ اس کے کمرے سے چکر لگا کر گئی تھی، لیکن وہ جان بوجھ کر سوتی بن گئی، لیکن جب وہ تیسری دفعہ اس کیلئے ناشتہ لے کر آئی تو پلوشہ خود پر سے اختیار کھو بیٹھی اور بے ساختہ اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی، نمرہ نہایت پیار سے اس کی پشت سہلاتی رہی۔

”میں بہت بری ہوں نمرہ! میں نے تم سب کو دھوکا دیا۔ کاش میں مر جاتی۔“

”پاگل ہو گئی ہو کیا جو فضول بول رہی ہو، شکر کرو، تمہیں اللہ تعالیٰ نے کسی بڑے نقصان اور ہمیں بدنامی سے بچا لیا، یہ سوچو اگر اس دن وہاں بالاج بھائی نہ جاتے تو کیا ہوتا۔“

نمرہ اسے خاموش کرواتے ہوئے دھیرے دھیرے سمجھا رہی تھی۔

”لیکن بالاج وہاں کیسے پہنچا؟“ یہ سوال خود بخود اس کی زبان پر آہی گیا۔ ”سبرینہ کی مدد سے وہ عماد سے محبت کرنے لگی تھی، اس نے عماد سے اپنی چاہت کا اظہار کیا تو عماد نے اس کو اس کی اوقات یاد دلائی اور کہا ایسی لڑکی جو پیسے سے خریدی جا سکتی ہے، جس کا دین ایمان پیسہ ہے۔ اس کی محبت مذاق کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی۔ اس کے لہجے میں اتنی حقارت تھی کہ سبرینہ نفرت ور انتقام میں پاگل ہو گئی۔ اس نے عماد سے بدلہ لینے کیلئے عین وقت پر بالاج سے رابطہ کرکے اسے سب کچھ بتا دیا۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا، اللہ کا شکر کرو کہ تم بحفاظت گھر آگئیں اور تم اب یہ تو جان ہی چکی ہو گی کہ عماد کون ہے؟ تو سمجھ لو یہ سب کچھ میرے ننھیال والوں کا کارنامہ ہے۔ وہ نفرت، بدلہ کی آگ جس میں وہ پچھلے چھبیس سالوں سے جل رہے ہیں۔ لیکن شکر کرو وہ اپنے اس گھناﺅنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بہرحال اس سب کے باوجود بالاج نے بدنامی سے بچنے کیلئے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اور پھر عماد نے تو بالاج سے معافی بھی مانگ لی ہے اور تمہیں پتا ہے، آج میں یہاں کیوں آئی ہوں۔“

بات کرتے کرتے رک کر اس نے ایک نظر پلوشہ کے ستے ہوئے چہرے پر ڈالی جس پر کھنڈی زردی نے نمرہ کے حساس دل کو دکھا دیا اور پلوشہ کو اپنی جانب سوالیہ نگاہوں سے تکتا پا کر اس نے ایک ٹھنڈی سانس بھری۔

”رات بابا کا فون آیا تھا، وہ چاہتے ہیں کہ اب جلد از جلد تمہاری اور بالاج کی شادی ہو جائے۔“

”پلیز نمرہ! تم تایا جی کو منع کرو، مجھے بالاج سے شادی نہیں کرنی۔“

نمرہ کی بات ختم ہوتے ہی وہ ایک دم تیز آواز میں چلا اٹھی۔ اس کی بات سنتے ہی نمرہ گھبرا سی گئی۔

”کیا کہہ رہی ہو تم پلو، تم ہوش میں تو ہو۔“ اسے یقین ہی نہ آیا کہ یہ الفاظ پلوشہ کی زبان سے ادا ہوئے ہیں۔

”ہاں نمرہ! میں سچ کہہ رہی ہوں، میں بالاج سے شادی کرکے ساری زندگی اس کی نفرت کا نشانہ نہیں بن سکتی۔“ وہ دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر سسک اٹھی۔

”میں جانتی ہوں، بالاج مجھے کبھی بھی پسند نہ کرتا تھا اور اب، اب تو شاید کبھی بھی نہیں، اب تو میں اس کے قابل رہی بھی نہیں ہوں۔“

”تم سے کس نے کہا کہ میں تمہیں پسند نہیں کرتا؟ یہ آواز یقینا بالاج کی تھی جسے سنتے ہی پلوشہ کو کرنٹ سا لگا، اس نے بے اختیار سر اٹھا کر دیکھا، نمرہ جانے کب جا چکی تھی، اب عین اس کے سامنے بالاج کھڑا تھا، سینے پر دونوں ہاتھ باندھے نہایت سنجیدگی سے اس کی جانب سوالیہ انداز سے تکتا ہوا۔

”میں…. وہ….“ اس کی آواز حلق میں پھنس سی گئی۔

”دیکھو پلوشہ! ڈرو مت، جو تمہارے دل میں ہے کہہ ڈالو، میں بالکل برا نہ مانوں گا۔“ وہ اپنی بات کہتے ہوئے کرسی کھینچ کر اس کے بیڈ کے قریب ہی بیٹھ گیا۔

”تمہیں اپنی پسند اور ناپسند کا اختیار ہے، اگر تم مجھے پسند نہیں کرتیں تو صاف صاف کہہ دو، یقین جانو، میں بالکل برا نہ مانوں گا اور جہاں تم کہو گی وہیں تمہاری شادی کرانے میں تمہاری مدد کروں گا۔“

”ایسی کوئی بات نہیں ہے؟“ وہ اس الزام پر تڑپ اٹھی۔ ”میں تو صرف آپ کی وجہ سے….“

”کیا میری وجہ سے؟ کھل کر کہو، تم سے کس نے کہا میں تمہیں پسند نہیں کرتا۔“

”کسی نے نہیں۔“ وہ کمزور لہجہ میں بولی۔ ”لیکن اس سب کے بعد بھی آپ کیسے مجھ سے شادی کر سکتے ہیں؟“

دل کی بات لبوں پر آہی گئی۔

”میری بات غور سے سنو پلوشہ! میں کوئی فلمی ہیرو نہیں ہوں جو تمام برائیوں سمیت ہیروئن کو گلے لگا لوں گا۔ میں بھی ایک عام سا روایتی مرد ہوں اور ہمیشہ یہ ہی چاہتا ہوں کہ وہ شخصیت جو مجھ سے منسوب ہو باکردار اور خالص ہو، معذرت کے ساتھ اگر مجھے تمہاری بے گناہی کا یقین نہ ہوتا تو میں شاید کبھی بھی تم سے شادی نہ کرتا، وہ تو میں شروع سے ہی تم پر نظر رکھے ہوئے تھا اور پھر سبرینہ نے بھی مجھے تمہارے بارے میں سب کچھ سچ سچ بتا دیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ تم ایک جال میں پھنس گئی ہو اور اس جال سے تمہیں نکالنا میری ذمہ داری تھی، جسے میں نے نہایت احتیاط سے پورا کیا، اگر چاہتا تو عماد کو اغواءکے جرم میں جیل بھی کروا سکتا تھا، لیکن میں نے ایسا نہیں کیا، وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ میرا کزن تھا، وجہ تھی کہ تم میرا سب کچھ ہو اور اگر میں اس دن ایسا کرتا تو یقینا تمہارا نام بھی اخباروں میں اچھالا جاتا اور یہ سب کچھ ہی میرا ماموں چاہتا تھا، میں نے تمہاری عزت کی خاطر سب کو معاف کر دیا اور عماد کو بھی خامشی سے وہاں سے جانے دیا۔“

بالاج نے دھیرے دھیرے اسے سب بتا دیا۔ ”اب تم بتاﺅ، کیا میں واقعی تمہیں برا لگتا ہوں؟“ وہ اس کی آنکھوں میں جھانک کر بولا۔

”نہیں نہیں۔“ پلوشہ بے ساختہ بولی، ”یہ میں نے کب کہا ہے؟“ بالاج بے اختیار ہنس پڑا تو اس نے جھینپ کر سر جھکا لیا۔

ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ناز عارف ناز۔۔۔ خالد دانش

ناز عارف ناز۔۔ اک پری وش اور پریا شاعرہ تحریر ۔۔خالد دانش مشتاق عاجز ( …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے