سر ورق / جواب قرۃ العین سکندر

جواب قرۃ العین سکندر

 

قرۃ العین سکندر

جواب

مصباح نے تیزی سے چاۓ کا پانی چولہے پر چڑھایا . اس کا موڈ قدرے خراب تھا . کیونکہ آج اس نے ویک اینڈ پر اپنی امی کی طرف جانے کا طے کر رکھا تھا . علی نے بھی اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ شام کو اسے امی کی جانب ملانے لے جاۓ گا اور اس نے بھی دل میں طے کر لیا تھا کہ ننھی پریشے کو پورے وقت پر تیار کر لے گی .

جب سے ننھی پریشےہوئی تھی اسکی زندگی جیسے مکمل ہو گئی تھی . وہ ماتھے پر شکنوں کا جال لئے کچن میں دوپہر کا کھانا تیار کر رہی تھی .

اس کی وجہ اسکی نند رابعہ کی آمد تھی . وہ چاہتی تھی کہ دوپہر کو کو ہلکا پھلکا کچھ تیار کر کے جلدی سے میکے روانہ ہو جاۓ . اب رابعہ آپی اور ان کے بچوں کی آمد کے بعد اس کا یہ سارا پروگرام ڈانواں ڈول ہونے لگا تھا .

پھر رابعہ کے ساتھ ان کے میاں بہروز بھی تھی . اس لئے سارے کام خوش اسلوبی سے ہونا ضروری تھے . وہ یونہی کچھ بھی پکا کر ان کے سامنے نہیں رکھ سکتی تھی . گھر آنے والی بیٹی داماد کے لئے خاص الخاص پکوان بننے چاہئے تھے .یوں نہیں کہ کوئی بھی دال سبزی بنا کر ان کے سامنے سجا دی جاۓ .

اس لئے ساس کے کہنے پر وہ کڑاہی’ پلاؤ اور کباب بنا رہی تھی . اور ساتھ میٹھے میں ٹرائفل بھی بنا رہی تھی . اس کے ساتھ ساتھ چاۓ کا دور بھی گاہے بگاہے چل رہا تھا . پریشے کی ریں ریں بھی کانوں میں پڑ رہی تھیں جو اسے ناگوار گزر رہی تھے .

” کیا بنا رہی ہیں بھابی صاحبہ.” رابعہ آپی نے مسکرا کر کچن میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا .

اس نے پلٹ کر تیکھی نظروں سے نند کو دیکھا تھا .

” وہی جو مہمانوں کی آمد پر بنایا جاتا ہے .” اس نے قدرے رکھائی سے جواب دیا .

” کافی دیر سے تم کچن میں ہی لگی تھیں . باہر آ ہی نہیں رہی تھیں . اس لئے میں نے سوچا کہ میں ہی آ کر تم سے مل لوں . “

رابعہ نے وضاحتی انداز میں کہا کیوںکہ اسے لگ رہا تھا کہ مصباح کو اسکی آمد پسند نہیں آئی ہے .مگر اسکی وضاحت کے جواب میں بھی مصباح بالکل خاموشی اختیار کیے کاموں میں جتی رہی . جیسے اسے اس کے وہاں ہونے کی پروا ہی نہیں تھی .

” اور پریشے کیسی ہے ؟” وہ بات براۓ بات کر رہی تھی .

” ٹھیک ہی ہے .اب ذرا کاموں میں مصروف ہوں تو ظاہر ہے بچی بیچاری اگنور ہو رہی ہے . اس لئے رو رہی ہے . ” مصباح کا لہجہ سراسر جتاتا ہوا تھا .

” کیا تمہیں ہمارا آنا برا لگ رہا ہے . ایسی ہی کوئی بات ہے تو ہم آئندہ نہیں آیا کریں گے . ” رابعہ نے بھی اب ناگواری سے دو ٹوک بات کی .

مصباح کو ایک دم احساس ہوا تھا کہ اسکا رویہ سراسر معیوب ہے اور اسے گھر آنے والی اکلوتی نند سے بہرحال خوش اخلاقی سے ہی پیش آنا چاہیے . دوسرا اس کے دل میں یہ بھی خوف پیدا ہو رہا تھا .مبادا اس کی ساس اسے اس کے میکے جانے سے روک ہی نہ دے . اس لئے معاملہ فہمی اور مصالحت کی راہ اختیار کرتے ہوئے مصباح نے … اپنے لہجے میں نرمی پیدا کر لی تھی .

” ارے ایسی تو کوئی بات نہیں ہے رابعہ باجی ! اصل میں میری طبیعت کچھ بوجھل سی ہو رہی ہے ‘ شام کو ڈاکٹر کے پاس جانا ہے نا . اس لئے جلدی جلدی کام نپٹا رہی تھی . پھر وہیں سے گھڑی دو گھڑی اماں کی طرف بھی ملنے جاؤں گی .” دل کا مدعا اب اسکی زبان پر آیا .

یوں بھی روز روز رابعہ کی آمد اس کے لئے نہ صرف کام بڑھانے کا سبب بن رہی تھی بلکہ اخراجات بھی بڑھ گئے تھے . اور یہ سارے اخراجات اب علی کی جیب پر گراں گزرنے لگے تھے اور یہ ساری سیکھ اسکو بیوی کی طرف سے ہی مل رہی تھی . وہ لفظ بہ لفظ وہی زبان بولنے لگا تھا . جو اسے مصباح سے دن رات سننے کو مل رہی تھی .

وہ بھی مصباح کے نظریات کی عینک لگا کر تمام معاملات کو اسی طرح دیکھنے اور پرکھنے لگا تھا .

” اور جاب کیسی جا رہی ہے علی بھائی کی .” رابعہ آپا کی کم بختی ہی آئ تھی جو انہوں نے علی کی نوکری کی بابت سوال کر لیا تھا . وہ بھی اپنی بھابی سے . مصباح کو تو جیسے ایسے ہی موقع کی تلاش تھی . فورا وضاحت دینے لگی .

” بس کیا بتائیں ‘ مہنگائی کا دور ہے ‘ ابھی تو پریشے چھوٹی ہے ‘ کل کو سکول میں جائے گی تو خرچے مزید بڑھ جائیں گی . آئے دن کے مسلے منہ کھولے کھڑے رہتے ہیں اور اس پر امی جان کی دوائیاں اور انکی بیماری کا خرچ الگ ہے . پریشے کے بھی ابھی سے خرچے ہیں اور پھر آئے دن کی مہمانوں کی آمد پر بھی ہزار دو ہزار تو کھڑے کھڑے ہی اٹھ جاتے ہیں .”

وہ بھگو بھگو کر مار رہی تھی . قبل اس کے کہ رابعہ کوئی ترش و تلخ جوابات کا تبادلہ کرتی اس وقت ہی علی کچن میں آ گیا .

” باہر آ کر پریشے کو سنمبھالو ‘ وہ رو رہی ہے . اب مجھ سے نہیں سنبھل رہی ہے .” علی کا غصّہ سوا نیزے پر تھا .

مصباح نے ہانڈی میں چمچہ چلانا چھوڑا ‘ چولہے کی آنچ دھیمی کی اور باہر نکلی .

پریشے کا ڈائپر تبدیل کرنے والا تھا اور یوں بھی اتنی دیر ماں سے جدا رہنے کی وجہ سے بچی بے حال ہو رہی تھی . مصباح نے اسے اپنے کلیجے سے لگایا . اس کا منہ ہاتھ دھلایا اور صاف کپڑے پہنا کر تیار کیا . پھر فیڈر اسکی دادی کو تھما کر دوبارہ کچن کی طرف دوڑ لگائی .

شکر ہے کہ وہ بروقت کچن میں آ گئی تھی ورنہ سالن نیچے لگنے کا احتمال تھا . اس نے ساری چیزیں تیار کیں اور سب چیزیں ٹیبل پر لگا کر سب کو کھانے کے لئے آواز دی .

سب نے دلجمعی سے کھانا کھایا .کھانا مصباح نے بے حد لذیذ بنایا تھا . اس معاملے میں تو سسرال میں اسکی تعریفوں کے پل بندھتے تھے . ابھی رابعہ وغیرہ کھانے سے فراغت ہی حاصل کر رہے تھے کہ علی نے بیوی کی آنکھوں کی تحریر پڑھتے ہی ماں کو اس کے میکے لے جانے کا عندیہ دے ڈالا .

” ارے آج جانا کوئی اتنا ضروری تو نہیں ہے . اتنے دن بعد رابعہ آئی ہے . تم کل چلی جانا .یوں بھی تم پچھلے ہفتے ہی میکے گئی تھیں . تمہارا میکا کون سا دوسرے شہر میں ہے جو جانا ہی نہ ہو سکے .” ساس کو آج کے دن بہو کا گھر سے باہر نکلنا کھٹک رہا تھا .

اماں! میکا تو رابعہ آپی کا بھی دوسرے شہر میں نہیں ہے . اسی شہر میں ہے . وہ بھی دوبارہ آ ہی سکتی ہیں .” علی کے منہ میں بیوی کی زبان بول رہی تھی .

” شاباش ہے بیٹا . اچھی منہ زوری ہے . اپنی زبان بند رکھو . خیر تم لوگ کونسا میرے کہنے پر اپنا پروگرام ملتوی کرو گے . جاؤ جب طے کر ہی لیا ہے تو .” ساس کا دل خراب ہو چکا تھا .

بعض معاملات میں مائیں بھی اپنے بیٹوں کے سامنے بے بس ہو جاتی ہیں . وہ فقط یہ سوچ کر پریشان تھیں کہ ان کی بیٹی کو اب میاں سے ہزار صلواتیں سننے کو ملیں گی .

مصباح جوش اور خوشی سے تیار ہو کر پریشے کو تھامے باہر نکلی تھی . مبادا تھوڑی بھی دیر ہو گئی تو موت کا فرشتہ ان دبوچے گا . بائیک پر بیٹھی فاتحانہ انداز میں وہ میکے کی جانب رواں دواں تھی . ماں کا گھر جیسے ہی نظر آیا . دل اور آنکھوں میں ٹھنڈ ہی پڑ گئی ہو جیسے . اس نے اپنائیت سے اپنے میکے میں قدم رکھا تھا . سائرہ بھابی بھی مکمل تیار کھڑی تھیں .

” آپ کہیں جا رہی ہیں کیا بھابی ؟” اسے بھابی کا اتنا تیار ہونا اچھنبے میں ڈال رہا تھا .

” ارے نہ سلام ‘ نہ دعا. یہ کیا سوال ہوا بھئی . اور تم اتنی دیر سے کیوں آ رہی ہو . کب سے سب تمہارے منتظر تھے .” سائرہ بھابی نے بات ٹالتے ہوئے کہا .

” ارے میری شہزادی آ گئی .” اماں نے پریشے کو لاڈ سے گود میں اٹھا لیا .

” میں نے پریشے کے لئے چاکلیٹ لے کر رکھے تھے .” انہوں نے جھٹ پریشے کو چاکلیٹ تھما دیں. وہ خوش ہو کر دائیں بائیں دیکھ کر مسکرانے لگی تھی .

اسی وقت بھابی چاۓ مع لوازمات کے لئے آئی تھیں . بازاری سموسے اور بازاری نمکو تھی . اور نت نئے اقسام کے بسکٹ تھے .ساتھ میں چاۓ . وہ حیران ہو رہی تھی . اس نے تو اماں سے کہہ دیا تھا کہ آرام سے کھانا کھا کر رات کو جاۓ گی . مگر یہاں تو جلد از جلد ٹرخانے والا معاملہ تھا . مگر علی اس جانب متوجہ ہی نہ تھے .

” اماں ‘ ہم لوگ تو رات کا کھانا بھی کھائیں گی ‘ کیا اس کی تیاری نہیں ہے . مجھے علی کے سامنے شرمندہ ہونا پڑے .” اس نے دبے دبے لفظوں میں ماں کے ساتھ لگ کر دھیمی آواز میں لب کشائی کی تھی .

” تمہاری بھابی کا میکے جانے کا ارادہ ہے آج ‘ تم تو جانتی ہو کہ آج کا دن ہی ہوتا ہے محسن کے پاس . اس کے بعد تو ہفتے بھر … شدید مصروفیت ہوتی ہے .” اماں بھی اپنی جگہ مجرم سی بن گئیں تھیں .

” یعنی ہم لوگوں کے لئے ایک وقت کا کھانا بنانا بھی بھابی کے لئے عذاب ٹھہرا .” اس نے ناگواری سے جتایا تھا .

ابھی اماں کوئی جواب نہ دے پائی تھی . جب بھابی کی آمد ہوئی تھی . عبایا میں لپٹا ہوا ان کا واجد اور چمکتا ہوا چہرہ .

” او کے آنٹی ! اب ہم چلتے ہیں .” انھیں جانے کی جلدی تھی .

” بھابی ! تھوڑی دیر تو ٹھہرتیں ‘ آپ تو فورا ہی جانے کو تیار ہو گئیں .” نہ چاہتے ہوئے بھی اسکا لہجہ تلخ ہو گیا تھا .

” ارے بھئی تم کونسا دوسرے شہر سے آئی ہو . روز کا تو آنا جانا ہے . پھر کسی دن بیٹھ کر تفصیل سے بات کرتے ہیں . آ جاؤ بھئی جلدی سے بیگم .” یہ محسن بھائی تھے . جو ہو بہو علی کی طرح بیگم کی زبان بول رہے تھے .

مصباح کی نگاہ اپنی ماں کے چہرے پر پڑی ‘ یہاں ہو بہو ان کی ساس جیسی بے بسی پھیلی ہوئی تھی . اسے لگا کے سب کچھ اپس میں گڈ مڈ ہو گیا ہو . سارے منظر ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے ہوں .۔

بوڑھا درخت۔۔۔۔۔ افسانہ۔۔۔۔ وقار احمد ملک

شہر سے کچھ فاصلے پر بابا معصوم شاہ کا صدیوں پرانا مزار دُور دُور تک پھیلے ہوئے ریت کے خاموش سمندر میں سکون کی نیند سو رہا ہے۔ سردیوں کی طویل راتیں اور گرمیوں کی تپتی دوپہریں اپنے سکوت اور طلسم کی وجہ سے جانی جاتی ہیں لیکن بابا معصوم شاہ کا مزار بارہ مہینے اور چوبیس گھنٹے سکوت کی بُکل اوڑھے اونگھتا رہتا ہے۔ شہر سے دو میل دوری کے فاصلے پر موجود اِس مزار کا کوئی مُجاور نہیں ہے۔مُجاوری کے فرائض گنبد کے بلند روشندان میں رہائش پزیر کبوتروں کی ایک جوڑی سرانجام دے رہی ہے۔ ان کی غٹر غوں ہی اس خاموش اور افسردہ مزار میں زندگی کی ایک موہوم سی جھلک پیدا کر دیتی ہے۔ مزار کو اُوپر سے ایک بلند گنبد نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔چاروں طرف بوسیدہ اور بے رنگ ستون ایستادہ ہیں جن کے درمیان کوئی دروازہ یا دیوار نہیں ہے۔ صحرائی آندھیاں مزار کو شفاف ریت اور آم کے ایک اکلوتے درخت کے پتوں سے اٹ دیتے ہیں اور یہی جھکڑ اور ہوائیں مزار میں جھاڑُو بھی لگا دیتی ہیں۔مزار کے شمالی طرف ایک کنال رقبہ پر مشتمل ایک کچا صحن مزار کی کشادگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ صحن کی عین درمیان میں پست قامت آم کا درخت سرسبز ہونے کے باوجود مزار کی ویرانی میں مزید اضافے کا باعث ہے۔ شاید یہ دنیا کا واحد پھلدار درخت ہو گا جس کا کوئی مالی نہیں اور جس کے رسیلے پھل پتھروں کے حملوں سے محفوظ رہتے ہیں۔گرم صحرائی لُو درخت پر پھول اگاتی ہے، پھول سے امبیاں جنم لیتی ہیں اور امبیاں جواں ہو کر رسیلے اور میٹھے آم بن جاتی ہیں۔ کوئی بھولا بسرا ادھر آ نکلے تو ٹھیک ورنہ آم پک کر خود ہی نیچے گر جاتے ہیں اور میٹھا رس ریت میں شیر و شکر ہو جاتا ہے۔

مزار پر لوگوں کی آمد نہ ہونے کے برابر ہے۔مزار کی ویرانی کی کئی ایک وجوہات ہیں۔ آبادی سے دوری، شکستگی، طلسماتی ماحول اور آم کے ٹھگنے درخت پر جنوں کے بسیرے کی روایات لوگوں کو یہاں آنے سے روکنے کا باعث ہیں۔ اِس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ یہاں لوگ بالکل آتے ہی نہیں ہیں۔ مصیبت زدہ لوگ منت منوتی ماننے کے لیئے یا مزار پر چڑھاوے چڑھانے کے لیئے کبھی کبھار دیکھے جاتے ہیں ۔ایڈونچر کو پسند کرنے والے اور سکون کے متلاشی بھی کبھی کبھار یہاں آ نکلتے ہیں۔

منور کو اِس مزار سے دلی لگاؤ ہے۔ شہر جانے سے پہلے کبھی کبھی وہ یہاں آ نکلتا تھا۔ اکثر تو وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ آیا کرتا تھا لیکن اس کے گھر والے سال میں ایک دو مرتبہ ہی سلام کرنے آتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنے بچپن کے دوستوں کو قائل کیا اور بابا معصوم شاہ کی من گھڑت کرامات سنا سنا کر اُن کو بھی بابا جی کا معتقد بنا دیا۔ منور کو مزار کا ہر موسم میں پسند تھا۔ سردیوں کی دوپہروں کو دور تک پھیلی ہوئی دھوپ، خزاں کی اداس شامیں، بہار کی رنگین صبحیں اور گرماکی تپتی ہوئی خاموش اور ویران دوپہریں منور کو وجدانی خوشی فراہم کرتیں۔

یہ اُنہی دنوں کی بات ہے جب مَنو اور منور میں جان پہچان پیدا ہوئی۔ ساون کے موسم میں موسلادھار بارش کے بعدٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ اجنبی پرندے نامانوس زبانوں میں نامعلوم گیت گنگنا رہے تھے۔بارش رکتے ہی منور اپنی دوستوں کے پاس گیا اور ان کو بابا معصوم شاہ کے مزار پر لے جانے کے جتن کرنے لگا۔ اُس دن کوئی بھی مزار پر آنے کو تیار نہ تھا۔ وہ دن ضائع کرنے والا نہیں تھا۔ چنانچہ منور اکیلا ہی مغرب کی سمت میں چل پڑا۔ دو میل کا فاصلہ تھوڑی دیر میں طے ہو گیا۔ اُن دنوں منور کی عمر بمشکل دس برس ہو گی۔ گیلی ریت اور کہیںکہیں نم مٹی کی بھینی بھینی خوشبو نے منور کے دل و دماغ پر سحر پھونک دیا۔ اُس روز مزار پر خلافِ معمول دو خواتین بھی آئی ہوئی تھیں۔اُن کے ساتھ ایک بچی جو منور سے تین برس چھوٹی ہو گی گہرے سبز کپڑوں میں ملبوس آم کے درخت کے نیچے پکے ہوئے آموں کو طرف للچائے ہوئے انداز میں بار بار دیکھ رہی تھی۔ سبز کپڑے اور درخت کے سبز پتے اپنے گاڑھے رنگ کی وجہ سے کالے کالے محسوس ہو رہے تھے۔یوں لگتا تھا کہ سبز کچور پتوں کا ایک ڈھیر زمین پر کھڑا ہوا ہے۔ وہ لڑکی کافی دیر سے اس ٹھگنے درخت کے نیچے موجود تھی۔ منور نے درخت پر چڑھ کر ایک آم اتارا اور مَنو کو دے دیا۔ آم قدرے سخت تھا ۔مَنو نے اپنی ننھی منی انگلیوں سے آم کو پوپلا کرنا شروع کر دیا۔ نرم ہونے پر اس نے گٹھلی نکال کر چھلکا منور کو دے دیا۔ منور نے احتجاج کیا تو مَنو نے معصومانہ لہجے میں ڈرتے ڈرتے کہا کہ بڑے چھلکا لیتے ہیں اور چھوٹے گٹھلی کھاتے ہیں۔ منور نے کچھ اور آم بھی اُتارے۔ مَنو دو آم اپنی والدہ اور دادی کے لیئے بھی لے گئی۔

منور کو یہ سُن کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ یہ لوگ چاند کی ہر ساتویں تاریخ کو بابا معصوم شاہ کے مزار پر آتے ہیں۔ وہ لوگ یہاں کیوں آتے تھے اِس کا پتہ ننھی مَنو کو نہیں تھا۔مَنو سات سال کی ایک پوپلی سی لڑکی تھی۔ اُس کے رخسار اتنے سُرخ تھے کہ گالوں پہ لالی کا گماں ہوتا تھا۔ بال لمبے لمبے اور گھنگھریالے تھے۔ مَنو نے بالوں میں سرخ سرخ پونیاں باندھ رکھی تھیں۔ سبز کپڑے اور سرخ رنگ کی پونیاں رنگوں کا انتہائی دلکش امتزاج پیدا کرتی تھیں۔مَنو کی آنکھیں موٹی موٹی اور ناک ستواں تھی۔ آنکھوں پر بھاری پپوٹوں نے ایک بھاری غلاف تان دیا تھا۔ مَنو اپنے علاقے کے واحد انگریزی میڈیم سکول کی دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔

منور نے اب دوستوں کو مزار پر لے جانا بند کر دیا۔ پہلے بھی اُس کو کافی منتیں کرنی پڑتی تھیں۔اب کے منور کو وقت انتہائی سست رفتار بلکہ ساکن محسوس ہونے لگا۔ اگلا مہینہ شروع ہی نہیں ہو رہا تھا۔ہر وقت کھیل کُود میں مصروف رہنے والا منور اب انتہائی کم گو اور گوشہ نشن بن گیا تھا۔پہروں سویا رہتا۔ بھوک بھی اب کم محسوس کرتا۔ جس سے چمکتا ہوا چہرہ کملاہٹ کا اظہار کرنے لگا۔اگلا چاند نکلا تو کچھ خوشی ہوئی لیکن افسوس کہ ابھی بھی بابا معصوم شاہ کی زیارت میں ایک ہفتہ باقی تھا۔ تیس طویل تر دنوں کے انتظار کے بعد چاند کی ساتویں تاریخ کو وہ دوبارہ مزار پر جانے کی تیاری کر رہا تھا جب اچانک اُس کے پاؤں میں چارپائی سے اُترتے ہوئے موچ آ گئی۔ منور سے چلا بھی نہیں جاتا تھا۔ اُس کو سَتاں کمہاری کے پاس لے جایا گیا جوپورے گاؤں کی واحد آرتھوپیڈک سرجن تھی۔ماسی سَتاں نے پاؤں پر کَس کر پٹی باندھی جس سے منور کو کچھ سکون محسوس ہوا۔ہلکا ہلکا دُکھ وہ اب بھی محسوس کر رہا تھا۔ اس دُکھن کا علاج صرف بابا معصوم شاہ کے پاس تھاجس کی طرف وہ گھر والوں سے نظریں چُرا کر لنگڑاتا ہوا چل پڑا۔ مَنو اپنی والدہ اور دادی کے ساتھ وہاں موجود تھی اور مزار کے جنوب میں کچھ فاصلے پر ریت کا ایک گھروندا بنا کر وقت گزارنے کا اہتمام کر رہی تھی۔سبز کچور پتوں کا ڈھیر ریت پر جھکا ہوا تھا۔ منور آم کے ٹھگنے درخت کے نیچے بیٹھ کر دکھتے ہوئے پاؤں کی پٹی کھولنے لگا۔ شدتِ درد سے اُس کا بُرا حال تھا۔ پاؤں سُوجا ہوا تھا۔آنکھوں میں نمی جھلک رہی تھی۔ منور نے جھکی نگاہوں سے ایک سایہ اپنی طرف آتا محسوس کیا۔ تھوڑی دیر میں مَنو اُس کے سامنے بیٹھی اُس کا پاؤں سہلا رہی تھی۔ مَنو نے آم کے درخت کے نیچے سے کچھ مٹی ملی ریت کچھ پڑھ کر منور کے پاؤں پر رگڑنا شروع کی۔یہ جانے مَنو کے لمس کا اثر تھا، مزار کی مٹی کی کرامت تھی یا پڑھے گئے کلام کی برکت کہ چند لمحوں ہی میں منور کا پاؤں بالکل ٹھیک ہو گیا۔تھوڑی دیر میں وہ آم کے مضبوط ڈالوں پر بیٹھا درخت پر لگے

چند بچے کھچے آم نیچے پھینک رہا تھا۔انہوں نے مل کر تین آم کھائے ۔آموں کا بٹوارہ پہلے کی طرح ہی ہوا۔ مَنو نے تین گٹھلیاں لیں اور رس بھرے چھلکوں پر منور نے گُزارا کیا۔ جانے سے پہلے مَنو نے ایک نوکیلے پتھر سے درخت کے موٹے تنے پر انگریزی کا حرف M کندہ کر دیا۔ ان لوگوں کے جانے کے بعدمنور کافی دیر بابا معصوم شاہ کے مزار پر موجود رہا۔ کبھی وہ مزار کے سرہانے بیٹھ جاتا، کبھی ستونوں کے سہارے کھڑا ہو کر دُور ریت میں غائب ہوتے تین نسوانی ہیولوں کو تکنا شروع کر دیتا۔ واپس آتے ہوئے منور نے بھی آم کے ٹھگنے درخت کے موتے تنے پر انگریزی کا حرف M کندہ کر دیا۔ یہ حرف پہلے سے قدرے بڑا تھا۔ دو M اُوپر نیچے واضح نظر آ رہے تھے۔

ایک ماہ اور گزر گیا۔ اس مرتبہ آم کا درخت بے ثمر ہو چکا تھا۔ لیکن انگریزی کے حروف تنے کی نشوونما سے مزید نمایاں ہو گئے تھے۔ مَنو کے پاس پچھلی عید کے موقع پر خریدی گئی نیل پالش کی چھوٹی سی شیشی پڑی تھی جو اس مرتبہ وہ بابا معصوم شاہ کے مزارپر لیتی آئی۔منور وہاں پہنچا تو مَنو اُوپر والے انگریزی کے حرف Mکو سُرخ کر رہی تھی۔اس کا انداز ہُو بہو محکمہ جنگلات کے اُن اہلکاروں کی طرح تھا جو روشنائی کی ایک بڑی سی دوات لیئے لکڑی کی مدد سے شجر شماری کرنے کے لیئے درختوں کے تنوں پر اپنے نمبر لکھتے جاتے ہیں۔ منور نے اُس سے پالش لے کر نچلے M کو بھی لال کر دیا۔ اگلے ماہ بھی مَنو وہی نیل پالش مزار پر لائی اور انگریزی کے حروف کو سُرخ کر دیا۔مریم کا بابا معصوم شاہ کے مزار پر یہ آخری چکر تھا۔ کیونکہ اس کے بعد وہ وہاں کبھی نہ آئی۔ منور اگلے تین ماہ چاند کے ساتویں تاریخ کو آتا رہا۔مزار کا سکون اور خاموشی اب کے منور سے برداشت نہ ہوتی تھیں۔ چنانچہ اس نے بھی اب مزار کو الوداع کہا اور پھر کبھی یہاں نہ آ سکا۔ منور کا والد نیوی میں آفیسر تھا۔ چند ماہ بعد اس کے والد نے اپنے بیوی بچوں کو کراچی بلوا لیا۔

کراچی میں بھی بابا معصوم شاہ کا مزار اور مَنو کا معصوم چہرہ کافی عرصہ منور کے ذہن میں موجود رہا۔ جولائی اگست کے مہینے میں جب چھاجوں بھری بارشیں برسا کرتی تو منور سوچوں کے راستے اپنے گاؤں پہنچ جاتا۔ چشمِ تصور میں سرخ پونیوں اور سبز مخملی لباس کی میچنگ کو دیکھنا شروع کر دیتا۔ مَنو اس کے ہاتھ سے آم لیتے ہوئے پوچھا کرتی کہ تم کہاں چلے گئے ہو؟یہ لو اپنا رسیلا چھلکا اوررس بھری گٹھلی مجھے کھانے دو۔ ساون کے موسم میں تو آ جایا کرو۔ تم کو تو پتہ ہے کہ مجھ سے آم نہیں توڑے جاتے۔ میٹھے آم کھاتے کھاتے منور کے نمکین آنسو ٹپکنا شروع کر دیتے۔

منور نے انجینیئرنگ کی تعلیم مکمل کی تو باپ نے اُس کی نسبت وہاں ایک ڈاکٹر کی بیٹی سے طے کر لی۔ منور شادی اور منگنی سے پہلے آخری مرتبہ بابا معصوم شاہ کے مزار پر جانا چاہتا تھا لیکن باپ کی ضد اور حالات کی مجبوریوں نے منور کو مجبور کر دیا۔ منگنی والے دن منور کو بابا معصوم شاہ پر آنے والا خاندان بہت یاد آیا۔ پاکستان سٹیل میں نوکری ملتے ہی منور کی شادی کر دی گئی۔ میاں بیوی ایک خاموش زندگی گُزار رہے تھے۔ اس کی بیوی مریم نے بیالوجی میں ایم ایس سی کر رکھی تھی۔ کچھ عرصے بعد اس کو بھی مقامی کالج میں لیکچرار کی پوسٹ مل گئی۔ شادی کو سات سال ہونے والے تھے لیکن ابھی تک وہ بے اولاد تھے۔ اگست کے مہینے میں منور کی فرم میں ایک ہفتہ چھٹیاں تھیں۔ اُس نے چھٹیوں میں اپنے گاؤں آنے کا فیصلہ کر لیا ۔اُس کی بیوی بھی اس کے ساتھ آنے پر رضامند ہو گئی۔ گاؤں میں دونوں بہت خوش تھے۔ منور کے رشتے داروں اور پرانے دوستوں نے اس کی خوب آو بھگت کی۔ چند ایک رشتہ داروں کو اُن کے ہاں اولاد نہ ہونے کا ملال تھا۔ منور کیممانی نے اُسے بابا معصوم شاہ کے مزار پر دیا جلانے کا مشورہ دیا۔

آج چاند کی ساتویں تاریخ ہے۔ ساون کا موسم زوروں پر ہے۔ دو ہفتوں کی سخت گرمی کے بعد آج ساون کی گھٹائیں نمودار ہوئی ہیں۔ شاید ساتھ والے علاقوں میں بارش ہو چکی ہے۔ ٹھنڈی ہوائیں گرد آلو د اور گرم لُو سے کملائے ہوئے چہروں کو تازگی بخش رہی ہیں۔ کالے اور سفید بادل سورج کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہے ہیں۔ دلآویز موسم میں منور تئیس سالوں بعد بابا معصوم شاہ کے مزار کی طرف جا رہا ہے۔ گاؤں کی گلیاں ویسی ہی ہیں کہیں سے کچی کہیں سے پکی۔ گاؤں سے نکلتے ہی ریت کا ایک دور تک پھیلا ہوا خاموش سمندر شروع ہو جاتا ہے۔ نصف گھنٹے کی مسافت کے بعد بابا معصوم شاہ کے مزار کا احاطہ شروع ہو جاتا ہے ۔۔ مزار کو عبور کرکے منور صحن میں اُگے بوڑھے اور کبڑے آم کے درخت کی طرف رُخ کرتاہے۔تیز ہواؤں اور بڑھاپے نے درخت کو اور بھی پست قامت بنا دیا ہے۔ کچھ شاخیں تو صحرائی ریت کو ہاتھ ملا رہی ہیں۔ سبز کچور پتوں کا ای ڈھیر سا درخت کے نیچے کھڑا محسوس ہو رہا ہے۔ گہرے سبز رنگ کے کپڑوں میں ملبوس مریم سرخ رنگ کے ہیر کلپ اپنے گھنگھریالے بالوں میں سجائے بوڑھے درخت کے کھردرے تنے کے بے تہاشا بوسے لے رہی ہے۔ مریم اپنے ہاتھوں میں موجود ایک قیمتی نیل پالش سے درخت کی بوڑھی چھال پر کھُدے انگریزی کے بوسیدہ سے حروف لال کر چکی ہے۔بوڑھے درخت کی شاخیں درازقد مریم سے زیادہ دُور نہیں۔ مریم آسانی سے ایڑیوں کے بَل اُوپر اُٹھ کر ایک موٹا سا آم توڑ لیتی ہے۔رس بھرا رسیلا سخت سا آم مریم کے خوبصورت ہاتھ میں پوپلا ہو رہا ہے۔ مریم اپنے کام میں اتنی محو ہے کہ ریتلی زمین پر چلتے ہوئے ایک آدمی کے قدموں کی آہٹ کو نہیں سن پاتی۔ منور دبے پاؤں پیچھے سے آکر نرم نرم سنہری آم نقرئی انگلیوں سے چھین لیتا ہے۔ گٹھلی اور چھلکا الگ ہو جاتے ہیں۔کمسن مَنو گٹھلی چُوس رہی ہے اور رسیلا چھلکا منور کے لبوں کو مٹھاس دے رہا ہے۔

بوڑھے آم کے درخت پر ساون کے پکے ہوئے تازہ آموں کی خوشبو مہک بن کر ماحول کر معطر بنا رہی ہے۔ تھوڑے فاصلے پر کھڑا بابا معصوم شاہ کا مزارخاموشی اور سکون کی بُکل اوڑھے سو رہا ہے ۔ مزار کو اُوپر سے ایک بلند گنبد نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے۔چاروں طرف بوسیدہ اور بے رنگ ستون ایستادہ ہیں جن کے درمیان کوئی دروازہ یا دیوار نہیں ہے۔کبوتروں کی جوڑی کہیں بلندی پر غٹر غوں غٹرغوں کا راگ الاپ کر مانوس اجنبیوں کا استقبال کرہی ہے۔

لائلپُور۔۔۔۔۔۔۔۔افسانہ۔۔۔۔۔۔۔وقار احمد ملک میانوالی۔

کمپنی باغ میں صدیوں پرانے کسی انگریز کا مجسمہ آج بھی مخصوص خاموشی اور اداسی کی دبیز چادر اوڑھے سامنے کی طرف دیکھ رہا ہے ۔کون سا منظر اس کی پیش نظر ہے اس کا اندازہ لگانا ذرا مشکل ہے ۔کیونکہ اس کے سامنے دور ایک پرانے نفیس ریستوران کی خوابیدہ عمارت بوڑھے آم کے درختوں میں اونگھ رہی ہے۔ریستوران سے اور آگے سڑک کے پار جدیدزمانے کی شاہکار کسی بینک کی کئی منزلہ عمارت ملک کی معاشی ترقیوں کا فسانہ سنا رہی ہے کیا وہ مجسمہ اس پرانے ریستوران یا اس نئی بینک کی عمارت کو دیکھ رہا ہے؟ نہیں یہ بت مادیت پرست نہیں ہے اس کی دلچسپیاں اینٹ بجری سے ماورا ہیں ۔اس کی نگاہیں ممکن ہے آم کے بوڑھے درختوں پر ٹِکی ہوئی ہوں اور وہ چشم تصور میں نصف صدی پرانا منظر دیکھ رہا ہے جس میں ساون کی گھٹائیں منڈ لا رہی ہیں ۔درختوں کے موٹے ٹہنوں پر پینگیں اور جھولے لٹک رہے ہیں جن پر رنگین کپڑوں میں ملبوس الہڑ دوشیزائیں جھولے جھول رہی ہیں ۔ارے نہیں یہ مجسمہ تو اپنے ساتھ والے گھاس کے قطعہ میں موجود ایک پرانے بنچ کو تکے جا رہا ہے ۔بینچ کے کنارے زمانے کی شکست و ریخت کا شکار ہو کر ٹوٹ چکے ہیں لیکن اس کی مضبوطی ابھی تک قائم و دائم ہے ۔شاید مجسمہ اور وہ بینچ ہم عمر ہیں ۔ کیونکہ مجسمے کے خدوخال اور جسمانی اتار چڑھاؤ بھی اب غیر پر کشش ہو گئے ہیں ۔مجھے یقین آ چکا ہے کہ مجسمے کی نگاہوں کا محور اس کا ہم عصر اور ہم عمر وہ بینچ ہی ہے ۔شاید اس کی وجہ کئی مشترکہ خصوصیات ہیں ۔دونوں کے رنگ اڑ چکے ہیں ۔دونوں پرانے ہو گئے ہیں اورنگرانی و دیکھ بھال کے طلبگار ہیں ۔دونوں کے سینے شہر بھر کے سر بستہ رازوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔دونوں ہی گل و گلزار اور حسین چہروں کا مرکز رہ چکے ہیں ۔

لیکن ایک بات تو میں بھول ہی گیا ۔ان دونوں میں ایک تیسرا بھی ہے۔ تعلقات کا یہ ناطہ دو کناروں والا خط نہیں بلکہ تین نوکوں والی ایک تکون ہے ۔یہ تیسرا ساتھی سفید بالوں والا کمال صدیقی ہے جو ایک ریٹائرڈ پروفیسر ہے۔ اس کا چہرہ بھی اپنے دو ساتھیوں سے زیادہ مختلف نہیں ۔ موصوف کا چہرہ بھی جوانی کے حسیں سامان سے محروم ہو چکا ہے ۔سیاہ لچھے دار زلفوں کی جگہ سفید دودھیا بالوں نے لے لی ہے ۔آنکھیں جو کبھی تاروں کی طرح چمکدار تھیں اب نیم روشن دیوں کی طرح ماند پڑ گئی ہیں اور ان کو سٹیل کے فریم کی ایک عینک نے ڈھانپ رکھا ہے ۔چہرے کی سرخ رنگت اب قصہ ماضی بن چکی ہے ۔ کنگھی کی طرح گھنی سیاہ اور سایہ دار پلکیں اب چھدری ہو چکی ہیں ۔ اس کے چہرے کے جذبات کو پڑھنا مشکل ہے ۔بیک وقت طمانیت بھی ہے اور اضطراب بھی، مسرت بھی ہے اور اداسی بھی۔آج بھی پروفیسر سہ پہرسے اس بوسیدہ بینچ پر برا جمان ہے ۔کبھی کبھی اپنے پرانے دوست اس مجسمے کو بھی دیکھ لیتا ہے جو اس کی طرف دیکھ رہا ہے ۔دونوں کی نظریں چار ہوتی ہیں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا ہے ۔یہ رفاقت نئی نہیں ہے بلکہ نصف صدی کو عبور کرتی ہوئی اب تو پون صدی تک آن پہنچی ہے۔

بوڑھا پروفیسر کمپنی باغ کے کسی قریبی کالونی کا مکین ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بچپن سے بڑھاپے تک کی کوئی منزل اس کو یہاں آنے سے نہ روک سکی۔اس بت اور کمال صدیقی کی دوستی کوئی ستر برس پرانی ہے جب ننھا سا کمو اپنے ساتھیوں کے ساتھ گیند بلا ہاتھ میں لئے کمپنی باغ آیا کرتا تھا ۔بچے مجسمے کی چوک پر سلیٹی سے وکٹیں بنا کر کرکٹ کھیلنا شروع کر دیتے ۔ اس وقت آج کی طرح کمپنی باغ پر ہجوم نہیں ہوا کرتا تھا ۔اس دور میں صرف رومانوی جذبات رکھنے والے زندہ دلان شہر ہی ادھر کا رخ کرتے تھے ۔آج تو اس باغ میں کولیسٹرول، ذیا بیطس ، فشار خون اور موٹاپے کے امراض کا شکار مینڈکوں اورکچھووں کی طرح پھدکتے اور روبوٹس کی طرح دوڑتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔یہ باغ کسی ہسپتال کا حصہ معلوم ہوتا ہے ۔پھول پہلے کی طرح موجود ہیں بلکہ ان کی انواع و اقسام اور تعداد بھی بڑھ چکی ہے لیکن خوبرو ناز نینوں کی زلفیں اور چھیل چھبیلے نازاں و فرحاں نوجوانوں کے کالروں اور کاجوں سے بے پرواہ اپنے اپنے ٹیڈی قد والے پودوں میں ہی بہار جانفزا دکھلا کر طبعی موت مر جاتے ہیں ۔اس قدر نا شناس ماحول میں ان کی ست رنگی پتیاں سبزہ زاروں اور ان کے بیچ بنی سرخ ٹائلوں والی روشوں پر ہوا کے دوش دوڑ دوڑ کر بالآخر فنا ہو جاتی ہے۔

ہاں تو بات ہو رہی تھی مجسمے اور پروفیسر کمال صدیقی کی دیرینہ رفاقت کی ۔لڑکپن تھا ۔پڑھائی لکھائی کے ساتھ ساتھ حسین ودلفریب مناظر اور چہروں کا نظارہ بھی جاری رہتا ۔جب یہاں بیٹھے بیٹھے تھک جاتا تو سامنے پڑے بینچ پر منتقل ہو جاتا ۔کبھی کبھی وہ اس پر پیٹھ سیدھی کرنے کیلئے دراز بھی ہو جاتا ۔کالج دور میں اس کا دوست حنیف عباس جو کہ ایک شوقیہ شاعر اور گلو کار بھی تھا کمال کا بینچ فیلو بنا رہا ۔یہیں بیٹھ کر دونوں نوجوان اپنی ناکام محبتوں کو یاد کر کے ایک دوسرے کے دل کا غبار ہلکا کیا کرتے تھے۔ جب موسم خوشگوار ہوتا تو حنیف مکیش اور رفیع کے غمگین گیت گنگناکر ماحول کو پر کیف بنا دیتا۔ حنیف اس قدر ڈوب کر گاتا کہ اس کو خبر ہی نہ ہوتی کہ اس کا دوست کمال اور کمال کا دوست مجسمہ رونے کے قریب پہنچ چکے ہیں ۔مجسمے کو ان دونوں دوستوں کی قربت بہت بھلی لگتی تھی۔ اور وہ روزانہ ان کا بے تابی سے انتظار کرتا ۔ایک مرتبہ مسلسل دو ہفتے کمال اور حنیف مجسمے کے پاس نہ آتے ۔مجسمے کو اس چیز کا خوف تھا کہ کہیں ان کو کمپنی باغ میں کوئی اور پر سکون یا پر رونق گوشہ تو نہیں مل گیا ۔ان دو ہفتوں میں ایک ہفتہ تو دسمبر کی بارشیں ہوتی رہیں ۔رم جھم کی اس سرد جھڑی نے باغ کو بالکل ویران کر دیا ۔مجسمے کو پہلی مرتبہ اپنا وطن یاد آ گیا جہاں سردیوں کا سارا موسم اس طرح خاموش ،ویران اور اداس ہوتا ہے۔ پورا ہفتہ سرخ ٹائلوں کے اوپر لمبے درختوں کے خشک پتے بارشوں اور ہواؤں کے دوش پر لڑھکتے رہے۔ان سات دنوں میں اس کو خبر ہی نہ ہوتی کہ کب دن ختم ہو گیا اور رات شروع ہو گئی،کب رات نے اپنا بستر لپیٹا اور دن کی بساط بچھ گئی ۔سات دنوں کی برسات کے بعد سورج نے اپنے سارے بدلے چکا دیئے ۔پچھلے سات دنوں کا بھیگا ہوا مجسمہ ایک دو دنوں میں ہی سوکھ گیا ۔اس کی آب وتاب کو دیکھ کرلگتا تھا کی فطرت نے موسم کا سارا ڈرامہ محض مجسمے کو غسل دینے کیلئے رچایا تھا ۔دھوپ چمکی تو انتظار پھر سے شروع ہو گیا لیکن مزید ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود مجسمے کے بچھڑے ساتھی نہ لوٹے ۔سولہویں دن کمال دور سے آتا دکھائی دیا۔اس کی شیو بڑھی ہوئی تھی ۔چمکدار سنہری زلفیں کھچڑی ہو رہی تھیں ۔وہ آ کر خاموشی سے بینچ کے اوپر بیٹھ گیا ۔اداس چہرہ بہت دیر تک بے حس و حرکت رہا ۔مجسمے کی نگاہیں اپنے دوست پر ٹکی رہیں ۔ارے یہ کیا کمال تو رو رہا ہے ۔کمال کے رونے سے مجسمے کو پتہ چل گیا کہ اس کا دوست حنیف مر گیا تھا۔دسمبر کی بارشیں دبلے پتلے حنیف کو راس نہ آئیں ۔تین دن نمونیا میں مبتلا رہنے کے بعد اس کی سانس کی ڈوری ٹوٹ گئی۔

کمال جب یونیورسٹی میں داخل ہوا تو بھی اس کو معمول میں تبدیلی نہ آتی ۔گرمی ہو یا سردی،دھوپ ہو یا برکھا وہ بلا ناغہ اپنے محبوب گوشہ امان میں آتا رہا ۔مجسمے کو یاد ہے جب کمال نے میدان عشق و محبت میں پہلا قدم رکھا تھا ۔مجسمے کو اپنی جوانی کے دن یاد آگئے جب بینچ کے اوپر کمال ایک خوبصورت لڑکی کے ساتھ رازو و نیاز میں مصروف تھا ۔کمال کی طرح لڑکی کا تعلق بھی کسی خاندانی خاندان سے تھا ۔اس بات کا اندازہ اس امر سے لگا کہ دونوں بینچوں کے کناروں پو براجمان رہتے ۔درمیانی خلاء کبھی پر نہ ہوئی ۔لڑکی کی زلفوں میں گیندے کے خوبصورت پھول اور ہاتھوں میں روسی اور فرانسیسی ادبی کتابیں دیکھ کر اس کے باذوق ہونے کا اندازہ ہوتا تھا ۔مجسمے کو تھوڑا افسوس بھی ہوا کہ لڑکی میرے وطن انگلستان کا ادب کیوں نہیں پڑھتی۔دونوں کی ملاقاتیں طویل ہوتی گئیں ۔وہ دونوں ایک دوسرے میں اتنے محو ہوتے کہ دنیا اور مافیا سے بے خبر ہو جاتے ۔کمال کیلئے اپنا پرانا دوست مجسمہ بھی بے قدر ہو گیا تھا ۔شاید یہی وجہ تھی کہ مجسمہ بھی اس لڑکی کو اپنا رقیب سمجھنے لگا تھا۔ اس لڑکی نے مجسمے کا واحد ساتھی بھی چھین لیا تھا۔

باغ میں ہوائیں چلتی رہیں ،بارشیں برستی رہیں ۔مجسمے کو گرمیوں نے جھلسایا تو سرما نے ٹھٹھرا دیا۔ وقت کا پہیہ چلتا رہا ۔شہر میں تبدیلیوں کا بازار گرم ہو گیا جس سے شہر کے ساتوں بازار ملک میں اہمیت اختیار کر گئے ۔

کمال ایم اے کر کے مقامی کالج میں لیکچرار ہوا ۔چند سالوں بعد پروفیسر بن گیا اور شہر بھر میں پروفیسر کمال صدیقی کے نام سے مشہور ہو گیا ۔اب اس کے ہاتھ میں کوئی نہ کتاب ہوتی۔وہ اپنے دوست مجسمے کے سامنے اسی پرانے بینچ پر آ کر بیٹھ جاتا ۔وہ اس کیفے ٹیریا کو دیکھنے لگتا جو کبھی چھوٹی سی کینٹین ہوتی تھی اور جس پر وہ بچپن میں چند آنوں کے عوض بسکٹ اور ٹافیاں خریدا کرتا تھا۔

اس کینٹین پر اس نے اپنی یونیورسٹی کی کلا س فیلو کے ساتھ اپنی زندگی کی حسین ترین شاموں کا کچھ وقت گزارا تھا ۔وہ بینچ پر بیٹھے بیٹھے تھک جاتا تو چہل قدمی کرتے ہوئے باغ کے دائیں کونے میں گورا قبرستان کی طرف آ جاتا جہاں پروفیسر کے ساتھی مجسمے کے ہم مذہب اور ہم وطن ابدی نیند سوئے ہوتے ۔اس قبر ستان کے قریب وہ اکثر ٹوٹا ہوا جنگلا توڑ کر کمپنی باغ میں داخل ہوتا تھا ۔میں کمال مجسمے کے قد مچوں میں بیٹھ کر سکول کا ہوم ورک کیا کرتازمانہ کلانچیں بھرتا رہا۔ باغ کے اندر اور باہر تبدیلیاں رو نما ہوتی گئیں ۔قدامت جدت کا روپ دھارتی گئی ۔باغ میں خوبصورت فوارے لگا دیئے گئے جو شام کے وقت روشنیوں میں نہا جاتے ۔ نت نئے غیر ملکی پھول باغ میں کھل اٹھے ۔لیکن افسوس کہ اتنی ساری مثبت تبدیلیوں کے باوجود اب کمپنی باغ صرف بیمار یا پھر بیماری سے خوفزدہ لوگوں کی ورزش کا ہی مقام بنتا جا رہا تھا ۔

جس دن پروفیسر کمال صدیقی ریٹائر ہوا مارچ کا ایک نیم روشن دن تھا ۔ صبح سے بادلوں اور سورج میں آنکھ مچولی جاری تھی۔ لیکن دوپہر سے ذرا پہلے گھنے سیاہ بادل چھا گئے اور ہلکا اندھیرا شہر پر طاری ہو گیا ۔تھوڑی دیر بعد بہار کی برکھا خوب برسی ۔شام کو جب کمال صدیقی باغ میں آیا تو اس کے نام کے ساتھ ہمیشہ کیلئے ریٹائرڈ کا اسم صفت لگ چکا تھا ۔ اب اس کے پاس کتاب نہیں تھی۔چہرے پر طمانیت اور اداسی میل کھا رہی تھیں ۔کچھ دیر بینچ پر بیٹھا رہا ۔اس کا چہرہ مجسمے کی طرف تھا ۔مجسمے کو غور سے دیکھتے ہوئے وہ اس کی طرف چل پڑا ۔آنکھیں پھر چار ہو رہی تھیں ۔آج ریٹائرڈ پروفیسر کمال صدیقی مجسمے سے باتیں کرنا چاہتا تھا ۔لیکن گفتگو کا آغاز دوسری طرف سے ہو گیا کیونکہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی تھی ۔مجسمے نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا ،’’ پروفیسر صاحب! کیوں غمزدہ ہیں ؟ کیا آپ نے اپنی سروس ایمانداری سے پایہ تکمیل تک نہیں پہنچائی ؟ کیا ہزاروں اور لاکھوں بچوں کو علم کے گہنے نہیں پہنائے ؟کیا اپنے طلباء کو شرافت ، پاکیزگی، احترام، ادب کا درس دینے میں کامیاب نہیں ہوئے ؟کیا ان کو مویسان ، گوگول، ٹیگور اور غالب کی عظمت سمجھانے اور سکھلانے میں ناکام رہے ؟ کیوں پریشان ہو؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہئے ۔تم نے مقدوربھر اچھی کوشش کی ۔تمہاری وجہ سے سینکڑوں نوجوانوں نے اپنے ہاتھوں میں کتابیں اٹھا لیں ۔‘‘

پروفیسر کسی بت کی طرح گنگ سنتا رہا ۔افسردگی کا دبیز پردہ اٹھنے لگا اور اس کے چہرے پر خوشیوں کے کنول کھل اٹھے ۔

مجسمہ دوبارہ بولا ’’ تم جانتے ہو میں نے اپنا بت اور شکل صرف تمہارے سامنے عیاں کی ہے۔دوسرے لوگوں کیلئے تو یہاں محض میری ایک یاد گار رہی ہے لیکن میرے وجود کو صرف تم ہی دیکھ سکتے ہو ۔میں نے اپنا گھونگھٹ صرف تمہارے سامنے اٹھایا ہے ۔‘‘

پروفیسر حیران و پریشان سب کچھ سنتا جا رہا تھا ۔ کیا واقعی مجسمہ صرف مجھ کو نظر آ رہا ہے اور دوسروں کیلئے ایک چھپر کے سوا کچھ نہیں ؟ مجسمے نے پروفیسر کے خیالات کے سلسلے کو کاٹا اور پھر سے بولنے لگا ۔’’ یار تیرے شہر والے بڑے ستم ظریف ہیں ۔جب تک میرے ہم وطن یہاں کے حکمران رہے یہ شہر میرے نام سے جانا گیا ۔ان کے جانے کے بعد بھی میرے نام کے ڈنکے بجتے رہے۔ لیکن جانے کیوں اچانک اس شہر سے میرا حوالہ چھین لیا گیا ۔میرا نام تمام سرکاری عمارتوں سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا ۔ ذرا اپنے حاکموں سے پوچھو کہ کیا میری موجودگی بھی تو ان کی طبع نازک پہ گراں تو نہیں گزررہی ؟ کیا میری یاد گار کو بھی ٹھوکریں مار مار کر گرا دیا جائے گا؟۔‘‘

پروفیسر کمال صدیقی اپنا ریٹائرمنٹ کا غم بھول گیا تھا ۔اس مجسمے کا غم تو پروفیسر سے بھی زیادہ شدید تر اور گہرا تھا۔

بارش کے چھینٹے اچانک گرنا شروع ہوگئے ۔مجسمے نے ریٹائرڈ پروفیسر کو اپنے دامن میں پناہ لینے کا اشارہ کیا ۔اس بھیگے ہوئے موسم میں مجسمہ بھی گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار انداز میں اپنے جذبات برسا رہا تھا ۔مجسمے نے ایک اور شکایت پیش کی ۔’’ کیا ہماری کمپنی کی حکومت سے آپ لوگ اتنے برہم تھے کہ اس خوبصور ت باغ کا نام بھی کمپنی باغ نہیں رہنے دیا ؟ کیا جناح صاحب سے محبت کا تقاضا صرف یہی ہے کہ ہمارے بنائے باغوں کو بھی ان سے موسوم کر دیا جائے ؟ کیا اگر آپ کا وہ عظیم لیڈر زندہ ہوتا تو اس کمپنی باغ کو باغ جناح میں بدلتا دیکھ کرخوش ہوتا ؟

وہ دن بھی گزر گیا ۔۔۔وہ مہینہ بھی ۔۔۔۔۔وہ سال بھی ۔۔۔۔۔سالوں کے ساتھ گزرتے چلے گئے ۔ وقت گزرتے خاص کر اچھا وقت گزرتے دیر نہیں لگتی ۔دو دہایاں اور گزر گئیں ۔ شہر میں کپڑے کی کھڈیوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ۔صنعتوں پر صنعتیں لگتی گئیں ۔ دھویں اور غبار کے مرغولے شہر کے اوپر اڑنے لگے ۔ کمپنی باغ کو سلیٹی رنگ کی سڑکوں نے چاروں طرف سے اپنے حصار میں لے لیا جن پر دن رات فراٹے بھرتی ہوئی گاڑیاں شور، دھواں اور گرد باغ میں پھینکتی رہتیں۔ پھول ، درخت اور گھاس تک گرد آلود رہنے لگے۔ مجسمے کی رنگت بھی ماند پڑتی گئی۔ شہر کے حکام کے پاس اس باغ اور باغ کے شہزادے کی طرف توجہ دینے کا وقت نہیں تھا ۔آج موسم سرم کا ایک خوبصورت روشن دن ہے ۔پروفیسر کی طبیعت چند دنوں سے ناساز ہے ۔باغ و بہار طبیعت پر شہر کی آلودہ فضا نے منفی اثر ڈالنا شروع کر دیا تھا۔ نظر کمزور اور سماعت ناتواں ہو گئی تھی۔ وہ ہانپتے کانپتے اور کھانستے کھانستے باغ میں داخل ہوتا ۔یہاں آ کر اسے کچھ آرام محسوس ہوتا ۔لیکن آج تو کھانسی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔اور یہ کیا پروفیسر بینچ سے نیچے گر پڑے ہیں ۔باغ ویران ہے ۔کسی کو باغ میں آنے کی فرصت ہی نہیں ۔پروفیسر کی کھانسی آہستہ آہستہ مدھم ہو گئی ہے لیکن اس نے اپنا دائیاں بازو سینے کے بائیں طرف رکھا ہوا ہے۔ اس کے چہرے پر شدت درد سے بل پڑرہے ہیں۔ پروفیسر آہستگی سے کروٹ بدلتا ہے ۔باغ کی زمین، سبز مخملی گھاس اور بینچ کے پایوں کو چومتا ہے۔مشکل سے کھڑا ہو کر بینچ کے اوپر لیٹ جاتا ہے۔اس کی آنکھوں میں آنسو رواں ہیں۔ اس کی آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہو رہی ہیں۔ زندگی تاریک ہو رہی ہے۔ ذہن سونے کی کوشش کر رہا ہے۔ یادیں، باتیں ، صورتیں، چہرے۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔مجسمہ بھی دھندلاتا جا رہا ہے۔ پروفیسر کا چہرہ مجسمے کی طرف لڑھک گیا ہے۔ بند ہوتی ہوئی آنکھیں اچانک کھل گئی ہیں۔ آنکھیں چار ہو رہی ہیں۔ لیکن اب کے آخری مرتبہ۔ ۔۔الوداع۔۔۔۔ میرے دوست ۔۔۔میرے ساتھی۔۔۔۔الوداع۔۔۔70 سالہ رفاقت الوداع۔کمپنی باغ۔۔۔ پھول۔۔۔فوارے۔۔۔۔خاموش ریستوران۔۔۔۔کینٹین۔۔۔۔۔۔اور۔۔اور۔۔۔اور۔۔۔۔الوداع

باغ میں ہر طرف خاموشی اور اداسی طاری ہے ۔مجسمہ اپنی مخصوص پر سکون نگاہوں سے سامنے کی طرف دیکھ رہا ہے ۔اس کی نگاہوں کے سامنے ایک پرانے نفیس رستوران کی خوابیدہ عمارت بوڑھے آم کے درختوں میں اونگھ رہی ہے ۔اس کے ساتھ ہی سڑک کے پار کسی بنک کی فلک بوس عمارت شہر کی ترقیوں کے گن گا رہی ہے۔مجسمے کے سامنے گھاس والے قطعہ میں ایک بینچ ویران پڑا ہے ۔اس کے دیرینہ ساتھی کو مردہ حالت میں ریسکیو کی ایک خوبصورت ایمبو لینس تھوڑی دیر پہلے اٹھا کر جا چکی ہے ۔پرانے بینچ کے کنارے ٹوٹے ہوئے ہیں اور اس کا رنگ اڑ چکا ہے ۔اس کی مرمت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اب اس پر کسی نے بھی نہیں بیٹھنا ۔ لوگوں کے سانس لینے اوربیٹھنے کو پورے باغ میں سنگ مر مر کے خوبصورت بینچ موجود تھے۔ اس پرانے بینچ کی طرف آکر کسی نے کیا کرنا تھا۔ ٹوٹے ہوئے بینچ سے تھوڑے فاصلے پر کسی انگریز کی یاد گار ایک پتھریلے چھپر کی صورت موجود ہے ۔بینچ بھی پتھر کا ہو گیا ہے اور چھپر بھی ۔ اداس شام انسانوں اور پھولوں کو کمپنی باغ میں تلاش کر رہی ہے ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دشت کے پار سمندر بھی ہوا کرتے ہیں۔ عادل رضا منصوری، جے پور، راجستھان

دشت کے پار سمندر بھی ہوا کرتے ہیں۔ عادل رضا منصوری، جے پور، راجستھان شاعری  اور کچھ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے